شیخ الاسلام ابو الحسن علی ہکاری
نام و نسب:
اسمِ گرامی: علی ۔ کنیت: ابو الحسن ۔ لقب: شیخ الاسلام ۔ علاقہ ہکارکی نسبت سے "ہکاری" کہلاتے ہیں ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
ابولحسن علی بن احمد بن یوسف بن جعفر بن شریف عمر بن عبد الوہاب بن ابو سفیان بن حارث بن عبد المطلب بن ہاشم ۔ (خزینۃ الاصفیاء) ۔ ماضی قریب کے ایک بزرگ عالمِ دین حضرت علامہ غلام دستگیر نامی آپ کی اولاد میں سے ہیں ۔ (تونسوی)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 409ھ، بمطابق 1018ء کو "ہکار" ( بغداد کا ایک قصبہ ہے) میں ہوئی ۔ بعض مؤلفین "ہنکاری" لکھتے ہیں، یہ غلط ہے ۔(شریف التواریخ)
تحصیلِ علم:
آپ نے تعلیم حاصل کرنے کے لیے کئی بلاد کا سفر کیا، اور کئی علماء و مشائخ سے ملے، اور اُن سے احادیث اخذ کیں، پھر اپنے وطن کو واپس آئے، لوگوں میں آپ کو بڑی قبولیت حاصل ہوئی، سب کو آپ کی نسبت بڑا اچھا اعتقاد تھا۔مکہ مکرمہ میں شیخ ابو الحسن محمد علی بن صخر الازدی سے، اور مصر میں شیخ ابا عبد اللہ محمد الفضل بن لطیف سے، اور بغداد میں ابی القاسم وغیرہ علما ءو فضلاء سے احادیث سنیں، اور آپ سے ابو زکریا یحییٰ بن عطاف الموصلی وغیرہ نے سماع کیا ۔ ( رحمۃ اللہ علیہم اجمعین)
بیعت و خلافت:
حضرت شیخ ابو الفرح علاؤ الدین محمد یوسف طرطوسی رحمۃ اللہ علیہ کے ہاتھ مبارک پربیعت کی۔ اور انہیں کی خدمت میں رہ کر خرقہ خلافت حاصل کیا ۔ روحانی بیعت حضرت رسول اکرم ﷺ ،اور حضرت امام حسن بصری، اور سلطان ابراہیم بن ادہم بلخی،اور خواجہ بایزید بسطامی سے تھی ۔ (رحمۃ اللہ علیہم اجمعین) (تحفۃ الابرار)
سیرت و خصائص:
قطب العالمین، بدر السالکین، سلطان الاولیاء والمتقین، شیخ الاسلام والمسلمین، امام الملۃ والھدیٰ، محی الشریعتہ الغرّا، مقتدائے اہلِ زمان، سرگروہ مشائخ دَوران، واقفِ رموزِ حقیقت کاشف غوامصِ معرفت، عارفِ ربانی حضرت شیخ ابوالحسن علی ہکاری رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ حضرت شیخ ابو الفرح طرطوسی رحمۃ اللہ علیہ کے اکابر خلفاء میں سے تھے ۔ آپ کثرت سے عبادت و ریاضت کرتے تھے۔ آپ بڑی خیر کے مالک، جامعِ عبادت و ریاضت ،صاحب ِ علم و حلم، صائم الدہر اور قائم الیل تھے۔
تین روز کے بعد ایک لقمہ طعام سے افطار فرماتے۔ نماز عشاء و تہجد کے درمیان دو ختم قرآن مجید کرتے۔ آپ نے "جبل ہکار" پر متواتر چالیس برس تک چلہ کیا، اس عرصہ میں آپ پر تجلی ذات کا ظہور ہوا اور عرش سے فرش تک سب کچھ منکشف ہو گیا اور بارگاہِ الٰہی سے آپ کو مقامِ محبوبیت عطا ہوا۔
آپ رحمۃ اللہ علیہ رسول اللہ ﷺ کے دینِ متین کی خدمت کیلئے ہروقت کوشاں رہتے۔لوگوں کو قرآن وسنت پر عمل کی تلقین کرتے، اور ہرقسم کی بری بدعات سے بچنے کی تلقین فرماتے، خلافِ اسلام، نظام کے خلاف مزاحمت کرتےتھے ۔ (تاریخ جلیلہ)
وصال:
آپ کا وصال یکم محرم الحرام 486ھ بمطابق 1093ء کو ہوا ۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ کا مزار پر انوار بغداد شریف میں ہے۔
ماخذ و مراجع:
شریف التواریخ ۔ خزینۃ الاصفیاء ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-abul-hasan-ali-hakkari
نام و نسب:
اسمِ گرامی: علی ۔ کنیت: ابو الحسن ۔ لقب: شیخ الاسلام ۔ علاقہ ہکارکی نسبت سے "ہکاری" کہلاتے ہیں ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
ابولحسن علی بن احمد بن یوسف بن جعفر بن شریف عمر بن عبد الوہاب بن ابو سفیان بن حارث بن عبد المطلب بن ہاشم ۔ (خزینۃ الاصفیاء) ۔ ماضی قریب کے ایک بزرگ عالمِ دین حضرت علامہ غلام دستگیر نامی آپ کی اولاد میں سے ہیں ۔ (تونسوی)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 409ھ، بمطابق 1018ء کو "ہکار" ( بغداد کا ایک قصبہ ہے) میں ہوئی ۔ بعض مؤلفین "ہنکاری" لکھتے ہیں، یہ غلط ہے ۔(شریف التواریخ)
تحصیلِ علم:
آپ نے تعلیم حاصل کرنے کے لیے کئی بلاد کا سفر کیا، اور کئی علماء و مشائخ سے ملے، اور اُن سے احادیث اخذ کیں، پھر اپنے وطن کو واپس آئے، لوگوں میں آپ کو بڑی قبولیت حاصل ہوئی، سب کو آپ کی نسبت بڑا اچھا اعتقاد تھا۔مکہ مکرمہ میں شیخ ابو الحسن محمد علی بن صخر الازدی سے، اور مصر میں شیخ ابا عبد اللہ محمد الفضل بن لطیف سے، اور بغداد میں ابی القاسم وغیرہ علما ءو فضلاء سے احادیث سنیں، اور آپ سے ابو زکریا یحییٰ بن عطاف الموصلی وغیرہ نے سماع کیا ۔ ( رحمۃ اللہ علیہم اجمعین)
بیعت و خلافت:
حضرت شیخ ابو الفرح علاؤ الدین محمد یوسف طرطوسی رحمۃ اللہ علیہ کے ہاتھ مبارک پربیعت کی۔ اور انہیں کی خدمت میں رہ کر خرقہ خلافت حاصل کیا ۔ روحانی بیعت حضرت رسول اکرم ﷺ ،اور حضرت امام حسن بصری، اور سلطان ابراہیم بن ادہم بلخی،اور خواجہ بایزید بسطامی سے تھی ۔ (رحمۃ اللہ علیہم اجمعین) (تحفۃ الابرار)
سیرت و خصائص:
قطب العالمین، بدر السالکین، سلطان الاولیاء والمتقین، شیخ الاسلام والمسلمین، امام الملۃ والھدیٰ، محی الشریعتہ الغرّا، مقتدائے اہلِ زمان، سرگروہ مشائخ دَوران، واقفِ رموزِ حقیقت کاشف غوامصِ معرفت، عارفِ ربانی حضرت شیخ ابوالحسن علی ہکاری رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ حضرت شیخ ابو الفرح طرطوسی رحمۃ اللہ علیہ کے اکابر خلفاء میں سے تھے ۔ آپ کثرت سے عبادت و ریاضت کرتے تھے۔ آپ بڑی خیر کے مالک، جامعِ عبادت و ریاضت ،صاحب ِ علم و حلم، صائم الدہر اور قائم الیل تھے۔
تین روز کے بعد ایک لقمہ طعام سے افطار فرماتے۔ نماز عشاء و تہجد کے درمیان دو ختم قرآن مجید کرتے۔ آپ نے "جبل ہکار" پر متواتر چالیس برس تک چلہ کیا، اس عرصہ میں آپ پر تجلی ذات کا ظہور ہوا اور عرش سے فرش تک سب کچھ منکشف ہو گیا اور بارگاہِ الٰہی سے آپ کو مقامِ محبوبیت عطا ہوا۔
آپ رحمۃ اللہ علیہ رسول اللہ ﷺ کے دینِ متین کی خدمت کیلئے ہروقت کوشاں رہتے۔لوگوں کو قرآن وسنت پر عمل کی تلقین کرتے، اور ہرقسم کی بری بدعات سے بچنے کی تلقین فرماتے، خلافِ اسلام، نظام کے خلاف مزاحمت کرتےتھے ۔ (تاریخ جلیلہ)
وصال:
آپ کا وصال یکم محرم الحرام 486ھ بمطابق 1093ء کو ہوا ۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ کا مزار پر انوار بغداد شریف میں ہے۔
ماخذ و مراجع:
شریف التواریخ ۔ خزینۃ الاصفیاء ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-abul-hasan-ali-hakkari
scholars.pk
Hazrat Sheikh Abul Hasan Ali Hakkari
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
مخدوم بلال باغبانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
علامہ شیخ کبیر عارف باللہ مخدوم محمد بلال بن مخدوم محمد حسن بن مخدوم محمد ادریس سموں ۴ ربیع الاول ۱۸۵۶ھ/۱۶ جون۱۴۵۱ء کو لسبیلہ میں تولد ہوئے۔
مخدوم ادریس، سندھ کے مشہور و مقبول حاکم جام نظام الدین ثانی کے بھائی تھے، جس نے سندھ پر تقریباً پچاس سال حکومت کی۔ اسی دور میں مخدوم ادریس لسبیلہ (موجودہ بلوچستان) کے حاکم تھے۔ مخدوم حسن بن مخدوم ادریس اپنے والد کے بعد لسبیلہ کے حاکم ہوئے۔ اس سے معلوم ہوا کہ مخدوم بلال کانسبی تعلق سندھ کے جام سمہ حکمران گھرانے سے تھا۔ مخدوم صاحب کی تاریخ ماہ سال ولادت تاریخی کب میں محفوظ نہیں۔ ڈاکٹر میمن عبدالمجید سندھی کے تحقیقی مضمون مطبوعہ مہران سالگرہ نمبر ۱۹۶۲ء میں بھی درج نہیں، نہ معلوم یہ تاریخیں میمن عبدالغفور سندھی مرحوم کو کہاں سے دستیاب ہوئیں۔ خدا بھلا کرے مولانا قاضی ہدایت اللہ مشتاق مٹیاروی کا کہ انہوں نے کسی قلمی کتاب سے مخدوم صاحب کے حالات اپنے بیاض میں نقل کئے ورنہ تاریخی کتب میں تفصیلات ندارد فقط دو تین سطروں پر اکتفا کیا گیا ہے۔ (راشدی)
تعلیم و تربیت:
ایام طِفلی سے آپ کو تعلیم حاصل کرنے کا شوق تھا۔ اسلئے حصول علم کے سلسلے میں اپنا شہر چھوڑ کر گوٹھ ٹلتی(تحصیل سیوہن شریف) پہنچے۔ جہاں اس دور میں حضرت مولانا سید نور حسین شاہ بخاری ٹھٹھوی کی دینی درسگاہ کا شُہرہ تھا اس میں داخلہ لے کر تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا اور غالباً وہیں سے فارغ التحصیل ہوئے۔(مخدوم بلال باغبانی (سندھی)میمن عبدالغفور سندھی مطبوعہ لاڑکانہ ۱۹۸۲ء)
پروفیسر ڈاکٹر میمن عبدالمجید سندھی لکھتے ہیں:
آپ نے ابتدائی تعلیم ٹھٹھہ میں حاصل کی اور اعلیٰ تعلیم گوٹھ ٹلٹی (تحصیل سیوہن) میں مخدوم عمر سے حاصل کی۔ اور شادی بھی ٹلٹی میں کی۔
(مخدوم بلال مضمون نویس : ڈاکٹر عبدالمجید سندھی، مہران جنوری ۱۹۶۲ء سالگرہ نمبر)
مخدوم بلال علوم ظاہری میں بھی بڑا مرتبہ رکھتے تھے اور لوگ ان کے تبحُّرِ علمی سے استفادہ کرتے تھے، میر علی شاہ قانع ٹھٹھوی نے لکھا ہے:
’’ازالہ عارفان، واصل بحق در علم ظاہر سانے عظیم داشتہ (تحفہ الکرام)
میر معصوم بکھری (سکھر والے ) نے لکھا ہے:
’’دروازی تقوی وزھد شبیہ و نظیر نداشتہ در علم حدیث و تفسیر مھارت تامہ داشتہ و صاحب مقامات ارجمند بود‘‘
(تاریخ معصومی بحوالہ تذ کرہ صوفیائے سندھ)
بیعت و خلافت:
آپ سلسلہ عالیہ سہروردیہ کبرویہ میں دستِ بیعت ہوئے لیکن یہ معلوم نہ ہوسکا کہ آپ کن بزرگ سے بیعت تھے۔ اور کبرویہ سلسلہ سندھ میں کس بزرگ کے ذریعے پہنچا۔ پیغام لطیف (کتاب ) میں ہے کہ کبریہ سلسلہ میں مخدوم صاحب کے علاوہ لواری شریف کے بزرگوں کے بڑے بھی منسلک تھے۔‘‘
(مخدوم بلال، میمن عبدالمجید سندھی، اخبار مہران سالگرہ نمبر ۱۹۶۲ئ)
اس کی وضاحت ڈاکٹر گربخشانی کے بیان سے ہوتی ہے کہ وہ لکھتے ہیں:
’’شیخ حاجی عبداللطیف متوفی ۱۱۴۹ھ (درگاہ لواری شریف کے بانی سلطان الاولیاء خواجہ محمد زمان صدیقی کے والد نے آباء و اجداد کا سلسلہ طریقت سہروردیہ کو چھوڑ کر) نقشبندی طریقہ اپنایا۔‘‘ (لواری جا لال ص۳۹)
وحدت الوجود کے مبلغ ، صوفی بزرگ شاعر ہفت زبان حافظ عبدالوہاب قادری المعروف سچل سرمست علیہ الرحمہ کے بھی بڑے بزرگ سہروردی طریقت رکھتے تھے (مقالات قاسمی ص۱۳۷)
مولانا قاضی ہدایت اللہ مشتاق مٹیاروی کے ’’بیاض‘‘ (قلمی) سے صاحب ’’تذکرہ مشاہیر سندھ‘‘ نے آپ کا سلسلہ طریقت سہروردیہ کبرویہ کو نقل کیا ، وہ درج ذیل ہے:
٭ حضرت مخدوم بلال
٭ حضرت شیخ دوست علی سیوہانی
٭ حضرت شیخ سید شمس الدین علی ہمدانی متوفی ۷۸۶
٭ حضرت شیخ شمس الدین مزوقانی ۶۷۷ھ
٭ حضرت شیخ ابوالمکارم علاؤالدین سمنانی ۲۲،رجب ۷۳۶ھ
٭ حضرت شیخ نور الدین عبدالرحمن اسفرائنی ۱۴ جمادی الاول ۶۹۵ھ
٭ حضرت شیخ جمال الدین احمد جوزقانی ۶۶۹ھ
٭ حضرت شیخ رضی الدین علی الغزنوی ۳ ربیع الاول ۶۴۲ھ
٭ حضرت شیخ مجدد الدین بغدادی ۶۱۷ھ
٭ حضرت شیخ نجم الدین احمد بن عمر کبریٰ خوارزمی (جو کہ تاتاریوں کی جنگ میں ۱۰، جمادی الاول ۶۱۶ھ کو شہید ہوئے۔)
یہ سلسلہ آگے جاکر امام الاولیاء حضرت شیخ جنید بغدادی علیہ الرحمۃ سے جا ملتا ہے۔ (تذکرہ مشاہیر سندھ ص ۶۵)
شیخ نجم الدین کبریٰ، سہروردیہ سلسلہ کے بانی حضرت شیخ ابو نجیب عبدالقاہر سہروردی قدس سرہٗ کے بڑے خلیفہ حضر ت شیخ عمار یاسر علیہ الرحمۃ سے مستفیض ہوئے۔ ان کے وصال کے بعد حضرت ابو نجیب کے دوسرے خلیفہ حضرت شیخ روز بہاں کبیر مصری علیہ الرحمۃ سے بھی فیض پایا، وہ اصل میں گاذرون کے تھے لیکن قیام مصر میں تھا ۔ حضرت شیخ کبیر نے شیخ نجم الدین کو اپنا داماد بنا کر بیٹا بنایا۔ (سیرت بہاؤالدین زکریا۔ مہران سالگرہ نمبر)
شیخ نجم الدین کبری قدس سرہٗ سے ایک جہاں مستفیض ہوا، کثیر تعداد میں مخلوق خدا نے ان سے ہدایت پائی۔ مفسر قرآن امام فخر الدین رازی صاحب ’’تفسیر کبیر‘‘ آپ کے مرید تھے اور انہوں نے بھی آپ س
علامہ شیخ کبیر عارف باللہ مخدوم محمد بلال بن مخدوم محمد حسن بن مخدوم محمد ادریس سموں ۴ ربیع الاول ۱۸۵۶ھ/۱۶ جون۱۴۵۱ء کو لسبیلہ میں تولد ہوئے۔
مخدوم ادریس، سندھ کے مشہور و مقبول حاکم جام نظام الدین ثانی کے بھائی تھے، جس نے سندھ پر تقریباً پچاس سال حکومت کی۔ اسی دور میں مخدوم ادریس لسبیلہ (موجودہ بلوچستان) کے حاکم تھے۔ مخدوم حسن بن مخدوم ادریس اپنے والد کے بعد لسبیلہ کے حاکم ہوئے۔ اس سے معلوم ہوا کہ مخدوم بلال کانسبی تعلق سندھ کے جام سمہ حکمران گھرانے سے تھا۔ مخدوم صاحب کی تاریخ ماہ سال ولادت تاریخی کب میں محفوظ نہیں۔ ڈاکٹر میمن عبدالمجید سندھی کے تحقیقی مضمون مطبوعہ مہران سالگرہ نمبر ۱۹۶۲ء میں بھی درج نہیں، نہ معلوم یہ تاریخیں میمن عبدالغفور سندھی مرحوم کو کہاں سے دستیاب ہوئیں۔ خدا بھلا کرے مولانا قاضی ہدایت اللہ مشتاق مٹیاروی کا کہ انہوں نے کسی قلمی کتاب سے مخدوم صاحب کے حالات اپنے بیاض میں نقل کئے ورنہ تاریخی کتب میں تفصیلات ندارد فقط دو تین سطروں پر اکتفا کیا گیا ہے۔ (راشدی)
تعلیم و تربیت:
ایام طِفلی سے آپ کو تعلیم حاصل کرنے کا شوق تھا۔ اسلئے حصول علم کے سلسلے میں اپنا شہر چھوڑ کر گوٹھ ٹلتی(تحصیل سیوہن شریف) پہنچے۔ جہاں اس دور میں حضرت مولانا سید نور حسین شاہ بخاری ٹھٹھوی کی دینی درسگاہ کا شُہرہ تھا اس میں داخلہ لے کر تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا اور غالباً وہیں سے فارغ التحصیل ہوئے۔(مخدوم بلال باغبانی (سندھی)میمن عبدالغفور سندھی مطبوعہ لاڑکانہ ۱۹۸۲ء)
پروفیسر ڈاکٹر میمن عبدالمجید سندھی لکھتے ہیں:
آپ نے ابتدائی تعلیم ٹھٹھہ میں حاصل کی اور اعلیٰ تعلیم گوٹھ ٹلٹی (تحصیل سیوہن) میں مخدوم عمر سے حاصل کی۔ اور شادی بھی ٹلٹی میں کی۔
(مخدوم بلال مضمون نویس : ڈاکٹر عبدالمجید سندھی، مہران جنوری ۱۹۶۲ء سالگرہ نمبر)
مخدوم بلال علوم ظاہری میں بھی بڑا مرتبہ رکھتے تھے اور لوگ ان کے تبحُّرِ علمی سے استفادہ کرتے تھے، میر علی شاہ قانع ٹھٹھوی نے لکھا ہے:
’’ازالہ عارفان، واصل بحق در علم ظاہر سانے عظیم داشتہ (تحفہ الکرام)
میر معصوم بکھری (سکھر والے ) نے لکھا ہے:
’’دروازی تقوی وزھد شبیہ و نظیر نداشتہ در علم حدیث و تفسیر مھارت تامہ داشتہ و صاحب مقامات ارجمند بود‘‘
(تاریخ معصومی بحوالہ تذ کرہ صوفیائے سندھ)
بیعت و خلافت:
آپ سلسلہ عالیہ سہروردیہ کبرویہ میں دستِ بیعت ہوئے لیکن یہ معلوم نہ ہوسکا کہ آپ کن بزرگ سے بیعت تھے۔ اور کبرویہ سلسلہ سندھ میں کس بزرگ کے ذریعے پہنچا۔ پیغام لطیف (کتاب ) میں ہے کہ کبریہ سلسلہ میں مخدوم صاحب کے علاوہ لواری شریف کے بزرگوں کے بڑے بھی منسلک تھے۔‘‘
(مخدوم بلال، میمن عبدالمجید سندھی، اخبار مہران سالگرہ نمبر ۱۹۶۲ئ)
اس کی وضاحت ڈاکٹر گربخشانی کے بیان سے ہوتی ہے کہ وہ لکھتے ہیں:
’’شیخ حاجی عبداللطیف متوفی ۱۱۴۹ھ (درگاہ لواری شریف کے بانی سلطان الاولیاء خواجہ محمد زمان صدیقی کے والد نے آباء و اجداد کا سلسلہ طریقت سہروردیہ کو چھوڑ کر) نقشبندی طریقہ اپنایا۔‘‘ (لواری جا لال ص۳۹)
وحدت الوجود کے مبلغ ، صوفی بزرگ شاعر ہفت زبان حافظ عبدالوہاب قادری المعروف سچل سرمست علیہ الرحمہ کے بھی بڑے بزرگ سہروردی طریقت رکھتے تھے (مقالات قاسمی ص۱۳۷)
مولانا قاضی ہدایت اللہ مشتاق مٹیاروی کے ’’بیاض‘‘ (قلمی) سے صاحب ’’تذکرہ مشاہیر سندھ‘‘ نے آپ کا سلسلہ طریقت سہروردیہ کبرویہ کو نقل کیا ، وہ درج ذیل ہے:
٭ حضرت مخدوم بلال
٭ حضرت شیخ دوست علی سیوہانی
٭ حضرت شیخ سید شمس الدین علی ہمدانی متوفی ۷۸۶
٭ حضرت شیخ شمس الدین مزوقانی ۶۷۷ھ
٭ حضرت شیخ ابوالمکارم علاؤالدین سمنانی ۲۲،رجب ۷۳۶ھ
٭ حضرت شیخ نور الدین عبدالرحمن اسفرائنی ۱۴ جمادی الاول ۶۹۵ھ
٭ حضرت شیخ جمال الدین احمد جوزقانی ۶۶۹ھ
٭ حضرت شیخ رضی الدین علی الغزنوی ۳ ربیع الاول ۶۴۲ھ
٭ حضرت شیخ مجدد الدین بغدادی ۶۱۷ھ
٭ حضرت شیخ نجم الدین احمد بن عمر کبریٰ خوارزمی (جو کہ تاتاریوں کی جنگ میں ۱۰، جمادی الاول ۶۱۶ھ کو شہید ہوئے۔)
یہ سلسلہ آگے جاکر امام الاولیاء حضرت شیخ جنید بغدادی علیہ الرحمۃ سے جا ملتا ہے۔ (تذکرہ مشاہیر سندھ ص ۶۵)
شیخ نجم الدین کبریٰ، سہروردیہ سلسلہ کے بانی حضرت شیخ ابو نجیب عبدالقاہر سہروردی قدس سرہٗ کے بڑے خلیفہ حضر ت شیخ عمار یاسر علیہ الرحمۃ سے مستفیض ہوئے۔ ان کے وصال کے بعد حضرت ابو نجیب کے دوسرے خلیفہ حضرت شیخ روز بہاں کبیر مصری علیہ الرحمۃ سے بھی فیض پایا، وہ اصل میں گاذرون کے تھے لیکن قیام مصر میں تھا ۔ حضرت شیخ کبیر نے شیخ نجم الدین کو اپنا داماد بنا کر بیٹا بنایا۔ (سیرت بہاؤالدین زکریا۔ مہران سالگرہ نمبر)
شیخ نجم الدین کبری قدس سرہٗ سے ایک جہاں مستفیض ہوا، کثیر تعداد میں مخلوق خدا نے ان سے ہدایت پائی۔ مفسر قرآن امام فخر الدین رازی صاحب ’’تفسیر کبیر‘‘ آپ کے مرید تھے اور انہوں نے بھی آپ س
❤1
ے فیض پایا۔
کرامت:
ایام طِفلی ہی سے آپ کو عبادت کا ذوق و شوق تھا، ہمیشہ تسبیح و تہلیل میں مشغول رہتے ، تذکرہ نگاروں کا بیان ہے کہ ساری عمر آپ نماز روزے میں مصروف رہے۔ ریاضتوں اور مجاہدوں کی یہ کیفیت تھی کہ رات کو آپ پانی سے بھرے ہوئے ایک بڑے طشت میں بیٹھ کر ذکر و شغل کرتے ، ذکر و شغل کی وجہ سے پانی میں ایک جو ش پیدا ہوتا اور پانی چکی کی طرح گھومنے لگتا اور پانی میں یہ جوش اس وقت تک باقی رہتا تھا تاوقتیکہ صبح کو پانی دریا میں نہ ڈال دیا جاتا۔
شہباز قلندر سے عقیدت:
حضرت مخدوم بلال گذشتہ بزرگوں سے غیر معمولی عقیدت رکھتے اور ان کے مزار پر حاضری و زیارت کو اپنے لئے باعث سعادت سمجھتے تھے۔ ایک بار آپ ، سلطان العارفین، شہباز ولایت، حضرت مخدوم لعل شہباز قلندر کی زیار ت کیلئے کشتی میں بیٹھ کر سیوہن تشریف لے جارہے تھے، کشتی کا ملاح جیسا کہ ان لوگوں کی عادت ہوتی ہے گالم گلوچ و خرافات بکنے میں مصروف تھا۔ لوگ اس کی یاوہ گوئی اور ہر زہ سرائی سے تنگ آکر بار بار اس کو روکتے تھے مگر وہ کسی کی نہ سنتا تھا اور برابر اپنی بکواس میں لگا ہوا تھا ،جب معاملہ حد سے بڑھا اوروہ کسی طرح خاموش نہ ہوا تو مخدوم بلال اپنی جگہ سے اٹھے اور اپنی ٹوپی مبارکہ ملاح کے سر پر رکھ دی ٹوپی مبارک کا سر پر رکھنا ہی تھا کہ ایک عجیب و غریب تبدیلی ملاح میں پیدا ہوئی ۔ لوگوں نے دیکھا کہ وہی ملاح جو طرح طرح کی بکواس کر رہا تھا ٹوپی کے سر پر رکھتے ہی یکا یک قرآنی آیات کے معارف اور احادیث نبوی کی توضیحات کر نے لگا ، کشتی میں بیٹھنے والا ہر فرداس تبدیلی پر حیران تھا۔ یہاں تک کہ سفر پورا ہو گیا، کشتی سے اترتے وقت مخدوم صاحب نے اپنی ٹوپی اس کے سر پر سے اتار لی، ملاح کی پھر وہی حالت عود کر آئی، حسب عادت پھر وہ اپنی بک بک میں مصروف ہوگیا۔
(تحفۃ الکرام جلد۲، ص:۱۴۱، تاریخ معصومی(سندھی) ص۲۳۶ سندھی ادبی بورڈ ۱۹۵۳ء ، تذکرہ صوفیائے سندھ مؤلف اعجا زالحق قدسی)
شاعری:
تاریخی شواہد سے معلوم ہو تا ہے کہ مخدوم صاحب شاعری میں بھی ملکہ رکھتے ھتے لیلکن افسوس کہ تفصیلی حالات و شاعری محفوظ نہیں لیکن ان کی ایک رباعی صاحب مقالات الشعراء نے نقل کی ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دقیق نکات کو انہائی دل آویزی و دلکشی کے ساتھ پیش کرتے تھے۔ فرماتے ہیں:
در راہ خدا از سر قدم باید ساخت
سرمایہ اختیار کود می باید باخت
کفر ست بخودی نمائی برون بجھاں
از خویش بروں شدہ سویس می باید تاخت
(مقالات الشعراء (فارسی)
ترجمہ: راہ خدا میں عاجزی و خاکساری اختیار کرنا چاہئے۔ اپنی مرضی اور اختیار کو ترجیح نہیں دینا چاہئے۔ خود نمائی دکھاوا کرنا اس جہاں میں (اللہ والوں کیلئے) کفر(حرام) ہے۔
اپنے نفس کی شرارت کو ختم کرکے (اصلاح نفس کے بعد) اللہ تعالیٰ کے پاس جانا چاہئیے یعنی انا کا خاتمہ، نفس کی اصلاح، نیت صاف اور عاجزی لِلّٰھیت سے جو نیک کام کئے جائیں تو اس کا اجر بھی ملے گا۔
خلفاء:
اپنے دور میں حضرت مخدوم بلال کا سندھ میں علمی و روحانی اثر تھا۔ مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ حاکم سے لے کر عام رعایا اور تمام علماء و مشائخ آپ کی تعظیم تو توقیر کرتے تھے۔ ہزاروں لوگ آپ سے دست بیعت ہونے کا شرف رکھتے تھے۔ بے شمار انسانوں نے فیض پایا۔ آپ کو اپنے دو رمیں اس قدر شہرت تھی کہ دہلی کے مورخ مولانا حامد بن فضل اللہ جمالی دہلوی مصنف ’’سیر العارفین‘‘ آپ کی زیارت کیلئے آپ کی خدمت میں پہنچے تھے اور انہوں نے اس ملاقات کا تذکرہ خود سیر العارفین میں کیا ہے۔
(سیر العارفین مترجم، پروفیسر محمد ایوب قادری مرحوم ص۱۷۴)
جس قدر فیض عام ہوا خلفاء بھی اس قدر زیادہ ہوں گے۔ آپ کے بعض خلفاء کے اسماء گرامی معلوم ہوسکے ہیں وہ درج ذیل ہیں:
۱۔ حضرت مولانا سید حیدر شاہ سنائی متوفی ۹۳۷ھ درگاہ شریف حیدریہ سن اسٹیشن تحصیل سیوہن۔
۲۔ حضرت مخدوم ساہڑ لنجار: درگاہ شریف انٹر پور اسٹیشن تحصیل سیوہن شریف
مخدوم ساہڑ بہت بڑے کامل اکمل بزرگ ہوئے ہیں وہ کامل مرشد کی شناخت کے سلسلے میں فرماتے ہیں:
’’میں نے سنا ہے کہ جس شخص میں تین نشانیاں ہوں ا س کے مرید ہو کر ضرور فائدہ حاصل کریں
٭ اس کو دیکھنے سے اللہ تعالیٰ یاد آئے
٭ اس کی گفتگو آپ کے دل پر اثر کرے
٭ ان کی محفل سے اٹھنے کو دل نہ چاہے۔
(تحفۃ الکرام ص۵۴، مہران سالگرہ نمبر)
۳۔ عالم ربانی مخدوم رکن الدین ٹھٹھوی ۹۴۹ھ مکلی شریف ٹھٹھہ میں مزار شریف واقع ہے۔
۴۔ عارف باللہ حضرت مخدوم حسن بلالی
۵۔ حضرت مخدوم سعد عرف ساند، سکرنڈ ضلع نواب شاہ
۶۔ حضرت مخدوم ہنگورو، نزد مورو ضلع نو شہرو فیروز
تلامذہ:
آپ کے تلامذہ کی جماعت میں سے ایک نام دستیاب ہوا ہے:
٭ مولانا قاضی الہ دتہ سیوہانی
جو کہ شہ حسن ارغون بن شہ بیگ ارغون حاکم سندھ اور ’’تاریخ معصومی‘‘ کے مصنف میر محمد معصوم شاہ بکھری بن سید صفائی کے استاد تھے ۔ (مخدوم بلال باغبانی ص۲۳، عبدالغفور سندھی)
وصال
کرامت:
ایام طِفلی ہی سے آپ کو عبادت کا ذوق و شوق تھا، ہمیشہ تسبیح و تہلیل میں مشغول رہتے ، تذکرہ نگاروں کا بیان ہے کہ ساری عمر آپ نماز روزے میں مصروف رہے۔ ریاضتوں اور مجاہدوں کی یہ کیفیت تھی کہ رات کو آپ پانی سے بھرے ہوئے ایک بڑے طشت میں بیٹھ کر ذکر و شغل کرتے ، ذکر و شغل کی وجہ سے پانی میں ایک جو ش پیدا ہوتا اور پانی چکی کی طرح گھومنے لگتا اور پانی میں یہ جوش اس وقت تک باقی رہتا تھا تاوقتیکہ صبح کو پانی دریا میں نہ ڈال دیا جاتا۔
شہباز قلندر سے عقیدت:
حضرت مخدوم بلال گذشتہ بزرگوں سے غیر معمولی عقیدت رکھتے اور ان کے مزار پر حاضری و زیارت کو اپنے لئے باعث سعادت سمجھتے تھے۔ ایک بار آپ ، سلطان العارفین، شہباز ولایت، حضرت مخدوم لعل شہباز قلندر کی زیار ت کیلئے کشتی میں بیٹھ کر سیوہن تشریف لے جارہے تھے، کشتی کا ملاح جیسا کہ ان لوگوں کی عادت ہوتی ہے گالم گلوچ و خرافات بکنے میں مصروف تھا۔ لوگ اس کی یاوہ گوئی اور ہر زہ سرائی سے تنگ آکر بار بار اس کو روکتے تھے مگر وہ کسی کی نہ سنتا تھا اور برابر اپنی بکواس میں لگا ہوا تھا ،جب معاملہ حد سے بڑھا اوروہ کسی طرح خاموش نہ ہوا تو مخدوم بلال اپنی جگہ سے اٹھے اور اپنی ٹوپی مبارکہ ملاح کے سر پر رکھ دی ٹوپی مبارک کا سر پر رکھنا ہی تھا کہ ایک عجیب و غریب تبدیلی ملاح میں پیدا ہوئی ۔ لوگوں نے دیکھا کہ وہی ملاح جو طرح طرح کی بکواس کر رہا تھا ٹوپی کے سر پر رکھتے ہی یکا یک قرآنی آیات کے معارف اور احادیث نبوی کی توضیحات کر نے لگا ، کشتی میں بیٹھنے والا ہر فرداس تبدیلی پر حیران تھا۔ یہاں تک کہ سفر پورا ہو گیا، کشتی سے اترتے وقت مخدوم صاحب نے اپنی ٹوپی اس کے سر پر سے اتار لی، ملاح کی پھر وہی حالت عود کر آئی، حسب عادت پھر وہ اپنی بک بک میں مصروف ہوگیا۔
(تحفۃ الکرام جلد۲، ص:۱۴۱، تاریخ معصومی(سندھی) ص۲۳۶ سندھی ادبی بورڈ ۱۹۵۳ء ، تذکرہ صوفیائے سندھ مؤلف اعجا زالحق قدسی)
شاعری:
تاریخی شواہد سے معلوم ہو تا ہے کہ مخدوم صاحب شاعری میں بھی ملکہ رکھتے ھتے لیلکن افسوس کہ تفصیلی حالات و شاعری محفوظ نہیں لیکن ان کی ایک رباعی صاحب مقالات الشعراء نے نقل کی ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دقیق نکات کو انہائی دل آویزی و دلکشی کے ساتھ پیش کرتے تھے۔ فرماتے ہیں:
در راہ خدا از سر قدم باید ساخت
سرمایہ اختیار کود می باید باخت
کفر ست بخودی نمائی برون بجھاں
از خویش بروں شدہ سویس می باید تاخت
(مقالات الشعراء (فارسی)
ترجمہ: راہ خدا میں عاجزی و خاکساری اختیار کرنا چاہئے۔ اپنی مرضی اور اختیار کو ترجیح نہیں دینا چاہئے۔ خود نمائی دکھاوا کرنا اس جہاں میں (اللہ والوں کیلئے) کفر(حرام) ہے۔
اپنے نفس کی شرارت کو ختم کرکے (اصلاح نفس کے بعد) اللہ تعالیٰ کے پاس جانا چاہئیے یعنی انا کا خاتمہ، نفس کی اصلاح، نیت صاف اور عاجزی لِلّٰھیت سے جو نیک کام کئے جائیں تو اس کا اجر بھی ملے گا۔
خلفاء:
اپنے دور میں حضرت مخدوم بلال کا سندھ میں علمی و روحانی اثر تھا۔ مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ حاکم سے لے کر عام رعایا اور تمام علماء و مشائخ آپ کی تعظیم تو توقیر کرتے تھے۔ ہزاروں لوگ آپ سے دست بیعت ہونے کا شرف رکھتے تھے۔ بے شمار انسانوں نے فیض پایا۔ آپ کو اپنے دو رمیں اس قدر شہرت تھی کہ دہلی کے مورخ مولانا حامد بن فضل اللہ جمالی دہلوی مصنف ’’سیر العارفین‘‘ آپ کی زیارت کیلئے آپ کی خدمت میں پہنچے تھے اور انہوں نے اس ملاقات کا تذکرہ خود سیر العارفین میں کیا ہے۔
(سیر العارفین مترجم، پروفیسر محمد ایوب قادری مرحوم ص۱۷۴)
جس قدر فیض عام ہوا خلفاء بھی اس قدر زیادہ ہوں گے۔ آپ کے بعض خلفاء کے اسماء گرامی معلوم ہوسکے ہیں وہ درج ذیل ہیں:
۱۔ حضرت مولانا سید حیدر شاہ سنائی متوفی ۹۳۷ھ درگاہ شریف حیدریہ سن اسٹیشن تحصیل سیوہن۔
۲۔ حضرت مخدوم ساہڑ لنجار: درگاہ شریف انٹر پور اسٹیشن تحصیل سیوہن شریف
مخدوم ساہڑ بہت بڑے کامل اکمل بزرگ ہوئے ہیں وہ کامل مرشد کی شناخت کے سلسلے میں فرماتے ہیں:
’’میں نے سنا ہے کہ جس شخص میں تین نشانیاں ہوں ا س کے مرید ہو کر ضرور فائدہ حاصل کریں
٭ اس کو دیکھنے سے اللہ تعالیٰ یاد آئے
٭ اس کی گفتگو آپ کے دل پر اثر کرے
٭ ان کی محفل سے اٹھنے کو دل نہ چاہے۔
(تحفۃ الکرام ص۵۴، مہران سالگرہ نمبر)
۳۔ عالم ربانی مخدوم رکن الدین ٹھٹھوی ۹۴۹ھ مکلی شریف ٹھٹھہ میں مزار شریف واقع ہے۔
۴۔ عارف باللہ حضرت مخدوم حسن بلالی
۵۔ حضرت مخدوم سعد عرف ساند، سکرنڈ ضلع نواب شاہ
۶۔ حضرت مخدوم ہنگورو، نزد مورو ضلع نو شہرو فیروز
تلامذہ:
آپ کے تلامذہ کی جماعت میں سے ایک نام دستیاب ہوا ہے:
٭ مولانا قاضی الہ دتہ سیوہانی
جو کہ شہ حسن ارغون بن شہ بیگ ارغون حاکم سندھ اور ’’تاریخ معصومی‘‘ کے مصنف میر محمد معصوم شاہ بکھری بن سید صفائی کے استاد تھے ۔ (مخدوم بلال باغبانی ص۲۳، عبدالغفور سندھی)
وصال
❤1
:
حضرت مخدوم بلال کی شہادت سیاسی انتقام تھا۔ مخدوم کے ابتدائی دور میں نظام الدین ثانی عرف نندو کی حکومت تھی۔ سندھ کیلئے جام ثانی کا دور امن و شانتی ، عدل و انصاف اور اشاعت علم کے حوالے سے بہترین ادوار میں شمار ہوتا ہے۔ ان دنوں سندھ کی اراضی بھی وسیع تھی، بلوچستان کا کچھ حصہ، ملتان اور بہاولپور کا کچھ حصہ ، لسبیلہ اور کَچھ کا کُچھ حصہ سندھ حکومت میں شامل تھا۔ اس سے سندھ کی وسعت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ اس سنہری دو رمیں ٹھٹہ کی نئے سرے سے دوبارہ تعمیر ہوئی، علم و فضل کا دور دورہ تھا، مدارس دینیہ ترقی پذیر تھے۔ صنعت کاری کو سرکاری سرپرستی حاصل تھی۔
ٹھٹھہ کے علاوہ بکھر، روہڑی، نصر پور، مٹیاری، دربیلو، پاٹ، باغبان، سیوہن اور سن اسلامی تہذیب اور علم و ادب کے اہم مراکز تھے۔ جام ثانی کے دور میں قندھار (افغانستان) سے شہ بیگ ارغون نے سندھ میں داخل ہو کر ڈاکوؤں کی طرح لوٹ مار کی۔ جام صاحب نے بہادر سپاہ پر مشتمل ایک بڑالشکر بھیج دیا۔ سیوی(ضلع سکھر) کے قلعہ کے پاس فیصلہ کن لڑائی ہوئی جس سے شہ بیگ کا بھائی قتل ہوا اور دیگر سپاہی ڈر کر بھاگ گئے۔ جام ثانی کے انتقال کے بعد ان کے بیٹے جام فیروز صغیر سنی میں سندھ کے حاکم ہوئے۔ صغیر سنی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے قریبی رشتہ دار جام صلاح الدین اقتدار حاصل کرنے کی غرض سے مختلف سازشیں بُن رہا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ حکومت کمزور ہوگئی۔ جام ثانی کے وزیر ’’دریا خان‘‘ اپنی حکمت و دانش سے حکومت چلا رہے تھے لیکن جیسے ہی فیروز بڑے ہوئے سازشی ٹولہ نے اس کے اور دریا خان کے درمیان ناراضگی پیدا کردی جس کی وجہ سے دریا خان استعفٰی دے کر اپنی گوٹھ چلے گئے سازشی ٹولہ شہ بیگ سے ملے ہوئے تھے شاید اُنہیں کی غلط صحبت کی وجہ سے شاہ فیروز شراب و کباب کا متوالہ ہوگیا۔ موقعہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ۹۲۶ھ کوٹھٹہ پر حملہ کیا یہ سن کر جام فیروز ، دریا خان آپکے پاس خود جا کر منوا کر لائے۔ دریا خان لشکر کے ساتھ میدان میں آئے لیکن کمزور حکومت کے سپاہی بھی کمزور ہو جاتے ہیں لہٰذا جام فیروز کو اپنی عیاشیوں خوش گپیوں کے سبب شکست ملی۔ (تاریخ سندھ قدوسی)
دریاں خان قتل ہوئے جام فیروز ٹھٹہ چھوڑ کر بھاگ گئے بہر حال فیروز نے سندھ کا ایک حصہ شہ بیگ کو دے کر اپنی جان بچالی۔ شہ بیگ نے قبضہ جمانے کے بعد ۱۱ محرم الحرام تا ۲۰ محرم تک ٹھٹہ میں رہ کر ٹھٹہ کو تہس نہس کیا۔ اسلامی مرکز ٹھٹہ میں قتل عام کیا اور شہریوں کو خوب لوٹا۔
(تاریخ معصومی بحوالہ مخدوم بلال سالگرہ نمبر ۱۹۶۲ئ)
افسوسناک المیہ یہ ہے کہ موجودہ پاکستان کی تاریخ کو اٹھا کر دیکھ لیں انگریز سے برسوں پہلے ہماری دھرتی پر ظالمانہ قبضہ جمانے اور ڈاکوئوں کی طرح لوٹنے والے اسلامی مراکز کو تباہ کرنے والے، اسلامی تاریخی ورثہ کو جلانے والے فقط اپنے دبدبہ اور اپنی سلطنت کو وسیع دکھانے اور اپنی نفسانی غرضوں کو پورا کرنے کیخاطر مسلمان ریاستوں پرخونی حملہ کرنے والے شہروں کو تاراج کرنے والے غیر نہیں تھے بلکہ اپنے نام نہاد سرکش مسلمان حکمران ہی ہیں ان میں ایک شہ بیگ بھی تھا (راشدی)
شہ بیگ ٹھٹہ پر قبضہ کرنے کے بعد ٹلٹی پہنچا ٹلٹی میں کوئی مقابلہ کرنے کیلئے تیار نہیں تھا لیکن حضرت مخدوم بلال کی مساعی جمیلہ کی وجہ سے بعض لوگ لڑنے کیلئے تیار ہوگئے اور یہ رپورٹ شہ بیگ کو پہنچائی گئی ۔ (تاریخ معصومی)
اور یقینا ان باتوں نے شہ بیگ کے وجود میں آگ لگائی ہوگی۔
بہر حال بعض سامنے آنے والوں کو لشکرشہ بیگ نے بے دردی سے شہید کر دیا اور ٹلٹی قلعہ پر قبضہ جما لیا طویل اقتباس دینے کی وجہ یہ ہے کہ مخدوم بلال کی شہادت کے دوسبب سامنے آتے ہیں:
۱۔ شاہی خاندان جام صاحب سے مخدوم صاحب کی قریبی رشتہ داری
۲۔ ٹلٹی پر قبضہ کے دوران وہاں کے لڑنے والوں میں سپہ سالار حقیقت میں حضرت مخدوم تھے۔
لہٰذا شہ بیگ نے اپنے دشمن کو پہلے سخت ذہنی تکلیف دینا چاہی، اس کے بعد قتل کا منصوبہ بنایا۔ بھاری جرمانے بھی حضرت مخدوم اور ان کے خلفاء نے ادا کئے جنہیں غنڈہ ٹیکس کہا جاسکتا ہے اس کے باوجود بیگ کا غصہ ٹھنڈا نہ ہوا بالآخر ایک روز بیگ نے درباری مولویوں سے حضرت مخدوم کے خلاف قتل کا فتویٰ جاری کراکے ۹۲۹ھ کو حضرت مخدوم بلال کو تیل کی چکی میں ڈال کر سخت تکلیف دے کر شہید کر وادیا۔
(تاریخ معصومی ، مخدوم بلال مہران سالگرہ نمبر ۱۹۶۲ئ)
مولانامشتاق مٹیاروی کے نوٹ بُک مطابق آپ نے یکم محرم الحرام ۹۲۹ھ/۱۵۲۲ء کو شہادت کا جام نوش کیا اور آپ کا سالانہ عرس بھی یکم محرم کو ہوتا ہے جس سے مذکورہ تاریخ کو تقویت ملتی ہے۔
آپ نے جان تو دے دی لیکن ظالم حاکم کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا، اس کا درباری بننا منظور نہیں کیا، حقیقت میں ظالم کا ساتھ دینے والا بھی ظالم ہے۔ یہی سبق تاریخ کربلا سے ملتا ہے ، جس پر ہر دور میں علمائے حق اہل سنت، مشائخ طریقت اور صوفیائے کرام نے اپنے اپنے دور میں عمل کرکے دکھایا ہے۔ اس طرح تاریخ اپنے آپ کو دُہراتی ہے۔
باغبان میں
حضرت مخدوم بلال کی شہادت سیاسی انتقام تھا۔ مخدوم کے ابتدائی دور میں نظام الدین ثانی عرف نندو کی حکومت تھی۔ سندھ کیلئے جام ثانی کا دور امن و شانتی ، عدل و انصاف اور اشاعت علم کے حوالے سے بہترین ادوار میں شمار ہوتا ہے۔ ان دنوں سندھ کی اراضی بھی وسیع تھی، بلوچستان کا کچھ حصہ، ملتان اور بہاولپور کا کچھ حصہ ، لسبیلہ اور کَچھ کا کُچھ حصہ سندھ حکومت میں شامل تھا۔ اس سے سندھ کی وسعت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ اس سنہری دو رمیں ٹھٹہ کی نئے سرے سے دوبارہ تعمیر ہوئی، علم و فضل کا دور دورہ تھا، مدارس دینیہ ترقی پذیر تھے۔ صنعت کاری کو سرکاری سرپرستی حاصل تھی۔
ٹھٹھہ کے علاوہ بکھر، روہڑی، نصر پور، مٹیاری، دربیلو، پاٹ، باغبان، سیوہن اور سن اسلامی تہذیب اور علم و ادب کے اہم مراکز تھے۔ جام ثانی کے دور میں قندھار (افغانستان) سے شہ بیگ ارغون نے سندھ میں داخل ہو کر ڈاکوؤں کی طرح لوٹ مار کی۔ جام صاحب نے بہادر سپاہ پر مشتمل ایک بڑالشکر بھیج دیا۔ سیوی(ضلع سکھر) کے قلعہ کے پاس فیصلہ کن لڑائی ہوئی جس سے شہ بیگ کا بھائی قتل ہوا اور دیگر سپاہی ڈر کر بھاگ گئے۔ جام ثانی کے انتقال کے بعد ان کے بیٹے جام فیروز صغیر سنی میں سندھ کے حاکم ہوئے۔ صغیر سنی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے قریبی رشتہ دار جام صلاح الدین اقتدار حاصل کرنے کی غرض سے مختلف سازشیں بُن رہا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ حکومت کمزور ہوگئی۔ جام ثانی کے وزیر ’’دریا خان‘‘ اپنی حکمت و دانش سے حکومت چلا رہے تھے لیکن جیسے ہی فیروز بڑے ہوئے سازشی ٹولہ نے اس کے اور دریا خان کے درمیان ناراضگی پیدا کردی جس کی وجہ سے دریا خان استعفٰی دے کر اپنی گوٹھ چلے گئے سازشی ٹولہ شہ بیگ سے ملے ہوئے تھے شاید اُنہیں کی غلط صحبت کی وجہ سے شاہ فیروز شراب و کباب کا متوالہ ہوگیا۔ موقعہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ۹۲۶ھ کوٹھٹہ پر حملہ کیا یہ سن کر جام فیروز ، دریا خان آپکے پاس خود جا کر منوا کر لائے۔ دریا خان لشکر کے ساتھ میدان میں آئے لیکن کمزور حکومت کے سپاہی بھی کمزور ہو جاتے ہیں لہٰذا جام فیروز کو اپنی عیاشیوں خوش گپیوں کے سبب شکست ملی۔ (تاریخ سندھ قدوسی)
دریاں خان قتل ہوئے جام فیروز ٹھٹہ چھوڑ کر بھاگ گئے بہر حال فیروز نے سندھ کا ایک حصہ شہ بیگ کو دے کر اپنی جان بچالی۔ شہ بیگ نے قبضہ جمانے کے بعد ۱۱ محرم الحرام تا ۲۰ محرم تک ٹھٹہ میں رہ کر ٹھٹہ کو تہس نہس کیا۔ اسلامی مرکز ٹھٹہ میں قتل عام کیا اور شہریوں کو خوب لوٹا۔
(تاریخ معصومی بحوالہ مخدوم بلال سالگرہ نمبر ۱۹۶۲ئ)
افسوسناک المیہ یہ ہے کہ موجودہ پاکستان کی تاریخ کو اٹھا کر دیکھ لیں انگریز سے برسوں پہلے ہماری دھرتی پر ظالمانہ قبضہ جمانے اور ڈاکوئوں کی طرح لوٹنے والے اسلامی مراکز کو تباہ کرنے والے، اسلامی تاریخی ورثہ کو جلانے والے فقط اپنے دبدبہ اور اپنی سلطنت کو وسیع دکھانے اور اپنی نفسانی غرضوں کو پورا کرنے کیخاطر مسلمان ریاستوں پرخونی حملہ کرنے والے شہروں کو تاراج کرنے والے غیر نہیں تھے بلکہ اپنے نام نہاد سرکش مسلمان حکمران ہی ہیں ان میں ایک شہ بیگ بھی تھا (راشدی)
شہ بیگ ٹھٹہ پر قبضہ کرنے کے بعد ٹلٹی پہنچا ٹلٹی میں کوئی مقابلہ کرنے کیلئے تیار نہیں تھا لیکن حضرت مخدوم بلال کی مساعی جمیلہ کی وجہ سے بعض لوگ لڑنے کیلئے تیار ہوگئے اور یہ رپورٹ شہ بیگ کو پہنچائی گئی ۔ (تاریخ معصومی)
اور یقینا ان باتوں نے شہ بیگ کے وجود میں آگ لگائی ہوگی۔
بہر حال بعض سامنے آنے والوں کو لشکرشہ بیگ نے بے دردی سے شہید کر دیا اور ٹلٹی قلعہ پر قبضہ جما لیا طویل اقتباس دینے کی وجہ یہ ہے کہ مخدوم بلال کی شہادت کے دوسبب سامنے آتے ہیں:
۱۔ شاہی خاندان جام صاحب سے مخدوم صاحب کی قریبی رشتہ داری
۲۔ ٹلٹی پر قبضہ کے دوران وہاں کے لڑنے والوں میں سپہ سالار حقیقت میں حضرت مخدوم تھے۔
لہٰذا شہ بیگ نے اپنے دشمن کو پہلے سخت ذہنی تکلیف دینا چاہی، اس کے بعد قتل کا منصوبہ بنایا۔ بھاری جرمانے بھی حضرت مخدوم اور ان کے خلفاء نے ادا کئے جنہیں غنڈہ ٹیکس کہا جاسکتا ہے اس کے باوجود بیگ کا غصہ ٹھنڈا نہ ہوا بالآخر ایک روز بیگ نے درباری مولویوں سے حضرت مخدوم کے خلاف قتل کا فتویٰ جاری کراکے ۹۲۹ھ کو حضرت مخدوم بلال کو تیل کی چکی میں ڈال کر سخت تکلیف دے کر شہید کر وادیا۔
(تاریخ معصومی ، مخدوم بلال مہران سالگرہ نمبر ۱۹۶۲ئ)
مولانامشتاق مٹیاروی کے نوٹ بُک مطابق آپ نے یکم محرم الحرام ۹۲۹ھ/۱۵۲۲ء کو شہادت کا جام نوش کیا اور آپ کا سالانہ عرس بھی یکم محرم کو ہوتا ہے جس سے مذکورہ تاریخ کو تقویت ملتی ہے۔
آپ نے جان تو دے دی لیکن ظالم حاکم کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا، اس کا درباری بننا منظور نہیں کیا، حقیقت میں ظالم کا ساتھ دینے والا بھی ظالم ہے۔ یہی سبق تاریخ کربلا سے ملتا ہے ، جس پر ہر دور میں علمائے حق اہل سنت، مشائخ طریقت اور صوفیائے کرام نے اپنے اپنے دور میں عمل کرکے دکھایا ہے۔ اس طرح تاریخ اپنے آپ کو دُہراتی ہے۔
باغبان میں
❤1
شہید ہوئے اور وہیں مدفون ہوئے لیکن اب یہ علاقہ آپ کے نام سے موسوم ہے۔ ضلع دادو کے قریب آپ کی عظیم الشان خانقاہ ہے۔ چند سال پہلے درگاہ شریف ازسر نو تعمیر کیا گیا ہے اور جامع مسجد بلال وہی ہے جو کہ ۱۳۵۶ھ/۱۹۳۸ء کو رئیس محبوب خان وگن نے اس دور میں ایک لاکھ روپے میں بنوائی تھی۔ (مخدوم بلال باغبانی) آج بھی درگاہ شریف مرجع خلائق ہے ہر وقت لوگوں کا مجمع نظر آتا ہے۔ زائرین تلاوت قرآن حکیم ذکر شریف اور درود شریف کے ورد میں مصروف ہوتے ہیں۔ کئی عرصہ تک سالانہ عرس میں فقیر راقم الحروف راشدی نے شرکت کی سعادت حاصل کی ، سالانہ عرس مبارک مسجد شریف کے وسیع و عریض صحن میں منعقد ہوتا ہے اور تمام بدعات و خرافات سے پاک ہوتا ہے۔ ساری رات مدح خوانی نعت خوانی اور علماء اہل سنت کے خطابات ہوتے ہیں۔ مثلاً مناظر اسلام مفتی عبدالرحیم سکندری، مفسر قرآن مولانا محمد ادریس ڈاہری، خطیب اہل سنت مولانا نالے مٹھو بگھیو مرحوم وغیرہ۔
مولانا مشتاق مٹیاروی (متوفی ۱۹۳۵ئ) تقریباً ستر اسی سال قبل آپ کی شان میں برزبان فارسی منقبت کہی ہے وہ درج ذیل ہے
شہنشاہ باغبان مخدوم مشفق
غریق بحر عرفان پائے تافرق
بلال ابن الحسن سلطان سمہ
بتائیدات سبحانی موفق
چوبہرہ اشنر، ما اوذیت، موھوب
نمودہ اش قتل قوم چغدہ ناحق
شدہ چغدہ، چو چغدان چغدو یران
دھو جی مع الشھداء یرزق
بعزہ ماہ عاشورا مکرم
شہادت شد نصیبش قدرت حق
چو پر سیدم زھا تف وصف سالش
بجو از لفط خوش آں خاسہ حق
اگر جوئی تو تاریخ وصالش
بجو از لفظ خوش آں خاصہ حق
ازاں منظوم شد تاریخ مذکور
کہ ارد صالح رحمت حق
توجہ فرمائیں:
آخر میں تاریخ کو درست رکھنے کی غرض سے گذارش ہے کہ درگاہ شیخ جمالی واقع مکلی ٹھٹہ کے صحن میں مدفون مخدوم بلال اور ہمارے ممدوح بزرگ مخدوم بلال باغبانی دو الگ الگ بزرگ ہیں ایک نہیں ہیں۔ مؤلف تذکرۂ صوفیائے سندھ مولانا اعجاز الحق قدوسی کو سخت مغالطہ ہوا ہے، انہوں نے دونوں کو ایک ہی شمار کیا ہے۔
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/makhdoom-bilal-baghbani
مولانا مشتاق مٹیاروی (متوفی ۱۹۳۵ئ) تقریباً ستر اسی سال قبل آپ کی شان میں برزبان فارسی منقبت کہی ہے وہ درج ذیل ہے
شہنشاہ باغبان مخدوم مشفق
غریق بحر عرفان پائے تافرق
بلال ابن الحسن سلطان سمہ
بتائیدات سبحانی موفق
چوبہرہ اشنر، ما اوذیت، موھوب
نمودہ اش قتل قوم چغدہ ناحق
شدہ چغدہ، چو چغدان چغدو یران
دھو جی مع الشھداء یرزق
بعزہ ماہ عاشورا مکرم
شہادت شد نصیبش قدرت حق
چو پر سیدم زھا تف وصف سالش
بجو از لفط خوش آں خاسہ حق
اگر جوئی تو تاریخ وصالش
بجو از لفظ خوش آں خاصہ حق
ازاں منظوم شد تاریخ مذکور
کہ ارد صالح رحمت حق
توجہ فرمائیں:
آخر میں تاریخ کو درست رکھنے کی غرض سے گذارش ہے کہ درگاہ شیخ جمالی واقع مکلی ٹھٹہ کے صحن میں مدفون مخدوم بلال اور ہمارے ممدوح بزرگ مخدوم بلال باغبانی دو الگ الگ بزرگ ہیں ایک نہیں ہیں۔ مؤلف تذکرۂ صوفیائے سندھ مولانا اعجاز الحق قدوسی کو سخت مغالطہ ہوا ہے، انہوں نے دونوں کو ایک ہی شمار کیا ہے۔
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/makhdoom-bilal-baghbani
scholars.pk
Makhdoom Bilal Baghbani
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
صدرُ العلماء مفتی وجیہ الدین کاکوروی
محترم ،فاضل ، مفتی وجیہُ الدین بن علیم الدین بن نجم الدین کا کوروی ، نیک علماء میں سے ہیں ـ
ولادت:
۱۲۳۲ھ میں پیدا ہوئے ـ
تعلیم:
اپنے والد اور شیخ فضل اللہ، عثمانی نیوتینی سے تمام علوم حاصل کیے شیخ حسین احمد ملیح آبادی اور شیخ آل احمد بن محمد امام پھلواروی سے حدیث کی سند حاصل کی ۔
اور افتاء کے عہدہ پر منتخب کر لے گئے پھر آہستہ آہستہ دوسرے عہدے کی طرف بھی منتقل کر دئے گئے، بالآخر صدر العلماء منتخب ہو گئے ـ
آپ بہت ہی نیک، دین دار، پرہیز گار تھے لوگوں کو آپ سے ہیبت آتی تھی، مرتبہ کے بہت اونچے تھے ۔ آپ کا فارسی زبان میں شرح وقایہ میں عبادات کے مسائل کا ترجمہ تھا ۔
وصال:
یکم محرم ۱۳۰۵ھ میں آپ کی وفات ہوئی جیسا کہ شیخ منظور الدین کاکوروی کی کتاب مجمع العلماء میں ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/mufti-wajihuddin-kakorvi
محترم ،فاضل ، مفتی وجیہُ الدین بن علیم الدین بن نجم الدین کا کوروی ، نیک علماء میں سے ہیں ـ
ولادت:
۱۲۳۲ھ میں پیدا ہوئے ـ
تعلیم:
اپنے والد اور شیخ فضل اللہ، عثمانی نیوتینی سے تمام علوم حاصل کیے شیخ حسین احمد ملیح آبادی اور شیخ آل احمد بن محمد امام پھلواروی سے حدیث کی سند حاصل کی ۔
اور افتاء کے عہدہ پر منتخب کر لے گئے پھر آہستہ آہستہ دوسرے عہدے کی طرف بھی منتقل کر دئے گئے، بالآخر صدر العلماء منتخب ہو گئے ـ
آپ بہت ہی نیک، دین دار، پرہیز گار تھے لوگوں کو آپ سے ہیبت آتی تھی، مرتبہ کے بہت اونچے تھے ۔ آپ کا فارسی زبان میں شرح وقایہ میں عبادات کے مسائل کا ترجمہ تھا ۔
وصال:
یکم محرم ۱۳۰۵ھ میں آپ کی وفات ہوئی جیسا کہ شیخ منظور الدین کاکوروی کی کتاب مجمع العلماء میں ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/mufti-wajihuddin-kakorvi
scholars.pk
Mufti Wajihuddin Kakorvi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
Mufti Wajihuddin Kakorvi is one of very famous Islamic Scholar.
❤1
حضرت مخدوم امیر احمد عباسی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
مخدوم امیر احمد کا تعلق ضلع خیر پور میرس کے گوٹھ کھہڑا کے مشہور ’’مخدوم خاندان سے تھا‘‘ جس نے وادیِ مہران میں اسلامی احکام کے نفاذ میں مثالی خدمات انجام دی تھیں۔ اس خاندان کا سلسلہ نسب نبی اکرم نور مجسم ﷺ کے چچا حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ سے جا ملتا ہے۔ اس خاندان کے مورث اعلیٰ، حضرت محمد ابراہیم تیسری صدی ہجری کی ابتداء میں بغداد شریف کے بادشاہ معتصم باللہ عباسی کے عہد میں انہی کے حکم سے اسلام و سنیت کی تبلیغ کیلئے سندھ میں تشریف فرما ہوئے ، ان دنوں سندھ، عباسیہ حکومت سے وابستہ تھی۔ حضرت محدم ابراہیم نے حیدرآباد کے شمال میں ایک ٹیلہ پر قیام کیا اور تبلیغ دین کے اہم فریضہ میں مشغول رہے اور ۳۴۸ھ کو انتقال کیا۔ ابراہیم کی اولاد میں سے ایک بزرگ اسد اللہ جس کو ’’مخدوم الملک‘‘ کہا جاتا تھا۔ اکبر بادشاہ کے عہد میں سھد کے قاضی القضا ۃ (چیف جسٹس) مقرر ہوئے اور سندھ کا دورہ کرتے ہوئے خیر پور میرس کے قریب ایک گوٹھ ’’پپری‘‘ میں پہنچے اور وہیں قیام کیا۔ مخدوم قاضیاسد اللہ نے پپری میں مسجد شریف تعمیر کروائی اور وہیں ۹۶۶ھ کو انتقال کیا۔
مخدوم اسد اللہ کے پڑ پوتے مخدوم عبدالخالق نے پپری سے منتقل ہو کر ’’کھہڑا]‘ میں قیام کیا۔ اس کے بعد خاندان نے وہیں کھہڑا میں مستقل قیام کیا اور آج تک ’’درگاہ مخادیم‘‘ مشہورو معروف ہے۔ (مضمون نگار مخدوم امیر احمد، سہ ماہی مہران ۱۹۵۷ئ)
مخدوم امیر احمد کا سلسلہ نسب یوں ہے: امیر بن مخدوم احمدی بن مخدوم عصمت اللہ بن مخدوم احمدی بن مخدوم محمد عاقل بن مخدوم احمد بن مخدوم عبدالرحمن شہید۔ مخدوم امیر احمد ۱۹۰۱ء گوٹھ کھہڑا (تحصیل گمبٹ ضلع خیر پور میرس) میں مخادیم کی حویلی میں تولد ہوئے ۔ بچپن میں والد انتقال کرگئے اس لئے یتیم تھے والدہ ماجدہ کی تربیت اور ماموں جان علامہ مفتی مخدوم اللہ بخش ’’عاصی‘‘ کے سایہ عاطفت میں تعلیم حاصل کی۔ مخدوم امیر احمد بارہ برس کے تھے کہ ان کے ماموں جان بھی انتقال کر گئے۔ بچپن میں فاقہ کشی اور خاندانی اذیت کا شکار رہے۔
تعلیم و تربیت:
۱۹۱۲ء کو سندھی اسکول میں داخل ہوئے، ۱۹۱۶ء کو چوتھی جماعت پوزیشن سے پاس کی جس کے سبب ریاست خیر پور کے حکم تحت سرکاری خرچ پر ناز ہائی اسکول خیر پور میرس میں بڑے اعزاز کے ساتھ داخل ہوئے۔ ہائی اسکول میں فقط ایک ہفتہ گزرا تھا کہ والدہ ماجدہ نے وہاں سے اپنے پاس بلوالیا اور اپنی نگرانی میں دینی تعلیم دلوانے کیلئے حافظ محمد سلیمان کے پاس قرآن مجید حفظ کیلئے بٹھایا۔ دو پارے یاد نہ ہونے پر وہاں سے بھی اٹھوا کر مولانا بخش علی (ساکن ٹنڈو شہباز ضلع دادو) کے پاس بٹھا دیا جو کہ مخادیم کے مدرسہ میں مدرس تھے تین ماہ تک مولانا کے پاس فارسی پڑھتے رہے لیکن اچانک استاد صاحب انتقال کرگئے۔ اس کے بعد اس کی جگہ پر علامہ مولانا محمد ہاشم انصاری نوابشاہی مدرس مقرر ہوئے آپ نے مولانا محمد ہاشم کے پاس تعلیم جاری رکھی فارسی نصاب آٹھ ماہ میں مکمل کیا اور عر بی نصاب فقط چار سال میں پورا کیا اور فارغ التحصیل ہوئے۔
درس و تدریس:
بعدِ فراغت مخدوم امیر احمد نے اپنے آبائی ’’مدرسہ مخدومیہ‘‘ میں تقریباً دو سال درس دیا۔ خاندانی رقابت کے سبب درگاہ مخادیم کو خدا حافظ کہہ کر منتقل ہوگئے۔ ۱۹۲۶ء میں نوشہرو فیروز میں مشہور حکیم قاضی میاں احمدی کے تعاون و امداد سے قاضی مسجد میں مدرسہ قائم کیا جہاں چھ برس تک درس دیا۔ انہی دنوں قرآن پاک حفظ کرنے کا ارادہ ہوا اور بفضلہٖ تعالیٰ آٹھ ماہ میں حفظ کی دولت سے مالا مال ہوئے۔ اس سے آپ کی ذہانت و ذکاوت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
مسٹر انصاری کی کوشش سے ۱۲ مئی ۱۹۲۳ء کو نو شہرو فیروز کے گورنمنٹ ہائی اسکول میں پہلے عربی کے اُستاد مقرر ہوئے۔(ان دنوں اسی اسکول
میں ملک کے نامور اسکالر ڈاکٹر نبی بخش بلوچ زیر تعلیم تھے)۔
۱۹۳۸ء کو نوابشاہ کے لوکل بورڈ ہائی اسکول کے ہیڈ ماسٹر حاجی مہر علی خواجہ کی کوشش و توجہ کے سبب مخدوم امیر احمد نے نو شہرو فیروز کو الوداع کہہ کر نوابشاہ لوکل بورڈ ای ۔ وی اسکول میں عربی استاد مقرر ہوئے۔ یہاں آپ نے اسکول کی تعمیر و ترقی میں بھی بھر پور حصہ لیا
۱۹۴۴ء کو حیدرآباد سندھ میں سندھ کے مشہور ماہرِ تعلیم اور عربی استاد ممتاز اسکالر ڈاکٹر عمر بن محمد دائود پوتہ (جو اس وقت ڈائریکٹر تعلیمات سندھ تھے) اور خطیب اسلام علامہ سید علی اکبر شاہ (میہڑ والے) کی کوششوں سے ’’جامعہ عربیہ سندھ‘‘ (سندھ عربک یونیورسٹی) کی داغ بیل ڈالی گئی تو ۱۹۴۵ء میں مولانا مخدوم امیر احمد کو جوہرِ قابل سمجھ کر شعبہ عربی کا سربراہ مقرر کیا گیا۔ ۱۹۴۶ میں جامعہ عربیہ کے پہلے پرنسپل بنائے گئے اور ۱۹۵۳ء تک اس عہدہ پر فائز رہے۔ نا مساعد حالات کے باعث جامعہ عربیہ کا منصوبہ پایہ تکمیل کو نہ پہنچ سکا۔ ڈاکٹر دائود پوتہ کے انتقال کے بعد جامعہ عربیہ کا تعلیمی معیار جو کالج کے معیار تک پہنچا تھا گھٹ کر ہائی اسکول تک رہ گیا۔
مخدوم امیر احمد کا تعلق ضلع خیر پور میرس کے گوٹھ کھہڑا کے مشہور ’’مخدوم خاندان سے تھا‘‘ جس نے وادیِ مہران میں اسلامی احکام کے نفاذ میں مثالی خدمات انجام دی تھیں۔ اس خاندان کا سلسلہ نسب نبی اکرم نور مجسم ﷺ کے چچا حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ سے جا ملتا ہے۔ اس خاندان کے مورث اعلیٰ، حضرت محمد ابراہیم تیسری صدی ہجری کی ابتداء میں بغداد شریف کے بادشاہ معتصم باللہ عباسی کے عہد میں انہی کے حکم سے اسلام و سنیت کی تبلیغ کیلئے سندھ میں تشریف فرما ہوئے ، ان دنوں سندھ، عباسیہ حکومت سے وابستہ تھی۔ حضرت محدم ابراہیم نے حیدرآباد کے شمال میں ایک ٹیلہ پر قیام کیا اور تبلیغ دین کے اہم فریضہ میں مشغول رہے اور ۳۴۸ھ کو انتقال کیا۔ ابراہیم کی اولاد میں سے ایک بزرگ اسد اللہ جس کو ’’مخدوم الملک‘‘ کہا جاتا تھا۔ اکبر بادشاہ کے عہد میں سھد کے قاضی القضا ۃ (چیف جسٹس) مقرر ہوئے اور سندھ کا دورہ کرتے ہوئے خیر پور میرس کے قریب ایک گوٹھ ’’پپری‘‘ میں پہنچے اور وہیں قیام کیا۔ مخدوم قاضیاسد اللہ نے پپری میں مسجد شریف تعمیر کروائی اور وہیں ۹۶۶ھ کو انتقال کیا۔
مخدوم اسد اللہ کے پڑ پوتے مخدوم عبدالخالق نے پپری سے منتقل ہو کر ’’کھہڑا]‘ میں قیام کیا۔ اس کے بعد خاندان نے وہیں کھہڑا میں مستقل قیام کیا اور آج تک ’’درگاہ مخادیم‘‘ مشہورو معروف ہے۔ (مضمون نگار مخدوم امیر احمد، سہ ماہی مہران ۱۹۵۷ئ)
مخدوم امیر احمد کا سلسلہ نسب یوں ہے: امیر بن مخدوم احمدی بن مخدوم عصمت اللہ بن مخدوم احمدی بن مخدوم محمد عاقل بن مخدوم احمد بن مخدوم عبدالرحمن شہید۔ مخدوم امیر احمد ۱۹۰۱ء گوٹھ کھہڑا (تحصیل گمبٹ ضلع خیر پور میرس) میں مخادیم کی حویلی میں تولد ہوئے ۔ بچپن میں والد انتقال کرگئے اس لئے یتیم تھے والدہ ماجدہ کی تربیت اور ماموں جان علامہ مفتی مخدوم اللہ بخش ’’عاصی‘‘ کے سایہ عاطفت میں تعلیم حاصل کی۔ مخدوم امیر احمد بارہ برس کے تھے کہ ان کے ماموں جان بھی انتقال کر گئے۔ بچپن میں فاقہ کشی اور خاندانی اذیت کا شکار رہے۔
تعلیم و تربیت:
۱۹۱۲ء کو سندھی اسکول میں داخل ہوئے، ۱۹۱۶ء کو چوتھی جماعت پوزیشن سے پاس کی جس کے سبب ریاست خیر پور کے حکم تحت سرکاری خرچ پر ناز ہائی اسکول خیر پور میرس میں بڑے اعزاز کے ساتھ داخل ہوئے۔ ہائی اسکول میں فقط ایک ہفتہ گزرا تھا کہ والدہ ماجدہ نے وہاں سے اپنے پاس بلوالیا اور اپنی نگرانی میں دینی تعلیم دلوانے کیلئے حافظ محمد سلیمان کے پاس قرآن مجید حفظ کیلئے بٹھایا۔ دو پارے یاد نہ ہونے پر وہاں سے بھی اٹھوا کر مولانا بخش علی (ساکن ٹنڈو شہباز ضلع دادو) کے پاس بٹھا دیا جو کہ مخادیم کے مدرسہ میں مدرس تھے تین ماہ تک مولانا کے پاس فارسی پڑھتے رہے لیکن اچانک استاد صاحب انتقال کرگئے۔ اس کے بعد اس کی جگہ پر علامہ مولانا محمد ہاشم انصاری نوابشاہی مدرس مقرر ہوئے آپ نے مولانا محمد ہاشم کے پاس تعلیم جاری رکھی فارسی نصاب آٹھ ماہ میں مکمل کیا اور عر بی نصاب فقط چار سال میں پورا کیا اور فارغ التحصیل ہوئے۔
درس و تدریس:
بعدِ فراغت مخدوم امیر احمد نے اپنے آبائی ’’مدرسہ مخدومیہ‘‘ میں تقریباً دو سال درس دیا۔ خاندانی رقابت کے سبب درگاہ مخادیم کو خدا حافظ کہہ کر منتقل ہوگئے۔ ۱۹۲۶ء میں نوشہرو فیروز میں مشہور حکیم قاضی میاں احمدی کے تعاون و امداد سے قاضی مسجد میں مدرسہ قائم کیا جہاں چھ برس تک درس دیا۔ انہی دنوں قرآن پاک حفظ کرنے کا ارادہ ہوا اور بفضلہٖ تعالیٰ آٹھ ماہ میں حفظ کی دولت سے مالا مال ہوئے۔ اس سے آپ کی ذہانت و ذکاوت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
مسٹر انصاری کی کوشش سے ۱۲ مئی ۱۹۲۳ء کو نو شہرو فیروز کے گورنمنٹ ہائی اسکول میں پہلے عربی کے اُستاد مقرر ہوئے۔(ان دنوں اسی اسکول
میں ملک کے نامور اسکالر ڈاکٹر نبی بخش بلوچ زیر تعلیم تھے)۔
۱۹۳۸ء کو نوابشاہ کے لوکل بورڈ ہائی اسکول کے ہیڈ ماسٹر حاجی مہر علی خواجہ کی کوشش و توجہ کے سبب مخدوم امیر احمد نے نو شہرو فیروز کو الوداع کہہ کر نوابشاہ لوکل بورڈ ای ۔ وی اسکول میں عربی استاد مقرر ہوئے۔ یہاں آپ نے اسکول کی تعمیر و ترقی میں بھی بھر پور حصہ لیا
۱۹۴۴ء کو حیدرآباد سندھ میں سندھ کے مشہور ماہرِ تعلیم اور عربی استاد ممتاز اسکالر ڈاکٹر عمر بن محمد دائود پوتہ (جو اس وقت ڈائریکٹر تعلیمات سندھ تھے) اور خطیب اسلام علامہ سید علی اکبر شاہ (میہڑ والے) کی کوششوں سے ’’جامعہ عربیہ سندھ‘‘ (سندھ عربک یونیورسٹی) کی داغ بیل ڈالی گئی تو ۱۹۴۵ء میں مولانا مخدوم امیر احمد کو جوہرِ قابل سمجھ کر شعبہ عربی کا سربراہ مقرر کیا گیا۔ ۱۹۴۶ میں جامعہ عربیہ کے پہلے پرنسپل بنائے گئے اور ۱۹۵۳ء تک اس عہدہ پر فائز رہے۔ نا مساعد حالات کے باعث جامعہ عربیہ کا منصوبہ پایہ تکمیل کو نہ پہنچ سکا۔ ڈاکٹر دائود پوتہ کے انتقال کے بعد جامعہ عربیہ کا تعلیمی معیار جو کالج کے معیار تک پہنچا تھا گھٹ کر ہائی اسکول تک رہ گیا۔
آج یہ درسگاہ ہائی اسکول کی شکل میں موجود ہے۔
۱۹۵۳ء کو نامور اسکالر آئی آئی قاضی (وائس چانسلر سندھ یونیورسٹی جامشورو) نے پنجاب ، الہ آباد اورناگ پور یونیورسٹیوں کی طرز پر سندھ یونیورسٹی سے ملحق ایک علوم شرقیہ کالج کی بنیاد ڈالی توان کی نظرِ انتخاب مخدوم امیر احمد پر پڑی۔ علامہ آئی آئی قاضی نے انہیں ’’سندھ اورینٹیل کالج ‘‘ کا پہلا پرنسپل مقرر کیا اور تاحیات پرنسپل رہے۔ ۵۱۔۱۹۵۲ء اور ۱۹۵۳ء میں مسلک گرلز کالج میں پارٹ ٹائم میں بی ۔ اے آرٹس کلاس کیلئے عربی کے استاد مقرر ہوئے۔
۱۹۵۵ء میں آپ کی کوششوں سے اسلامیہ ماڈل ہائی اسکول قائم ہوا ۔ جس کے آپ جنرل سیکریٹری منتخب ہوئے۔ اس کے علاوہ حمایت الالسلام ہائی اسکول و کالج حیدرآباد کے قیام میں بھی بنیادی کردار ادا کیا۔حمایت الاسلام ایسوسی ایشن کے بھی سر گرم کارکن رہے۔
علمی مقام:
ڈاکٹر بلوچ صاحب رقمطراز ہیں: مخدوم صاحب کا سندھ کے چوٹی کے عُلما اور اُدباء میں شمار ہوتا تھا۔ عربی لغت و ادب میں کامل دسترس رکھتے تھے ان کے پائے کا شاید ہی کوئی دوسرا سندھی عالم ہو۔ بندہ راقم جونا گڑھ میں زیر تعلیم تھا ان دنوں انٹر آرٹس کے عربی کورس میں ’’ابن دردی‘‘ کا مشہور قصدیدہ (جو ’’مقصورہ ابن درید‘‘ کے نام سے مشہور ہے) تھا۔ یہ قصیدہ نہ صرف کلاسیکل رنگ میں تحریر ہے بلکہ نہایت مشکل عربی الفاظ ، محاورے اور استعاروں پر مشتمل ہے۔ ابن درید عربی لغت کے امام مانے جاتے ہیں۔ تعطیلات میں گھرآگیا اور نوابشاہ جا کر مخدوم صاحب کی خدمات حاصل کیں اور ان سے ’’مقصورہ‘‘ پڑھنا چاہا دل کو یقین نہیں آرہا تھا کہ سیدھے سادے مکتب کے استاد، کالج کی مشکل کتاب کیسے پڑھا سکتے ہیں لیکن جب درس لیا توسارے وہم و گمان ختم ہوگئے حیرت کی انتہا نہ رہی کہ مخدوم صاحب نے بلا کسی تکلُّف کے پورا مقصورہ لفظ بلفظ مجھے سمجھا یا۔ میرے پاس کتاب کا ایک نسخہ ہوا کرتا تھا جو کہ میرے سامنے ہوتا اور مخدوم صاحب سامنے بیٹھتے تھے اس طرح ان کی طرف کتاب الٹی ہوتی تھی اس کے باوجود بڑے اطمینان اور سکون سے پڑھاتے تھے۔
اعزازات:
سندھ یونیورسٹی کی سنڈیکیٹ کے ممبر
سندھ طبیہ کالج کی مجلس عاملہ کے ممبر
۱۹۵۶ء کو سندھ یونیورسٹی کی جانب سے اعزازی طور پر یونیورسٹی کے بی اے اور ایم اے کے طلباء کو عربی پڑھاتے تھے۔
آپ نے مخدوم ٹھٹوی کی کتاب ’’بذل القوۃ‘‘ پر کام کیا جس کے سبب سندھ یونیورسٹی کی طرف سے ڈاکٹریٹ (پی ۔ ایچ۔ ڈی) کی اعزازی ڈگری دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا لیکن ان کی وفات کی وجہ سے اس فیصلہ پر عمل درآمد نہ ہوسکتا۔
سفر حرمین شریفین:
آپ ۱۹۵۲ء میں مکہ مکرمہ میں حج بیت اللہ اور مدینہ منورہ میں روضہ رسول ﷺ کی حاضری کی سعادت سے لطف اندوز ہوئے۔
تلامذہ:
طلباء کی طویل فہرست میں سے بعض کے اسماء درج ذیل ہیں:
٭ نامور اسکالر و دانشور ڈاکٹر نبی بخش خان بلوچ حیدرآباد
٭ مولانا پیر فضل احمد سرہندی شکار پور
٭ مولانا عبدالحق شکار پوری
٭ حکیم قاضی عبدالہادی نو شہرائی
٭ مولانا محمد صادق برڑو ٹھاروشاہ
٭ مولانا محمد دائود بگھیو تحصیل مورو
تصنیف و تالیف:
قیام حیدرآباد کے بعد آپ نے سندھی ادب کے اکثر حلقوں میں حصہ لیا۔ شاہ عبداللطیف یاد گار مخزن اور دیگر علمی ادبی رسائل میں آپ کے مضامین شائع ہوئے تھے۔ اورینٹیل کالج کی "مخزن" آپ کی نگرانی میں شائع ہوتی تھی۔ (سہ ماہی مہران ۱۹۵۷ء سوانح نمبر)
٭ بذل القوۃ فی حوادث سنی النبوۃ: علامہ مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی قدس سرہ کی عربی تصنیف پر کام کیااور ایک طویل مقدمہ سپرد قلم فرمایا جو کہ آپ کی محنت شاقہ اور تحقیق کا شاہکار ہے۔ سندھی ادبی بورڈ جامشورو نے انہیں پہلی بار ۱۹۶۶ء کو شائع کیا۔ حال ہی میں اس کتاب کا اردو ترجمہ محترم مفتی محمد علیم الدین نقشبندی نے بڑی محنت و عرق ریزی سے کیا ہے جسے ادارہ مظہر علم لاہور نے ’’سیرت الانبیاء‘‘ کے نام سے ربیع الاول ۱۴۲۱ھ/جون ۲۰۰۰ء کو شائع کیا ہے۔
٭ حیاۃ القاری فی اطراف صحیح البخاری: یہ کتاب بھی امام اہلِ محبت علامہ مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی قدس سرہ کی عربی تصنیف ہے۔ مخدوم امیر احمد نے اس کے قدیم مخطوطے پر ۱۹۵۲ء میں ایک مبسوط مقدمے اور تصحیح و حواشی کے ساتھ بھر پور کام کیا۔ ہنوز غیر مطبوعہ ہے۔
٭ تاریخ معصوم (سندھی): میر معصوم فاضل بکھری کی تاریخ سندھ پر تصنیف ہے جو کہ فارسی میں تھی اور مخدوم امیر احمد نے پہلی بار اس کا سندھی ترجمہ کیا اور سندھی ادبی بورڈ کی جانب سے ۱۹۵۳ء کو شائع ہوئی۔
٭ تحفۃ الکرام (سندھی): تاریخ سندھ کے متعلق مورخ میر علی شیر قانع ٹھٹوی کی فارسی میں تصنیف ہے۔ مخدوم صاحب نے اس کا سندھی ترجمہ و ضروری حواشی و دیباچہ کے ساتھ تحریر کیا جو کہ ۱۹۵۷ء کو سندھی ادبی بورڈ کے زیر اہتمام پہلی بار شائع ہوا۔ طبع ثانی ۱۹۷۸ء طبع ثالث ۱۹۸۹ء کو منظر پر آیا۔
٭ فتح نامہ سندھ عرف چچ نامہ :(منہاج الملک کی عربی تصنیف کا فارسی ترجمہ علی بن
۱۹۵۳ء کو نامور اسکالر آئی آئی قاضی (وائس چانسلر سندھ یونیورسٹی جامشورو) نے پنجاب ، الہ آباد اورناگ پور یونیورسٹیوں کی طرز پر سندھ یونیورسٹی سے ملحق ایک علوم شرقیہ کالج کی بنیاد ڈالی توان کی نظرِ انتخاب مخدوم امیر احمد پر پڑی۔ علامہ آئی آئی قاضی نے انہیں ’’سندھ اورینٹیل کالج ‘‘ کا پہلا پرنسپل مقرر کیا اور تاحیات پرنسپل رہے۔ ۵۱۔۱۹۵۲ء اور ۱۹۵۳ء میں مسلک گرلز کالج میں پارٹ ٹائم میں بی ۔ اے آرٹس کلاس کیلئے عربی کے استاد مقرر ہوئے۔
۱۹۵۵ء میں آپ کی کوششوں سے اسلامیہ ماڈل ہائی اسکول قائم ہوا ۔ جس کے آپ جنرل سیکریٹری منتخب ہوئے۔ اس کے علاوہ حمایت الالسلام ہائی اسکول و کالج حیدرآباد کے قیام میں بھی بنیادی کردار ادا کیا۔حمایت الاسلام ایسوسی ایشن کے بھی سر گرم کارکن رہے۔
علمی مقام:
ڈاکٹر بلوچ صاحب رقمطراز ہیں: مخدوم صاحب کا سندھ کے چوٹی کے عُلما اور اُدباء میں شمار ہوتا تھا۔ عربی لغت و ادب میں کامل دسترس رکھتے تھے ان کے پائے کا شاید ہی کوئی دوسرا سندھی عالم ہو۔ بندہ راقم جونا گڑھ میں زیر تعلیم تھا ان دنوں انٹر آرٹس کے عربی کورس میں ’’ابن دردی‘‘ کا مشہور قصدیدہ (جو ’’مقصورہ ابن درید‘‘ کے نام سے مشہور ہے) تھا۔ یہ قصیدہ نہ صرف کلاسیکل رنگ میں تحریر ہے بلکہ نہایت مشکل عربی الفاظ ، محاورے اور استعاروں پر مشتمل ہے۔ ابن درید عربی لغت کے امام مانے جاتے ہیں۔ تعطیلات میں گھرآگیا اور نوابشاہ جا کر مخدوم صاحب کی خدمات حاصل کیں اور ان سے ’’مقصورہ‘‘ پڑھنا چاہا دل کو یقین نہیں آرہا تھا کہ سیدھے سادے مکتب کے استاد، کالج کی مشکل کتاب کیسے پڑھا سکتے ہیں لیکن جب درس لیا توسارے وہم و گمان ختم ہوگئے حیرت کی انتہا نہ رہی کہ مخدوم صاحب نے بلا کسی تکلُّف کے پورا مقصورہ لفظ بلفظ مجھے سمجھا یا۔ میرے پاس کتاب کا ایک نسخہ ہوا کرتا تھا جو کہ میرے سامنے ہوتا اور مخدوم صاحب سامنے بیٹھتے تھے اس طرح ان کی طرف کتاب الٹی ہوتی تھی اس کے باوجود بڑے اطمینان اور سکون سے پڑھاتے تھے۔
اعزازات:
سندھ یونیورسٹی کی سنڈیکیٹ کے ممبر
سندھ طبیہ کالج کی مجلس عاملہ کے ممبر
۱۹۵۶ء کو سندھ یونیورسٹی کی جانب سے اعزازی طور پر یونیورسٹی کے بی اے اور ایم اے کے طلباء کو عربی پڑھاتے تھے۔
آپ نے مخدوم ٹھٹوی کی کتاب ’’بذل القوۃ‘‘ پر کام کیا جس کے سبب سندھ یونیورسٹی کی طرف سے ڈاکٹریٹ (پی ۔ ایچ۔ ڈی) کی اعزازی ڈگری دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا لیکن ان کی وفات کی وجہ سے اس فیصلہ پر عمل درآمد نہ ہوسکتا۔
سفر حرمین شریفین:
آپ ۱۹۵۲ء میں مکہ مکرمہ میں حج بیت اللہ اور مدینہ منورہ میں روضہ رسول ﷺ کی حاضری کی سعادت سے لطف اندوز ہوئے۔
تلامذہ:
طلباء کی طویل فہرست میں سے بعض کے اسماء درج ذیل ہیں:
٭ نامور اسکالر و دانشور ڈاکٹر نبی بخش خان بلوچ حیدرآباد
٭ مولانا پیر فضل احمد سرہندی شکار پور
٭ مولانا عبدالحق شکار پوری
٭ حکیم قاضی عبدالہادی نو شہرائی
٭ مولانا محمد صادق برڑو ٹھاروشاہ
٭ مولانا محمد دائود بگھیو تحصیل مورو
تصنیف و تالیف:
قیام حیدرآباد کے بعد آپ نے سندھی ادب کے اکثر حلقوں میں حصہ لیا۔ شاہ عبداللطیف یاد گار مخزن اور دیگر علمی ادبی رسائل میں آپ کے مضامین شائع ہوئے تھے۔ اورینٹیل کالج کی "مخزن" آپ کی نگرانی میں شائع ہوتی تھی۔ (سہ ماہی مہران ۱۹۵۷ء سوانح نمبر)
٭ بذل القوۃ فی حوادث سنی النبوۃ: علامہ مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی قدس سرہ کی عربی تصنیف پر کام کیااور ایک طویل مقدمہ سپرد قلم فرمایا جو کہ آپ کی محنت شاقہ اور تحقیق کا شاہکار ہے۔ سندھی ادبی بورڈ جامشورو نے انہیں پہلی بار ۱۹۶۶ء کو شائع کیا۔ حال ہی میں اس کتاب کا اردو ترجمہ محترم مفتی محمد علیم الدین نقشبندی نے بڑی محنت و عرق ریزی سے کیا ہے جسے ادارہ مظہر علم لاہور نے ’’سیرت الانبیاء‘‘ کے نام سے ربیع الاول ۱۴۲۱ھ/جون ۲۰۰۰ء کو شائع کیا ہے۔
٭ حیاۃ القاری فی اطراف صحیح البخاری: یہ کتاب بھی امام اہلِ محبت علامہ مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی قدس سرہ کی عربی تصنیف ہے۔ مخدوم امیر احمد نے اس کے قدیم مخطوطے پر ۱۹۵۲ء میں ایک مبسوط مقدمے اور تصحیح و حواشی کے ساتھ بھر پور کام کیا۔ ہنوز غیر مطبوعہ ہے۔
٭ تاریخ معصوم (سندھی): میر معصوم فاضل بکھری کی تاریخ سندھ پر تصنیف ہے جو کہ فارسی میں تھی اور مخدوم امیر احمد نے پہلی بار اس کا سندھی ترجمہ کیا اور سندھی ادبی بورڈ کی جانب سے ۱۹۵۳ء کو شائع ہوئی۔
٭ تحفۃ الکرام (سندھی): تاریخ سندھ کے متعلق مورخ میر علی شیر قانع ٹھٹوی کی فارسی میں تصنیف ہے۔ مخدوم صاحب نے اس کا سندھی ترجمہ و ضروری حواشی و دیباچہ کے ساتھ تحریر کیا جو کہ ۱۹۵۷ء کو سندھی ادبی بورڈ کے زیر اہتمام پہلی بار شائع ہوا۔ طبع ثانی ۱۹۷۸ء طبع ثالث ۱۹۸۹ء کو منظر پر آیا۔
٭ فتح نامہ سندھ عرف چچ نامہ :(منہاج الملک کی عربی تصنیف کا فارسی ترجمہ علی بن
حامد ابو بکر کوفی نے ۶۱۳ھ کو کیا تھا) فارسی نسخے کا سندھی ترجمہ مخدوم امیر احمد نے کیا ۔ جو کہ سندھی ادبی بورڈ جامشورو کے زیر اہتمام پہلی بار ۱۹۵۴ء کو شائع ہوا۔
٭ الدین الکامل: (سندھی) یہ کتاب یدن اسلام کے ضروری احکام و مسائل پر مشتمل ہے اسکولوں و کالجوں کے نصاب میں شامل تھا۔
٭ سر زمین سندھ میں علم حدیث:(اردو) یہ علمی و تاریخی مقالہ مخدوم صاحب کی تصنیف ہے۔ مخدوم صاحب نے اس گراں مایہ تصنیف کا ایک حصہ مقالے کی صورت میں کل پاکستان تعلیمات کانفرنس حیدرآباد(سندھ) منعقدہ ۱۹۶۳ء کو پرھا تھا۔ موصوف اس وقت سندھ اورینٹیل کالج حیدرآباد کے پرنسپل اور شاہ ولی اللہ اکیڈمی کے ڈائریکٹر تھے۔ ابھی تک یہ علمی خزانہ کتابی شکل میں شائع نہیں ہوا البتہ اس کے بعض حصے دو قسطوں میں "ماہنامہ الرحیم" حیدرآباد بابت جولائی/اگست ۱۹۶۳ء کے دو شماروں میں اشاعت پذیر ہو چکے ہیں۔
٭ مخدوم امیر احمد نے ’’رسالہ شاہ عبداللطیف بھٹائی‘‘ منظوم سندھی کا اردو نثر میں ترجمہ سندھ یونیورسٹی کی فرمائش پر کیا تھا۔ ترجمہ سلیس اور رواں ہے۔ اردو میں کلام لطیف کی عمدہ شرح بھی شامل ہے۔ کلام لطیف کا یہ ترجمہ اب تک شائع نہ ہوسکا۔ اس کا اصل قلمی نسخہ مخدوم امیر احمد کے بیٹے مولانا مخدوم غلام احمد کے پاس محفوظ تھا۔
٭ آشکار(فارسی): سچل سرمست کے کلام کو ترتیب دے کرنوائے وقت پریس لاہورنے چھپوایا۔
٭ امام مشوری قدس سرہ کی سندھی تصنیف ’’فصل الخطاب فی لزوم الستراوالحجاب‘‘ پر مخدوم امیر احمد نے عورت کے پردے کی حمایت میں زوردار تقریظ سندھی میں رقم کی تھی۔ مطبوعہ مشوری شریف ۱۹۹۰ئ۔؎
کتب خانہ:
آپ کے اورینٹیل کالج کے کتب خانے میں مختلف علوم و فنون اور قدیم و جدید کتب رسائل اور قلمی مخطوطات کا عمدہ ذخیرہ جمع ہو گیا تھا۔ (مہران نقش ص۲۲۸)
اولاد:
اولاد میں مولانا مخدوم غلام احمد کا نام مشہور ہے۔
وصال:
مخدوم امیر احمد نے پوری زندگی جہد مسلسل میں صرف کی اور لازوال خدمات انجام دینے کے بعد یکم محرم الحرام ۱۳۹۱ھ بمطابق ۲۶ فروری ۱۹۷۱ء کو حیدرآباد (سندھ) میں انتقال کیا۔ درگاہ شریف مخادیم کھہڑا کے قدیم خاندانی قبرستان (ضلع خیر پور میرس سندھ) میں آپکی آخری آرامگاہ واقع ہے۔
( انوار علماء اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-makhdoom-ameer-ahmed-abbasi
٭ الدین الکامل: (سندھی) یہ کتاب یدن اسلام کے ضروری احکام و مسائل پر مشتمل ہے اسکولوں و کالجوں کے نصاب میں شامل تھا۔
٭ سر زمین سندھ میں علم حدیث:(اردو) یہ علمی و تاریخی مقالہ مخدوم صاحب کی تصنیف ہے۔ مخدوم صاحب نے اس گراں مایہ تصنیف کا ایک حصہ مقالے کی صورت میں کل پاکستان تعلیمات کانفرنس حیدرآباد(سندھ) منعقدہ ۱۹۶۳ء کو پرھا تھا۔ موصوف اس وقت سندھ اورینٹیل کالج حیدرآباد کے پرنسپل اور شاہ ولی اللہ اکیڈمی کے ڈائریکٹر تھے۔ ابھی تک یہ علمی خزانہ کتابی شکل میں شائع نہیں ہوا البتہ اس کے بعض حصے دو قسطوں میں "ماہنامہ الرحیم" حیدرآباد بابت جولائی/اگست ۱۹۶۳ء کے دو شماروں میں اشاعت پذیر ہو چکے ہیں۔
٭ مخدوم امیر احمد نے ’’رسالہ شاہ عبداللطیف بھٹائی‘‘ منظوم سندھی کا اردو نثر میں ترجمہ سندھ یونیورسٹی کی فرمائش پر کیا تھا۔ ترجمہ سلیس اور رواں ہے۔ اردو میں کلام لطیف کی عمدہ شرح بھی شامل ہے۔ کلام لطیف کا یہ ترجمہ اب تک شائع نہ ہوسکا۔ اس کا اصل قلمی نسخہ مخدوم امیر احمد کے بیٹے مولانا مخدوم غلام احمد کے پاس محفوظ تھا۔
٭ آشکار(فارسی): سچل سرمست کے کلام کو ترتیب دے کرنوائے وقت پریس لاہورنے چھپوایا۔
٭ امام مشوری قدس سرہ کی سندھی تصنیف ’’فصل الخطاب فی لزوم الستراوالحجاب‘‘ پر مخدوم امیر احمد نے عورت کے پردے کی حمایت میں زوردار تقریظ سندھی میں رقم کی تھی۔ مطبوعہ مشوری شریف ۱۹۹۰ئ۔؎
کتب خانہ:
آپ کے اورینٹیل کالج کے کتب خانے میں مختلف علوم و فنون اور قدیم و جدید کتب رسائل اور قلمی مخطوطات کا عمدہ ذخیرہ جمع ہو گیا تھا۔ (مہران نقش ص۲۲۸)
اولاد:
اولاد میں مولانا مخدوم غلام احمد کا نام مشہور ہے۔
وصال:
مخدوم امیر احمد نے پوری زندگی جہد مسلسل میں صرف کی اور لازوال خدمات انجام دینے کے بعد یکم محرم الحرام ۱۳۹۱ھ بمطابق ۲۶ فروری ۱۹۷۱ء کو حیدرآباد (سندھ) میں انتقال کیا۔ درگاہ شریف مخادیم کھہڑا کے قدیم خاندانی قبرستان (ضلع خیر پور میرس سندھ) میں آپکی آخری آرامگاہ واقع ہے۔
( انوار علماء اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-makhdoom-ameer-ahmed-abbasi
scholars.pk
Hazrat Makhdoom Ameer Ahmed Abbasi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
حضرت پیر محمد عمر روحی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
حضرت پیر ابو الرضا محمد عمر روحی ۷ اصفر المظفر ۱۳۱۸ھ ؍ ۱۶مئی ۱۹۰۰ء کو تولد ہوئے۔
ملازمت:
مارچ ۱۹۱۷ء میں آپ جودھپور ریلوے میں بطور تار بابو ملازمت اختیار کی اور اس سلسلہ میں مختلف مقامات پر تعینات رہے۔ جون ۱۹۱۹ء میں انہوں نے مستقل ملازمت محکمہٗ تار و ڈاک میں اختیار کی اور مختلف مقامات پر بطور پوسٹ ماسٹر تعینات رہے۔ مارچ ۱۹۲۳ء کو ان کا تبادلہ ان کے آبائی وطن ’’ناوہ کچا من‘‘ میں ہوا۔
بیعت و خلافت:
ناوہ کچا من میں جب ان کا تبادلہ ہوا تو یہیں ۱۹۲۳ء کے او آخر میں ان کی ملاقات حضرت میر سید محمد احمد صدیقی المتخلص بہ قاتل شاہ لکھنوی ( مدفون دربار عالم شاہ بخاری جامع کلاتھ کراچی ) سے ہوئی جو محکمہ ریلوے میں ملازم تھے اور اکثر اجمیر شریف سے قصبہ ناوہ آتے رہتے تھے۔ ان سے ملاقاتیں ہونے لگیں ، صحبت میں بیٹھنا نصیب ہوا، رنگ چڑھا اثر ہوا اور بالآخر ۲۵ ذی الحجہ ۱۳۴۳ھ؍ ۱۷ جولائی ۱۹۲۵ء کو سلسلہ عالیہ سہرور دیہ کی شاخ جہانگیری میں حضرت قاتل شاہ سے دست بیعت ہوئے اور ۲۶ ربیع الاول ۱۳۴۷ھ؍ ۱۱ ستمبر ۱۹۲۸ء کو انہیں خلافت و اجازت سے نواز ا گیا۔ یوں انہوں نے ملازمت کے ساتھ ساتھ سلسلہ کا کام بھی جاری رکھا۔
حضور صدر الشریعہ سے عقیدت:
انہیں خلیفہ اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی صدر الشریعہ علامہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے جو تعلق و محبت تھی وہ انہیں کے الفاظ میں درج ہے۔ وہ انہوں نے خود نوشت سوانح ’’ روئے کتابی ‘‘ میں یوں لکھتے ہیں:
( ۶مئی ۱۹۴۰ء کو ) پالی پہنچنے پر وہاں کے مسلمان خصوصا چھیپے ملنے کیلئے آئے اور انہوں نے ہم سے کہا کہ صدر الشریعۃ مولانا امجد علی صاحب ( صاحب بہار شریعت ) جب تک اجمیر شریف میں درگاہ شریف میں درگاہ کے مدرس تھے ، ہر سال گیارہویں شریف میں تقریر کیلئے پالی تشریف لایا کرتے تھے۔ لیکن اب وہ دادوں ضلع مظفر پور چلے گئے ہیں ہم نے انہیں گیارہویں شریف پر بلانے کیلئے خط لکھے ہیں لیکن انہوں نے آنے سے انکار کردیا۔ ہم نے کہا کہ ہم ان کو بلائیں گے ، ان سے پتہ لے کر ہم نے انہیں تار دیا کہ اس جواب میں مولانا نے پالی آنے کا اقرار کر لیا۔۔۔۔بڑی گیارہویں شریف پر مولانا امجد صاحب پالی تشریف لے آئے اور شام کو چھیپوں کی بڑی مسجد کے سامنے پیارا چوک میں ان کی تقریر ہوئی، ہم نے بھی اور لوگوں کے ساتھ سامعین میں تقریرسنی ، تقریر ختم کرنے کے بعد مولانا چھیپوں کی بڑی مسجد کے اوپر حجرہ میں جائے قیام کیلئے تشریف لے گئے ،ہم بھی ان کے پیچھے پیچھے اوپر گئے ۔ وہ جب جا کر چار پائی پر بیٹھ گئے تو ہم نے ان کو سلام کیا اور دست بوسی کی، انہوں نے ہمارے حضرت قبلہ ( قاتل شاہ ) اور دادا قبلہ ( حضرت عبدالشکور ) کی خیریت معلوم کی اور دریافت کیا کہ آپ یہاں کیسے آئے ؟ میں نے عرض کیا کہ پوسٹ ماسٹر کی جگہ تبدیل ہو کر یہاں آیا ہوں ۔ آپ نے دریافت فرمایا کہ آپ نے یہاں کچھ سلسلہ کا کام کیا؟ میں نے عرض کیا کہ مجھے آئے ہوئے تھوڑا ہی عرصہ ہوا ہے اگر میرے حضرات کا کرم اور آپ کی دعا شامل حال رہی تو انشاء اللہ سلسلے کا کام شروع ہو جائے گا۔ آپ نے فرمایا کہ کل صبح کا ناشتہ ہمارے ساتھ کرنا ۔۔۔۔۔۔۔۔لہذا دوسری صبح فجر کی نماز کے بعد مولانا کے ساتھ ناشتہ کیا دوسرے روز شام کو پھر محلہ ناڑی میں مولانا کی تقریر بھی عام سامعین کے ساتھ سنتے رہے۔ وعظ ختم ہونے کے بعد ہم السلام علیکم کر کے مصافحہ کیا۔ آپ نے فرمایا کہ آپ کہاں بیٹھے تھے ؟ یہاں میرے ساتھ تخت پر آکر بیٹھنا چاہیے تھا۔
میں نے عرض کیا کہ مجھے سامنے بیٹھ کر ہی سننے میں مزا آتا ہے‘‘۔ ( روئے کتابی صفحہ ۱۴۱ مطبوعہ حیدرآباد )
پاکستان آمد:
قیام پاکستان کے بعد پاکستان تشریف لائے اور حیدرآباد سندھ میں سکونت اختیار کی۔
وصال:
حضرت ابو الرضا محمد عمر روحی یکم محرم الحرام ۱۳۸۹ھ؍ ۱۲ دسمبر ۱۹۷۷ء ۷۷ سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔
[جناب حسن نواز شاہ صاحب (اسلام آباد) کے مقالہ سے یہ مضمون ماخوذ ہے]
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-peer-muhammad-umar-rohi
حضرت پیر ابو الرضا محمد عمر روحی ۷ اصفر المظفر ۱۳۱۸ھ ؍ ۱۶مئی ۱۹۰۰ء کو تولد ہوئے۔
ملازمت:
مارچ ۱۹۱۷ء میں آپ جودھپور ریلوے میں بطور تار بابو ملازمت اختیار کی اور اس سلسلہ میں مختلف مقامات پر تعینات رہے۔ جون ۱۹۱۹ء میں انہوں نے مستقل ملازمت محکمہٗ تار و ڈاک میں اختیار کی اور مختلف مقامات پر بطور پوسٹ ماسٹر تعینات رہے۔ مارچ ۱۹۲۳ء کو ان کا تبادلہ ان کے آبائی وطن ’’ناوہ کچا من‘‘ میں ہوا۔
بیعت و خلافت:
ناوہ کچا من میں جب ان کا تبادلہ ہوا تو یہیں ۱۹۲۳ء کے او آخر میں ان کی ملاقات حضرت میر سید محمد احمد صدیقی المتخلص بہ قاتل شاہ لکھنوی ( مدفون دربار عالم شاہ بخاری جامع کلاتھ کراچی ) سے ہوئی جو محکمہ ریلوے میں ملازم تھے اور اکثر اجمیر شریف سے قصبہ ناوہ آتے رہتے تھے۔ ان سے ملاقاتیں ہونے لگیں ، صحبت میں بیٹھنا نصیب ہوا، رنگ چڑھا اثر ہوا اور بالآخر ۲۵ ذی الحجہ ۱۳۴۳ھ؍ ۱۷ جولائی ۱۹۲۵ء کو سلسلہ عالیہ سہرور دیہ کی شاخ جہانگیری میں حضرت قاتل شاہ سے دست بیعت ہوئے اور ۲۶ ربیع الاول ۱۳۴۷ھ؍ ۱۱ ستمبر ۱۹۲۸ء کو انہیں خلافت و اجازت سے نواز ا گیا۔ یوں انہوں نے ملازمت کے ساتھ ساتھ سلسلہ کا کام بھی جاری رکھا۔
حضور صدر الشریعہ سے عقیدت:
انہیں خلیفہ اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی صدر الشریعہ علامہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے جو تعلق و محبت تھی وہ انہیں کے الفاظ میں درج ہے۔ وہ انہوں نے خود نوشت سوانح ’’ روئے کتابی ‘‘ میں یوں لکھتے ہیں:
( ۶مئی ۱۹۴۰ء کو ) پالی پہنچنے پر وہاں کے مسلمان خصوصا چھیپے ملنے کیلئے آئے اور انہوں نے ہم سے کہا کہ صدر الشریعۃ مولانا امجد علی صاحب ( صاحب بہار شریعت ) جب تک اجمیر شریف میں درگاہ شریف میں درگاہ کے مدرس تھے ، ہر سال گیارہویں شریف میں تقریر کیلئے پالی تشریف لایا کرتے تھے۔ لیکن اب وہ دادوں ضلع مظفر پور چلے گئے ہیں ہم نے انہیں گیارہویں شریف پر بلانے کیلئے خط لکھے ہیں لیکن انہوں نے آنے سے انکار کردیا۔ ہم نے کہا کہ ہم ان کو بلائیں گے ، ان سے پتہ لے کر ہم نے انہیں تار دیا کہ اس جواب میں مولانا نے پالی آنے کا اقرار کر لیا۔۔۔۔بڑی گیارہویں شریف پر مولانا امجد صاحب پالی تشریف لے آئے اور شام کو چھیپوں کی بڑی مسجد کے سامنے پیارا چوک میں ان کی تقریر ہوئی، ہم نے بھی اور لوگوں کے ساتھ سامعین میں تقریرسنی ، تقریر ختم کرنے کے بعد مولانا چھیپوں کی بڑی مسجد کے اوپر حجرہ میں جائے قیام کیلئے تشریف لے گئے ،ہم بھی ان کے پیچھے پیچھے اوپر گئے ۔ وہ جب جا کر چار پائی پر بیٹھ گئے تو ہم نے ان کو سلام کیا اور دست بوسی کی، انہوں نے ہمارے حضرت قبلہ ( قاتل شاہ ) اور دادا قبلہ ( حضرت عبدالشکور ) کی خیریت معلوم کی اور دریافت کیا کہ آپ یہاں کیسے آئے ؟ میں نے عرض کیا کہ پوسٹ ماسٹر کی جگہ تبدیل ہو کر یہاں آیا ہوں ۔ آپ نے دریافت فرمایا کہ آپ نے یہاں کچھ سلسلہ کا کام کیا؟ میں نے عرض کیا کہ مجھے آئے ہوئے تھوڑا ہی عرصہ ہوا ہے اگر میرے حضرات کا کرم اور آپ کی دعا شامل حال رہی تو انشاء اللہ سلسلے کا کام شروع ہو جائے گا۔ آپ نے فرمایا کہ کل صبح کا ناشتہ ہمارے ساتھ کرنا ۔۔۔۔۔۔۔۔لہذا دوسری صبح فجر کی نماز کے بعد مولانا کے ساتھ ناشتہ کیا دوسرے روز شام کو پھر محلہ ناڑی میں مولانا کی تقریر بھی عام سامعین کے ساتھ سنتے رہے۔ وعظ ختم ہونے کے بعد ہم السلام علیکم کر کے مصافحہ کیا۔ آپ نے فرمایا کہ آپ کہاں بیٹھے تھے ؟ یہاں میرے ساتھ تخت پر آکر بیٹھنا چاہیے تھا۔
میں نے عرض کیا کہ مجھے سامنے بیٹھ کر ہی سننے میں مزا آتا ہے‘‘۔ ( روئے کتابی صفحہ ۱۴۱ مطبوعہ حیدرآباد )
پاکستان آمد:
قیام پاکستان کے بعد پاکستان تشریف لائے اور حیدرآباد سندھ میں سکونت اختیار کی۔
وصال:
حضرت ابو الرضا محمد عمر روحی یکم محرم الحرام ۱۳۸۹ھ؍ ۱۲ دسمبر ۱۹۷۷ء ۷۷ سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔
[جناب حسن نواز شاہ صاحب (اسلام آباد) کے مقالہ سے یہ مضمون ماخوذ ہے]
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-peer-muhammad-umar-rohi
scholars.pk
Hazrat Peer Muhammad Umar Rohi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs