🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*سوال نمبر 138 :*
زلزلہ کیوں آتا ہے ؟
*جواب :*
زلزلہ آنے کا حقیقی سبب تو اللہ پاک کا ارادہ و حکم ہے اور عالمِ اسباب میں زلزلہ کا اصلی باعث لوگوں کے گناہ ہیں, اور زلزلہ اس طرح پیدا ہوتا ہے کہ ایک قاف نامی پہاڑ تمام زمین کو گھیرے ہوئے ہے اور اس کے ریشے, بڑے درخت کی جڑوں کی طرح, زمین کے اندر ہی اندر سب جگہ پھیلے ہوئے ہیں, جس جگہ زلزلے کا حکم ہوتا ہے تو وہ پہاڑ اس جگہ کے ریشے کو جنبش و حرکت دیتا ہے جس کی وجہ سے زمین ہلنے لگتی ہے.
چنانچہ سیدی اعلحضرت امامِ اہلِ سنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"اصلی باعث آدمیوں کے گناہ ہیں ، اور پیدا يوں ہوتا ہے کہ ایک پہاڑ تمام زمین کو محیط ہے اور اس کے ریشےزمین کے اندر اندر سب جگہ پھیلے ہوئے ہیں جیسے بڑے درخت کی جڑیں دور تک اندر اندر پھیلتی ہیں، جس زمین پر معاذاللہ زلزلہ کا حکم ہوتا ہے وہ پہاڑ اپنے اس جگہ کے ریشے کو جنبش دیتا ہے زمیں ہلنے لگتی ہے۔"
*(0فتاوی رضویہ جلد 27 صفحہ 93 رضا فاؤنڈیشن لاہور)*
اس حوالے سے فتاوی رضویہ میں ایک تفصیلی فتویٰ بھی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ : اعلحضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ سے سوال ہوا کہ :
نسبتِ زلزلہ مشہور ہے کہ زمین ایک شاخ گاؤ پر ہے کہ وہ ایک مچھلی پر کھڑی رہتی ہے۔ جب اس کا سینگ تھک جاتا ہے تو دوسرے سینگ پر بدل کر رکھ لیتی ہے۔ اس سے جو جنبش و حرکت زمین کو ہوتی ہے اس کو زلزلہ کہتے ہیں۔ اس میں استفسار یہ ہے کہ سطح زمین ایک ہی ہے، اس حالت میں جنبش سب زمین کو ہونا چاہیے، زلزلہ سب جگہ یکساں آنا چاہیے۔ گزارش یہ ہے کہ کسی جگہ کم ، کسی مقام پر زیادہ، کہیں بالکل نہیں آتا۔ بہرحال جو کیفیت واقعی اور حالت صحیح ہو، اس سے معزز فرمائیے؟
تو سیدی اعلحضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے جواباً تحریر فرمایا :
"زلزلہ کا سبب مذکورہ زبانِ زدِ عوام, محض بے اصل ہے اور اس پر وہ اعتراض نظرِ بظاہر صحیح و صواب۔ اہل سنت کے نزدیک ہر چیز کا سبب اصلی محض ارادۃ ﷲ عزوجل ہے۔ جتنے اجزاء کے لیے ارادہ تحریک ہوا, انہیں پر اثر واقع ہوتا ہے اس کا سبب وہ نہیں جو عوام بتاتے ہیں۔ سببِ حقیقی تو وہی ارادۃ ﷲ ہے ، اور عالمِ اسباب میں باعثِ اصلی بندوں کے معاصی۔
*"ما اصابکم من مصیبۃ فبما کسبت ایدیکم و یعفو عن کثیر"*
تمہیں جو مصیبت پہنچتی ہے تمہارے ہاتھوں کی کمائیوں کا بدلہ ہے, اور بہت کچھ معاف فرمادیتا ہے۔(ت)
(القرآن الکریم ۴۲ /۳۰ )
*(فتاوی رضویہ جلد 27 صفحہ 94, 95, 96 بحَذفِِ و بتغیرِِ رضا فاؤنڈیشن لاہور)*
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ والہ وسلم
کتبہ
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
24/09/2019
03068209672
*تصدیق و تصحیح :*
الجواب صحيح والمجيب نجيح
*فقط محمد عطاء اللہ النعیمی خادم الحدیث والافتاء بجامعۃالنور جمعیت اشاعت اہلسنت (پاکستان) کراچی*
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*سوال نمبر 54:*
چاند میں موجود سیاہی کیا چیز ہے ؟
*جواب:*
چاند میں موجود سیاہی حضرت جبریل علیہ السلام کے پر لگنے کے باعث ہے، جبکہ بعض علماء کے نزدیک یہ کچھ حروف ہیں.
چنانچہ فتاویٰ حدیثیہ میں ہے :
"حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اس کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے جواباً فرمایا کہ :
یہ حضرت جبریل امین علیہ السلام کے پر لگنے کا نشان ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے چاند کی روشنی کے سورج کی روشنی کی طرح ستر حصے پیدا کئے تھے، حضرت جبریل امین علیہ السلام نے چاند پر اپنے پر لگا کر اس کے انہتر (69) حصے محو کردیئے (یعنی مٹا دیے) اور ان انہتر حصوں کو سورج میں منتقل کردیا اور اس میں دوسری چیزوں کو روشن کرنے کی صلاحیت ختم کر دی اور نور کو باقی رکھا اور اس آیتِ کریمہ کا یہی مطلب ہے :
*فَمَحَوْنَا اٰیَۃَ اللَّیْلِ وَجَعَلْنَا اٰیَۃَ النَّھَارِ مُبْصِرَۃً*
ترجمہ کنزالایمان : رات کی نشانی مٹی ہوئی رکھی، اور دن کی نشانی دکھانے والی.
*(سورۃ بنی اسرائیل آیت : 12 پارہ : 15)*
بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ چاند میں موجود نظر آنے والی سیاہی کچھ حروف ہیں اور وہ لفظ و جمیل کے حروف کا مجموعہ ہیں.
*(فتاویٰ حدیثیہ مترجم صفحہ 527, 528 مکتبہ اعلحضرت لاہور )*
کتبہ
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
16/03/2019
03068209672
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*سوال نمبر 140:*
جب اذان ہوتی ہے تو بعض جگہوں پر کتے اذان شروع ہوتے ہی رونا, چلانا یا بھونکنا شروع کر دیتے ہیں، تو کیا ایسے کتوں کو مار دینا چاہیے ؟
*جواب:*
جی نہیں, اس وجہ سے کہ کتے اذان سن کر روتے, چلاتے یا بھونکتے ہیں, ان کو نہیں مارنا چاہیے، البتہ یہ ممکن ہے کہ جب وہ شیطان کو اذان کے وقت حواس باختہ دیکھتے ہوں تو روتے ,چلاتے اور بھونکتے ہوں کیونکہ جب اذان دی جاتی ہے تو شیطان اذان سننے سے بچنے کیلئے گوز مارتے ہوئے (یعنی آواز کے ساتھ ہوا نکالتے ہوئے) بھاگتا ہے۔
چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا :
*"ﺇِﺫَﺍ ﻧُﻮْﺩِﻱَ ﻟِﻠﺼَّلوٰﺓِ ﺃَﺩْﺑَﺮَ ﺍﻟﺸَّﻴْﻄَﺎﻥُ ﻟَﻪ ﺿُﺮﺍﻁ حَتََی ﻻَ ﻳَﺴْﻤَﻊُ ﺍﻟﺘَّﺄﺫِﻳْﻦَ"*
یعنی جب نماز کیلئے اذان دی جاتی ہے تو شیطان گوز مارتے ہوئے (یعنی آواز کے ساتھ ہوا نکالتے ہوئے) بھاگتا ہے یہاں تک کہ اذان کو نہیں سنتا۔
*(صحیح بخاری , باب فضل التاذین , رقم الحدیث : 608, جلد اول صفحہ 153 مکتبہ رحمانیہ لاہور ,صحیح مسلم, سنن ابی داؤد, سنن نسائی, سنن دارمی, مسند امام احمد, موطا وغیرہ )*
*نوٹ :*
مسلم میں حضرت جابر (رضی اللہ عنہ) کی حدیث میں ہے کہ روحا تک بھاگتا ہے, حضرت جابر (رضی اللہُ عنہ) ہی نے بتایا کہ روحا مدینے سے چھتیس (36) میل دور ہے.
*(نزھۃ القاری شرح صحیح بخاری جلد اول صفحہ 293 ,294 فرید بک سٹال لاہور)*
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ والہ وسلم
کتبہ
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
27/09/2019
03068209672
*تصدیق و تصحیح :*
یہ جواب میرے نزدیک درست اور صحیح ہے، اللہ تعالیٰ آپ کے علم و عمل میں ترقی عطا فرمائے ۔
*ابوالحسنین مفتی محمد عارف محمود معطر القادری مرکزی دارالافتاء اہلسنت محلہ نور پورہ میانوالی سٹی*
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*سوال نمبر 57:*
بعض مساجد میں دروازوں کے ساتھ شیشے لگے ہوتے ہیں تو ان شیشے والے دروازوں کے سامنے نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے ؟
*جواب:*
شیشے والے دروازے ہوں یا ویسے شیشہ لگا ہو, اس کے سامنے نماز پڑھنا بغیر کسی کراہت کے جائز ہے کیونکہ شیشے میں نظر آنے والا عکس تصویر نہیں ہے.
البتہ بہتر یہی ہے کہ شیشے کے سامنے نماز ادا نہ کی جائے تاکہ نماز میں کامل توجہ اور خشوع و خضوع حاصل ہو سکے.
چنانچہ سیدی اعلحضرت امام احمد رضا خان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
*"سُئِلْتُ عَمَّنْ صَلَّی وَاَمَامُہُ مِرْآۃ فَاَجَبْتُ بِالجَوازِ آخِذاً مِمَّا ھَاھُنَا, اِذِ الْمِرْآۃُ لَمْ تُعْبَدْ وَلاَ الشِّبْحُ الْمُنْطَبَعُ فِیْھَا , وَلاَ ھُوَ مِنْ صَنِیْعِ الْکُفَّارِ, نَعَمْ! اِنْ کَانَ بِحَیْثُ یَبْدُوْ لَہ فِیْہ صُوْرَتُہ واَفْعالُہ رُکُوْعاً وسُجُوْداً وقیاماً وقعوداً وَظَنَّ اَنَّ ذٰلِکَ یَشْغُلُہ وَیَلْھٰی فَاِذْنْ لاَیَنْبَغِیْ قَطْعاً."*
یعنی مجھ سے سوال کیا گیا اس شخص کے بارے میں جس نے نماز پڑھی اس حال میں کہ اس کے سامنے شیشہ ہو تو میں نے جائز ہونے کا جواب دیا حکمِ جواز کو اس سے لیتے ہوئے جو یہاں ہے کیونکہ شیشے کی عبادت نہیں کی جاتی اور نہ شیشے میں ڈھالی گئی صورت (تصویر) ہوتی ہے اور نہ یہ کفار کی بنائی ہوئی چیز میں سے ہے, البتہ شیشہ اس طرح ہو کہ اس شیشے میں اس کی صورت اور اس کے افعال (رکوع و سجود اور قیام وقعود) اس کے لئے ظاہر ہوں اور وہ گمان کرے کہ یہ اس کو غافل کردے گا اور وہ غافل ہو جائے گا تو اس وقت اس کیلئے شیشے کے سامنے نماز پڑھنا ہرگز مناسب نہیں ہوگا.
*(جدالممتار علی ردالمحتار جلد 3 صفحہ 416 مکتبۃ المدینہ کراچی)*
صدرالشریعہ حضرت علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"آئینہ سامنے ہو تو نماز میں کراہت نہیں, کہ سببِ کراہت تصویر ہے اور وہ یہاں موجود نہیں اور اگر اسے تصویر کا حکم دیں تو آئینہ کا رکھنا بھی مثلِ تصویر ناجائز ہو جائے حالانکہ بالاجماع جائز ہے. "
*(فتاوی امجدیہ جلد 1 صفحہ 184 مکتبہ رضویہ کراچی)*
کتبہ
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
19/03/2019
03068209672
*تصدیق و تصحیح :*
1- الجواب صحيح والمجيب نجيح
*فقط محمد عطاء اللہ النعیمی خادم الحدیث والافتاء بجامعۃالنور جمعیت اشاعت اہلسنت (پاکستان) کراچی*
2- یہ جواب میرے نزدیک درست اور صحیح ہے، اللہ تعالیٰ آپ کے علم و عمل میں ترقی عطا فرمائے ۔
*ابوالحسنین مفتی محمد عارف محمود معطر القادری مرکزی دارالافتاء اہلسنت محلہ نور پورہ میانوالی سٹی*
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ظہر وعصر میں آہستہ اور مغرب، عشا وفجر میں جہری قراءت کی وجہ
ـــــ ـــــــ ـــــــ ـــــــ ـــــــ ـــــــ
ظہراورعصرکی نمازمیں آئستہ قرائت کرنےکی کیاوجہ ہے؟
کیا فرماتے ہیں علماۓ دین؟ 👆👆👆
سائل : محمد نعمان
ـــــ ـــــــ ـــــــ ـــــــ ـــــــ ـــــــ
الجواب : پہلی بات تو یہی ہے کہ حضور اکرم ﷺ سے یہی ثابت ہے. اس لیے آہستہ قراءت کرتے ہیں.
رہی بات اس کے پس منظر کی تو مختصر لفظوں میں یہ کہ ابتداء میں ہرنماز میں بلند آواز سے قراءت کی جاتی تھی. ــ بعد میں کفار آکر جہری قراءت کے وقت شوروغل مچانے لگے. اپنے اشعار پڑھنے لگے تاکہ مومنین کی قراءت سن کر اور لوگ متاثر نہ ہو جائیں.
اس کے بعد حکم بوا کہ ان دو نمازوں کی قراءت آہستہ آہستہ کی جائے. تو پھر وہی آج تک وہی روایت برقرار ہے. مغرب کھانے میں کفار مشغول رہتے اور وعشا وفجر میں سونے میں. اس لیے اس وقت جہری قراءت رہی.
جمعہ وعیدیں کا حکم چونکہ مدینہ شریف میں ہوا اور وہاں ان کی بالکل چلتی نہ تھی اس لیے جہر ہی رہی.

" والأصل في الجهر والإسرار أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يجهر بالقراءة في الصلوات كلها في الإبتداء، وكان المشركون يؤذونه، ويقولون لأتباعم: إذا سمعتموه يقرأ فارفعوا أصواتكم بالأشعار والأراجيز وقابلوه بكلام اللغو، حتى تغلبوه فيسكت، ويسبون من أنزل القرآن، ومن أنزل عليه، فأنزل الله تعالى: ﴿وَلَا تَجْهَرْ بِصَلاتِكَ وَلا تُخَافِتْ بِهَا﴾ [الإسراء: 110] أي لا تجهر بصلاتك كلها، ولا تخافت بها كلها، وابتغ بين ذلك سبيلاً: بأن تجهر بصلاة الليل، وتخافت بصلاة النهار، فكان بعد ذلك يخافت في صلاة الظهر والعصر؛ لاستعدادهم بالإيذاء فيهما، ويجهر في المغرب؛ لاشتغالهم بالأكل، وفي العشاء والفجر؛ لرقادهم، وفي الجمعة والعيدين؛ لأنه أقامهما بالمدينة، وما كان للكفار قوة. [حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح (ص: 253)]
واللہ تعالٰی اعلم.

فیضان سرور مصباحی
27/ دسمبر 2019
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*سوال نمبر73:*
کیا زندہ مسلمان کو ایصالِ ثواب کرنا جائز ہے ؟
*جواب:*
جی ہاں ! زندہ مسلمان کو ایصالِ ثواب کرنا جائز ہے. چنانچہ حضرت سیدنا صالح ابن درہم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :
*"انطلقنا حاجین*
*فاذارجل فقال لنا :*
*الی جنبکم قریۃ یقال لھا الابلۃ ؟*
*قلنا نعم !*
*قال :من یضمن لی منکم ان یصلی لی فی مسجد العشار رکعتین او اربعا ویقول ھذہ لابی ھریرۃ"*
ہم حج کرنے جا رہے تھے کہ ایک صاحب (یعنی حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ) ملے اور پوچھنے لگے :
کیا تم سے کوئی قریب بستی ہے جسے *"اُبُلَّہ"* کہا جاتا ہے ؟
ہم نے کہا : جی ہاں !
(یہ سن کر) انہوں نے فرمایا :
تم میں کون اس کا ضامِن بنتا ہے کہ مسجدِ عَشَّار میں میرے لئے دو یا چار رکعتیں پڑھے اور کہے کہ یہ نماز ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ (کے ایصال ثواب) کے لئے ہے.
*(سنن ابوداؤد باب فی ذکر البصرۃ جلد4 صفحہ 153 حدیث : 4308 دار احیاء التراث العربی بیروت )*
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ والہ وسلم
کتبہ
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
04/04/2019
03068209672
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
✰ابواسید عبیدرضامدنی✰:
*سوال نمبر 118:*
کیا حضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کی پیدایش خانہ کعبہ شریف کے اندر ہوئی ہے ؟
*جواب :*
جی نہیں ! حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی ولادت خانہ کعبہ کے اندر نہیں ہوئی, حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو مولودِ کعبہ سمجھنا ایسا کمزور گمان ہے جس کے ثبوت پر کوئی صحیح دلیل نہیں کیونکہ آپ کرم اللہ وجہہ الکریم اپنے والد ابوطالب کے مکان شعبِ بنی ہاشم کے اندر پیدا ہوئے, جس مکان کو لوگ مولدِ علی کے نام سے یاد کیا کرتے تھے اور اس مکان کے دروازے پر یہ عبارت لکھی ہوئی تھی :
*"ھذا مولد امیر المؤمنین علی ابن ابی طالب "*
یعنی یہ حضرت امیر المومنین علی بن ابوطالب کرم اللہ وجہہ الکریم کی ولادت گاہ ہے.
اور اہل مکہ بھی اس پر بغیر اختلاف کے متفق تھے, نیز آپ کرم اللہ وجہہ الکریم کی ولادت گاہ پر ایک قبہ بنا ہوا تھا جس کو نجدیوں نے دیگر مقامات مقدسہ کے ساتھ گرادیا.
چنانچہ 1- امام مسلم بن حجاج قشیری رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں:
*"ولد حکیم ابن حزام فی جوف الکعبہ"*
یعنی حضرت حکیم بن حزام رضی اللہُ عنہ خانہ کعبہ کے اندر پیدا ہوئے.
*(صحیح مسلم کتاب البیوع باب الصدق فی البیع والبیان)*
2- امام بدر الدین عینی حنفی رحمۃ اللہ تعالی علیہ تحریر فرماتے ہیں :
*" (حکیم بن حزام) ولد فی بطن الکعبۃ"*
یعنی حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ تعالی عنہ خانہ کعبہ کے اندر پیدا ہوئے.
*(عمدۃالقاری شرح صحیح بخاری جلد 13 صفحہ 142 دارالکتب العلمیہ بیروت)*
3- امام ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ تعالی تحریر فرماتے ہیں :
*"وحکی الزبیر بن بکار ان حکیما ولد فی جوف الکعبہ"*
یعنی حضرت زبیر بن بکار رضی اللہ عنہ نے حکایۃً بیان کیا کہ حضرت حکیم بن حزام رضی اللہُ عنہ کی ولادت خانہ کعبہ کے اندر ہوئی.
*(الاصابہ فی تمییز الصحابہ جلد 2 صفحہ 98 دار الکتب العلمیہ بیروت)*
4- امام جلال الدین سیوطی شافعی رحمۃاللہ تعالی علیہ تحریر فرماتے ہیں :
*"حکیم بن حزام بن خویلد بن اسد وکان مولدہ فی جوف الکعبہ"*
یعنی حضرت حکیم بن حزام رضی اللہُ عنہ بن خویلد بن اسد. اور آپ کی ولادت گاہ خانہ کعبہ کے اندر تھی.
*(تدریب الراوی فی شرح تقریب النواوی صفحہ 355 دارالکتاب العربی بیروت)*
5- امام جلال الدین سیوطی شافعی رحمۃاللہ تعالی علیہ مزید اسی کتاب کے اگلے صفحہ پر تحریر فرماتے ہیں :
*"قال الزبیر بن بکار کان مولد حکیم بن حزام فی جوف الکعبہ قال شیخ الاسلام ولایعرف ذلک لغیرہ"*
یعنی حضرت زبیر بن بکار رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حضرت حکیم بن حزام رضی اللہُ عنہ کی ولادت خانہ کعبہ کے اندر ہوئی,شیخ الاسلام فرماتے ہیں کہ وہ اس بات کو (خانہ کعبہ کے اندر پیدا ہونے کو) حضرت حکیم بن حزام رضی اللہُ عنہ کے علاوہ کیلیے نہیں جانتے.
*(تدریب الراوی فی شرح تقریب النواوی صفحہ 356 دارالکتاب العربی بیروت)*
6- امام ابو ذکریا محی الدین یحی بن شرف نووی رحمۃ اللہ تعالی علیہ تحریر فرماتے ہیں :
*"ولد حکیم بن حزام فی جوف الکعبۃ ولایعرف احد ولد فیھا غیرہ"*
یعنی حضرت حکیم بن حزام رضی اللہُ عنہ کی ولادت خانہ کعبہ کے اندر ہوئی اور ان کے علاوہ کوئی ایسا شخص معلوم نہیں ہے جس کی ولادت خانہ کعبہ کے اندر ہوئی ہو.
*(تہذیب الاسماءواللغات حرف الحاء جلد اول صفحہ 409 دار فیحاءالبیروت)*
7- ایک شیعی عالم نے بھی لکھا ہے کہ :
"محدثین صرف حکیم بن حزام (رضی اللہ عنہ) کو ہی مولودِ کعبہ سمجھتے ہیں.
*(شرح نہج البلاغہ جلد اول صفحہ 14 دارالجبل بیروت)*
البتہ خانہ کعبہ کے اندر صرف حضرت حکیم بن حزام رضی اللہُ عنہ کی ولادت ہوئی ہے , آپ رضی اللہ عنہ کے علاوہ کسی کی بھی ولادت خانہ کعبہ کے اندر نہیں ہوئی.
1- چنانچہ امام حافظ ابوعمر خلیفہ بن خیاط رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
*"ولد علی بمکۃ فی شعب بنی ھاشم"*
یعنی حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی ولادت مکہ میں شعب بنی ہاشم میں ہوئی.
*(تاریخ خلیفہ بن خیاط صفحہ 199 دار حلبیۃ الریاض)*
2- امام حافظ ابوالقاسم علی بن حسن رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
*"ولد علی بمکۃ فی شعب بنی ھاشم"*
یعنی حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی ولادت مکہ میں شعب بنی ہاشم میں ہوئی.
*(تاریخ دمشق الکبیر جلد 45 صفحہ 448 دار احیاء التراث العربی بیروت)*
3- صدرالشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالی علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"مکانِ ولادت اقدس حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم و مکان حضرت خدیجہ الکبریٰ رضی اللہُ عنہا و مکان ولادتِ علی رضی اللہ عنہ و جبلِ ثور و غارِ حرا و مسجد الجن و مسجد جبل ابی قبیس وغیرہا مکانِ متبرکہ کی زیارت سے بھی مشرف ہو.
*(بہار شریعت جلد اول حصہ 6 صفحہ 1150مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*نوٹ :*
بعض اہلِ سنت کی کتابوں میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے خانہ کعبہ میں پیدا ہونے کا تذکرہ ملتا ہے اس حوالے سے چند باتیں ذہن نشین کرلیجیے:
1- پہلی بات یہ ہے کہ جن کتابوں میں اس کو ذکر کیا گیا تو وہا
ں صیغہ تمریض جیسے قِیْل

َ رُوِیَ وغیرہ کے ساتھ ذکر کیا گیا لہذا یہ بات معتبر نہیں.
2- دوسری بات یہ ہے کہ صرف شہرت کی وجہ سے سند اور معتبر مآخذ کے ذکر کے بغیر لکھ دیا گیا لہٰذا جب تک معتبر ماخذ نہیں مل جاتا تب تک یہ بات قابلِ قبول نہیں ہے.
3- تیسری بات یہ ہے کہ جنہوں نے ماخذ بیان کیا ہے,وہ یا تو شیعوں کی کتب ہیں یا ایسے شیعوں کی طرف مائل حضرات کی کتب ہیں جنہوں نے بہت ساری شیعی روایات کو بغیر تحقیق و تنقیح کے نقل کر دیا جیسے امام ذہبی , ملا علی قاری اور شاہ ولی اللہ محدث دہلوی علیھم الرحمہ نے مستدرک للحاکم کے حوالے سے اور بعض نے مروج الذہب اور فضول المھمہ کے حوالے سے نقل کیا ہے.
*فائدہ :*
مزید تفصیل کے لیے *"مولودِ کعبہ کون ؟"* نامی کتاب کا مطالعہ فرمایے.
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ والہ وسلم
کتبہ
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
20/08/2019
03068209672
*تصدیق و تصحیح:*
1- الجواب صحيح والمجيب نجيح
*فقط محمد عطاء اللہ النعیمی خادم الحدیث والافتاء بجامعۃالنور جمعیت اشاعت اہلسنت (پاکستان) کراچی حال عزیزیہ ؛مکہ مکرمہ*
2- حضرت امیر المؤمنین مولی المسلمین سیدنا و مولانا علی المرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کی ولادت درکعبہ کی روایت کے غیر معتبر ہونے کے حوالے سے جو آپ کا فتویٰ ہے یہ بالکل صحیح اور درست ہے میں اس کی تائید اور توثیق کرتا ہوں.
*ابوالحسنین مفتی محمد عارف محمود خان معطر القادری*
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM