خلیفۂ اعلیٰ حضرت، حضرت مفتی
قاضی شمس الدین احمد جونپوری
مصنف قانون شریعت علیہ الرحمہ
یوم وصال 01 محرم الحرام 1410
یوم پیدائش 27 ذوالحجہ 1322 ھ
جونپور ہر زمانے میں تاریخ کی دنیا میں غیر معمولی خوبیوں کا مالک رہا ہے، تہذیب وتمدن کے آئینے میں چمکتا رہا، کِشتِ فن وادب کی یہاں سے ہمیشہ آبیاری کی گئی ہے۔ اس کے چہرے پر حسن و بہار کا غازہ مسلا گیا۔ اس لیے تاریخ اسے شیراز ہند سے یاد کرتی ہے۔ بڑے بڑے بزرگوں کی یادگاریں آج بھی اس سر زمین پر ہیں جو داستانِ ماضی کی یاد دلاتی ہیں۔
ولادت و خاندان:
اس جونپر کے ماہرین میں ابجل المتکلمین حضرت مفتی شمس الدین احمد رضوی جعفری تھے۔ آپ ایک ایسے خاندان میں پیدا ہوئ ے جو علمی اعتبار سے ایک اعلیٰ اور معیاری خاندان تھا، نانا محترم اور جد امجد دونوں وقت کے جید صاحبِ لیاقت تھے، اور اس وقت جونپور میں علم وحکمت کے چشمے بہار ہے تھے اور ماحول بھی علمی اعتبار سے بہت زیادہ سندر تھا۔
ولادت:
حضرت مفتی قاضی شمس الدین احمد علیہ الرحمۃ کی ولادت جونپور کے ایک محلہ میر مسرت میں ہوئی، جعفری زینبی نسب آباء و اجداد شاہانِ مشرقی کے زمانے میں منصب قضاء پر فائز تھے۔ تاریخ ولادت ۲۸؍ذی الحجہ ۱۳۲۲ھ؍ ۵مارچ ۱۹۰۵ء ہے۔
تعلیم و تربیت:
حضرت مفتی قاضی شمس الدین احمد کو ان دونوں بزرگوں کی شفقتوں اور پدری محبتوں نے آپ کی بہترین نشو ونما کی اور اس علمی ماحول اور اعلیٰ سماج نے تو آپ کو کہاں سے کہا ں تک پہنچادیا۔ قاضی شمس الدین احمد کی ابتدائی تعلیم جون پور میں ہوئی۔ جامعہ نعیمیہ مراد آباد میں صدر الافاضل مولانا نعیم الدین رضوی مراد آبادی علیہ الرحمہ سے درس لیا۔
صدر الشریعہ مولانا امجد علی رضوی اعظمی علیہ الرحمہ کی شہرت سن کر اجمیر شریف دار العلوم معینیہ عثمانیہ پہنچے، کامل انہماک ویکسوئی سے اساتذۂِ دارالعلوم سے پڑھا، حدیث پاک اور امہات کتب کی حضرت صدر الشریعہ علیہ الرحمۃ سے تکمیل کی۔
۱۳۵۲ھ میں جب صدر الشریعہ نے اجمیر شریف چھوڑ کر بریلی شریف مراجعت فرمائی اور چالیس طلبہ کی جماعت (جو علوم و فنون کامل اور چنداں آفتاب وماہتاب تھے) جو حضرت صدر الشریعہ کے ساتھ بریلی پہنچے ان میں قاضی شمس الدین احمد بھی تھے، دار العلوم منظر اسلام بریلی شریف سے فراغت حاصل کی۔
آغازِ درس:
مفتی قاضی شمس الدین احمد نے فراغت کے بعد دارالعلوم منظر اسلام میں درس دینا شروع کیا۔ جامعہ نعیمیہ مراد آباد، مدرسہ منظر حق ٹانڈہ ضلع فیض آباد، مدرسہ حنفیہ جون پور میں درس دیا۔ آخر الذکر مدارس میں صدر المدرسین رہے، بعدہٗ جامعہ رضویہ حمیدیہ بنارس میں مسندِ صدارت پر فائز ہوئے اور علوم وحکمت، تفسیر وحدیث اور فقہ کا خصوصی درس دیا۔ اکابر علماء میں بہ اعتبار علم وفضل قاضی شمس الدین احمد کا بلند مقام ہے [1] ۔
بیعت و خلافت:
حضرت مفتی قاضی شمس الدین احمد دس برس کی عمر میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری فاضل بریلوی قدس سرہٗ سے مرید ہوے [2] ۔ شہزادۂ امام احمد رضا مفتی اعظم ہند علامہ الشاہ مصطفیٰ رضا نوری نے جمیع سلاسل کی خلافت واجازت عطا فرمائی [3] ۔ مزید برآں حجۃ الاسلام مولانا حامد رضا خاں بریلوی قدس سرہٗ نے اجازت سے نوازا۔
عالمِ نکتہ داں:
حضرت قاضی شمس الدین احمد کا بچپن دیگر بچوں سے الگ تھلگ تھا۔ شروع سے محنت وعرق ریزی کے عادی تھے۔ پڑھنے میں د ل چسپی لیتے تھے اور نہایت ہی ذوق وشوق سے حصولِ علم کیا کرتے۔ دل میں بلند حوصلہ، پختہ ارادہ اورعزم وہمت رکھتے تھے۔ کئی بار قاضی شمس الدین احمد نے بطور تحدیث نعمت فرمایا کہ عالمِ نکتہ داں ہونے کی خبر جد محترم نے دی تھی، اور وہ فرمایا کرتے کہ ‘‘کہیے مولانا عالمِ نکتہ داں’’۔
سادگی و مزاج:
آج کی دنیا، جس میں تصنع اور تکلف کی افراط وتفریط ہے، اوریہ زندگی کےہر شعبے میں ہے، کوئی ایک شعبہ بھی اس سے خالی نہیں ہے، مگر شمس العلماء قاضی شمس الدین احمد نے اس دنیا میں رہتے ہوئے بھی اپنے دامن کو تصنُّع اور تکلُّف کی آلودگیوں سے پاک رکھا۔ آپ سادگی پسند تھے، مزاج سادہ تھا تو لباس بھی سادہ زیب تن فرماتے۔ مگر قاضی شمس الدین احمد کی اس سادگی میں بھی ایک عجب طرح کی کشش اور جاذبیت ہوتی، کس کی؟ علم وفن، ادب وحکمت کی۔ پیشانی چوڑی جس پر معرفت وحکمت کی گہری چھاپ تھی۔ آنکھیں چھوٹی مگر تفکرات کی دنیا میں وسیع، جوفکر وتدبر کے آنچل کے سائے میں اٹھتیں اور نکات عجیبہ دقائق لطیفہ کے جہانِ تازہ تلاش کر لیتی تھیں۔ جسم نہایت ہی لاغر و دبلا تھا مگر علمی کشش اور فنی رعب ودبدبہ کا پیکر تھا۔
قاضی شمس الدین احمد جونپوری
مصنف قانون شریعت علیہ الرحمہ
یوم وصال 01 محرم الحرام 1410
یوم پیدائش 27 ذوالحجہ 1322 ھ
جونپور ہر زمانے میں تاریخ کی دنیا میں غیر معمولی خوبیوں کا مالک رہا ہے، تہذیب وتمدن کے آئینے میں چمکتا رہا، کِشتِ فن وادب کی یہاں سے ہمیشہ آبیاری کی گئی ہے۔ اس کے چہرے پر حسن و بہار کا غازہ مسلا گیا۔ اس لیے تاریخ اسے شیراز ہند سے یاد کرتی ہے۔ بڑے بڑے بزرگوں کی یادگاریں آج بھی اس سر زمین پر ہیں جو داستانِ ماضی کی یاد دلاتی ہیں۔
ولادت و خاندان:
اس جونپر کے ماہرین میں ابجل المتکلمین حضرت مفتی شمس الدین احمد رضوی جعفری تھے۔ آپ ایک ایسے خاندان میں پیدا ہوئ ے جو علمی اعتبار سے ایک اعلیٰ اور معیاری خاندان تھا، نانا محترم اور جد امجد دونوں وقت کے جید صاحبِ لیاقت تھے، اور اس وقت جونپور میں علم وحکمت کے چشمے بہار ہے تھے اور ماحول بھی علمی اعتبار سے بہت زیادہ سندر تھا۔
ولادت:
حضرت مفتی قاضی شمس الدین احمد علیہ الرحمۃ کی ولادت جونپور کے ایک محلہ میر مسرت میں ہوئی، جعفری زینبی نسب آباء و اجداد شاہانِ مشرقی کے زمانے میں منصب قضاء پر فائز تھے۔ تاریخ ولادت ۲۸؍ذی الحجہ ۱۳۲۲ھ؍ ۵مارچ ۱۹۰۵ء ہے۔
تعلیم و تربیت:
حضرت مفتی قاضی شمس الدین احمد کو ان دونوں بزرگوں کی شفقتوں اور پدری محبتوں نے آپ کی بہترین نشو ونما کی اور اس علمی ماحول اور اعلیٰ سماج نے تو آپ کو کہاں سے کہا ں تک پہنچادیا۔ قاضی شمس الدین احمد کی ابتدائی تعلیم جون پور میں ہوئی۔ جامعہ نعیمیہ مراد آباد میں صدر الافاضل مولانا نعیم الدین رضوی مراد آبادی علیہ الرحمہ سے درس لیا۔
صدر الشریعہ مولانا امجد علی رضوی اعظمی علیہ الرحمہ کی شہرت سن کر اجمیر شریف دار العلوم معینیہ عثمانیہ پہنچے، کامل انہماک ویکسوئی سے اساتذۂِ دارالعلوم سے پڑھا، حدیث پاک اور امہات کتب کی حضرت صدر الشریعہ علیہ الرحمۃ سے تکمیل کی۔
۱۳۵۲ھ میں جب صدر الشریعہ نے اجمیر شریف چھوڑ کر بریلی شریف مراجعت فرمائی اور چالیس طلبہ کی جماعت (جو علوم و فنون کامل اور چنداں آفتاب وماہتاب تھے) جو حضرت صدر الشریعہ کے ساتھ بریلی پہنچے ان میں قاضی شمس الدین احمد بھی تھے، دار العلوم منظر اسلام بریلی شریف سے فراغت حاصل کی۔
آغازِ درس:
مفتی قاضی شمس الدین احمد نے فراغت کے بعد دارالعلوم منظر اسلام میں درس دینا شروع کیا۔ جامعہ نعیمیہ مراد آباد، مدرسہ منظر حق ٹانڈہ ضلع فیض آباد، مدرسہ حنفیہ جون پور میں درس دیا۔ آخر الذکر مدارس میں صدر المدرسین رہے، بعدہٗ جامعہ رضویہ حمیدیہ بنارس میں مسندِ صدارت پر فائز ہوئے اور علوم وحکمت، تفسیر وحدیث اور فقہ کا خصوصی درس دیا۔ اکابر علماء میں بہ اعتبار علم وفضل قاضی شمس الدین احمد کا بلند مقام ہے [1] ۔
بیعت و خلافت:
حضرت مفتی قاضی شمس الدین احمد دس برس کی عمر میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری فاضل بریلوی قدس سرہٗ سے مرید ہوے [2] ۔ شہزادۂ امام احمد رضا مفتی اعظم ہند علامہ الشاہ مصطفیٰ رضا نوری نے جمیع سلاسل کی خلافت واجازت عطا فرمائی [3] ۔ مزید برآں حجۃ الاسلام مولانا حامد رضا خاں بریلوی قدس سرہٗ نے اجازت سے نوازا۔
عالمِ نکتہ داں:
حضرت قاضی شمس الدین احمد کا بچپن دیگر بچوں سے الگ تھلگ تھا۔ شروع سے محنت وعرق ریزی کے عادی تھے۔ پڑھنے میں د ل چسپی لیتے تھے اور نہایت ہی ذوق وشوق سے حصولِ علم کیا کرتے۔ دل میں بلند حوصلہ، پختہ ارادہ اورعزم وہمت رکھتے تھے۔ کئی بار قاضی شمس الدین احمد نے بطور تحدیث نعمت فرمایا کہ عالمِ نکتہ داں ہونے کی خبر جد محترم نے دی تھی، اور وہ فرمایا کرتے کہ ‘‘کہیے مولانا عالمِ نکتہ داں’’۔
سادگی و مزاج:
آج کی دنیا، جس میں تصنع اور تکلف کی افراط وتفریط ہے، اوریہ زندگی کےہر شعبے میں ہے، کوئی ایک شعبہ بھی اس سے خالی نہیں ہے، مگر شمس العلماء قاضی شمس الدین احمد نے اس دنیا میں رہتے ہوئے بھی اپنے دامن کو تصنُّع اور تکلُّف کی آلودگیوں سے پاک رکھا۔ آپ سادگی پسند تھے، مزاج سادہ تھا تو لباس بھی سادہ زیب تن فرماتے۔ مگر قاضی شمس الدین احمد کی اس سادگی میں بھی ایک عجب طرح کی کشش اور جاذبیت ہوتی، کس کی؟ علم وفن، ادب وحکمت کی۔ پیشانی چوڑی جس پر معرفت وحکمت کی گہری چھاپ تھی۔ آنکھیں چھوٹی مگر تفکرات کی دنیا میں وسیع، جوفکر وتدبر کے آنچل کے سائے میں اٹھتیں اور نکات عجیبہ دقائق لطیفہ کے جہانِ تازہ تلاش کر لیتی تھیں۔ جسم نہایت ہی لاغر و دبلا تھا مگر علمی کشش اور فنی رعب ودبدبہ کا پیکر تھا۔
❤1
اندازِ مُطالعۂ کتب:
مفتی قاضی شمس الدین احمد کا مطالعۂ کتب بھی جدا گانہ ہے جب مطالعہ فرماتے تو پنسل یا قلم پاس ہوتا تھا۔ اخبارات ، جرائد ، درسی کتابوں یا اردو ڈائجسٹ کا مطالعہ کر رہے ہیں، کسی جگہ کوئی اہم عبارت مل جاتی تو آپ اسے اپنی بیاض میں نقل فرمالیتے۔ قاضی شمس الدین احمد کا یہ انداز تا عمر باقی رہا۔ قطرہ قطرہ دریامی شود کے مصداق وہ بیاض اچھی خاصی ضخیم ہوگئی، جو کشکول جعفری کے نام سے ان کے شاگردوں کےدرمیان مشہور ہے۔ یقیناً وہ کشکول حقیقت و معلومات اور حقائق ومعارف کا خزانہ ہے۔
علم و فضل:
حضرت مفتی قاضی شمس الدین احمد کو علم کے ہر میدان میں دسترس حاصل تھی۔ فقہ ہو یا حدیث، منطق ہو یا فلسفہ، علمِ کلام ہو یا اصولِ فقہ، تاریخ ہو یا تنقید، تفسیر ہو یا علمِ تکسیر، ہر فن میں آپ سیر حاصل گفتگو فرماتے، اور معلومات کا دریا بہاتے۔ جس طرف آپکی نگاہ اٹھتی، مضامین کا تانتا بندھ جاتا اوروہ الفاظ وعبارت کا رُوپ دھار لیتے۔ صرف اتنا ہی ہیں بلکہ فصاحت وبلاغت کے سانچے میں ڈھل جاتے۔ اور قاضی شمس الدین احمد کی زبان سے جو الفاظ نکلتے وہ الفاظ نہیں ہوتے بلکہ پھول ہوتے، اور اپنی بوئے عنبریں سے ہر طالب علم کی مشامِ جاں کو معطر کرتے۔
حدیث اس انداز سے پڑھاتے کہ "امام بخاری ومسلم" کی یاد تازہ ہوجاتی۔ اسماء الرجال پر گفتگو فرماتے تو راویوں کے حالات زندگی، ان کے علمی کمالات، طرزِ معاشرت اس طرح واضح فرماتے کہ" تہذیب التہذیب" کا جلوہ نگاہوں میں پھر جاتا۔ فقہ پر لب کشاہوتے تحقیقات وتدقیقات کا جلوۂ رنگیں بکھیرتے۔ ائمہ کے اختلافات پر ہر ایک کی سندیں اور مسائل کی ترجیحات بڑے ہی اچھوتے انداز میں بیان فرماتے فقہی حزئیات مفتی قاضی شمس الدین احمد کی نگاہوں میں روشن تھیں۔
تنقیدی نظریہ:
مفتی قاضی شمس الدین احمد کی کیسی ذہانت وفطانت تھی؟ اللہ اللہ۔ جرأت و بے باکی آپ کےمزاج میں کوٹ کوٹ کر بھردی گئی تھی، ہر کسی کے سامنے اس کی غلطیوں کی نشان دہی فرمادیا کرتےتھے۔ تنقید آپ کی اچھی تھی اور بر ملا تنقید کیا کرتے تھے۔ کلام کے تجزیہ پر آپ کو عبور حاصل تھا۔ ہرکسی کی اور ہر قسم کی بات تسلیم کرنےکے عادی نہ تھے جب تک کہ اس کی دلیل نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت علامہ سعدی شیرازی کا یہ قول "ہرچہ گفتنی دلیلش بیار"
بار بار دہرایا کرتے اور جب دلیل سامنے آتی تو اس کے مقدمات کو پرکھتے۔ اس کے بعد کسی کو تسلیم کرنے کی باری آتی۔ اس اعتبار سے قاضی شمس الدین احمد کا تنقیدی شعور بلند وبالامعیاری تھا۔ آپ کی تنقید میں تعمیر زیادہ ہوتی۔ اس میں کہیں کہیں ظفر و مزاح سے کام لیتے جس سے تنقید کا رنگ و روغن دوبالا ہوجاتا اور سامعین کےلیے لطف و مزہ۔
امام احمد رضا کے متعلق تنقید:
مفتی قاضی شمس الدین احمد علیہ الرحمۃ کی اس تنقیدی صلاحیت کے باوجود آپ کی نگاہ میں ایک ایسی شخصیت تھی جنہیں آپ تنقید سے الگ تھلگ تصور کرتے تھے، اور وہ ذات تھی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری فاضل بریلوی قدس سرہٗ کی ۔ آپ امام احمد رضا بریلوی کے متعلق بار بار فرمایا کرتے کہ:
”میں اعلیٰ حضرت کو آنکھ بند کر کےجانتا ہوں اس لیے کہ انہوں نے جو مسائل کی تحقیق و تنفیح کی، بالکل صحیح کی۔ اس میں چوں چرا کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔
آپ حضور مفتی اعظم ہند قدس سرہ کا بے حد احترام کرتے، اس مرکزِ علم وفن کی بارگاہ میں علمی گفتگو فرماتے، لب کشا ہوتے تو ادب واحترام کے دائرہ میں، اور ادب واحترام کا یہ عالم ہوتا کہ کہیں ادب سے بات کرنے میں جھجکتے اور کہیں رُکتے۔ یہ تھا کمالِ ادب مرشدِ اعظم شہزادۂ اعلیٰ حضرت کی باگاہ میں۔
تصانیف:
حضرت مفتی قاضی شمس الدین احمد تا حیات رشد وہدایت کا پیغام دیتے رہے، اور اپنی یادوں کےنقوش چھوڑے جن میں مندرجہ ذیل تصانیف یادگار کا درجہ رکھتی ہیں۔ ❶ قانونِ شریعت حصہ اول، دوم ❷ قواعد النظر ❸ قواعد الاعراب ❹ کشکولِ جعفری ـ
چند مشہور تلامذہ:
قاضی شمس الدین احمد کے شاگردوں میں کثیر تعداد، جو اب علمی درس گاہوں میں بیٹھ کر اُن سے حاصل کیے ہوئے جواہر ریزوں کو بکھیر رہے ہیں، اور صحیح علم وفن کو آباد کر رہے ہیں۔ چند تلامذہ کے اسماء گرامی درجِ ذیل ہیں:
❶ مولانا مفتی محمد اعظم رضوی ٹانڈوی شیخ الحدیث دارالعلوم مظہر اسلام بریلی شریف ❷ مولانا شمس الدین صدیقی رضوی صدر المدرسین مسعود العلوم چھوٹی تکیہ بہرائچ ❸ مولانا حسام الدین احمد ہشام صاحبزادہ وجانشین (جونپور) ❹ مولانا شمشاد حسین رضوی بھاگلپوری ـ
مفتی قاضی شمس الدین احمد کا مطالعۂ کتب بھی جدا گانہ ہے جب مطالعہ فرماتے تو پنسل یا قلم پاس ہوتا تھا۔ اخبارات ، جرائد ، درسی کتابوں یا اردو ڈائجسٹ کا مطالعہ کر رہے ہیں، کسی جگہ کوئی اہم عبارت مل جاتی تو آپ اسے اپنی بیاض میں نقل فرمالیتے۔ قاضی شمس الدین احمد کا یہ انداز تا عمر باقی رہا۔ قطرہ قطرہ دریامی شود کے مصداق وہ بیاض اچھی خاصی ضخیم ہوگئی، جو کشکول جعفری کے نام سے ان کے شاگردوں کےدرمیان مشہور ہے۔ یقیناً وہ کشکول حقیقت و معلومات اور حقائق ومعارف کا خزانہ ہے۔
علم و فضل:
حضرت مفتی قاضی شمس الدین احمد کو علم کے ہر میدان میں دسترس حاصل تھی۔ فقہ ہو یا حدیث، منطق ہو یا فلسفہ، علمِ کلام ہو یا اصولِ فقہ، تاریخ ہو یا تنقید، تفسیر ہو یا علمِ تکسیر، ہر فن میں آپ سیر حاصل گفتگو فرماتے، اور معلومات کا دریا بہاتے۔ جس طرف آپکی نگاہ اٹھتی، مضامین کا تانتا بندھ جاتا اوروہ الفاظ وعبارت کا رُوپ دھار لیتے۔ صرف اتنا ہی ہیں بلکہ فصاحت وبلاغت کے سانچے میں ڈھل جاتے۔ اور قاضی شمس الدین احمد کی زبان سے جو الفاظ نکلتے وہ الفاظ نہیں ہوتے بلکہ پھول ہوتے، اور اپنی بوئے عنبریں سے ہر طالب علم کی مشامِ جاں کو معطر کرتے۔
حدیث اس انداز سے پڑھاتے کہ "امام بخاری ومسلم" کی یاد تازہ ہوجاتی۔ اسماء الرجال پر گفتگو فرماتے تو راویوں کے حالات زندگی، ان کے علمی کمالات، طرزِ معاشرت اس طرح واضح فرماتے کہ" تہذیب التہذیب" کا جلوہ نگاہوں میں پھر جاتا۔ فقہ پر لب کشاہوتے تحقیقات وتدقیقات کا جلوۂ رنگیں بکھیرتے۔ ائمہ کے اختلافات پر ہر ایک کی سندیں اور مسائل کی ترجیحات بڑے ہی اچھوتے انداز میں بیان فرماتے فقہی حزئیات مفتی قاضی شمس الدین احمد کی نگاہوں میں روشن تھیں۔
تنقیدی نظریہ:
مفتی قاضی شمس الدین احمد کی کیسی ذہانت وفطانت تھی؟ اللہ اللہ۔ جرأت و بے باکی آپ کےمزاج میں کوٹ کوٹ کر بھردی گئی تھی، ہر کسی کے سامنے اس کی غلطیوں کی نشان دہی فرمادیا کرتےتھے۔ تنقید آپ کی اچھی تھی اور بر ملا تنقید کیا کرتے تھے۔ کلام کے تجزیہ پر آپ کو عبور حاصل تھا۔ ہرکسی کی اور ہر قسم کی بات تسلیم کرنےکے عادی نہ تھے جب تک کہ اس کی دلیل نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت علامہ سعدی شیرازی کا یہ قول "ہرچہ گفتنی دلیلش بیار"
بار بار دہرایا کرتے اور جب دلیل سامنے آتی تو اس کے مقدمات کو پرکھتے۔ اس کے بعد کسی کو تسلیم کرنے کی باری آتی۔ اس اعتبار سے قاضی شمس الدین احمد کا تنقیدی شعور بلند وبالامعیاری تھا۔ آپ کی تنقید میں تعمیر زیادہ ہوتی۔ اس میں کہیں کہیں ظفر و مزاح سے کام لیتے جس سے تنقید کا رنگ و روغن دوبالا ہوجاتا اور سامعین کےلیے لطف و مزہ۔
امام احمد رضا کے متعلق تنقید:
مفتی قاضی شمس الدین احمد علیہ الرحمۃ کی اس تنقیدی صلاحیت کے باوجود آپ کی نگاہ میں ایک ایسی شخصیت تھی جنہیں آپ تنقید سے الگ تھلگ تصور کرتے تھے، اور وہ ذات تھی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری فاضل بریلوی قدس سرہٗ کی ۔ آپ امام احمد رضا بریلوی کے متعلق بار بار فرمایا کرتے کہ:
”میں اعلیٰ حضرت کو آنکھ بند کر کےجانتا ہوں اس لیے کہ انہوں نے جو مسائل کی تحقیق و تنفیح کی، بالکل صحیح کی۔ اس میں چوں چرا کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔
آپ حضور مفتی اعظم ہند قدس سرہ کا بے حد احترام کرتے، اس مرکزِ علم وفن کی بارگاہ میں علمی گفتگو فرماتے، لب کشا ہوتے تو ادب واحترام کے دائرہ میں، اور ادب واحترام کا یہ عالم ہوتا کہ کہیں ادب سے بات کرنے میں جھجکتے اور کہیں رُکتے۔ یہ تھا کمالِ ادب مرشدِ اعظم شہزادۂ اعلیٰ حضرت کی باگاہ میں۔
تصانیف:
حضرت مفتی قاضی شمس الدین احمد تا حیات رشد وہدایت کا پیغام دیتے رہے، اور اپنی یادوں کےنقوش چھوڑے جن میں مندرجہ ذیل تصانیف یادگار کا درجہ رکھتی ہیں۔ ❶ قانونِ شریعت حصہ اول، دوم ❷ قواعد النظر ❸ قواعد الاعراب ❹ کشکولِ جعفری ـ
چند مشہور تلامذہ:
قاضی شمس الدین احمد کے شاگردوں میں کثیر تعداد، جو اب علمی درس گاہوں میں بیٹھ کر اُن سے حاصل کیے ہوئے جواہر ریزوں کو بکھیر رہے ہیں، اور صحیح علم وفن کو آباد کر رہے ہیں۔ چند تلامذہ کے اسماء گرامی درجِ ذیل ہیں:
❶ مولانا مفتی محمد اعظم رضوی ٹانڈوی شیخ الحدیث دارالعلوم مظہر اسلام بریلی شریف ❷ مولانا شمس الدین صدیقی رضوی صدر المدرسین مسعود العلوم چھوٹی تکیہ بہرائچ ❸ مولانا حسام الدین احمد ہشام صاحبزادہ وجانشین (جونپور) ❹ مولانا شمشاد حسین رضوی بھاگلپوری ـ
❤1👍1
انتقال پُر ملال:
یکم محرم الحرام ۱۴۱۰ھ کی وہ صبح کس قدر دل خراش اور روح فرسا ہوگی جس میں قاضی شمس الدین احمد کی جان جاں آفریں کے جوارِ رحمت میں گہری اور ابدی نیند سوگئی، اور جامِ وصال محبوب حقیقی نوش فرمایا۔۔۔۔ وقت وصال سینۂ مبارک پر حضرت امام غزالی قدس سرہٗ کی معرکۃ الآراء تصنیف کیمیائے سعادت کھلی رکھی تھی اور وہ بھی موت کا باب تھا [4] ۔
▬▬▬▬ حاشیہ ▬▬▬▬
[1] ۔محمود احمد قادری، مولانا: تذکرۂ علماء اہلِ سنت ص ۱۰۴
[2] ۔محمود احمد قادری، مولانا: تذکرۂ علماء اہلِ سنت ص ۱۰۴
[3] ۔قلمی یاد داشت مولانا محمد انور علی رضوی بہرائچی استاذ دارالعلوم منظرِ اسلام بریلی شریف
[4] ۔(الف) سہ ماہی دامنِ مصطفیٰ بریلی (مضمون مولانا شمشاد حسین رضوی) ص ۳۸ تا ۴۲ بابت محرم، صفر، ربیع الاول ؍اگست، ستمبر ،اکتوبر ۱۹۸۸ء ۱۴۰۸ھ
(ب) شمس الدین احمد رضوی، قاضی مفتی: قانونِ شریعت۔
نوٹ: تفصیلی حالات کے لیے دیکھیے قانونِ شریعت جدید ایڈیشن۔ ۱۲رضوی غفرلہٗ
https://scholars.pk/ur/scholar/qazi-shamsuddin-ahmed-jaunpuri
یکم محرم الحرام ۱۴۱۰ھ کی وہ صبح کس قدر دل خراش اور روح فرسا ہوگی جس میں قاضی شمس الدین احمد کی جان جاں آفریں کے جوارِ رحمت میں گہری اور ابدی نیند سوگئی، اور جامِ وصال محبوب حقیقی نوش فرمایا۔۔۔۔ وقت وصال سینۂ مبارک پر حضرت امام غزالی قدس سرہٗ کی معرکۃ الآراء تصنیف کیمیائے سعادت کھلی رکھی تھی اور وہ بھی موت کا باب تھا [4] ۔
▬▬▬▬ حاشیہ ▬▬▬▬
[1] ۔محمود احمد قادری، مولانا: تذکرۂ علماء اہلِ سنت ص ۱۰۴
[2] ۔محمود احمد قادری، مولانا: تذکرۂ علماء اہلِ سنت ص ۱۰۴
[3] ۔قلمی یاد داشت مولانا محمد انور علی رضوی بہرائچی استاذ دارالعلوم منظرِ اسلام بریلی شریف
[4] ۔(الف) سہ ماہی دامنِ مصطفیٰ بریلی (مضمون مولانا شمشاد حسین رضوی) ص ۳۸ تا ۴۲ بابت محرم، صفر، ربیع الاول ؍اگست، ستمبر ،اکتوبر ۱۹۸۸ء ۱۴۰۸ھ
(ب) شمس الدین احمد رضوی، قاضی مفتی: قانونِ شریعت۔
نوٹ: تفصیلی حالات کے لیے دیکھیے قانونِ شریعت جدید ایڈیشن۔ ۱۲رضوی غفرلہٗ
https://scholars.pk/ur/scholar/qazi-shamsuddin-ahmed-jaunpuri
scholars.pk
Qazi Shamsuddin Ahmed Jonpuri
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
Qazi Shamsuddin Ahmed Jonpuri is one of very great Islamic (Religious) Scholar.
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
خلیفۂ اعلیٰ حضرت، حضرت مفتی قاضی شمس الدین احمد جونپوری مصنف قانون شریعت علیہ الرحمہ یوم وصال 01 محرم الحرام 1410 یوم پیدائش 27 ذوالحجہ 1322 ھ جونپور ہر زمانے میں تاریخ کی دنیا میں غیر معمولی خوبیوں کا مالک رہا ہے، تہذیب وتمدن کے آئینے میں چمکتا رہا، کِشتِ…
حضرت علامہ مفتی قاضی شمس
الدین احمد جعفری رضوی جونپوری
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
#یوم_ولادت_ماہ_ذو_الحجہ 🌹
#یوم_وصال_ماہ_محرم_الحرام
https://t.me/islaamic_Knowledge/54281
الدین احمد جعفری رضوی جونپوری
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
#یوم_ولادت_ماہ_ذو_الحجہ 🌹
#یوم_وصال_ماہ_محرم_الحرام
https://t.me/islaamic_Knowledge/54281
❤1
مجدد اسلام شیخ ابوبکر شبلی
نام و نسب:
اسمِ گرامی: جعفر ۔ کنیت: ابو بکر ۔ مکمل نام: ابو بکر جعفر بن یونس ۔ ’’شیخ شبلی‘‘ کے نام سے معروف ہیں ۔ آپ کو شبلی اس لئے کہا جاتا ہے کہ آپ موضع ’’شبلہ یا شبیلہ‘‘ کے رہنے والے تھے۔ مگر ایک قول یہ ہے کہ آپ کی ولادت’’ سرشتہ‘‘ میں ہوئی ۔ (تذکرہ مشائخِ قادریہ رضویہ، ص:202)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 247 ھ، مطابق 861ء کو ’’سامراء‘‘ عراق میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
آپ جامع علوم عقلیہ و نقلیہ تھے ۔
آپ علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں: میں نے تیس سال تک علم فقہ و حدیث کا درس لیا یہاں تک کہ علم کا دریا میرے سینے میں موجزن ہو گیا ۔ پھر حاملینِ طریقت کی خدمت میں حاضر ہوا، اور ان سے عرض کیا کہ مجھے علم الہی کی تعلیم دیں ۔ مگر کوئی شخص بھی نہ جانتا تھا ۔ میں ان کی باتیں سن کر حیران رہ گیا (یعنی تصوف کی دوکانیں کھول رکھی تھیں، مگر وہ خالی تھیں ان میں علم و معرفت کا کوئی سَودا نہیں تھا) میں نے ان سے کہا کہ الحمد للہ! تم سے تو میں صبحِ روشن میں ہوں ۔
آپ علیہ الرحمہ آئمہ اربعہ میں سے حضرت امام مالک رضی الله تعالیٰ عنہ کے مقلد تھے؛ اور ’’مؤطا امام مالک‘‘ آپ کو زبانی یاد تھی ۔ صاحب علم و حال، جامع علوم ظاہر ی و باطنی، واقفِ رموز خفی و جلی تھے ۔ (ایضا: 202)
بیعت و خلافت:
آپ علیہ الرحمہ سید الطائفہ شیخ الاولیاء حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے مرید و خلیفہ ہیں ۔
سیرت و خصائص:
مجدد اسلام ، صوفیِ اسلام، عارف باللہ، عاشق رسول اللہ، حضرت سیدنا شیخ ابو بکر شبلی رضی اللہ تعالیٰ عنه ۔
آپ علیہ الرحمہ سلسلۂ عالیہ قادریہ رضویہ کے بارہویں امام و شیخ طریقت ہیں ۔ آپ کا عبادات و مجاہدات و مکاشفات میں بہت ہی بلند مقام ہے اور آپ کے نکات و عبادات اور رموز و اشارات و ریاضات و کرامات احاطۂ تحریر سے باہر ہیں۔ جتنے بھی مشائخ آپ کے زمانے میں تھے، آپ نے ان کی زیارت کی اور ان کی صحبت سے فیض یاب ہوئے ۔
آپ علیہ الرحمہ نے علومِ طریقت کو بدرجۂ کمال حاصل فرمایا ۔ آپ کی ذات سے ایسے اسرار و رموز کا اظہار ہونے لگا جو لوگوں کی عقلوں سے بہت بلند و بالا ہوتے، جس کی وجہ سے ناواقف لوگ آپ کو دیوانہ کہنے لگے۔ آپ مجاہدہ کی ابتداء میں آنکھوں میں نمک ڈال لیا کرتے تھے، تاکہ تمام رات جاگتے رہیں اور آنکھوں میں نیند نہ آئے ۔ حضرت جنید بغدادی علیہ الرحمہ فرماتے تھے: ’’لکل قوم تاج، وتاج ھذ القوم الشبلی‘‘ یعنی ہر قوم کا ایک تاج ہوتا ہے، اورصوفیاء کا تاج شیخ شبلی ہیں ـ
جب شیخ شبلی علیہ الرحمہ حضرت سید الطائفہ جنید بغدادی علیہ الرحمہ کےمرید ہوئے توانہوں نے فرمایا: ’’اے ابو بکر! تم ملک شام کے امیر الامراء (گورنر) تھے، جب تک تو بازار میں بھیک نہ مانگے گا دماغ تیرا نَخْوَت سے خالی نہ ہوگا (یعنی تیرے دماغ سے گھمنڈ و غرور نہ جائے گا) اور اپنی قدر و قیمت نہ جانے گا ۔ ’’ابتداء ابتداء میں تو لوگوں نے رئیس جان کر بہت کچھ دیا آخر رفتہ رفتہ ہر روز بازار ان کا سُست ہوتا جاتا، ایک سال کے بعد یہ نوبت پہنچی کہ صبح سے شام تک پھرتے کوئی کچھ نہ دیتا، پیر سے حال عرض کی، فرمایا: قدر تیری یہ ہے کہ کوئی تجھے کوڑی کو نہیں پوچھتا‘‘ ۔ پھر حضرت جنید نے فرمایا اے ابوبکر! اب بتاؤ تمھارے نفس کی قدر و قیمت کیا ہے؟ عرض کیا میں اپنے نفس کوتمام جہاں سے کم تر دیکھتا ہوں،شیخ نے فرمایا: ہاں اب تمھارا ایمان درست ہوا ۔ (احسن الوعاء لآداب الدعاء، 291/ تذکرہ مشائخِ قادریہ رضویہ، ص:204)
بارگاہِ رسالت ﷺ میں آپ کا مقام:
حضرت شیخ ابو بکر بن مجاہد علیہ الرحمہ جو اپنے وقت کے عظیم محدث و فقیہ اور عارف باللہ تھے۔ ا ن کی مجلس میں علماء و فقہااورصوفیاء کا مجمع لگا رہتا ۔ ایک دن حضرت شبلی علیہ الرحمہ ان کی مجلس میں تشریف لے گئے تو وہ آپ کی تعظیم کے لیے کھڑے ہو گئے اور سینے سے لگایا اور پیشانی مبارک کو بوسہ دیا، ایک ناواقف نے کہا حضرت یہ تو دیوانہ ہے، اور آپ اس قدر احترام فرما رہے ہیں؟ تو حضرت ابو بکر بن مجاہد نے ارشاد فرمایا: کہ اے لوگو! تمہیں کیا خبر ؟ میں نے ان کے ساتھ ایسا ہی کیا جیسا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ان کے ساتھ سلوک کرتے ہوئے دیکھا ۔پھر فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ کی مجلس مبارک قائم ہے پھر جس وقت حضرت شبلی اس مجلس میں تشریف لائے تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہو گئے اور ان کی پیشانی کو بوسہ دیا ۔ میں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ ﷺ! شبلی پر اتنی شفقت و مہربانی کس وجہ سے ہے؟ تورسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: کہ یہ ہر روز نماز کے بعد ’’لَقَدْ جَاءَکُمْ رَسُوْلٌ تا العظیم‘‘ پڑھتا ہے اور اس کے بعد تین مرتبہ یہ درود شریف ’’صَلَّی اللہ عَلَیْکَ یَارَسُوْل اللہ‘‘پڑھتا ہے۔ (جلاء الافہام، باب رابع، ص:241)
نام و نسب:
اسمِ گرامی: جعفر ۔ کنیت: ابو بکر ۔ مکمل نام: ابو بکر جعفر بن یونس ۔ ’’شیخ شبلی‘‘ کے نام سے معروف ہیں ۔ آپ کو شبلی اس لئے کہا جاتا ہے کہ آپ موضع ’’شبلہ یا شبیلہ‘‘ کے رہنے والے تھے۔ مگر ایک قول یہ ہے کہ آپ کی ولادت’’ سرشتہ‘‘ میں ہوئی ۔ (تذکرہ مشائخِ قادریہ رضویہ، ص:202)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 247 ھ، مطابق 861ء کو ’’سامراء‘‘ عراق میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
آپ جامع علوم عقلیہ و نقلیہ تھے ۔
آپ علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں: میں نے تیس سال تک علم فقہ و حدیث کا درس لیا یہاں تک کہ علم کا دریا میرے سینے میں موجزن ہو گیا ۔ پھر حاملینِ طریقت کی خدمت میں حاضر ہوا، اور ان سے عرض کیا کہ مجھے علم الہی کی تعلیم دیں ۔ مگر کوئی شخص بھی نہ جانتا تھا ۔ میں ان کی باتیں سن کر حیران رہ گیا (یعنی تصوف کی دوکانیں کھول رکھی تھیں، مگر وہ خالی تھیں ان میں علم و معرفت کا کوئی سَودا نہیں تھا) میں نے ان سے کہا کہ الحمد للہ! تم سے تو میں صبحِ روشن میں ہوں ۔
آپ علیہ الرحمہ آئمہ اربعہ میں سے حضرت امام مالک رضی الله تعالیٰ عنہ کے مقلد تھے؛ اور ’’مؤطا امام مالک‘‘ آپ کو زبانی یاد تھی ۔ صاحب علم و حال، جامع علوم ظاہر ی و باطنی، واقفِ رموز خفی و جلی تھے ۔ (ایضا: 202)
بیعت و خلافت:
آپ علیہ الرحمہ سید الطائفہ شیخ الاولیاء حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے مرید و خلیفہ ہیں ۔
سیرت و خصائص:
مجدد اسلام ، صوفیِ اسلام، عارف باللہ، عاشق رسول اللہ، حضرت سیدنا شیخ ابو بکر شبلی رضی اللہ تعالیٰ عنه ۔
آپ علیہ الرحمہ سلسلۂ عالیہ قادریہ رضویہ کے بارہویں امام و شیخ طریقت ہیں ۔ آپ کا عبادات و مجاہدات و مکاشفات میں بہت ہی بلند مقام ہے اور آپ کے نکات و عبادات اور رموز و اشارات و ریاضات و کرامات احاطۂ تحریر سے باہر ہیں۔ جتنے بھی مشائخ آپ کے زمانے میں تھے، آپ نے ان کی زیارت کی اور ان کی صحبت سے فیض یاب ہوئے ۔
آپ علیہ الرحمہ نے علومِ طریقت کو بدرجۂ کمال حاصل فرمایا ۔ آپ کی ذات سے ایسے اسرار و رموز کا اظہار ہونے لگا جو لوگوں کی عقلوں سے بہت بلند و بالا ہوتے، جس کی وجہ سے ناواقف لوگ آپ کو دیوانہ کہنے لگے۔ آپ مجاہدہ کی ابتداء میں آنکھوں میں نمک ڈال لیا کرتے تھے، تاکہ تمام رات جاگتے رہیں اور آنکھوں میں نیند نہ آئے ۔ حضرت جنید بغدادی علیہ الرحمہ فرماتے تھے: ’’لکل قوم تاج، وتاج ھذ القوم الشبلی‘‘ یعنی ہر قوم کا ایک تاج ہوتا ہے، اورصوفیاء کا تاج شیخ شبلی ہیں ـ
جب شیخ شبلی علیہ الرحمہ حضرت سید الطائفہ جنید بغدادی علیہ الرحمہ کےمرید ہوئے توانہوں نے فرمایا: ’’اے ابو بکر! تم ملک شام کے امیر الامراء (گورنر) تھے، جب تک تو بازار میں بھیک نہ مانگے گا دماغ تیرا نَخْوَت سے خالی نہ ہوگا (یعنی تیرے دماغ سے گھمنڈ و غرور نہ جائے گا) اور اپنی قدر و قیمت نہ جانے گا ۔ ’’ابتداء ابتداء میں تو لوگوں نے رئیس جان کر بہت کچھ دیا آخر رفتہ رفتہ ہر روز بازار ان کا سُست ہوتا جاتا، ایک سال کے بعد یہ نوبت پہنچی کہ صبح سے شام تک پھرتے کوئی کچھ نہ دیتا، پیر سے حال عرض کی، فرمایا: قدر تیری یہ ہے کہ کوئی تجھے کوڑی کو نہیں پوچھتا‘‘ ۔ پھر حضرت جنید نے فرمایا اے ابوبکر! اب بتاؤ تمھارے نفس کی قدر و قیمت کیا ہے؟ عرض کیا میں اپنے نفس کوتمام جہاں سے کم تر دیکھتا ہوں،شیخ نے فرمایا: ہاں اب تمھارا ایمان درست ہوا ۔ (احسن الوعاء لآداب الدعاء، 291/ تذکرہ مشائخِ قادریہ رضویہ، ص:204)
بارگاہِ رسالت ﷺ میں آپ کا مقام:
حضرت شیخ ابو بکر بن مجاہد علیہ الرحمہ جو اپنے وقت کے عظیم محدث و فقیہ اور عارف باللہ تھے۔ ا ن کی مجلس میں علماء و فقہااورصوفیاء کا مجمع لگا رہتا ۔ ایک دن حضرت شبلی علیہ الرحمہ ان کی مجلس میں تشریف لے گئے تو وہ آپ کی تعظیم کے لیے کھڑے ہو گئے اور سینے سے لگایا اور پیشانی مبارک کو بوسہ دیا، ایک ناواقف نے کہا حضرت یہ تو دیوانہ ہے، اور آپ اس قدر احترام فرما رہے ہیں؟ تو حضرت ابو بکر بن مجاہد نے ارشاد فرمایا: کہ اے لوگو! تمہیں کیا خبر ؟ میں نے ان کے ساتھ ایسا ہی کیا جیسا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ان کے ساتھ سلوک کرتے ہوئے دیکھا ۔پھر فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ کی مجلس مبارک قائم ہے پھر جس وقت حضرت شبلی اس مجلس میں تشریف لائے تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہو گئے اور ان کی پیشانی کو بوسہ دیا ۔ میں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ ﷺ! شبلی پر اتنی شفقت و مہربانی کس وجہ سے ہے؟ تورسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: کہ یہ ہر روز نماز کے بعد ’’لَقَدْ جَاءَکُمْ رَسُوْلٌ تا العظیم‘‘ پڑھتا ہے اور اس کے بعد تین مرتبہ یہ درود شریف ’’صَلَّی اللہ عَلَیْکَ یَارَسُوْل اللہ‘‘پڑھتا ہے۔ (جلاء الافہام، باب رابع، ص:241)
❤1👍1
نصرانی طبیب کا مسلمان ہونا:
حضرت ابوبکر شبلی ایک مرتبہ بیمار پڑے توآپ کو لوگ علاج کے لیے لے گئے اور علی بن عیسیٰ وزیر نے خلیفہ کو اطلاع کی، تو خلیفہ نے علاج کے لیے اپنے افسر الاطباء کو بھیجا جو نصرانی تھا۔ اس نے بہت کچھ علاج کیا مگر کچھ بھی فائدہ نہ ہوا۔ اس لیے طبیب نے عرض کیا کہ اگر میں جانتا کہ آپ کا علاج میرے جسم کے ٹکڑے میں ہے تو مجھے اس کے کاٹنے میں بھی کچھ دریغ نہ ہوتا۔ آپ نے ارشاد فرمایا کہ میری دوا تو کسی اور شئی میں ہے طبیب نے عرض کیا وہ کیا چیز ہے؟ آپ نے ارشاد فرمایا کہ تو کفر چھوڑ کر مسلمان ہوجا۔ تو طبیب نے فوراً کہا ’’اَشْھَدُ انْ لَّا اِلٰہَ الا اللہُ وَاشہدُ اَنَّ مُحَمَّدً رّسُوْل اللہ‘‘ خلیفہ کو جب اس کی اطلاع ہوئی تو اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور کہا کہ میں نے طبیب کو مریض کے طرف بھیجا تھا ۔ مگر ہم یہ نہیں جانتے کہ مریض کو طبیب کی طرف بھیجا ہے ۔
وصال:
بروز ہفتہ،27 ذوالحجۃ الحرام 334ھ، مطابق 29 جولائی 946ء کو واصل باللہ ہوئے ۔ آپ کا مزار مبارک ’’بغداد‘‘ عراق میں مرجعِ خلائق ہے ۔
خلفاء:
(1) ابو الفضل شیخ عبد الواحد تمیمی
(2) شیخ ابوالحسن نیمالم علیہماالرحمہ
شجرہ شریف میں اس طرح ذکرہے:
بہر شبلیؔ شیرِ حق دنیا کے کتوں سے بچا
ایک کا رکھ عبدِ واحدؔ بے ریا کے واسطے
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-abu-bakr-shibli
حضرت ابوبکر شبلی ایک مرتبہ بیمار پڑے توآپ کو لوگ علاج کے لیے لے گئے اور علی بن عیسیٰ وزیر نے خلیفہ کو اطلاع کی، تو خلیفہ نے علاج کے لیے اپنے افسر الاطباء کو بھیجا جو نصرانی تھا۔ اس نے بہت کچھ علاج کیا مگر کچھ بھی فائدہ نہ ہوا۔ اس لیے طبیب نے عرض کیا کہ اگر میں جانتا کہ آپ کا علاج میرے جسم کے ٹکڑے میں ہے تو مجھے اس کے کاٹنے میں بھی کچھ دریغ نہ ہوتا۔ آپ نے ارشاد فرمایا کہ میری دوا تو کسی اور شئی میں ہے طبیب نے عرض کیا وہ کیا چیز ہے؟ آپ نے ارشاد فرمایا کہ تو کفر چھوڑ کر مسلمان ہوجا۔ تو طبیب نے فوراً کہا ’’اَشْھَدُ انْ لَّا اِلٰہَ الا اللہُ وَاشہدُ اَنَّ مُحَمَّدً رّسُوْل اللہ‘‘ خلیفہ کو جب اس کی اطلاع ہوئی تو اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور کہا کہ میں نے طبیب کو مریض کے طرف بھیجا تھا ۔ مگر ہم یہ نہیں جانتے کہ مریض کو طبیب کی طرف بھیجا ہے ۔
وصال:
بروز ہفتہ،27 ذوالحجۃ الحرام 334ھ، مطابق 29 جولائی 946ء کو واصل باللہ ہوئے ۔ آپ کا مزار مبارک ’’بغداد‘‘ عراق میں مرجعِ خلائق ہے ۔
خلفاء:
(1) ابو الفضل شیخ عبد الواحد تمیمی
(2) شیخ ابوالحسن نیمالم علیہماالرحمہ
شجرہ شریف میں اس طرح ذکرہے:
بہر شبلیؔ شیرِ حق دنیا کے کتوں سے بچا
ایک کا رکھ عبدِ واحدؔ بے ریا کے واسطے
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-abu-bakr-shibli
scholars.pk
Hazrat Sheikh Abu Bakr Shibli
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
26-12-1444 ᴴ | 15-07-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
27-12-1444 ᴴ | 16-07-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
27-12-1444 ᴴ | 16-07-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
27-12-1444 ᴴ | 16-07-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1