🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
شیخ الاسلام، سلطان الاولیاء، سیدنا شیخ ابو الحسن علی بن احمد بن یوسف قرشی ہکاری رحمۃ الله تعالی علیہ کی ولادت شوال 409ھ کو موصل عراق کی سرحد کے ساتھ ہکاری، جنوب مشرقی ترکی میں ہوئی۔ آپ مرید و خلیفہ سید ابو الفرح محمد طرطوسی، سلسلہ عالیہ قادریہ برکاتیہ رضویہ کے پندرہویں امام و شیخ طریقت، جلیل القدر عالم دین، محدث و فقیہ، صاحب وقار و ہیبت، اور زاہد و عابد تھے۔ عشاء کی نماز کے بعد قرآنِ پاک کی تلاوت شروع فرماتے اور نماز تہجد سے پہلے دو قرآنِ مجید ختم کر لیا کرتے تھے۔ رسالہ ”هدية الاحياء للاموات“ آپ کی یادگار تصنیف ہے۔ یکم محرم الحرام 486ھ بروز پیر شریف صبح صادق کے وقت وصال فرمایا، مزار مبارک بغداد عراق میں ہے۔ (تاریخ بغداد، طبقات الاولیاء، شذرات الذھب، وفیات الاعیان)

Shaykh al-Islam, Sultan al-Awliya, Sayyiduna Shaykh Abu al-Hasan Ali bin Ahmad bin Yusuf Qurashi Hakkari (Alayhir Rahmah) was born in Shawwal 409 AH in Hakkari, southeastern Turkey, near the Mosul, Iraq border. He was the disciple and caliph of Sayyid Abu al-Farah Muhammad Tartusi, the 15th Shaykh of Qadiriyah Barakatiyah Ridawiyah Sufi Order, pious practicing scholar, hadith master, jurist, awe-inspiring personality, pious ascetic, and devout worshiper. He would start reciting the Holy Quran after Isha prayers and complete it twice before Tahajjud prayers. The treatise ‘‘Hadiyat al-Ahya li al-Amwat’’ is his memorable work. He passed away on Monday, 1st Muharram 486 AH at dawn. His blessed resting place is in Baghdad, Iraq. [Tarikh Baghdad, Tabaqat al-Awliya, Shazrat al-Dhahab, Wafiyat al-A’yaan]

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid089fDsoyRKRk34S9duyLzdennz2C29QB2eZygvrhR3SFxCXr7iyU6kwKqf6sbiKffl&id=100050689590519
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
مرید و خلیفۂ اعلی حضرت، صاحب قانون شریعت، شمس العلماء، حضرت علامہ مفتی قاضی ابو المعالی شمس الدین احمد جعفری رضوی جونپوری رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی ولادت 28 ذوالحجہ 1322ھ 5 مارچ 1905ء بروز پیر شریف محلہ میرمست قاضیانہ جونپور، یو پی، ہند میں ہوئی۔ آپ مرید و خلیفۂ اعلی حضرت، خلیفۂ حجۃ الاسلام و مفتیٔ اعظم، تلمیذ صدر الشریعہ، فاضل دارالعلوم منظر اسلام بریلی شریف، جید مدرس، صاحب قانون شریعت اور شیخ طریقت تھے۔ یکم محرم الحرام 1401ھ مطابق 30 اکتوبر 1981ء شب جمعہ کو بنارس میں وصال فرمایا۔ وقت وصال آپ کے سینۂ مبارکہ پر امام غزالی کی کتاب کیمائے سعادت کھلی رکھی تھی اور وہ بھی موت کا باب تھا۔ مزار پرانوار احاطۂ مزار حضرت قطب الدین بینا دل قلندر، جونپور یو پی، ہند میں ہے۔ (تذکرہ خلفائے اعلی حضرت، مفتی اعظم ہند اور ان کے خلفاء، من نوابغ الھند)

Murid and Khalifah of AlaHazrat, Author of Qanoon-e-Shari’at, Shams al-Ulama, Allamah Mufti Qadi Abu al-Ma’ali Shamsuddin Ahmad Ja’fari Ridawi Jaunpuri (Alayhir Rahmah) was born on Monday, 28 Dhu al-Hijjah 1322 (5 March 1905 CE) Muhallah Meermast Qaziyanah Jaunpur, U.P., India. He was a khalifah of AlaHazrat, Hujjat-ul-Islam, and Mufti-e-Azam; student of Sadr al-Shari’ah; graduate from Dar al-Uloom Manzar-e-Islam Bareilly Sharif; excellent teacher; author of Qanoon-e-Shari’at; and spiritual guide. He passed away on Friday night, 1st Muharram 1401 AH (30 October 1981 CE) in Banaras. At the time of his demise, Imam al-Ghazali’s book Kimaya-e-Sa’adat was open on his blessed chest and that too was a chapter of death. His blessed resting place is in the courtyard of the mausoleum of Hazrat Qutbuddin Beena Dil Qalandar located in Jaunpur, U.P., India. [Tazkirah Khulafa-e-AlaHazrat, Mufti-e-Azam aur Unke Khulafa, Min Nawabigh al-Hind]

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid02uL9zEqaXxGmDTvMfphcUGNiJLfSP36nCYACQorXKs4ZAjMxnkAm2en9bhurSkDNVl&id=100050689590519
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
خلیفۂ غوث اعظم، سردارِ سلسلۂ سہروردیہ، شیخ الشیوخ، شہاب الحق والدین، حضرت سیدنا شیخ ابو حفص عمر صدیقی سہروردی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی ولادت رجب المرجب 539ھ کو قصبہ سہرورد (صوبہ زنجان) ایران میں ہوئی۔ آپ سلسلہ سہروردیہ کے بانی، جید عالم دین، صاحب جود و سخا، شیخ المشائخ اور کم و بیش 23 کتب کے مصنف ہیں۔ آپ کی کتاب ”عوراف المعارف“ دنیا بھر میں مشہور ہے۔ ہر سال حج و زیارت بارگاہ اقدس سے مشرف ہوتے۔ یکم محرم الحرام 632ھ بروز بدھ عراق میں وصال فرمایا۔ آپ کا مزار مبارک رصافہ کی جانب مقبرۃ السہروردیہ، بغداد شریف، عراق میں مرجع خلائق ہے۔ (تاریخ الاسلام للذھبی، طبقات الشافعیۃ، نفحات سہروردیہ)

Khalifah of Ghous al-Azam, Leader of Suhrawardis, Shaykh of Shaykhs, Shahab al-Haqq wa al-Deen, Sayyiduna Shaykh Abu Hafs Umar Siddiqui Suhrawardi (Alayhir Rahmah) was born in Rajab 539 AH in Suhraward, Zanjan Provice, Iran. He is the founder of the Suhrawrdiyah Sufi Order, great religous scholar, very generous and kind, leader of saints, and author of about 23 books. His book, ‘‘Awarif al-Ma’arif’’ is globally acclaimed. He was honored to perform Hajj and visitng the August court of the beloved Prophet ﷺ every year. He passed away on Wednesday, 1st Muharram 632 AH in Iraq. His blessed mausoleum in Suhrawardiyah Cemetery, Baghdad, Iraq is visited frequetly by the devotees. [Tarikh al-Islam, Tabaqat al-Shafi’iyyah, Nafhat-e-Suhrawrdiyah]

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid0aiivdf3BYJQeuTSwCFEdcHLyACtv7nkkEGBMvvtSmCmZdm7Re8a6K6L3hPpSpfEhl&id=100050689590519
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
شیخ شہاب الدین عمر سہروردی
یوم وصال 01 محرم الحرام 0632
یوم پیدائش شوال المکرم 0539

شیخُ الاسلام حضرت شیخ شہاب الدین عمر سہروردی رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی: شہاب الدین عمر ۔ کنیت : ابوحفص ۔لقب: شیخ الاسلام ، شیخ الشیوخ ، بانیِ سلسلہ سہروردیہ

سلسلہ نسب:
ابو حفص شہاب الدین عمر بن احمد بن عبد اللہ بن محمد بن عبد اللہ البکری المعروف شیخ عمویہ بن سعد بن حسین بن قاسم بن سعد بن نصر بن عبد الرحمن بن قاسم بن محمد بن امیر المؤمنین حضرت ابو بکر صدیق ۔ (رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین )

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت رجب المرجب / 539ھ ، بمطابق 1145ء کو زنجان (آذر بائیجان کا دار الحکومت) کے نواحی قصبہ "سہرورد" میں ہوئی۔

تحصیلِ علم:
آپ نے اس وقت کے اکابر علماء و مشائخ سے تحصیلِ علوم کیا۔ جیسے محدث ابن نجار، محدث شیخ ابو الغنائم، شیخ ابو العباس (علیہم الرحمہ) آپ کاشمار اپنے وقت عظیم علماء میں ہوتا تھا ۔ یہی وجہ کہ اس وقت کے جید علماء و مشائخ اپنے مسائل کے حل کے لئے آپ کی بارگاہ میں رجوع کرتے تھے۔

بیعت و خلافت:
اپنے چچا بزرگوار شیخ ضیاء الدین سہروردی رحمۃ اللہ علیہ کے مرید و خلیفہ تھے، مگر حضرت قطب ربانی محبوب سبحانی غوث الاعظم حضرت سید عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالی عنہ سے بھی آپ نے فیوض و برکات حاصل فرمائے ۔

سیرت مبارکہ:
شیخ الاسلام ، قدوۃ الاخیار ، شیخ المشائخ حضرت شیخ شہاب الدین عمر سہروردی رحمۃ اللہ علیہ ۔ آپ شافعی المسلک ، زبردست فقیہ اور اپنے وقت کے عظیم مجتہد تھے ۔

سیدنا عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالی عنہ نے آپ کے متعلق فرمایا تھا " یا عمر انت آخر المشہورین بالعراق " کہ اے عمر! تم سر زمین عراق کے آخری مشہور انسان ہو ۔

حضرت محبوبِ سبحانی کے وصال کے بعد سر زمینِ عراق میں آپ کے پائے کا کوئی بزرگ نہیں تھا ۔ آپ اپنی خانقاہ تک محدود نہ رہے ، بلکہ آپ ملکی حالات اور عالمِ اسلام کے معاملات پر گہری نظر رکھتے تھے، جہاں کہیں خلافِ شرع امور دیکھتے تو آپ میدانِ عمل میں  آجاتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کے خلفاء نے ہرجگہ مخالفینِ اسلام کا مقابلہ کیا ۔ پورا عالم بالعموم اور بر صغیر (پاک وہند ) بالخصوص آپ کے فیض سے مستفیض ہوئے ۔

ایک مقام پر آپ نے ارشاد فرمایا: خلفائی فی الہند کثیرۃ۔

آپ کےچند مشہور خلفاء یہ ہیں:
شیخ الاسلام حضرت شیخ بہاؤ الدین زکریا ملتانی ، مصلح الدین شیخ سعدی شیرازی ، شیخ نجم الدین کبریٰ ، شیخ فرید الدین عطار ، سلطان سخی سرور (رحمۃ اللہ علیہم اجمعین)

وصال:
آپ کا وصال یکم محرم الحرام 632 ھ ، بمطابق ستمبر / 1234 ء کو ہوئی ۔

مزار شریف:
آپ کا مزار پر انوار بغداد میں مرجعِ خاص و عام ہے۔

ماخذ و مراجع:
خزینۃ الاصفیاء ۔ انسائیکلوپیڈیا اولیائے کرام ۔

Read more at:
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-abu-hafs-shahabuddin-umar-soharwardi
Copyright © Zia-e-Taiba
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللّٰه عنہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی:
حضرت عمر رضی اللہ عنہ۔
کنیت: ابو الحفص ۔
لقب: فاروق اعظم ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
عمر بن خطاب ، بن فضیل ، بن عبدالغریٰ ، بن ریاح ، بن عبداللہ ، بن فرط ، بن زراح ، بن عدی ، بن کعب ، بن لوی ۔

آپ کی والدہ کا نام:
حنتمہ بنت ہشام ، بن مغیرہ ، بن عبداللہ ، بن عمرو بن مخزوم ، بن یقظہ ، بن مرہ ، بن کعب ۔ یہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی چچا زاد بہن تھیں ۔ آپ کا نسب والد کی طرف سے حضور ﷺ کے نسب نامہ کعب پر ملتا ہے ۔ ( شریف التواریخ ۔ الفاروق ) ـ

تاریخِ ولادت:
آپ واقعہ فیل کے 13 سال بعد پیدا ہوئے ۔ ( تاریخ الخلفاء : 265 ، خزینۃ الاصفیا : 522 ) ـ

قبولِ اسلام:
رسول اکرم ﷺ یہ دعا کیا کرتے تھے: " اللھم اعز الاسلام بعمر ابن الخطاب " (الصواعق المحرقہ ،ص،331) تو اس اعتبار سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ مرادِ مصطفیٰ ﷺ ہیں ۔ بعثتِ رسول پا ک ﷺ کے چھٹے سال اور حضرت امیرِ حمزہ رضی اللہ عنہ کے ایمان لانے کے تین دن بعد ایمان لائے ۔

آپ چالیسویں مسلمان تھے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی قبول اسلام کی خوشی میں مسلمانوں نے بآواز بلند نعرۂ تکبیر لگایا جس سے پوری وادی گونج اٹھی ۔ اور حضرت جبریل امین باگاہ رسالت پناہ ﷺ میں حاضر ہوئے اور عرض کی یا رسول اللہ ﷺ آج آسمان والے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے قبول اسلام کی خوشی منا رہے ہیں اور آپ کو مبارک باد پیش کر رہے ہیں ۔

جس دن حضرت عمر رضی اللہ عنہ ایمان لائے تو یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی: ” یا ایھا النبی حسبک اللہ ومن اتبعک من المومنین “ ترجمٔہ کنز الایمان: اے غیب کی خبریں بتانے والے نبی! اللہ تمہیں کافی ہے اور یہ جتنے مسلمان تمہارے پیرو ہوئے ۔ (سورۃ الانفال ، آیت 63) ـ

فضائل و مناقب:
حضور ﷺ نے فرمایا: کہ پہلی اُمتوں میں " محدَّثین " ( اللہ تعالیٰ انکو حق بات کا الہام کرتا ہے اور انکی زبان پر حق جاری فرماتا ہے) ہوا کرتے تھے اور میری امت میں عمر رضی اللہ عنہ ایسے شخص ہیں جن کی زبان سے اللہ تعالیٰ کلام کرتا ہے ۔ (الصواعق المحرقہ:335) ـ

جس معاملہ میں صحابہ گفتگو کرتے تھے، حکمِ الٰہی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی رائے کے مطابق نازل ہوا کرتا تھا ۔ قرآن مجید کی متعدد آیات مبارکہ اس پر شاہد ہیں ۔

رسول کریم ﷺ نے فرمایا:
" اگر میرے بعد کوئی اور نبی مبعوث ہوتا تو وہ عمر بن خطاب ہوتے " ۔ (جامع ترمذی ، ج:2 ، ص:563) ـ یعنی جو اوصاف اللہ کے نبی میں ہوتے ہیں وہ تمام کے تمام حضرت عمر رضی اللہ عنہ میں موجود تھے ، سبحان اللہ ، ایسی عظیم اور عبقری شخصیت ۔

خلافتِ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ:
حضرت ابو ہریرہ رضی ﷲ عنہ سے روایت ہے: سرکارِ دو عالم ﷺ نے فرمایا: میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک ڈول میں نے کنویں میں ڈالا اور اس سے پانی کھینچنے لگا اور اس وقت تک پانی کے ڈول کھینچتا رہا جب تک اللہ نے چاہا ۔ اس کے بعد سیّدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ پانی کھینچنے لگے ۔ ابھی آپ نے دو ایک ڈول کھینچے تھے کہ تھک گئے ۔ اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور ڈول کھینچنے لگے ۔ میں نے آپ سے زیادہ طاقت وَر کوئی نہیں دیکھا تھا۔ آپ نے تمام حوض کو پانی سے بھر دیا اور خلقِ خدا کو سیراب کر دیا ۔ (صحیح بخاری،حدیث ،۳۶۸۲) ـ

یہ عہدِ خلافتِ عمر رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ تھا ۔ آپ نے فارس کے ہزاروں شہر اور قصبے فتح کیے اور بے پناہ لوگ دامنِ اسلام میں آئے ۔

مدتِ خلافت:
بروز منگل 27 جمادی الآخر 13ھ کو آپ مسندِ خلافت پر بیٹھے۔ آپ کی مدتِ خلافت دس سال آٹھ ماہ تھی۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے دس سالوں میں 22 لاکھ مربع میل کا علاقہ بغیر آرگنائزڈ آرمی کے فتح کیا۔ آپ کی ان فتوحات میں اس وقت کی دو سُپر پاور طاقتیں روم اور ایران بھی شامل ہیں۔ آج سیٹلائٹس میزائلز اور آبدوزوں کے دور میں دنیا کے کسی حکمراں کے پاس اتنی بڑی سلطنت نہیں ہے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے دنیا کو ایسے سسٹم دئیے جو آج تک دنیا میں موجود ہے ۔
1
آپ کی شہادت:
امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ دعا مانگا کرتے تھے .... اللھم ارزقنی شھادۃفی سبیلک واجعل موتی  ببلدِ رسولک ﷺ ۔ (مؤطا امام مالک ،حدیث ،۹۳۴) ـ یعنی اے اللہ مجھے شہادت کی موت نصیب فرما اور میری موت اپنے رسول ﷺ کے شہر میں مقدر فرما ۔

اللہ تعالیٰ نے مدینے میں ہی شہادت عطا کر کے نبی ﷺ کے قدموں میں جگہ بھی عطا فرما دی ۔ آپ ان تین زخموں سے واصلِ بحق ہوئے جو ایک بد نہاد ابو لولؤ فیروز مجوسی نے دھوکے سے لگائے تھے۔

تاریخِ شہادت:
آپ کی تاریخِ شہادت کے بارے میں مختلف اقوال ہیں:

امام جلال الدین سیوطی فرماتے ہیں:
ابو عبیدہ بن جراح کا بیان ہے کہ حضرت عمر بدھ کے دن 26 ذی الحجہ 23 ہجری کو شہید ہوئے اور ہفتہ کے دن محرم کی چاند رات کو دفن کئے گئے ۔ (تاریخ الخلفاء صفحہ 310 ) ـ

اور ان کی وفات کے بعد حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیعت 29 ذی الحجہ سنہ 23 ہجری کو ہوئی، اور محرم الحرام 24ھ کی یکم کو آپکی نماز جنازہ ادا کی گئی ۔ اسی طرح 28 ، 29 ذو الحجہ اور 1 محرم کی روایات بھی ملتی ہیں ۔

ماخذ و مراجع:
شریف التواریخ ۔ خزینۃ الاصفیاء ـ
الفاروق ۔ ابن کثیر ۔ طبقاتِ ابنِ سعد ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/2nd-caliph-of-islam-hazrat-umar-farooq
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
08-06-1444 ᴴ | 01-01-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ نیا سال مبارک ماہ محرم الحرام میں نئے سال کی مبارک باد دینا کیسا ہے؟ https://t.me/islaamic_Knowledge/42833 نئے عیسوی سال کی مبارک باد دینا کیسا ہے؟ https://t.me/islaamic_Knowledge/42834 ہیپی نیو ایئر یا نیا سال مبارک…
نیا سال مبارک ماہ محرم الحرام میں
نئے سال کی مبارک باد دینا کیسا ہے؟
https://t.me/islaamic_Knowledge/42833
نئے عیسوی سال کی مبارک باد دینا کیسا ہے؟
https://t.me/islaamic_Knowledge/42834
ہیپی نیو ایئر یا نیا سال مبارک کہنا کیسا؟
https://t.me/islaamic_Knowledge/42835
🌹▬▬▬▬▬ 🆔 ▬▬▬▬▬🌹
Contact On Us Telegram↷↯ ⤵️
@Muhammad_Jamaluddin_Khan
🌹▬▬▬▬▬ 🆔 ▬▬▬▬▬🌹
1