🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
29-12-1444 ᴴ | 18-07-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
29-12-1444 ᴴ | 18-07-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
سوال: وہابیوں کے پاس اپنے لڑکوں کو پڑھانا کیسا ہے اور جو ان کے پاس اپنے لڑکے کو پڑھنے کے لئے بھیجے اس کے واسطے کیا حکم ہے؟
الجواب: حرام حرام حرام، اور جو ایسا کرے بد خواہ اطفال و مبتلائے آثام ۔
▬▬▬
طلسم تصاویر سے خالی نہیں اور تصاویر حرام ہے ـ فتاوی رضویہ جلد²³ صفحہ⁹³
▬▬▬
سند کوئی چیز نہیں، بہتیرے سند یافتہ محض بے بہرہ ہوتے ہیں ـ (ایضاً ج:²³ ص:⁶⁸⁴)
▬▬▬
سوال: استاد اپنے شاگرد بچوں کو بغیر کسی قید و شرط کے بدنی سزا دے سکتا ہے یا نہیں؟ کیا بچوں کو اجرت لے کر پڑھانے یا بلا اجرت پڑھانے والے کے لئے الگ الگ ضابطہ ہے؟
جواب: استاد کا بدنی سزا دینا اور سرزنش سے کام لینا جائز ہے مگر یہ سزا لکڑی ڈنڈے وغیرہ سے نہیں بلکہ ہاتھ سے ہونی چاہئے اور ایک وقت میں تین مرتبہ سے زائد پٹائی نہ ہونے پائےـ

نماز نہ پڑھے تو:
جب بچے کی عمر دس سال ہو جائے تو نمازی بنانے کے لئے اسے ہاتھ سے سزا دی جائے لاٹھی سے نہیں اور تین مرتبہ سے تجاوز بھی نہ کیا جائے۔ ف ر
▬▬▬
عورتوں کو لکھنا سکھانا:
عورتوں کو لکھنا سکھانا شرعًا ممنوع و سنت نصارٰی و فتح باب ہزاران فتنہ اور مستان سرشار کے ہاتھ میں تلوار دینا ہےـ ف ر
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
مجاہد اہلسنت حضرت علامہ مولانا نصر اللہ برڑو رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

مولانا نصر اللہ برڑو، گوٹھ محمد صلاح برڑو (تحصیل شکار پور) میں ایک غریب کسان کے گھر ۱۹۴۶ء کو تولد ہوئے۔ دادا جان علی مراد برڑو نے ’’نصر اللہ‘‘ نام تجویز کیا۔

تعلیم و تربیت:
ابتدائی تعلیم کا آغاز اپنے گوٹھ کے مکتب سے کیا۔ اس کیب عد مولانا فضل احمد نقشبندی آپ کو عظیم دینی درسگاہ مدرسہ دار الفیض سونہ جتوئی شریف (تحصیل لاڑکانہ) میں داخل کروادیا۔ جہاں آپ نے عالم باعمل، سوفی باصفا حضرت مفتی محمد قاسم جتوئی مدظلہ العالی اور حضرت مولانا محمد عیسیٰ سے تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد دار العلوم غوثیہ رضویہ سکھر میں داخلہ حاصل کیا جہاں پر شیخ الحدیث مفتی محمد حسین قادری علیہ الرحمۃ مناظر اہل سنت مولانا حبیب احمد نقشبندی (حال کوئٹہ) مولانا محمد ابراہیم سیالوی، مولانا منیر الزمان اور مولان امحمد یعقوب سے اکتساب فیض کیا۔ ۱۹۷۰ء میں دارالعلوم غوثیہ میں جلسہ ہوا جس میں آپ کی دستار فضیلت ہوئی۔

۱۹۶۲ء کو پیر طریقت حضرت سید زین العابدین شاہ جیلانی علیہ الرحمۃ درگاہ نورائی شریف (تحصیل ٹنڈو محمد خان) کے ہاتھ پر سلسلہ عالیہ قادریہ میں بیعت ہوئے۔

درس و تدریس:
بعد فراغت اپنے گوٹھ واپس آئے اور امامت خطابت و تعلیم دین میں مصروف ہوگئے۔ ۱۹۷۱ء میں آپ کے دیرینہ دوست مولانا پروفیسر عبدالغفور سومرو مرحوم کی دعوت پر ان کی مسجد غوث اعظم شاہی باغ روڈ شکار پور میں امام و خطیب مقرر ہوئے۔ چند ماہ کے بعد آپ کے والد کی طبیعت علیل ہوگئی جس کے سبب انہیں سول ہسپتال لاڑکانہ داخل کرایا گیا وہاں والد کی خدمت میں پانچ ماہ صر ف ہوئے۔ گوٹھ واپس پہنچے تو مسجد چھوٹ چکی تھی لیکن جلد ہی مولانا مفتی عبدالفتاح صڈیقی مرحوم کی دعوت پر شکار پور تشریف لائے اور شکار پور کی مرکزی جامع مسجد لکھی در میں امام و خطیب مقرر ہوئے۔ مسجد محکمہ اوقاف میں ہونے کی وجہ سے مخالفین نے آپ کی سخت مخالفت کی ار اپنے امام کو کھڑا کرنے کا بھر پور زور لگایا لیکن اللہ تعالیٰ نے حق کو فتح و نصرت عطا فرمائی اور آپ تاحیات اس کے امام و خطیب رہے۔

مدرسہ کا قیام:
آپ نے بعض احباب کے ساتھ مل کر شکار پور شہر میں درگاہ شریف حضرت حاجی سید عبداللطیف شاہ جیلانی علیہ الرحمۃ کے زیر سایہ پلاٹ پر ۱۹۸۰ء میں ’’دار العلوم غوثیہ لطیفیہ‘‘ کی بنیاد رکھی۔ حضرت مولانا حافظ قاری گل محمد قاسمی (لاڑکانہ) اور آپ نے مدرسہ میں درس و تدریس کا آغاز کیا ۔ شکار پور کو وہابیت کا مرکز سمجھاجاتا تھا اور وہاں اہل سنت و جماعت کو کام کرنے میں بڑی رکاوٹیں پیش آتی تھیں۔ لیکن اس مرد مجاہد نے صبر و ہمت سے تمام مشکلات کا مقابلہ کیا اور استقامت و جہد مسلسل سے دین کا کام جاری رکھا۔ نہ مخالفین سے دبے نہ ان کے سامنے ہھتیار ڈالے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عظیم کامیابی سے ہمکنار کیا۔ آج دارالعلوم کی وسیع و عریض عمارت شکار پور شہر کے وسط میں بڑی شان سے کھڑی ہے جو کہ آپ کے خلوص اور انتھک محنت و لگن کا نتیجہ ہے۔

عادات و خصائل:
مولانا ہمارے دوست تھے، ان کو قریب سے دیکھا ، ساتھ تنظیمی کام کئے لاڑکانہ شکار پور کو ئی دور نہیں قریب کے شہر ہیں۔ محبت ہو تو دوری نظر نہیں آتی۔مولان اعلم دوست، وعدے کے سچے، زبان کے پکے، وقت کی قدر و قیمت جانتے تھے اس لئے وقت سے بھر پور فائدہ اٹھاتے تھے، کام کرنے کا سلیقہ رکھتے تھے، مستقل مزاج پر جوش لیکن باہوش ، سادگی پسند، اخلاق و محبت کے پیکر تھے۔ شکار پور میں کئی مساجد و مدارس کو قائم فرمایا۔ شکار پور میںجماعت اہلسنت پاکستان اور جمعیت علمائے پاکستان کا تنظیمی کام کیا، انجمن طلباء اسلام پاکستان کی شاخ قائم کی۔ مدرسہ کے سالانہ جلسہ میں سکھر شکار پور لاڑکانہ کے تمام نامور علماء اہل سنت و مشائخ اہلسنت کو مدعو فرماتے تھے، سب کے ساتھ رہتے اور سب کے ساتھ مل کر تنظیمی و مسلکی کام سر انجام دیتے تھے۔
1
سفر حرمین شریفین:
۱۹۹۷ء میں آپ نے حج بیت اللہ اور مدینہ منورہ میں روضہ رسول ﷺ کی حاضری کی سعادت حاصل کی۔

تلامذہ:
آپ کے نامور تلامذہ مندرجہ ذیل ہیں:
٭     مولانا عبدالوہاب بروہی کٹا شاخ تحصیل ٹھل
٭     مولانا لے مٹھو پنہور گڑھی یاسین
٭     مولانا عبدالرحمن پنہور گڑھی یاسین
٭     مولانا عطاء اللہ ابڑو ڈیرہ مراد جمالی (بلوچستان)

شادی و اولاد:
آپ نے دو شادیاں کی ان کے بطن سے تیرہ(۱۳) بیٹے اور آٹھ بیٹیاں تولد ہوئیں۔ چار بیٹے عالم دین، آپ کے شاگرد، آپ کے قائم کردہ مدرسہ کے فاضل اور آپ کے مشن کو جاری کئے ہوئے ہیں۔ ان کو دیکھ کر یقینا مولانا کی روح خوش ہوتی ہوگی۔ پانچ بیٹوں کے نام درج ذیل ہیں:

۱۔ ابو الطاہر مولانا شفیق احمد قادری ، سابق صدر انجمن طلباء اسلام، پاکستان
۲۔ مولانا قاری محمد صدیق قادری
۳۔ مولانا ابو الفضل لطف اللہ قادری
۴۔ مولانا حبیب احمد قادری
۵۔ حافظ محمد احمد قادری

وصال:
مولانا نصر اللہ قادری کو سحری کے وقت پیٹ میں معمولی درد کی شکایت ہوئی اس کے بعد بلند آواز سے الصلوٰۃ والسلام علیک یا رسول اللہ کی صدائیں بلند کی اور اس دوران جسم سے روح پرواز کر گئی۔ ۳۰ ذوالحجہ ۱۴۲۱ھ بمطابق ۶ اپریل ۲۰۰۰ء بروز جمعرات ۵۴ سال کی عمر میں انتقال کیا ارو اسی روز بعد نماز عصر صاحبزادے مولانا شفیق احمد کی اقتداء میں نماز جنازہ ادا کی گئی اور آپ کے قائم کردہ مدرسہ مجیدیہ تعلیم القرآن میں آخری آرام گاہ بنی۔

(مولانا شفیق احمد شکار پوری نے حافظ عبدالستار ابڑو کی وساطت سے مواد بھجوایا اسی سے مضمون ترتیب دیا گیا ہے)

( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )

https://scholars.pk/ur/scholar/mujahid-e-ahlesunnat-hazrat-allama-molana-nasrullah
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
हमारी बेटी ऐसी वैसी नही है

आज बेटी खुद बाजा़र से अपनी पसंद के कपड़े खरीद कर लाई है और बाप ,माँ और भाई बहुत खुश हैं के लड़की समझदार हो गयी है।
इस तरक़्क़ी से घर मे किसी को तकलीफ़ नही है लेकिन अगर कोई दीनी इल्म रखने वाला "मौलवी टाइप शख्स" इस "तरक़्क़ी" को गलत कहने की जसारत कर बैठे तो उसे फौरन जवाब दिया जाता है के "हमारी बेटी ऐसी वैसी नही है" अब उन्हें कौन समझाए के किसी की भी बेटी पैदाइशी "ऐसी वैसी " नही होती।

आप को भले ही अपनी बेटी पर भरोसा हो लेकिन हम तो इतना ही जानते है के वो भी इंसान हैं।
आप कुछ भी कहें लेकिन ये सच है के वो गुनाहों से मासूम नही है।
आपकी नज़रो में आपकी बेटी का कोई दुश्मन नही है लेकिन एक खुला दुश्मन है जिसे शैतान कहा जाता है।
ये भी जान लीजिए के जितनी लड़कियां लड़कों के साथ भाग गयी, जिनके साथ ज़बरदस्ती ज़िना किया गया और जिन्होंने खुदखुशी कर ली वो सब लड़कियां भी पैदाइशी "ऐसी वैसी" नही थी बल्कि कईयो ने मिलकर कर उसे "ऐसी वैसी" बना डाला।

हमने इशारे में में बहुत कुछ कहा है अगर आप समझ गए तो फिर ये भी समझ लीजिए के ये "तरक़्क़ी" नही है।
आप नही समझे तो फिर आप की बेटी तो स्कूटी चलाना जानती ही है बस चाबी दे दीजिए और पैसे या कार्ड दे दीजिए ताकि वो भी इस ईद पर अपने पसंद की शॉपिंग कर सके।

वैसे दीनी इल्म रखने वाले "मौलवी टाइप लोग" अगर ज़्यादा बोले तो आप बिलकुल तवज्जोह ना दे क्यों के आप उनसे बेहतर जानते है के "तरक़्क़ी" किसे कहेते है और आप की बेटी भी
"ऐसी वैसी" तो है नही।

अब्दे मुस्तफा
1
Humari Beti Aisi Waisi Nahin Hai

Aaj Beti Khud Bazaar Se Apni Pasand Ke Kapde Khareed Kar Laayi Hai Aur Baap, Maa Aur Bhai Bahut Khush Hain Ke Ladki Samajhdar Ho Gayi Hai
Is Taraqqi Se Ghar Mein To Kisi Ko Takleef Nahin Hai Lekin Agar Koi Deeni Ilm Rakhne Waala "Molvi Type Shakhs" Is "Taraqqi" Ko Ghalat Kehne Ki Jasarat Kar Baithe To Use Fauran Jawab Diya Jaata Hai Ke "Humari Beti Aisi Waisi Nahin Hai" Ab Unhein Kaun Samjhaye Ke Kisi Ki Bhi Beti Paidayishi "Aisi Waisi" Nahin Hoti

Aap Ko Bhale Hi Apni Beti Par Bharosa Ho Lekin Hum To Itna Hi Jaante Hain Ke Wo Bhi Insan Hai
Aap Kuchh Bhi Kahein Lekin Ye Sach Hai Ke Wo Gunaho Se Masoom Nahin Hai
Aap Ki Nazro Mein Aap Ki Beti Ka Koi Dushman Nahin Hai Lekin Ek Khula Dushman Hai Jise Shaitan Kaha Jaata Hai
Ye Bhi Jaan Lijiye Ke Jitni Ladkiya Ladko Ke Saath Bhaag Gayi, Jin Ke Saath Zabardasti Zina Kiya Gaya Aur Jinhone Khudkushi Kar Li, Wo Sab Ladkiya Bhi Paidayishi "Aisi Waisi" Nahin Thi Balki Kaiyo Ne Mil Kar Use "Aisi Waisi" Bana Daala

Hum Ne Ishare Mein Bahut Kuchh Kaha Hai, Agar Aap Samajh Gaye To Phir Ye Bhi Samajh Lijiye Ke Ye "Taraqqi" Nahin Hai,
Agar Aap Nahin Samjhe To Phir Aap Ki Beti To Scooty Chalana Jaanti Hi Hai, Bas Chabi De Dijiye Aur Paise Ya Card De Dijiye Taaki Wo Bhi Is Eid Par Apne Pasand Ki Shopping Kar Sake

Waise Deeni Ilm Rakhne Waale "Molvi Type Log" Agar Zyada Bolein To Aap Bilkul Tawajjoh Na Dein Kyunki Aap Unse Behtar Jaante Hain Ke "Taraqqi" Kise Kehte Hain Aur Aap Ki Beti Bhi "Aisi Waisi" To Hai Nahin

Abde Mustafa
1
ہماری بیٹی ایسی ویسی نہیں ہے

آج بیٹی خود بازار سے اپنی پسند کے کپڑے خرید کر لائی ہے اور باپ، ماں اور بھائی بہت خوش ہیں کہ لڑکی سمجھدار ہو گئی ہے- اس ترقی سے گھر میں تو کسی کو تکلیف نہیں ہے لیکن اگر کوئی دینی علم رکھنے والا "مولوی ٹائپ شخص" اس "ترقی" کو غلط کہنے کی جسارت کر بیٹھے تو اُسے فوراً جواب دیا جاتا ہے کہ "ہماری بیٹی ایسی ویسی نہیں ہے" اب انھیں کون سمجھائے کہ کسی کی بھی بیٹی پیدائشی "ایسی ویسی" نہیں ہوتی-

آپ کو بھلے ہی اپنی بیٹی پر بھروسہ ہو لیکن ہم تو اتنا ہی جانتے ہیں کہ وہ بھی انسان ہے- آپ کچھ بھی کہیں لیکن یہ سچ ہے کہ وہ گناہوں سے معصوم نہیں ہے- آپ کی نظروں میں آپ کی بیٹی کا کوئی دشمن نہیں ہے لیکن ایک کھلا دشمن ہے جسے شیطان کہا جاتا ہے- یہ بھی جان لیجیے کہ جتنی لڑکیاں لڑکوں کے ساتھ بھاگ گئیں، جن کے ساتھ زبردستی زنا کیا گیا اور جنھوں نے خود کشی کر لی، وہ سب لڑکیاں بھی پیدائشی "ایسی ویسی" نہیں تھیں بلکہ کئیوں نے مل کر اسے "ایسی ویسی" بنا ڈالا-

ہم نے اشارے میں بہت کچھ کہا ہے- اگر آپ سمجھ گئے تو پھر یہ بھی سمجھ لیجیے کہ یہ "ترقی" نہیں ہے- اگر آپ نہیں سمجھے تو پھر آپ کی بیٹی تو اِسکوٹی چلانا جانتی ہی ہے، بس چابی دے دیجیے اور پیسے یا کارڈ دے دیجیے تاکہ وہ بھی اس عید پر اپنے پسند کی شاپنگ کر سکے-

ویسے دینی علم رکھنے والے "مولوی ٹائپ لوگ" اگر زیادہ بولیں تو آپ بالکل توجہ نہ دیں کیوں کہ آپ ان سے بہتر جانتے ہیں کہ "ترقی" کسے کہتے ہیں اور آپ کی بیٹی بھی "ایسی ویسی" تو ہے نہیں-

عبد مصطفی
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👌1
बेटी और स्मार्टफोन

बेटी की ज़िद है के उसे स्मार्टफोन चाहिए और क्यों ना हो कि उस के साथ कॉलेज में पढ़ने वाली अक्सर सहेलियों के पास स्मार्टफोन्स हैं।
माँ बाप ने शुरू में तो मना किया लेकिन फिर वही किया जो अपनी लाडली बेटी के साथ हमेशा से करते आए हैं।

अब बेटी के हाथ मे स्मार्टफोन है....., सहेलियों से फ़ोन पे बाते हो रही है....., अरे ये क्या! अब तो बेटी का फेसबुक और व्हाट्सएप्प पर खाता (एकाउंट) भी खुल गया है! धिरे धिरे इंटरनेट की दुनिया की तरफ क़दम भी बढ़ रहे है और बिल आखिर अब प्यारी बेटी भी स्मार्टफोन की तरह स्मार्ट बन चुकी है।

क्या ये खुशी की बात नही के अब स्मार्ट बेटी अपने माँ बाप के सामने किसी से भी चैटिंग (बात चीत) कर सकती है।
माँ बाप को सिर्फ ये दिख रहा है के बेटी मोबाइल स्क्रीन पर उंगलिया चला रही है लेकिन उन्हें इस बात की खबर नही के उन की बेटी घर मे होने के बावजूद भी एक बहुत बड़ी महफ़िल में शामिल है

आज तो हद्द ही हो गयी, स्मार्ट बेटी ने निकाह के लिए लड़का भी ढूंढ लिया है और ज़रूरत है तो बस घर वालो के "हाँ" की,
अगर आज सख्ती से काम लिया तो बेटी खुदखुशी (सुसाइड) भी कर सकती है या लड़के के साथ भाग भी सकती है लिहाज़ा लाड़ली बेटी के साथ वही सुलूक किया जाए जो आप हमेशा से करते आए हैं।

आप नाराज़ क्यों है? अब तो जश्न (सेलिब्रेशन) का वक़्त है, आप ही कि मेहनत तो रंग लाई है।
आप ने स्मार्टफोन के साथ बेटी को कॉलेज का रास्ता दिखाया तो आज आप का नाम रौशन हुआ है और आप है के नाराज़ है......,

ओ हो ये क्या, लड़की का भाई भी ग़ुस्से में लाल पीला हो रहा है जब कि उसे तो खुश होना चाहिए था, वही तो लड़की को अपनी गाड़ी पर बैठा कर कॉलेज ले जाया करता था, कम से कम उसे तो खुश होना चाहिए था
चलिए जाने दीजिए अब छोटी बेटी को स्मार्टफोन दिलाने का वक्त आ गया है......,

अब्दे मुस्तफ़ा
4👍1
Beti Aur Smartphone

Beti Ki Zid Hai Ke Use Smartphone Chahiye Aur Kyun Na Ho Ke Us Ke Saath College Mein Padhne Waali Aksar Saheliyo Ke Paas Smartphones Hain
Maa Baap Ne Shuru Mein To Mana Kiya Lekin Phir Wahi Kiya Jo Apni Laadli Beti Ke Saath Humesha Se Karte Aaye Hain

Ab Beti Ke Haath Mein Smartphone Hai...., Saheliyo Se Phone Par Baatein Ho Rahi Hain.....,
Are Ye Kya! Ab To Beti Ka Facebook Aur WhatsApp Par Khaata (Account) Bhi Khul Gaya Hai! Dheere Dheere Internet Ki Dunya Ki Taraf Qadam Bhi Badh Rahe Hain Aur Bil Aakhir Ab Pyari Beti Bhi Smartphone Ki Tarah Smart Ban Chuki Hai

Kya Ye Khushi Ki Baat Nahin Ke Ab Smart Beti Apne Maa Baap Ke Saamne Kisi Se Bhi Chatting (Baat Cheet) Kar Sakti Hai
Maa Baap Ko Sirf Ye Dikh Raha Hai Ke Beti Mobile Screen Par Ungliya Chala Rahi Hai Lekin Unhein Is Baat Ki Khabar Nahin Ke Un Ki Beti Ghar Mein Hone Ke Bawajood Bhi Ek Bahut Badi Mehfil Mein Shamil Hai

Aaj To Hadd Hi Ho Gayi, Smart Beti Ne Nikah Ke Liye Ladka Bhi Dhoond Liya Hai Aur Zaroorat Hai To Bas Ghar Waalo Ke "Haan" Ki,
Agar Aaj Sakhti Se Kaam Liya To Beti Khudkushi (Suicide) Bhi Kar Sakti Hai Ya Ladke Ke Saath Bhaag Bhi Sakti Hai Lihaza Laadli Beti Ke Saath Wahi Sulook Kiya Jaaye Jo Aap Humesha Se Karte Aaye Hain

Aap Naraaz Kyun Hain? Ab To Jashn Manane (Celebration) Ka Waqt Hai, Aap Hi Ki Mehnat To Rang Laayi Hai
Aap Ne Smartphone Ke Saath Apni Beti Ko College Ka Raasta Dikhaya To Aaj Aap Ka Naam Raushan Hua Hai Aur Aap Hain Ke Naraaz Hain.....,

O Ho Ye Kya, Ladki Ka Bhai Ghusse Mein Laal Peela Ho Raha Hai Jab Ke Use To Khush Hona Chahiye Tha, Wahi To Ladki Ko Apni Gaadi Par Baitha Kar College Le Jaaya Karta Tha, Kam Se Kam Use To Khush Hona Chahiye Tha
Chaliye Jaane Dijiye Ab Chhoti Beti Ko Smartphone Dilane Ka Waqt Aa Gaya Hai........,

Abde Mustafa
2
بیٹی اور سمارٹ فون

بیٹی کی ضد ہے کہ اسے سمارٹ فون چاہیے اور کیوں نہ ہو کہ اس کے ساتھ کالج میں پڑھنے والی اکثر سہیلیوں کے پاس سمارٹ فونز ہیں- ماں باپ نے شروع میں تو منع کیا لیکن پھر وہی کیا جو اپنی لاڈلی بیٹی کے ساتھ ہمیشہ سے کرتے آئے ہیں-

اب بیٹی کے ہاتھ میں سمارٹ فون ہے.....، سہیلیوں سے فون پر باتیں ہو رہی ہیں.....،
ارے یہ کیا! اب تو بیٹی کا فیس بک اور واٹس ایپ پر کھاتا بھی کھل گیا ہے! دھیرے دھیرے انٹرنیٹ کی دنیا کی طرف قدم بھی بڑھ رہے ہیں اور بالآخر اب پیاری بیٹی بھی سمارٹ فون کی طرح سمارٹ بن چکی ہے-

کیا یہ خوشی کی بات نہیں کہ اب سمارٹ بیٹی اپنے ماں باپ کے سامنے کسی سے بھی چیٹنگ (بات چیت) کر سکتی ہے- ماں باپ کو صرف یہ دکھ رہا ہے کہ بیٹی موبائل اسکرین پر انگلیاں چلا رہی ہے لیکن انھیں اس بات کی خبر نہیں کہ ان کی بیٹی گھر میں ہونے کے باوجود بھی ایک بہت بڑی محفل میں شامل ہے-

آج تو حد ہی ہو گئی، سمارٹ بیٹی نے نکاح کے لیے لڑکا بھی ڈھونڈ لیا ہے اور ضرورت ہے تو بس گھر والوں کے "ہاں" کی؛ اگر آج سختی سے کام لیا تو بیٹی خود کشی بھی کر سکتی ہے یا لڑکے کے ساتھ بھاگ بھی سکتی ہے لہذا لاڈلی بیٹی کے ساتھ وہی سلوک کیا جائے جو آپ ہمیشہ سے کرتے آئے ہیں-

آپ ناراض کیوں ہیں؟ اب تو جشن منانے کا وقت ہے- آپ ہی کی محنت تو رنگ لائی ہے- آپ ہی نے سمارٹ فون کے ساتھ اپنی بیٹی کو کالج کا راستہ دکھایا تو آج آپ کا نام روشن ہوا ہے اور آپ ہیں کہ ناراض ہیں......،

او ہو یہ کیا، لڑکی کا بھائی غصے میں لال پیلا ہو رہا ہے جب کہ اسے تو خوش ہونا چاہیے تھا، وہی تو لڑکی کو اپنی گاڑی پر بیٹھا کر کالج لے جایا کرتا تھا، کم سے کم اسے تو خوش ہونا چاہیے تھا-
چلیے جانے دیجیے اب چھوٹی بیٹی کو سمارٹ فون دلانے کا وقت آ گیا ہے..........،

عبد مصطفی
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👌3
लड़कियों को पढ़ाना सही नहीं है

उन्वान (टाईटल) देख कर भड़कने से पहले हमारी पूरी बात सुन लें,
हमें मालूम है कि जब कोई दीनी इल्म रखने वाला "मौलवी टाईप" शख्स ऐसी बातें करता है कि "लड़कियों को ये नहीं करना चाहिये, वो नहीं करना चाहिये...." तो कई लोगों को बड़ी तकलीफ होती है।

अभी एक मुक़ाबला (कॉम्पिटिशन) चल रहा है कि "लड़कियाँ किसी से (खास कर लड़कों से) कम नहीं हैं" और तक़रीबन हर शख्स अपने घर की लड़कियों को इस मुक़ाबले का हिस्सा बनाना चाहता है।
लड़का स्कूल जायेगा तो लड़की भी जायेगी,
लड़का कॉलेज जायेगा तो लड़की भी जायेगी,
ये नौकरी (जॉब) करेगा तो वो भी करेगी,
अगर ये कुश्ती (बॉक्सिंग) करेगा तो उस ने भी चूड़ियाँ नहीं पहनी है और अगर ये सियासत (पॉलिटिक्स) में आयेगा तो वो भी इलेक्शन लड़ेगी!

इस मुक़ाबले में जो चीज़ किनारे (साइड) कर दी गयी वो है "शरीअ़त" और अब तो ये सब इतना आम (कॉमन) हो चुका है कि गलत को गलत ही नहीं समझा जाता!
ऐसे हालात में फँस जाता है "मौलवी टाईप" शख्स जो लोगों को ये समझाने निकलता है कि सही क्या है और गलत क्या है।

बातें तो बहुत हैं पर अब हम उन्वान (टाईटल) की तरफ लौटते हैं।
हमारा एक सवाल है की लड़कियों को पढ़ाने की क्या ज़रूरत है?
हम जानते हैं कि आप के पास कई जवाबात हैं और अगर नहीं भी हैं तो आप को कहीं से इन्तिज़ाम करने होंगे लेकिन पहले सवाल को अच्छी तरह समझ लिजिए।

सवाल में "पढ़ाने" से मुराद जदीद असरी उलूम यानी मेट्रिक, इंटरमीडिएट, बेचलर, मास्टर वगैरा हैं ना कि दीनी उलूम जो कि आज कल इतना पढ़ाया जाता है कि लड़के वालों से कहा जा सके कि "लड़की क़ुरान पढ़ना जानती है।"
अब आप कई जवाबात दे सकते हैं जिन का सीधा ताल्लुक़ (कनेक्शन) उस मुक़ाबले से होगा जो हम ने बयान किया और बात फिर वहीं आ गयी कि आप भी इसी मुक़ाबले के चक्कर में किसी "एक चीज़" को किनारे (साइड) करना चाहते हैं जिस का नाम ऊपर बयान हो चुका है।

जिस चीज़ को किनारे किया जा रहा है, उस को ज़रा सामने (फ़्रंट में) रखते हैं, एक ऐसा पहलू नज़र आता है जिस की एक झलक से ऐसे "मुक़ाबलों" का कोई वुजूद ही बाक़ी नहीं रहता, चुनांचे :

इमाम -ए- अहले सुन्नत, आला हज़रत रहीमहुल्लाहु त'आला लिखते हैं कि सहीह हदीस ये साबित है कि लड़कियों को सूरह -ए- यूसुफ शरीफ की तफसीर ना पढ़ायी जाये।

(ملخصاً: فتاوی رضویہ، ج24، ص456)

सूरह -ए- यूसुफ क़ुरान का हिस्सा है, जिस के बारे में अल्लाह त'आला इरशाद फरमाता है :

نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْكَ اَحْسَنَ الْقَصَصِ

यानी "(ए नबी ﷺ) हम तुम्हारे सामने सब से अच्छा वाक़िया बयान करते हैं"

अल्लाह त'आला इस वाक़िये को सब से अच्छा वाक़िया फरमा रहा है, इस के बावजूद भी औरतों को इस की तफसीर पढ़ाने से मना किया गया है।
अब सवाल ये उठता है कि क्यों मना किया गया? इस वाक़िये में ऐसा क्या है?......,
इन सवालों का जवाब जानने से पहले ये जानने की कोशिश कीजिये कि आप की लड़की को मेट्रिक तक पढ़ाये जाने वाले सबजेक्ट्स की किताब में क्या क्या मौजूद है?
इंग्लिश और हिन्दी किताबों में कैसे वाक़ियात मौजूद हैं?
आप की लड़की के स्कूल बैग में मौजूद साइंस की किताब में क्या क्या है?
मेट्रिक तक (तक़रीबन 13-14 साल तक) रोज़ाना पाँच से छ: घन्टे तक (तक़रीबन 27000 घंटों तक) क्या पढ़ाया गया?
कॉलेज में आप की लड़की ने क्या पढ़ा?
जिस्म के हिस्सों (पार्ट्स ऑफ़ बॉडी) के नाम पर क्या क्या जानने को मिला?
लेक्चर में क्या था? तारीख में क्या था? ज़ूलॉज़ी में क्या जाना? बॉटनी में क्या सीखा? कम्प्यूटर कोर्स में क्या सीखा?........?

जब आप ये सब जान लें उस के बाद ये जानने की कोशिश कीजियेगा कि सूरह -ए- यूसुफ की तफसीर क्यों नहीं पढ़नी चाहिये।
आप को किसी "मौलवी टाइप" शख्स के चक्कर में फँसने की ज़रूरत नहीं है। क्योंकि आप उन से ज़्यादा अपनी लड़की के लिये भलाई के तलबगार हैं।

और हाँ! ये भी बता दीजियेगा कि "हमारा उनवान" किस तरह गलत है
अगर हमारी बातें गलत हैं तो इन्हें दीवार पर मार दें और "मुक़ाबले" में ज़रूर हिस्सा लें, दाखिला (एडमीशन) तो हमेशा जारी है।

अ़ब्दे मुस्तफ़ा
2
Ladkiyon Ko Padhana Sahih Nahin Hai

Unwaan (Title) Dekh Kar Bhadakne Se Pehle Humari Poori Baat Sun Lein,
Humein Maloom Hai Ke Jab Koi Deeni Ilm Rakhne Waala "Molvi Type" Shakhs Aisi Baatein Karta Hai Ke "Ladkiyo Ko Ye Nahin Karna Chahiye, Wo Nahin Karna Chahiye....." To Kayi Logon Ko Badi Takleef Hoti Hai

Abhi Ek Muqabla (Competition) Chal Raha Hai Ke "Ladkiya Kisi Se (Khaas Kar Ladko Se) Kam Nahin Hain" Aur Taqreeban Har Shakhs Apne Ghar Ki Ladkiyo Ko Is Muqable Ka Hissa Banana Chahta Hai
Ladka School Jayega To Ladki Bhi Jayegi, Ladka College Jayega To Ladki Bhi Jayegi, Ye Gaadi Chalayega To Wo Bhi Chalayegi, Ye Naukri (Job) Karega To Wo Bhi Karegi, Agar Ye Kushti (Boxing) Karega To Us Ne Bhi Chudiya Nahin Pehni Hain Aur Agar Ye Siyasat (Politics) Mein Aayega To Wo Bhi Election Ladegi!

Is Muqable Mein Jo Cheez Kinare (Side) Kar Di Gayi Wo Hai "Shariat" Aur Ab To Ye Sab Itna Aam (Common) Ho Chuka Hai Ke Ghalat Ko Ghalat Hi Nahin Samjha Jaata!
Aise Halaat Mein Phans Jaata Hai "Molvi Type" Shakhs Jo Logon Ko Ye Samjhane Nikalta Hai Ke Sahih Kya Hai Aur Ghalat Kya Hai

Baatein To Bahut Hain Par Ab Hum Unwaan (Title) Ki Taraf Laut'te Hain
Humara Ek Sawal Hai Ke Ladkiyo Ko Padhane Ki Kya Zaroorat Hai?
Hum Jaante Hain Aap Ke Paas Kayi Jawabaat Hain Aur Agar Nahin Bhi Hain To Aap Ko Kahin Se Intezam Karne Honge Lekin Pehle Sawal Ko Achhi Tarah Samajh Lijiye,
Sawal Mein "Padhane" Se Muraad Jadeed Asri Uloom Yaani Matric, Intermediate, Bachelor, Master Waghaira Hain Na Ke Deeni Uloom Jo Ke Aaj Kal Itna Padhaya Jaata Hai Ke Ladke Waalo Se Kaha Ja Sake Ke "Ladki Quraan Padhna Jaanti Hai"
Ab Aap Kayi Jawabaat De Sakte Hain Jin Ka Seedha Talluq (Connection) Us Muqable Se Hoga Jo Hum Ne Bayaan Kiya Aur Baat Phir Wahin Aa Gayi Ke Aap Bhi Isi Muqable Ke Chakkar Mein Kisi "Ek Cheez" Ko Kinare (Side) Karna Chahte Hain Jis Ka Naam Upar Bayaan Ho Chuka Hai

Jis Cheez Ko Kinare Kiya Ja Raha Hai, Us Ko Zara Saamne (Front Mein) Rakhte Hain, Ek Aisa Pahlu Nazar Aata Hai Jis Ki Ek Jhalak Se Aise "Muqablo" Ka Koi Koi Wujood Hi Baaqi Nahin Rehta, Chunanche :
Imam -e- Ahle Sunnat, Aala Hazrat Rahimahullahu Ta'ala Likhte Hain Ke Sahih Hadees Se Saabit Hai Ke Ladkiyo Ko Surah -e- Yusuf Shareef Ki Tafseer Na Padhayi Jaaye

(ملخصاً: فتاوی رضویہ، ج24، ص456)

Surah -e- Yusuf Quraan Ka Hissa Hai, Jis Ke Baare Mein Allah Ta'ala Irshad Farmata Hai :

نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْكَ اَحْسَنَ الْقَصَصِ

Yaani "(Aye Nabi ﷺ) Hum Tumhare Samne Sab Se Achha Waqiya Bayaan Karte Hain"

Allah Ta'ala Is Waqiye Ko Sab Se Achha Waqiya Farma Raha Hai, Is Ke Bawajood Bhi Aurato Ko Is Ki Tafseer Padhane Se Mana Kiya Gaya Hai
Ab Sawal Ye Uth'ta Hai Ke Kyun Mana Kiya Gaya? Is Waqiye Mein Aisa Kya Hai?......,
In Sawalo Ka Jawab Jaanne Se Pehle Ye Jaanne Ki Koshish Kijiye Ke Aap Ki Ladki Ko Matric Tak Padhaye Jaane Waale Subjects Mein Kya Kya Maujood Hai?
English Aur Hindi Kitabo Mein Kaise Waqiyaat Maujood Hai?
Aap Ki Ladki Ke School Bag Mein Maujood Science Ki Kitab Mein Kya Kya Hai?
Matric Tak (Taqreeban 13-14 Saal Tak) Rozana Paanch Se Chhe Ghante Tak (Taqreeban 27,000 Ghanto Tak) Kya Padhaya Gaya?
College Mein Aap Ki Ladki Ne Kya Padha?
Jism Ke Hisso (Parts Of Body) Ke Naam Par Kya Kya Jaanne Ko Mila?
Lecture Mein Kya Tha? Tarikh Mein Kya Tha? Zoology Mein Kya Jaana? Botany Mein Kya Seekha? Computer Course Mein Kya Seekha?......?

Jab Aap Ye Sab Jaan Lein Us Ke Baad Ye Jaanne Ki Koshish Kijiyega Ke Surah -e- Yusuf Ki Tafseer Kyun Nahin Padhani Chahiye
Aap Ko Kisi "Molvi Type" Shakhs Ke Chakkar Mein Phansne Ki Zaroorat Nahin Hai Kyunki Aap Un Se Zyada Apni Ladki Ke Liye Bhalayi Ke Talabgaar Hain

Aur Haan! Ye Bhi Bata Dijiyega Ke "Humara Unwaan" Kis Tarah Ghalat Hai
Agar Humari Baatein Ghalat Hain To Inhein Deewar Par Maar Dein Aur "Muqable" Mein Zaroor Hissa Lein, Dakhila (Admission) To Humesha Jaari Hai

Abde Mustafa
1
لڑکیوں کو پڑھانا صحیح نہیں ہے

عنوان (ٹائٹل) دیکھ کر بھڑکنے سے پہلے ہماری پوری بات سُن لیں؛ ہمیں معلوم ہے کہ جب کوئی دینی علم رکھنے والا "مولوی ٹائپ" شخص ایسی باتیں کرتا ہے کہ "لڑکیوں کو یہ نہیں کرنا چاہیے، وہ نہیں کرنا چاہیے....." تو کئی لوگوں کو بڑی تکلیف ہوتی ہے-

ابھی ایک مقابلہ چل رہا ہے کہ "لڑکیاں کسی سے (خاص کر لڑکوں سے) کم نہیں ہیں" اور تقریباً ہر شخص اپنے گھر کی لڑکیوں کو اس مقابلے کا حصہ بنانا چاہتا ہے- لڑکا اسکول جائے گا تو لڑکی بھی جائے گی، لڑکا کالج جائے گا تو لڑکی بھی جائے گی، یہ گاڑی چلائے گا تو وہ بھی چلائے گی، یہ نوکری (جاب) کرے گا تو وہ بھی کرے گی، اگر یہ کشتی (باکسنگ) کرے گا تو اس نے بھی چوڑیاں نہیں پہنی ہیں اور اگر یہ سیاست (پالیٹکس) میں آئے گا تو وہ بھی الیکشن لڑے گی!

اس مقابلے میں جو چیز کنارے (سائیڈ) کر دی گئی وہ ہے "شریعت" اور اب تو یہ سب اتنا عام (کامن) ہو چکا ہے کہ غلط کو غلط ہی نہیں سمجھا جاتا!
ایسے حالات میں پھنس جاتا ہے "مولوی ٹائپ" شخص جو لوگوں کو یہ سمجھانے نکلتا ہے کہ صحیح کیا ہے اور غلط کیا ہے-

باتیں تو بہت ہیں پر اب ہم عنوان (ٹائٹل) کی طرف لوٹتے ہیں- ہمارا ایک سوال ہے کہ لڑکیوں کو پڑھانے کی کیا ضرورت ہے؟ ہم جانتے ہیں آپ کے پاس کئی جوابات ہیں اور اگر نہیں بھی ہیں تو آپ کو کہیں سے انتظام کرنے ہوں گے لیکن پہلے سوال کو اچھی طرح سمجھ لیجیے؛ سوال میں "پڑھانے" سے مراد جدید عصری علوم یعنی میٹرک، انٹر، بیچلر، ماسٹر وغیرہ ہیں نہ کہ دینی علوم جو کہ آج کل اتنا پڑھایا جاتا ہے کہ لڑکے والوں سے کہا جا سکے کہ "لڑکی قرآن پڑھنا جانتی ہے"-
اب آپ کئی جوابات دے سکتے ہیں جن کا سیدھا تعلق (کنیکشن) اُس "مقابلے" سے ہوگا جو ہم نے بیان کیا اور بات پھر وہیں آ گئی کہ آپ بھی اسی مقابلے کے چکر میں کسی "ایک چیز" کو کنارے (سائیڈ) کرنا چاہتے ہیں جس کا نام اوپر بیان ہو چکا ہے-

جس چیز کو کنارے (سائیڈ) کیا جا رہا ہے، اُس کو ذرا سامنے (فرنٹ میں) رکھتے ہیں؛ ایک ایسا پہلو نظر آتا ہے جس کی ایک جھلک سے ایسے "مقابلوں" کا کوئی وجود ہی باقی نہیں رہتا، چناں چہ:
امام اہل سنت، اعلی حضرت رحمہ اللہ تعالی لکھتے ہیں کہ صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ لڑکیوں کو سورۂ یوسف شریف کی تفسیر نہ پڑھائی جائے-

(ملخصاً: فتاوی رضویہ، ج24، ص456)

سورۂ یوسف قرآن کا حصہ ہے، جس کے بارے میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے:

نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْكَ اَحْسَنَ الْقَصَصِ

یعنی (اے نبی ﷺ) ہم تمھارے سامنے سب سے اچھا واقعہ بیان کرتے ہیں-

اللہ تعالی اس واقعے کو سب سے اچھا واقعہ فرما رہا ہے، اس کے باوجود بھی عورتوں کو اس کی تفسیر پڑھانے سے منع کیا گیا ہے- اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیوں منع کیا گیا؟ اس واقعے میں ایسا کیا ہے؟.......،
ان سوالوں کا جواب جاننے سے پہلے یہ جاننے کی کوشش کیجیے کہ آپ کی لڑکی کو میٹرک تک پڑھائے جانے والے موضوعات (سبجیکٹس) میں کیا کیا موجود ہے؟
انگریزی اور ہندی کتابوں میں کیسے واقعات موجود ہیں؟
آپ کی لڑکی کے اسکول کے تھیلے (بیگ) میں موجود سائنس کی کتاب میں کیا کیا ہے؟
میٹرک تک (تقریباً تیرہ چودہ سال تک) روزانہ پانچ سے چھے گھنٹے تک (تقریباً ستائیس ہزار گھنٹوں تک) کیا پڑھایا گیا؟
کالج میں آپ کی لڑکی نے کیا کیا پڑھا؟
جسم کے حصوں (پارٹس آف باڈی) کے نام پر کیا کیا جاننے کو ملا؟
لیکچر میں کیا تھا؟ تاریخ میں کیا تھا؟ زولوجی میں کیا جانا؟ باٹنی میں کیا سیکھا؟ کمپیوٹر کورس میں کیا سیکھا؟..........؟

جب آپ یہ سب جان لیں اس کے بعد یہ جاننے کی کوشش کیجیے گا کہ سورۂ یوسف کی تفسیر کیوں نہیں پڑھانی چاہیے- آپ کو کسی "مولوی ٹائپ" شخص کے چکر میں پھنسنے کی ضرورت نہیں ہے کیوں کہ آپ ان سے زیادہ اپنی لڑکی کے لیے بھلائی کے طلب گار ہیں-

اور ہاں! یہ بھی بتا دیجیے گا کہ "ہمارا عنوان" کس طرح غلط ہے- اگر ہماری باتیں غلط ہیں تو انھیں دیوار پر مار دیں اور "مقابلے" میں ضرور حصہ لیں، داخلہ تو ہمیشہ جاری ہے-

عبد مصطفی
2👍2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👌1