🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
02-01-1445 ᴴ | 21-07-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
02-01-1445 ᴴ | 21-07-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
مروجہ تعزیہ داری ناجائز و حرام ہے
حوالے ملاحظہ فرمائیں: ↶↶↶
https://t.me/islaamic_Knowledge/36246
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
3👍1
حضرت ابو عثمان سعید بن سلام مغربی رحمۃ اللہ علیہ

منجملہ ائمہ طریقت، سیف سیادت، آفتاب نجابت، حضرت عثمان سعید بن سلام مغربی رحمۃ اللہ علیہ ہیں ۔

جو اہل استقامت بزرگوں میں سے تھے ۔آپ رحمۃ اللہ علیہ صاحب ریاضت و سیاست اور فنون علم میں کامل مہارت رکھتے تھے ۔ آپ کی نشانیاں بکثرت اور براہین عمدہ ہیں ۔

آپ کا ارشاد ہے:
‘‘من آئر صحبۃ الاغنیاء علی مجاندۃ الفقراء ابتلاء اللہ تعالیٰ بموت القلب’’

‘‘جو درویشوں کی صحبت پر امیروں کی ہم نشینی کو ترجیح دیتا ہے اللہ تعالیٰ اسے دل کی موت میں مبتلا کر دیتا ہے ۔’’

اس لیے کہ جب درویشوں کی مجلس کے مقابلہ مین تو نگروں کی صحبت اختیار کرے گا تو اس کا دل حاجت کی موت سے آپ ہی مرجائے گا اور اس کا جسم و ہم و گمان میں گرفتار ہو جائے گا ۔

جب کہ مجلس چھوڑ نے کا نتیجہ دل کی موت ہے تو صحبت سے اعراض کا کیا انجام ہوگا۔؟ان مختصر کلمات میں صحبت اور مجانست کا فرق ظاہر ہے۔ واللہ اعلم۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-saeed-qerwani
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت مخدوم سالار فیض آبادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

صورتِ عشق، مایۂ صدق خواجہ سالار رحمۃ اللہ علیہ زہد و ورع اور تقویٰ و طہارت سے آراستہ تھے اور ان کا دل مبارک سلطان المشائخ کی محبت سے لبریز اور مالا مال تھا۔ ان بزرگوار نے اس دنیائے غدار میں خلق کی صحبت سے جو ایک نہایت قوی اور مہلک آفت ہے ہاتھ اٹھا کر گوشہ نشینی اختیار کی اور سب طرف سے منہ موڑ کر ایک گوشہ میں بیٹھ گئے، امیر خسرو فرماتے ہیں۔

اگرچہ گوشۂ غم نا خوش است برھمہ لیکن
چو تو خیال منی باغ و بوستان من است آن

(اگرچہ کنج تنہائی سب کو نا خوش معلوم ہوتی ہے لیکن جو کہ مجھے تیرا خیال ہے میرے نزدیک وہی باغ ہے۔)

اور سارا زمانہ پیر کی محبت پیر کی یاد پیر کی باتوں میں بسر کیا اور جو کچھ غیب سے پہنچا اس پر قناعت کی اور کسی مخلوق کی طرف کبھی توجہ نہیں کی آپ پر ذوق سماع اور جگر سوز گریہ بہت غالب تھا جس شخص کی نظر ان بزرگ کے جمال مبارک پر پڑتی فوراً محبت کا سلسلہ اس کے دل میں جنبش کرتا۔ ایک دن کا ذکر ہے کہ سلطان المشائخ کے خطیرہ میں سماع ہو رہا تھا اس بزرگوار پر شیخ سعدی کی ذیل کی بیت نے اس درجہ اثر کیا کہ بے خود ہوگئے اور سخت محویت طاری ہوئی۔

از سر زلف عرو سان چمن دست بدار
بسرِ زلف اگر دست رسد باد صفارا

خواجہ سالار بیشتر اوقات جناب سلطان المشائخ کے خلیفہ مولانا حسام الدین ملتانی کی صحبت میں رہا کرتے تھے اور مولانا کے ہمراہ حضور کی خدمت مبارک میں حاضر ہوا کرتے آخر عمر میں چند روز بیمار رہ کر انتقال فرما گئے ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-makhdoom-salar-nosha-sifaat-faizabadi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت سید شاہ محی الدین ویلوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

سید شاہ محی الدین دیلوری۱۲۰۷ھ بمطابق ۱۷۹۳ء میں پیدا ہوئے ۔

عارف بزرگ، عالم اجل اور حافظ قرآن تھے ۔ فقہ، حدیث اور تفسیر میں کامل مہارت رکھتے تھے ۔ دیلور میں ایک مدرسہ تعمیر کیا ۔ ہمیشہ طلباء کی تدریس میں مشغول رہتے ۔

علاقہ مدراس میں علم کی جو روشنی ہے وہ سب ان کے فیض عام کی جھلک ہے، تصانیف کثیرہ کے مالک تھے ۔

ان میں جواہر الحقائق ، فصل الخطاب ، اور جواہر السلوک وغیرہ مشہورو معروف ہیں ۔۳ محرم الحرام ۱۲۸۲ھ کو مدینہ طیبہ علی صا حبہا الصلٰوۃ والتحیتہ میں رحلت فرمائی ۔

ان کے بڑے صاحب زادے مولوی رکن الدین ان کے جانشین ہوئے ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-shah-mohiyuddin-deelori
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت علامہ مفتی محمد بخش تونسوی نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ

آپ 4 نومبر 1941ء کو ڈیرہ غازی خان کی تحصیل تونسہ شریف کے گاؤں "بہار والی "میں پیدا ہوئے ۔ آپ کے والد علامہ مولانا محمد علی علیہ الرحمہ اور دادا حضرت علامہ مفتی حافظ احمد بخش رحمۃ اللہ علیہ کا شمار اپنے وقت کے بہت بڑے علماء اور صوفیاء میں ہوتا تھا۔

آپ کے دو صاحبزادے بھی عالم دین ہیں۔ اس لحاظ سے آپ کا خاندان اسلامی اور علمی حلقوں میں بڑا معروف اور مشہور ہے۔

علامہ محمد بخش تونسوی نے ابتدائی تعلیم اپنے والد محترم علامہ محمد علی رحمۃ اللہ علیہ سے حاصل کی اور اس کے بعد آپ تونسہ شریف چلے گئے جہاں آپ نے " جامعہ محمودیہ " میں داخلہ لیا اور درس نظامی کی تعلیم حاصل کی ۔ اس کے بعد آپ نے مزید تعلیم کے لیے "جامعہ نعیمیہ لاہور" کا رخ کیا اور جامعہ نعیمیہ سے تخصص فی الفقہ یعنی مفتی کورس کی تکمیل کی اور با قاعدہ سند حاصل کی ۔

علامہ تونسوی دینی اور دنیاوی علوم سے آراستہ تھے ۔ آپ نے میٹرک سے لے کر اے ایم اے عربی اور ہومیو پیتھک ڈاکٹریٹ کی ڈگری تک تمام امتحانات امتیازی نمبروں سے پاس کیے ۔ آپ نے تین مضامین میں ایم اے کیا، 1994 میں آپ نے ایم اے عربی کا امتحان پاس کیا، 1966ء میں ایم اے اسلامک کلچر جب کہ 1998ء میں ایم اے اسلامیات کا امتحان پاس کیا۔ آپ کے اساتذہ گرامی میں اپنے وقت کے جلیل القدر اور مایہ ناز علماء کرام شامل ہیں۔

آپ علیہ الرحمہ نے جن اساتذہ سے دینی، دنیاوی اور روحانی علم حاصل کی ان میں

۱۔ حضرت علامہ مولانا محمد علی رحمۃ اللہ علیہ
۲۔ حضرت علامہ مولانا پیر مفتی محمد حسن سواگ نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ
۳۔ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد حسین نعیمی رحمۃ اللہ علیہ
۴۔ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد مشتاق باہور رحمۃ اللہ علیہ
۵۔ حضرت علامہ سید احمد سعید شاہ کاظمی رحمۃ اللہ علیہ

دنیاوی علوم سے فراغت کے بعد آپ نے علوم باطنی کی طرف توجہ کی اور والد محترم کی اجازت اور دعاؤں کے ساتھ آپ اپنے وقت کے بہت بڑے عالم، استاذ العلماء، ولی کامل عارف باللہ حضرت پیرمحمد حسن سواگ نقشبندی علیہ الرحمۃ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان کے دست حق پرست پر بیعت کا شرف حاصل کیا ۔

پھر آپ مرشد کریم اور والد گرامی کی اجازت کے ساتھ جھنگ میں حضرت سلطان باہو رحمۃ اللہ علیہ کے پوتے علامہ مفتی محمد مشتاق سے عملیات کی حاصل کی اور پھر کراچی تشریف لے آئے۔

علامہ محمد بخش تونسوی کو اللہ تعالیٰ نے زبردست ذہانت اور غیر معمولی قوت حافظہ سے نوازا تھا ۔ آپ کو مطالعہ کا بہت شوق تھا اکثر پوری پوری رات مطالعہ میں گزارتے تھے۔ آپ کو دینی علوم و فنون پر بھی عبور حاصل تھا۔ آپ نے کئی بد مذہب مولویوں سے مناظرے کیے۔ ایک اندازے کے مطابق آپ نے تقریباً 33 مناظرے کیے اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کے رسول ﷺ کی نظر کرم کے صدقے و طفیل ہر مناظرے میں آپ کو شاندار فتح عطا ہوئی ـ

علامہ محمد بخش تونسوی کی ذاتی لائبریری تھی جس میں تقریباً 30 ہزار چھوٹی بڑی اسلامی، تاریخیں، ادبی کتابیں موجود ہیں۔

علامہ محمد بخش تونسوی کا ایک قابل فخر کارنامہ اشاعت اسلام ہے۔ آپ نے اپنے وعظ و تقریر اور خطبات سے کوئی شخص متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا تھا حتی کہ غیر مسلموں نے بھی آپ کے وعظ و تقریر سے اسلام کی حقانیت کو جانے اور اسلام قبول کیا۔ آپ کے ہاتھ پر تقریباً 10 (دس) افراد نے اسلام قبول کیا جن میں سکھ، ہندو، عیسائی مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں ۔

علامہ محمد بخش تونسوی نے جب "جامع مسجد مسلم ٹاؤن" میں امامت و خطابت کی ذمہ داریاں سنبھالیں تو آپ نے اس وقت علاقے میں" قرآن و میلاد کمیٹی" کی بنیاد ڈالی جس کے تحت ہر سال ماہِ ربیع الاول اور ربیع الثانی میں مختلف گھروں میں تقریباً ہر روز باقاعدہ محافل و میلاد و گیارہویں شریف کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ نیز ہر اتوار کو جامع مسجد مسلم ٹاؤن کے نمازیوں کے گھروں پر بعد نمازِ فجر قرآن خوانی کا انعقاد بھی کیا جاتا تھا۔

علامہ محمد بخش تونسوی نے نارتھ کراچی میں قائد اہل سنّت علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی علیہ الرحمہ کی سرپرستی میں مدرسہ جامعہ غوثیہ نورانیہ کی بنیاد رکھی، جس میں قرآن مجید اور علوم عربیہ کی تعلیم دی جا رہی ہے۔ اس ادارے سے سینکڑوں افراد نے ناظرۂ قرآن اور حفظ پاک کی تعلیم حاصل کی جب کہ بے شمار طلباء نے درس نظامی کی تعلیم بھی حاصل کی۔

علامہ تونسوی کی تمام عمر مساجد، مدارس، مکاتب اور محافل کے ساتھ گزری۔ آپ نے بے شمار مساجد میں امامت و خطابت کے فرائض انجام دیے جن میں جامع مسجد ڈیرہ اسماعیل خان، جامع مسجد ملیر کینٹ، جامع مسجد علامہ اقبال اور جامع مسجد مسلم ٹاؤن قابل ذکر ہیں ۔
1
علامہ تونسوی نے 1983ء میں حج اکبر کی سعادت حاصل کی اور 1984ء میں مسلسل کئی سالوں تک  ہر سال آپ عمرے کی سعادت حاصل کرتے رہے۔ علامہ تونسوی نے وعظ و خطبات کے ساتھ ساتھ تحریری میدان میں بھی نمایاں خدمات انجام دیں، آپ نے پانچ رسائل تحریری کیے جن کے نام درج ذیل ہیں ۔

۱۔ جشن عید میلاد النبی ﷺ
۲۔ تراویح 20 رکعت سنت ہے
۳۔ مسائل قربانی و طریقہ نمازِ عیدین
۴۔ رمضان المبارک
۵۔ ردِّ رفع الیدین

علامہ محمد بخش تونسوی کا 3 محرم الحرام 1432ھ مطابق 10 دسمبر 2010ء جمعۃ المبارک کو وصال ہوا ۔

آپ کی نمازِ جنازہ جامع مسجد مسلم ٹاؤن کے قریب روڈ پر ادا کی گئی، جس میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی، آپ کی نمازِ جنازہ میں علماء کرام، مشائخ عظام، عمایدین شہر، سیاسی و مذہبی قائدین، حکومت و انتظامیہ کے اعلیٰ افسران نے بھی تعداد میں شرکت کی ۔ آپ کی نمازِ جنازہ کی امامت علامہ سید شاہ تراب الحق قادری رضوی نے فرمائی ۔

علامہ محمد بخش تونسوی کا مزار مبارک جامع مسجد مسلم ٹاؤن کے احاطہ میں ہے ۔ (بحوالہ : ”روشن دریچے ”ص: 408-406)

آپ کے مشن آپ کے صاحبزادے علامہ مولانا اصغر بخش تونسوی شہیدی بہت احسن انداز سے پھیلا رہے ہیں ۔ آپ کے رفقاء خاص میں سے بزرگ عالمِ دین حضرت علامہ مولانا عبد الرشید تونسوی معینی زید مجدہ نارتھ کراچی میں آپ کے مشن کوزندہ کیے ہوئے ہیں،اور کثیر مخلوقِ خدا کو اپنے علمی و روحانی فیض سے مستفید فرما رہے ہیں ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-muhammad-bakhsh-taunsvi
1