🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
3
سیدنا حاتم اصم بلخی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ

اسمِ گرامی: آپ کا نام حاتم بن اسمٰعیل تھا ۔ کنیت: ابو عبد الرحمٰن تھی ۔ حاتم اصم (بہرہ) کے نام سے مشہور ہوئے ۔

تحصیلِ علم:
آپ نے تمام مروجہ علوم شفیق بلخی رحمۃ اللہ علیہ اور اصحابِ امام ابو یوسف سے حاصل کیے۔

بیعت و خلافت:
آپ نے بیعت اپنے استاذ شفیق بلخی علیہ الرحمہ کے دستِ حق پرست پر کی اور استاذ نے ہی آپ کو خلافت بھی عطافرمائی۔

سیرت و خصائص:
سیدنا حاتم اصم بلخی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ مشائخِ بلخ میں سے زاہدِ زمانہ، عابدِ یگانہ، معرض عن الدنیا و مقبل عقبیٰ، ریاضت وورع وصدق واحتیاط میں بے بدل تھے، حتٰی کےآپ کےحق میں شیخ جنید فرماتے تھے: کہ آپ ہمارے زمانہ کے" صدیق"(یہ ایک ولایت کادرجہ ہے) ہیں ۔آپ امام اعظم ابو حنیفہ علیہ الرحمہ کے متبعین میں سے تھے ۔آپ کا قول ہے:"کہ جو شخص بغیر فقہ کے عبادت کرے وہ مثل خراس (یہ ایک پتھر ہوتاہے،پہلے وقت میں آٹا پیستے تھے،اور گدھا اس کے ارد گھومتا رہتا ہے)کے گدھے کے ہے۔ تشددِ نفس اور دقائقِ مکر نفس میں آپ کے کلمات عجیب ہیں اور تصانیف معتبر رکھتے ہیں ۔

اصم کی وجہ تسمیہ:آپ اصل میں بہرے نہیں تھے بلکہ اس لیے اصم سے ملقب ہوئے تھے کہ ایک روز ایک عورت آپ سےمسئلہ پوچھنے آئی تھی ،اتفاقاً اس سے ہوا خارج ہو گئی جس سے وہ نہایت شرمسار ہوئی ۔آپ نے بایں خیال کہ یہ جان لے کہ انہوں نے آواز نہیں سنی ، اس سے فرمایا کہ اونچابولو، اُس عورت نے خیال کیا کہ یہ بہرے ہیں اور انہوں نے میری خارج ہونے والی ہوا کی آواز کو نہیں سُنا ،خوش ہوگئی اور آپ پریہ نام(اصم: یعنی بہرہ) غالب آگیا۔آپ علیہ الرحمہ ہر وقت یادِ الٰہی میں مستغرق رہتے۔آپ لوگوں کی طرف سے آنے والی اذیت پر صبر کرتے لیکن کبھی بھی انتقامی کروائی نہیں کرتے تھے۔

وصال:
آپ کی وفات2 محرم الحرام 237ھ بمطابق جولائی 851 ء میں ہوئی۔

ماخذ و مراجع: حدائق الحنفیہ ـ

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abu-abdur-rehman-hatim-asam
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1