🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
ظہر وعصر میں آہستہ اور مغرب، عشا وفجر میں جہری قراءت کی وجہ
ـــــ ـــــــ ـــــــ ـــــــ ـــــــ ـــــــ
ظہراورعصرکی نمازمیں آئستہ قرائت کرنےکی کیاوجہ ہے؟
کیا فرماتے ہیں علماۓ دین؟ 👆👆👆
سائل : محمد نعمان
ـــــ ـــــــ ـــــــ ـــــــ ـــــــ ـــــــ
الجواب : پہلی بات تو یہی ہے کہ حضور اکرم ﷺ سے یہی ثابت ہے. اس لیے آہستہ قراءت کرتے ہیں.
رہی بات اس کے پس منظر کی تو مختصر لفظوں میں یہ کہ ابتداء میں ہرنماز میں بلند آواز سے قراءت کی جاتی تھی. ــ بعد میں کفار آکر جہری قراءت کے وقت شوروغل مچانے لگے. اپنے اشعار پڑھنے لگے تاکہ مومنین کی قراءت سن کر اور لوگ متاثر نہ ہو جائیں.
اس کے بعد حکم بوا کہ ان دو نمازوں کی قراءت آہستہ آہستہ کی جائے. تو پھر وہی آج تک وہی روایت برقرار ہے. مغرب کھانے میں کفار مشغول رہتے اور وعشا وفجر میں سونے میں. اس لیے اس وقت جہری قراءت رہی.
جمعہ وعیدیں کا حکم چونکہ مدینہ شریف میں ہوا اور وہاں ان کی بالکل چلتی نہ تھی اس لیے جہر ہی رہی.

" والأصل في الجهر والإسرار أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يجهر بالقراءة في الصلوات كلها في الإبتداء، وكان المشركون يؤذونه، ويقولون لأتباعم: إذا سمعتموه يقرأ فارفعوا أصواتكم بالأشعار والأراجيز وقابلوه بكلام اللغو، حتى تغلبوه فيسكت، ويسبون من أنزل القرآن، ومن أنزل عليه، فأنزل الله تعالى: ﴿وَلَا تَجْهَرْ بِصَلاتِكَ وَلا تُخَافِتْ بِهَا﴾ [الإسراء: 110] أي لا تجهر بصلاتك كلها، ولا تخافت بها كلها، وابتغ بين ذلك سبيلاً: بأن تجهر بصلاة الليل، وتخافت بصلاة النهار، فكان بعد ذلك يخافت في صلاة الظهر والعصر؛ لاستعدادهم بالإيذاء فيهما، ويجهر في المغرب؛ لاشتغالهم بالأكل، وفي العشاء والفجر؛ لرقادهم، وفي الجمعة والعيدين؛ لأنه أقامهما بالمدينة، وما كان للكفار قوة. [حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح (ص: 253)]
واللہ تعالٰی اعلم.

فیضان سرور مصباحی
27/ دسمبر 2019
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*سوال نمبر73:*
کیا زندہ مسلمان کو ایصالِ ثواب کرنا جائز ہے ؟
*جواب:*
جی ہاں ! زندہ مسلمان کو ایصالِ ثواب کرنا جائز ہے. چنانچہ حضرت سیدنا صالح ابن درہم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :
*"انطلقنا حاجین*
*فاذارجل فقال لنا :*
*الی جنبکم قریۃ یقال لھا الابلۃ ؟*
*قلنا نعم !*
*قال :من یضمن لی منکم ان یصلی لی فی مسجد العشار رکعتین او اربعا ویقول ھذہ لابی ھریرۃ"*
ہم حج کرنے جا رہے تھے کہ ایک صاحب (یعنی حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ) ملے اور پوچھنے لگے :
کیا تم سے کوئی قریب بستی ہے جسے *"اُبُلَّہ"* کہا جاتا ہے ؟
ہم نے کہا : جی ہاں !
(یہ سن کر) انہوں نے فرمایا :
تم میں کون اس کا ضامِن بنتا ہے کہ مسجدِ عَشَّار میں میرے لئے دو یا چار رکعتیں پڑھے اور کہے کہ یہ نماز ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ (کے ایصال ثواب) کے لئے ہے.
*(سنن ابوداؤد باب فی ذکر البصرۃ جلد4 صفحہ 153 حدیث : 4308 دار احیاء التراث العربی بیروت )*
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ والہ وسلم
کتبہ
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
04/04/2019
03068209672
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
✰ابواسید عبیدرضامدنی✰:
*سوال نمبر 118:*
کیا حضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کی پیدایش خانہ کعبہ شریف کے اندر ہوئی ہے ؟
*جواب :*
جی نہیں ! حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی ولادت خانہ کعبہ کے اندر نہیں ہوئی, حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو مولودِ کعبہ سمجھنا ایسا کمزور گمان ہے جس کے ثبوت پر کوئی صحیح دلیل نہیں کیونکہ آپ کرم اللہ وجہہ الکریم اپنے والد ابوطالب کے مکان شعبِ بنی ہاشم کے اندر پیدا ہوئے, جس مکان کو لوگ مولدِ علی کے نام سے یاد کیا کرتے تھے اور اس مکان کے دروازے پر یہ عبارت لکھی ہوئی تھی :
*"ھذا مولد امیر المؤمنین علی ابن ابی طالب "*
یعنی یہ حضرت امیر المومنین علی بن ابوطالب کرم اللہ وجہہ الکریم کی ولادت گاہ ہے.
اور اہل مکہ بھی اس پر بغیر اختلاف کے متفق تھے, نیز آپ کرم اللہ وجہہ الکریم کی ولادت گاہ پر ایک قبہ بنا ہوا تھا جس کو نجدیوں نے دیگر مقامات مقدسہ کے ساتھ گرادیا.
چنانچہ 1- امام مسلم بن حجاج قشیری رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں:
*"ولد حکیم ابن حزام فی جوف الکعبہ"*
یعنی حضرت حکیم بن حزام رضی اللہُ عنہ خانہ کعبہ کے اندر پیدا ہوئے.
*(صحیح مسلم کتاب البیوع باب الصدق فی البیع والبیان)*
2- امام بدر الدین عینی حنفی رحمۃ اللہ تعالی علیہ تحریر فرماتے ہیں :
*" (حکیم بن حزام) ولد فی بطن الکعبۃ"*
یعنی حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ تعالی عنہ خانہ کعبہ کے اندر پیدا ہوئے.
*(عمدۃالقاری شرح صحیح بخاری جلد 13 صفحہ 142 دارالکتب العلمیہ بیروت)*
3- امام ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ تعالی تحریر فرماتے ہیں :
*"وحکی الزبیر بن بکار ان حکیما ولد فی جوف الکعبہ"*
یعنی حضرت زبیر بن بکار رضی اللہ عنہ نے حکایۃً بیان کیا کہ حضرت حکیم بن حزام رضی اللہُ عنہ کی ولادت خانہ کعبہ کے اندر ہوئی.
*(الاصابہ فی تمییز الصحابہ جلد 2 صفحہ 98 دار الکتب العلمیہ بیروت)*
4- امام جلال الدین سیوطی شافعی رحمۃاللہ تعالی علیہ تحریر فرماتے ہیں :
*"حکیم بن حزام بن خویلد بن اسد وکان مولدہ فی جوف الکعبہ"*
یعنی حضرت حکیم بن حزام رضی اللہُ عنہ بن خویلد بن اسد. اور آپ کی ولادت گاہ خانہ کعبہ کے اندر تھی.
*(تدریب الراوی فی شرح تقریب النواوی صفحہ 355 دارالکتاب العربی بیروت)*
5- امام جلال الدین سیوطی شافعی رحمۃاللہ تعالی علیہ مزید اسی کتاب کے اگلے صفحہ پر تحریر فرماتے ہیں :
*"قال الزبیر بن بکار کان مولد حکیم بن حزام فی جوف الکعبہ قال شیخ الاسلام ولایعرف ذلک لغیرہ"*
یعنی حضرت زبیر بن بکار رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حضرت حکیم بن حزام رضی اللہُ عنہ کی ولادت خانہ کعبہ کے اندر ہوئی,شیخ الاسلام فرماتے ہیں کہ وہ اس بات کو (خانہ کعبہ کے اندر پیدا ہونے کو) حضرت حکیم بن حزام رضی اللہُ عنہ کے علاوہ کیلیے نہیں جانتے.
*(تدریب الراوی فی شرح تقریب النواوی صفحہ 356 دارالکتاب العربی بیروت)*
6- امام ابو ذکریا محی الدین یحی بن شرف نووی رحمۃ اللہ تعالی علیہ تحریر فرماتے ہیں :
*"ولد حکیم بن حزام فی جوف الکعبۃ ولایعرف احد ولد فیھا غیرہ"*
یعنی حضرت حکیم بن حزام رضی اللہُ عنہ کی ولادت خانہ کعبہ کے اندر ہوئی اور ان کے علاوہ کوئی ایسا شخص معلوم نہیں ہے جس کی ولادت خانہ کعبہ کے اندر ہوئی ہو.
*(تہذیب الاسماءواللغات حرف الحاء جلد اول صفحہ 409 دار فیحاءالبیروت)*
7- ایک شیعی عالم نے بھی لکھا ہے کہ :
"محدثین صرف حکیم بن حزام (رضی اللہ عنہ) کو ہی مولودِ کعبہ سمجھتے ہیں.
*(شرح نہج البلاغہ جلد اول صفحہ 14 دارالجبل بیروت)*
البتہ خانہ کعبہ کے اندر صرف حضرت حکیم بن حزام رضی اللہُ عنہ کی ولادت ہوئی ہے , آپ رضی اللہ عنہ کے علاوہ کسی کی بھی ولادت خانہ کعبہ کے اندر نہیں ہوئی.
1- چنانچہ امام حافظ ابوعمر خلیفہ بن خیاط رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
*"ولد علی بمکۃ فی شعب بنی ھاشم"*
یعنی حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی ولادت مکہ میں شعب بنی ہاشم میں ہوئی.
*(تاریخ خلیفہ بن خیاط صفحہ 199 دار حلبیۃ الریاض)*
2- امام حافظ ابوالقاسم علی بن حسن رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
*"ولد علی بمکۃ فی شعب بنی ھاشم"*
یعنی حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی ولادت مکہ میں شعب بنی ہاشم میں ہوئی.
*(تاریخ دمشق الکبیر جلد 45 صفحہ 448 دار احیاء التراث العربی بیروت)*
3- صدرالشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالی علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"مکانِ ولادت اقدس حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم و مکان حضرت خدیجہ الکبریٰ رضی اللہُ عنہا و مکان ولادتِ علی رضی اللہ عنہ و جبلِ ثور و غارِ حرا و مسجد الجن و مسجد جبل ابی قبیس وغیرہا مکانِ متبرکہ کی زیارت سے بھی مشرف ہو.
*(بہار شریعت جلد اول حصہ 6 صفحہ 1150مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*نوٹ :*
بعض اہلِ سنت کی کتابوں میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے خانہ کعبہ میں پیدا ہونے کا تذکرہ ملتا ہے اس حوالے سے چند باتیں ذہن نشین کرلیجیے:
1- پہلی بات یہ ہے کہ جن کتابوں میں اس کو ذکر کیا گیا تو وہا
ں صیغہ تمریض جیسے قِیْل

َ رُوِیَ وغیرہ کے ساتھ ذکر کیا گیا لہذا یہ بات معتبر نہیں.
2- دوسری بات یہ ہے کہ صرف شہرت کی وجہ سے سند اور معتبر مآخذ کے ذکر کے بغیر لکھ دیا گیا لہٰذا جب تک معتبر ماخذ نہیں مل جاتا تب تک یہ بات قابلِ قبول نہیں ہے.
3- تیسری بات یہ ہے کہ جنہوں نے ماخذ بیان کیا ہے,وہ یا تو شیعوں کی کتب ہیں یا ایسے شیعوں کی طرف مائل حضرات کی کتب ہیں جنہوں نے بہت ساری شیعی روایات کو بغیر تحقیق و تنقیح کے نقل کر دیا جیسے امام ذہبی , ملا علی قاری اور شاہ ولی اللہ محدث دہلوی علیھم الرحمہ نے مستدرک للحاکم کے حوالے سے اور بعض نے مروج الذہب اور فضول المھمہ کے حوالے سے نقل کیا ہے.
*فائدہ :*
مزید تفصیل کے لیے *"مولودِ کعبہ کون ؟"* نامی کتاب کا مطالعہ فرمایے.
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ والہ وسلم
کتبہ
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
20/08/2019
03068209672
*تصدیق و تصحیح:*
1- الجواب صحيح والمجيب نجيح
*فقط محمد عطاء اللہ النعیمی خادم الحدیث والافتاء بجامعۃالنور جمعیت اشاعت اہلسنت (پاکستان) کراچی حال عزیزیہ ؛مکہ مکرمہ*
2- حضرت امیر المؤمنین مولی المسلمین سیدنا و مولانا علی المرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کی ولادت درکعبہ کی روایت کے غیر معتبر ہونے کے حوالے سے جو آپ کا فتویٰ ہے یہ بالکل صحیح اور درست ہے میں اس کی تائید اور توثیق کرتا ہوں.
*ابوالحسنین مفتی محمد عارف محمود خان معطر القادری*
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Urdu Tahrir
سورج گرہن....چاند گرہن
الحدیث،ترجمہ:
رسول کریم.صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اس دن سورج گرہن ہوا جس دن آپ علیہ السلام کے بیٹے ابراھیم کی وفات ہوئی، لوگ کہنے لگے کہ نبی پاک کے بیٹے کی وفات کی وجہ سے سورج گرہن ہوا ہے،تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
سورج اور چاند کو گرہن کسی کی حیات یا وفات کی وجہ سے نہین لگتا، جب سورج گرہن یا چاند گرہن ہو تو نماز(نفل)پڑھو، اللہ سے دعا کرو..(بخاری حدیث 1043)
.
اسی قسم کی ایک اور حدیث پاک مین ہے کہ:
الحدیث،ترجمہ:
جب سورج گرہن یا چاند گرہن ہو تو اللہ کی بڑائی بیان کرو(ذکر اذکار کرو)، نوافل پڑھو اور صدقہ کرو...(بخاری حدیث1044)
.
ایک اور حدیث پاک میں ہے کہ:
الحدیث،ترجمہ:
جب سورج گرہن ہو یا چاند گرہن ہو تو اللہ کا ذکر کرو..(بخاری حدیث نمبر3202)
.
چاند گرہن اور سورج گرہن کے وقت عام نوافل کی طرح نوافل پڑھنے چاہیے...البتہ اگر مکروہ وقت ہو تو نفل کے بجائے ذکر اذکار کرنا چاہیے، توبہ استغفار کرنا چاہیے، صدقہ خیرات کرنا چاہیے
.
وہ جو مشھور ہے کہ حمل والی عورت سیدھا سوجائے یا چلتی پھرتی رہی یا چھری سے نہ کاٹے ورنہ یہ ہوجائے گا وہ ہوجائے گا...اسی قسم کی دیگر بے بنیاد باتیں جہالت ہیں.. کم علمی ہیں، وھم ہیں، جھوٹ ہیں
البتہ
سورج کی شعاعوں کےظاہری مضر اثرات ہوسکتےہیں، اگر معتبر سائنس دان ماہرین تجربات و دلائل سے ثابت کریں کہ گرہن کے وقت چاند سورج کی روشنی کی ریڈیئشن اور شعائیں انکھوں مدافعاتی نظام اور دماغ وغیرہ کو نقصان پہنچا سکتی ہیں
تو
شرعا انکی بات اس حد تک معتبر کہلائے گی تب کہنا برحق ہوگا کہ حاملہ اور کمزور افراد کمرے کے اندر رہیں تاکہ شعاعوں سے بچا جائے...لیکن سائنسدانوں ماہروں کی ایسی کوئی تحقیق و احتیاطی حکم میرے علم میں نہیں....البتہ کچھ ویب سائٹس پے ماہرین کےحوالے سے لکھا ہوا ملا کہ سورج گرہن کو دیکھنے سے آنکھوں پر مضر اثرات ہوتے ہیں اس لیے سورج گرہن کے وقت سورج دیکھنا ہو تو کالا چشمہ حفاظتی چشمہ پہن کر دیکھنا چاہیے...واللہ تعالی اعلم بالصواب
.
نجومیوں کچھ عامل حضرات کے خیالات و نظریات ہیں کہ چاند گرہن سوج گرہن کے روحانی اثرات ہوتے ہیں، ان کے گرہن کے خاص عملیات وغیرہ بھی ہیں......یہ سب شرعا غیرمعتبر ہیں
الحدیث:
من أتى عرافا فسأله عن شيء، لم تقبل له صلاة أربعين ليلة
ترجمہ:
جو عراف(کاہن نجومی اندازےباز، تکےباز، خلاف اسلام کشف و مراقبہ، جنات وغیرہ شرعا غیرمعتبر ذرائع کے ذریعے غیبی علم کے دعوے دار) کے پاس جائے اور کچھ پوچھے تو اسکی چالیس راتوں کی نماز قبول نہیں ہوتی...(مسلم حدیث2230)
نوٹ:
میں جائز دم درود دعا کرامت کا منکر نہیں، پکا سنی مسلمان ہوں الحمد للہ.....دوا دعا دم درود سب سنت ہیں، دوا دعا دم درود صدقہ عبادات سب پے عمل کرنا چاہیے ناجانے کس سے شفا مل جائے
.
 
مسئلہ:
قمردرعقرب یعنی چاند جب برج عقرب میں ہوتا ہے تو سفر کرنے کو برا جانتے ہیں اور نجومی اسے منحوس بتاتے ہیں اور جب برج اسد میں ہوتا ہے تو کپڑے قطع کرانے اور سلوانے کو برا جانتے ہیں۔ ایسی باتوں کو ہر گز نہ مانا جائے، یہ باتیں خلاف شرع اور نجومیوں کے ڈھکوسلے ہیں۔
مسئلہ:
نجوم کی اس قسم کی باتیں جن میں ستاروں کی تاثیرات بتائی جاتی ہیں، کہ فلاں ستارہ طلوع کریگا تو فلاں بات ہوگی، یہ بھی خلاف شرع ہے۔ اس طرح نچھتروں کا حساب کہ فلاں نچھتر سے بارش ہوگی یہ بھی غلط ہے، حدیث میں اس پر سختی سے انکار فرمایا۔
(بہار شریعت حصہ 16 ص659)

https://t.me/SirfUrduTahrir/2025
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Urdu Tahrir
نمازِ کسوف اور خسوف کے پڑھنے کا طریقہ کیا ہے؟

جواب:
کسوف کا معنی سورج گرہن اور خسوف کا معنی چاند گرہن ہے۔

حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں جس دن (آپ کے صاحبزادے) حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی تو سورج گرہن لگا۔

لوگوں نے کہا : ابراہیم رضی اللہ عنہ کی وفات کی وجہ سے سورج گرہن لگا ہے۔ حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا بیان کرتی ہیں کہ اس پر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اﷲِ. لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَّلَا لِحَيَاتِهِ. فَإِذَا رَأْيْتُمُوْهَا فَافْزَعُوْا لِلصَّلَاةِ.
مسلم، الصحيح، کتاب الکسوف، باب صلاة الکسوف، 2 : 619، رقم : 901

’’بے شک سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں کسی کے مرنے جینے سے ان کو گرہن نہیں لگتا پس جب تم ان نشانیوں کو دیکھو تو نماز پڑھو۔‘‘

نماز کسوف کا طریقہ

جب سورج گرہن ہو تو چاہئے کہ امام کے پیچھے دو رکعتیں پڑھے جن میں بہت لمبی قرات ہو اور رکوع سجدے بھی خوب دیر تک ہوں، دو رکعتیں پڑھ کر قبلہ رُو بیٹھے رہیں اور سورج صاف ہونے تک اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے رہیں۔

سورج گرہن کی نماز کی نیت : نیت کرتا ہوں دو رکعت نماز نفل کسوفِ شمس کی، واسطے اللہ تعالیٰ کے، پیچھے اس امام کے، رُخ میرا قبلہ کی طرف، اَﷲُ اَکْبَر۔

نمازِ خسوف کا طریقہ

چاند گرہن کے وقت بھی چاند صاف ہونے تک نماز پڑھتے رہیں، مگر علیحدہ علیحدہ اپنے گھروں میں پڑھیں، اس میں جماعت نہیں۔
چاند گرہن کی نماز کی نیت : نیت کرتا ہوں دو رکعت نماز نفل خسوف قمر کی، واسطے اللہ تعالیٰ کے، رُخ میرا قبلہ کی طرف، اَﷲُ اَکْبَر۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

https://t.me/SirfUrduTahrir/2029