🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
نیا سال مبارک ماہ محرم الحرام میں نئے سال کی مبارک باد دینا کیسا ہے؟ https://t.me/islaamic_Knowledge/42833 نئے عیسوی سال کی مبارک باد دینا کیسا ہے؟ https://t.me/islaamic_Knowledge/42834 ہیپی نیو ایئر یا نیا سال مبارک کہنا کیسا؟ https://t.me/islaamic_Knowledge/42835…
01-01-1445 ᴴ | 20-07-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
نیا سال مبارک ماہ محرم الحرام میں نئے سال کی مبارک باد دینا کیسا ہے؟ https://t.me/islaamic_Knowledge/42833 نئے عیسوی سال کی مبارک باد دینا کیسا ہے؟ https://t.me/islaamic_Knowledge/42834 ہیپی نیو ایئر یا نیا سال مبارک کہنا کیسا؟ https://t.me/islaamic_Knowledge/42835…
01-01-1445 ᴴ | 20-07-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
شاہ است حسین بادشاہ است حسین
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
شاہ است حسین بادشاہ است حسین
❤2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤3
سیدنا حاتم اصم بلخی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ
اسمِ گرامی: آپ کا نام حاتم بن اسمٰعیل تھا ۔ کنیت: ابو عبد الرحمٰن تھی ۔ حاتم اصم (بہرہ) کے نام سے مشہور ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
آپ نے تمام مروجہ علوم شفیق بلخی رحمۃ اللہ علیہ اور اصحابِ امام ابو یوسف سے حاصل کیے۔
بیعت و خلافت:
آپ نے بیعت اپنے استاذ شفیق بلخی علیہ الرحمہ کے دستِ حق پرست پر کی اور استاذ نے ہی آپ کو خلافت بھی عطافرمائی۔
سیرت و خصائص:
سیدنا حاتم اصم بلخی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ مشائخِ بلخ میں سے زاہدِ زمانہ، عابدِ یگانہ، معرض عن الدنیا و مقبل عقبیٰ، ریاضت وورع وصدق واحتیاط میں بے بدل تھے، حتٰی کےآپ کےحق میں شیخ جنید فرماتے تھے: کہ آپ ہمارے زمانہ کے" صدیق"(یہ ایک ولایت کادرجہ ہے) ہیں ۔آپ امام اعظم ابو حنیفہ علیہ الرحمہ کے متبعین میں سے تھے ۔آپ کا قول ہے:"کہ جو شخص بغیر فقہ کے عبادت کرے وہ مثل خراس (یہ ایک پتھر ہوتاہے،پہلے وقت میں آٹا پیستے تھے،اور گدھا اس کے ارد گھومتا رہتا ہے)کے گدھے کے ہے۔ تشددِ نفس اور دقائقِ مکر نفس میں آپ کے کلمات عجیب ہیں اور تصانیف معتبر رکھتے ہیں ۔
اصم کی وجہ تسمیہ:آپ اصل میں بہرے نہیں تھے بلکہ اس لیے اصم سے ملقب ہوئے تھے کہ ایک روز ایک عورت آپ سےمسئلہ پوچھنے آئی تھی ،اتفاقاً اس سے ہوا خارج ہو گئی جس سے وہ نہایت شرمسار ہوئی ۔آپ نے بایں خیال کہ یہ جان لے کہ انہوں نے آواز نہیں سنی ، اس سے فرمایا کہ اونچابولو، اُس عورت نے خیال کیا کہ یہ بہرے ہیں اور انہوں نے میری خارج ہونے والی ہوا کی آواز کو نہیں سُنا ،خوش ہوگئی اور آپ پریہ نام(اصم: یعنی بہرہ) غالب آگیا۔آپ علیہ الرحمہ ہر وقت یادِ الٰہی میں مستغرق رہتے۔آپ لوگوں کی طرف سے آنے والی اذیت پر صبر کرتے لیکن کبھی بھی انتقامی کروائی نہیں کرتے تھے۔
وصال:
آپ کی وفات2 محرم الحرام 237ھ بمطابق جولائی 851 ء میں ہوئی۔
ماخذ و مراجع: حدائق الحنفیہ ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abu-abdur-rehman-hatim-asam
اسمِ گرامی: آپ کا نام حاتم بن اسمٰعیل تھا ۔ کنیت: ابو عبد الرحمٰن تھی ۔ حاتم اصم (بہرہ) کے نام سے مشہور ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
آپ نے تمام مروجہ علوم شفیق بلخی رحمۃ اللہ علیہ اور اصحابِ امام ابو یوسف سے حاصل کیے۔
بیعت و خلافت:
آپ نے بیعت اپنے استاذ شفیق بلخی علیہ الرحمہ کے دستِ حق پرست پر کی اور استاذ نے ہی آپ کو خلافت بھی عطافرمائی۔
سیرت و خصائص:
سیدنا حاتم اصم بلخی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ مشائخِ بلخ میں سے زاہدِ زمانہ، عابدِ یگانہ، معرض عن الدنیا و مقبل عقبیٰ، ریاضت وورع وصدق واحتیاط میں بے بدل تھے، حتٰی کےآپ کےحق میں شیخ جنید فرماتے تھے: کہ آپ ہمارے زمانہ کے" صدیق"(یہ ایک ولایت کادرجہ ہے) ہیں ۔آپ امام اعظم ابو حنیفہ علیہ الرحمہ کے متبعین میں سے تھے ۔آپ کا قول ہے:"کہ جو شخص بغیر فقہ کے عبادت کرے وہ مثل خراس (یہ ایک پتھر ہوتاہے،پہلے وقت میں آٹا پیستے تھے،اور گدھا اس کے ارد گھومتا رہتا ہے)کے گدھے کے ہے۔ تشددِ نفس اور دقائقِ مکر نفس میں آپ کے کلمات عجیب ہیں اور تصانیف معتبر رکھتے ہیں ۔
اصم کی وجہ تسمیہ:آپ اصل میں بہرے نہیں تھے بلکہ اس لیے اصم سے ملقب ہوئے تھے کہ ایک روز ایک عورت آپ سےمسئلہ پوچھنے آئی تھی ،اتفاقاً اس سے ہوا خارج ہو گئی جس سے وہ نہایت شرمسار ہوئی ۔آپ نے بایں خیال کہ یہ جان لے کہ انہوں نے آواز نہیں سنی ، اس سے فرمایا کہ اونچابولو، اُس عورت نے خیال کیا کہ یہ بہرے ہیں اور انہوں نے میری خارج ہونے والی ہوا کی آواز کو نہیں سُنا ،خوش ہوگئی اور آپ پریہ نام(اصم: یعنی بہرہ) غالب آگیا۔آپ علیہ الرحمہ ہر وقت یادِ الٰہی میں مستغرق رہتے۔آپ لوگوں کی طرف سے آنے والی اذیت پر صبر کرتے لیکن کبھی بھی انتقامی کروائی نہیں کرتے تھے۔
وصال:
آپ کی وفات2 محرم الحرام 237ھ بمطابق جولائی 851 ء میں ہوئی۔
ماخذ و مراجع: حدائق الحنفیہ ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abu-abdur-rehman-hatim-asam
scholars.pk
Hazrat Abu Abdur Rehman Hatim Asam
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
Hazrat Abu Abdur Rehman Hatim Asam is one of very famous Islamic Scholar.
❤1
حضرت خواجہ احمد بن خواجہ عبد الواسع رحمۃ اللہ علیہما
آپ رحمۃ اللہ علیہ ساقی میخانۂ اسرار، بادۂ توحید سے سرشار، طائر اقلیم الوہیت، سائر میدان ہویت، قطب العالم و العالمیان حضرت خواجہ عبد القدوس گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کے ساتویں جدّ امجد ہیں اور آپ کا سلسلۂ نسب سترہویں پشت میں امام الامۃ ، سراج الملۃ، معجزۂ رسول ﷺ حضرت امام اعظم نعمان بن ثابت رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے ۔
سلسلۂ نسب:
خواجہ احمد بن خواجہ عبد الواسع بن خواجہ عبد القادر بن عبد الغنی بن عثمان بن اسحاق بن عمر بن فضل اللہ بن نصیر الدین بن سعد الدین بن نجم الدین بن داؤد بن جعفر بن حامد بن خیر الدین بن امام طاہر بن امام ابراہیم بن امام احمد بن امام اعظم ابوحنیفہ ۔ (رحمۃ اللہ علیہم اجمعین)
وصال:
۲ محرم الحرام ۶۰۹ھ، آپ کا انتقال ہوا ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-ahmad-bin-abdul-wasay
آپ رحمۃ اللہ علیہ ساقی میخانۂ اسرار، بادۂ توحید سے سرشار، طائر اقلیم الوہیت، سائر میدان ہویت، قطب العالم و العالمیان حضرت خواجہ عبد القدوس گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کے ساتویں جدّ امجد ہیں اور آپ کا سلسلۂ نسب سترہویں پشت میں امام الامۃ ، سراج الملۃ، معجزۂ رسول ﷺ حضرت امام اعظم نعمان بن ثابت رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے ۔
سلسلۂ نسب:
خواجہ احمد بن خواجہ عبد الواسع بن خواجہ عبد القادر بن عبد الغنی بن عثمان بن اسحاق بن عمر بن فضل اللہ بن نصیر الدین بن سعد الدین بن نجم الدین بن داؤد بن جعفر بن حامد بن خیر الدین بن امام طاہر بن امام ابراہیم بن امام احمد بن امام اعظم ابوحنیفہ ۔ (رحمۃ اللہ علیہم اجمعین)
وصال:
۲ محرم الحرام ۶۰۹ھ، آپ کا انتقال ہوا ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-ahmad-bin-abdul-wasay
scholars.pk
Hazrat Ahmad Bin Abdul Wasay
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
Hazrat Ahmad Bin Abdul Wasay is one of Islamic Scholar.
❤1
حضرت ابوالحسن سید علی گیلانی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: سید علی ۔ کنیت: ابوالحسن ۔ لقب: ضیاء الدین ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
ابو الحسن سید ضیاء الدین علی گیلانی بن سید مسعود غازی گیلانی بن سید ابو العباس احمد گیلانی بن سید صفی الدین گیلانی المعروف سید صوفی قادری بن سید سیف الدین عبد الوہاب گیلانی بن غوث الاعظم محی الدین سید عبد القادر جیلانی ۔ (رضی اللہ عنہم اجمعین)
تصحیح:
بہت سے مؤرخین نے آپ کو سید مسعود گیلانی کا پوتا اور سید ابو علی کا بیٹا لکھا ہے ۔ حالانکہ سید مسعود گیلانی کا آپ کے علاوہ کوئی اور بیٹا نہیں تھا ۔صحیح یہ ہے کہ حضرت سید علی گیلانی سید ابو علی مسعود گیلانی رحمۃ اللہ علیہ کے بیٹے تھے، نہ کہ پوتے ۔ (تکملہ مفتاح الفتوح ۔ اخبارالاخیار ۔ تذکرہ مشائخِ قادریہ ۔ شریف التواریخ)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 645ھ، بمطابق 1247ء کو "حلب" شام میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
آپ نے تمام علوم اپنے پدر بزرگوار سے حاصل کیے ۔ آپ جملہ علوم معقول و منقول سے فارغ التحصیل ہوئے، جامع العلوم ،اور اپنے وقت کے بہت بڑے عالم اور کامل ولی تھے۔
بیعت و خلافت:
اپنے والدِ گرامی حضرت شیخ المشائخ سید ابو البرکات محی الدین مسعود گیلانی حلبی رحمۃ اللہ علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت کی اور خرقہ خلافت و اجازت حاصل کیا ۔
سیرت و خصائص:
وارث الانبیاء و المرسلین، محبوب حبیبِ رب العالمین، مظہر کمالاتِ نبویہ، مزینِ اطوارِ غوثیہ، مہبطِ انوار و تجلیاتِ الٰہی، مصدرِ فیوضاتِ نا متناہی، سلطان العرفاء، فخرِ ملت ابوالحسن سید ضیاء الدین علی گیلانی رحمۃ اللہ علیہ۔ آپ حضرت سید ابو البرکات محی الدین مسعود گیلانی رحمۃ اللہ علیہ کے فرزند اکبر اور خلیفہ اعظم و سجادہ نشین تھے۔ آپ نے بہت ممالک کی سیاحت کی اور جہاں جہاں تشریف لے گئے وہاں دینِ اسلام کاچراغ روشن کرتے گئے۔بہت سے غیر مسلم آپ کے دستِ حق پرست پر مسلمان ہوئے، فساق و فجار تائب ہوئے، اور سالکین راہِ حقیقت مقامِ حقیقت سے سرفراز ہوئے۔ اپنے بزرگوں کی طرح مشربِ توحید آپ پر غالب تھا۔ جس وقت منبر پر وعظ کے لیے کھڑے ہوتے تو ایسے ایسے حقائق و معارفِ توحید بیان فرماتے جن کے ادراک سے علمائے ظاہری کے افہام قاصر رہتے۔
آپ جامع کمالاتِ صوری و معنوی تھے۔ وسیع الاخلاق اشارات و حالاتِ عالیہ رکھتے، دُنیا و اہلِ دُنیا کو نظر اُٹھا کر بھی نہ دیکھتے، ہر دم ذاتِ حق کے مشاہدہ میں مستغرق رہتے، معرفت میں اپنا ثانی نہ رکھتے تھے۔ میدانِ حقیقت میں یکہ تاز تھے۔ عاجزوں کی نوازش کرنا آپ کا شیوہ تھا۔
وصال:
آپ کا وصال بروز منگل، 2 محرم الحرام 715ھ، بمطابق 8 اپریل 1315ء کو ہوا ۔ آپ اپنے والد کے مزار "حلب" شام میں مدفون ہیں ۔
ماخذ و مراجع:
شریف التواریخ ۔ تذکرہ مشائخِ قادریہ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-ziauddin-ali-gilani
نام و نسب:
اسمِ گرامی: سید علی ۔ کنیت: ابوالحسن ۔ لقب: ضیاء الدین ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
ابو الحسن سید ضیاء الدین علی گیلانی بن سید مسعود غازی گیلانی بن سید ابو العباس احمد گیلانی بن سید صفی الدین گیلانی المعروف سید صوفی قادری بن سید سیف الدین عبد الوہاب گیلانی بن غوث الاعظم محی الدین سید عبد القادر جیلانی ۔ (رضی اللہ عنہم اجمعین)
تصحیح:
بہت سے مؤرخین نے آپ کو سید مسعود گیلانی کا پوتا اور سید ابو علی کا بیٹا لکھا ہے ۔ حالانکہ سید مسعود گیلانی کا آپ کے علاوہ کوئی اور بیٹا نہیں تھا ۔صحیح یہ ہے کہ حضرت سید علی گیلانی سید ابو علی مسعود گیلانی رحمۃ اللہ علیہ کے بیٹے تھے، نہ کہ پوتے ۔ (تکملہ مفتاح الفتوح ۔ اخبارالاخیار ۔ تذکرہ مشائخِ قادریہ ۔ شریف التواریخ)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 645ھ، بمطابق 1247ء کو "حلب" شام میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
آپ نے تمام علوم اپنے پدر بزرگوار سے حاصل کیے ۔ آپ جملہ علوم معقول و منقول سے فارغ التحصیل ہوئے، جامع العلوم ،اور اپنے وقت کے بہت بڑے عالم اور کامل ولی تھے۔
بیعت و خلافت:
اپنے والدِ گرامی حضرت شیخ المشائخ سید ابو البرکات محی الدین مسعود گیلانی حلبی رحمۃ اللہ علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت کی اور خرقہ خلافت و اجازت حاصل کیا ۔
سیرت و خصائص:
وارث الانبیاء و المرسلین، محبوب حبیبِ رب العالمین، مظہر کمالاتِ نبویہ، مزینِ اطوارِ غوثیہ، مہبطِ انوار و تجلیاتِ الٰہی، مصدرِ فیوضاتِ نا متناہی، سلطان العرفاء، فخرِ ملت ابوالحسن سید ضیاء الدین علی گیلانی رحمۃ اللہ علیہ۔ آپ حضرت سید ابو البرکات محی الدین مسعود گیلانی رحمۃ اللہ علیہ کے فرزند اکبر اور خلیفہ اعظم و سجادہ نشین تھے۔ آپ نے بہت ممالک کی سیاحت کی اور جہاں جہاں تشریف لے گئے وہاں دینِ اسلام کاچراغ روشن کرتے گئے۔بہت سے غیر مسلم آپ کے دستِ حق پرست پر مسلمان ہوئے، فساق و فجار تائب ہوئے، اور سالکین راہِ حقیقت مقامِ حقیقت سے سرفراز ہوئے۔ اپنے بزرگوں کی طرح مشربِ توحید آپ پر غالب تھا۔ جس وقت منبر پر وعظ کے لیے کھڑے ہوتے تو ایسے ایسے حقائق و معارفِ توحید بیان فرماتے جن کے ادراک سے علمائے ظاہری کے افہام قاصر رہتے۔
آپ جامع کمالاتِ صوری و معنوی تھے۔ وسیع الاخلاق اشارات و حالاتِ عالیہ رکھتے، دُنیا و اہلِ دُنیا کو نظر اُٹھا کر بھی نہ دیکھتے، ہر دم ذاتِ حق کے مشاہدہ میں مستغرق رہتے، معرفت میں اپنا ثانی نہ رکھتے تھے۔ میدانِ حقیقت میں یکہ تاز تھے۔ عاجزوں کی نوازش کرنا آپ کا شیوہ تھا۔
وصال:
آپ کا وصال بروز منگل، 2 محرم الحرام 715ھ، بمطابق 8 اپریل 1315ء کو ہوا ۔ آپ اپنے والد کے مزار "حلب" شام میں مدفون ہیں ۔
ماخذ و مراجع:
شریف التواریخ ۔ تذکرہ مشائخِ قادریہ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-ziauddin-ali-gilani
scholars.pk
Hazrat Syed Ziauddin Ali Gilani
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1