🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
صدرُ العلماء مفتی وجیہ الدین کاکوروی

محترم ،فاضل ، مفتی وجیہُ الدین بن علیم الدین بن نجم الدین کا کوروی ، نیک علماء میں سے ہیں ـ

ولادت:
۱۲۳۲ھ میں پیدا ہوئے ـ

تعلیم:
اپنے والد اور شیخ فضل اللہ، عثمانی نیوتینی سے تمام علوم حاصل کیے شیخ حسین احمد ملیح آبادی اور شیخ آل احمد بن محمد امام پھلواروی سے حدیث کی سند حاصل کی ۔

اور افتاء کے عہدہ پر منتخب کر لے گئے پھر آہستہ آہستہ دوسرے عہدے کی طرف بھی منتقل کر دئے گئے، بالآخر صدر العلماء منتخب ہو گئے ـ

آپ بہت ہی نیک، دین دار، پرہیز گار تھے لوگوں کو آپ سے ہیبت آتی تھی، مرتبہ کے بہت اونچے تھے ۔ آپ کا فارسی زبان میں شرح وقایہ میں عبادات کے مسائل کا ترجمہ تھا ۔

وصال:
یکم محرم ۱۳۰۵ھ میں آپ کی وفات ہوئی جیسا کہ شیخ منظور الدین کاکوروی کی کتاب مجمع العلماء میں ہے ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/mufti-wajihuddin-kakorvi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت مخدوم امیر احمد عباسی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

مخدوم امیر احمد کا تعلق ضلع خیر پور میرس کے گوٹھ کھہڑا کے مشہور ’’مخدوم خاندان سے تھا‘‘ جس نے وادیِ مہران میں اسلامی احکام کے نفاذ میں مثالی خدمات انجام دی تھیں۔ اس خاندان کا سلسلہ نسب نبی اکرم نور مجسم ﷺ کے چچا حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ سے جا ملتا ہے۔ اس خاندان کے مورث اعلیٰ، حضرت محمد ابراہیم تیسری صدی ہجری کی ابتداء میں بغداد شریف کے بادشاہ معتصم باللہ عباسی کے عہد میں انہی کے حکم سے اسلام و سنیت کی تبلیغ کیلئے سندھ میں تشریف فرما ہوئے ، ان دنوں سندھ، عباسیہ حکومت سے وابستہ تھی۔ حضرت محدم ابراہیم نے حیدرآباد کے شمال میں ایک ٹیلہ پر قیام کیا اور تبلیغ دین کے اہم فریضہ میں مشغول رہے اور ۳۴۸ھ کو انتقال کیا۔ ابراہیم کی اولاد میں سے ایک بزرگ اسد اللہ جس کو ’’مخدوم الملک‘‘ کہا جاتا تھا۔ اکبر بادشاہ کے عہد میں سھد کے قاضی القضا ۃ (چیف جسٹس) مقرر ہوئے اور سندھ کا دورہ کرتے ہوئے خیر پور میرس کے قریب ایک گوٹھ ’’پپری‘‘ میں پہنچے اور وہیں قیام کیا۔ مخدوم قاضیاسد اللہ نے پپری میں مسجد شریف تعمیر کروائی اور وہیں ۹۶۶ھ کو انتقال کیا۔

مخدوم اسد اللہ کے پڑ پوتے مخدوم عبدالخالق نے پپری سے منتقل ہو کر ’’کھہڑا]‘ میں قیام کیا۔ اس کے بعد خاندان نے وہیں کھہڑا میں مستقل قیام کیا اور آج تک ’’درگاہ مخادیم‘‘ مشہورو معروف ہے۔ (مضمون نگار مخدوم امیر احمد، سہ ماہی مہران ۱۹۵۷ئ)

مخدوم امیر احمد کا سلسلہ نسب یوں ہے: امیر بن مخدوم احمدی بن مخدوم عصمت اللہ بن مخدوم احمدی بن مخدوم محمد عاقل بن مخدوم احمد بن مخدوم عبدالرحمن شہید۔ مخدوم امیر احمد ۱۹۰۱ء گوٹھ کھہڑا (تحصیل گمبٹ ضلع خیر پور میرس) میں مخادیم کی حویلی میں تولد ہوئے ۔ بچپن میں والد انتقال کرگئے اس لئے یتیم تھے والدہ ماجدہ کی تربیت اور ماموں جان علامہ مفتی مخدوم اللہ بخش ’’عاصی‘‘ کے سایہ عاطفت میں تعلیم حاصل کی۔ مخدوم امیر احمد بارہ برس کے تھے کہ ان کے ماموں جان بھی انتقال کر گئے۔ بچپن میں فاقہ کشی اور خاندانی اذیت کا شکار رہے۔

تعلیم و تربیت:

۱۹۱۲ء کو سندھی اسکول میں داخل ہوئے، ۱۹۱۶ء کو چوتھی جماعت پوزیشن سے پاس کی جس کے سبب ریاست خیر پور کے حکم تحت سرکاری خرچ پر ناز ہائی اسکول خیر پور میرس میں بڑے اعزاز کے ساتھ داخل ہوئے۔ ہائی اسکول میں فقط ایک ہفتہ گزرا تھا کہ والدہ ماجدہ نے وہاں سے اپنے پاس بلوالیا اور اپنی نگرانی میں دینی تعلیم دلوانے کیلئے حافظ محمد سلیمان کے پاس قرآن مجید حفظ کیلئے بٹھایا۔ دو پارے یاد نہ ہونے پر وہاں سے بھی اٹھوا کر مولانا بخش علی (ساکن ٹنڈو شہباز ضلع دادو) کے پاس بٹھا دیا جو کہ مخادیم کے مدرسہ میں مدرس تھے تین ماہ تک مولانا کے پاس فارسی پڑھتے رہے لیکن اچانک استاد صاحب انتقال کرگئے۔ اس کے بعد اس کی جگہ پر علامہ مولانا محمد ہاشم انصاری نوابشاہی مدرس مقرر ہوئے آپ نے مولانا محمد ہاشم کے پاس تعلیم جاری رکھی فارسی نصاب آٹھ ماہ میں مکمل کیا اور عر بی نصاب فقط چار سال میں پورا کیا اور فارغ التحصیل ہوئے۔

درس و تدریس:

بعدِ فراغت مخدوم امیر احمد نے اپنے آبائی ’’مدرسہ مخدومیہ‘‘ میں تقریباً دو سال درس دیا۔ خاندانی رقابت کے سبب درگاہ مخادیم کو خدا حافظ کہہ کر منتقل ہوگئے۔ ۱۹۲۶ء میں نوشہرو فیروز میں مشہور حکیم قاضی میاں احمدی کے تعاون و امداد سے قاضی مسجد میں مدرسہ قائم کیا جہاں چھ برس تک درس دیا۔ انہی دنوں قرآن پاک حفظ کرنے کا ارادہ ہوا اور بفضلہٖ تعالیٰ آٹھ ماہ میں حفظ کی دولت سے مالا مال ہوئے۔ اس سے آپ کی ذہانت و ذکاوت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

مسٹر انصاری کی کوشش سے ۱۲ مئی ۱۹۲۳ء کو نو شہرو فیروز کے گورنمنٹ ہائی اسکول میں پہلے عربی کے اُستاد مقرر ہوئے۔(ان دنوں اسی اسکول

میں ملک کے نامور اسکالر ڈاکٹر نبی بخش بلوچ زیر تعلیم تھے)۔

۱۹۳۸ء کو نوابشاہ کے لوکل بورڈ ہائی اسکول کے ہیڈ ماسٹر حاجی مہر علی خواجہ کی کوشش و توجہ کے سبب مخدوم امیر احمد نے نو شہرو فیروز کو الوداع کہہ کر نوابشاہ لوکل بورڈ ای ۔ وی اسکول میں عربی استاد مقرر ہوئے۔ یہاں آپ نے اسکول کی تعمیر و ترقی میں بھی بھر پور حصہ لیا

۱۹۴۴ء کو حیدرآباد سندھ میں سندھ کے مشہور ماہرِ تعلیم اور عربی استاد ممتاز اسکالر ڈاکٹر عمر بن محمد دائود پوتہ (جو اس وقت ڈائریکٹر تعلیمات سندھ تھے) اور خطیب اسلام علامہ سید علی اکبر شاہ (میہڑ والے) کی کوششوں سے ’’جامعہ عربیہ سندھ‘‘ (سندھ عربک یونیورسٹی) کی داغ بیل ڈالی گئی تو ۱۹۴۵ء میں مولانا مخدوم امیر احمد کو جوہرِ قابل سمجھ کر شعبہ عربی کا سربراہ مقرر کیا گیا۔ ۱۹۴۶ میں جامعہ عربیہ کے پہلے پرنسپل بنائے گئے اور ۱۹۵۳ء تک اس عہدہ پر فائز رہے۔ نا مساعد حالات کے باعث جامعہ عربیہ کا منصوبہ پایہ تکمیل کو نہ پہنچ سکا۔ ڈاکٹر دائود پوتہ کے انتقال کے بعد جامعہ عربیہ کا تعلیمی معیار جو کالج کے معیار تک پہنچا تھا گھٹ کر ہائی اسکول تک رہ گیا۔
آج یہ درسگاہ ہائی اسکول کی شکل میں موجود ہے۔

۱۹۵۳ء کو نامور اسکالر آئی آئی قاضی (وائس چانسلر سندھ یونیورسٹی جامشورو) نے پنجاب ، الہ آباد اورناگ پور یونیورسٹیوں کی طرز پر سندھ یونیورسٹی سے ملحق ایک علوم شرقیہ کالج کی بنیاد ڈالی توان کی نظرِ انتخاب مخدوم امیر احمد پر پڑی۔ علامہ آئی آئی قاضی نے انہیں ’’سندھ اورینٹیل کالج ‘‘ کا پہلا پرنسپل مقرر کیا اور تاحیات پرنسپل رہے۔ ۵۱۔۱۹۵۲ء اور ۱۹۵۳ء میں مسلک گرلز کالج میں پارٹ ٹائم میں بی ۔ اے آرٹس کلاس کیلئے عربی کے استاد مقرر ہوئے۔

۱۹۵۵ء میں آپ کی کوششوں سے اسلامیہ ماڈل ہائی اسکول قائم ہوا ۔ جس کے آپ جنرل سیکریٹری منتخب ہوئے۔ اس کے علاوہ حمایت الالسلام ہائی اسکول و کالج حیدرآباد کے قیام میں بھی بنیادی کردار ادا کیا۔حمایت الاسلام ایسوسی ایشن کے بھی سر گرم کارکن رہے۔

علمی مقام:

ڈاکٹر بلوچ صاحب رقمطراز ہیں: مخدوم صاحب کا سندھ کے چوٹی کے عُلما اور اُدباء میں شمار ہوتا تھا۔ عربی لغت و ادب میں کامل دسترس رکھتے تھے ان کے پائے کا شاید ہی کوئی دوسرا سندھی عالم ہو۔ بندہ راقم جونا گڑھ میں زیر تعلیم تھا ان دنوں انٹر آرٹس کے عربی کورس میں ’’ابن دردی‘‘ کا مشہور قصدیدہ (جو ’’مقصورہ ابن درید‘‘ کے نام سے مشہور ہے) تھا۔ یہ قصیدہ نہ صرف کلاسیکل رنگ میں تحریر ہے بلکہ نہایت مشکل عربی الفاظ ، محاورے اور استعاروں پر مشتمل ہے۔ ابن درید عربی لغت کے امام مانے جاتے ہیں۔ تعطیلات میں گھرآگیا اور نوابشاہ جا کر مخدوم صاحب کی خدمات حاصل کیں اور ان سے ’’مقصورہ‘‘ پڑھنا چاہا دل کو یقین نہیں آرہا تھا کہ سیدھے سادے مکتب کے استاد، کالج کی مشکل کتاب کیسے پڑھا سکتے ہیں لیکن جب درس لیا توسارے وہم و گمان ختم ہوگئے حیرت کی انتہا نہ رہی کہ مخدوم صاحب نے بلا کسی تکلُّف کے پورا مقصورہ لفظ بلفظ مجھے سمجھا یا۔ میرے پاس کتاب کا ایک نسخہ ہوا کرتا تھا جو کہ میرے سامنے ہوتا اور مخدوم صاحب سامنے بیٹھتے تھے اس طرح ان کی طرف کتاب الٹی ہوتی تھی اس کے باوجود بڑے اطمینان اور سکون سے پڑھاتے تھے۔

اعزازات:

سندھ یونیورسٹی کی سنڈیکیٹ کے ممبر

سندھ طبیہ کالج کی مجلس عاملہ کے ممبر

۱۹۵۶ء کو سندھ یونیورسٹی کی جانب سے اعزازی طور پر یونیورسٹی کے بی اے اور ایم اے کے طلباء کو عربی پڑھاتے تھے۔

آپ نے مخدوم ٹھٹوی کی کتاب ’’بذل القوۃ‘‘ پر کام کیا جس کے سبب سندھ یونیورسٹی کی طرف سے ڈاکٹریٹ (پی ۔ ایچ۔ ڈی) کی اعزازی ڈگری دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا لیکن ان کی وفات کی وجہ سے اس فیصلہ پر عمل درآمد نہ ہوسکتا۔

سفر حرمین شریفین:

آپ ۱۹۵۲ء میں مکہ مکرمہ میں حج بیت اللہ اور مدینہ منورہ میں روضہ رسول ﷺ کی حاضری کی سعادت سے لطف اندوز ہوئے۔

تلامذہ:

طلباء کی طویل فہرست میں سے بعض کے اسماء درج ذیل ہیں:

٭ نامور اسکالر و دانشور ڈاکٹر نبی بخش خان بلوچ حیدرآباد

٭ مولانا پیر فضل احمد سرہندی شکار پور

٭ مولانا عبدالحق شکار پوری

٭ حکیم قاضی عبدالہادی نو شہرائی

٭ مولانا محمد صادق برڑو ٹھاروشاہ

٭ مولانا محمد دائود بگھیو تحصیل مورو

تصنیف و تالیف:

قیام حیدرآباد کے بعد آپ نے سندھی ادب کے اکثر حلقوں میں حصہ لیا۔ شاہ عبداللطیف یاد گار مخزن اور دیگر علمی ادبی رسائل میں آپ کے مضامین شائع ہوئے تھے۔ اورینٹیل کالج کی "مخزن" آپ کی نگرانی میں شائع ہوتی تھی۔ (سہ ماہی مہران ۱۹۵۷ء سوانح نمبر)

٭ بذل القوۃ فی حوادث سنی النبوۃ: علامہ مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی قدس سرہ کی عربی تصنیف پر کام کیااور ایک طویل مقدمہ سپرد قلم فرمایا جو کہ آپ کی محنت شاقہ اور تحقیق کا شاہکار ہے۔ سندھی ادبی بورڈ جامشورو نے انہیں پہلی بار ۱۹۶۶ء کو شائع کیا۔ حال ہی میں اس کتاب کا اردو ترجمہ محترم مفتی محمد علیم الدین نقشبندی نے بڑی محنت و عرق ریزی سے کیا ہے جسے ادارہ مظہر علم لاہور نے ’’سیرت الانبیاء‘‘ کے نام سے ربیع الاول ۱۴۲۱ھ/جون ۲۰۰۰ء کو شائع کیا ہے۔

٭ حیاۃ القاری فی اطراف صحیح البخاری: یہ کتاب بھی امام اہلِ محبت علامہ مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی قدس سرہ کی عربی تصنیف ہے۔ مخدوم امیر احمد نے اس کے قدیم مخطوطے پر ۱۹۵۲ء میں ایک مبسوط مقدمے اور تصحیح و حواشی کے ساتھ بھر پور کام کیا۔ ہنوز غیر مطبوعہ ہے۔

٭ تاریخ معصوم (سندھی): میر معصوم فاضل بکھری کی تاریخ سندھ پر تصنیف ہے جو کہ فارسی میں تھی اور مخدوم امیر احمد نے پہلی بار اس کا سندھی ترجمہ کیا اور سندھی ادبی بورڈ کی جانب سے ۱۹۵۳ء کو شائع ہوئی۔

٭ تحفۃ الکرام (سندھی): تاریخ سندھ کے متعلق مورخ میر علی شیر قانع ٹھٹوی کی فارسی میں تصنیف ہے۔ مخدوم صاحب نے اس کا سندھی ترجمہ و ضروری حواشی و دیباچہ کے ساتھ تحریر کیا جو کہ ۱۹۵۷ء کو سندھی ادبی بورڈ کے زیر اہتمام پہلی بار شائع ہوا۔ طبع ثانی ۱۹۷۸ء طبع ثالث ۱۹۸۹ء کو منظر پر آیا۔

٭ فتح نامہ سندھ عرف چچ نامہ :(منہاج الملک کی عربی تصنیف کا فارسی ترجمہ علی بن
حامد ابو بکر کوفی نے ۶۱۳ھ کو کیا تھا) فارسی نسخے کا سندھی ترجمہ مخدوم امیر احمد نے کیا ۔ جو کہ سندھی ادبی بورڈ جامشورو کے زیر اہتمام پہلی بار ۱۹۵۴ء کو شائع ہوا۔

٭ الدین الکامل: (سندھی) یہ کتاب یدن اسلام کے ضروری احکام و مسائل پر مشتمل ہے اسکولوں و کالجوں کے نصاب میں شامل تھا۔

٭ سر زمین سندھ میں علم حدیث:(اردو) یہ علمی و تاریخی مقالہ مخدوم صاحب کی تصنیف ہے۔ مخدوم صاحب نے اس گراں مایہ تصنیف کا ایک حصہ مقالے کی صورت میں کل پاکستان تعلیمات کانفرنس حیدرآباد(سندھ) منعقدہ ۱۹۶۳ء کو پرھا تھا۔ موصوف اس وقت سندھ اورینٹیل کالج حیدرآباد کے پرنسپل اور شاہ ولی اللہ اکیڈمی کے ڈائریکٹر تھے۔ ابھی تک یہ علمی خزانہ کتابی شکل میں شائع نہیں ہوا البتہ اس کے بعض حصے دو قسطوں میں "ماہنامہ الرحیم" حیدرآباد بابت جولائی/اگست ۱۹۶۳ء کے دو شماروں میں اشاعت پذیر ہو چکے ہیں۔

٭ مخدوم امیر احمد نے ’’رسالہ شاہ عبداللطیف بھٹائی‘‘ منظوم سندھی کا اردو نثر میں ترجمہ سندھ یونیورسٹی کی فرمائش پر کیا تھا۔ ترجمہ سلیس اور رواں ہے۔ اردو میں کلام لطیف کی عمدہ شرح بھی شامل ہے۔ کلام لطیف کا یہ ترجمہ اب تک شائع نہ ہوسکا۔ اس کا اصل قلمی نسخہ مخدوم امیر احمد کے بیٹے مولانا مخدوم غلام احمد کے پاس محفوظ تھا۔

٭ آشکار(فارسی): سچل سرمست کے کلام کو ترتیب دے کرنوائے وقت پریس لاہورنے چھپوایا۔

٭ امام مشوری قدس سرہ کی سندھی تصنیف ’’فصل الخطاب فی لزوم الستراوالحجاب‘‘ پر مخدوم امیر احمد نے عورت کے پردے کی حمایت میں زوردار تقریظ سندھی میں رقم کی تھی۔ مطبوعہ مشوری شریف ۱۹۹۰ئ۔؎

کتب خانہ:

آپ کے اورینٹیل کالج کے کتب خانے میں مختلف علوم و فنون اور قدیم و جدید کتب رسائل اور قلمی مخطوطات کا عمدہ ذخیرہ جمع ہو گیا تھا۔ (مہران نقش ص۲۲۸)

اولاد:

اولاد میں مولانا مخدوم غلام احمد کا نام مشہور ہے۔

وصال:

مخدوم امیر احمد نے پوری زندگی جہد مسلسل میں صرف کی اور لازوال خدمات انجام دینے کے بعد یکم محرم الحرام ۱۳۹۱ھ بمطابق ۲۶ فروری ۱۹۷۱ء کو حیدرآباد (سندھ) میں انتقال کیا۔ درگاہ شریف مخادیم کھہڑا کے قدیم خاندانی قبرستان (ضلع خیر پور میرس سندھ) میں آپکی آخری آرامگاہ واقع ہے۔

( انوار علماء اہلسنت سندھ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-makhdoom-ameer-ahmed-abbasi
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
حضرت پیر محمد عمر روحی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

حضرت پیر ابو الرضا محمد عمر روحی ۷ اصفر المظفر ۱۳۱۸ھ ؍ ۱۶مئی ۱۹۰۰ء کو تولد ہوئے۔

ملازمت:
مارچ ۱۹۱۷ء میں آپ جودھپور ریلوے میں بطور تار بابو ملازمت اختیار کی اور اس سلسلہ میں مختلف مقامات پر تعینات رہے۔ جون ۱۹۱۹ء میں انہوں نے مستقل ملازمت محکمہٗ تار و ڈاک میں اختیار کی اور مختلف مقامات پر بطور پوسٹ ماسٹر تعینات رہے۔ مارچ ۱۹۲۳ء کو ان کا تبادلہ ان کے آبائی وطن ’’ناوہ کچا من‘‘ میں ہوا۔

بیعت و خلافت:
ناوہ کچا من میں جب ان کا تبادلہ ہوا تو یہیں ۱۹۲۳؁ء کے او آخر میں ان کی ملاقات حضرت میر سید محمد احمد صدیقی المتخلص بہ قاتل شاہ لکھنوی ( مدفون دربار عالم شاہ بخاری جامع کلاتھ کراچی ) سے ہوئی جو محکمہ ریلوے میں ملازم تھے اور اکثر اجمیر شریف سے قصبہ ناوہ آتے رہتے تھے۔ ان سے ملاقاتیں ہونے لگیں ، صحبت میں بیٹھنا نصیب ہوا، رنگ چڑھا اثر ہوا اور بالآخر ۲۵ ذی الحجہ ۱۳۴۳ھ؍ ۱۷ جولائی ۱۹۲۵؁ء کو سلسلہ عالیہ سہرور دیہ کی شاخ جہانگیری میں حضرت قاتل شاہ سے دست بیعت ہوئے اور ۲۶ ربیع الاول ۱۳۴۷ھ؍ ۱۱ ستمبر ۱۹۲۸ء کو انہیں خلافت و اجازت سے نواز ا گیا۔ یوں انہوں نے ملازمت کے ساتھ ساتھ سلسلہ کا کام بھی جاری رکھا۔

حضور صدر الشریعہ سے عقیدت:
انہیں خلیفہ اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی صدر الشریعہ علامہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے جو تعلق و محبت تھی وہ انہیں کے الفاظ میں درج ہے۔ وہ انہوں نے خود نوشت سوانح ’’ روئے کتابی ‘‘ میں یوں لکھتے ہیں:

( ۶مئی ۱۹۴۰ء کو ) پالی پہنچنے پر وہاں کے مسلمان خصوصا چھیپے ملنے کیلئے آئے اور انہوں نے ہم سے کہا کہ صدر الشریعۃ مولانا امجد علی صاحب ( صاحب بہار شریعت ) جب تک اجمیر شریف میں درگاہ شریف میں درگاہ کے مدرس تھے ، ہر سال گیارہویں شریف میں تقریر کیلئے پالی تشریف لایا کرتے تھے۔ لیکن اب وہ دادوں ضلع مظفر پور چلے گئے ہیں ہم نے انہیں گیارہویں شریف پر بلانے کیلئے خط لکھے ہیں لیکن انہوں نے آنے سے انکار کردیا۔ ہم نے کہا کہ ہم ان کو بلائیں گے ، ان سے پتہ لے کر ہم نے انہیں تار دیا کہ اس جواب میں مولانا نے پالی آنے کا اقرار کر لیا۔۔۔۔بڑی گیارہویں شریف پر مولانا امجد صاحب پالی تشریف لے آئے اور شام کو چھیپوں کی بڑی مسجد کے سامنے پیارا چوک میں ان کی تقریر ہوئی، ہم نے بھی اور لوگوں کے ساتھ سامعین میں تقریرسنی ، تقریر ختم کرنے کے بعد مولانا چھیپوں کی بڑی مسجد کے اوپر حجرہ میں جائے قیام کیلئے تشریف لے گئے ،ہم بھی ان کے پیچھے پیچھے اوپر گئے ۔ وہ جب جا کر چار پائی پر بیٹھ گئے تو ہم نے ان کو سلام کیا اور دست بوسی کی، انہوں نے ہمارے حضرت قبلہ ( قاتل شاہ ) اور دادا قبلہ ( حضرت عبدالشکور ) کی خیریت معلوم کی اور دریافت کیا کہ آپ یہاں کیسے آئے ؟ میں نے عرض کیا کہ پوسٹ ماسٹر کی جگہ تبدیل ہو کر یہاں آیا ہوں ۔ آپ نے دریافت فرمایا کہ آپ نے یہاں کچھ سلسلہ کا کام کیا؟ میں نے عرض کیا کہ مجھے آئے ہوئے تھوڑا ہی عرصہ ہوا ہے اگر میرے حضرات کا کرم اور آپ کی دعا شامل حال رہی تو انشاء اللہ سلسلے کا کام شروع ہو جائے گا۔ آپ نے فرمایا کہ کل صبح کا ناشتہ ہمارے ساتھ کرنا ۔۔۔۔۔۔۔۔لہذا دوسری صبح فجر کی نماز کے بعد مولانا کے ساتھ ناشتہ کیا دوسرے روز شام کو پھر محلہ ناڑی میں مولانا کی تقریر بھی عام سامعین کے ساتھ سنتے رہے۔ وعظ ختم ہونے کے بعد ہم السلام علیکم کر کے مصافحہ کیا۔ آپ نے فرمایا کہ آپ کہاں بیٹھے تھے ؟ یہاں میرے ساتھ تخت پر آکر بیٹھنا چاہیے تھا۔

میں نے عرض کیا کہ مجھے سامنے بیٹھ کر ہی سننے میں مزا آتا ہے‘‘۔ ( روئے کتابی صفحہ ۱۴۱ مطبوعہ حیدرآباد )

پاکستان آمد:
قیام پاکستان کے بعد پاکستان تشریف لائے اور حیدرآباد سندھ میں سکونت اختیار کی۔

وصال:
حضرت ابو الرضا محمد عمر روحی یکم محرم الحرام ۱۳۸۹ھ؍ ۱۲ دسمبر ۱۹۷۷ء ۷۷ سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔

[جناب حسن نواز شاہ صاحب (اسلام آباد) کے مقالہ سے یہ مضمون ماخوذ ہے]


( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-peer-muhammad-umar-rohi
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
سید ملت حضرت سید شاہ آل رسول حسنین میاں نظمیؔ مارہروی قدس سرہٗ

ولادتِ مبارکہ:
حضرت سید شاہ آلِ رسول حسنین میاں نظمی برکاتی مارہروی کی ولادت 6؍ رمضان المبارک1365ھ بمطابق 4؍ اگست 1946ء کو ہوئی۔

تحصیلِ علم:
حافظ عبد الرحمن عرف حافظ کلو سے قرآن مجید پڑھا، فارسی اپنے چچا حضور احسن العلماء سے اور انٹر ایم۔جی۔ ایچ۔ ایم انٹر کالج سے کیا۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ سے اسلامک اسٹڈیز اور انگلش لٹریچر میں بی۔اے۔ کیا پھر یو۔پی۔ ایس۔ سی کے امتحان میں کامیابی حاصل کی۔

زوجہ کا کیا نام:
سیدہ آمنہ سلطان بشریٰ خاتون۔

اولادِ امجاد:
تین: (۱) سید سبطین حیدر (۲) سید صفی حیدر (۳) سید ذو الفقار حیدر۔ (ایک بیٹے کا بچپن میں انتقال ہوگیا تھا)

بیعت و خلافت:
آپ کو بیعت و خلافت اپنے والد ماجد حضور سید العلماء سے تھی اور عم مکرم حضور احسن العلماء نے بھی خلافت و اجازت عطا فرمائی۔

مختلف زبانوں میں مہارت:
عربی، فارسی، اردو، ہندی، انگلش، گجراتی، سنسکرت اور مراٹھی زبانوں میں آپ کو مہارت حاصل تھی۔

تصانیف و تالیفات:
آپ نے تین درجن سے زائد کتابیں تصنیف کیں جن میں سے متعدد انگریزی زبان میں ہیں۔

نمایاں وصف:
نعت گوئی (اعلیٰ حضرت کے کلام کے بعد محفلوں میں سب سے زیادہ آپ کا کلام پڑھا اور سنا جاتا ہے)۔

مشہور خلفاء:
تینوں صاحب زادگان کے علاوہ (۱)حضرت سید محمد اویس مصطفی صاحب زیدی واسطی، بلگرام شریف(۲) مفتی محمد شریف الحق صاحب امجدی، گھوسی (۳) علامہ ضیاء المصطفیٰ صاحب، گھوسی (۴) الحاج سید الشاہ حسین صاحب، سلطان پور (۵) مولوی شبیر احمد قادری صاحب (۶) قاری محمد اختر برکاتی، مگہر (۷) قاری عبد القادر صاحب ، بمبئی (۸) صوفی محمد اسلام میاں کرلا، ممبئی (۹) مولانا محمد شاکر رضا نوری (۱۰) مفتی محمد زبیر صاحب قادری نوری، ممبئی (۱۱) الحاج محمد شوکت حسین خان صاحب، پاکستان (۱۲) الحاج درویش عبد الہادی صاحب نوری، ڈربن ساؤتھ افریقہ وغیرہم۔

اہم کارناموں:
انفارمیشن براڈ کاسٹنگ محکمہ میں مختلف اعلی عہدوں پر فائز رہے(۲) شیلانگ میں پریس انفارمیشن بیورو میں بحیثیت ڈائرکٹر سبک دوش ہوئے (۳) کنز الایمان کا ہندی زبان میں بنام ’’کلام الرحمن‘‘ ترجمہ کیا۔

وصالِ پُر ملال:
یکم محرم الحرام 1435ھ بمطابق نومبر 2013ء۔

بہ شکریہ:
البرکات اسلامک ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ، انوپ شہر روڈ،علی گڑھ

دعاؤں کا طالب:
محمد حسین مُشاہد رضوی

https://scholars.pk/ur/scholar/syed-e-millat-hazrat-syed-shah-aal-e-rasool-hasnain-miyan-nazmi-marehravi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
خلیفۂ اعلیٰ حضرت، حضرت مفتی
قاضی شمس الدین احمد جونپوری
مصنف قانون شریعت علیہ الرحمہ

یوم وصال 01 محرم الحرام 1410
یوم پیدائش 27 ذوالحجہ 1322 ھ

جونپور ہر زمانے میں تاریخ کی دنیا میں غیر معمولی خوبیوں کا مالک رہا ہے، تہذیب وتمدن کے آئینے میں چمکتا رہا، کِشتِ فن وادب کی یہاں سے ہمیشہ آبیاری کی گئی ہے۔ اس کے چہرے پر حسن و بہار کا غازہ مسلا گیا۔ اس لیے تاریخ اسے شیراز ہند سے یاد کرتی ہے۔ بڑے بڑے بزرگوں کی یادگاریں آج بھی اس سر زمین پر ہیں جو داستانِ ماضی کی یاد دلاتی ہیں۔

ولادت و خاندان:
اس جونپر کے ماہرین میں ابجل المتکلمین حضرت مفتی شمس الدین احمد رضوی جعفری تھے۔ آپ ایک ایسے خاندان میں پیدا ہوئ ے جو علمی اعتبار سے ایک اعلیٰ اور معیاری خاندان تھا، نانا محترم اور جد امجد دونوں وقت کے جید صاحبِ لیاقت تھے، اور اس وقت جونپور میں علم وحکمت کے چشمے بہار ہے تھے اور ماحول بھی علمی اعتبار سے بہت زیادہ سندر تھا۔

ولادت:
حضرت مفتی قاضی شمس الدین احمد علیہ الرحمۃ کی ولادت جونپور کے ایک محلہ میر مسرت میں ہوئی، جعفری زینبی نسب آباء و اجداد شاہانِ مشرقی کے زمانے میں منصب قضاء پر فائز تھے۔ تاریخ ولادت ۲۸؍ذی الحجہ ۱۳۲۲ھ؍ ۵مارچ ۱۹۰۵ء ہے۔

تعلیم و تربیت:
حضرت مفتی قاضی شمس الدین احمد کو ان دونوں بزرگوں کی شفقتوں اور پدری محبتوں نے آپ کی بہترین نشو ونما کی اور اس علمی ماحول اور اعلیٰ سماج نے تو آپ کو کہاں سے کہا ں تک پہنچادیا۔ قاضی شمس الدین احمد کی ابتدائی تعلیم جون پور میں ہوئی۔ جامعہ نعیمیہ مراد آباد میں صدر الافاضل مولانا نعیم الدین رضوی مراد آبادی علیہ الرحمہ سے درس لیا۔

صدر الشریعہ مولانا امجد علی رضوی اعظمی علیہ الرحمہ کی شہرت سن کر اجمیر شریف دار العلوم معینیہ عثمانیہ پہنچے، کامل انہماک ویکسوئی سے اساتذۂِ دارالعلوم سے پڑھا، حدیث پاک اور امہات کتب کی حضرت صدر الشریعہ علیہ الرحمۃ سے تکمیل کی۔

۱۳۵۲ھ میں جب صدر الشریعہ نے اجمیر شریف چھوڑ کر بریلی شریف مراجعت فرمائی اور چالیس طلبہ کی جماعت (جو علوم و فنون کامل اور چنداں آفتاب وماہتاب تھے) جو حضرت صدر الشریعہ کے ساتھ بریلی پہنچے ان میں قاضی شمس الدین احمد بھی تھے، دار العلوم منظر اسلام بریلی شریف سے فراغت حاصل کی۔

آغازِ درس:
مفتی قاضی شمس الدین احمد نے فراغت کے بعد دارالعلوم منظر اسلام میں درس دینا شروع کیا۔ جامعہ نعیمیہ مراد آباد، مدرسہ منظر حق ٹانڈہ ضلع فیض آباد، مدرسہ حنفیہ جون پور میں درس دیا۔ آخر الذکر مدارس میں صدر المدرسین رہے، بعدہٗ جامعہ رضویہ حمیدیہ بنارس میں مسندِ صدارت پر فائز ہوئے اور علوم وحکمت، تفسیر وحدیث اور فقہ کا خصوصی درس دیا۔ اکابر علماء میں بہ اعتبار علم وفضل قاضی شمس الدین احمد کا بلند مقام ہے [1] ۔

بیعت و خلافت:
حضرت مفتی قاضی شمس الدین احمد دس برس کی عمر میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری فاضل بریلوی قدس سرہٗ سے مرید ہوے [2] ۔ شہزادۂ امام احمد رضا مفتی اعظم ہند علامہ الشاہ مصطفیٰ رضا نوری نے جمیع سلاسل کی خلافت واجازت عطا فرمائی [3] ۔ مزید برآں حجۃ الاسلام مولانا حامد رضا خاں بریلوی قدس سرہٗ نے اجازت سے نوازا۔

عالمِ نکتہ داں:
حضرت قاضی شمس الدین احمد کا بچپن دیگر بچوں سے الگ تھلگ تھا۔ شروع سے محنت وعرق ریزی کے عادی تھے۔ پڑھنے میں د ل چسپی لیتے تھے اور نہایت ہی ذوق وشوق سے حصولِ علم کیا کرتے۔ دل میں بلند حوصلہ، پختہ ارادہ اورعزم وہمت رکھتے تھے۔ کئی بار قاضی شمس الدین احمد نے بطور تحدیث نعمت فرمایا کہ عالمِ نکتہ داں ہونے کی خبر جد محترم نے دی تھی، اور وہ فرمایا کرتے کہ ‘‘کہیے مولانا عالمِ نکتہ داں’’۔

سادگی و مزاج:
آج کی دنیا، جس میں تصنع اور تکلف کی افراط وتفریط ہے، اوریہ زندگی کےہر شعبے میں ہے، کوئی ایک شعبہ بھی اس سے خالی نہیں ہے، مگر شمس العلماء قاضی شمس الدین احمد نے اس دنیا میں رہتے ہوئے بھی اپنے دامن کو تصنُّع اور تکلُّف کی آلودگیوں سے پاک رکھا۔ آپ سادگی پسند تھے، مزاج سادہ تھا تو لباس بھی سادہ زیب تن فرماتے۔ مگر قاضی شمس الدین احمد کی اس سادگی میں بھی ایک عجب طرح کی کشش اور جاذبیت ہوتی، کس کی؟ علم وفن، ادب وحکمت کی۔ پیشانی چوڑی جس پر معرفت وحکمت کی گہری چھاپ تھی۔ آنکھیں چھوٹی مگر تفکرات کی دنیا میں وسیع، جوفکر وتدبر کے آنچل کے سائے میں اٹھتیں اور نکات عجیبہ دقائق لطیفہ کے جہانِ تازہ تلاش کر لیتی تھیں۔ جسم نہایت ہی لاغر و دبلا تھا مگر علمی کشش اور فنی رعب ودبدبہ کا پیکر تھا۔
1
اندازِ مُطالعۂ کتب:
مفتی قاضی شمس الدین احمد کا مطالعۂ کتب بھی جدا گانہ ہے جب مطالعہ فرماتے تو پنسل یا قلم پاس ہوتا تھا۔ اخبارات ، جرائد ، درسی کتابوں یا اردو ڈائجسٹ کا مطالعہ کر رہے ہیں، کسی جگہ کوئی اہم عبارت مل جاتی تو آپ اسے اپنی بیاض میں نقل فرمالیتے۔ قاضی شمس الدین احمد کا یہ انداز تا عمر باقی رہا۔ قطرہ قطرہ دریامی شود کے مصداق وہ بیاض اچھی خاصی ضخیم ہوگئی، جو کشکول جعفری کے نام سے ان کے شاگردوں کےدرمیان مشہور ہے۔ یقیناً وہ کشکول حقیقت و معلومات اور حقائق ومعارف کا خزانہ ہے۔

علم و فضل:
حضرت مفتی قاضی شمس الدین احمد کو علم کے ہر میدان میں دسترس حاصل تھی۔ فقہ ہو یا حدیث، منطق ہو یا فلسفہ، علمِ کلام ہو یا اصولِ فقہ، تاریخ ہو یا تنقید، تفسیر ہو یا علمِ تکسیر، ہر فن میں آپ سیر حاصل گفتگو فرماتے، اور معلومات کا دریا بہاتے۔ جس طرف آپکی نگاہ اٹھتی، مضامین کا تانتا بندھ جاتا اوروہ الفاظ وعبارت کا رُوپ دھار لیتے۔ صرف اتنا ہی ہیں بلکہ فصاحت وبلاغت کے سانچے میں ڈھل جاتے۔ اور قاضی شمس الدین احمد کی زبان سے جو الفاظ نکلتے وہ الفاظ نہیں ہوتے بلکہ پھول ہوتے، اور اپنی بوئے عنبریں سے ہر طالب علم کی مشامِ جاں کو معطر کرتے۔

حدیث اس انداز سے پڑھاتے کہ "امام بخاری ومسلم" کی یاد تازہ ہوجاتی۔ اسماء الرجال پر گفتگو فرماتے تو راویوں کے حالات زندگی، ان کے علمی کمالات، طرزِ معاشرت اس طرح واضح فرماتے کہ" تہذیب التہذیب" کا جلوہ نگاہوں میں پھر جاتا۔ فقہ پر لب کشاہوتے تحقیقات وتدقیقات کا جلوۂ رنگیں بکھیرتے۔ ائمہ کے اختلافات پر ہر ایک کی سندیں اور مسائل کی ترجیحات بڑے ہی اچھوتے انداز میں بیان فرماتے فقہی حزئیات مفتی قاضی شمس الدین احمد کی نگاہوں میں روشن تھیں۔

تنقیدی نظریہ:
مفتی قاضی شمس الدین احمد کی کیسی ذہانت وفطانت تھی؟ اللہ اللہ۔ جرأت و بے باکی آپ کےمزاج میں کوٹ کوٹ کر بھردی گئی تھی، ہر کسی کے سامنے اس کی غلطیوں کی نشان دہی فرمادیا کرتےتھے۔ تنقید آپ کی اچھی تھی اور بر ملا تنقید کیا کرتے تھے۔ کلام کے تجزیہ پر آپ کو عبور حاصل تھا۔ ہرکسی کی اور ہر قسم کی بات تسلیم کرنےکے عادی نہ تھے جب تک کہ اس کی دلیل نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت علامہ سعدی شیرازی کا یہ قول "ہرچہ گفتنی دلیلش بیار"

بار بار دہرایا کرتے اور جب دلیل سامنے آتی تو اس کے مقدمات کو پرکھتے۔ اس کے بعد کسی کو تسلیم کرنے کی باری آتی۔ اس اعتبار سے قاضی شمس الدین احمد کا تنقیدی شعور بلند وبالامعیاری تھا۔ آپ کی تنقید میں تعمیر زیادہ ہوتی۔ اس میں کہیں کہیں ظفر و مزاح سے کام لیتے جس سے تنقید کا رنگ و روغن دوبالا ہوجاتا اور سامعین کےلیے لطف و مزہ۔

امام احمد رضا کے متعلق تنقید:
مفتی قاضی شمس الدین احمد علیہ الرحمۃ کی اس تنقیدی صلاحیت کے باوجود آپ کی نگاہ میں ایک ایسی شخصیت تھی جنہیں آپ تنقید سے الگ تھلگ تصور کرتے تھے، اور وہ ذات تھی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری فاضل بریلوی قدس سرہٗ کی ۔ آپ امام احمد رضا بریلوی کے متعلق بار بار فرمایا کرتے کہ:

میں اعلیٰ حضرت کو آنکھ بند کر کےجانتا ہوں اس لیے کہ انہوں نے جو مسائل کی تحقیق و تنفیح کی، بالکل صحیح  کی۔ اس میں چوں چرا کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔

آپ حضور مفتی اعظم ہند قدس سرہ کا بے حد احترام کرتے، اس مرکزِ علم وفن کی بارگاہ میں علمی گفتگو فرماتے، لب کشا ہوتے تو ادب واحترام کے دائرہ میں، اور ادب واحترام کا یہ عالم ہوتا کہ کہیں ادب سے بات کرنے میں جھجکتے اور کہیں رُکتے۔ یہ تھا کمالِ ادب مرشدِ اعظم شہزادۂ اعلیٰ حضرت کی باگاہ میں۔

تصانیف:
حضرت مفتی قاضی شمس الدین احمد تا حیات رشد وہدایت کا پیغام دیتے رہے، اور اپنی یادوں کےنقوش چھوڑے جن میں مندرجہ ذیل تصانیف یادگار کا درجہ رکھتی ہیں۔ ❶ قانونِ شریعت حصہ اول، دوم ❷ قواعد النظر ❸ قواعد الاعراب ❹ کشکولِ جعفری ـ

چند مشہور تلامذہ:
قاضی شمس الدین احمد کے شاگردوں میں کثیر تعداد، جو اب علمی درس گاہوں میں بیٹھ کر اُن سے حاصل کیے ہوئے جواہر ریزوں کو بکھیر رہے ہیں، اور صحیح علم وفن کو آباد کر رہے ہیں۔ چند تلامذہ کے اسماء گرامی درجِ ذیل ہیں:

❶ مولانا مفتی محمد اعظم رضوی ٹانڈوی شیخ الحدیث دارالعلوم مظہر اسلام بریلی شریف ❷ مولانا شمس الدین صدیقی رضوی صدر المدرسین مسعود العلوم چھوٹی تکیہ بہرائچ ❸ مولانا حسام الدین احمد ہشام صاحبزادہ وجانشین (جونپور) ❹ مولانا شمشاد حسین رضوی بھاگلپوری ـ
1
انتقال پُر ملال:
یکم محرم الحرام ۱۴۱۰ھ کی وہ صبح کس قدر دل خراش اور روح فرسا ہوگی جس میں قاضی شمس الدین احمد کی جان جاں آفریں کے جوارِ رحمت میں گہری اور ابدی نیند سوگئی، اور جامِ وصال محبوب حقیقی نوش فرمایا۔۔۔۔ وقت وصال سینۂ مبارک پر حضرت امام غزالی قدس سرہٗ کی معرکۃ الآراء تصنیف کیمیائے سعادت کھلی رکھی تھی اور وہ بھی موت کا باب تھا [4] ۔

▬▬▬▬ حاشیہ ▬▬▬▬

[1] ۔محمود احمد قادری، مولانا: تذکرۂ علماء اہلِ سنت ص ۱۰۴

[2] ۔محمود احمد قادری، مولانا: تذکرۂ علماء اہلِ سنت ص ۱۰۴

[3] ۔قلمی یاد داشت مولانا محمد انور علی رضوی بہرائچی استاذ دارالعلوم منظرِ اسلام بریلی شریف

[4] ۔(الف) سہ ماہی دامنِ مصطفیٰ بریلی (مضمون مولانا شمشاد حسین رضوی) ص ۳۸ تا ۴۲ بابت محرم، صفر، ربیع الاول ؍اگست، ستمبر ،اکتوبر ۱۹۸۸؁ء ۱۴۰۸؁ھ

(ب) شمس الدین احمد رضوی، قاضی مفتی: قانونِ شریعت۔

نوٹ: تفصیلی حالات کے لیے دیکھیے قانونِ شریعت جدید ایڈیشن۔ ۱۲رضوی غفرلہٗ

https://scholars.pk/ur/scholar/qazi-shamsuddin-ahmed-jaunpuri
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
شیخ الاسلام، سلطان الاولیاء، سیدنا شیخ ابو الحسن علی بن احمد بن یوسف قرشی ہکاری رحمۃ الله تعالی علیہ کی ولادت شوال 409ھ کو موصل عراق کی سرحد کے ساتھ ہکاری، جنوب مشرقی ترکی میں ہوئی۔ آپ مرید و خلیفہ سید ابو الفرح محمد طرطوسی، سلسلہ عالیہ قادریہ برکاتیہ رضویہ کے پندرہویں امام و شیخ طریقت، جلیل القدر عالم دین، محدث و فقیہ، صاحب وقار و ہیبت، اور زاہد و عابد تھے۔ عشاء کی نماز کے بعد قرآنِ پاک کی تلاوت شروع فرماتے اور نماز تہجد سے پہلے دو قرآنِ مجید ختم کر لیا کرتے تھے۔ رسالہ ”هدية الاحياء للاموات“ آپ کی یادگار تصنیف ہے۔ یکم محرم الحرام 486ھ بروز پیر شریف صبح صادق کے وقت وصال فرمایا، مزار مبارک بغداد عراق میں ہے۔ (تاریخ بغداد، طبقات الاولیاء، شذرات الذھب، وفیات الاعیان)

Shaykh al-Islam, Sultan al-Awliya, Sayyiduna Shaykh Abu al-Hasan Ali bin Ahmad bin Yusuf Qurashi Hakkari (Alayhir Rahmah) was born in Shawwal 409 AH in Hakkari, southeastern Turkey, near the Mosul, Iraq border. He was the disciple and caliph of Sayyid Abu al-Farah Muhammad Tartusi, the 15th Shaykh of Qadiriyah Barakatiyah Ridawiyah Sufi Order, pious practicing scholar, hadith master, jurist, awe-inspiring personality, pious ascetic, and devout worshiper. He would start reciting the Holy Quran after Isha prayers and complete it twice before Tahajjud prayers. The treatise ‘‘Hadiyat al-Ahya li al-Amwat’’ is his memorable work. He passed away on Monday, 1st Muharram 486 AH at dawn. His blessed resting place is in Baghdad, Iraq. [Tarikh Baghdad, Tabaqat al-Awliya, Shazrat al-Dhahab, Wafiyat al-A’yaan]

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid089fDsoyRKRk34S9duyLzdennz2C29QB2eZygvrhR3SFxCXr7iyU6kwKqf6sbiKffl&id=100050689590519
1