🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
28-12-1444 ᴴ | 17-07-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
28-12-1444 ᴴ | 17-07-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
ماہ محرم اور حضرت امام حسین
کربلا تعزیہ نوحہ ماتم شہادت نامہ
صبر غم ـ حضرت قاسم کی مہندی
پانی و شربت کی سبیل ـ وغیرہ ...
سید کامران قادری صاحب
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت علامہ مولانا قادر بخش قاسمی رحمۃ اللہ علیہ

خطیب اہل سنت مولانا علامہ قادر بخش بن محمد مٹھل سومرو گوٹھ لدھان نزد خیر پور ناتھن شاہ ضلع دادو میں ۱۹۴۲ء کو تولد ہوئے ۔

تعلیم و تربیت:
آبائی گوٹھ میں اسکول سے فائنل کا امتحان پاس کرکے ، حصول تعلیم کیلئے سفر اختیار کیا۔ ۱۹۵۴ء کو پٹی شریف ( نزد خانپور ضلع دادو) کے مدرسہ میں داخلہ لے کر دینی تعلیم کا آغاز کیا ۔ ناظرہ قرآن مجید ، فارسی ، صرف ، نحو، منطق ، فقہ ، تفسیر و حدیث کی کتب کا درس لیا ۔ غربت اور فاقہ کشی کے باجود ہمت صبر اور ثابت قدمی سے حصول علم کے لئے شب و روز محنت و مشقت سے تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا ۔ ۱۹۵۹ء کو مدرسہ پٹی شریف سے فارغ التحصیل ہوئے ۔ اس دوران درج ذیل اساتذہ سے استفادہ کیا:

۱ـ مولانا عبدالرحمن جونیجو

۲۔ مولانا محمد صالح جونیجو وغیرہ

خطابت:
بعد فراغت ، زمیندار حاجی محمد یوسف چانڈیو نے جامع مسجد غوثیہ سیتاروڈ ( رحمانی نگر ضلع دادو سندھ ) میں ۱۹۶۳ء کو آپ کو امام و خطیب مقرر کیا ۔ وہ جمعہ کے روز تقریر کرتے مضافات کے علاوہ دور دراز علاقوں سے لوگ ان کا خطاب سننے کے لئے رحمانی نگر سویر پہنچ جاتے تاکہ اطمینان قلب کے ساتھ خطاب سن سکیں ۔

وہ مجمعے میں کھڑے ہوتے تو اپنی خوش بیانی اور شیر ین زبانی سے مجمع پر چھا جاتے ۔ سندھی کے قادر الکلام خطیب اور پر جوش مقرر کے حوالہ سے سندھ بھر میں پہچانے جاتے تھے۔ مولانا کا خطاب ، زور خطابت کا مرہون منت تھا بلکہ علمی فکری اعتقادی و نظر یاتی دلائل کے حوالہ سے شہرت رکھتا تھا۔

وہابیت کے علاوہ شیعیت کے متعلق بھی دلیری و بہادری کے ساتھ احقائق حق و ابطال باطن کا حق ادا کرتے رہے۔ شیعیت کے باطل نظریات پر جس طرح وہ تفصیل سے بات کرتے تھے اس طرح بہت کم خطباء بول سکتے ہیں ۔

قرآن ، حدیث ، تفسیر ، فقہ کے علاوہ مخالفین کی بنیادی کتب کا بھی وسیع مطالعہ رکھتے تھے۔

درگاہ عالیہ حضرت مشوری شریف کے سالانہ جشن میلاد النبی ﷺ مع تقریب دستار فضیلت کے موقعہ پر رات کے وقت ہر سال آپ کا خطاب ہوتا تھا۔ ایک بار سردیوں کے موسم میں رات کے وقت کھڑے کھڑے مولانا نے چار گھنٹے کا خطاب کیا جو کہ اب بھی فقیرکی آنکھوں کے سامنے ہے۔

مدرسہ کا قیام:
جامع مسجد غوثیہ میں۱۹۶۶ء کو ’’مدرسہ عین الفیوض ‘‘کی بنیاد رکھی ۔ جس میں ناظرہ حفظ کے علاوہ درس نظامی کی کلاس کا اہتمام کیا گیا۔ جہاں سے کئی لڑکوں کے علاوہ لڑکیاں حفظ قرآن کی دولت سے مالا مال ہوئیں۔ ۱۹۸۵ء کو مدرسہ کا نام تبدیل کرکے ’’مدرسہ عربیہ قادریہ قاسمیہ ‘‘ تجویز فرمایا۔ مدرسہ کے سالانہ جلسہ دستار فضیلت میں آپ کے پیر خانہ کے علاوہ سند ھ کے نامور علماء و مشاہیر حضرات کو مدعو کیا جاتا تھا۔

بیعت:
۱۹۶۸ء کو آپ سندھ کے حضرت علامہ مفتی خواجہ محمد قاسم مشوری قدس اللہ سرہ الاقدس کے دست اقدس پر ’’سلسلہ عالیہ قادریہ راشدیہ ‘‘ میں بیعت ہوئے۔ بعد بیعت آپ نے حضرت قبلہ عالم کی صحبت کو زندگی کے ساتھ لازم کر دیا ۔ دورہٗ حدیث کے دوران بھی بڑی دلچپسی کے ساتھ شریک رہے اور بھر پوراستفادہ فرماتے تھے اس کے علاوہ فقہی مسائل ، نزاعی مسائل ، اعتقادی و نظریاتی مسائل میں بھی حضرت کے افدات سے اپنے دامن مراد کو بھرتے تھے۔

خدمت خلق:
حضرت قبلہ کی صحبت سراپا نعمت نے آپ کو خدمت خلق کا جذبہ عطا فرمایا، آپ بعد فجرتا ظہر درس و تدریس کے شغل میں مصروف رہتے بعد ظہر تا عصر تعویذات دیتے ۔ بعد نماز عشاء مسجد غوثیہ میں محفل ذکر شریف منعقد کرتے جس میں جماعت کے ساتھ ذکر جہر کا ورد ہوتا تھا۔ اس کے علاوہ رات کو تقریبا تقریبات میں مدعو ہوتے ۔ اس طرح موصوف دن رات اسلام و سنیت اور خدمت خلق کے عمل بامقصد میں مصروف عمل رہتے ۔ اور یہ سارا کام فی سبیل اللہ کے جذبہ سے ہوتا ، تقریر یا تعویذکے لئے کسی سے کوئی رقم طے نہیں فرماتے تھے۔

ہر ماہ کی گیارہ تاریخ کو سرکار غوث اعظم محبوب سبحانی رضی اللہ عنہ کی یاد میں ’’محفل گیارہویں شریف ‘‘بڑی عقیدت و احترام سے منعقد کرتے جس میں تقریر کے لئے مختلف علماء کو مدعو کیا جاتا اس کے بعد لنگر شریف کا اہتمام ہوتا تھا۔
2👍1
شادی و اولاد:
آپ نے دو شادیاں کی ۔ پہلی بیوی سے تین بیٹے اور ایک بیٹی تولد ہوئی ۔
۱۔      غلام مرتضیٰ                    
۲۔     غلام عباس              
۳۔     مشتاق احمد

دوسری بیوی سے چار بیٹے اور پانچ بیٹیاں تولد ہوئیں ۔
۱۔      محمد عرف نالے مٹھا              
۲۔     عبدالعزیز             
۳۔     وقار احمد
۴۔     محمد اویس

تلامذہ:
آپ کے بعض شاگردوں کے نام درج ذیل ہیں:

٭ مولانا محمد قاسم چنہ گوٹھ آندل تونیہ نزد شاہ پنجواسٹیشن
٭ مولانا کریم بخش سومرو گوٹھ خیر پور ناتھن شاہ ضلع دادو
٭ مولانا منیر احمد چانڈیو ضلع ٹھٹھہ
٭ مولانا حزب اللہ سولنگی گوٹھ دڑاما چھی نزد ککڑ ضلع دادو
٭ مولانا برکت علی شر بلوچ خطیب مسجد غوثیہ پڈعیدن اسٹیشن ضلع نوابشاہ

وصال:
۱۹۹۶ء میں آپ پر فالج کا حملہ ہوا۔ شگر کا مرض تو پہلے سے لاحق تھا بیماری و علالت نے جسمانی طور پر کافی کمزور و ضعیف کر دیا تھا لیکن مرض و تکلیف کے باوجود نماز کی پابند ی رہی ۔ تین سال کے بعد ۲۹، ذوالحجہ ۱۴۱۹ھ بمطابق ۱۷، اپریل ۱۹۹۹ء بروز ہفتہ سول ہسپتال دادو میں ۵۷ سال کی عمر میں انتقال کیا۔ صاحبزادہ پروفیسر حافظ منظور احمد مشوری صاحب نے نماز جنازہ پڑھائی ، حضرت صاحبزادہ قبلہ مولانا منیر احمد صاحب مشوری نے دعا کی۔ مدرسہ عربیہ قادریہ قاسمیہ رحمانی نگر میں آپ کی آخری آرامگاہ ہے۔

[مولانا مرحوم کے صاحبزادے فقیر غلام عباس سومرو سے محترم قاری حمزہ بروہی ( نیو سبزی منڈی کراچی ) نے مواد حاصل کر کے بھجوایا اور راقم نے مضمون ترتیب دیا۔ فقیر دونوں حضرات کا مشکور ہے۔ راشدی ]


( انوارِ علماءِ اہلسنت )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-molana-qadir-bakhsh-qasmi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
سراج الفقھاء علامہ مفتی ابو الفیض غلام عمر جتوئی رحمۃ اللہ علیہ

سراج الفقہاء ، امام میراث ، سرمایہ ملت ، ماہر علوم و فنون ، عارف باللہ ، حضرت علامہ مولانا مفتی ابوالفیض غلام عمر جتوئی بن محمد صادق جتوئی کی ولادت با سعادت لاڑکانہ تحصیل کے گوٹھ سو نہ جتوئی میں تقریبا ۱۲۳۳ھ میں ہوئی ۔

تعلیم و تربیت:
ابتدائی دور میں آپ کھیتی باڑی اور چروا ہے کا کام کرتے تھے ، جب جوان ہوئے تو گوٹھ کے بزرگ حضرت محمد عثمان کو دربار رسالت مآب ﷺ سے حکم ملا کہ غلام عمر کو پیغام پہنچائیں کہ علم دین حاصل کرے ۔ حکم سن کر سر خم کیا اور اسی دن سے طلب علم میں گھر سے نکل پڑے اور رات درگاہ شریف بٹ سرائی ( تحصیل میہڑ ) پہنچے جہان قیام کیا۔

اسی رات ولی نعمت ، شیخ طریقت ، عارف صمدانی حضرت سید محمد پنہل شاہ راشدی ؒ کو حکم ہوا کہ آپ کے پاس ایک مہمان آیا ہے جس نے طلب علم میں سفر کیا ہے اس کی رہنمائی کریں اس کو رہڑ و کی درسگاہ بھجوادیں ۔ پھر آپ نے حکم کے مطابق ویسے ہی کیا رہڑو شریف (تحصیل میہڑ ) میں استاد العلماء حضرت علامہ مولانا محمد صالح مہیسر کی خدمت میں رہ کر تعلیم و تربیت کے مراحل طے کئے ۔

فارسی کی تعلیم وہیں پوری کی۔ اس وقت سندھ میں قحط آیا تھا جس کے سبب بعض طلباء نے تعلیم ترک کر دی ،یہ مدرسہ بھی بہت متاثر ہوا۔ آپ نے استاد محترم کی اجازت و مشورہ سے پاٹ شریف (ضلع دادو ) کی درسگاہ میں داخلہ لیا۔

وہاں تاج الفقہاء ، استاد الاساتذہ ، عاشق خیر الوریٰ ، حضرت علامہ مخدوم حسن اللہ صدیقی قدس سرہ الاقدس کی خدمات میں رہ کر درس نظامی کی تکمیل کے ساتھ ساتھ فتویٰ نویسی میں مہارت نامہ حاصل کی ۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ استاد محترم کا نہایت احترام و خدمت سر انجام دیتے رہے، اپنی مرضی سے رات کو جنگل کو جاتے جہاں سے لکڑیاں کاٹ کر لاتے پھر لکڑیوں کے چھلکے اور کانٹے وغیرہ صاف کر کے پھر وہ لکڑیاں استاد محترم کے گھر بھجواتے جہاں کھانا پکانے میں کام آتی تھیں ۔ استاد محترم شاگرد کی پر خلوص خدمت و احترام کو دیکھ کر ڈھیر ساری مقبول دعاؤں سے نوازتے تھے ۔

درس و تدریس:
فارغ التحصل ہونے کے بعد سب سے پہلے اپنے استاد اول حضرت مولانا محمد صالح مہیسر صاحب کے پاس آئے خدمت کرنے کی غرض سے بارہ ماہ قیام کیا۔ خدمت کے ساتھ ساتھ طلباء کوفی سبیل اللہ درس بھی دیا کرتے تھے ۔ ایک روز استاد محترم نے دعائیں دیتے ہوئے رخصت کیا اور اپنے گوٹھ میں مدرسہ قائم کرنے کا ارشاد فرمایا۔

آپ نے گوٹھ سونہ جتوئی میں دینی درسگاہ ’’ مدرسہ دارالفیض ‘‘ کی بنیاد اپنے استاد محترم حضرت خواجہ مخدوم حسن اللہ صدیقی قدس سرہ الاقدس کے دست اقدس سے رکھوائی ۔ (فتاویٰ قاسمیہ ص ۴) حضرت علامہ مفتی ابوالفیض غلام عمر جتوئی بہت بڑے عالم، فقیہ ، تدریس کے بادشاہ اور فتویٰ میں سند کا درجہ رکھتے تھے ۔ زندگی بھر پڑھا یا جہالت کے پردوں کو تار تار کیا، علم کے نور سے اس عالم کو منور کیا۔ جید علماء کی ایک ٹیم ملت اسلامیہ کو عطا فرمائی جنہوں نے بھی اپنے اپنے علاقوں میں جاکر اسی جذبہ سے علم کی شمع کو روشن رکھا اس طرح دیہ سے دیہ جلتا رہا اور آج تک جل رہا ہے اور آئندہ بھی جلتا رہے گا انشاء اللہ

مولوی دین محمد وفائی لکھتا ہے: حضرت علامہ غلام عمر نے مسلسل پچاس برس درس دیا اور کئی طلباء آپ کے سر چشمہ فیض سے سیراب ہوئے۔ آپ دن کو پڑھاتے شرح اور حاشیہ کو سامنے رکھ کر طویل تقریر فرمایا کرتے تھے اور شب بھر عبادت میں گذارتے تھے۔ فتاویٰ اور فیصلہ کے لئے ہر وقت ہجوم رہتا تھا۔ مہمان نواز تھے مہمانوں کو خود کھانا لا کر کھلاتے تھے۔ ( ماہنامہ توحید جون ۱۹۳۴ء )

بیعت:
قطب زمانہ حضرت سید محمد پنھل شاہ راشدی ( درگاہ پیر جو گوٹھ بٹ سرائی تحصیل میہڑ ) کے دست اقدس پر سلسلہ عالیہ قادریہ راشدیہ میں بیعت ہوئے۔

کتب خانہ:
مولوی وفائی لکھتا ہے: سونہ جتوئی کا کتب خانہ سندھ میں ایک بے نظیر دینی اور علمی کتب خانہ تھا، جہاں شمال سندھ کے علماء فائدہ اٹھاتے تھے۔ حضرت مخدوم صاحب بعض مسائل کی تحقیق کے لئے اسی کتب خانہ کی جانب رجوع ہوتے تھے اور مطالعہ و تحقیقات کے لئے اپنے شاگرد رشید کے پاس تشریف لاتے رہتے تھے ۔

(ماہنامہ توحید ) کتابوں کو جمع کرنا اور مطالعہ کرنا آپ کا خاصہ تھا، عمر کے آخری ایام میں بھی کتابیں منگواتے رہتے تھے۔ روزانہ ڈاکیہ لاڑکانہ ڈاک خانہ سے سونہ جتوئی v.p رجسٹری کتابیں لے کر آتے تھے۔ کتابیں ہندوستان ، مصر، بیروت اور جحاز مقدس وغیرہ ممالک سے طلب فرماتے تھے ۔ مفتی غلام محمد قاسمی رقمطراز ہیں : آخری ایام ’’میں تفسیر اکلیل ‘‘ (غالبا تصنیف شیخ عبدالحق الہ آبادی ) منگوائی مگر کمزوری علالت کے سبب مطالعہ نہ کر سکے تو آپ کے پیارے شاگرد حضرت علامہ سر کار مشوری ؒ آپ کے حکم سے پڑھ کر سنایا کرتے اور آپ توجہ سے سماعت فرماتے ۔
1
حضرت قبلہ سر کار مشوری فرمایا کرتے تھے کہ حضرت استاذی ابوالفیض ؒ سے کسی نے جب بھی کوئی مسئلہ دریافت کیا تو مسئلہ بتانے کے ساتھ کتاب کا نام مع صفحہ تک بتادیتے تھے۔

علامہ ابو الفیض اور رد مذاہب باطلہ:
حضرت علامہ ابوالفیض کامل اکمل ولی اللہ ، مستجاب الدعوات تھے، سخی تھے ، مہمان نواز تھے ، غریب پرور تھے، عابد تھے ، زاہد تھے، متوکل تھے ، حزب البحر کے عامل تھے، زبان سیفی تھے، اخلاق محمد ی کے مجسمہ تھے، مجسمہ فیض تھے ، طلباء پر نہایت مشفق و مہربان تھے ۔

شریعت مطہرہ کے انتہائی پاسدار تھے، عامل بالسنت تھے، خلاف شرع کام کو ہر گز پسند نہ کرتے تھے اور مذاہب باطلہ کے لئے شمشیر بے نیام تھے ۔ اپنے دور میں مدرسہ دارالفیوض اہلسنت و جماعت کی عظیم دینی درس گاہ تھی ، علماء کرام کے لئے مرکزی پلیٹ فارم تھا، جہاں سندھ بھر کے جید علماء کرام جمع ہو کر حضرت سراج الفقہاء سے اور آپ کے کتب خانہ سے استفادہ کرتے تھے۔ اور مل بیٹھ کر مذاہب باطلہ کے خلاف علمی و عملی قدم بھی اٹھاتے تھے۔

آپ کے استاد محترم حضرت مخدوم حسن اللہ صدیقی جو کہ سندھ کے ’’مفتی اعظم ‘‘ تھے انہوں نے مدرسہ دارالفیض سونہ جتوئی کے کتب خانہ میں بیٹھ کر نبی کریم ﷺ کے علوم غیب شریف پر جامع و مانع مدلل و مفصل کتاب ’’نور العینین فی اثبات علم الغیب لسید الثقلین ‘‘ تحریر فرما کر وہابیت کے ناک میں چنے چبوائے تھے اور آپ نے شیعیت کی تحریری و لسانی تروید فرما کر ان کی نشوونما کو خطرے میں ڈال دیا۔

معلوم ہوا کہ اس دور میں آپ مدرسہ نے مذاہب ، باطلہ وہابیت و شیعیت کے ردو تردید میں مرکزی حیثیت حاصل کرلی تھی، نئے فرقے وہابیت دیوبندیت غیر مقلدیت کے نئے مسائل کو سمجھنے کے لئے علماء و مشائخ و عوام اسی مرکز کی جانب رجوع فرماتے تھے ۔ اسی درسگاہ کے فضلاء نے فرقہ باطلہ کے سدباب کے لئے اہم کردار ادا کیا اور شہر شہر بستی بستی جا کر عوام الناس کو ان بے دینوں کی بے دینی اور گستاخانہ عقائد سے روشناس کرایا۔

مولوی وفائی لکھتا ہے:
مدرسہ دار الفیض سونہ جتوئی میں مخدوم حسن اللہ صدیقی تشریف لاتے اور مضافات سے علماء بھی آتے اس طرح علمی مجالس قائم ہوتی تھیں ۔ علماء کرام مل بیٹھ کر مشکل مسائل (اعتقادی و نظریاتی ) کو حل فرماتے تھے۔ اور بعض اوقات حضرت مخدوم صاحب کئی ماہ تک سونہ جتوئی میں اپنے ارشد شاگرد رشید کے پاس قیام فرماتے تھے۔ (ماہنامہ توحید)

مناظر اسلام حضرت مولانا عبد الرحیم جتوئی نے اپنے استاد محترم حضرت سراج الفقہاء ، ولی کامل حضرت ابو الفیض کا شیعیت کے علمبرداروں کے ساتھ ایک مباحثہ نقل کیا ہے جس میں شیعوں کو منہ کی کھانی پڑی ، وہ رقمطراز ہیں : گذشتہ سال حضرت استاذینا و مولانا و مھدینا حضرت ابو الفیض غلام عمر ساکن سونہ جتوئی ، لاڑکانہ تشریف فرما ہوئے بندہ حاضر خدمت تھا۔

جب میاں علی محمد قادری کے بنگلے (قادری محلہ درگاہ حضرت فقیر محمد صالح قادری نزد مچھلی مارکیٹ لاڑکانہ ) میں داخل ہوئے تو وہیں حاجی امیر علی لاہوری (لاہوری محلہ لاڑکانہ والے) ماسٹر محمد پریل (شیعہ صاحبان) اور دیگر نا معلوم حضرات بھی شریک محفل تھے۔ قادری صاحب ایک جعلی شعر پڑھنے میں مشغول تھے ، جس میں حضرت قلندر صاحب کانام پڑھا جا رہا تھا۔ ایک مصرع کا پچھلا حصہ یوں پڑھا گیا۔

ھم علی من است ھم الہ من است

جس پر تمام شیعہ صاحبان جھومنے لگے ۔ حضرت استاد صاحب نے فرمایا: حضرت قلندر شہباز کا اسم گرامی ’’محمد عثمان ‘‘ہے۔ پھر اس اسم گرامی والا شخص شیعہ کیسے ہو گا؟جو کہ حضور علی کو اللہ کہے ۔ پھر تو شیعہ صاحبان میں سے کسی کو بولنے کی ہمت نہ ہو سکی ۔ ( حقانی خیالات مطبوعہ ۱۳۴۵ھ شہباز ولایت ص۱۵)

ماسٹر پریل نے لاڑکانہ میں ’’شیعہ مذہب ‘‘ کی بنیاد رکھی ۔ بعض لوگوں نے آپ کے حضور میں عرض کیا کہ قبلہ !لاڑکانہ میں پریل نے فتنہ پیدا کیا ہے کہ صحابہ کرام کی شان میں بکواس کر رہا ہے۔ آپ نے فرمایا: بابا!وہ گو ہ کھا رہا ہے‘‘۔اللہ تعالیٰ کے پیارے ولی کی زبانی مبارک سے جیسانکلا ویسا ہی ہوا۔ ماسٹر پریل نے صحابہ کرام کی شان اقدس میں گستاخانہ کتابیں لکھ کر اپنا ظاہر و باطن سیاہ کیا اور بعد میں پاگل ہو گیا اور لاڑکانہ والوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ شیعہ مذہب کا مبلغ و ترجمان اور قلمکار شہر کے کچرے خانہ میں پڑا ہوا تھا اور اس سے گوہ کی بد بواٹھ رہی تھی ۔ ( روشن صبح ص ۱۱۲ مطبوعہ لاڑکانہ) ـ
1
آپ نے اپنے پیارے شاگرد اور علمی جانشین حضرت علامہ سر کار مشوری ؒ کی طالب علمی کے زمانہ کی علم میراث پر لکھی گئی شاہکار کتاب ’’معلم الفرائض ‘‘ پر عربی میں تقریظ رقم فرمائی جو کہ درج ذیل ہے:

مسملا حامدا و مصلیا و مسلما

اما بعد فقد اطلعت علی مسائل الکتاب المسمی بمعلم الفرائض الذی الفر بعض المھرۃ من الاحباب فوجدتہ صحیحا حا ویا علی المسائل مفصلا ناطقا با لحق والصواب و مشتملا علی فرائد الفوائد و خرائد العوائد التی لم یظفر بھا اکثر المقتنصین لشوارد ھذا الباب ھذا و العلم عند اللہ الملک الوھاب اولیہ المرجع والماب۔ المصح الفقیر ابوالفیض غلام عمر عفا عنہ رب البشر الدرس فی مدرستہ الاسلام دارالفیض المتوطن فی قریۃ سونہ جتوئی

شادی و اولاد:
حضرت مخدوم صاحب نے گوٹھ سونہ جتوئی کے رئیس کی صاحبزادی سے آپ کا نکاح پڑھوایا جس سے ایک صاحبزادی ، دو صاحبزادے مولانا فیض اللہ اور میاں وہب اللہ جتوئی تولد ہوئے( فتاویٰ قاسمیہ جلد اول ص) دونوں صاحبزادوں سے فقیر راشدی نے طالب علمی کے زمانہ میں ملاقات کی تھی ۔

تلامذہ:
آپ کے شاگردوں کی کثیر تعداد میں سے بعض نام درج ذیل ہیں:
٭ فقیہ اعظم علامہ مفتی محمد قاسم سرکار مشوری صاحب مشوری شریف
٭ شیخ الادب علامہ تاج محمد کھوکھر بانی مدرسہ شمس العلوم گوٹھ خیر محمد آریجہ
٭ صدر المدرس علامہ مفتی غلام محمد جتوئی سونہ جتوئی
٭ مناظر اسلام مولانا عبدالرحیم جتوئی سونہ جتوئی
٭ مولانا مفتی پیر محمد سابق قاضی رخشان خاران بلوچستان
٭ مفتی اعظم بلوچستان مولانا غلام محمد خارانی ( والد مولانا حبیب احمد کوئٹہ ) خاران بلوچستان
٭ ثانی سعدی مولانا محمد کھو کھر سابق مدرس عید گاہ محلہ لاہوری لاڑکانہ
٭ یاد گار اسلاف علامہ دوست علی جتوئی سونہ جتوئی
٭ مولوی دین محمد وفائی وہابی مؤلف تذکرہ مشاہیر سندھ
٭ مولانا ابو السیف رب ڈنہ کھوہارو سیھڑاسٹیشن
٭ مولانا مفتی ابوالجمال خدا بخش ابڑو گوٹھ ملا ابڑا متصل لاڑکانہ
٭ بقیہ السلف مولانا ابوالغنی محمد عالم ابڑو گوٹھ ملا ابڑا متصل لاڑکانہ
٭ مناظر اسلام مولانا حکیم عبدالوہاب گلال ( موٗ لف تحفۃ الوہاب ) گاہی مہیسر تحصیل میہڑ
٭ عوامی شاعر و حکیم مولانا غلام رسول جتوئی ( مؤلف خطبات جتوئی ) محراب پور تحصیل ڈوکری
٭ مولانا ابوالبر کات محمد مبارک بھٹو گوٹھ جند و دیرو تحصیل مدئجی
٭ مولانا محمد سلیمان سلیم ابڑو گوٹھ ملا ابڑا
٭ مولانا مولا بخش فنائی ابڑو
٭ مولانا نور محمد منگلو گوٹھ منگلہ تحصیل گمنٹ
٭ مولانا در محمد رتڑ
٭ مولانا شمس الدین جو نیجو

تصنیف و تالیف:
٭ فتاویٰ ابو الفیض (قلمی)
٭ صمصان السنۃ علی راس البدعۃ
( سندھی ، مطبوعہ ، رد شیعیت )
٭ رسالہ قطع مشاجرۃ الوصام (عربی ، قلمی )

وصال:
علم و حکمت کے گوہر مجسم فیض ، علامہ ابوالفیض غلام عمر جتوئی نے ۱۲۰ سال کی عمر مبارکہ میں ۲۹، ذوالحجہ ۱۳۵۳ھ ؍۱۹۳۵ء میں واصل باللہ ہوئے۔ ( فتاویٰ قاسمیہ ، روشن صبح )

قاضی محمد ابراہیم صاحب ( شہداد کوٹ ) نے اساتذہ کے سلسلہ کی نظم کہی اس نظم میں آپ کے لئے فرماتے ہیں :

خواند آں فاضل غلام عمر
سونوی صدر مفتیان دھر
( فتاویٰ قاسمیہ )

مولوی محمد صادق رانی پوری نے قطعہ تاریخ وصال کہا ہے، اس کے اشعار درج ذیل ہیں:

آہ! علامہ زماں و زمین
خادم شرع دین پیغمبر

وائے آں آفتاب علم و عمل
ہادی و شیخ ما غلام عمر

سال نقلش ز درد ’’صادق‘‘ گفت
’’عدن شد جائے فاضل رہبر‘‘
۱۳۵۳ھ

(ماہانہ توحید جون ۱۹۳۴ء ۔ شریعت (سندھی ) سوانح نمبر)

نوٹ:
پروفیسر رحمت اللہ ابڑو صاحب نے آپ کی سوانح مع خدمات جلیلہ پر مقالہ لکھ کر سندھ یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کر لی ہے۔

( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-mufti-abul-faiz-ghulam-umar-jatoi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت شیخ مرزا کامل بدخشی کشمیری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

آپ احمد یسوی ترکستانی کی اولاد و امجاد سے تھے آپ کے دادا اپنے وطن سے تاشقند آئے وہاں سے بدخشاں پہنچے اور ایک عرصہ تک قیام پذیر رہے۔

اکبر بادشاہ کے زمانے میں بر صغیر ہندوستان میں آئے دربار میں ملازمت کر لی ملک محمد خان کا خطاب پایا اور کشمیر کی نظامت ملی ان دنوں مرزا کامل ابھی بچے ہی تھے اور خواجہ حبیب اللہ عطار کے زیر تربیت تھے بارہ سال کی عمر میں بیعت ہوئے اور دنیا اور احوال دنیا سے کنارہ کش ہو گئے ریاضت و عبادت میں مشغول رہنے لگے پچیس سال کی عمر میں خرقہ خلافت ملا اور مسند ارشاد پر بیٹھے ۔

سلسلہ کبرویٰ میں بیعت کرنے لگے ۔ آپ مولانا رومی اور خواجہ فرید الدین عطار کے طرز پر ایک کتاب بحر زماں چار جلدوں میں لکھی یہ کتاب بہترین کتاب ہے ۔

۷۷ سال کی عمر میں حبث البول کی بیماری میں مبتلا ہو گئے۔ اور ۲۹ ذوالحجہ ۱۱۳۱ھ میں انتقال ہوا ۔

تواریخ دومری نے آپ کی تاریخ وفات اس شعر میں کہی ہے ۔

دربقا شیخ کامل بحر عرفان
بسوئے عرصہ جنت دواں شد
گذشتہ از ماہ حج چو بست نہ روز
بمثرگاں گوہر تاریخ سفتہ

طرادت بخش بزم اہل ایمان
ز ہجر چشم جاں گوہر افشاں
بیک شنبہ شدہ فردوس افروز
ز عالم پیر کامل رفت گفتہ

مولّف (خزینۃ الاصفیا) نے
یہ تاریخ وفات لکھی ہے۔

بحنت بست چوں رخت اقامت
رقم شد نظم عالم ارتحالش

ازین دنیا مکمل شیخ کامل
دگر فرما مکمل شیخ کامل

( خذینۃ الاصفیاء )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-mirza-kamil-badakhshi-kashmiri
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
28-12-1444 ᴴ | 17-07-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
29-12-1444 ᴴ | 18-07-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
2