🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
خلیفۂ اعلیٰ حضرت، حضرت مفتی
قاضی شمس الدین احمد جونپوری
مصنف قانون شریعت علیہ الرحمہ

یوم وصال 01 محرم الحرام 1410
یوم پیدائش 27 ذوالحجہ 1322 ھ

جونپور ہر زمانے میں تاریخ کی دنیا میں غیر معمولی خوبیوں کا مالک رہا ہے، تہذیب وتمدن کے آئینے میں چمکتا رہا، کِشتِ فن وادب کی یہاں سے ہمیشہ آبیاری کی گئی ہے۔ اس کے چہرے پر حسن و بہار کا غازہ مسلا گیا۔ اس لیے تاریخ اسے شیراز ہند سے یاد کرتی ہے۔ بڑے بڑے بزرگوں کی یادگاریں آج بھی اس سر زمین پر ہیں جو داستانِ ماضی کی یاد دلاتی ہیں۔

ولادت و خاندان:
اس جونپر کے ماہرین میں ابجل المتکلمین حضرت مفتی شمس الدین احمد رضوی جعفری تھے۔ آپ ایک ایسے خاندان میں پیدا ہوئ ے جو علمی اعتبار سے ایک اعلیٰ اور معیاری خاندان تھا، نانا محترم اور جد امجد دونوں وقت کے جید صاحبِ لیاقت تھے، اور اس وقت جونپور میں علم وحکمت کے چشمے بہار ہے تھے اور ماحول بھی علمی اعتبار سے بہت زیادہ سندر تھا۔

ولادت:
حضرت مفتی قاضی شمس الدین احمد علیہ الرحمۃ کی ولادت جونپور کے ایک محلہ میر مسرت میں ہوئی، جعفری زینبی نسب آباء و اجداد شاہانِ مشرقی کے زمانے میں منصب قضاء پر فائز تھے۔ تاریخ ولادت ۲۸؍ذی الحجہ ۱۳۲۲ھ؍ ۵مارچ ۱۹۰۵ء ہے۔

تعلیم و تربیت:
حضرت مفتی قاضی شمس الدین احمد کو ان دونوں بزرگوں کی شفقتوں اور پدری محبتوں نے آپ کی بہترین نشو ونما کی اور اس علمی ماحول اور اعلیٰ سماج نے تو آپ کو کہاں سے کہا ں تک پہنچادیا۔ قاضی شمس الدین احمد کی ابتدائی تعلیم جون پور میں ہوئی۔ جامعہ نعیمیہ مراد آباد میں صدر الافاضل مولانا نعیم الدین رضوی مراد آبادی علیہ الرحمہ سے درس لیا۔

صدر الشریعہ مولانا امجد علی رضوی اعظمی علیہ الرحمہ کی شہرت سن کر اجمیر شریف دار العلوم معینیہ عثمانیہ پہنچے، کامل انہماک ویکسوئی سے اساتذۂِ دارالعلوم سے پڑھا، حدیث پاک اور امہات کتب کی حضرت صدر الشریعہ علیہ الرحمۃ سے تکمیل کی۔

۱۳۵۲ھ میں جب صدر الشریعہ نے اجمیر شریف چھوڑ کر بریلی شریف مراجعت فرمائی اور چالیس طلبہ کی جماعت (جو علوم و فنون کامل اور چنداں آفتاب وماہتاب تھے) جو حضرت صدر الشریعہ کے ساتھ بریلی پہنچے ان میں قاضی شمس الدین احمد بھی تھے، دار العلوم منظر اسلام بریلی شریف سے فراغت حاصل کی۔

آغازِ درس:
مفتی قاضی شمس الدین احمد نے فراغت کے بعد دارالعلوم منظر اسلام میں درس دینا شروع کیا۔ جامعہ نعیمیہ مراد آباد، مدرسہ منظر حق ٹانڈہ ضلع فیض آباد، مدرسہ حنفیہ جون پور میں درس دیا۔ آخر الذکر مدارس میں صدر المدرسین رہے، بعدہٗ جامعہ رضویہ حمیدیہ بنارس میں مسندِ صدارت پر فائز ہوئے اور علوم وحکمت، تفسیر وحدیث اور فقہ کا خصوصی درس دیا۔ اکابر علماء میں بہ اعتبار علم وفضل قاضی شمس الدین احمد کا بلند مقام ہے [1] ۔

بیعت و خلافت:
حضرت مفتی قاضی شمس الدین احمد دس برس کی عمر میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری فاضل بریلوی قدس سرہٗ سے مرید ہوے [2] ۔ شہزادۂ امام احمد رضا مفتی اعظم ہند علامہ الشاہ مصطفیٰ رضا نوری نے جمیع سلاسل کی خلافت واجازت عطا فرمائی [3] ۔ مزید برآں حجۃ الاسلام مولانا حامد رضا خاں بریلوی قدس سرہٗ نے اجازت سے نوازا۔

عالمِ نکتہ داں:
حضرت قاضی شمس الدین احمد کا بچپن دیگر بچوں سے الگ تھلگ تھا۔ شروع سے محنت وعرق ریزی کے عادی تھے۔ پڑھنے میں د ل چسپی لیتے تھے اور نہایت ہی ذوق وشوق سے حصولِ علم کیا کرتے۔ دل میں بلند حوصلہ، پختہ ارادہ اورعزم وہمت رکھتے تھے۔ کئی بار قاضی شمس الدین احمد نے بطور تحدیث نعمت فرمایا کہ عالمِ نکتہ داں ہونے کی خبر جد محترم نے دی تھی، اور وہ فرمایا کرتے کہ ‘‘کہیے مولانا عالمِ نکتہ داں’’۔

سادگی و مزاج:
آج کی دنیا، جس میں تصنع اور تکلف کی افراط وتفریط ہے، اوریہ زندگی کےہر شعبے میں ہے، کوئی ایک شعبہ بھی اس سے خالی نہیں ہے، مگر شمس العلماء قاضی شمس الدین احمد نے اس دنیا میں رہتے ہوئے بھی اپنے دامن کو تصنُّع اور تکلُّف کی آلودگیوں سے پاک رکھا۔ آپ سادگی پسند تھے، مزاج سادہ تھا تو لباس بھی سادہ زیب تن فرماتے۔ مگر قاضی شمس الدین احمد کی اس سادگی میں بھی ایک عجب طرح کی کشش اور جاذبیت ہوتی، کس کی؟ علم وفن، ادب وحکمت کی۔ پیشانی چوڑی جس پر معرفت وحکمت کی گہری چھاپ تھی۔ آنکھیں چھوٹی مگر تفکرات کی دنیا میں وسیع، جوفکر وتدبر کے آنچل کے سائے میں اٹھتیں اور نکات عجیبہ دقائق لطیفہ کے جہانِ تازہ تلاش کر لیتی تھیں۔ جسم نہایت ہی لاغر و دبلا تھا مگر علمی کشش اور فنی رعب ودبدبہ کا پیکر تھا۔
1
اندازِ مُطالعۂ کتب:
مفتی قاضی شمس الدین احمد کا مطالعۂ کتب بھی جدا گانہ ہے جب مطالعہ فرماتے تو پنسل یا قلم پاس ہوتا تھا۔ اخبارات ، جرائد ، درسی کتابوں یا اردو ڈائجسٹ کا مطالعہ کر رہے ہیں، کسی جگہ کوئی اہم عبارت مل جاتی تو آپ اسے اپنی بیاض میں نقل فرمالیتے۔ قاضی شمس الدین احمد کا یہ انداز تا عمر باقی رہا۔ قطرہ قطرہ دریامی شود کے مصداق وہ بیاض اچھی خاصی ضخیم ہوگئی، جو کشکول جعفری کے نام سے ان کے شاگردوں کےدرمیان مشہور ہے۔ یقیناً وہ کشکول حقیقت و معلومات اور حقائق ومعارف کا خزانہ ہے۔

علم و فضل:
حضرت مفتی قاضی شمس الدین احمد کو علم کے ہر میدان میں دسترس حاصل تھی۔ فقہ ہو یا حدیث، منطق ہو یا فلسفہ، علمِ کلام ہو یا اصولِ فقہ، تاریخ ہو یا تنقید، تفسیر ہو یا علمِ تکسیر، ہر فن میں آپ سیر حاصل گفتگو فرماتے، اور معلومات کا دریا بہاتے۔ جس طرف آپکی نگاہ اٹھتی، مضامین کا تانتا بندھ جاتا اوروہ الفاظ وعبارت کا رُوپ دھار لیتے۔ صرف اتنا ہی ہیں بلکہ فصاحت وبلاغت کے سانچے میں ڈھل جاتے۔ اور قاضی شمس الدین احمد کی زبان سے جو الفاظ نکلتے وہ الفاظ نہیں ہوتے بلکہ پھول ہوتے، اور اپنی بوئے عنبریں سے ہر طالب علم کی مشامِ جاں کو معطر کرتے۔

حدیث اس انداز سے پڑھاتے کہ "امام بخاری ومسلم" کی یاد تازہ ہوجاتی۔ اسماء الرجال پر گفتگو فرماتے تو راویوں کے حالات زندگی، ان کے علمی کمالات، طرزِ معاشرت اس طرح واضح فرماتے کہ" تہذیب التہذیب" کا جلوہ نگاہوں میں پھر جاتا۔ فقہ پر لب کشاہوتے تحقیقات وتدقیقات کا جلوۂ رنگیں بکھیرتے۔ ائمہ کے اختلافات پر ہر ایک کی سندیں اور مسائل کی ترجیحات بڑے ہی اچھوتے انداز میں بیان فرماتے فقہی حزئیات مفتی قاضی شمس الدین احمد کی نگاہوں میں روشن تھیں۔

تنقیدی نظریہ:
مفتی قاضی شمس الدین احمد کی کیسی ذہانت وفطانت تھی؟ اللہ اللہ۔ جرأت و بے باکی آپ کےمزاج میں کوٹ کوٹ کر بھردی گئی تھی، ہر کسی کے سامنے اس کی غلطیوں کی نشان دہی فرمادیا کرتےتھے۔ تنقید آپ کی اچھی تھی اور بر ملا تنقید کیا کرتے تھے۔ کلام کے تجزیہ پر آپ کو عبور حاصل تھا۔ ہرکسی کی اور ہر قسم کی بات تسلیم کرنےکے عادی نہ تھے جب تک کہ اس کی دلیل نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت علامہ سعدی شیرازی کا یہ قول "ہرچہ گفتنی دلیلش بیار"

بار بار دہرایا کرتے اور جب دلیل سامنے آتی تو اس کے مقدمات کو پرکھتے۔ اس کے بعد کسی کو تسلیم کرنے کی باری آتی۔ اس اعتبار سے قاضی شمس الدین احمد کا تنقیدی شعور بلند وبالامعیاری تھا۔ آپ کی تنقید میں تعمیر زیادہ ہوتی۔ اس میں کہیں کہیں ظفر و مزاح سے کام لیتے جس سے تنقید کا رنگ و روغن دوبالا ہوجاتا اور سامعین کےلیے لطف و مزہ۔

امام احمد رضا کے متعلق تنقید:
مفتی قاضی شمس الدین احمد علیہ الرحمۃ کی اس تنقیدی صلاحیت کے باوجود آپ کی نگاہ میں ایک ایسی شخصیت تھی جنہیں آپ تنقید سے الگ تھلگ تصور کرتے تھے، اور وہ ذات تھی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری فاضل بریلوی قدس سرہٗ کی ۔ آپ امام احمد رضا بریلوی کے متعلق بار بار فرمایا کرتے کہ:

میں اعلیٰ حضرت کو آنکھ بند کر کےجانتا ہوں اس لیے کہ انہوں نے جو مسائل کی تحقیق و تنفیح کی، بالکل صحیح  کی۔ اس میں چوں چرا کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔

آپ حضور مفتی اعظم ہند قدس سرہ کا بے حد احترام کرتے، اس مرکزِ علم وفن کی بارگاہ میں علمی گفتگو فرماتے، لب کشا ہوتے تو ادب واحترام کے دائرہ میں، اور ادب واحترام کا یہ عالم ہوتا کہ کہیں ادب سے بات کرنے میں جھجکتے اور کہیں رُکتے۔ یہ تھا کمالِ ادب مرشدِ اعظم شہزادۂ اعلیٰ حضرت کی باگاہ میں۔

تصانیف:
حضرت مفتی قاضی شمس الدین احمد تا حیات رشد وہدایت کا پیغام دیتے رہے، اور اپنی یادوں کےنقوش چھوڑے جن میں مندرجہ ذیل تصانیف یادگار کا درجہ رکھتی ہیں۔ ❶ قانونِ شریعت حصہ اول، دوم ❷ قواعد النظر ❸ قواعد الاعراب ❹ کشکولِ جعفری ـ

چند مشہور تلامذہ:
قاضی شمس الدین احمد کے شاگردوں میں کثیر تعداد، جو اب علمی درس گاہوں میں بیٹھ کر اُن سے حاصل کیے ہوئے جواہر ریزوں کو بکھیر رہے ہیں، اور صحیح علم وفن کو آباد کر رہے ہیں۔ چند تلامذہ کے اسماء گرامی درجِ ذیل ہیں:

❶ مولانا مفتی محمد اعظم رضوی ٹانڈوی شیخ الحدیث دارالعلوم مظہر اسلام بریلی شریف ❷ مولانا شمس الدین صدیقی رضوی صدر المدرسین مسعود العلوم چھوٹی تکیہ بہرائچ ❸ مولانا حسام الدین احمد ہشام صاحبزادہ وجانشین (جونپور) ❹ مولانا شمشاد حسین رضوی بھاگلپوری ـ
1
انتقال پُر ملال:
یکم محرم الحرام ۱۴۱۰ھ کی وہ صبح کس قدر دل خراش اور روح فرسا ہوگی جس میں قاضی شمس الدین احمد کی جان جاں آفریں کے جوارِ رحمت میں گہری اور ابدی نیند سوگئی، اور جامِ وصال محبوب حقیقی نوش فرمایا۔۔۔۔ وقت وصال سینۂ مبارک پر حضرت امام غزالی قدس سرہٗ کی معرکۃ الآراء تصنیف کیمیائے سعادت کھلی رکھی تھی اور وہ بھی موت کا باب تھا [4] ۔

▬▬▬▬ حاشیہ ▬▬▬▬

[1] ۔محمود احمد قادری، مولانا: تذکرۂ علماء اہلِ سنت ص ۱۰۴

[2] ۔محمود احمد قادری، مولانا: تذکرۂ علماء اہلِ سنت ص ۱۰۴

[3] ۔قلمی یاد داشت مولانا محمد انور علی رضوی بہرائچی استاذ دارالعلوم منظرِ اسلام بریلی شریف

[4] ۔(الف) سہ ماہی دامنِ مصطفیٰ بریلی (مضمون مولانا شمشاد حسین رضوی) ص ۳۸ تا ۴۲ بابت محرم، صفر، ربیع الاول ؍اگست، ستمبر ،اکتوبر ۱۹۸۸؁ء ۱۴۰۸؁ھ

(ب) شمس الدین احمد رضوی، قاضی مفتی: قانونِ شریعت۔

نوٹ: تفصیلی حالات کے لیے دیکھیے قانونِ شریعت جدید ایڈیشن۔ ۱۲رضوی غفرلہٗ

https://scholars.pk/ur/scholar/qazi-shamsuddin-ahmed-jaunpuri
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
شیخ الاسلام، سلطان الاولیاء، سیدنا شیخ ابو الحسن علی بن احمد بن یوسف قرشی ہکاری رحمۃ الله تعالی علیہ کی ولادت شوال 409ھ کو موصل عراق کی سرحد کے ساتھ ہکاری، جنوب مشرقی ترکی میں ہوئی۔ آپ مرید و خلیفہ سید ابو الفرح محمد طرطوسی، سلسلہ عالیہ قادریہ برکاتیہ رضویہ کے پندرہویں امام و شیخ طریقت، جلیل القدر عالم دین، محدث و فقیہ، صاحب وقار و ہیبت، اور زاہد و عابد تھے۔ عشاء کی نماز کے بعد قرآنِ پاک کی تلاوت شروع فرماتے اور نماز تہجد سے پہلے دو قرآنِ مجید ختم کر لیا کرتے تھے۔ رسالہ ”هدية الاحياء للاموات“ آپ کی یادگار تصنیف ہے۔ یکم محرم الحرام 486ھ بروز پیر شریف صبح صادق کے وقت وصال فرمایا، مزار مبارک بغداد عراق میں ہے۔ (تاریخ بغداد، طبقات الاولیاء، شذرات الذھب، وفیات الاعیان)

Shaykh al-Islam, Sultan al-Awliya, Sayyiduna Shaykh Abu al-Hasan Ali bin Ahmad bin Yusuf Qurashi Hakkari (Alayhir Rahmah) was born in Shawwal 409 AH in Hakkari, southeastern Turkey, near the Mosul, Iraq border. He was the disciple and caliph of Sayyid Abu al-Farah Muhammad Tartusi, the 15th Shaykh of Qadiriyah Barakatiyah Ridawiyah Sufi Order, pious practicing scholar, hadith master, jurist, awe-inspiring personality, pious ascetic, and devout worshiper. He would start reciting the Holy Quran after Isha prayers and complete it twice before Tahajjud prayers. The treatise ‘‘Hadiyat al-Ahya li al-Amwat’’ is his memorable work. He passed away on Monday, 1st Muharram 486 AH at dawn. His blessed resting place is in Baghdad, Iraq. [Tarikh Baghdad, Tabaqat al-Awliya, Shazrat al-Dhahab, Wafiyat al-A’yaan]

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid089fDsoyRKRk34S9duyLzdennz2C29QB2eZygvrhR3SFxCXr7iyU6kwKqf6sbiKffl&id=100050689590519
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
مرید و خلیفۂ اعلی حضرت، صاحب قانون شریعت، شمس العلماء، حضرت علامہ مفتی قاضی ابو المعالی شمس الدین احمد جعفری رضوی جونپوری رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی ولادت 28 ذوالحجہ 1322ھ 5 مارچ 1905ء بروز پیر شریف محلہ میرمست قاضیانہ جونپور، یو پی، ہند میں ہوئی۔ آپ مرید و خلیفۂ اعلی حضرت، خلیفۂ حجۃ الاسلام و مفتیٔ اعظم، تلمیذ صدر الشریعہ، فاضل دارالعلوم منظر اسلام بریلی شریف، جید مدرس، صاحب قانون شریعت اور شیخ طریقت تھے۔ یکم محرم الحرام 1401ھ مطابق 30 اکتوبر 1981ء شب جمعہ کو بنارس میں وصال فرمایا۔ وقت وصال آپ کے سینۂ مبارکہ پر امام غزالی کی کتاب کیمائے سعادت کھلی رکھی تھی اور وہ بھی موت کا باب تھا۔ مزار پرانوار احاطۂ مزار حضرت قطب الدین بینا دل قلندر، جونپور یو پی، ہند میں ہے۔ (تذکرہ خلفائے اعلی حضرت، مفتی اعظم ہند اور ان کے خلفاء، من نوابغ الھند)

Murid and Khalifah of AlaHazrat, Author of Qanoon-e-Shari’at, Shams al-Ulama, Allamah Mufti Qadi Abu al-Ma’ali Shamsuddin Ahmad Ja’fari Ridawi Jaunpuri (Alayhir Rahmah) was born on Monday, 28 Dhu al-Hijjah 1322 (5 March 1905 CE) Muhallah Meermast Qaziyanah Jaunpur, U.P., India. He was a khalifah of AlaHazrat, Hujjat-ul-Islam, and Mufti-e-Azam; student of Sadr al-Shari’ah; graduate from Dar al-Uloom Manzar-e-Islam Bareilly Sharif; excellent teacher; author of Qanoon-e-Shari’at; and spiritual guide. He passed away on Friday night, 1st Muharram 1401 AH (30 October 1981 CE) in Banaras. At the time of his demise, Imam al-Ghazali’s book Kimaya-e-Sa’adat was open on his blessed chest and that too was a chapter of death. His blessed resting place is in the courtyard of the mausoleum of Hazrat Qutbuddin Beena Dil Qalandar located in Jaunpur, U.P., India. [Tazkirah Khulafa-e-AlaHazrat, Mufti-e-Azam aur Unke Khulafa, Min Nawabigh al-Hind]

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid02uL9zEqaXxGmDTvMfphcUGNiJLfSP36nCYACQorXKs4ZAjMxnkAm2en9bhurSkDNVl&id=100050689590519
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
خلیفۂ غوث اعظم، سردارِ سلسلۂ سہروردیہ، شیخ الشیوخ، شہاب الحق والدین، حضرت سیدنا شیخ ابو حفص عمر صدیقی سہروردی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی ولادت رجب المرجب 539ھ کو قصبہ سہرورد (صوبہ زنجان) ایران میں ہوئی۔ آپ سلسلہ سہروردیہ کے بانی، جید عالم دین، صاحب جود و سخا، شیخ المشائخ اور کم و بیش 23 کتب کے مصنف ہیں۔ آپ کی کتاب ”عوراف المعارف“ دنیا بھر میں مشہور ہے۔ ہر سال حج و زیارت بارگاہ اقدس سے مشرف ہوتے۔ یکم محرم الحرام 632ھ بروز بدھ عراق میں وصال فرمایا۔ آپ کا مزار مبارک رصافہ کی جانب مقبرۃ السہروردیہ، بغداد شریف، عراق میں مرجع خلائق ہے۔ (تاریخ الاسلام للذھبی، طبقات الشافعیۃ، نفحات سہروردیہ)

Khalifah of Ghous al-Azam, Leader of Suhrawardis, Shaykh of Shaykhs, Shahab al-Haqq wa al-Deen, Sayyiduna Shaykh Abu Hafs Umar Siddiqui Suhrawardi (Alayhir Rahmah) was born in Rajab 539 AH in Suhraward, Zanjan Provice, Iran. He is the founder of the Suhrawrdiyah Sufi Order, great religous scholar, very generous and kind, leader of saints, and author of about 23 books. His book, ‘‘Awarif al-Ma’arif’’ is globally acclaimed. He was honored to perform Hajj and visitng the August court of the beloved Prophet ﷺ every year. He passed away on Wednesday, 1st Muharram 632 AH in Iraq. His blessed mausoleum in Suhrawardiyah Cemetery, Baghdad, Iraq is visited frequetly by the devotees. [Tarikh al-Islam, Tabaqat al-Shafi’iyyah, Nafhat-e-Suhrawrdiyah]

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid0aiivdf3BYJQeuTSwCFEdcHLyACtv7nkkEGBMvvtSmCmZdm7Re8a6K6L3hPpSpfEhl&id=100050689590519
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
شیخ شہاب الدین عمر سہروردی
یوم وصال 01 محرم الحرام 0632
یوم پیدائش شوال المکرم 0539

شیخُ الاسلام حضرت شیخ شہاب الدین عمر سہروردی رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی: شہاب الدین عمر ۔ کنیت : ابوحفص ۔لقب: شیخ الاسلام ، شیخ الشیوخ ، بانیِ سلسلہ سہروردیہ

سلسلہ نسب:
ابو حفص شہاب الدین عمر بن احمد بن عبد اللہ بن محمد بن عبد اللہ البکری المعروف شیخ عمویہ بن سعد بن حسین بن قاسم بن سعد بن نصر بن عبد الرحمن بن قاسم بن محمد بن امیر المؤمنین حضرت ابو بکر صدیق ۔ (رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین )

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت رجب المرجب / 539ھ ، بمطابق 1145ء کو زنجان (آذر بائیجان کا دار الحکومت) کے نواحی قصبہ "سہرورد" میں ہوئی۔

تحصیلِ علم:
آپ نے اس وقت کے اکابر علماء و مشائخ سے تحصیلِ علوم کیا۔ جیسے محدث ابن نجار، محدث شیخ ابو الغنائم، شیخ ابو العباس (علیہم الرحمہ) آپ کاشمار اپنے وقت عظیم علماء میں ہوتا تھا ۔ یہی وجہ کہ اس وقت کے جید علماء و مشائخ اپنے مسائل کے حل کے لئے آپ کی بارگاہ میں رجوع کرتے تھے۔

بیعت و خلافت:
اپنے چچا بزرگوار شیخ ضیاء الدین سہروردی رحمۃ اللہ علیہ کے مرید و خلیفہ تھے، مگر حضرت قطب ربانی محبوب سبحانی غوث الاعظم حضرت سید عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالی عنہ سے بھی آپ نے فیوض و برکات حاصل فرمائے ۔

سیرت مبارکہ:
شیخ الاسلام ، قدوۃ الاخیار ، شیخ المشائخ حضرت شیخ شہاب الدین عمر سہروردی رحمۃ اللہ علیہ ۔ آپ شافعی المسلک ، زبردست فقیہ اور اپنے وقت کے عظیم مجتہد تھے ۔

سیدنا عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالی عنہ نے آپ کے متعلق فرمایا تھا " یا عمر انت آخر المشہورین بالعراق " کہ اے عمر! تم سر زمین عراق کے آخری مشہور انسان ہو ۔

حضرت محبوبِ سبحانی کے وصال کے بعد سر زمینِ عراق میں آپ کے پائے کا کوئی بزرگ نہیں تھا ۔ آپ اپنی خانقاہ تک محدود نہ رہے ، بلکہ آپ ملکی حالات اور عالمِ اسلام کے معاملات پر گہری نظر رکھتے تھے، جہاں کہیں خلافِ شرع امور دیکھتے تو آپ میدانِ عمل میں  آجاتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کے خلفاء نے ہرجگہ مخالفینِ اسلام کا مقابلہ کیا ۔ پورا عالم بالعموم اور بر صغیر (پاک وہند ) بالخصوص آپ کے فیض سے مستفیض ہوئے ۔

ایک مقام پر آپ نے ارشاد فرمایا: خلفائی فی الہند کثیرۃ۔

آپ کےچند مشہور خلفاء یہ ہیں:
شیخ الاسلام حضرت شیخ بہاؤ الدین زکریا ملتانی ، مصلح الدین شیخ سعدی شیرازی ، شیخ نجم الدین کبریٰ ، شیخ فرید الدین عطار ، سلطان سخی سرور (رحمۃ اللہ علیہم اجمعین)

وصال:
آپ کا وصال یکم محرم الحرام 632 ھ ، بمطابق ستمبر / 1234 ء کو ہوئی ۔

مزار شریف:
آپ کا مزار پر انوار بغداد میں مرجعِ خاص و عام ہے۔

ماخذ و مراجع:
خزینۃ الاصفیاء ۔ انسائیکلوپیڈیا اولیائے کرام ۔

Read more at:
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-abu-hafs-shahabuddin-umar-soharwardi
Copyright © Zia-e-Taiba
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللّٰه عنہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی:
حضرت عمر رضی اللہ عنہ۔
کنیت: ابو الحفص ۔
لقب: فاروق اعظم ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
عمر بن خطاب ، بن فضیل ، بن عبدالغریٰ ، بن ریاح ، بن عبداللہ ، بن فرط ، بن زراح ، بن عدی ، بن کعب ، بن لوی ۔

آپ کی والدہ کا نام:
حنتمہ بنت ہشام ، بن مغیرہ ، بن عبداللہ ، بن عمرو بن مخزوم ، بن یقظہ ، بن مرہ ، بن کعب ۔ یہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی چچا زاد بہن تھیں ۔ آپ کا نسب والد کی طرف سے حضور ﷺ کے نسب نامہ کعب پر ملتا ہے ۔ ( شریف التواریخ ۔ الفاروق ) ـ

تاریخِ ولادت:
آپ واقعہ فیل کے 13 سال بعد پیدا ہوئے ۔ ( تاریخ الخلفاء : 265 ، خزینۃ الاصفیا : 522 ) ـ

قبولِ اسلام:
رسول اکرم ﷺ یہ دعا کیا کرتے تھے: " اللھم اعز الاسلام بعمر ابن الخطاب " (الصواعق المحرقہ ،ص،331) تو اس اعتبار سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ مرادِ مصطفیٰ ﷺ ہیں ۔ بعثتِ رسول پا ک ﷺ کے چھٹے سال اور حضرت امیرِ حمزہ رضی اللہ عنہ کے ایمان لانے کے تین دن بعد ایمان لائے ۔

آپ چالیسویں مسلمان تھے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی قبول اسلام کی خوشی میں مسلمانوں نے بآواز بلند نعرۂ تکبیر لگایا جس سے پوری وادی گونج اٹھی ۔ اور حضرت جبریل امین باگاہ رسالت پناہ ﷺ میں حاضر ہوئے اور عرض کی یا رسول اللہ ﷺ آج آسمان والے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے قبول اسلام کی خوشی منا رہے ہیں اور آپ کو مبارک باد پیش کر رہے ہیں ۔

جس دن حضرت عمر رضی اللہ عنہ ایمان لائے تو یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی: ” یا ایھا النبی حسبک اللہ ومن اتبعک من المومنین “ ترجمٔہ کنز الایمان: اے غیب کی خبریں بتانے والے نبی! اللہ تمہیں کافی ہے اور یہ جتنے مسلمان تمہارے پیرو ہوئے ۔ (سورۃ الانفال ، آیت 63) ـ

فضائل و مناقب:
حضور ﷺ نے فرمایا: کہ پہلی اُمتوں میں " محدَّثین " ( اللہ تعالیٰ انکو حق بات کا الہام کرتا ہے اور انکی زبان پر حق جاری فرماتا ہے) ہوا کرتے تھے اور میری امت میں عمر رضی اللہ عنہ ایسے شخص ہیں جن کی زبان سے اللہ تعالیٰ کلام کرتا ہے ۔ (الصواعق المحرقہ:335) ـ

جس معاملہ میں صحابہ گفتگو کرتے تھے، حکمِ الٰہی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی رائے کے مطابق نازل ہوا کرتا تھا ۔ قرآن مجید کی متعدد آیات مبارکہ اس پر شاہد ہیں ۔

رسول کریم ﷺ نے فرمایا:
" اگر میرے بعد کوئی اور نبی مبعوث ہوتا تو وہ عمر بن خطاب ہوتے " ۔ (جامع ترمذی ، ج:2 ، ص:563) ـ یعنی جو اوصاف اللہ کے نبی میں ہوتے ہیں وہ تمام کے تمام حضرت عمر رضی اللہ عنہ میں موجود تھے ، سبحان اللہ ، ایسی عظیم اور عبقری شخصیت ۔

خلافتِ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ:
حضرت ابو ہریرہ رضی ﷲ عنہ سے روایت ہے: سرکارِ دو عالم ﷺ نے فرمایا: میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک ڈول میں نے کنویں میں ڈالا اور اس سے پانی کھینچنے لگا اور اس وقت تک پانی کے ڈول کھینچتا رہا جب تک اللہ نے چاہا ۔ اس کے بعد سیّدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ پانی کھینچنے لگے ۔ ابھی آپ نے دو ایک ڈول کھینچے تھے کہ تھک گئے ۔ اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور ڈول کھینچنے لگے ۔ میں نے آپ سے زیادہ طاقت وَر کوئی نہیں دیکھا تھا۔ آپ نے تمام حوض کو پانی سے بھر دیا اور خلقِ خدا کو سیراب کر دیا ۔ (صحیح بخاری،حدیث ،۳۶۸۲) ـ

یہ عہدِ خلافتِ عمر رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ تھا ۔ آپ نے فارس کے ہزاروں شہر اور قصبے فتح کیے اور بے پناہ لوگ دامنِ اسلام میں آئے ۔

مدتِ خلافت:
بروز منگل 27 جمادی الآخر 13ھ کو آپ مسندِ خلافت پر بیٹھے۔ آپ کی مدتِ خلافت دس سال آٹھ ماہ تھی۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے دس سالوں میں 22 لاکھ مربع میل کا علاقہ بغیر آرگنائزڈ آرمی کے فتح کیا۔ آپ کی ان فتوحات میں اس وقت کی دو سُپر پاور طاقتیں روم اور ایران بھی شامل ہیں۔ آج سیٹلائٹس میزائلز اور آبدوزوں کے دور میں دنیا کے کسی حکمراں کے پاس اتنی بڑی سلطنت نہیں ہے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے دنیا کو ایسے سسٹم دئیے جو آج تک دنیا میں موجود ہے ۔
1
آپ کی شہادت:
امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ دعا مانگا کرتے تھے .... اللھم ارزقنی شھادۃفی سبیلک واجعل موتی  ببلدِ رسولک ﷺ ۔ (مؤطا امام مالک ،حدیث ،۹۳۴) ـ یعنی اے اللہ مجھے شہادت کی موت نصیب فرما اور میری موت اپنے رسول ﷺ کے شہر میں مقدر فرما ۔

اللہ تعالیٰ نے مدینے میں ہی شہادت عطا کر کے نبی ﷺ کے قدموں میں جگہ بھی عطا فرما دی ۔ آپ ان تین زخموں سے واصلِ بحق ہوئے جو ایک بد نہاد ابو لولؤ فیروز مجوسی نے دھوکے سے لگائے تھے۔

تاریخِ شہادت:
آپ کی تاریخِ شہادت کے بارے میں مختلف اقوال ہیں:

امام جلال الدین سیوطی فرماتے ہیں:
ابو عبیدہ بن جراح کا بیان ہے کہ حضرت عمر بدھ کے دن 26 ذی الحجہ 23 ہجری کو شہید ہوئے اور ہفتہ کے دن محرم کی چاند رات کو دفن کئے گئے ۔ (تاریخ الخلفاء صفحہ 310 ) ـ

اور ان کی وفات کے بعد حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیعت 29 ذی الحجہ سنہ 23 ہجری کو ہوئی، اور محرم الحرام 24ھ کی یکم کو آپکی نماز جنازہ ادا کی گئی ۔ اسی طرح 28 ، 29 ذو الحجہ اور 1 محرم کی روایات بھی ملتی ہیں ۔

ماخذ و مراجع:
شریف التواریخ ۔ خزینۃ الاصفیاء ـ
الفاروق ۔ ابن کثیر ۔ طبقاتِ ابنِ سعد ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/2nd-caliph-of-islam-hazrat-umar-farooq
1