🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت شیخ ابو سعید بن ابو الخیر فضل اللہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

آپ کا اسم گرامی فضل اللہ تھا اور خراسان کے رہنے والے تھے آپ مقتدائے اہل طریقت اور پیشوائے اہل حقیقت تھے صاحب علوم ظاہر و باطن اور مشرف القلوب تھے دنیا آپ کی گفتگو سے مسخر ہوجاتی تھی حضرت شیخ ابوالفضل بن حسن سرخسی﷫ تھے چند واسطوں سے سیّد الطائفہ جنید بغدادی کے مرید تھے آپ شیخ ابوالفضل حسن اور وہ ابوالنصر سراج اور وہ ابو محمد مرتعش اور وہ حضرت جنید بغدادی کے مرید تھے شیخ ابوالفضل کی وفات کے بعد آپ نے شیخ عبدالرحمٰن سلمی﷫ سے فرقہِ خلافت حاصل کیا اور بعض مشکلات کے حل کے لیے ایک سال تک شیخ ابوالعباس کی صحبت میں رہے۔

کہتے ہیں ایک رات شیخ ابوالعباس اپنے صومعہ سے باہر نکلے آپ نے کسی وقت فصد کرایا تھا اتفاقاً زخم کھل گیا اور خون جاری ہوگیا حضرت ابوسعید کو خبر ہوئی تو آپ کے پاس پہنچے اور زخم دھو کر دوبارہ باندھ دیا اور شیخ کے خون آلودہ کپڑے اتار دئیے اور انہیں دھو کر حضرت کی خدمت میں پیش کیے حضرت شیخ نے فرمایا کہ ان کپڑوں کو میرے سامنے خود پہن لو آپ نے حسب الحکم حضرت شیخ کا لباس پہن لیا یہ کپڑے پہنتے ہی آپ کی قلبی مشکلات دور ہوگئیں اور مراتب میں عروج حاصل ہوا علی الصباح احباب مجلس نے آپ کو لباس شیخ میں دیکھا تو بڑے متعجب ہوئے حضرت شیخ نے فرمایا رات ایک کیفیت طاری ہوئی تھی ابوسعید اپنا نصیب اور حصہ لے گئے۔

ایک دن آپ کے پاس دو شخص آئے آپ کے پاس بیٹھ گئے اور باتیں کرنے لگے اور کہنے لگے حضرت ہمیں ایک مسئلہ میں راہنمائی فرمائیں ایک نے کہا ازل وَابد کا اندوہ ہی تمام ہے دوسرے نے کہا ازل و ابد کی خوشی ہی سب کچھ ہے آپ کا کیا خیال ہے آپ نے فرمایا۔ قصاب کے بیٹے کا گھر اندوہ سے پُر ہے اور خوشی وہاں نہیں آتی۔ لَیسُ عِند رَبْکَمُ صَباحٌ ومسَاع تمہارے اللہ کے نزدیک نہ صبح ہے نہ شام جب یہ دونوں حضرات چلے گئے تو لوگوں نے آپ سے پوچھا حضرت یہ کون تھے آپ نے فرمایا ایک تو حضرت ابوالحسن خرقانی تھے اور دوسرے اَبُو عبداللہ داستانی تھے﷫۔

حضرت شیخ ابو سعید ابوالخیر نے علوم تصوّف میں بہت سے اشعار کہے ہیں۔ ایک رباعی میں فرماتے ہیں۔

چشم ہمہ اَشک شدہ چو از غم بگر یست
ازمن اثرے نماند این عشق ازچیست

در عشق تو بے چشم ہمی باید زیست
چوں من ہمہ معشوق شدم عاشق کیست

رغم دوست میں میری آنکھیں رُو رُو کر آنسو بن گئی ہیں تیرے عشق میں تو بے چشم ہی جیا جاسکتا ہے یہ عشق کیا ہے؟ مجھ سے تو کچھ اثر نہیں رہا چونکہ میں تمام تر معشوق ہوچکا ہوں آخر عاشق کون ہے؟

بزرگانِ دین نے ایک رباعی ایسی یاد کی ہے جو حضرت کے منہ سے نکلی اور پھر اسے لوگ بخار کی حالت میں مریض کے گلے میں باندھ دیتے ہیں۔ جس سے شفا ہوجاتی ہے وہ رباعی یوں ہے۔

اے درصفتِ ذات تو حیران کہہ دمہ
علّت توستانی وشفاء ہم تو دہی

و ز جملہ جہاں خدمت درگاہ توبہ
یارب توبہ فضل خویش بستاں دبدہ

اے ذات اقدس تیری صفتِ ذات میں چھوٹے بڑے سب حیران ہیں تمام جہاں سے تیرے ہی دروازے کی خدمت بہتر ہے تو ہی بیماری دیتا ہے اور توہی شفا بخشتا ہے، اے اللہ! تو اپنے فضل و کرم سے لے اور عطاکر۔

ایک شخص نے حضرت ابو سعید کو بتایا کہ فلاں ولی اللہ تو پانی پر چلنا جانتا ہے آپ نے فرمایا یہ بڑا آسان کام ہے ہمارے ہاں تو مینڈک بھی پانی میں تیرتے پھیرتے ہیں پھر اس نے کہا ’’فلاں ولی اللہ ہوا میں اڑتے ہیں‘‘ آپ نے فرمایا ’’یہ بھی آسان کام ہے زاغ و زغن ہوا میں اڑتے پھرتے ہیں‘‘ اس نے کہا کہ ’’فلاں ولی اللہ ایک قدم ایک شہر میں اور دوسرا قدم دوسرے شہر تک اٹھاتا ہے‘‘ آپ نے فرمایا ’’یہ کمال تو شیطان میں بھی پایا جاتا ہے‘‘ آپ نے فرمایا ’’ان چیزوں کی بارگاہ الٰہی میں کوئی عزت و منزلت نہیں ہے اصل مقام عظمت یہ ہے کہ وہ خلق خدا میں رہے امور دنیا میں حصہ لے زن و فرزند میں زندگی گزارے مخلوق خدا سے ملے جلے مگر ایک لحظہ کے لیے یاد خداوندی سے غافل نہ رہے اور ذکر خداوندی کو فراموش نہ کرے۔‘‘

شیخ ابو سعید﷫ کی تاریخ ولادت بروز اتوار یکم ماہ محرم ۳۵۷ھ ہے مگر تاریخ وفات بروز جمعہ چہارم ماہ شعبان ۴۰۴ھ ہے آپ نے وصیّت فرمائی تھی کہ یہ رباعی آپ کے جنازے کے ساتھ بآوازبلند پڑھی جائے۔

خوبتر حپسیت زین بعالَم کار
باشد اندوہ او سراپا فرح

دوست با دوست رفت یار بیار
گررَود نزد دوست عاشق زار

آپ کی تاریخ وفات ان اشعار سے بھی برآمد ہوتی ہے۔

بو سعید آں خیر دین فضل جہاں
سالک معصوم شد تولید او
۳۵۷ھ

بہر عالم در دوعالم مقتدا
رحلتش آمد سعید راہنما
۴۴۰ھ

سعید راہنما
سعید نامدار
محرم بوسعید
سلطان سعید
۴۴۰ھ

ولی زمان بوسعید
۴۴۰ھ

( خزینۃ الاصفیاء )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-abu-saeed-fazlullah
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت ابوبکر محمد بن ابراہیم سوسی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

محمد بن ابراہیم الصونی السوسی رحمۃ اللہ علیہ شام میں پیدا ہوئے شیخ عمود احمد کوتانی رحمۃ اللہ علیہ سے روحانی نسبت قائم ہوئی نفحات الانس میں لکھا ہے کہ ایک رات شیخ ابوبکر سماع کی مجلس میں بیٹھے تھے ایک مطرب نے یہ شعر پڑھا۔

القدم اخوان الصدق منہم نسبت
من المودت لم یعدل بہ نسبت

یہ شعر سنتے ہیں شیخ اور اہل مجلس وجد میں آگئے مطرب اور قوال بھی بے ہوش ہوگئے مطرب نے تو حضرت شیخ کے مصلے پر قے کردی، حضرت شیخ نے فرمایا جس بوریے پر مطرب نے قے کی ہے، اس میں لپیٹ کر اسے ایک کونے میں لٹا دو، صبح ہوئی تو مطرب ہوش میں آیا، اپنے آپ کو ایک بوریے میں پڑا پایا، چلایا، اور کہا مسلمانو! یہ کیا حالت ہے؟ ایک شخص آگے بڑھا اور مطرب کو بوریے سے باہر نکالا، حضرت شیخ کے سامنے آیا، اپنا سارا ساز توڑ دیا اور توبہ کرلی ، مرقع فقر پہنچا، اور حضرت شیخ کے مریدوں میں داخل ہوگیا، حضرت شیخ کی وفات کے بعد سجادہ مشخیت پر بیٹھا، اس مطرب کا نام بقولِ شیخ عبداللہ انصاری، محمد اعرابی تھا، حضرت شیخ ابوبکر سوسی نے ۳۸۶ھ میں وفات پائی۔

پیرموسیٰ کہ بود شیخ جہاں
میر سوسی ست سالِ رحلت او
۳۸۶ھ

داشت با ذکر و فکر مانوسی
نیز بوبکر ھادی سوسی
۳۸۶ھ

( خزینۃ الاصفیاء )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abu-bakr-muhammad-bin-ibrahim-susi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
شیخ الاسلام ابو الحسن علی ہکاری

نام و نسب:
اسمِ گرامی:
علی ۔ کنیت: ابو الحسن ۔ لقب: شیخ الاسلام ۔ علاقہ ہکارکی نسبت سے "ہکاری" کہلاتے ہیں ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
ابولحسن علی بن احمد بن یوسف بن جعفر بن شریف عمر بن عبد الوہاب بن ابو سفیان بن حارث بن عبد المطلب بن ہاشم ۔ (خزینۃ الاصفیاء) ۔ ماضی قریب کے ایک بزرگ عالمِ دین حضرت علامہ غلام دستگیر نامی آپ کی اولاد میں سے ہیں ۔ (تونسوی)

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 409ھ، بمطابق 1018ء کو "ہکار" ( بغداد کا ایک قصبہ ہے) میں ہوئی ۔ بعض مؤلفین "ہنکاری" لکھتے ہیں، یہ غلط ہے ۔(شریف التواریخ)

تحصیلِ علم:
آپ نے تعلیم حاصل کرنے کے لیے کئی بلاد کا سفر کیا، اور کئی علماء و مشائخ سے ملے، اور اُن سے احادیث اخذ کیں، پھر اپنے وطن کو واپس آئے، لوگوں میں آپ کو بڑی قبولیت حاصل ہوئی، سب کو آپ کی نسبت بڑا اچھا اعتقاد تھا۔مکہ مکرمہ میں شیخ ابو الحسن محمد علی بن صخر الازدی سے، اور مصر میں شیخ ابا عبد اللہ محمد الفضل بن لطیف سے، اور بغداد میں ابی القاسم وغیرہ علما ءو فضلاء سے احادیث سنیں، اور آپ سے ابو زکریا یحییٰ بن عطاف الموصلی وغیرہ نے سماع کیا ۔ ( رحمۃ اللہ علیہم اجمعین)

بیعت و خلافت:
حضرت شیخ ابو الفرح علاؤ الدین محمد یوسف طرطوسی رحمۃ اللہ علیہ کے ہاتھ مبارک پربیعت کی۔ اور انہیں کی خدمت میں رہ کر خرقہ خلافت حاصل کیا ۔ روحانی بیعت حضرت رسول اکرم ﷺ ،اور حضرت امام حسن بصری، اور سلطان ابراہیم بن ادہم بلخی،اور خواجہ بایزید بسطامی سے تھی ۔ (رحمۃ اللہ علیہم اجمعین) (تحفۃ الابرار)

سیرت و خصائص:
قطب العالمین، بدر السالکین، سلطان الاولیاء والمتقین، شیخ الاسلام والمسلمین، امام الملۃ والھدیٰ، محی الشریعتہ الغرّا، مقتدائے اہلِ زمان، سرگروہ مشائخ دَوران، واقفِ رموزِ حقیقت کاشف غوامصِ معرفت، عارفِ ربانی حضرت شیخ ابوالحسن علی ہکاری رحمۃ اللہ علیہ ۔

آپ علیہ الرحمہ حضرت شیخ ابو الفرح طرطوسی رحمۃ اللہ علیہ کے اکابر خلفاء میں سے تھے ۔ آپ کثرت سے عبادت و ریاضت کرتے تھے۔ آپ بڑی خیر کے مالک، جامعِ عبادت و ریاضت ،صاحب ِ علم و حلم، صائم الدہر اور قائم الیل تھے۔

تین روز کے بعد ایک لقمہ طعام سے افطار فرماتے۔ نماز عشاء و تہجد کے درمیان دو ختم قرآن مجید کرتے۔ آپ نے "جبل ہکار" پر متواتر چالیس برس تک چلہ کیا، اس عرصہ میں آپ پر تجلی ذات کا ظہور ہوا اور عرش سے فرش تک سب کچھ منکشف ہو گیا اور بارگاہِ الٰہی سے آپ کو مقامِ محبوبیت عطا ہوا۔

آپ رحمۃ اللہ علیہ رسول اللہ ﷺ کے دینِ متین کی خدمت کیلئے ہروقت کوشاں رہتے۔لوگوں کو قرآن وسنت پر عمل کی تلقین کرتے، اور ہرقسم کی بری بدعات سے بچنے کی تلقین فرماتے، خلافِ اسلام، نظام کے خلاف مزاحمت کرتےتھے ۔ (تاریخ جلیلہ)

وصال:
آپ کا وصال یکم محرم الحرام 486ھ بمطابق 1093ء کو ہوا ۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ کا مزار پر انوار بغداد شریف میں ہے۔

ماخذ و مراجع:
شریف التواریخ ۔ خزینۃ الاصفیاء ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-abul-hasan-ali-hakkari
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
مخدوم بلال باغبانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

علامہ شیخ کبیر عارف باللہ مخدوم محمد بلال بن مخدوم محمد حسن بن مخدوم محمد ادریس سموں ۴ ربیع الاول ۱۸۵۶ھ/۱۶ جون۱۴۵۱ء کو لسبیلہ میں تولد ہوئے۔

مخدوم ادریس، سندھ کے مشہور و مقبول حاکم جام نظام الدین ثانی کے بھائی تھے، جس نے سندھ پر تقریباً پچاس سال حکومت کی۔ اسی دور میں مخدوم ادریس لسبیلہ (موجودہ بلوچستان) کے حاکم تھے۔ مخدوم حسن بن مخدوم ادریس اپنے والد کے بعد لسبیلہ کے حاکم ہوئے۔ اس سے معلوم ہوا کہ مخدوم بلال کانسبی تعلق سندھ کے جام سمہ حکمران گھرانے سے تھا۔ مخدوم صاحب کی تاریخ ماہ سال ولادت تاریخی کب میں محفوظ نہیں۔ ڈاکٹر میمن عبدالمجید سندھی کے تحقیقی مضمون مطبوعہ مہران سالگرہ نمبر ۱۹۶۲ء میں بھی درج نہیں، نہ معلوم یہ تاریخیں میمن عبدالغفور سندھی مرحوم کو کہاں سے دستیاب ہوئیں۔ خدا بھلا کرے مولانا قاضی ہدایت اللہ مشتاق مٹیاروی کا کہ انہوں نے کسی قلمی کتاب سے مخدوم صاحب کے حالات اپنے بیاض میں نقل کئے ورنہ تاریخی کتب میں تفصیلات ندارد فقط دو تین سطروں پر اکتفا کیا گیا ہے۔ (راشدی)

تعلیم و تربیت:
ایام طِفلی سے آپ کو تعلیم حاصل کرنے کا شوق تھا۔ اسلئے حصول علم کے سلسلے میں اپنا شہر چھوڑ کر گوٹھ ٹلتی(تحصیل سیوہن شریف) پہنچے۔ جہاں اس دور میں حضرت مولانا سید نور حسین شاہ بخاری ٹھٹھوی کی دینی درسگاہ کا شُہرہ تھا اس میں داخلہ لے کر تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا اور غالباً وہیں سے فارغ التحصیل ہوئے۔(مخدوم بلال باغبانی (سندھی)میمن عبدالغفور سندھی مطبوعہ لاڑکانہ ۱۹۸۲ء)

پروفیسر ڈاکٹر میمن عبدالمجید سندھی لکھتے ہیں:
آپ نے ابتدائی تعلیم ٹھٹھہ میں حاصل کی اور اعلیٰ تعلیم گوٹھ ٹلٹی (تحصیل سیوہن) میں مخدوم عمر سے حاصل کی۔ اور شادی بھی ٹلٹی میں کی۔
(مخدوم بلال مضمون نویس : ڈاکٹر عبدالمجید سندھی، مہران جنوری ۱۹۶۲ء سالگرہ نمبر)

مخدوم بلال علوم ظاہری میں بھی بڑا مرتبہ رکھتے تھے اور لوگ ان کے تبحُّرِ علمی سے استفادہ کرتے تھے، میر علی شاہ قانع ٹھٹھوی نے لکھا ہے:
’’ازالہ عارفان، واصل بحق در علم ظاہر سانے عظیم داشتہ (تحفہ الکرام)

میر معصوم بکھری (سکھر والے ) نے لکھا ہے:
’’دروازی تقوی وزھد شبیہ و نظیر نداشتہ در علم حدیث و تفسیر مھارت تامہ داشتہ و صاحب مقامات ارجمند بود‘‘
(تاریخ معصومی بحوالہ تذ کرہ صوفیائے سندھ)

بیعت و خلافت:
آپ سلسلہ عالیہ سہروردیہ کبرویہ میں دستِ بیعت ہوئے لیکن یہ معلوم نہ ہوسکا کہ آپ کن بزرگ سے بیعت تھے۔ اور کبرویہ سلسلہ سندھ میں کس بزرگ کے ذریعے پہنچا۔ پیغام لطیف (کتاب ) میں ہے کہ کبریہ سلسلہ میں مخدوم صاحب کے علاوہ لواری شریف کے بزرگوں کے بڑے بھی منسلک تھے۔‘‘
(مخدوم بلال، میمن عبدالمجید سندھی، اخبار مہران سالگرہ نمبر ۱۹۶۲ئ)

اس کی وضاحت ڈاکٹر گربخشانی کے بیان سے ہوتی ہے کہ وہ لکھتے ہیں:
’’شیخ حاجی عبداللطیف متوفی ۱۱۴۹ھ (درگاہ لواری شریف کے بانی سلطان الاولیاء خواجہ محمد زمان صدیقی کے والد نے آباء و اجداد کا سلسلہ طریقت سہروردیہ کو چھوڑ کر) نقشبندی طریقہ اپنایا۔‘‘ (لواری جا لال ص۳۹)

وحدت الوجود کے مبلغ ، صوفی بزرگ شاعر ہفت زبان حافظ عبدالوہاب قادری المعروف سچل سرمست علیہ الرحمہ کے بھی بڑے بزرگ سہروردی طریقت رکھتے تھے (مقالات قاسمی ص۱۳۷)

مولانا قاضی ہدایت اللہ مشتاق مٹیاروی کے ’’بیاض‘‘ (قلمی) سے صاحب ’’تذکرہ مشاہیر سندھ‘‘ نے آپ کا سلسلہ طریقت سہروردیہ کبرویہ کو نقل کیا ، وہ درج ذیل ہے:

٭ حضرت مخدوم بلال
٭ حضرت شیخ دوست علی سیوہانی
٭ حضرت شیخ سید شمس الدین علی ہمدانی متوفی ۷۸۶
٭ حضرت شیخ شمس الدین مزوقانی ۶۷۷ھ
٭ حضرت شیخ ابوالمکارم علاؤالدین سمنانی ۲۲،رجب ۷۳۶ھ
٭ حضرت شیخ نور الدین عبدالرحمن اسفرائنی ۱۴ جمادی الاول ۶۹۵ھ
٭ حضرت شیخ جمال الدین احمد جوزقانی ۶۶۹ھ
٭ حضرت شیخ رضی الدین علی الغزنوی ۳ ربیع الاول ۶۴۲ھ
٭ حضرت شیخ مجدد الدین بغدادی ۶۱۷ھ

٭ حضرت شیخ نجم الدین احمد بن عمر کبریٰ خوارزمی (جو کہ تاتاریوں کی جنگ میں ۱۰، جمادی الاول ۶۱۶ھ کو شہید ہوئے۔)

یہ سلسلہ آگے جاکر امام الاولیاء حضرت شیخ جنید بغدادی علیہ الرحمۃ سے جا ملتا ہے۔ (تذکرہ مشاہیر سندھ ص ۶۵)

شیخ نجم الدین کبریٰ، سہروردیہ سلسلہ کے بانی حضرت شیخ ابو نجیب عبدالقاہر سہروردی قدس سرہٗ کے بڑے خلیفہ حضر ت شیخ عمار یاسر علیہ الرحمۃ سے مستفیض ہوئے۔ ان کے وصال کے بعد حضرت ابو نجیب کے دوسرے خلیفہ حضرت شیخ روز بہاں کبیر مصری علیہ الرحمۃ سے بھی فیض پایا، وہ اصل میں گاذرون کے تھے لیکن قیام مصر میں تھا ۔ حضرت شیخ کبیر نے شیخ نجم الدین کو اپنا داماد بنا کر بیٹا بنایا۔ (سیرت بہاؤالدین زکریا۔ مہران سالگرہ نمبر)

شیخ نجم الدین کبری قدس سرہٗ سے ایک جہاں مستفیض ہوا، کثیر تعداد میں مخلوق خدا نے ان سے ہدایت پائی۔ مفسر قرآن امام فخر الدین رازی صاحب ’’تفسیر کبیر‘‘ آپ کے مرید تھے اور انہوں نے بھی آپ س
1
ے فیض پایا۔

کرامت:
ایام طِفلی ہی سے آپ کو عبادت کا ذوق و شوق تھا، ہمیشہ تسبیح و تہلیل میں مشغول رہتے ، تذکرہ نگاروں کا بیان ہے کہ ساری عمر آپ نماز روزے میں مصروف رہے۔ ریاضتوں اور مجاہدوں کی یہ کیفیت تھی کہ رات کو آپ پانی سے بھرے ہوئے ایک بڑے طشت میں بیٹھ کر ذکر و شغل کرتے ، ذکر و شغل کی وجہ سے پانی میں ایک جو ش پیدا ہوتا اور پانی چکی کی طرح گھومنے لگتا اور پانی میں یہ جوش اس وقت تک باقی رہتا تھا تاوقتیکہ صبح کو پانی دریا میں نہ ڈال دیا جاتا۔

شہباز قلندر سے عقیدت:
حضرت مخدوم بلال گذشتہ بزرگوں سے غیر معمولی عقیدت رکھتے اور ان کے مزار پر حاضری و زیارت کو اپنے لئے باعث سعادت سمجھتے تھے۔ ایک بار آپ ، سلطان العارفین، شہباز ولایت، حضرت مخدوم لعل شہباز قلندر کی زیار ت کیلئے کشتی میں بیٹھ کر سیوہن تشریف لے جارہے تھے، کشتی کا ملاح جیسا کہ ان لوگوں کی عادت ہوتی ہے گالم گلوچ و خرافات بکنے میں مصروف تھا۔ لوگ اس کی یاوہ گوئی اور ہر زہ سرائی سے تنگ آکر بار بار اس کو روکتے تھے مگر وہ کسی کی نہ سنتا تھا اور برابر اپنی بکواس میں لگا ہوا تھا ،جب معاملہ حد سے بڑھا اوروہ کسی طرح خاموش نہ ہوا تو مخدوم بلال اپنی جگہ سے اٹھے اور اپنی ٹوپی مبارکہ ملاح کے سر پر رکھ دی ٹوپی مبارک کا سر پر رکھنا ہی تھا کہ ایک عجیب و غریب تبدیلی ملاح میں پیدا ہوئی ۔ لوگوں نے دیکھا کہ وہی ملاح جو طرح طرح کی بکواس کر رہا تھا ٹوپی کے سر پر رکھتے ہی یکا یک قرآنی آیات کے معارف اور احادیث نبوی کی توضیحات کر نے لگا ، کشتی میں بیٹھنے والا ہر فرداس تبدیلی پر حیران تھا۔ یہاں تک کہ سفر پورا ہو گیا، کشتی سے اترتے وقت مخدوم صاحب نے اپنی ٹوپی اس کے سر پر سے اتار لی، ملاح کی پھر وہی حالت عود کر آئی، حسب عادت پھر وہ اپنی بک بک میں مصروف ہوگیا۔

(تحفۃ الکرام جلد۲، ص:۱۴۱، تاریخ معصومی(سندھی) ص۲۳۶ سندھی ادبی بورڈ ۱۹۵۳ء ، تذکرہ صوفیائے سندھ مؤلف اعجا زالحق قدسی)

شاعری:
تاریخی شواہد سے معلوم ہو تا ہے کہ مخدوم صاحب شاعری میں بھی ملکہ رکھتے ھتے لیلکن افسوس کہ تفصیلی حالات و شاعری محفوظ نہیں لیکن ان کی ایک رباعی صاحب مقالات الشعراء نے نقل کی ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دقیق نکات کو انہائی دل آویزی و دلکشی کے ساتھ پیش کرتے تھے۔ فرماتے ہیں:

در راہ خدا از سر قدم باید ساخت
سرمایہ اختیار کود می باید باخت
کفر ست بخودی نمائی برون بجھاں
از خویش بروں شدہ سویس می باید تاخت

(مقالات الشعراء (فارسی)

ترجمہ: راہ خدا میں عاجزی و خاکساری اختیار کرنا چاہئے۔ اپنی مرضی اور اختیار کو ترجیح نہیں دینا چاہئے۔ خود نمائی دکھاوا کرنا اس جہاں میں (اللہ والوں کیلئے) کفر(حرام) ہے۔

اپنے نفس کی شرارت کو ختم کرکے (اصلاح نفس کے بعد) اللہ تعالیٰ کے پاس جانا چاہئیے یعنی انا کا خاتمہ، نفس کی اصلاح، نیت صاف اور عاجزی لِلّٰھیت سے جو نیک کام کئے جائیں تو اس کا اجر بھی ملے گا۔

خلفاء:
اپنے دور میں حضرت مخدوم بلال کا سندھ میں علمی و روحانی اثر تھا۔ مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ حاکم سے لے کر عام رعایا اور تمام علماء و مشائخ آپ کی تعظیم تو توقیر کرتے تھے۔ ہزاروں لوگ آپ سے دست بیعت ہونے کا شرف رکھتے تھے۔ بے شمار انسانوں نے فیض پایا۔ آپ کو اپنے دو رمیں اس قدر شہرت تھی کہ دہلی کے مورخ مولانا حامد بن فضل اللہ جمالی دہلوی مصنف ’’سیر العارفین‘‘ آپ کی زیارت کیلئے آپ کی خدمت میں پہنچے تھے اور انہوں نے اس ملاقات کا تذکرہ خود سیر العارفین میں کیا ہے۔
(سیر العارفین مترجم، پروفیسر محمد ایوب قادری مرحوم ص۱۷۴)

جس قدر فیض عام ہوا خلفاء بھی اس قدر زیادہ ہوں گے۔ آپ کے بعض خلفاء کے اسماء گرامی معلوم ہوسکے ہیں وہ درج ذیل ہیں:

۱۔ حضرت مولانا سید حیدر شاہ سنائی متوفی ۹۳۷ھ درگاہ شریف حیدریہ سن اسٹیشن تحصیل سیوہن۔

۲۔ حضرت مخدوم ساہڑ لنجار: درگاہ شریف انٹر پور اسٹیشن تحصیل سیوہن شریف

مخدوم ساہڑ بہت بڑے کامل اکمل بزرگ ہوئے ہیں وہ کامل مرشد کی شناخت کے سلسلے میں فرماتے ہیں:

’’میں نے سنا ہے کہ جس شخص میں تین نشانیاں ہوں ا س کے مرید ہو کر ضرور فائدہ حاصل کریں

٭ اس کو دیکھنے سے اللہ تعالیٰ یاد آئے
٭ اس کی گفتگو آپ کے دل پر اثر کرے
٭ ان کی محفل سے اٹھنے کو دل نہ چاہے۔

(تحفۃ الکرام ص۵۴، مہران سالگرہ نمبر)

۳۔ عالم ربانی مخدوم رکن الدین ٹھٹھوی ۹۴۹ھ مکلی شریف ٹھٹھہ میں مزار شریف واقع ہے۔
۴۔ عارف باللہ حضرت مخدوم حسن بلالی
۵۔ حضرت مخدوم سعد عرف ساند، سکرنڈ ضلع نواب شاہ
۶۔ حضرت مخدوم ہنگورو، نزد مورو ضلع نو شہرو فیروز

تلامذہ:
آپ کے تلامذہ کی جماعت میں سے ایک نام دستیاب ہوا ہے:

٭ مولانا قاضی الہ دتہ سیوہانی

جو کہ شہ حسن ارغون بن شہ بیگ ارغون حاکم سندھ اور ’’تاریخ معصومی‘‘ کے مصنف میر محمد معصوم شاہ بکھری بن سید صفائی کے استاد تھے ۔ (مخدوم بلال باغبانی ص۲۳، عبدالغفور سندھی)

وصال
1
:
حضرت مخدوم بلال کی شہادت سیاسی انتقام تھا۔ مخدوم کے ابتدائی دور میں نظام الدین ثانی عرف نندو کی حکومت تھی۔ سندھ کیلئے جام ثانی کا دور امن و شانتی ، عدل و انصاف اور اشاعت علم کے حوالے سے بہترین ادوار میں شمار ہوتا ہے۔ ان دنوں سندھ کی اراضی بھی وسیع تھی، بلوچستان کا کچھ حصہ، ملتان اور بہاولپور کا کچھ حصہ ، لسبیلہ اور کَچھ کا کُچھ حصہ سندھ حکومت میں شامل تھا۔ اس سے سندھ کی وسعت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ اس سنہری دو رمیں ٹھٹہ کی نئے سرے سے دوبارہ تعمیر ہوئی، علم و فضل کا دور دورہ تھا، مدارس دینیہ ترقی پذیر تھے۔ صنعت کاری کو سرکاری سرپرستی حاصل تھی۔

ٹھٹھہ کے علاوہ بکھر، روہڑی، نصر پور، مٹیاری، دربیلو، پاٹ، باغبان، سیوہن اور سن اسلامی تہذیب اور علم و ادب کے اہم مراکز تھے۔ جام ثانی کے دور میں قندھار (افغانستان) سے شہ بیگ ارغون نے سندھ میں داخل ہو کر ڈاکوؤں کی طرح لوٹ مار کی۔ جام صاحب نے بہادر سپاہ پر مشتمل ایک بڑالشکر بھیج دیا۔ سیوی(ضلع سکھر) کے قلعہ کے پاس فیصلہ کن لڑائی ہوئی جس سے شہ بیگ کا بھائی قتل ہوا اور دیگر سپاہی ڈر کر بھاگ گئے۔ جام ثانی کے انتقال کے بعد ان کے بیٹے جام فیروز صغیر سنی میں سندھ کے حاکم ہوئے۔ صغیر سنی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے قریبی رشتہ دار جام صلاح الدین اقتدار حاصل کرنے کی غرض سے مختلف سازشیں بُن رہا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ حکومت کمزور ہوگئی۔ جام ثانی کے وزیر ’’دریا خان‘‘ اپنی حکمت و دانش سے حکومت چلا رہے تھے لیکن جیسے ہی فیروز بڑے ہوئے سازشی ٹولہ نے اس کے اور دریا خان کے درمیان ناراضگی پیدا کردی جس کی وجہ سے دریا خان استعفٰی دے کر اپنی گوٹھ چلے گئے سازشی ٹولہ شہ بیگ سے ملے ہوئے تھے شاید اُنہیں کی غلط صحبت کی وجہ سے شاہ فیروز شراب و کباب کا متوالہ ہوگیا۔ موقعہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ۹۲۶ھ کوٹھٹہ پر حملہ کیا یہ سن کر جام فیروز ، دریا خان آپکے پاس خود جا کر منوا کر لائے۔ دریا خان لشکر کے ساتھ میدان میں آئے لیکن کمزور حکومت کے سپاہی بھی کمزور ہو جاتے ہیں لہٰذا جام فیروز کو اپنی عیاشیوں خوش گپیوں کے سبب شکست ملی۔ (تاریخ سندھ قدوسی)

دریاں خان قتل ہوئے جام فیروز ٹھٹہ چھوڑ کر بھاگ گئے بہر حال فیروز نے سندھ کا ایک حصہ شہ بیگ کو دے کر اپنی جان بچالی۔ شہ بیگ نے قبضہ جمانے کے بعد ۱۱ محرم الحرام تا ۲۰ محرم تک ٹھٹہ میں رہ کر ٹھٹہ کو تہس نہس کیا۔ اسلامی مرکز ٹھٹہ میں قتل عام کیا اور شہریوں کو خوب لوٹا۔

(تاریخ معصومی بحوالہ مخدوم بلال سالگرہ نمبر ۱۹۶۲ئ)

افسوسناک المیہ یہ ہے کہ موجودہ پاکستان کی تاریخ کو اٹھا کر دیکھ لیں انگریز سے برسوں پہلے ہماری دھرتی پر ظالمانہ قبضہ جمانے اور ڈاکوئوں کی طرح لوٹنے والے اسلامی مراکز کو تباہ کرنے والے، اسلامی تاریخی ورثہ کو جلانے والے فقط اپنے دبدبہ اور اپنی سلطنت کو وسیع دکھانے اور اپنی نفسانی غرضوں کو پورا کرنے کیخاطر مسلمان ریاستوں پرخونی حملہ کرنے والے شہروں کو تاراج کرنے والے غیر نہیں تھے بلکہ اپنے نام نہاد سرکش مسلمان حکمران ہی ہیں ان میں ایک شہ بیگ بھی تھا (راشدی)

شہ بیگ ٹھٹہ پر قبضہ کرنے کے بعد ٹلٹی پہنچا ٹلٹی میں کوئی مقابلہ کرنے کیلئے تیار نہیں تھا لیکن حضرت مخدوم بلال کی مساعی جمیلہ کی وجہ سے بعض لوگ لڑنے کیلئے تیار ہوگئے اور یہ رپورٹ شہ بیگ کو پہنچائی گئی ۔ (تاریخ معصومی)

اور یقینا ان باتوں نے شہ بیگ کے وجود میں آگ لگائی ہوگی۔

بہر حال بعض سامنے آنے والوں کو لشکرشہ بیگ نے بے دردی سے شہید کر دیا اور ٹلٹی قلعہ پر قبضہ جما لیا طویل اقتباس دینے کی وجہ یہ ہے کہ مخدوم بلال کی شہادت کے دوسبب سامنے آتے ہیں:

۱۔ شاہی خاندان جام صاحب سے مخدوم صاحب کی قریبی رشتہ داری
۲۔ ٹلٹی پر قبضہ کے دوران وہاں کے لڑنے والوں میں سپہ سالار حقیقت میں حضرت مخدوم تھے۔

لہٰذا شہ بیگ نے اپنے دشمن کو پہلے سخت ذہنی تکلیف دینا چاہی، اس کے بعد قتل کا منصوبہ بنایا۔ بھاری جرمانے بھی حضرت مخدوم اور ان کے خلفاء نے ادا کئے جنہیں غنڈہ ٹیکس کہا جاسکتا ہے اس کے باوجود بیگ کا غصہ ٹھنڈا نہ ہوا بالآخر ایک روز بیگ نے درباری مولویوں سے حضرت مخدوم کے خلاف قتل کا فتویٰ جاری کراکے ۹۲۹ھ کو حضرت مخدوم بلال کو تیل کی چکی میں ڈال کر سخت تکلیف دے کر شہید کر وادیا۔

(تاریخ معصومی ، مخدوم بلال مہران سالگرہ نمبر ۱۹۶۲ئ)

مولانامشتاق مٹیاروی کے نوٹ بُک مطابق آپ نے یکم محرم الحرام ۹۲۹ھ/۱۵۲۲ء کو شہادت کا جام نوش کیا اور آپ کا سالانہ عرس بھی یکم محرم کو ہوتا ہے جس سے مذکورہ تاریخ کو تقویت ملتی ہے۔

آپ نے جان تو دے دی لیکن ظالم حاکم کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا، اس کا درباری بننا منظور نہیں کیا، حقیقت میں ظالم کا ساتھ دینے والا بھی ظالم ہے۔ یہی سبق تاریخ کربلا سے ملتا ہے ، جس پر ہر دور میں علمائے حق اہل سنت، مشائخ طریقت اور صوفیائے کرام نے اپنے اپنے دور میں عمل کرکے دکھایا ہے۔ اس طرح تاریخ اپنے آپ کو دُہراتی ہے۔

باغبان میں
1
شہید ہوئے اور وہیں مدفون ہوئے لیکن اب یہ علاقہ آپ کے نام سے موسوم ہے۔ ضلع دادو کے قریب آپ کی عظیم الشان خانقاہ ہے۔ چند سال پہلے درگاہ شریف ازسر نو تعمیر کیا گیا ہے اور جامع مسجد بلال وہی ہے جو کہ ۱۳۵۶ھ/۱۹۳۸ء کو رئیس محبوب خان وگن نے اس دور میں ایک لاکھ روپے میں بنوائی تھی۔ (مخدوم بلال باغبانی) آج بھی درگاہ شریف مرجع خلائق ہے ہر وقت لوگوں کا مجمع نظر آتا ہے۔ زائرین تلاوت قرآن حکیم ذکر شریف اور درود شریف کے ورد میں مصروف ہوتے ہیں۔ کئی عرصہ تک سالانہ عرس میں فقیر راقم الحروف راشدی نے شرکت کی سعادت حاصل کی ، سالانہ عرس مبارک مسجد شریف کے وسیع و عریض صحن میں منعقد ہوتا ہے اور تمام بدعات و خرافات سے پاک ہوتا ہے۔ ساری رات مدح خوانی نعت خوانی اور علماء اہل سنت کے خطابات ہوتے ہیں۔ مثلاً مناظر اسلام مفتی عبدالرحیم سکندری، مفسر قرآن مولانا محمد ادریس ڈاہری، خطیب اہل سنت مولانا نالے مٹھو بگھیو مرحوم وغیرہ۔

مولانا مشتاق مٹیاروی (متوفی ۱۹۳۵ئ) تقریباً ستر اسی سال قبل آپ کی شان میں برزبان فارسی منقبت کہی ہے وہ درج ذیل ہے

شہنشاہ باغبان مخدوم مشفق
غریق بحر عرفان پائے تافرق
بلال ابن الحسن سلطان سمہ
بتائیدات سبحانی موفق
چوبہرہ اشنر، ما اوذیت، موھوب
نمودہ اش قتل قوم چغدہ ناحق
شدہ چغدہ، چو چغدان چغدو یران
دھو جی مع الشھداء یرزق
بعزہ ماہ عاشورا مکرم
شہادت شد نصیبش قدرت حق
چو پر سیدم زھا تف وصف سالش
بجو از لفط خوش آں خاسہ حق
اگر جوئی تو تاریخ وصالش
بجو از لفظ خوش آں خاصہ حق
ازاں منظوم شد تاریخ مذکور
کہ ارد صالح رحمت حق

توجہ فرمائیں:
آخر میں تاریخ کو درست رکھنے کی غرض سے گذارش ہے کہ درگاہ شیخ جمالی واقع مکلی ٹھٹہ کے صحن میں مدفون مخدوم بلال اور ہمارے ممدوح بزرگ مخدوم بلال باغبانی دو الگ الگ بزرگ ہیں ایک نہیں ہیں۔ مؤلف تذکرۂ صوفیائے سندھ مولانا اعجاز الحق قدوسی کو سخت مغالطہ ہوا ہے، انہوں نے دونوں کو ایک ہی شمار کیا ہے۔

( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )

https://scholars.pk/ur/scholar/makhdoom-bilal-baghbani
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
صدرُ العلماء مفتی وجیہ الدین کاکوروی

محترم ،فاضل ، مفتی وجیہُ الدین بن علیم الدین بن نجم الدین کا کوروی ، نیک علماء میں سے ہیں ـ

ولادت:
۱۲۳۲ھ میں پیدا ہوئے ـ

تعلیم:
اپنے والد اور شیخ فضل اللہ، عثمانی نیوتینی سے تمام علوم حاصل کیے شیخ حسین احمد ملیح آبادی اور شیخ آل احمد بن محمد امام پھلواروی سے حدیث کی سند حاصل کی ۔

اور افتاء کے عہدہ پر منتخب کر لے گئے پھر آہستہ آہستہ دوسرے عہدے کی طرف بھی منتقل کر دئے گئے، بالآخر صدر العلماء منتخب ہو گئے ـ

آپ بہت ہی نیک، دین دار، پرہیز گار تھے لوگوں کو آپ سے ہیبت آتی تھی، مرتبہ کے بہت اونچے تھے ۔ آپ کا فارسی زبان میں شرح وقایہ میں عبادات کے مسائل کا ترجمہ تھا ۔

وصال:
یکم محرم ۱۳۰۵ھ میں آپ کی وفات ہوئی جیسا کہ شیخ منظور الدین کاکوروی کی کتاب مجمع العلماء میں ہے ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/mufti-wajihuddin-kakorvi
1