🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
30-12-1444 ᴴ | 19-07-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
30-12-1444 ᴴ | 19-07-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت شیخ ابو سعید بن ابو الخیر فضل اللہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

آپ کا اسم گرامی فضل اللہ تھا اور خراسان کے رہنے والے تھے آپ مقتدائے اہل طریقت اور پیشوائے اہل حقیقت تھے صاحب علوم ظاہر و باطن اور مشرف القلوب تھے دنیا آپ کی گفتگو سے مسخر ہوجاتی تھی حضرت شیخ ابوالفضل بن حسن سرخسی﷫ تھے چند واسطوں سے سیّد الطائفہ جنید بغدادی کے مرید تھے آپ شیخ ابوالفضل حسن اور وہ ابوالنصر سراج اور وہ ابو محمد مرتعش اور وہ حضرت جنید بغدادی کے مرید تھے شیخ ابوالفضل کی وفات کے بعد آپ نے شیخ عبدالرحمٰن سلمی﷫ سے فرقہِ خلافت حاصل کیا اور بعض مشکلات کے حل کے لیے ایک سال تک شیخ ابوالعباس کی صحبت میں رہے۔

کہتے ہیں ایک رات شیخ ابوالعباس اپنے صومعہ سے باہر نکلے آپ نے کسی وقت فصد کرایا تھا اتفاقاً زخم کھل گیا اور خون جاری ہوگیا حضرت ابوسعید کو خبر ہوئی تو آپ کے پاس پہنچے اور زخم دھو کر دوبارہ باندھ دیا اور شیخ کے خون آلودہ کپڑے اتار دئیے اور انہیں دھو کر حضرت کی خدمت میں پیش کیے حضرت شیخ نے فرمایا کہ ان کپڑوں کو میرے سامنے خود پہن لو آپ نے حسب الحکم حضرت شیخ کا لباس پہن لیا یہ کپڑے پہنتے ہی آپ کی قلبی مشکلات دور ہوگئیں اور مراتب میں عروج حاصل ہوا علی الصباح احباب مجلس نے آپ کو لباس شیخ میں دیکھا تو بڑے متعجب ہوئے حضرت شیخ نے فرمایا رات ایک کیفیت طاری ہوئی تھی ابوسعید اپنا نصیب اور حصہ لے گئے۔

ایک دن آپ کے پاس دو شخص آئے آپ کے پاس بیٹھ گئے اور باتیں کرنے لگے اور کہنے لگے حضرت ہمیں ایک مسئلہ میں راہنمائی فرمائیں ایک نے کہا ازل وَابد کا اندوہ ہی تمام ہے دوسرے نے کہا ازل و ابد کی خوشی ہی سب کچھ ہے آپ کا کیا خیال ہے آپ نے فرمایا۔ قصاب کے بیٹے کا گھر اندوہ سے پُر ہے اور خوشی وہاں نہیں آتی۔ لَیسُ عِند رَبْکَمُ صَباحٌ ومسَاع تمہارے اللہ کے نزدیک نہ صبح ہے نہ شام جب یہ دونوں حضرات چلے گئے تو لوگوں نے آپ سے پوچھا حضرت یہ کون تھے آپ نے فرمایا ایک تو حضرت ابوالحسن خرقانی تھے اور دوسرے اَبُو عبداللہ داستانی تھے﷫۔

حضرت شیخ ابو سعید ابوالخیر نے علوم تصوّف میں بہت سے اشعار کہے ہیں۔ ایک رباعی میں فرماتے ہیں۔

چشم ہمہ اَشک شدہ چو از غم بگر یست
ازمن اثرے نماند این عشق ازچیست

در عشق تو بے چشم ہمی باید زیست
چوں من ہمہ معشوق شدم عاشق کیست

رغم دوست میں میری آنکھیں رُو رُو کر آنسو بن گئی ہیں تیرے عشق میں تو بے چشم ہی جیا جاسکتا ہے یہ عشق کیا ہے؟ مجھ سے تو کچھ اثر نہیں رہا چونکہ میں تمام تر معشوق ہوچکا ہوں آخر عاشق کون ہے؟

بزرگانِ دین نے ایک رباعی ایسی یاد کی ہے جو حضرت کے منہ سے نکلی اور پھر اسے لوگ بخار کی حالت میں مریض کے گلے میں باندھ دیتے ہیں۔ جس سے شفا ہوجاتی ہے وہ رباعی یوں ہے۔

اے درصفتِ ذات تو حیران کہہ دمہ
علّت توستانی وشفاء ہم تو دہی

و ز جملہ جہاں خدمت درگاہ توبہ
یارب توبہ فضل خویش بستاں دبدہ

اے ذات اقدس تیری صفتِ ذات میں چھوٹے بڑے سب حیران ہیں تمام جہاں سے تیرے ہی دروازے کی خدمت بہتر ہے تو ہی بیماری دیتا ہے اور توہی شفا بخشتا ہے، اے اللہ! تو اپنے فضل و کرم سے لے اور عطاکر۔

ایک شخص نے حضرت ابو سعید کو بتایا کہ فلاں ولی اللہ تو پانی پر چلنا جانتا ہے آپ نے فرمایا یہ بڑا آسان کام ہے ہمارے ہاں تو مینڈک بھی پانی میں تیرتے پھیرتے ہیں پھر اس نے کہا ’’فلاں ولی اللہ ہوا میں اڑتے ہیں‘‘ آپ نے فرمایا ’’یہ بھی آسان کام ہے زاغ و زغن ہوا میں اڑتے پھرتے ہیں‘‘ اس نے کہا کہ ’’فلاں ولی اللہ ایک قدم ایک شہر میں اور دوسرا قدم دوسرے شہر تک اٹھاتا ہے‘‘ آپ نے فرمایا ’’یہ کمال تو شیطان میں بھی پایا جاتا ہے‘‘ آپ نے فرمایا ’’ان چیزوں کی بارگاہ الٰہی میں کوئی عزت و منزلت نہیں ہے اصل مقام عظمت یہ ہے کہ وہ خلق خدا میں رہے امور دنیا میں حصہ لے زن و فرزند میں زندگی گزارے مخلوق خدا سے ملے جلے مگر ایک لحظہ کے لیے یاد خداوندی سے غافل نہ رہے اور ذکر خداوندی کو فراموش نہ کرے۔‘‘

شیخ ابو سعید﷫ کی تاریخ ولادت بروز اتوار یکم ماہ محرم ۳۵۷ھ ہے مگر تاریخ وفات بروز جمعہ چہارم ماہ شعبان ۴۰۴ھ ہے آپ نے وصیّت فرمائی تھی کہ یہ رباعی آپ کے جنازے کے ساتھ بآوازبلند پڑھی جائے۔

خوبتر حپسیت زین بعالَم کار
باشد اندوہ او سراپا فرح

دوست با دوست رفت یار بیار
گررَود نزد دوست عاشق زار

آپ کی تاریخ وفات ان اشعار سے بھی برآمد ہوتی ہے۔

بو سعید آں خیر دین فضل جہاں
سالک معصوم شد تولید او
۳۵۷ھ

بہر عالم در دوعالم مقتدا
رحلتش آمد سعید راہنما
۴۴۰ھ

سعید راہنما
سعید نامدار
محرم بوسعید
سلطان سعید
۴۴۰ھ

ولی زمان بوسعید
۴۴۰ھ

( خزینۃ الاصفیاء )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-abu-saeed-fazlullah
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت ابوبکر محمد بن ابراہیم سوسی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

محمد بن ابراہیم الصونی السوسی رحمۃ اللہ علیہ شام میں پیدا ہوئے شیخ عمود احمد کوتانی رحمۃ اللہ علیہ سے روحانی نسبت قائم ہوئی نفحات الانس میں لکھا ہے کہ ایک رات شیخ ابوبکر سماع کی مجلس میں بیٹھے تھے ایک مطرب نے یہ شعر پڑھا۔

القدم اخوان الصدق منہم نسبت
من المودت لم یعدل بہ نسبت

یہ شعر سنتے ہیں شیخ اور اہل مجلس وجد میں آگئے مطرب اور قوال بھی بے ہوش ہوگئے مطرب نے تو حضرت شیخ کے مصلے پر قے کردی، حضرت شیخ نے فرمایا جس بوریے پر مطرب نے قے کی ہے، اس میں لپیٹ کر اسے ایک کونے میں لٹا دو، صبح ہوئی تو مطرب ہوش میں آیا، اپنے آپ کو ایک بوریے میں پڑا پایا، چلایا، اور کہا مسلمانو! یہ کیا حالت ہے؟ ایک شخص آگے بڑھا اور مطرب کو بوریے سے باہر نکالا، حضرت شیخ کے سامنے آیا، اپنا سارا ساز توڑ دیا اور توبہ کرلی ، مرقع فقر پہنچا، اور حضرت شیخ کے مریدوں میں داخل ہوگیا، حضرت شیخ کی وفات کے بعد سجادہ مشخیت پر بیٹھا، اس مطرب کا نام بقولِ شیخ عبداللہ انصاری، محمد اعرابی تھا، حضرت شیخ ابوبکر سوسی نے ۳۸۶ھ میں وفات پائی۔

پیرموسیٰ کہ بود شیخ جہاں
میر سوسی ست سالِ رحلت او
۳۸۶ھ

داشت با ذکر و فکر مانوسی
نیز بوبکر ھادی سوسی
۳۸۶ھ

( خزینۃ الاصفیاء )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abu-bakr-muhammad-bin-ibrahim-susi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
شیخ الاسلام ابو الحسن علی ہکاری

نام و نسب:
اسمِ گرامی:
علی ۔ کنیت: ابو الحسن ۔ لقب: شیخ الاسلام ۔ علاقہ ہکارکی نسبت سے "ہکاری" کہلاتے ہیں ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
ابولحسن علی بن احمد بن یوسف بن جعفر بن شریف عمر بن عبد الوہاب بن ابو سفیان بن حارث بن عبد المطلب بن ہاشم ۔ (خزینۃ الاصفیاء) ۔ ماضی قریب کے ایک بزرگ عالمِ دین حضرت علامہ غلام دستگیر نامی آپ کی اولاد میں سے ہیں ۔ (تونسوی)

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 409ھ، بمطابق 1018ء کو "ہکار" ( بغداد کا ایک قصبہ ہے) میں ہوئی ۔ بعض مؤلفین "ہنکاری" لکھتے ہیں، یہ غلط ہے ۔(شریف التواریخ)

تحصیلِ علم:
آپ نے تعلیم حاصل کرنے کے لیے کئی بلاد کا سفر کیا، اور کئی علماء و مشائخ سے ملے، اور اُن سے احادیث اخذ کیں، پھر اپنے وطن کو واپس آئے، لوگوں میں آپ کو بڑی قبولیت حاصل ہوئی، سب کو آپ کی نسبت بڑا اچھا اعتقاد تھا۔مکہ مکرمہ میں شیخ ابو الحسن محمد علی بن صخر الازدی سے، اور مصر میں شیخ ابا عبد اللہ محمد الفضل بن لطیف سے، اور بغداد میں ابی القاسم وغیرہ علما ءو فضلاء سے احادیث سنیں، اور آپ سے ابو زکریا یحییٰ بن عطاف الموصلی وغیرہ نے سماع کیا ۔ ( رحمۃ اللہ علیہم اجمعین)

بیعت و خلافت:
حضرت شیخ ابو الفرح علاؤ الدین محمد یوسف طرطوسی رحمۃ اللہ علیہ کے ہاتھ مبارک پربیعت کی۔ اور انہیں کی خدمت میں رہ کر خرقہ خلافت حاصل کیا ۔ روحانی بیعت حضرت رسول اکرم ﷺ ،اور حضرت امام حسن بصری، اور سلطان ابراہیم بن ادہم بلخی،اور خواجہ بایزید بسطامی سے تھی ۔ (رحمۃ اللہ علیہم اجمعین) (تحفۃ الابرار)

سیرت و خصائص:
قطب العالمین، بدر السالکین، سلطان الاولیاء والمتقین، شیخ الاسلام والمسلمین، امام الملۃ والھدیٰ، محی الشریعتہ الغرّا، مقتدائے اہلِ زمان، سرگروہ مشائخ دَوران، واقفِ رموزِ حقیقت کاشف غوامصِ معرفت، عارفِ ربانی حضرت شیخ ابوالحسن علی ہکاری رحمۃ اللہ علیہ ۔

آپ علیہ الرحمہ حضرت شیخ ابو الفرح طرطوسی رحمۃ اللہ علیہ کے اکابر خلفاء میں سے تھے ۔ آپ کثرت سے عبادت و ریاضت کرتے تھے۔ آپ بڑی خیر کے مالک، جامعِ عبادت و ریاضت ،صاحب ِ علم و حلم، صائم الدہر اور قائم الیل تھے۔

تین روز کے بعد ایک لقمہ طعام سے افطار فرماتے۔ نماز عشاء و تہجد کے درمیان دو ختم قرآن مجید کرتے۔ آپ نے "جبل ہکار" پر متواتر چالیس برس تک چلہ کیا، اس عرصہ میں آپ پر تجلی ذات کا ظہور ہوا اور عرش سے فرش تک سب کچھ منکشف ہو گیا اور بارگاہِ الٰہی سے آپ کو مقامِ محبوبیت عطا ہوا۔

آپ رحمۃ اللہ علیہ رسول اللہ ﷺ کے دینِ متین کی خدمت کیلئے ہروقت کوشاں رہتے۔لوگوں کو قرآن وسنت پر عمل کی تلقین کرتے، اور ہرقسم کی بری بدعات سے بچنے کی تلقین فرماتے، خلافِ اسلام، نظام کے خلاف مزاحمت کرتےتھے ۔ (تاریخ جلیلہ)

وصال:
آپ کا وصال یکم محرم الحرام 486ھ بمطابق 1093ء کو ہوا ۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ کا مزار پر انوار بغداد شریف میں ہے۔

ماخذ و مراجع:
شریف التواریخ ۔ خزینۃ الاصفیاء ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-abul-hasan-ali-hakkari
1