🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
29-12-1444 ᴴ | 18-07-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
29-12-1444 ᴴ | 18-07-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
29-12-1444 ᴴ | 18-07-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
29-12-1444 ᴴ | 18-07-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
سوال: وہابیوں کے پاس اپنے لڑکوں کو پڑھانا کیسا ہے اور جو ان کے پاس اپنے لڑکے کو پڑھنے کے لئے بھیجے اس کے واسطے کیا حکم ہے؟
الجواب: حرام حرام حرام، اور جو ایسا کرے بد خواہ اطفال و مبتلائے آثام ۔
▬▬▬
طلسم تصاویر سے خالی نہیں اور تصاویر حرام ہے ـ فتاوی رضویہ جلد²³ صفحہ⁹³
▬▬▬
سند کوئی چیز نہیں، بہتیرے سند یافتہ محض بے بہرہ ہوتے ہیں ـ (ایضاً ج:²³ ص:⁶⁸⁴)
▬▬▬
سوال: استاد اپنے شاگرد بچوں کو بغیر کسی قید و شرط کے بدنی سزا دے سکتا ہے یا نہیں؟ کیا بچوں کو اجرت لے کر پڑھانے یا بلا اجرت پڑھانے والے کے لئے الگ الگ ضابطہ ہے؟
جواب: استاد کا بدنی سزا دینا اور سرزنش سے کام لینا جائز ہے مگر یہ سزا لکڑی ڈنڈے وغیرہ سے نہیں بلکہ ہاتھ سے ہونی چاہئے اور ایک وقت میں تین مرتبہ سے زائد پٹائی نہ ہونے پائےـ
نماز نہ پڑھے تو:
جب بچے کی عمر دس سال ہو جائے تو نمازی بنانے کے لئے اسے ہاتھ سے سزا دی جائے لاٹھی سے نہیں اور تین مرتبہ سے تجاوز بھی نہ کیا جائے۔ ف ر
▬▬▬
عورتوں کو لکھنا سکھانا:
عورتوں کو لکھنا سکھانا شرعًا ممنوع و سنت نصارٰی و فتح باب ہزاران فتنہ اور مستان سرشار کے ہاتھ میں تلوار دینا ہےـ ف ر
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
سوال: وہابیوں کے پاس اپنے لڑکوں کو پڑھانا کیسا ہے اور جو ان کے پاس اپنے لڑکے کو پڑھنے کے لئے بھیجے اس کے واسطے کیا حکم ہے؟
الجواب: حرام حرام حرام، اور جو ایسا کرے بد خواہ اطفال و مبتلائے آثام ۔
▬▬▬
طلسم تصاویر سے خالی نہیں اور تصاویر حرام ہے ـ فتاوی رضویہ جلد²³ صفحہ⁹³
▬▬▬
سند کوئی چیز نہیں، بہتیرے سند یافتہ محض بے بہرہ ہوتے ہیں ـ (ایضاً ج:²³ ص:⁶⁸⁴)
▬▬▬
سوال: استاد اپنے شاگرد بچوں کو بغیر کسی قید و شرط کے بدنی سزا دے سکتا ہے یا نہیں؟ کیا بچوں کو اجرت لے کر پڑھانے یا بلا اجرت پڑھانے والے کے لئے الگ الگ ضابطہ ہے؟
جواب: استاد کا بدنی سزا دینا اور سرزنش سے کام لینا جائز ہے مگر یہ سزا لکڑی ڈنڈے وغیرہ سے نہیں بلکہ ہاتھ سے ہونی چاہئے اور ایک وقت میں تین مرتبہ سے زائد پٹائی نہ ہونے پائےـ
نماز نہ پڑھے تو:
جب بچے کی عمر دس سال ہو جائے تو نمازی بنانے کے لئے اسے ہاتھ سے سزا دی جائے لاٹھی سے نہیں اور تین مرتبہ سے تجاوز بھی نہ کیا جائے۔ ف ر
▬▬▬
عورتوں کو لکھنا سکھانا:
عورتوں کو لکھنا سکھانا شرعًا ممنوع و سنت نصارٰی و فتح باب ہزاران فتنہ اور مستان سرشار کے ہاتھ میں تلوار دینا ہےـ ف ر
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
مجاہد اہلسنت حضرت علامہ مولانا نصر اللہ برڑو رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
مولانا نصر اللہ برڑو، گوٹھ محمد صلاح برڑو (تحصیل شکار پور) میں ایک غریب کسان کے گھر ۱۹۴۶ء کو تولد ہوئے۔ دادا جان علی مراد برڑو نے ’’نصر اللہ‘‘ نام تجویز کیا۔
تعلیم و تربیت:
ابتدائی تعلیم کا آغاز اپنے گوٹھ کے مکتب سے کیا۔ اس کیب عد مولانا فضل احمد نقشبندی آپ کو عظیم دینی درسگاہ مدرسہ دار الفیض سونہ جتوئی شریف (تحصیل لاڑکانہ) میں داخل کروادیا۔ جہاں آپ نے عالم باعمل، سوفی باصفا حضرت مفتی محمد قاسم جتوئی مدظلہ العالی اور حضرت مولانا محمد عیسیٰ سے تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد دار العلوم غوثیہ رضویہ سکھر میں داخلہ حاصل کیا جہاں پر شیخ الحدیث مفتی محمد حسین قادری علیہ الرحمۃ مناظر اہل سنت مولانا حبیب احمد نقشبندی (حال کوئٹہ) مولانا محمد ابراہیم سیالوی، مولانا منیر الزمان اور مولان امحمد یعقوب سے اکتساب فیض کیا۔ ۱۹۷۰ء میں دارالعلوم غوثیہ میں جلسہ ہوا جس میں آپ کی دستار فضیلت ہوئی۔
۱۹۶۲ء کو پیر طریقت حضرت سید زین العابدین شاہ جیلانی علیہ الرحمۃ درگاہ نورائی شریف (تحصیل ٹنڈو محمد خان) کے ہاتھ پر سلسلہ عالیہ قادریہ میں بیعت ہوئے۔
درس و تدریس:
بعد فراغت اپنے گوٹھ واپس آئے اور امامت خطابت و تعلیم دین میں مصروف ہوگئے۔ ۱۹۷۱ء میں آپ کے دیرینہ دوست مولانا پروفیسر عبدالغفور سومرو مرحوم کی دعوت پر ان کی مسجد غوث اعظم شاہی باغ روڈ شکار پور میں امام و خطیب مقرر ہوئے۔ چند ماہ کے بعد آپ کے والد کی طبیعت علیل ہوگئی جس کے سبب انہیں سول ہسپتال لاڑکانہ داخل کرایا گیا وہاں والد کی خدمت میں پانچ ماہ صر ف ہوئے۔ گوٹھ واپس پہنچے تو مسجد چھوٹ چکی تھی لیکن جلد ہی مولانا مفتی عبدالفتاح صڈیقی مرحوم کی دعوت پر شکار پور تشریف لائے اور شکار پور کی مرکزی جامع مسجد لکھی در میں امام و خطیب مقرر ہوئے۔ مسجد محکمہ اوقاف میں ہونے کی وجہ سے مخالفین نے آپ کی سخت مخالفت کی ار اپنے امام کو کھڑا کرنے کا بھر پور زور لگایا لیکن اللہ تعالیٰ نے حق کو فتح و نصرت عطا فرمائی اور آپ تاحیات اس کے امام و خطیب رہے۔
مدرسہ کا قیام:
آپ نے بعض احباب کے ساتھ مل کر شکار پور شہر میں درگاہ شریف حضرت حاجی سید عبداللطیف شاہ جیلانی علیہ الرحمۃ کے زیر سایہ پلاٹ پر ۱۹۸۰ء میں ’’دار العلوم غوثیہ لطیفیہ‘‘ کی بنیاد رکھی۔ حضرت مولانا حافظ قاری گل محمد قاسمی (لاڑکانہ) اور آپ نے مدرسہ میں درس و تدریس کا آغاز کیا ۔ شکار پور کو وہابیت کا مرکز سمجھاجاتا تھا اور وہاں اہل سنت و جماعت کو کام کرنے میں بڑی رکاوٹیں پیش آتی تھیں۔ لیکن اس مرد مجاہد نے صبر و ہمت سے تمام مشکلات کا مقابلہ کیا اور استقامت و جہد مسلسل سے دین کا کام جاری رکھا۔ نہ مخالفین سے دبے نہ ان کے سامنے ہھتیار ڈالے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عظیم کامیابی سے ہمکنار کیا۔ آج دارالعلوم کی وسیع و عریض عمارت شکار پور شہر کے وسط میں بڑی شان سے کھڑی ہے جو کہ آپ کے خلوص اور انتھک محنت و لگن کا نتیجہ ہے۔
عادات و خصائل:
مولانا ہمارے دوست تھے، ان کو قریب سے دیکھا ، ساتھ تنظیمی کام کئے لاڑکانہ شکار پور کو ئی دور نہیں قریب کے شہر ہیں۔ محبت ہو تو دوری نظر نہیں آتی۔مولان اعلم دوست، وعدے کے سچے، زبان کے پکے، وقت کی قدر و قیمت جانتے تھے اس لئے وقت سے بھر پور فائدہ اٹھاتے تھے، کام کرنے کا سلیقہ رکھتے تھے، مستقل مزاج پر جوش لیکن باہوش ، سادگی پسند، اخلاق و محبت کے پیکر تھے۔ شکار پور میں کئی مساجد و مدارس کو قائم فرمایا۔ شکار پور میںجماعت اہلسنت پاکستان اور جمعیت علمائے پاکستان کا تنظیمی کام کیا، انجمن طلباء اسلام پاکستان کی شاخ قائم کی۔ مدرسہ کے سالانہ جلسہ میں سکھر شکار پور لاڑکانہ کے تمام نامور علماء اہل سنت و مشائخ اہلسنت کو مدعو فرماتے تھے، سب کے ساتھ رہتے اور سب کے ساتھ مل کر تنظیمی و مسلکی کام سر انجام دیتے تھے۔
مولانا نصر اللہ برڑو، گوٹھ محمد صلاح برڑو (تحصیل شکار پور) میں ایک غریب کسان کے گھر ۱۹۴۶ء کو تولد ہوئے۔ دادا جان علی مراد برڑو نے ’’نصر اللہ‘‘ نام تجویز کیا۔
تعلیم و تربیت:
ابتدائی تعلیم کا آغاز اپنے گوٹھ کے مکتب سے کیا۔ اس کیب عد مولانا فضل احمد نقشبندی آپ کو عظیم دینی درسگاہ مدرسہ دار الفیض سونہ جتوئی شریف (تحصیل لاڑکانہ) میں داخل کروادیا۔ جہاں آپ نے عالم باعمل، سوفی باصفا حضرت مفتی محمد قاسم جتوئی مدظلہ العالی اور حضرت مولانا محمد عیسیٰ سے تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد دار العلوم غوثیہ رضویہ سکھر میں داخلہ حاصل کیا جہاں پر شیخ الحدیث مفتی محمد حسین قادری علیہ الرحمۃ مناظر اہل سنت مولانا حبیب احمد نقشبندی (حال کوئٹہ) مولانا محمد ابراہیم سیالوی، مولانا منیر الزمان اور مولان امحمد یعقوب سے اکتساب فیض کیا۔ ۱۹۷۰ء میں دارالعلوم غوثیہ میں جلسہ ہوا جس میں آپ کی دستار فضیلت ہوئی۔
۱۹۶۲ء کو پیر طریقت حضرت سید زین العابدین شاہ جیلانی علیہ الرحمۃ درگاہ نورائی شریف (تحصیل ٹنڈو محمد خان) کے ہاتھ پر سلسلہ عالیہ قادریہ میں بیعت ہوئے۔
درس و تدریس:
بعد فراغت اپنے گوٹھ واپس آئے اور امامت خطابت و تعلیم دین میں مصروف ہوگئے۔ ۱۹۷۱ء میں آپ کے دیرینہ دوست مولانا پروفیسر عبدالغفور سومرو مرحوم کی دعوت پر ان کی مسجد غوث اعظم شاہی باغ روڈ شکار پور میں امام و خطیب مقرر ہوئے۔ چند ماہ کے بعد آپ کے والد کی طبیعت علیل ہوگئی جس کے سبب انہیں سول ہسپتال لاڑکانہ داخل کرایا گیا وہاں والد کی خدمت میں پانچ ماہ صر ف ہوئے۔ گوٹھ واپس پہنچے تو مسجد چھوٹ چکی تھی لیکن جلد ہی مولانا مفتی عبدالفتاح صڈیقی مرحوم کی دعوت پر شکار پور تشریف لائے اور شکار پور کی مرکزی جامع مسجد لکھی در میں امام و خطیب مقرر ہوئے۔ مسجد محکمہ اوقاف میں ہونے کی وجہ سے مخالفین نے آپ کی سخت مخالفت کی ار اپنے امام کو کھڑا کرنے کا بھر پور زور لگایا لیکن اللہ تعالیٰ نے حق کو فتح و نصرت عطا فرمائی اور آپ تاحیات اس کے امام و خطیب رہے۔
مدرسہ کا قیام:
آپ نے بعض احباب کے ساتھ مل کر شکار پور شہر میں درگاہ شریف حضرت حاجی سید عبداللطیف شاہ جیلانی علیہ الرحمۃ کے زیر سایہ پلاٹ پر ۱۹۸۰ء میں ’’دار العلوم غوثیہ لطیفیہ‘‘ کی بنیاد رکھی۔ حضرت مولانا حافظ قاری گل محمد قاسمی (لاڑکانہ) اور آپ نے مدرسہ میں درس و تدریس کا آغاز کیا ۔ شکار پور کو وہابیت کا مرکز سمجھاجاتا تھا اور وہاں اہل سنت و جماعت کو کام کرنے میں بڑی رکاوٹیں پیش آتی تھیں۔ لیکن اس مرد مجاہد نے صبر و ہمت سے تمام مشکلات کا مقابلہ کیا اور استقامت و جہد مسلسل سے دین کا کام جاری رکھا۔ نہ مخالفین سے دبے نہ ان کے سامنے ہھتیار ڈالے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عظیم کامیابی سے ہمکنار کیا۔ آج دارالعلوم کی وسیع و عریض عمارت شکار پور شہر کے وسط میں بڑی شان سے کھڑی ہے جو کہ آپ کے خلوص اور انتھک محنت و لگن کا نتیجہ ہے۔
عادات و خصائل:
مولانا ہمارے دوست تھے، ان کو قریب سے دیکھا ، ساتھ تنظیمی کام کئے لاڑکانہ شکار پور کو ئی دور نہیں قریب کے شہر ہیں۔ محبت ہو تو دوری نظر نہیں آتی۔مولان اعلم دوست، وعدے کے سچے، زبان کے پکے، وقت کی قدر و قیمت جانتے تھے اس لئے وقت سے بھر پور فائدہ اٹھاتے تھے، کام کرنے کا سلیقہ رکھتے تھے، مستقل مزاج پر جوش لیکن باہوش ، سادگی پسند، اخلاق و محبت کے پیکر تھے۔ شکار پور میں کئی مساجد و مدارس کو قائم فرمایا۔ شکار پور میںجماعت اہلسنت پاکستان اور جمعیت علمائے پاکستان کا تنظیمی کام کیا، انجمن طلباء اسلام پاکستان کی شاخ قائم کی۔ مدرسہ کے سالانہ جلسہ میں سکھر شکار پور لاڑکانہ کے تمام نامور علماء اہل سنت و مشائخ اہلسنت کو مدعو فرماتے تھے، سب کے ساتھ رہتے اور سب کے ساتھ مل کر تنظیمی و مسلکی کام سر انجام دیتے تھے۔
❤1
سفر حرمین شریفین:
۱۹۹۷ء میں آپ نے حج بیت اللہ اور مدینہ منورہ میں روضہ رسول ﷺ کی حاضری کی سعادت حاصل کی۔
تلامذہ:
آپ کے نامور تلامذہ مندرجہ ذیل ہیں:
٭ مولانا عبدالوہاب بروہی کٹا شاخ تحصیل ٹھل
٭ مولانا لے مٹھو پنہور گڑھی یاسین
٭ مولانا عبدالرحمن پنہور گڑھی یاسین
٭ مولانا عطاء اللہ ابڑو ڈیرہ مراد جمالی (بلوچستان)
شادی و اولاد:
آپ نے دو شادیاں کی ان کے بطن سے تیرہ(۱۳) بیٹے اور آٹھ بیٹیاں تولد ہوئیں۔ چار بیٹے عالم دین، آپ کے شاگرد، آپ کے قائم کردہ مدرسہ کے فاضل اور آپ کے مشن کو جاری کئے ہوئے ہیں۔ ان کو دیکھ کر یقینا مولانا کی روح خوش ہوتی ہوگی۔ پانچ بیٹوں کے نام درج ذیل ہیں:
۱۔ ابو الطاہر مولانا شفیق احمد قادری ، سابق صدر انجمن طلباء اسلام، پاکستان
۲۔ مولانا قاری محمد صدیق قادری
۳۔ مولانا ابو الفضل لطف اللہ قادری
۴۔ مولانا حبیب احمد قادری
۵۔ حافظ محمد احمد قادری
وصال:
مولانا نصر اللہ قادری کو سحری کے وقت پیٹ میں معمولی درد کی شکایت ہوئی اس کے بعد بلند آواز سے الصلوٰۃ والسلام علیک یا رسول اللہ کی صدائیں بلند کی اور اس دوران جسم سے روح پرواز کر گئی۔ ۳۰ ذوالحجہ ۱۴۲۱ھ بمطابق ۶ اپریل ۲۰۰۰ء بروز جمعرات ۵۴ سال کی عمر میں انتقال کیا ارو اسی روز بعد نماز عصر صاحبزادے مولانا شفیق احمد کی اقتداء میں نماز جنازہ ادا کی گئی اور آپ کے قائم کردہ مدرسہ مجیدیہ تعلیم القرآن میں آخری آرام گاہ بنی۔
(مولانا شفیق احمد شکار پوری نے حافظ عبدالستار ابڑو کی وساطت سے مواد بھجوایا اسی سے مضمون ترتیب دیا گیا ہے)
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/mujahid-e-ahlesunnat-hazrat-allama-molana-nasrullah
۱۹۹۷ء میں آپ نے حج بیت اللہ اور مدینہ منورہ میں روضہ رسول ﷺ کی حاضری کی سعادت حاصل کی۔
تلامذہ:
آپ کے نامور تلامذہ مندرجہ ذیل ہیں:
٭ مولانا عبدالوہاب بروہی کٹا شاخ تحصیل ٹھل
٭ مولانا لے مٹھو پنہور گڑھی یاسین
٭ مولانا عبدالرحمن پنہور گڑھی یاسین
٭ مولانا عطاء اللہ ابڑو ڈیرہ مراد جمالی (بلوچستان)
شادی و اولاد:
آپ نے دو شادیاں کی ان کے بطن سے تیرہ(۱۳) بیٹے اور آٹھ بیٹیاں تولد ہوئیں۔ چار بیٹے عالم دین، آپ کے شاگرد، آپ کے قائم کردہ مدرسہ کے فاضل اور آپ کے مشن کو جاری کئے ہوئے ہیں۔ ان کو دیکھ کر یقینا مولانا کی روح خوش ہوتی ہوگی۔ پانچ بیٹوں کے نام درج ذیل ہیں:
۱۔ ابو الطاہر مولانا شفیق احمد قادری ، سابق صدر انجمن طلباء اسلام، پاکستان
۲۔ مولانا قاری محمد صدیق قادری
۳۔ مولانا ابو الفضل لطف اللہ قادری
۴۔ مولانا حبیب احمد قادری
۵۔ حافظ محمد احمد قادری
وصال:
مولانا نصر اللہ قادری کو سحری کے وقت پیٹ میں معمولی درد کی شکایت ہوئی اس کے بعد بلند آواز سے الصلوٰۃ والسلام علیک یا رسول اللہ کی صدائیں بلند کی اور اس دوران جسم سے روح پرواز کر گئی۔ ۳۰ ذوالحجہ ۱۴۲۱ھ بمطابق ۶ اپریل ۲۰۰۰ء بروز جمعرات ۵۴ سال کی عمر میں انتقال کیا ارو اسی روز بعد نماز عصر صاحبزادے مولانا شفیق احمد کی اقتداء میں نماز جنازہ ادا کی گئی اور آپ کے قائم کردہ مدرسہ مجیدیہ تعلیم القرآن میں آخری آرام گاہ بنی۔
(مولانا شفیق احمد شکار پوری نے حافظ عبدالستار ابڑو کی وساطت سے مواد بھجوایا اسی سے مضمون ترتیب دیا گیا ہے)
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/mujahid-e-ahlesunnat-hazrat-allama-molana-nasrullah
scholars.pk
Mujahid e Ahlesunnat Hazrat Allama Molana Nasrullah
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
हमारी बेटी ऐसी वैसी नही है
आज बेटी खुद बाजा़र से अपनी पसंद के कपड़े खरीद कर लाई है और बाप ,माँ और भाई बहुत खुश हैं के लड़की समझदार हो गयी है।
इस तरक़्क़ी से घर मे किसी को तकलीफ़ नही है लेकिन अगर कोई दीनी इल्म रखने वाला "मौलवी टाइप शख्स" इस "तरक़्क़ी" को गलत कहने की जसारत कर बैठे तो उसे फौरन जवाब दिया जाता है के "हमारी बेटी ऐसी वैसी नही है" अब उन्हें कौन समझाए के किसी की भी बेटी पैदाइशी "ऐसी वैसी " नही होती।
आप को भले ही अपनी बेटी पर भरोसा हो लेकिन हम तो इतना ही जानते है के वो भी इंसान हैं।
आप कुछ भी कहें लेकिन ये सच है के वो गुनाहों से मासूम नही है।
आपकी नज़रो में आपकी बेटी का कोई दुश्मन नही है लेकिन एक खुला दुश्मन है जिसे शैतान कहा जाता है।
ये भी जान लीजिए के जितनी लड़कियां लड़कों के साथ भाग गयी, जिनके साथ ज़बरदस्ती ज़िना किया गया और जिन्होंने खुदखुशी कर ली वो सब लड़कियां भी पैदाइशी "ऐसी वैसी" नही थी बल्कि कईयो ने मिलकर कर उसे "ऐसी वैसी" बना डाला।
हमने इशारे में में बहुत कुछ कहा है अगर आप समझ गए तो फिर ये भी समझ लीजिए के ये "तरक़्क़ी" नही है।
आप नही समझे तो फिर आप की बेटी तो स्कूटी चलाना जानती ही है बस चाबी दे दीजिए और पैसे या कार्ड दे दीजिए ताकि वो भी इस ईद पर अपने पसंद की शॉपिंग कर सके।
वैसे दीनी इल्म रखने वाले "मौलवी टाइप लोग" अगर ज़्यादा बोले तो आप बिलकुल तवज्जोह ना दे क्यों के आप उनसे बेहतर जानते है के "तरक़्क़ी" किसे कहेते है और आप की बेटी भी
"ऐसी वैसी" तो है नही।
अब्दे मुस्तफा
आज बेटी खुद बाजा़र से अपनी पसंद के कपड़े खरीद कर लाई है और बाप ,माँ और भाई बहुत खुश हैं के लड़की समझदार हो गयी है।
इस तरक़्क़ी से घर मे किसी को तकलीफ़ नही है लेकिन अगर कोई दीनी इल्म रखने वाला "मौलवी टाइप शख्स" इस "तरक़्क़ी" को गलत कहने की जसारत कर बैठे तो उसे फौरन जवाब दिया जाता है के "हमारी बेटी ऐसी वैसी नही है" अब उन्हें कौन समझाए के किसी की भी बेटी पैदाइशी "ऐसी वैसी " नही होती।
आप को भले ही अपनी बेटी पर भरोसा हो लेकिन हम तो इतना ही जानते है के वो भी इंसान हैं।
आप कुछ भी कहें लेकिन ये सच है के वो गुनाहों से मासूम नही है।
आपकी नज़रो में आपकी बेटी का कोई दुश्मन नही है लेकिन एक खुला दुश्मन है जिसे शैतान कहा जाता है।
ये भी जान लीजिए के जितनी लड़कियां लड़कों के साथ भाग गयी, जिनके साथ ज़बरदस्ती ज़िना किया गया और जिन्होंने खुदखुशी कर ली वो सब लड़कियां भी पैदाइशी "ऐसी वैसी" नही थी बल्कि कईयो ने मिलकर कर उसे "ऐसी वैसी" बना डाला।
हमने इशारे में में बहुत कुछ कहा है अगर आप समझ गए तो फिर ये भी समझ लीजिए के ये "तरक़्क़ी" नही है।
आप नही समझे तो फिर आप की बेटी तो स्कूटी चलाना जानती ही है बस चाबी दे दीजिए और पैसे या कार्ड दे दीजिए ताकि वो भी इस ईद पर अपने पसंद की शॉपिंग कर सके।
वैसे दीनी इल्म रखने वाले "मौलवी टाइप लोग" अगर ज़्यादा बोले तो आप बिलकुल तवज्जोह ना दे क्यों के आप उनसे बेहतर जानते है के "तरक़्क़ी" किसे कहेते है और आप की बेटी भी
"ऐसी वैसी" तो है नही।
अब्दे मुस्तफा
❤1
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
Humari Beti Aisi Waisi Nahin Hai
Aaj Beti Khud Bazaar Se Apni Pasand Ke Kapde Khareed Kar Laayi Hai Aur Baap, Maa Aur Bhai Bahut Khush Hain Ke Ladki Samajhdar Ho Gayi Hai
Is Taraqqi Se Ghar Mein To Kisi Ko Takleef Nahin Hai Lekin Agar Koi Deeni Ilm Rakhne Waala "Molvi Type Shakhs" Is "Taraqqi" Ko Ghalat Kehne Ki Jasarat Kar Baithe To Use Fauran Jawab Diya Jaata Hai Ke "Humari Beti Aisi Waisi Nahin Hai" Ab Unhein Kaun Samjhaye Ke Kisi Ki Bhi Beti Paidayishi "Aisi Waisi" Nahin Hoti
Aap Ko Bhale Hi Apni Beti Par Bharosa Ho Lekin Hum To Itna Hi Jaante Hain Ke Wo Bhi Insan Hai
Aap Kuchh Bhi Kahein Lekin Ye Sach Hai Ke Wo Gunaho Se Masoom Nahin Hai
Aap Ki Nazro Mein Aap Ki Beti Ka Koi Dushman Nahin Hai Lekin Ek Khula Dushman Hai Jise Shaitan Kaha Jaata Hai
Ye Bhi Jaan Lijiye Ke Jitni Ladkiya Ladko Ke Saath Bhaag Gayi, Jin Ke Saath Zabardasti Zina Kiya Gaya Aur Jinhone Khudkushi Kar Li, Wo Sab Ladkiya Bhi Paidayishi "Aisi Waisi" Nahin Thi Balki Kaiyo Ne Mil Kar Use "Aisi Waisi" Bana Daala
Hum Ne Ishare Mein Bahut Kuchh Kaha Hai, Agar Aap Samajh Gaye To Phir Ye Bhi Samajh Lijiye Ke Ye "Taraqqi" Nahin Hai,
Agar Aap Nahin Samjhe To Phir Aap Ki Beti To Scooty Chalana Jaanti Hi Hai, Bas Chabi De Dijiye Aur Paise Ya Card De Dijiye Taaki Wo Bhi Is Eid Par Apne Pasand Ki Shopping Kar Sake
Waise Deeni Ilm Rakhne Waale "Molvi Type Log" Agar Zyada Bolein To Aap Bilkul Tawajjoh Na Dein Kyunki Aap Unse Behtar Jaante Hain Ke "Taraqqi" Kise Kehte Hain Aur Aap Ki Beti Bhi "Aisi Waisi" To Hai Nahin
Abde Mustafa
Aaj Beti Khud Bazaar Se Apni Pasand Ke Kapde Khareed Kar Laayi Hai Aur Baap, Maa Aur Bhai Bahut Khush Hain Ke Ladki Samajhdar Ho Gayi Hai
Is Taraqqi Se Ghar Mein To Kisi Ko Takleef Nahin Hai Lekin Agar Koi Deeni Ilm Rakhne Waala "Molvi Type Shakhs" Is "Taraqqi" Ko Ghalat Kehne Ki Jasarat Kar Baithe To Use Fauran Jawab Diya Jaata Hai Ke "Humari Beti Aisi Waisi Nahin Hai" Ab Unhein Kaun Samjhaye Ke Kisi Ki Bhi Beti Paidayishi "Aisi Waisi" Nahin Hoti
Aap Ko Bhale Hi Apni Beti Par Bharosa Ho Lekin Hum To Itna Hi Jaante Hain Ke Wo Bhi Insan Hai
Aap Kuchh Bhi Kahein Lekin Ye Sach Hai Ke Wo Gunaho Se Masoom Nahin Hai
Aap Ki Nazro Mein Aap Ki Beti Ka Koi Dushman Nahin Hai Lekin Ek Khula Dushman Hai Jise Shaitan Kaha Jaata Hai
Ye Bhi Jaan Lijiye Ke Jitni Ladkiya Ladko Ke Saath Bhaag Gayi, Jin Ke Saath Zabardasti Zina Kiya Gaya Aur Jinhone Khudkushi Kar Li, Wo Sab Ladkiya Bhi Paidayishi "Aisi Waisi" Nahin Thi Balki Kaiyo Ne Mil Kar Use "Aisi Waisi" Bana Daala
Hum Ne Ishare Mein Bahut Kuchh Kaha Hai, Agar Aap Samajh Gaye To Phir Ye Bhi Samajh Lijiye Ke Ye "Taraqqi" Nahin Hai,
Agar Aap Nahin Samjhe To Phir Aap Ki Beti To Scooty Chalana Jaanti Hi Hai, Bas Chabi De Dijiye Aur Paise Ya Card De Dijiye Taaki Wo Bhi Is Eid Par Apne Pasand Ki Shopping Kar Sake
Waise Deeni Ilm Rakhne Waale "Molvi Type Log" Agar Zyada Bolein To Aap Bilkul Tawajjoh Na Dein Kyunki Aap Unse Behtar Jaante Hain Ke "Taraqqi" Kise Kehte Hain Aur Aap Ki Beti Bhi "Aisi Waisi" To Hai Nahin
Abde Mustafa
❤1