🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
03-01-1445 ᴴ | 22-07-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
03-01-1445 ᴴ | 22-07-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
03-01-1445 ᴴ | 22-07-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
03-01-1445 ᴴ | 22-07-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
خواجہ بہاء الدین نقشبند رحمۃا للہ علیہ

نام و نسب:
اسم گرامی:
سید محمد۔لقب: بہاء الدین ،نقشبند۔والد کا اسم گرامی:سید محمد۔مکمل نام اس طرح ہے: خواجۂ خواجگان خواجہ سید محمد بہاء الدین نقشبند﷫۔آپ﷫ کا خاندانی تعلق ساداتِ کرام سے ہے۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 4/محرم الحرام 718ھ مطابق 7/مارچ 1318ء کو’’قصر عارفاں‘‘جوبخارا کے مضافات میں واقع ہے،میں ہوئی۔

قبل از ولادت بشارت:
پیدائش سے پہلے حضرت بابا محمد سماسی﷫ نے آپ کے تولد مبارک کی بشارت دی تھی۔ تولد سے تیسرے روز آپ کے جد امجد آپ کو حضرت بابا قدس سرہ کی خدمت میں لے گئے۔ حضرت بابا نے آپ کو فرزندی میں قبول فرمایا اور اپنے خلیفہ سید امیر کلال ﷫سے آپ کی تربیت کے بارے میں عہد لیا ۔بچپن ہی سے ولایت کے آثار اور کرامت و ہدایت کے انوار آپ کی پیشانی سے ظاہر و آشکارا تھے۔

تحصیلِ علم:
بچپن سےہی آپ کی پیشانی سے آثارِ ولایت ظاہر تھے۔نہایت ہی ذہین وفطین تھے۔ابتدائی تعلیم وتربیت اپنے گھر پر ہوئی۔پھر حضرت خواجہ محمد سماسی ﷫ کے عہد کےمطابق آپ کی مکمل تعلیم وتربیت ان کے خلیفہ حضرت سید امیر کلال﷫ کےہاں ہوئی۔ابتداءً علوم ِ ظاہریہ کی تکمیل کروائی۔جب اس میں کامل ہوگئے تو پھر باطنی علوم کی منازل طےکروائیں۔اسی طرح بچپن میں ہی کاملین میں شمار ہونےلگا تھا۔حضرت امیر کلال ﷫ کےعلاوہ حضرت خواجہ عبدالخالق غجدوانی﷫نےبھی آپ کی تربیت فرمائی۔یہ تربیت اویسی طریقے پرہوئی تھی۔

بیعت و خلافت:
سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں آپ شمس الدین حضرت سید امیر کلال ﷫سے بیعت ہوئے،اور خرقۂ اجازت حاصل کیا۔

سیرت و خصائص:
قطب الاقطاب، فخر الامت، بانیِ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ، خواجۂ خواجگان خواجہ سید محمد بہاء الدین نقشبند﷫۔ آپ﷫ کاشماراکابر اولیاء کرام،اور احبار ِ امت میں ہوتا ہے۔آپ ﷫ امام طریقت اور اپنے وقت کےعظیم مصلح تھے۔آپ کی پُر اثر اور باکمال شخصیت کی بدولت ،کمال ِ ظاہری وکمال ِ باطنی ،اور سلسلہ عالیہ کی ہمہ جہت ترقی اور روحانی تربیت کےمنفرد انداز نےسلسلہخواجگان کو آپ کے نام سے منسوب کردیا اور وہ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کےنام سے آفاق میں موسوم ہوا۔

تعلق باللہ، سنتِ رسول اللہ، محبتِ صحابہ واہلبیت واولیاء، تزکیۂ نفس،اور بالخصوص اتباعِ شریعت ،معرفتِ الہی اور مشاہدۂِ حق کےساتھ ساتھ معاشرتی واجتماعی اصلاح،خدمتِ خلق،قیامِ عدل کی کوششیں اور لوگوں کو ظلم وجور سےبچانے کی مساعی اس سلسلہ کےمزاج میں شروع سےہی موجودتھی،آپ نے اس مزاج میں اور پختگی پیدا کی۔ چنانچہ آنے والے ادوار میں اس منہج پر چل کر معاشرتی وعوامی مسائل کی طرف گہری دل چسپی لی اور جہاں تک ہوسکا حکمرانوں سے بہبود وفلاحِ خلائق اور کتاب وسنت کی ترویج کا کام لیا۔یہی وجہ ہے کہ مخلوق خدا جوق در جوق ان کے حلقۂ ارادت میں شامل ہوکر کافر دولتِ ایمان اور فساق وفجار دولتِ تقویٰ سےمالا مال ہوتےتھے۔ان نفوس قدسیہ کی بدولت اسلام کو عروج حاصل ہوا۔اسلام ان گدڑی نشینوں کی سادہ اور پر اثر تبلیغ سےتمام بر اعظموں میں خوب پھیلا۔اُس وقت آپ کےمعاصرین میں حضرت شاہِ ہمداں﷫ کشمیر کےعارضی نظاروں سے ہٹاکر حسن حقیقی کی طرف بلارہےتھے، اور حضرت مخدوم جہانیاں﷫ ہند اور سندھ میں ہندوؤں کو مئے وحدت پلارہے تھے۔اسی طرح وسط ایشیاء میں حضرت خواجہ نقشبند﷫ معرفت کا صور پھونک کرنئی زندگی عطاء کررہےتھے۔لوگ ان کی روح پر آواز پر لبیک کہتے ہوئے جامِ وحدت سے مخمور ہوکر حقیقی منعم کی بارگاہ کےمقبول بنتے گئے۔

روحانی مقام:
آپ نے فرمایا کہ منازل و مقامات کے طے کرنے میں حضرت حسین بن منصور حلاج کی صفت و مرتبہ میرے وجود میں ظاہر ہوئی۔ نزدیک تھا کہ وہ آواز جوان سے ظہور میں آئی تھی مجھ سے بھی ظاہر ہوجاتی ۔ بخارا میں ایک سولی تھی۔ مگر دونوں دفعہ میں اپنے آپ کو اس سولی کےنیچے لے گیا اور کہا کہ تیری جگہ یہی سولی ہے۔ عنایت الٰہی سے میں اس مقام سے عبور کر گیا۔فرمایا کہ اویس قرنی﷫ کی روحانیت کا اثر علائق ظاہری و باطنی سے تجرد کلی اور انقطاع تمام ہے اور امام محمد علی حکیم ترمذی کی روحانیت کا اثر بے صفتی محض ہے۔پھر فرمایا کہ میں نے سلطان بایزید﷫ اور شیخ جنید﷫ اور شیخ شبلی﷫ اور منصور حلاج ﷫کے مقامات کی سیر کی۔ جہاں وہ پہنچے تھے میں بھی وہاں پہنچا یہاں تک کہ صفاتِ انبیاء کی سیر میں ایسی بارگاہ میں پہنچا کہ جس سے بڑی کوئی بارگاہ نہ تھی۔ میں نے جان لیا کہ یہ بارگاہِ محمدی ہے علیہ الصلوٰۃ والسلام۔ سلطان العارفین جب اس بارگاہ تک پہنچے تھے تو انہوں نے چاہا کہ سیر کرنے میں آنحضرتﷺ کی مماثلت کریں۔ اس لیے ان کی پیشانی پر دست رد مارا گیا۔ مگر میں نے ایسی گستاخی نہ کی بلکہ سر نیاز و تعظیم آپ کے آستانہ عزت و احترام پر رکھا۔

نظرِ عنایت کی برکت:
حضرت علاء الحق والدین قدس سرہ فرماتے تھے کہ ہمارے مرشد حضرت خواجہ کی نظر عنایت کی برکت سے طالبوں کا یہ حال تھا کہ قدم اول میں سب سعادت مراقبہ سے مشرف ہوجاتے تھے۔
1