🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
حضرت ابوالحسن سید علی گیلانی رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی:
سید علی ۔ کنیت: ابوالحسن ۔ لقب: ضیاء الدین ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
ابو الحسن سید ضیاء الدین علی گیلانی بن سید مسعود غازی گیلانی بن سید ابو العباس احمد گیلانی بن سید صفی الدین گیلانی المعروف سید صوفی قادری بن سید سیف الدین عبد الوہاب گیلانی بن غوث الاعظم محی الدین سید عبد القادر جیلانی ۔ (رضی اللہ عنہم اجمعین)

تصحیح:
بہت سے مؤرخین نے آپ کو سید مسعود گیلانی کا پوتا اور سید ابو علی کا بیٹا لکھا ہے ۔ حالانکہ سید مسعود گیلانی کا آپ کے علاوہ کوئی اور بیٹا نہیں تھا ۔صحیح یہ ہے کہ حضرت سید علی گیلانی سید ابو علی مسعود گیلانی رحمۃ اللہ علیہ کے بیٹے تھے، نہ کہ پوتے ۔ (تکملہ مفتاح الفتوح ۔ اخبارالاخیار ۔ تذکرہ مشائخِ قادریہ ۔ شریف التواریخ)

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 645ھ، بمطابق 1247ء کو "حلب" شام میں ہوئی ۔

تحصیلِ علم:
آپ نے تمام علوم اپنے پدر بزرگوار سے حاصل کیے ۔ آپ جملہ علوم معقول و منقول سے فارغ التحصیل ہوئے، جامع العلوم ،اور اپنے وقت کے بہت بڑے عالم اور کامل ولی تھے۔

بیعت و خلافت:
اپنے والدِ گرامی حضرت شیخ المشائخ سید ابو البرکات محی الدین مسعود گیلانی حلبی رحمۃ اللہ علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت کی اور خرقہ خلافت و اجازت حاصل کیا ۔

سیرت و خصائص:
وارث الانبیاء و المرسلین، محبوب حبیبِ رب العالمین، مظہر کمالاتِ نبویہ، مزینِ اطوارِ غوثیہ، مہبطِ انوار و تجلیاتِ الٰہی، مصدرِ فیوضاتِ نا متناہی، سلطان العرفاء، فخرِ ملت ابوالحسن سید ضیاء الدین علی گیلانی رحمۃ اللہ علیہ۔ آپ حضرت سید ابو البرکات محی الدین مسعود گیلانی رحمۃ اللہ علیہ کے فرزند اکبر اور خلیفہ اعظم و سجادہ نشین تھے۔ آپ نے بہت ممالک کی سیاحت کی اور جہاں جہاں تشریف لے گئے وہاں دینِ اسلام کاچراغ روشن کرتے گئے۔بہت سے غیر مسلم آپ کے دستِ حق پرست پر مسلمان ہوئے، فساق و فجار تائب ہوئے، اور سالکین راہِ حقیقت مقامِ حقیقت سے سرفراز ہوئے۔ اپنے بزرگوں کی طرح مشربِ توحید آپ پر غالب تھا۔ جس وقت منبر پر وعظ کے لیے کھڑے ہوتے تو ایسے ایسے حقائق و معارفِ توحید بیان فرماتے جن کے ادراک سے علمائے ظاہری کے افہام قاصر رہتے۔

آپ جامع کمالاتِ صوری و معنوی تھے۔ وسیع الاخلاق اشارات و حالاتِ عالیہ رکھتے، دُنیا و اہلِ دُنیا کو نظر اُٹھا کر بھی نہ دیکھتے، ہر دم ذاتِ حق کے مشاہدہ میں مستغرق رہتے، معرفت میں اپنا ثانی نہ رکھتے تھے۔ میدانِ حقیقت میں یکہ تاز تھے۔ عاجزوں کی نوازش کرنا آپ کا شیوہ تھا۔

وصال:
آپ کا وصال بروز منگل، 2 محرم الحرام 715ھ، بمطابق 8 اپریل 1315ء کو ہوا ۔ آپ اپنے والد کے مزار "حلب" شام میں مدفون ہیں ۔

ماخذ و مراجع:
شریف التواریخ ۔ تذکرہ مشائخِ قادریہ

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-ziauddin-ali-gilani
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
خواجہ معین الدین نقشبندی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

اسمِ گرامی: خواجہ معین الدین بن خواجہ محمود نقشبندی (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہما)

تحصیلِ علم:
مختلف علوم وفنون اصول ِفقہ، اصول ِحدیث وغیرہ میں حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے شاگرد تھے ۔

بیعت و خلافت:
آپ علیہ الرحمہ نے اپنے والد کے دستِ حق پرست بیعت کرکے باطنی علوم کی تحصیل کی اور طریقت کے تمام رموز و اسرار والد محترم کی خدمت اقدس میں رہ کر سیکھے ۔ اور اپنے والدِ ماجد سے خرقہ خلافت حاصل کیا ۔

سیرت و خصائص:
حضرت خواجہ معین الدین نقشبندی علیہ الرحمہ کشمیر کے علمائے کبار اور مشائخِ نامدار میں سے تھے ۔ اتباعِ شریعت و ترویجِ سنت و ترفیعِ بدعت اور زہد و ورع و تقویٰ میں اپنا نظیر نہ رکھتے تھے ۔ تمام علماء و صلحاءِ وقت آپ کی تحریر و تقریر کو قبول کرتے اور اپنے مسائل کے حل کے لئے آپ کی طرف رجوع کرتے، آپ کے خطِ فرمان پر سر رکھتے اور احکام روایت و عدالت میں آپ سے فتویٰ طلب کرتے تھے ۔

آپ کی ذاتِ مبارکہ سیرت و صورتِ کے لحاظ سے اولیائے کرام کی چلتی پھرتی مثال تھی ۔ ناجائز رسومات کی نشان دہی کرنا اور لوگوں کو اس سے روکنا آپ کی عادتِ مبارکہ تھی ۔

عقائدِ باطلہ کے رد میں اور اہل سنت کی ترویج و اشاعت میں بہت جد و جہد کرکے لوگوں کو صحیح تعلیم اور قرآن و سنت کے مطابق عقائد کی طرف لے کے آئے ۔

وصال:
آپ کا انتقال 2 محرم الحرام 1085ھ بمطابق اپریل 1674ء کو کشمیر میں ہوا ۔ آپ علیہ الرحمہ کا مزار کشمیر میں مرجعِ خلائقِ عوام و خواص ہے ۔

ماخذ و مراجع:
حدائق الحنفیہ ۔ تذکرہ اولیائے بر صغیر پاک و ہند

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-moinuddin-naqshbandi-kashmiri
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت شاہ صاحب عالم مارہروی رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
سید شاہ صاحب عالم بن شاہ مخدوم عالم بن شاہ مقبول عالم ابن شاہ نجات اللہ بن شاہ برکت اللہ مارہروی (رحمۃ اللہ علیہم اجمعین)

تاریخِ ولادت:
آپ علیہ الرحمہ کی ولادت 26 ربیع الاول 1211 ھ، بمطابق ستمبر 1796ء میں ہوئی ۔

سیرت و خصائص:
آپ علیہ الرحمہ جلیل القدر عالم اور ایک بلند پایہ شیخِ کامل تھے ۔ آپ " خاندانِ مارہرہ مطہرہ " کے چشم و چراغ تھے ۔ آپ اپنے خاندان کے علمی و روحانی وارث تھے ۔ آپ اپنے سلسلہ کی ترویج و ترقی کیلئے بہت کوشاں رہے ۔

تمام علومِ متداولہ پر کامل مہارت رکھتے تھے ۔عربی، فارسی، اردو، ہندی کے زبردست شاعر و ادیب تھے ۔

یہی وجہ ہے کہ مرزا غالب کے بہت سے خطوط آپ کے نام ملتے ہیں ۔

ایک مقام پر مرزاغالب نے " بطورِ مزاح " آپ کو لکھا: "پیر و مرشد کے سنِ ولادت کا مادہ " تاریخ " ہے اور غلام کا " تاریخا " ۔

آپ مخلوق کی ذہنی و اخلاقی تربیت فرماتے تھے ۔ خلافِ شریعت کاموں کو ناپسند کرتے تھے، اور خلافِ شرع کام کرنے پر ایسی زجر و توبیخ کرتے کہ وہ شخص فوراً آپ کے ہاتھ پر توبہ کر لیتا ۔

وصال:
آپ کا وصال 2 محرم 1288 ھ بمطابق مارچ 1871 میں ہوا ۔ درگاہ معلیٰ مارہرہ میں جانبِ عرب دفن ہوئے ۔

ماخذ و مراجع: تذکرہ علمائے اہل سنت

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-shah-alam-marharwi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
محمد جلال الدین قادری رضوی
یوم وصال 02 محرم الحرام 1429
یوم پیدائش 01 جمادى الآخر 1357

محقق دوراں حضرت مولانا محمد جلال الدین قادری رضوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی: محمد جلال الدین ۔ کنیت: ابو سعید ۔ لقب: محقق دوراں، مفسر قرآن ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا محمد جلال الدین قادری بن حضرت مولانا خواج دین بن خدا بخش بن شرف دین ۔ (رحمۃ اللہ علیہم)

آپ کے والدِ گرامی باعمل عالمِ دین تھے۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت یکم جمادی الثانی1357ھ / 29 جولائی 1938ء ، بروز جمعۃ المبارک اپنے آبائی گاؤں موضع "چوہدو" تحصیل کھاریاں، ضلع گجرات (پنجاب، پاکستان) میں ہوئی۔

تحصیلِ علم:
حضرت مولانا محمد جلال الدین نے ناظرہ قرآن مجید اور فارسی کی ابتدائی کتابیں اپنے تایا مولانا فضل دین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے پڑھیں۔ شعبان المعظم 1377ھ؍ مارچ 1958ء میں میٹرک پاس کرنے کے بعد درس نظامی پڑھنے کے لیے پہلے جامعہ غوثیہ نظامیہ وزیر آباد میں داخلہ لیا اور وہیں کتبِ متداولہ کی تعلیم حاصل کی۔ پھر محدثِ اعظم پاکستان مولانا محمد سردار احمد رضوی علیہ الرحمۃ سے دورۂ حدیث پڑھ کر شعبان المعظم ۱۳۸۰ھ؍فروری ۱۹۶۱ء کو سندِ فراغت حاصل کی۔

آپ بے حد ذہین و فتین تھے، ڈھائی سال کے قلیل عرصے میں مکمل درسِ نظامی سبقاًٍ پڑھ لی۔ حالانکہ یہی نصاب عموماً طلباء آٹھ سال میں پڑھتے ہیں۔

اساتذۂ کرام:
محدثِ اعظم پاکستان مولانا محمد سردار احمد رضوی علیہ الرحمۃ، حضرت مولانا غلام رسول قادری، مولانا یوسف گجراتی، حضرت مولانا محب النبی شیخ الحدیث دارالعلوم غوثیہ نظامیہ وزیر آباد۔ شیخ القرآن حضرت مولانا عبد الغفور ہزاروی (رحمہم اللہ تعالیٰ )

بیعت و خلافت:
مولانا محمد جلال الدین 8 محرم الحرام 22 جون 1961ء کو محدث اعظم پاکستان مولانا محمد سردار احمد رضوی علیہ الرحمۃ کے دستِ حق پرست سلسلۂ عالیہ قادریہ رضویہ میں بیعت ہوئے۔

رمضان المبارک 1384ھ؍ اپریل 1965ء میں حضرت مفتئ اعظم مولانا مصطفیٰ رضا نوری بریلوی قدس سرہٗ نے اوراد و اشغال، تمام سلاسل اور حدیث کی سند عطا فرمائی ۔

سیرت و خصائص:
مفسرِ قرآں، محقق دوراں، یادگارِ اسلاف، عالمِ باعمل، متبعِ شریعت، استاذ العلماء حضرت علامہ مولانا مفتی محمد جلال الدین قادری رحمۃ اللہ علیہ۔

شہزادۂ اعلیٰ حضرت مفتیِ اعظم ہند حضرت شاہ محمد مصطفیٰ رضا خاں علیہ الرحمہ نے آپ کو بایں الفاظ یاد فرمایا: ہم بطورِ تبرک وہ متبرک الفاظ نقل کر رہے ہیں!

" برادرِ دینی و یقینی مولانا المکرم زید لطفہ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ طالبِ خیر بخیر و عافیت، محبت نامہ تشریف لایا ۔ مولیٰ تعالیٰ آپ کو دین پر مستقیم رکھے، علم نافع عمل صالح سے نوازے اور برکات دینی و دنیاوی سے مالا مال فرمائے ۔ (آمین) علیٰ برکۃ اللہ تعالیٰ آپکو دلائل الخیرات شریف، و مجموعۂ اعمال کی اجازت ہے، مولیٰ تعالیٰ آپ کو اور آپ سے دوسرے اہل سنت کو اس سے نفع بخشے آمین۔ ماہِ مبارک سے کچھ پہلے سفر سے آیا ہوں۔ ڈاک بہت جمع ہے، جواب دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ میں آپ کو علیٰ برکتہ المولیٰ تعالیٰ اجازتِ قرآن و اجازتِ حدیث و اجازتِ سلاسل و مجموعۂ اعمال و اذکار و اشغال دیتا ہوں ۔ فقیر مصطفیٰ رضا قادری غفرلہ شب 3 رمضان 1384ھ۔

قبلہ مفتی صاحب علیہ الرحمہ ساری زندگی دین متین کی خدمت کرتے رہے ۔ آپ نے امت کو ایسی مفید کتب عطا کی ہیں جن سے ان شاء اللہ تعالیٰ امتِ مسلمہ مستفید ہوتی رہےگی، اور قیامت تک آپ کو صدقۂ جاریہ کی صورت میں ثواب ملتا رہےگا ۔

آپ کے صاحبزادے مفتی محمد محمود احمد لکھتے ہیں: کہ قبلہ مفتی صاحب اپنے وقت کی بہت قدر کرتے تھے، اور ہر چھوٹا بڑا واقعہ اپنی ڈائری میں ضرور تحریر فرماتے تھے، ہر کام کا ایک وقت مقرر تھا، حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد کا بھی خصوصی خیال رکھتے تھے۔ آپ خود محقق تھے اس لئے محققین علماء کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے، اور ان کے ساتھ ہر قسم کا تعاون فرماتے تھے۔ آپ کی زیرِ نگرانی بہت سے تحقیقی مضامین ، مقالے ، اور کتب تحریر کی گئیں۔ اللہ تعالیٰ قبول فرمائے (آمین)

وصال:
بارہ 12 جنوری 2008 عیسوی 2 محرم الحرام 1429ھ، بروز ہفتہ بعد نماز مغرب 6 بج کر 35 منٹ پر انتقال فرمایا۔

ماخذ و مراجع:
مقدمہ محدث اعظم پاکستان ۔ مولانا جلال الدین قادری -

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-muhammad-jalaluddin-qadri-rizvi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت معروف کرخی رحمۃ اللّٰه علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی:
معروف ۔ کنیت: ابو المحفوظ ۔ لقب: اسد الدین ۔

والد کا نام:
فیروز تھا، پہلے مذہب نصاریٰ رکھتے تھے۔ اسلام لانے کے بعد ان کا نام ’’علی‘‘ رکھا گیا، دادا کا نام مرزبان کرخی تھا۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت تقریباً 135ھ/752ء کو ’’کرخ‘‘ عراق میں ہوئی۔

تحصیل علم:
آپ کا والد نصرانی تھا۔ جب اس نے آپ کو معلم کے پاس بھیجا اور معلم نے آپ کو کہا کہ کہو ’’ثالث ثلاثہ‘‘ تو آپ نے اس وقت انکار کر کے کہا کہ میں ’’ھواللہ احد‘‘ کہتا ہوں، ہر چند اس نے آپ کو بڑی فہمائش کی مگر بے سود اور آپ اس کے پاس سے بھاگ کر حضرت امام علی رضا رضی اللّٰه عنہ کے پاس آگئے اور ان کے ہاتھ پر مسلمان ہوئے، چند روز کے بعد جب اپنے گھر میں واپس آئے تو باپ نے پوچھا کہ تم نے کون سا دین اختیار کیا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ ’’دینِ اسلام‘‘ آپ کے والدین سنتے ہی مسلمان ہو گئے۔

پھر حضرت داؤد طائی رحمۃ اللّٰه علیہ (شاگرد حضرت امام اعظم رحمۃ اللّٰه علیہ) کی خدمت میں رہ کر ان سے علوم ظاہری و باطنی کی تکمیل فرمائی۔ اسی طرح شہزادۂ رسولﷺ حضرت امام علی رضی ﷲ عنہ کی خدمت میں ایک عرصے تک رہے، ان سے علوم ِ نبوت کا کثیر حصہ لیا۔

بیعت و خلافت:
آپ حضرت داؤد طائی رحمۃ اللّٰہ علیہ سے بیعت ہوئے، اور خرقۂ خلافت سے مشرف ہوئے۔ حضرت داؤد طائی رحمۃ اللّٰہ علیہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللّٰه کے شاگرد رشید ہیں۔ ان کے علاوہ حضرت امام علی رضی اللّٰه عنہ سے خرقہ خلافت حاصل کیا، شیخ فرقد سنجی، ابو العباس محمد سماک، شیخ شیران المانی، خواجہ شمس الدین سجاوندی سے بھی بہرہ مند ہوئے۔ رحمہ اللّٰه علیہم اجمعین۔

سیرت و خصائص:
آپ امام الصدیقین، شمس العارفین، سلطان المتعبّدین، رئیس السّالکین، سیّد الاولیا، عمدۃ الاتقیا، مقتدائے صدرِ طریقت، رہنمائے راہِ حقیقت، مہبطِ انوارِ الٰہی، مصدرِ اسرارِ نا متناہی، کرامات و ریاضات میں مشہور، اور فتوٰے و تقوٰے میں آیتِ عظیم تھے، مقامِ شوق و اُنس میں درجہ اعلیٰ رکھتے تھے، آپ حضرت خواجہ شیخ داوٗد طائی رحمۃ اللّٰہ علیہ کے مرید و خلیفہ اکبر و جانشینِ اعظم تھے۔ آپ اہل سنت و جماعت کے عظیم شیخِ طریقت اور سلسلہ عالیہ قادریہ کے ’’نویں‘‘ امام ہیں۔

شیخ ابو الحسن قرشی رحمہ اللّٰه فرماتے ہیں: میں چار شخصوں کو مشائخ کرام میں سے جانتا ہوں کہ وہ اپنی قبروں میں زندوں کی طرح تصرّف کرتے ہیں۔ شیخ معروف کرخی، شیخ عبد القادِر جیلانی، سوم شیخ عقیل منبجی، شیخ حیات بن قیس۔ رحمۃ اللّٰه علیہم اجمعین۔

شیخ عبد الرحمن بن محمد زہری رحمہ اللّٰه فرماتے ہیں: حضرت معروف کرخی رحمۃ اللّٰه علیہ کے مزار کی حاضری قضائے حاجات کے لئے مجرب ہے اور جو کوئی ان کے مزار کے پاس سو مرتبہ سورہ ٔاِخلاص کی تلاوت کرے پھر اللہ تعالیٰ سے سوال کرے تو اللہ تعالیٰ اس کی حاجت کو پورا فرمادے گا ۔ (مناقب معروف الکرخی و اخبارہ ،ص۲۰۰)

حضرت امام احمد بن حنبل، امام یحییٰ بن معین محدث، آپ کی خدمت میں آیا جایا کرتے اور آپ سے روحانی حاصل کرتے تھے، اور حضرت سری سقطی آپ کے خلیفۂ اعظم تھے۔ رحمہ اللہ علیہم اجمعین۔

خاتم المحدثین، امام المحققین، علامہ ابن عابدین شامی رحمہ اللّٰه ’’فتاویٰ شامی‘‘ میں فرماتے ہیں: ’’وَمَعْرُوفِ الْكَرْخِي بْنِ فَيْرُوزَ، مِنْ الْمَشَايِخِ الْكِبَارِ، مُجَابِ الدَّعْوَةِ، يُسْتَسْقَى بِقَبْرِهِ وَهُوَ أُسْتَاذُ السِّرِّيِّ السَّقَطِيِّ مَاتَ سَنَةَ (200)۔

ترجمہ: اور شیخ معروف کرخی بن فیروز اولیاء کبار، اور مستجاب الدعوات، آپ کی قبر (کی برکت) سے بارش طلب کی جاتی ہے۔ آپ شیخ سری سقطی رحمہ اللّٰه کے استاد ہیں، سن 200ھ میں آپ کا وصال ہوا ۔ (فتاویٰ الشامی، جز1،ص،58، دار الفکر بیروت)

مشہور کرامت:
حضرت شیخ یحیی بن سلیمان فرماتے ہیں: کہ مجھے ایک حاجت تھی اور میں کافی تنگدست تھا۔ حضرت معروف کرخی رحمۃ اللّٰه علیہ کی قبرِ اَنور پر میری حاضری ہوئی، میں نے تین بار سورۂ اخلاص کی تلاوت کی اور اس کا ثواب آپ اور تمام مسلمانوں کی ارواح کو پہنچایا، پھر اپنی حاجت بیان کی۔ جوں ہی میں وہاں سے واپس گیا میری حاجت پوری ہو چکی تھی۔ (الروض الفائق فی المواعظ والرقائق، ذکر معروف کرخی)

تلامذہ:
حضرت امام احمد بن حنبل، امام یحی بن معین محدث، شیخ قاسم بغدادی(رحمہ اللّٰه علیہم اجمعین)

خلفاء:
حضرت شیخ سری سقطی، شیخ عثمان مغربی، شیخ حمزہ خراسانی، شیخ علی رودباری(رحمہ اللّٰه علیہم اجمعین)

حضرت خطیب بغدادی رحمہ اللّٰه فرماتے ہیں: ’’آپ کی قبر مبارک حاجتیں اور ضرورتیں پوری ہونے کے لئے مجرب ہے‘‘۔ (شریف التواریخ، جلد اول)

وصال:
بروز جمعۃ المبارک 2 محرم الحرام 200ھ 14 اگست 815ء کو ہوا ۔ آپ کا مزار شریف بغدادِ معلی میں زیارت گاہِ خلائق ہے ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-maroof-karkhi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
01-01-1445 ᴴ | 20-07-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
02-01-1445 ᴴ | 21-07-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1