🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
حضرت علامہ مولانا فضل احمد صوفی رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی:
مولانا فضل احمد صوفی۔والد کا اسمِ گرامی:سلطان الواعظین خلیفۂ اعلیٰ حضرت مولانا عبدالاحد محدث پیلی بھیتی۔سلسلہ نسب اسطرح ہے:مولانا فضل احمد صوفی بن مولاناعبدالاحد محدث پیلی بھیتی بن مولانا شاہ وصی احمد محدث سورتی بن مولانا محمد طیب بن مولانا محمد طاہرعلیہم الرحمہ۔

تاریخِ ولادت:
آپ سلطان الواعظین خلیفۂ اعلیٰ حضرت مولانا عبدالاحد محدث پیلی بھیتی کےمنجھلے صاحبزادے فضل احمد صوفی اپنے برادر مولانا حکیم قاری احمد پیلی بھیتی کے ساتھ 28/ذوالحجہ 1329ھ،مطابق 20/ دسمبر 1911ء بروز بدھ اپنے ننھیال گنج مراد آباد ( ضلع کانپور )میں جڑواں پیدا ہوئے ۔

تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم اپنے والد اور چچا مولانا عبدالحئی پیلی بھیتی سے حاصل کی۔ صرف ونحو کی کچھ کتابیں مولانا فضل حق رحمانی پیلی بھیتی سے پڑھیں پھر کانپور چلے گئے ۔ جہاں آپ نے حلیم مسلم ہائی اسکول میں داخلہ لے لیا اور امتیازی نمبروں سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ فضل احمد صوفی کو اوائل عمر سے ہی شعر و ادب اور مضمون نویسی سے شغف تھا ، چنانچہ آپ نے ابتدا ًادبی موضوعات پر مضامین لکھے اور کانپور سے ایک ادبی ماہنامہ "تحریریں" جاری کیا ۔لیکن معاشی مجبوریوں کے پیش نظر یہ سلسلہ ترک کر کے ریلوے کے سی ٹی ایم آفس میں ملازمت اختیار کرلی اور بمبئی میں آپ کو لکھنے پڑھنے کے وافر مواقع میسر آئے اور مختلف اخبارات کے لئے مضامین لکھنا شروع کر دیئے ۔ آپ بیک وقت عربی ، فارسی ، اردو اور انگریزی زبانوں پر قدرت رکھتے تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب بمبئی میں قومی سیاست کا عروج تھا اور مسلمان زعماء مسلمانوں کی سیاسی بیداری کے لئے شبانہ روز جدوجہد کر رہے تھے لہذا آ پ نے بھی قومی موضوعات پر قلم اٹھایا اور سرکاری ملازمت میں ہوتے ہوئے کھل کر اظہار خیال کیا۔ فضل احمد صوفی کی قلمی ڈائریوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنی علمی استعداد پڑھانے کے لئے مطالعہ جاری رکھا۔ 1935ء تا 1938ء تک بہت دیدہ ریزی سے مطالعہ کیا۔

بیعت:
آپ اپنے والد سلطان الواعظین مولانا عبدالاحد پیلی بھیتی سے سلسلہ عالیہ قادریہ میں دستِ بیعت ہوئے ۔

سیرت و خصائص:
صوفیِ باصفا، مجاہدِ اسلام و پاکستان، حضرت علامہ مولانا صوفی فضل احمد صوفی رحمۃ اللہ علیہ ۔ زمانۂ ابتلاء میں آپ کی عظیم خدمات ہیں۔آپ نے بلا خوف ولائم ہر سطح پر مسلمانوں کی راہنمائی و وکالت کا حق ادا کر دیا ۔

ایسا کیوں نہ ہوتا کہ جن کے والد خلیفۂ اعلیٰ حضرت اور دادا امام المحدثین ہیں ۔
1👍1
تحریک پاکستان میں خدمات:
مولانا فضل احمد صوفی حق گوئی اور بے با کی کو آئین جو انمرداں تصور کرتے تھے اور بلا خوف حق بات کہتے اور حق بات کی تائید کرتے ۔ 1935ء میں قائداعظم محمد علی جناح کی انگستان سے وطن واپسی مسلمانوں کیلئے ایک ہمت افزاء شگون تھا، کیوں کہ مولانا محمد علی جوہر کے انتقال کے بعد مسلمانان ہند کو کوئی ایسی شخصیت افق سیاست پر نظر نہیں آتی تھی جوان کی سیاسی جدوجہد کی صحیح سمت متعین کرے ۔ ہر چند علامہ اقبال بھی مسلمانوں میں فکری انقلاب کے لئے جدوجہد کر رہے تھے لیکن ان کو بھی ایک ایسے شخص کی ضرورت تھی ، جو ان کے خوابوں کو حقیقت کا روپ دے سکے ۔ چنانچہ قائداعظم کی ہندوستان واپسی کا مسلمانوں کے ہر طبقے نے خیر مقدم کیا اور آپ کو تعاون کا یقین دلایا۔ ان دنوں قائداعظم بمبئی میں مقیم تھے اور بر صغیر کے مسلمانوں کی نگاہیں اسی جانب لگی ہوئی تھیں ۔ مولانا فضل احمد صوفی نے بھی اس مر حلہ پر قائداعظم کی آواز پر لبیک کہااور مسلم لیگ کی کھل کر حمایت شروع کر دی اسی دوران مسلم لیگ کی مقبولیت سے گھبراکر جمعیت علماء ہند (دیوبندیوں) کے چند سر برآوردہ افراد نے لکھنومیں شیعہ سنی مناقشات کا بازار گرم کر دیا تاکہ مسلمان فرقہ واریت کا شکار ہو جائیں اور مسلم لیگ اپنی تنظیم نو میں کامیاب نہ ہو سکے۔ اس سلسلے میں کچھ رہنماوٗں نے مسلم لیگ اور قائداعظم پر تبرا شروع کر دیا، اور کہا کہ مسلم لیگ مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت ہونے کا دعویٰ تو کرتی ہے لیکن اس نے لکھنو کے شیعہ سنی اختلافات کو ختم کرانے کے سلسلہ میں کیوں خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ مولانا فضل احمد نے اس موقع پر ٹائمز آف انڈیا میں ایک مضمون لکھا اور بتایا کہ شیعہ سنی اختلافات ختم کرنے کے سلسلہ میں مسلم لیگ نے کیا کردار ادا کیا ہے ۔ انہوں نے لکھا:"شاید یہ اعتراض کرنے والے اس حقیقت سے بے خبر ہیں کہ محمد علی جناح نے سب سے پہلے ان اختلافات کو ختم کرانے کے سلسلے میں مسلم لیگ کی خدمات پیش کی تھیں ۔ لیکن ان کو نہ معلوم کن وجوہات کی بناء پر قبول نہیں کیا گیا۔ ایسی صورت میں مسلم لیگ کی حکمت عملی سوائے خاموشی کے اور کیا ہو سکتی تھی کیوں کہ ایک سیاسی جماعت کو اس قسم کے فرقہ وارانہ مظاہروں سے دورہی رہنا چاہئے"۔ (ٹائمز آف انڈیا 25مئی 1939ء )

23 مارچ 1940ء کو لاہور میں قرار داد پاکستان کی منظوری فضل احمد صوفی کیلئے شدید مسرت کا باعث ہوئی ،چنانچہ آپ نے مسلم لیگ کے منصوبہ وطن کے خدوخال کو اپنے مضامین میں اجاگر کیا اور قرار داد لاہور کو جو بعد مین قرار داد پاکستان کا روپ دھار گئی ۔ بین الاقوامی سیاسی اصولوں کی کسوٹی پر رکھ کر پیش کیا۔ اس سلسلہ میں"دی پروگریس "بمبئی میں شائع ہونے والا آپ کا مضمون "مسلم لیگ ہوم لینڈ پلان " بڑی بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ کیوں کہ اس مضمون میں صوفی نے ان اعتراضات کا بھی شافی جواب دیا ہے جو لاہور میں قرار داد کی منظوری کے فورا بعد ہندووٗں کی جانب سے اٹھائے گئے تھے ۔ فضل احمد صوفی نے 3 دسمبر 1941ء کو ٹائمز آف انڈیا کے ایڈیٹر کو ایک خط "پاکستا ن "کے عنوا ن سے لکھا جس میں انہوں نے کہا کہ:"کانگریسی رہنما خصوصا وہ جو مسٹر منشی کے ہم خیا ل ہیں مسلم لیگ کے مطالبہ پاکستان سے سخت برہم دکھائی دیتے ہیں لیکن برہمی سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان عوامل پر غور کیا جائے جنہوں نے مسلمانوں کو پاکستان کا مطالبہ کرنے پر مجبور کیا۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ 1937ء میں کانگریس کی جانب سے وزارتیں قبول کرنے سے قبل مسلمانوں نے پاکستان کا مطالبہ کیوں نہیں کیا۔ یہ کانگریس کی قوم پرستی اور متعصبانہ ذہنیت ہے جو مطالبہ پاکستان کا باعث ہوئی ہے اور اس حقیقت کو کانگریسی رہنما ڈومیسہ نے مرکزی اسمبلی میں دوران تقریر تسلیم کرتے ہوئے کہا تھا کہ "دراصل پاکستان کے بانی مسٹر جناح نہیں بلکہ مسٹر گاندھی ہیں جنہوں نے ہر شخص کو ایک دوسرے سے جدا کر دیا ہے "۔ (پاکستان ، مراسلہ فضل احمد صوفی ، مطبوعہ ٹائمز آف انڈیا ۔ 3 دسمبر 1941ء )۔

1939ء تا 1947ء تک آٹھ سال آپ نے تحریک پاکستان کے لئے ایک موثر وکیل کی حیثیت سے مسلم لیگ کی پالیسیوں پر نہایت ٹھوس مضامین قلمبند کئے اور کانگریس کی فرقہ پرست ذہنیت کی شدید مذمت کی۔ اس ضمن میں انہوں نے جمعیت علماء ہند کے رہنما وٗ ں اور ابو الکلام آزاد کو بھی معاف نہیں کیا اور ان کی سیاسی کردار کی خامیوں کی نشاندہی کی۔

وصال:
مولانا فضل احمد صوفی 1946ء کے اواخر میں بمبئی سے تبادلہ ہو کر کراچی آگئے پھر تپ دق (ٹی بی)نے ان کو ایسا دبوچا کہ2 صفر المظفر 1368ھ، مطابق 4 دسمبر 1948ء بروز ہفتہ کو اس دنیا سے رخصت ہو گئے ۔ مولانا حکیم قاری احمد پیلی بھیتی نے نماز جنازہ پڑھائی اور کراچی کے قدیم قبرستان میوہ شاہ میں سپرد خاک کیا گیا۔

ماخذ و مراجع:
انوار علمائے اہلسنت سندھ ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-fazal-ahmad-sufi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
امام المحدثین حافظ ابنِ حجر عسقلانی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ

نام و نسب:
احمد بن علی بن محمد بن محمد بن علی بن محمود بن احمد بن احمد بن کنانی، عسقلانی، مصری، شافعی ۔ (رحمۃ اللہ تعالٰی علیہم)

تاریخ و مقامِ ولادت:
22 شعبان المعظّم 773ھ کو مصر میں پیدا ہوئے ۔

تحصیلِ علم:
پانچ سال کی عمر میں مدرسے میں داخل ہوئے اور نو سال کی عمر میں حفظِ قرآن کی دولت سے مالا مال ہوئے۔ شیخ عفیف الدین عبداللہ بن محمد نشاوری ، شیخ جمال الدین بن ظھیرہ،علامہ امام زین الدین عراقی اور دیگر تقریباً 730 اساتذہ مختلف فنون کا علم حاصل کیا۔نیز آپا سکندریہ، قاہرہ، یمن، تعز، زبید، عدن ،مکۂ مکرمہ، مدینۂ منورہ، شام، غزہ، نابلس، رملہ، دمشق اورحلب ہجرت کرکے علومِ دینیہ کی تحصیل فرماتے رہے۔

سیرت و خصائص:
امیر المؤمنین فی الحدیث، حافظ الحدیث، شیخ الاسلام امام المحدثین حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ بڑے بلند پایہ عالمِ ربانی تھے آپ کی صورت و سیرت ہی ایسی تھی اس میں احادیث کے مختلف رنگ ظاہر ہوتے۔ آپ کے زمانے کے سب علماء کا اس بات پر اتفاق تھا علم میں، احادیث کی یاداشت میں، دیگر علوم و فنون کی مہارت میں آپ سے بڑ کر کوئی نہیں ہے ۔ علامہ حافظ ابنِ حجر عسقلانی جس اخلاص اور انہماک سے علوم دینیہ حاصل فرماتے رہے وہ قابلِ تقلید ہے اور اس سبب سے وہ علم و فضل کے بحرِ ذخّار ٹھہرے ۔ اپنے معاصرین پر سبقت لے گئے بلکہ علمِ حدیث میں ان کا یہ مقام ٹھہرا کہ ان کے پائے کا محدّث چند صدیوں تک پیدا نہ ہوسکا ۔آپ کے قوتِ حافظہ کا یہ عالم تھا کہ اکثر کتب آپ کو حفظ ہوگئیں تھی، پڑھنے میں اتنی تیز رفتاری تھی کہ صرف چار چار مجلس میں سنن ابن ماجہ اور صحیح مسلم کو ختم کر دیتے تھے، معجم صغیر طبرانی کو صرف ظہر اور عصر کے درمیان ختم کر لیتے، کتابت بھی اسی سرعت سے فرماتے ۔ علامہ حافظ ابنِ حجر رضی اللہ عنہ اپنے دور کے مرجع العلما تھے آپ کے بحرِ علمی کا چرچا ہر سو پھیل چکا تھا اسی وجہ سے طلبا جوق در جوق آپ کی خدمت میں حاضری دیتے اور علم کی دولت سے مالامال ہوتے ۔ آپ نے اپنے زمانے میں کئی علمی مراکز میں دروسِ حدیث دیے، خانقاہ بیرسیہ میں آپ نے بیس سال درس دیا۔ اس کے علاوہ شیخونیہ، بدریہ، صاتحیہ، فخریہ، نجمیہ، جامع ابن طولان، حسینیہ، جمالیہ میں منصبِ تدریس پر فائز رہے ۔

وفات:
آپ کا وصال 79 سال کی عمر میں ذوالحجہ 852 ھ قاھرہ میں ہوا ۔ جب جنازہ تیار ہوچکا تو اس وقت شدید بارش ہوئی اور نمازِ جنازہ میں اتنی بھیڑ تھی کہ لوگوں نے اس سے پہلے نہ دیکھی تھی۔ امام شافعی اور شیخ مسلم سلمی کے مزار کے درمیان مقام قرافہ صفری میں آپ کی تدفین ہوئی۔ اللہ تعالیٰ آپ کے مزارِ پرانوار پر رحمتوں کی بارش نازل فرمائے اور ان کے صدقے ہماری مغفرت فرمائے۔

ماخذ و مراجع:
الجواہر والدرر، لخط الالحاظ، شذرات الذھب، ذیل طبقات الحفاظ

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-allama-hafiz-ibn-e-hajar-asqalani
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
27-12-1444 ᴴ | 16-07-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
28-12-1444 ᴴ | 17-07-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
28-12-1444 ᴴ | 17-07-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
28-12-1444 ᴴ | 17-07-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
نسب بدلنا کیسا ہے
برادری بدلنا کیسا ہے
نسب اور برادری بدلنے کا حکم
1