علامہ تونسوی نے 1983ء میں حج اکبر کی سعادت حاصل کی اور 1984ء میں مسلسل کئی سالوں تک ہر سال آپ عمرے کی سعادت حاصل کرتے رہے۔ علامہ تونسوی نے وعظ و خطبات کے ساتھ ساتھ تحریری میدان میں بھی نمایاں خدمات انجام دیں، آپ نے پانچ رسائل تحریری کیے جن کے نام درج ذیل ہیں ۔
۱۔ جشن عید میلاد النبی ﷺ
۲۔ تراویح 20 رکعت سنت ہے
۳۔ مسائل قربانی و طریقہ نمازِ عیدین
۴۔ رمضان المبارک
۵۔ ردِّ رفع الیدین
علامہ محمد بخش تونسوی کا 3 محرم الحرام 1432ھ مطابق 10 دسمبر 2010ء جمعۃ المبارک کو وصال ہوا ۔
آپ کی نمازِ جنازہ جامع مسجد مسلم ٹاؤن کے قریب روڈ پر ادا کی گئی، جس میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی، آپ کی نمازِ جنازہ میں علماء کرام، مشائخ عظام، عمایدین شہر، سیاسی و مذہبی قائدین، حکومت و انتظامیہ کے اعلیٰ افسران نے بھی تعداد میں شرکت کی ۔ آپ کی نمازِ جنازہ کی امامت علامہ سید شاہ تراب الحق قادری رضوی نے فرمائی ۔
علامہ محمد بخش تونسوی کا مزار مبارک جامع مسجد مسلم ٹاؤن کے احاطہ میں ہے ۔ (بحوالہ : ”روشن دریچے ”ص: 408-406)
آپ کے مشن آپ کے صاحبزادے علامہ مولانا اصغر بخش تونسوی شہیدی بہت احسن انداز سے پھیلا رہے ہیں ۔ آپ کے رفقاء خاص میں سے بزرگ عالمِ دین حضرت علامہ مولانا عبد الرشید تونسوی معینی زید مجدہ نارتھ کراچی میں آپ کے مشن کوزندہ کیے ہوئے ہیں،اور کثیر مخلوقِ خدا کو اپنے علمی و روحانی فیض سے مستفید فرما رہے ہیں ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-muhammad-bakhsh-taunsvi
۱۔ جشن عید میلاد النبی ﷺ
۲۔ تراویح 20 رکعت سنت ہے
۳۔ مسائل قربانی و طریقہ نمازِ عیدین
۴۔ رمضان المبارک
۵۔ ردِّ رفع الیدین
علامہ محمد بخش تونسوی کا 3 محرم الحرام 1432ھ مطابق 10 دسمبر 2010ء جمعۃ المبارک کو وصال ہوا ۔
آپ کی نمازِ جنازہ جامع مسجد مسلم ٹاؤن کے قریب روڈ پر ادا کی گئی، جس میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی، آپ کی نمازِ جنازہ میں علماء کرام، مشائخ عظام، عمایدین شہر، سیاسی و مذہبی قائدین، حکومت و انتظامیہ کے اعلیٰ افسران نے بھی تعداد میں شرکت کی ۔ آپ کی نمازِ جنازہ کی امامت علامہ سید شاہ تراب الحق قادری رضوی نے فرمائی ۔
علامہ محمد بخش تونسوی کا مزار مبارک جامع مسجد مسلم ٹاؤن کے احاطہ میں ہے ۔ (بحوالہ : ”روشن دریچے ”ص: 408-406)
آپ کے مشن آپ کے صاحبزادے علامہ مولانا اصغر بخش تونسوی شہیدی بہت احسن انداز سے پھیلا رہے ہیں ۔ آپ کے رفقاء خاص میں سے بزرگ عالمِ دین حضرت علامہ مولانا عبد الرشید تونسوی معینی زید مجدہ نارتھ کراچی میں آپ کے مشن کوزندہ کیے ہوئے ہیں،اور کثیر مخلوقِ خدا کو اپنے علمی و روحانی فیض سے مستفید فرما رہے ہیں ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-muhammad-bakhsh-taunsvi
scholars.pk
Hazrat Muhammad Bakhsh Taunsvi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
ابو القاسم، سید شاہ اسماعیل حسن مارہروی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: حضرت شاہ اسماعیل حسن ۔ کنیت: ابو القاسم ۔ لقب: مارہرہ مطہرہ کی نسبت سے "مارہروی" کہلاتے ہیں ۔ سید ابو القاسم، اور شاہ جی کے نام سے شہرت حاصل تھی ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت ابو القاسم مولانا سید شاہ اسماعیل حسن مارہروی بن حضرت سید محمد صادق بن حضرت سید اولاد رسول بن حضرت شاہ سید آل برکات ستھرے میاں بن حضرت سید شاہ حمزہ بن سید شاہ آل محمد بن سید شاہ برکت اللہ بن سید شاہ اویس بن سید شاہ عبد الجلیل بن سند المحققین سید شاہ عبد الواحد بلگرامی ۔ الیٰ آخرہ ۔ (علیہم الرحمۃ والرضوان) ـ
آپ کا سلسلۂ نسب چند واسطوں سے سید الشہداء حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے توسط سے حضرت مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم تک پہنچتا ہے ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 3 محرم الحرام 1272ھ، مطابق ماہِ ستمبر 1855ء کو "مارہرہ مطہرہ" (اتر پردیش، ہند ) میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
آپ نے حفظِ قرآن مجید اپنے شوق سے کیا ۔ آپ کے حفظ کے اساتذہ میں حافظ ولی داد خان مارہروی، حافظ قادر علی لکھنوی، حافظ عبد الکریم ملک پوری ہیں ۔ مولانا شاہ عبد الشکور مہامی ، مولانا محمد حسن سنبھلی، مولانا فضل اللہ فرنگی محلی، اور مولانا شاہ عبد القادر بدایونی علیہم الرحمہ سے درسیات کی تکمیل کی ۔
ان کے علاوہ تصوف و اخلاق کی تعلیم اپنے والدِ ماجد کے علاوہ حضرت شاہ آلِ رسول، حضرت شاہ ابو الحسین نوری میاں، حضرت تاج الفحول بدایونی علیہم الرحمہ سے حاصل کی ۔
بیعت و خلافت:
اپنے نانا حضرت شاہ غلام محی الدین قدس سرہ سے مرید ہوئے، اور خلافت کی دولت سے مالا مال ہوئے ۔ ان کے علاوہ والدِ ماجد قدس سرہ، حضرت شاہ نوری میاں، حضرت شاہ ظہور حسین، اور حضرت تاج الفحول مولانا شاہ عبد القادر بدایونی علیہم الرحمہ سے بھی اوراد و وظائف کی اجازت عطا ہوئی تھی ۔
سیرت و خصائص:
زبدۃ الکاملین، عمدۃ العارفین، شیخ الکاملین عارف باللہ، فنا فی الرسول حضرت مولانا سید ابو القاسم شاہ اسماعیل حسن مارہروی میاں رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ خاندانِ برکات کے ایسے نورانی چراغ ہیں، جس کے انوار سے ایک عالم منور ہوا ۔ جس وقت حضرت سیدنا شاہ ابو القاسم شاہ جی میاں مسند سجادگی پر رونق افروز ہوئے اس وقت آپ کو تیرہ سلاسل کی اجازت حاصل تھی لیکن سلسلۂ قادریہ سے آپ کو خاندانی روایت کے مطابق بڑا گہرا لگاؤ تھا، اس لئے آپ نے اسی سلسلے کو فروغ بخشا، اسی کے فیوض و برکات سے مریدین و متوسلین کو مالا مال کیا اور رات دن اسی سلسلے کی اشاعت کی جد و جہد فرائی ۔ بے شمار علما و مشائخ کو اسی سلسلے میں مرید کیا اور خلافت کی دولت سے بے بہا سر فراز فرمایا ۔ چونکہ آپ کے قول و فعل اور کردار و عمل میں اللہ تعالیٰ نے بے شمار برکتیں و دیعت فرمائی تھیں ـ اس لیے خلقت آپ کی طرف و الہانہ طور پر متوجہ ہوتی تھی ۔ دیکھنے والوں کا کہنا ہے کہ آپ کی نظر کرم پڑتے ہی نہ جانے کتنے لوگوں کی دنیا بدل گئی، نہ جانے کتنے ویران دل آباد ہو گئے اور نہ جانے کتنے کفر و شرک سے آلود دِلوں میں ایمان کا اُجالا پھیل گیا ۔ کتنے گمراہوں کو آپ کی ذات سے راہِ ہدایت نصیب ہوئی ۔ الغرض آپ کی ذات بڑی با فیض تھی لیکن سب سے بڑی خوبی آپ میں یہ تھی "کہ آپ احیائے سنیت اور تصلب فی الدین کے معاملے میں آپ اپنے اسلاف کے سچے جانشین تھے ۔
تذکرۂ علمائے اہل سنت میں ہے:
" (آپ) تصلب فی الدین میں بزرگان مارہرہ کے قدم بہ قدم تھے " ۔ (تذکرہ علمائے اہلسنت، ص:29) ۔ مشائخ مارہرہ کا تصلب فی الدین کس طرح تھا، اس کی تائید درج ذیل عبارت سے حاصل کی جا سکتی ہے ۔
حضور تاج العلماء فرماتے ہیں:
"ہمارے اسلاف کرام اور ان کے اخلاف سب بحمدہ تعالیٰ ہمیشہ سے دین اسلام و مذہب مہذب اہل سنت و جماعت سے آراستہ و پیراستہ چلے آتے تھے اور خوب اپنے اس دین متین اور مذہب مہذب میں تعصب و تصلب کو مقبول و محمود جانتے اور مانتے اور بتاتے رہتے تھے" ۔
تصلب فی الدین جو اس خانقاہ کا طرہ امتیاز رہا ہے ۔ ان حضرات نے بلا خوف لومۃ لائم ہر دور میں احقاق حق اور ابطال باطل کا اہم فریضہ انجام دیا ۔ یہی وجہ ہے کہ یہ خانقاہ ہر دور میں مسلمانانِ اہل سنت کے لیے مرکز توجہ رہی یہ مشائخ خود بھی متصلب فی الدین تھے اور اپنے متعلقین و متوسلین کو بھی اسی پر عمل پیرا رہنے کی ان لفظوں میں تلقین فرماتے:
نام و نسب:
اسمِ گرامی: حضرت شاہ اسماعیل حسن ۔ کنیت: ابو القاسم ۔ لقب: مارہرہ مطہرہ کی نسبت سے "مارہروی" کہلاتے ہیں ۔ سید ابو القاسم، اور شاہ جی کے نام سے شہرت حاصل تھی ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت ابو القاسم مولانا سید شاہ اسماعیل حسن مارہروی بن حضرت سید محمد صادق بن حضرت سید اولاد رسول بن حضرت شاہ سید آل برکات ستھرے میاں بن حضرت سید شاہ حمزہ بن سید شاہ آل محمد بن سید شاہ برکت اللہ بن سید شاہ اویس بن سید شاہ عبد الجلیل بن سند المحققین سید شاہ عبد الواحد بلگرامی ۔ الیٰ آخرہ ۔ (علیہم الرحمۃ والرضوان) ـ
آپ کا سلسلۂ نسب چند واسطوں سے سید الشہداء حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے توسط سے حضرت مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم تک پہنچتا ہے ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 3 محرم الحرام 1272ھ، مطابق ماہِ ستمبر 1855ء کو "مارہرہ مطہرہ" (اتر پردیش، ہند ) میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
آپ نے حفظِ قرآن مجید اپنے شوق سے کیا ۔ آپ کے حفظ کے اساتذہ میں حافظ ولی داد خان مارہروی، حافظ قادر علی لکھنوی، حافظ عبد الکریم ملک پوری ہیں ۔ مولانا شاہ عبد الشکور مہامی ، مولانا محمد حسن سنبھلی، مولانا فضل اللہ فرنگی محلی، اور مولانا شاہ عبد القادر بدایونی علیہم الرحمہ سے درسیات کی تکمیل کی ۔
ان کے علاوہ تصوف و اخلاق کی تعلیم اپنے والدِ ماجد کے علاوہ حضرت شاہ آلِ رسول، حضرت شاہ ابو الحسین نوری میاں، حضرت تاج الفحول بدایونی علیہم الرحمہ سے حاصل کی ۔
بیعت و خلافت:
اپنے نانا حضرت شاہ غلام محی الدین قدس سرہ سے مرید ہوئے، اور خلافت کی دولت سے مالا مال ہوئے ۔ ان کے علاوہ والدِ ماجد قدس سرہ، حضرت شاہ نوری میاں، حضرت شاہ ظہور حسین، اور حضرت تاج الفحول مولانا شاہ عبد القادر بدایونی علیہم الرحمہ سے بھی اوراد و وظائف کی اجازت عطا ہوئی تھی ۔
سیرت و خصائص:
زبدۃ الکاملین، عمدۃ العارفین، شیخ الکاملین عارف باللہ، فنا فی الرسول حضرت مولانا سید ابو القاسم شاہ اسماعیل حسن مارہروی میاں رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ خاندانِ برکات کے ایسے نورانی چراغ ہیں، جس کے انوار سے ایک عالم منور ہوا ۔ جس وقت حضرت سیدنا شاہ ابو القاسم شاہ جی میاں مسند سجادگی پر رونق افروز ہوئے اس وقت آپ کو تیرہ سلاسل کی اجازت حاصل تھی لیکن سلسلۂ قادریہ سے آپ کو خاندانی روایت کے مطابق بڑا گہرا لگاؤ تھا، اس لئے آپ نے اسی سلسلے کو فروغ بخشا، اسی کے فیوض و برکات سے مریدین و متوسلین کو مالا مال کیا اور رات دن اسی سلسلے کی اشاعت کی جد و جہد فرائی ۔ بے شمار علما و مشائخ کو اسی سلسلے میں مرید کیا اور خلافت کی دولت سے بے بہا سر فراز فرمایا ۔ چونکہ آپ کے قول و فعل اور کردار و عمل میں اللہ تعالیٰ نے بے شمار برکتیں و دیعت فرمائی تھیں ـ اس لیے خلقت آپ کی طرف و الہانہ طور پر متوجہ ہوتی تھی ۔ دیکھنے والوں کا کہنا ہے کہ آپ کی نظر کرم پڑتے ہی نہ جانے کتنے لوگوں کی دنیا بدل گئی، نہ جانے کتنے ویران دل آباد ہو گئے اور نہ جانے کتنے کفر و شرک سے آلود دِلوں میں ایمان کا اُجالا پھیل گیا ۔ کتنے گمراہوں کو آپ کی ذات سے راہِ ہدایت نصیب ہوئی ۔ الغرض آپ کی ذات بڑی با فیض تھی لیکن سب سے بڑی خوبی آپ میں یہ تھی "کہ آپ احیائے سنیت اور تصلب فی الدین کے معاملے میں آپ اپنے اسلاف کے سچے جانشین تھے ۔
تذکرۂ علمائے اہل سنت میں ہے:
" (آپ) تصلب فی الدین میں بزرگان مارہرہ کے قدم بہ قدم تھے " ۔ (تذکرہ علمائے اہلسنت، ص:29) ۔ مشائخ مارہرہ کا تصلب فی الدین کس طرح تھا، اس کی تائید درج ذیل عبارت سے حاصل کی جا سکتی ہے ۔
حضور تاج العلماء فرماتے ہیں:
"ہمارے اسلاف کرام اور ان کے اخلاف سب بحمدہ تعالیٰ ہمیشہ سے دین اسلام و مذہب مہذب اہل سنت و جماعت سے آراستہ و پیراستہ چلے آتے تھے اور خوب اپنے اس دین متین اور مذہب مہذب میں تعصب و تصلب کو مقبول و محمود جانتے اور مانتے اور بتاتے رہتے تھے" ۔
تصلب فی الدین جو اس خانقاہ کا طرہ امتیاز رہا ہے ۔ ان حضرات نے بلا خوف لومۃ لائم ہر دور میں احقاق حق اور ابطال باطل کا اہم فریضہ انجام دیا ۔ یہی وجہ ہے کہ یہ خانقاہ ہر دور میں مسلمانانِ اہل سنت کے لیے مرکز توجہ رہی یہ مشائخ خود بھی متصلب فی الدین تھے اور اپنے متعلقین و متوسلین کو بھی اسی پر عمل پیرا رہنے کی ان لفظوں میں تلقین فرماتے:
❤1
"مذہب اہل سنت و جماعت پر ایسے جمے ہوئے رہیں کہ دوسرے متعصب جانیں اور شریعت مطہرہ کو اپنا دستور العمل بنائیں، مذہب اہل سنت کے پھیلانے اور بدعت کو مٹانے اور بَد دینوں، بے دینوں کے رد کو اپنا مقصود ٹھہرائیں ـ
خصوصاً وہابیہ، دیوبندیہ، نجدیہ کا رد سب شریروں سے زائد گندے اور اسلام کو نقصان پہنچانے اور جڑ کو کھودنے میں بَد ترین کفار ہیں ۔ اہل سنت کے جتنے مخالف مثلاً وہابی، راضی، ندوی، نیچری، چکڑالوی، غیر مقلد، قادیانی اور گاندھوی وغیرہ ہیں، ان سب کو اپنا دشمن جانیں ان کی بات نہ سنیں، ان کے پاس نہ بیٹھیں، ان کی کوئی تحریر نہ دیکھیں، دین و ایمان سب سے زیادہ عزیز چیز ہیں، ان کی محافظت میں حد سے زیادہ کوشِش فرض ہے" ۔
حضرت شاہ جی میاں اصولوں کے بہت پکے تھے ۔ غلط باتوں پر ہر ایک کی سر زنش کرتے، اس میں دوست دشمن، اپنا بیگانہ کی کوئی تمیز روا نہ تھی ۔ آپ صرف گوشہ نشین صوفی نہ تھے، بلکہ ملکی و بین الاقوامی حالات و معاملات پر خوب نظر تھی ۔ تحریکِ خلافت، تحریکِ پاکستان، تحریک ترکِ مولات، وغیرہ کے بارے میں وہی موقف تھا جو اکابرِ اہلسنت کا رَہا ہے ۔ اُس وقت جب بھی سنیت کے خلاف کوئی مضمون وغیرہ اخبارات و رسائل میں شائع ہوتا تو فوراً نوٹس لیتے ۔ مصروفیات سے وقت بچا کر دینی کتب کے مطالعے میں مشغول رہتے تھے ۔ آپ کی تصنیفات و خطوط علم کا گنجینہ ہیں ۔
وصال:
آپ کا وصال یکم صفر المظفر 1347ھ، مطابق جولائی 1928ء کو ہوا ۔ مرقدِ انور " مارہرہ مطہرہ " انڈیا میں ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علماء اہلسنت ۔ اہلسنت کی آواز 1431ھ ۔ خاندانِ برکات ۔ ضیائے صفر المظفر ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-shah-abul-qasim-muhammad-ismail-hasan-shah-qdri
خصوصاً وہابیہ، دیوبندیہ، نجدیہ کا رد سب شریروں سے زائد گندے اور اسلام کو نقصان پہنچانے اور جڑ کو کھودنے میں بَد ترین کفار ہیں ۔ اہل سنت کے جتنے مخالف مثلاً وہابی، راضی، ندوی، نیچری، چکڑالوی، غیر مقلد، قادیانی اور گاندھوی وغیرہ ہیں، ان سب کو اپنا دشمن جانیں ان کی بات نہ سنیں، ان کے پاس نہ بیٹھیں، ان کی کوئی تحریر نہ دیکھیں، دین و ایمان سب سے زیادہ عزیز چیز ہیں، ان کی محافظت میں حد سے زیادہ کوشِش فرض ہے" ۔
حضرت شاہ جی میاں اصولوں کے بہت پکے تھے ۔ غلط باتوں پر ہر ایک کی سر زنش کرتے، اس میں دوست دشمن، اپنا بیگانہ کی کوئی تمیز روا نہ تھی ۔ آپ صرف گوشہ نشین صوفی نہ تھے، بلکہ ملکی و بین الاقوامی حالات و معاملات پر خوب نظر تھی ۔ تحریکِ خلافت، تحریکِ پاکستان، تحریک ترکِ مولات، وغیرہ کے بارے میں وہی موقف تھا جو اکابرِ اہلسنت کا رَہا ہے ۔ اُس وقت جب بھی سنیت کے خلاف کوئی مضمون وغیرہ اخبارات و رسائل میں شائع ہوتا تو فوراً نوٹس لیتے ۔ مصروفیات سے وقت بچا کر دینی کتب کے مطالعے میں مشغول رہتے تھے ۔ آپ کی تصنیفات و خطوط علم کا گنجینہ ہیں ۔
وصال:
آپ کا وصال یکم صفر المظفر 1347ھ، مطابق جولائی 1928ء کو ہوا ۔ مرقدِ انور " مارہرہ مطہرہ " انڈیا میں ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علماء اہلسنت ۔ اہلسنت کی آواز 1431ھ ۔ خاندانِ برکات ۔ ضیائے صفر المظفر ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-shah-abul-qasim-muhammad-ismail-hasan-shah-qdri
scholars.pk
Hazrat Shah Ismail Hassan Marharwi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
02-01-1445 ᴴ | 21-07-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
03-01-1445 ᴴ | 22-07-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
03-01-1445 ᴴ | 22-07-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
03-01-1445 ᴴ | 22-07-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2