Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤3👍1
حضرت ابو عثمان سعید بن سلام مغربی رحمۃ اللہ علیہ
منجملہ ائمہ طریقت، سیف سیادت، آفتاب نجابت، حضرت عثمان سعید بن سلام مغربی رحمۃ اللہ علیہ ہیں ۔
جو اہل استقامت بزرگوں میں سے تھے ۔آپ رحمۃ اللہ علیہ صاحب ریاضت و سیاست اور فنون علم میں کامل مہارت رکھتے تھے ۔ آپ کی نشانیاں بکثرت اور براہین عمدہ ہیں ۔
آپ کا ارشاد ہے:
‘‘من آئر صحبۃ الاغنیاء علی مجاندۃ الفقراء ابتلاء اللہ تعالیٰ بموت القلب’’
‘‘جو درویشوں کی صحبت پر امیروں کی ہم نشینی کو ترجیح دیتا ہے اللہ تعالیٰ اسے دل کی موت میں مبتلا کر دیتا ہے ۔’’
اس لیے کہ جب درویشوں کی مجلس کے مقابلہ مین تو نگروں کی صحبت اختیار کرے گا تو اس کا دل حاجت کی موت سے آپ ہی مرجائے گا اور اس کا جسم و ہم و گمان میں گرفتار ہو جائے گا ۔
جب کہ مجلس چھوڑ نے کا نتیجہ دل کی موت ہے تو صحبت سے اعراض کا کیا انجام ہوگا۔؟ان مختصر کلمات میں صحبت اور مجانست کا فرق ظاہر ہے۔ واللہ اعلم۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-saeed-qerwani
منجملہ ائمہ طریقت، سیف سیادت، آفتاب نجابت، حضرت عثمان سعید بن سلام مغربی رحمۃ اللہ علیہ ہیں ۔
جو اہل استقامت بزرگوں میں سے تھے ۔آپ رحمۃ اللہ علیہ صاحب ریاضت و سیاست اور فنون علم میں کامل مہارت رکھتے تھے ۔ آپ کی نشانیاں بکثرت اور براہین عمدہ ہیں ۔
آپ کا ارشاد ہے:
‘‘من آئر صحبۃ الاغنیاء علی مجاندۃ الفقراء ابتلاء اللہ تعالیٰ بموت القلب’’
‘‘جو درویشوں کی صحبت پر امیروں کی ہم نشینی کو ترجیح دیتا ہے اللہ تعالیٰ اسے دل کی موت میں مبتلا کر دیتا ہے ۔’’
اس لیے کہ جب درویشوں کی مجلس کے مقابلہ مین تو نگروں کی صحبت اختیار کرے گا تو اس کا دل حاجت کی موت سے آپ ہی مرجائے گا اور اس کا جسم و ہم و گمان میں گرفتار ہو جائے گا ۔
جب کہ مجلس چھوڑ نے کا نتیجہ دل کی موت ہے تو صحبت سے اعراض کا کیا انجام ہوگا۔؟ان مختصر کلمات میں صحبت اور مجانست کا فرق ظاہر ہے۔ واللہ اعلم۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-saeed-qerwani
scholars.pk
Hazrat Sheikh Saeed Qerwani
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
Hazrat Sheikh Saeed Qerwani is one of great Islamic (Religious) Scholar.
❤1
حضرت مخدوم سالار فیض آبادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
صورتِ عشق، مایۂ صدق خواجہ سالار رحمۃ اللہ علیہ زہد و ورع اور تقویٰ و طہارت سے آراستہ تھے اور ان کا دل مبارک سلطان المشائخ کی محبت سے لبریز اور مالا مال تھا۔ ان بزرگوار نے اس دنیائے غدار میں خلق کی صحبت سے جو ایک نہایت قوی اور مہلک آفت ہے ہاتھ اٹھا کر گوشہ نشینی اختیار کی اور سب طرف سے منہ موڑ کر ایک گوشہ میں بیٹھ گئے، امیر خسرو فرماتے ہیں۔
اگرچہ گوشۂ غم نا خوش است برھمہ لیکن
چو تو خیال منی باغ و بوستان من است آن
(اگرچہ کنج تنہائی سب کو نا خوش معلوم ہوتی ہے لیکن جو کہ مجھے تیرا خیال ہے میرے نزدیک وہی باغ ہے۔)
اور سارا زمانہ پیر کی محبت پیر کی یاد پیر کی باتوں میں بسر کیا اور جو کچھ غیب سے پہنچا اس پر قناعت کی اور کسی مخلوق کی طرف کبھی توجہ نہیں کی آپ پر ذوق سماع اور جگر سوز گریہ بہت غالب تھا جس شخص کی نظر ان بزرگ کے جمال مبارک پر پڑتی فوراً محبت کا سلسلہ اس کے دل میں جنبش کرتا۔ ایک دن کا ذکر ہے کہ سلطان المشائخ کے خطیرہ میں سماع ہو رہا تھا اس بزرگوار پر شیخ سعدی کی ذیل کی بیت نے اس درجہ اثر کیا کہ بے خود ہوگئے اور سخت محویت طاری ہوئی۔
از سر زلف عرو سان چمن دست بدار
بسرِ زلف اگر دست رسد باد صفارا
خواجہ سالار بیشتر اوقات جناب سلطان المشائخ کے خلیفہ مولانا حسام الدین ملتانی کی صحبت میں رہا کرتے تھے اور مولانا کے ہمراہ حضور کی خدمت مبارک میں حاضر ہوا کرتے آخر عمر میں چند روز بیمار رہ کر انتقال فرما گئے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-makhdoom-salar-nosha-sifaat-faizabadi
صورتِ عشق، مایۂ صدق خواجہ سالار رحمۃ اللہ علیہ زہد و ورع اور تقویٰ و طہارت سے آراستہ تھے اور ان کا دل مبارک سلطان المشائخ کی محبت سے لبریز اور مالا مال تھا۔ ان بزرگوار نے اس دنیائے غدار میں خلق کی صحبت سے جو ایک نہایت قوی اور مہلک آفت ہے ہاتھ اٹھا کر گوشہ نشینی اختیار کی اور سب طرف سے منہ موڑ کر ایک گوشہ میں بیٹھ گئے، امیر خسرو فرماتے ہیں۔
اگرچہ گوشۂ غم نا خوش است برھمہ لیکن
چو تو خیال منی باغ و بوستان من است آن
(اگرچہ کنج تنہائی سب کو نا خوش معلوم ہوتی ہے لیکن جو کہ مجھے تیرا خیال ہے میرے نزدیک وہی باغ ہے۔)
اور سارا زمانہ پیر کی محبت پیر کی یاد پیر کی باتوں میں بسر کیا اور جو کچھ غیب سے پہنچا اس پر قناعت کی اور کسی مخلوق کی طرف کبھی توجہ نہیں کی آپ پر ذوق سماع اور جگر سوز گریہ بہت غالب تھا جس شخص کی نظر ان بزرگ کے جمال مبارک پر پڑتی فوراً محبت کا سلسلہ اس کے دل میں جنبش کرتا۔ ایک دن کا ذکر ہے کہ سلطان المشائخ کے خطیرہ میں سماع ہو رہا تھا اس بزرگوار پر شیخ سعدی کی ذیل کی بیت نے اس درجہ اثر کیا کہ بے خود ہوگئے اور سخت محویت طاری ہوئی۔
از سر زلف عرو سان چمن دست بدار
بسرِ زلف اگر دست رسد باد صفارا
خواجہ سالار بیشتر اوقات جناب سلطان المشائخ کے خلیفہ مولانا حسام الدین ملتانی کی صحبت میں رہا کرتے تھے اور مولانا کے ہمراہ حضور کی خدمت مبارک میں حاضر ہوا کرتے آخر عمر میں چند روز بیمار رہ کر انتقال فرما گئے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-makhdoom-salar-nosha-sifaat-faizabadi
scholars.pk
Hazrat Makhdoom Salar Nosha Sifaat Faizabadi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت سید شاہ محی الدین ویلوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
سید شاہ محی الدین دیلوری۱۲۰۷ھ بمطابق ۱۷۹۳ء میں پیدا ہوئے ۔
عارف بزرگ، عالم اجل اور حافظ قرآن تھے ۔ فقہ، حدیث اور تفسیر میں کامل مہارت رکھتے تھے ۔ دیلور میں ایک مدرسہ تعمیر کیا ۔ ہمیشہ طلباء کی تدریس میں مشغول رہتے ۔
علاقہ مدراس میں علم کی جو روشنی ہے وہ سب ان کے فیض عام کی جھلک ہے، تصانیف کثیرہ کے مالک تھے ۔
ان میں جواہر الحقائق ، فصل الخطاب ، اور جواہر السلوک وغیرہ مشہورو معروف ہیں ۔۳ محرم الحرام ۱۲۸۲ھ کو مدینہ طیبہ علی صا حبہا الصلٰوۃ والتحیتہ میں رحلت فرمائی ۔
ان کے بڑے صاحب زادے مولوی رکن الدین ان کے جانشین ہوئے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-shah-mohiyuddin-deelori
سید شاہ محی الدین دیلوری۱۲۰۷ھ بمطابق ۱۷۹۳ء میں پیدا ہوئے ۔
عارف بزرگ، عالم اجل اور حافظ قرآن تھے ۔ فقہ، حدیث اور تفسیر میں کامل مہارت رکھتے تھے ۔ دیلور میں ایک مدرسہ تعمیر کیا ۔ ہمیشہ طلباء کی تدریس میں مشغول رہتے ۔
علاقہ مدراس میں علم کی جو روشنی ہے وہ سب ان کے فیض عام کی جھلک ہے، تصانیف کثیرہ کے مالک تھے ۔
ان میں جواہر الحقائق ، فصل الخطاب ، اور جواہر السلوک وغیرہ مشہورو معروف ہیں ۔۳ محرم الحرام ۱۲۸۲ھ کو مدینہ طیبہ علی صا حبہا الصلٰوۃ والتحیتہ میں رحلت فرمائی ۔
ان کے بڑے صاحب زادے مولوی رکن الدین ان کے جانشین ہوئے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-shah-mohiyuddin-deelori
scholars.pk
Hazrat Syed Shah Mohiyuddin Deelori
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت علامہ مفتی محمد بخش تونسوی نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ
آپ 4 نومبر 1941ء کو ڈیرہ غازی خان کی تحصیل تونسہ شریف کے گاؤں "بہار والی "میں پیدا ہوئے ۔ آپ کے والد علامہ مولانا محمد علی علیہ الرحمہ اور دادا حضرت علامہ مفتی حافظ احمد بخش رحمۃ اللہ علیہ کا شمار اپنے وقت کے بہت بڑے علماء اور صوفیاء میں ہوتا تھا۔
آپ کے دو صاحبزادے بھی عالم دین ہیں۔ اس لحاظ سے آپ کا خاندان اسلامی اور علمی حلقوں میں بڑا معروف اور مشہور ہے۔
علامہ محمد بخش تونسوی نے ابتدائی تعلیم اپنے والد محترم علامہ محمد علی رحمۃ اللہ علیہ سے حاصل کی اور اس کے بعد آپ تونسہ شریف چلے گئے جہاں آپ نے " جامعہ محمودیہ " میں داخلہ لیا اور درس نظامی کی تعلیم حاصل کی ۔ اس کے بعد آپ نے مزید تعلیم کے لیے "جامعہ نعیمیہ لاہور" کا رخ کیا اور جامعہ نعیمیہ سے تخصص فی الفقہ یعنی مفتی کورس کی تکمیل کی اور با قاعدہ سند حاصل کی ۔
علامہ تونسوی دینی اور دنیاوی علوم سے آراستہ تھے ۔ آپ نے میٹرک سے لے کر اے ایم اے عربی اور ہومیو پیتھک ڈاکٹریٹ کی ڈگری تک تمام امتحانات امتیازی نمبروں سے پاس کیے ۔ آپ نے تین مضامین میں ایم اے کیا، 1994 میں آپ نے ایم اے عربی کا امتحان پاس کیا، 1966ء میں ایم اے اسلامک کلچر جب کہ 1998ء میں ایم اے اسلامیات کا امتحان پاس کیا۔ آپ کے اساتذہ گرامی میں اپنے وقت کے جلیل القدر اور مایہ ناز علماء کرام شامل ہیں۔
آپ علیہ الرحمہ نے جن اساتذہ سے دینی، دنیاوی اور روحانی علم حاصل کی ان میں
۱۔ حضرت علامہ مولانا محمد علی رحمۃ اللہ علیہ
۲۔ حضرت علامہ مولانا پیر مفتی محمد حسن سواگ نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ
۳۔ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد حسین نعیمی رحمۃ اللہ علیہ
۴۔ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد مشتاق باہور رحمۃ اللہ علیہ
۵۔ حضرت علامہ سید احمد سعید شاہ کاظمی رحمۃ اللہ علیہ
دنیاوی علوم سے فراغت کے بعد آپ نے علوم باطنی کی طرف توجہ کی اور والد محترم کی اجازت اور دعاؤں کے ساتھ آپ اپنے وقت کے بہت بڑے عالم، استاذ العلماء، ولی کامل عارف باللہ حضرت پیرمحمد حسن سواگ نقشبندی علیہ الرحمۃ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان کے دست حق پرست پر بیعت کا شرف حاصل کیا ۔
پھر آپ مرشد کریم اور والد گرامی کی اجازت کے ساتھ جھنگ میں حضرت سلطان باہو رحمۃ اللہ علیہ کے پوتے علامہ مفتی محمد مشتاق سے عملیات کی حاصل کی اور پھر کراچی تشریف لے آئے۔
علامہ محمد بخش تونسوی کو اللہ تعالیٰ نے زبردست ذہانت اور غیر معمولی قوت حافظہ سے نوازا تھا ۔ آپ کو مطالعہ کا بہت شوق تھا اکثر پوری پوری رات مطالعہ میں گزارتے تھے۔ آپ کو دینی علوم و فنون پر بھی عبور حاصل تھا۔ آپ نے کئی بد مذہب مولویوں سے مناظرے کیے۔ ایک اندازے کے مطابق آپ نے تقریباً 33 مناظرے کیے اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کے رسول ﷺ کی نظر کرم کے صدقے و طفیل ہر مناظرے میں آپ کو شاندار فتح عطا ہوئی ـ
علامہ محمد بخش تونسوی کی ذاتی لائبریری تھی جس میں تقریباً 30 ہزار چھوٹی بڑی اسلامی، تاریخیں، ادبی کتابیں موجود ہیں۔
علامہ محمد بخش تونسوی کا ایک قابل فخر کارنامہ اشاعت اسلام ہے۔ آپ نے اپنے وعظ و تقریر اور خطبات سے کوئی شخص متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا تھا حتی کہ غیر مسلموں نے بھی آپ کے وعظ و تقریر سے اسلام کی حقانیت کو جانے اور اسلام قبول کیا۔ آپ کے ہاتھ پر تقریباً 10 (دس) افراد نے اسلام قبول کیا جن میں سکھ، ہندو، عیسائی مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں ۔
علامہ محمد بخش تونسوی نے جب "جامع مسجد مسلم ٹاؤن" میں امامت و خطابت کی ذمہ داریاں سنبھالیں تو آپ نے اس وقت علاقے میں" قرآن و میلاد کمیٹی" کی بنیاد ڈالی جس کے تحت ہر سال ماہِ ربیع الاول اور ربیع الثانی میں مختلف گھروں میں تقریباً ہر روز باقاعدہ محافل و میلاد و گیارہویں شریف کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ نیز ہر اتوار کو جامع مسجد مسلم ٹاؤن کے نمازیوں کے گھروں پر بعد نمازِ فجر قرآن خوانی کا انعقاد بھی کیا جاتا تھا۔
علامہ محمد بخش تونسوی نے نارتھ کراچی میں قائد اہل سنّت علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی علیہ الرحمہ کی سرپرستی میں مدرسہ جامعہ غوثیہ نورانیہ کی بنیاد رکھی، جس میں قرآن مجید اور علوم عربیہ کی تعلیم دی جا رہی ہے۔ اس ادارے سے سینکڑوں افراد نے ناظرۂ قرآن اور حفظ پاک کی تعلیم حاصل کی جب کہ بے شمار طلباء نے درس نظامی کی تعلیم بھی حاصل کی۔
علامہ تونسوی کی تمام عمر مساجد، مدارس، مکاتب اور محافل کے ساتھ گزری۔ آپ نے بے شمار مساجد میں امامت و خطابت کے فرائض انجام دیے جن میں جامع مسجد ڈیرہ اسماعیل خان، جامع مسجد ملیر کینٹ، جامع مسجد علامہ اقبال اور جامع مسجد مسلم ٹاؤن قابل ذکر ہیں ۔
آپ 4 نومبر 1941ء کو ڈیرہ غازی خان کی تحصیل تونسہ شریف کے گاؤں "بہار والی "میں پیدا ہوئے ۔ آپ کے والد علامہ مولانا محمد علی علیہ الرحمہ اور دادا حضرت علامہ مفتی حافظ احمد بخش رحمۃ اللہ علیہ کا شمار اپنے وقت کے بہت بڑے علماء اور صوفیاء میں ہوتا تھا۔
آپ کے دو صاحبزادے بھی عالم دین ہیں۔ اس لحاظ سے آپ کا خاندان اسلامی اور علمی حلقوں میں بڑا معروف اور مشہور ہے۔
علامہ محمد بخش تونسوی نے ابتدائی تعلیم اپنے والد محترم علامہ محمد علی رحمۃ اللہ علیہ سے حاصل کی اور اس کے بعد آپ تونسہ شریف چلے گئے جہاں آپ نے " جامعہ محمودیہ " میں داخلہ لیا اور درس نظامی کی تعلیم حاصل کی ۔ اس کے بعد آپ نے مزید تعلیم کے لیے "جامعہ نعیمیہ لاہور" کا رخ کیا اور جامعہ نعیمیہ سے تخصص فی الفقہ یعنی مفتی کورس کی تکمیل کی اور با قاعدہ سند حاصل کی ۔
علامہ تونسوی دینی اور دنیاوی علوم سے آراستہ تھے ۔ آپ نے میٹرک سے لے کر اے ایم اے عربی اور ہومیو پیتھک ڈاکٹریٹ کی ڈگری تک تمام امتحانات امتیازی نمبروں سے پاس کیے ۔ آپ نے تین مضامین میں ایم اے کیا، 1994 میں آپ نے ایم اے عربی کا امتحان پاس کیا، 1966ء میں ایم اے اسلامک کلچر جب کہ 1998ء میں ایم اے اسلامیات کا امتحان پاس کیا۔ آپ کے اساتذہ گرامی میں اپنے وقت کے جلیل القدر اور مایہ ناز علماء کرام شامل ہیں۔
آپ علیہ الرحمہ نے جن اساتذہ سے دینی، دنیاوی اور روحانی علم حاصل کی ان میں
۱۔ حضرت علامہ مولانا محمد علی رحمۃ اللہ علیہ
۲۔ حضرت علامہ مولانا پیر مفتی محمد حسن سواگ نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ
۳۔ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد حسین نعیمی رحمۃ اللہ علیہ
۴۔ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد مشتاق باہور رحمۃ اللہ علیہ
۵۔ حضرت علامہ سید احمد سعید شاہ کاظمی رحمۃ اللہ علیہ
دنیاوی علوم سے فراغت کے بعد آپ نے علوم باطنی کی طرف توجہ کی اور والد محترم کی اجازت اور دعاؤں کے ساتھ آپ اپنے وقت کے بہت بڑے عالم، استاذ العلماء، ولی کامل عارف باللہ حضرت پیرمحمد حسن سواگ نقشبندی علیہ الرحمۃ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان کے دست حق پرست پر بیعت کا شرف حاصل کیا ۔
پھر آپ مرشد کریم اور والد گرامی کی اجازت کے ساتھ جھنگ میں حضرت سلطان باہو رحمۃ اللہ علیہ کے پوتے علامہ مفتی محمد مشتاق سے عملیات کی حاصل کی اور پھر کراچی تشریف لے آئے۔
علامہ محمد بخش تونسوی کو اللہ تعالیٰ نے زبردست ذہانت اور غیر معمولی قوت حافظہ سے نوازا تھا ۔ آپ کو مطالعہ کا بہت شوق تھا اکثر پوری پوری رات مطالعہ میں گزارتے تھے۔ آپ کو دینی علوم و فنون پر بھی عبور حاصل تھا۔ آپ نے کئی بد مذہب مولویوں سے مناظرے کیے۔ ایک اندازے کے مطابق آپ نے تقریباً 33 مناظرے کیے اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کے رسول ﷺ کی نظر کرم کے صدقے و طفیل ہر مناظرے میں آپ کو شاندار فتح عطا ہوئی ـ
علامہ محمد بخش تونسوی کی ذاتی لائبریری تھی جس میں تقریباً 30 ہزار چھوٹی بڑی اسلامی، تاریخیں، ادبی کتابیں موجود ہیں۔
علامہ محمد بخش تونسوی کا ایک قابل فخر کارنامہ اشاعت اسلام ہے۔ آپ نے اپنے وعظ و تقریر اور خطبات سے کوئی شخص متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا تھا حتی کہ غیر مسلموں نے بھی آپ کے وعظ و تقریر سے اسلام کی حقانیت کو جانے اور اسلام قبول کیا۔ آپ کے ہاتھ پر تقریباً 10 (دس) افراد نے اسلام قبول کیا جن میں سکھ، ہندو، عیسائی مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں ۔
علامہ محمد بخش تونسوی نے جب "جامع مسجد مسلم ٹاؤن" میں امامت و خطابت کی ذمہ داریاں سنبھالیں تو آپ نے اس وقت علاقے میں" قرآن و میلاد کمیٹی" کی بنیاد ڈالی جس کے تحت ہر سال ماہِ ربیع الاول اور ربیع الثانی میں مختلف گھروں میں تقریباً ہر روز باقاعدہ محافل و میلاد و گیارہویں شریف کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ نیز ہر اتوار کو جامع مسجد مسلم ٹاؤن کے نمازیوں کے گھروں پر بعد نمازِ فجر قرآن خوانی کا انعقاد بھی کیا جاتا تھا۔
علامہ محمد بخش تونسوی نے نارتھ کراچی میں قائد اہل سنّت علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی علیہ الرحمہ کی سرپرستی میں مدرسہ جامعہ غوثیہ نورانیہ کی بنیاد رکھی، جس میں قرآن مجید اور علوم عربیہ کی تعلیم دی جا رہی ہے۔ اس ادارے سے سینکڑوں افراد نے ناظرۂ قرآن اور حفظ پاک کی تعلیم حاصل کی جب کہ بے شمار طلباء نے درس نظامی کی تعلیم بھی حاصل کی۔
علامہ تونسوی کی تمام عمر مساجد، مدارس، مکاتب اور محافل کے ساتھ گزری۔ آپ نے بے شمار مساجد میں امامت و خطابت کے فرائض انجام دیے جن میں جامع مسجد ڈیرہ اسماعیل خان، جامع مسجد ملیر کینٹ، جامع مسجد علامہ اقبال اور جامع مسجد مسلم ٹاؤن قابل ذکر ہیں ۔
❤1
علامہ تونسوی نے 1983ء میں حج اکبر کی سعادت حاصل کی اور 1984ء میں مسلسل کئی سالوں تک ہر سال آپ عمرے کی سعادت حاصل کرتے رہے۔ علامہ تونسوی نے وعظ و خطبات کے ساتھ ساتھ تحریری میدان میں بھی نمایاں خدمات انجام دیں، آپ نے پانچ رسائل تحریری کیے جن کے نام درج ذیل ہیں ۔
۱۔ جشن عید میلاد النبی ﷺ
۲۔ تراویح 20 رکعت سنت ہے
۳۔ مسائل قربانی و طریقہ نمازِ عیدین
۴۔ رمضان المبارک
۵۔ ردِّ رفع الیدین
علامہ محمد بخش تونسوی کا 3 محرم الحرام 1432ھ مطابق 10 دسمبر 2010ء جمعۃ المبارک کو وصال ہوا ۔
آپ کی نمازِ جنازہ جامع مسجد مسلم ٹاؤن کے قریب روڈ پر ادا کی گئی، جس میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی، آپ کی نمازِ جنازہ میں علماء کرام، مشائخ عظام، عمایدین شہر، سیاسی و مذہبی قائدین، حکومت و انتظامیہ کے اعلیٰ افسران نے بھی تعداد میں شرکت کی ۔ آپ کی نمازِ جنازہ کی امامت علامہ سید شاہ تراب الحق قادری رضوی نے فرمائی ۔
علامہ محمد بخش تونسوی کا مزار مبارک جامع مسجد مسلم ٹاؤن کے احاطہ میں ہے ۔ (بحوالہ : ”روشن دریچے ”ص: 408-406)
آپ کے مشن آپ کے صاحبزادے علامہ مولانا اصغر بخش تونسوی شہیدی بہت احسن انداز سے پھیلا رہے ہیں ۔ آپ کے رفقاء خاص میں سے بزرگ عالمِ دین حضرت علامہ مولانا عبد الرشید تونسوی معینی زید مجدہ نارتھ کراچی میں آپ کے مشن کوزندہ کیے ہوئے ہیں،اور کثیر مخلوقِ خدا کو اپنے علمی و روحانی فیض سے مستفید فرما رہے ہیں ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-muhammad-bakhsh-taunsvi
۱۔ جشن عید میلاد النبی ﷺ
۲۔ تراویح 20 رکعت سنت ہے
۳۔ مسائل قربانی و طریقہ نمازِ عیدین
۴۔ رمضان المبارک
۵۔ ردِّ رفع الیدین
علامہ محمد بخش تونسوی کا 3 محرم الحرام 1432ھ مطابق 10 دسمبر 2010ء جمعۃ المبارک کو وصال ہوا ۔
آپ کی نمازِ جنازہ جامع مسجد مسلم ٹاؤن کے قریب روڈ پر ادا کی گئی، جس میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی، آپ کی نمازِ جنازہ میں علماء کرام، مشائخ عظام، عمایدین شہر، سیاسی و مذہبی قائدین، حکومت و انتظامیہ کے اعلیٰ افسران نے بھی تعداد میں شرکت کی ۔ آپ کی نمازِ جنازہ کی امامت علامہ سید شاہ تراب الحق قادری رضوی نے فرمائی ۔
علامہ محمد بخش تونسوی کا مزار مبارک جامع مسجد مسلم ٹاؤن کے احاطہ میں ہے ۔ (بحوالہ : ”روشن دریچے ”ص: 408-406)
آپ کے مشن آپ کے صاحبزادے علامہ مولانا اصغر بخش تونسوی شہیدی بہت احسن انداز سے پھیلا رہے ہیں ۔ آپ کے رفقاء خاص میں سے بزرگ عالمِ دین حضرت علامہ مولانا عبد الرشید تونسوی معینی زید مجدہ نارتھ کراچی میں آپ کے مشن کوزندہ کیے ہوئے ہیں،اور کثیر مخلوقِ خدا کو اپنے علمی و روحانی فیض سے مستفید فرما رہے ہیں ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-muhammad-bakhsh-taunsvi
scholars.pk
Hazrat Muhammad Bakhsh Taunsvi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
ابو القاسم، سید شاہ اسماعیل حسن مارہروی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: حضرت شاہ اسماعیل حسن ۔ کنیت: ابو القاسم ۔ لقب: مارہرہ مطہرہ کی نسبت سے "مارہروی" کہلاتے ہیں ۔ سید ابو القاسم، اور شاہ جی کے نام سے شہرت حاصل تھی ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت ابو القاسم مولانا سید شاہ اسماعیل حسن مارہروی بن حضرت سید محمد صادق بن حضرت سید اولاد رسول بن حضرت شاہ سید آل برکات ستھرے میاں بن حضرت سید شاہ حمزہ بن سید شاہ آل محمد بن سید شاہ برکت اللہ بن سید شاہ اویس بن سید شاہ عبد الجلیل بن سند المحققین سید شاہ عبد الواحد بلگرامی ۔ الیٰ آخرہ ۔ (علیہم الرحمۃ والرضوان) ـ
آپ کا سلسلۂ نسب چند واسطوں سے سید الشہداء حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے توسط سے حضرت مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم تک پہنچتا ہے ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 3 محرم الحرام 1272ھ، مطابق ماہِ ستمبر 1855ء کو "مارہرہ مطہرہ" (اتر پردیش، ہند ) میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
آپ نے حفظِ قرآن مجید اپنے شوق سے کیا ۔ آپ کے حفظ کے اساتذہ میں حافظ ولی داد خان مارہروی، حافظ قادر علی لکھنوی، حافظ عبد الکریم ملک پوری ہیں ۔ مولانا شاہ عبد الشکور مہامی ، مولانا محمد حسن سنبھلی، مولانا فضل اللہ فرنگی محلی، اور مولانا شاہ عبد القادر بدایونی علیہم الرحمہ سے درسیات کی تکمیل کی ۔
ان کے علاوہ تصوف و اخلاق کی تعلیم اپنے والدِ ماجد کے علاوہ حضرت شاہ آلِ رسول، حضرت شاہ ابو الحسین نوری میاں، حضرت تاج الفحول بدایونی علیہم الرحمہ سے حاصل کی ۔
بیعت و خلافت:
اپنے نانا حضرت شاہ غلام محی الدین قدس سرہ سے مرید ہوئے، اور خلافت کی دولت سے مالا مال ہوئے ۔ ان کے علاوہ والدِ ماجد قدس سرہ، حضرت شاہ نوری میاں، حضرت شاہ ظہور حسین، اور حضرت تاج الفحول مولانا شاہ عبد القادر بدایونی علیہم الرحمہ سے بھی اوراد و وظائف کی اجازت عطا ہوئی تھی ۔
سیرت و خصائص:
زبدۃ الکاملین، عمدۃ العارفین، شیخ الکاملین عارف باللہ، فنا فی الرسول حضرت مولانا سید ابو القاسم شاہ اسماعیل حسن مارہروی میاں رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ خاندانِ برکات کے ایسے نورانی چراغ ہیں، جس کے انوار سے ایک عالم منور ہوا ۔ جس وقت حضرت سیدنا شاہ ابو القاسم شاہ جی میاں مسند سجادگی پر رونق افروز ہوئے اس وقت آپ کو تیرہ سلاسل کی اجازت حاصل تھی لیکن سلسلۂ قادریہ سے آپ کو خاندانی روایت کے مطابق بڑا گہرا لگاؤ تھا، اس لئے آپ نے اسی سلسلے کو فروغ بخشا، اسی کے فیوض و برکات سے مریدین و متوسلین کو مالا مال کیا اور رات دن اسی سلسلے کی اشاعت کی جد و جہد فرائی ۔ بے شمار علما و مشائخ کو اسی سلسلے میں مرید کیا اور خلافت کی دولت سے بے بہا سر فراز فرمایا ۔ چونکہ آپ کے قول و فعل اور کردار و عمل میں اللہ تعالیٰ نے بے شمار برکتیں و دیعت فرمائی تھیں ـ اس لیے خلقت آپ کی طرف و الہانہ طور پر متوجہ ہوتی تھی ۔ دیکھنے والوں کا کہنا ہے کہ آپ کی نظر کرم پڑتے ہی نہ جانے کتنے لوگوں کی دنیا بدل گئی، نہ جانے کتنے ویران دل آباد ہو گئے اور نہ جانے کتنے کفر و شرک سے آلود دِلوں میں ایمان کا اُجالا پھیل گیا ۔ کتنے گمراہوں کو آپ کی ذات سے راہِ ہدایت نصیب ہوئی ۔ الغرض آپ کی ذات بڑی با فیض تھی لیکن سب سے بڑی خوبی آپ میں یہ تھی "کہ آپ احیائے سنیت اور تصلب فی الدین کے معاملے میں آپ اپنے اسلاف کے سچے جانشین تھے ۔
تذکرۂ علمائے اہل سنت میں ہے:
" (آپ) تصلب فی الدین میں بزرگان مارہرہ کے قدم بہ قدم تھے " ۔ (تذکرہ علمائے اہلسنت، ص:29) ۔ مشائخ مارہرہ کا تصلب فی الدین کس طرح تھا، اس کی تائید درج ذیل عبارت سے حاصل کی جا سکتی ہے ۔
حضور تاج العلماء فرماتے ہیں:
"ہمارے اسلاف کرام اور ان کے اخلاف سب بحمدہ تعالیٰ ہمیشہ سے دین اسلام و مذہب مہذب اہل سنت و جماعت سے آراستہ و پیراستہ چلے آتے تھے اور خوب اپنے اس دین متین اور مذہب مہذب میں تعصب و تصلب کو مقبول و محمود جانتے اور مانتے اور بتاتے رہتے تھے" ۔
تصلب فی الدین جو اس خانقاہ کا طرہ امتیاز رہا ہے ۔ ان حضرات نے بلا خوف لومۃ لائم ہر دور میں احقاق حق اور ابطال باطل کا اہم فریضہ انجام دیا ۔ یہی وجہ ہے کہ یہ خانقاہ ہر دور میں مسلمانانِ اہل سنت کے لیے مرکز توجہ رہی یہ مشائخ خود بھی متصلب فی الدین تھے اور اپنے متعلقین و متوسلین کو بھی اسی پر عمل پیرا رہنے کی ان لفظوں میں تلقین فرماتے:
نام و نسب:
اسمِ گرامی: حضرت شاہ اسماعیل حسن ۔ کنیت: ابو القاسم ۔ لقب: مارہرہ مطہرہ کی نسبت سے "مارہروی" کہلاتے ہیں ۔ سید ابو القاسم، اور شاہ جی کے نام سے شہرت حاصل تھی ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت ابو القاسم مولانا سید شاہ اسماعیل حسن مارہروی بن حضرت سید محمد صادق بن حضرت سید اولاد رسول بن حضرت شاہ سید آل برکات ستھرے میاں بن حضرت سید شاہ حمزہ بن سید شاہ آل محمد بن سید شاہ برکت اللہ بن سید شاہ اویس بن سید شاہ عبد الجلیل بن سند المحققین سید شاہ عبد الواحد بلگرامی ۔ الیٰ آخرہ ۔ (علیہم الرحمۃ والرضوان) ـ
آپ کا سلسلۂ نسب چند واسطوں سے سید الشہداء حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے توسط سے حضرت مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم تک پہنچتا ہے ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 3 محرم الحرام 1272ھ، مطابق ماہِ ستمبر 1855ء کو "مارہرہ مطہرہ" (اتر پردیش، ہند ) میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
آپ نے حفظِ قرآن مجید اپنے شوق سے کیا ۔ آپ کے حفظ کے اساتذہ میں حافظ ولی داد خان مارہروی، حافظ قادر علی لکھنوی، حافظ عبد الکریم ملک پوری ہیں ۔ مولانا شاہ عبد الشکور مہامی ، مولانا محمد حسن سنبھلی، مولانا فضل اللہ فرنگی محلی، اور مولانا شاہ عبد القادر بدایونی علیہم الرحمہ سے درسیات کی تکمیل کی ۔
ان کے علاوہ تصوف و اخلاق کی تعلیم اپنے والدِ ماجد کے علاوہ حضرت شاہ آلِ رسول، حضرت شاہ ابو الحسین نوری میاں، حضرت تاج الفحول بدایونی علیہم الرحمہ سے حاصل کی ۔
بیعت و خلافت:
اپنے نانا حضرت شاہ غلام محی الدین قدس سرہ سے مرید ہوئے، اور خلافت کی دولت سے مالا مال ہوئے ۔ ان کے علاوہ والدِ ماجد قدس سرہ، حضرت شاہ نوری میاں، حضرت شاہ ظہور حسین، اور حضرت تاج الفحول مولانا شاہ عبد القادر بدایونی علیہم الرحمہ سے بھی اوراد و وظائف کی اجازت عطا ہوئی تھی ۔
سیرت و خصائص:
زبدۃ الکاملین، عمدۃ العارفین، شیخ الکاملین عارف باللہ، فنا فی الرسول حضرت مولانا سید ابو القاسم شاہ اسماعیل حسن مارہروی میاں رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ خاندانِ برکات کے ایسے نورانی چراغ ہیں، جس کے انوار سے ایک عالم منور ہوا ۔ جس وقت حضرت سیدنا شاہ ابو القاسم شاہ جی میاں مسند سجادگی پر رونق افروز ہوئے اس وقت آپ کو تیرہ سلاسل کی اجازت حاصل تھی لیکن سلسلۂ قادریہ سے آپ کو خاندانی روایت کے مطابق بڑا گہرا لگاؤ تھا، اس لئے آپ نے اسی سلسلے کو فروغ بخشا، اسی کے فیوض و برکات سے مریدین و متوسلین کو مالا مال کیا اور رات دن اسی سلسلے کی اشاعت کی جد و جہد فرائی ۔ بے شمار علما و مشائخ کو اسی سلسلے میں مرید کیا اور خلافت کی دولت سے بے بہا سر فراز فرمایا ۔ چونکہ آپ کے قول و فعل اور کردار و عمل میں اللہ تعالیٰ نے بے شمار برکتیں و دیعت فرمائی تھیں ـ اس لیے خلقت آپ کی طرف و الہانہ طور پر متوجہ ہوتی تھی ۔ دیکھنے والوں کا کہنا ہے کہ آپ کی نظر کرم پڑتے ہی نہ جانے کتنے لوگوں کی دنیا بدل گئی، نہ جانے کتنے ویران دل آباد ہو گئے اور نہ جانے کتنے کفر و شرک سے آلود دِلوں میں ایمان کا اُجالا پھیل گیا ۔ کتنے گمراہوں کو آپ کی ذات سے راہِ ہدایت نصیب ہوئی ۔ الغرض آپ کی ذات بڑی با فیض تھی لیکن سب سے بڑی خوبی آپ میں یہ تھی "کہ آپ احیائے سنیت اور تصلب فی الدین کے معاملے میں آپ اپنے اسلاف کے سچے جانشین تھے ۔
تذکرۂ علمائے اہل سنت میں ہے:
" (آپ) تصلب فی الدین میں بزرگان مارہرہ کے قدم بہ قدم تھے " ۔ (تذکرہ علمائے اہلسنت، ص:29) ۔ مشائخ مارہرہ کا تصلب فی الدین کس طرح تھا، اس کی تائید درج ذیل عبارت سے حاصل کی جا سکتی ہے ۔
حضور تاج العلماء فرماتے ہیں:
"ہمارے اسلاف کرام اور ان کے اخلاف سب بحمدہ تعالیٰ ہمیشہ سے دین اسلام و مذہب مہذب اہل سنت و جماعت سے آراستہ و پیراستہ چلے آتے تھے اور خوب اپنے اس دین متین اور مذہب مہذب میں تعصب و تصلب کو مقبول و محمود جانتے اور مانتے اور بتاتے رہتے تھے" ۔
تصلب فی الدین جو اس خانقاہ کا طرہ امتیاز رہا ہے ۔ ان حضرات نے بلا خوف لومۃ لائم ہر دور میں احقاق حق اور ابطال باطل کا اہم فریضہ انجام دیا ۔ یہی وجہ ہے کہ یہ خانقاہ ہر دور میں مسلمانانِ اہل سنت کے لیے مرکز توجہ رہی یہ مشائخ خود بھی متصلب فی الدین تھے اور اپنے متعلقین و متوسلین کو بھی اسی پر عمل پیرا رہنے کی ان لفظوں میں تلقین فرماتے:
❤1
"مذہب اہل سنت و جماعت پر ایسے جمے ہوئے رہیں کہ دوسرے متعصب جانیں اور شریعت مطہرہ کو اپنا دستور العمل بنائیں، مذہب اہل سنت کے پھیلانے اور بدعت کو مٹانے اور بَد دینوں، بے دینوں کے رد کو اپنا مقصود ٹھہرائیں ـ
خصوصاً وہابیہ، دیوبندیہ، نجدیہ کا رد سب شریروں سے زائد گندے اور اسلام کو نقصان پہنچانے اور جڑ کو کھودنے میں بَد ترین کفار ہیں ۔ اہل سنت کے جتنے مخالف مثلاً وہابی، راضی، ندوی، نیچری، چکڑالوی، غیر مقلد، قادیانی اور گاندھوی وغیرہ ہیں، ان سب کو اپنا دشمن جانیں ان کی بات نہ سنیں، ان کے پاس نہ بیٹھیں، ان کی کوئی تحریر نہ دیکھیں، دین و ایمان سب سے زیادہ عزیز چیز ہیں، ان کی محافظت میں حد سے زیادہ کوشِش فرض ہے" ۔
حضرت شاہ جی میاں اصولوں کے بہت پکے تھے ۔ غلط باتوں پر ہر ایک کی سر زنش کرتے، اس میں دوست دشمن، اپنا بیگانہ کی کوئی تمیز روا نہ تھی ۔ آپ صرف گوشہ نشین صوفی نہ تھے، بلکہ ملکی و بین الاقوامی حالات و معاملات پر خوب نظر تھی ۔ تحریکِ خلافت، تحریکِ پاکستان، تحریک ترکِ مولات، وغیرہ کے بارے میں وہی موقف تھا جو اکابرِ اہلسنت کا رَہا ہے ۔ اُس وقت جب بھی سنیت کے خلاف کوئی مضمون وغیرہ اخبارات و رسائل میں شائع ہوتا تو فوراً نوٹس لیتے ۔ مصروفیات سے وقت بچا کر دینی کتب کے مطالعے میں مشغول رہتے تھے ۔ آپ کی تصنیفات و خطوط علم کا گنجینہ ہیں ۔
وصال:
آپ کا وصال یکم صفر المظفر 1347ھ، مطابق جولائی 1928ء کو ہوا ۔ مرقدِ انور " مارہرہ مطہرہ " انڈیا میں ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علماء اہلسنت ۔ اہلسنت کی آواز 1431ھ ۔ خاندانِ برکات ۔ ضیائے صفر المظفر ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-shah-abul-qasim-muhammad-ismail-hasan-shah-qdri
خصوصاً وہابیہ، دیوبندیہ، نجدیہ کا رد سب شریروں سے زائد گندے اور اسلام کو نقصان پہنچانے اور جڑ کو کھودنے میں بَد ترین کفار ہیں ۔ اہل سنت کے جتنے مخالف مثلاً وہابی، راضی، ندوی، نیچری، چکڑالوی، غیر مقلد، قادیانی اور گاندھوی وغیرہ ہیں، ان سب کو اپنا دشمن جانیں ان کی بات نہ سنیں، ان کے پاس نہ بیٹھیں، ان کی کوئی تحریر نہ دیکھیں، دین و ایمان سب سے زیادہ عزیز چیز ہیں، ان کی محافظت میں حد سے زیادہ کوشِش فرض ہے" ۔
حضرت شاہ جی میاں اصولوں کے بہت پکے تھے ۔ غلط باتوں پر ہر ایک کی سر زنش کرتے، اس میں دوست دشمن، اپنا بیگانہ کی کوئی تمیز روا نہ تھی ۔ آپ صرف گوشہ نشین صوفی نہ تھے، بلکہ ملکی و بین الاقوامی حالات و معاملات پر خوب نظر تھی ۔ تحریکِ خلافت، تحریکِ پاکستان، تحریک ترکِ مولات، وغیرہ کے بارے میں وہی موقف تھا جو اکابرِ اہلسنت کا رَہا ہے ۔ اُس وقت جب بھی سنیت کے خلاف کوئی مضمون وغیرہ اخبارات و رسائل میں شائع ہوتا تو فوراً نوٹس لیتے ۔ مصروفیات سے وقت بچا کر دینی کتب کے مطالعے میں مشغول رہتے تھے ۔ آپ کی تصنیفات و خطوط علم کا گنجینہ ہیں ۔
وصال:
آپ کا وصال یکم صفر المظفر 1347ھ، مطابق جولائی 1928ء کو ہوا ۔ مرقدِ انور " مارہرہ مطہرہ " انڈیا میں ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علماء اہلسنت ۔ اہلسنت کی آواز 1431ھ ۔ خاندانِ برکات ۔ ضیائے صفر المظفر ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-shah-abul-qasim-muhammad-ismail-hasan-shah-qdri
scholars.pk
Hazrat Shah Ismail Hassan Marharwi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
02-01-1445 ᴴ | 21-07-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
03-01-1445 ᴴ | 22-07-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1