🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
26-12-1444 ᴴ | 15-07-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
26-12-1444 ᴴ | 15-07-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
26-12-1444 ᴴ | 15-07-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
26-12-1444 ᴴ | 15-07-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
حضرت مولانا الحاج گل محمد شہداد کوٹی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
علامۃ الزماں مولانا الحاج گل محمد بن شیخ الاسلام علامہ مفتی نور محمد شہداد کوٹی قدس سرہ الاقدس کنڈو، تحصیل بھاگ ، ریاست قلات ( بلوچستان ) میں ۲۱، رجب المرجب ۱۲۴۰ھ کو تولد ہوئے۔
تعلیم و تربیت:
کنڈو اور شہداد کوٹ میں اپنے والد ماجد کے پاس جملہ علوم عقلیہ و نقلیہ میں تحصیل کی۔ اس وقت آپ کی عمر بائیس ( ۲۲) برس تھی۔
بیعت:
سلسلہ عالیہ قادریہ میں عمدۃ العارفین مولانا میاں غلام حیدر قادری قدس سرہ ( درگاہ کٹبار شریف بلوچستان ) کے دست بیعت ہوئے۔
درس و تدریس:
آپ کے والد ماجد کنڈو سے شہداد کوٹ نقل مکانی کر کے آئے تھے لہذا والد ماجد کی قائم کردہ درسگاہ میں تمام سندھ میں علم پھیلا ۔ سندھ میں کوئی ایسا گوٹھ نہیں تھا جس میں آپ کا شاگرد یا پھر اس کا شاگرد نہ ہو۔
ایک روایت کے مطابق آ پ کے فارغ التحصیل شاگردوں کی تعداد ۴۸۶ چار سو چھیا سی ہے اور وہ تمام اپنے وقت میں بڑے مدرس اور علامہ تھے۔ ( مقالات قاسمی )
تلامذہ:
آپ کے شاگردوں کی طویل فہرست میں سے چند نام معلوم ہو سکے وہ درج ذیل ہیں :
٭ برادر اصغر مفتی اعظم علامہ مولانا خواجہ غلام صدیق شہداد کوٹی
٭ علامہ مولانا داد محمد قاضی آف مکران ( بلوچستان )
٭ مولانا علامہ عبدالحکیم افغانی ( کابل ، افغانستان )
٭ جامع العلوم علامہ محمد حسن قریشی ( حیدر آباد سندھ )
٭ مفتی اعظم علامہ مخدوم حسن اللہ صدیقی ( پاٹ شریف ضلع دادو )
سفر حرمین شریفین:
آپ کو حج بیت اللہ اور مدینہ منورہ میں روضہ رسول اکرم ﷺ کی حاضری و زیارت کی سعادت نصیب ہوئی۔
شاعری:
آپ فارسی زبان کے بلند پایہ شاعر بھی تھے لیکن صد افسوس اپنوں کی غفلت اور لاپرواہی کے سبب علمی و ادبی سرمایہ ضائع ہو گیا، جوہر یوں کی عدم دستیابی کی وجہ سے گوہر ، نایاب ہی رہ گئے، ان کی تاریخ کو اپنوں نے ہی ملیامیٹ کر دیا۔ شاداب شہدا ٹ اور تجلیات صدیقیہ کے مصنفین نے اپنی کتب میں آپ کا تذکرہ تک نہیں کیا کس قدر افسوس کی بات ہے ، کس قدراحسان فراموشی ہے۔ محترم منظور احمد حلیمی نے آپ پر مختصر مضمون لکھ کر آپ کے حالات کو محفوظ کیا ہے رب کریم جزائے خیر عطا فرمائے ۔ انہوں نے آپ کا ایک شعر نقل کیا ہے جو کہ حضرت ا میر خسرو نظامی چشتی علیہ الرحمہ ( دہلی ) کی رباعی کی تضمین میں کہا تھا:
می سازم، می سازم، چوں خون بکباب اندر
می گویم می خندم چوں برق سحاب اندر
کرامت:
حاجی سائیں داد مستوئی بلوچ ابتدا میں علامہ گل محمد شہداد کوٹی کا سخت مخالف تھا بلکہ وہ اہل علم سے چڑ کھا تا تھا، ایک بار ایک شخص نے آکر آپ سے عرض کی کہ قبلہ ! آپ کا پڑوسی سائیں داد نے میرے دو سو (۲۰۰) روپے ہضم کر لئے ہیں لہذا آپ ان سے دلوادیں ۔ آپ نے انہیں بلوانے کے لئے تین بار خادم بھیجا لیکن اس نے ہر بار ایک ہی جواب دیا کہ ’’میں ملا کے پاس ہر گز نہیں جاوٗ ں گا‘‘۔
چوتھی بار آپ نے یہ کہلا کر بھجوادیا کہ ،’’اس ملا کے دروازے پر تمہارے بار بار چکر لگیں گے‘‘۔
اور ایسا ہی ہواآپ کی زبان مبارک سے نکلے ہوئے الفا ظ پورے ہوئے کہ اسی رات سرد موسم کے باوجود آدھی رات کو سائیں داد چیختا چلاتا ہوا آپ کے مدرسہ میں پہنچا اور بوریہ نشین درویش حضرت گل محمد سے اپنی گستاخی کی معافی حاصل کی اور اس کے بعد آخر عمر تک حضرت کے صادق مرید و سچے خادم کی طرح خدمت میں ہی رہا ۔ انتقال کے وقت اولاد کو وصیت کرتے ہوئے کہا کہ اس درگاہ کی خدمت و محبت کو کبھی نہیں چھوڑنا اور بزرگوں کے عرس پابندی و عقیدت سے کرتے رہنا ۔
وصال:
علامۃ الزماں مولانا گل محمد شہداد کوٹی نے ۲۷، ذوالحجہ ۱۳۰۶ھ؍ جولائی ۱۸۸۹ء کو ۶۶سال کی عمر میں انتقال کیا۔ برادر اصغر شاگرد ارشد و جانشین مفتی اعظم غوث الزماں خواجہ غلام صدیق شہداد کوٹی قدس سرہ الاقدس نے نماز جنازہ کی امامت کے فرائض انجام دیئے اور درگاہ شریف صدیقیہ شہداد کوٹ ( ضلع لاڑکانہ سندھ ) میں تدفین ہوئی دربار مقدس ہر دور میں مرجع خلائق رہی ہے اور رہے گی انشاء اللہ تعالیٰ ۔ ( ماخوذ : مہران سوانح نمبر مطبوعہ ۱۹۵۷ئ)
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-alhaj-gul-muhammad-shahdadkoti
علامۃ الزماں مولانا الحاج گل محمد بن شیخ الاسلام علامہ مفتی نور محمد شہداد کوٹی قدس سرہ الاقدس کنڈو، تحصیل بھاگ ، ریاست قلات ( بلوچستان ) میں ۲۱، رجب المرجب ۱۲۴۰ھ کو تولد ہوئے۔
تعلیم و تربیت:
کنڈو اور شہداد کوٹ میں اپنے والد ماجد کے پاس جملہ علوم عقلیہ و نقلیہ میں تحصیل کی۔ اس وقت آپ کی عمر بائیس ( ۲۲) برس تھی۔
بیعت:
سلسلہ عالیہ قادریہ میں عمدۃ العارفین مولانا میاں غلام حیدر قادری قدس سرہ ( درگاہ کٹبار شریف بلوچستان ) کے دست بیعت ہوئے۔
درس و تدریس:
آپ کے والد ماجد کنڈو سے شہداد کوٹ نقل مکانی کر کے آئے تھے لہذا والد ماجد کی قائم کردہ درسگاہ میں تمام سندھ میں علم پھیلا ۔ سندھ میں کوئی ایسا گوٹھ نہیں تھا جس میں آپ کا شاگرد یا پھر اس کا شاگرد نہ ہو۔
ایک روایت کے مطابق آ پ کے فارغ التحصیل شاگردوں کی تعداد ۴۸۶ چار سو چھیا سی ہے اور وہ تمام اپنے وقت میں بڑے مدرس اور علامہ تھے۔ ( مقالات قاسمی )
تلامذہ:
آپ کے شاگردوں کی طویل فہرست میں سے چند نام معلوم ہو سکے وہ درج ذیل ہیں :
٭ برادر اصغر مفتی اعظم علامہ مولانا خواجہ غلام صدیق شہداد کوٹی
٭ علامہ مولانا داد محمد قاضی آف مکران ( بلوچستان )
٭ مولانا علامہ عبدالحکیم افغانی ( کابل ، افغانستان )
٭ جامع العلوم علامہ محمد حسن قریشی ( حیدر آباد سندھ )
٭ مفتی اعظم علامہ مخدوم حسن اللہ صدیقی ( پاٹ شریف ضلع دادو )
سفر حرمین شریفین:
آپ کو حج بیت اللہ اور مدینہ منورہ میں روضہ رسول اکرم ﷺ کی حاضری و زیارت کی سعادت نصیب ہوئی۔
شاعری:
آپ فارسی زبان کے بلند پایہ شاعر بھی تھے لیکن صد افسوس اپنوں کی غفلت اور لاپرواہی کے سبب علمی و ادبی سرمایہ ضائع ہو گیا، جوہر یوں کی عدم دستیابی کی وجہ سے گوہر ، نایاب ہی رہ گئے، ان کی تاریخ کو اپنوں نے ہی ملیامیٹ کر دیا۔ شاداب شہدا ٹ اور تجلیات صدیقیہ کے مصنفین نے اپنی کتب میں آپ کا تذکرہ تک نہیں کیا کس قدر افسوس کی بات ہے ، کس قدراحسان فراموشی ہے۔ محترم منظور احمد حلیمی نے آپ پر مختصر مضمون لکھ کر آپ کے حالات کو محفوظ کیا ہے رب کریم جزائے خیر عطا فرمائے ۔ انہوں نے آپ کا ایک شعر نقل کیا ہے جو کہ حضرت ا میر خسرو نظامی چشتی علیہ الرحمہ ( دہلی ) کی رباعی کی تضمین میں کہا تھا:
می سازم، می سازم، چوں خون بکباب اندر
می گویم می خندم چوں برق سحاب اندر
کرامت:
حاجی سائیں داد مستوئی بلوچ ابتدا میں علامہ گل محمد شہداد کوٹی کا سخت مخالف تھا بلکہ وہ اہل علم سے چڑ کھا تا تھا، ایک بار ایک شخص نے آکر آپ سے عرض کی کہ قبلہ ! آپ کا پڑوسی سائیں داد نے میرے دو سو (۲۰۰) روپے ہضم کر لئے ہیں لہذا آپ ان سے دلوادیں ۔ آپ نے انہیں بلوانے کے لئے تین بار خادم بھیجا لیکن اس نے ہر بار ایک ہی جواب دیا کہ ’’میں ملا کے پاس ہر گز نہیں جاوٗ ں گا‘‘۔
چوتھی بار آپ نے یہ کہلا کر بھجوادیا کہ ،’’اس ملا کے دروازے پر تمہارے بار بار چکر لگیں گے‘‘۔
اور ایسا ہی ہواآپ کی زبان مبارک سے نکلے ہوئے الفا ظ پورے ہوئے کہ اسی رات سرد موسم کے باوجود آدھی رات کو سائیں داد چیختا چلاتا ہوا آپ کے مدرسہ میں پہنچا اور بوریہ نشین درویش حضرت گل محمد سے اپنی گستاخی کی معافی حاصل کی اور اس کے بعد آخر عمر تک حضرت کے صادق مرید و سچے خادم کی طرح خدمت میں ہی رہا ۔ انتقال کے وقت اولاد کو وصیت کرتے ہوئے کہا کہ اس درگاہ کی خدمت و محبت کو کبھی نہیں چھوڑنا اور بزرگوں کے عرس پابندی و عقیدت سے کرتے رہنا ۔
وصال:
علامۃ الزماں مولانا گل محمد شہداد کوٹی نے ۲۷، ذوالحجہ ۱۳۰۶ھ؍ جولائی ۱۸۸۹ء کو ۶۶سال کی عمر میں انتقال کیا۔ برادر اصغر شاگرد ارشد و جانشین مفتی اعظم غوث الزماں خواجہ غلام صدیق شہداد کوٹی قدس سرہ الاقدس نے نماز جنازہ کی امامت کے فرائض انجام دیئے اور درگاہ شریف صدیقیہ شہداد کوٹ ( ضلع لاڑکانہ سندھ ) میں تدفین ہوئی دربار مقدس ہر دور میں مرجع خلائق رہی ہے اور رہے گی انشاء اللہ تعالیٰ ۔ ( ماخوذ : مہران سوانح نمبر مطبوعہ ۱۹۵۷ئ)
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-alhaj-gul-muhammad-shahdadkoti
scholars.pk
Hazrat Molana Alhaj Gul Muhammad Shahdadkoti
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
خلیفۂ اعلیٰ حضرت، حضرت مفتی
قاضی شمس الدین احمد جونپوری
مصنف قانون شریعت علیہ الرحمہ
یوم وصال 01 محرم الحرام 1410
یوم پیدائش 27 ذوالحجہ 1322 ھ
جونپور ہر زمانے میں تاریخ کی دنیا میں غیر معمولی خوبیوں کا مالک رہا ہے، تہذیب وتمدن کے آئینے میں چمکتا رہا، کِشتِ فن وادب کی یہاں سے ہمیشہ آبیاری کی گئی ہے۔ اس کے چہرے پر حسن و بہار کا غازہ مسلا گیا۔ اس لیے تاریخ اسے شیراز ہند سے یاد کرتی ہے۔ بڑے بڑے بزرگوں کی یادگاریں آج بھی اس سر زمین پر ہیں جو داستانِ ماضی کی یاد دلاتی ہیں۔
ولادت و خاندان:
اس جونپر کے ماہرین میں ابجل المتکلمین حضرت مفتی شمس الدین احمد رضوی جعفری تھے۔ آپ ایک ایسے خاندان میں پیدا ہوئ ے جو علمی اعتبار سے ایک اعلیٰ اور معیاری خاندان تھا، نانا محترم اور جد امجد دونوں وقت کے جید صاحبِ لیاقت تھے، اور اس وقت جونپور میں علم وحکمت کے چشمے بہار ہے تھے اور ماحول بھی علمی اعتبار سے بہت زیادہ سندر تھا۔
ولادت:
حضرت مفتی قاضی شمس الدین احمد علیہ الرحمۃ کی ولادت جونپور کے ایک محلہ میر مسرت میں ہوئی، جعفری زینبی نسب آباء و اجداد شاہانِ مشرقی کے زمانے میں منصب قضاء پر فائز تھے۔ تاریخ ولادت ۲۸؍ذی الحجہ ۱۳۲۲ھ؍ ۵مارچ ۱۹۰۵ء ہے۔
تعلیم و تربیت:
حضرت مفتی قاضی شمس الدین احمد کو ان دونوں بزرگوں کی شفقتوں اور پدری محبتوں نے آپ کی بہترین نشو ونما کی اور اس علمی ماحول اور اعلیٰ سماج نے تو آپ کو کہاں سے کہا ں تک پہنچادیا۔ قاضی شمس الدین احمد کی ابتدائی تعلیم جون پور میں ہوئی۔ جامعہ نعیمیہ مراد آباد میں صدر الافاضل مولانا نعیم الدین رضوی مراد آبادی علیہ الرحمہ سے درس لیا۔
صدر الشریعہ مولانا امجد علی رضوی اعظمی علیہ الرحمہ کی شہرت سن کر اجمیر شریف دار العلوم معینیہ عثمانیہ پہنچے، کامل انہماک ویکسوئی سے اساتذۂِ دارالعلوم سے پڑھا، حدیث پاک اور امہات کتب کی حضرت صدر الشریعہ علیہ الرحمۃ سے تکمیل کی۔
۱۳۵۲ھ میں جب صدر الشریعہ نے اجمیر شریف چھوڑ کر بریلی شریف مراجعت فرمائی اور چالیس طلبہ کی جماعت (جو علوم و فنون کامل اور چنداں آفتاب وماہتاب تھے) جو حضرت صدر الشریعہ کے ساتھ بریلی پہنچے ان میں قاضی شمس الدین احمد بھی تھے، دار العلوم منظر اسلام بریلی شریف سے فراغت حاصل کی۔
آغازِ درس:
مفتی قاضی شمس الدین احمد نے فراغت کے بعد دارالعلوم منظر اسلام میں درس دینا شروع کیا۔ جامعہ نعیمیہ مراد آباد، مدرسہ منظر حق ٹانڈہ ضلع فیض آباد، مدرسہ حنفیہ جون پور میں درس دیا۔ آخر الذکر مدارس میں صدر المدرسین رہے، بعدہٗ جامعہ رضویہ حمیدیہ بنارس میں مسندِ صدارت پر فائز ہوئے اور علوم وحکمت، تفسیر وحدیث اور فقہ کا خصوصی درس دیا۔ اکابر علماء میں بہ اعتبار علم وفضل قاضی شمس الدین احمد کا بلند مقام ہے [1] ۔
بیعت و خلافت:
حضرت مفتی قاضی شمس الدین احمد دس برس کی عمر میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری فاضل بریلوی قدس سرہٗ سے مرید ہوے [2] ۔ شہزادۂ امام احمد رضا مفتی اعظم ہند علامہ الشاہ مصطفیٰ رضا نوری نے جمیع سلاسل کی خلافت واجازت عطا فرمائی [3] ۔ مزید برآں حجۃ الاسلام مولانا حامد رضا خاں بریلوی قدس سرہٗ نے اجازت سے نوازا۔
عالمِ نکتہ داں:
حضرت قاضی شمس الدین احمد کا بچپن دیگر بچوں سے الگ تھلگ تھا۔ شروع سے محنت وعرق ریزی کے عادی تھے۔ پڑھنے میں د ل چسپی لیتے تھے اور نہایت ہی ذوق وشوق سے حصولِ علم کیا کرتے۔ دل میں بلند حوصلہ، پختہ ارادہ اورعزم وہمت رکھتے تھے۔ کئی بار قاضی شمس الدین احمد نے بطور تحدیث نعمت فرمایا کہ عالمِ نکتہ داں ہونے کی خبر جد محترم نے دی تھی، اور وہ فرمایا کرتے کہ ‘‘کہیے مولانا عالمِ نکتہ داں’’۔
سادگی و مزاج:
آج کی دنیا، جس میں تصنع اور تکلف کی افراط وتفریط ہے، اوریہ زندگی کےہر شعبے میں ہے، کوئی ایک شعبہ بھی اس سے خالی نہیں ہے، مگر شمس العلماء قاضی شمس الدین احمد نے اس دنیا میں رہتے ہوئے بھی اپنے دامن کو تصنُّع اور تکلُّف کی آلودگیوں سے پاک رکھا۔ آپ سادگی پسند تھے، مزاج سادہ تھا تو لباس بھی سادہ زیب تن فرماتے۔ مگر قاضی شمس الدین احمد کی اس سادگی میں بھی ایک عجب طرح کی کشش اور جاذبیت ہوتی، کس کی؟ علم وفن، ادب وحکمت کی۔ پیشانی چوڑی جس پر معرفت وحکمت کی گہری چھاپ تھی۔ آنکھیں چھوٹی مگر تفکرات کی دنیا میں وسیع، جوفکر وتدبر کے آنچل کے سائے میں اٹھتیں اور نکات عجیبہ دقائق لطیفہ کے جہانِ تازہ تلاش کر لیتی تھیں۔ جسم نہایت ہی لاغر و دبلا تھا مگر علمی کشش اور فنی رعب ودبدبہ کا پیکر تھا۔
قاضی شمس الدین احمد جونپوری
مصنف قانون شریعت علیہ الرحمہ
یوم وصال 01 محرم الحرام 1410
یوم پیدائش 27 ذوالحجہ 1322 ھ
جونپور ہر زمانے میں تاریخ کی دنیا میں غیر معمولی خوبیوں کا مالک رہا ہے، تہذیب وتمدن کے آئینے میں چمکتا رہا، کِشتِ فن وادب کی یہاں سے ہمیشہ آبیاری کی گئی ہے۔ اس کے چہرے پر حسن و بہار کا غازہ مسلا گیا۔ اس لیے تاریخ اسے شیراز ہند سے یاد کرتی ہے۔ بڑے بڑے بزرگوں کی یادگاریں آج بھی اس سر زمین پر ہیں جو داستانِ ماضی کی یاد دلاتی ہیں۔
ولادت و خاندان:
اس جونپر کے ماہرین میں ابجل المتکلمین حضرت مفتی شمس الدین احمد رضوی جعفری تھے۔ آپ ایک ایسے خاندان میں پیدا ہوئ ے جو علمی اعتبار سے ایک اعلیٰ اور معیاری خاندان تھا، نانا محترم اور جد امجد دونوں وقت کے جید صاحبِ لیاقت تھے، اور اس وقت جونپور میں علم وحکمت کے چشمے بہار ہے تھے اور ماحول بھی علمی اعتبار سے بہت زیادہ سندر تھا۔
ولادت:
حضرت مفتی قاضی شمس الدین احمد علیہ الرحمۃ کی ولادت جونپور کے ایک محلہ میر مسرت میں ہوئی، جعفری زینبی نسب آباء و اجداد شاہانِ مشرقی کے زمانے میں منصب قضاء پر فائز تھے۔ تاریخ ولادت ۲۸؍ذی الحجہ ۱۳۲۲ھ؍ ۵مارچ ۱۹۰۵ء ہے۔
تعلیم و تربیت:
حضرت مفتی قاضی شمس الدین احمد کو ان دونوں بزرگوں کی شفقتوں اور پدری محبتوں نے آپ کی بہترین نشو ونما کی اور اس علمی ماحول اور اعلیٰ سماج نے تو آپ کو کہاں سے کہا ں تک پہنچادیا۔ قاضی شمس الدین احمد کی ابتدائی تعلیم جون پور میں ہوئی۔ جامعہ نعیمیہ مراد آباد میں صدر الافاضل مولانا نعیم الدین رضوی مراد آبادی علیہ الرحمہ سے درس لیا۔
صدر الشریعہ مولانا امجد علی رضوی اعظمی علیہ الرحمہ کی شہرت سن کر اجمیر شریف دار العلوم معینیہ عثمانیہ پہنچے، کامل انہماک ویکسوئی سے اساتذۂِ دارالعلوم سے پڑھا، حدیث پاک اور امہات کتب کی حضرت صدر الشریعہ علیہ الرحمۃ سے تکمیل کی۔
۱۳۵۲ھ میں جب صدر الشریعہ نے اجمیر شریف چھوڑ کر بریلی شریف مراجعت فرمائی اور چالیس طلبہ کی جماعت (جو علوم و فنون کامل اور چنداں آفتاب وماہتاب تھے) جو حضرت صدر الشریعہ کے ساتھ بریلی پہنچے ان میں قاضی شمس الدین احمد بھی تھے، دار العلوم منظر اسلام بریلی شریف سے فراغت حاصل کی۔
آغازِ درس:
مفتی قاضی شمس الدین احمد نے فراغت کے بعد دارالعلوم منظر اسلام میں درس دینا شروع کیا۔ جامعہ نعیمیہ مراد آباد، مدرسہ منظر حق ٹانڈہ ضلع فیض آباد، مدرسہ حنفیہ جون پور میں درس دیا۔ آخر الذکر مدارس میں صدر المدرسین رہے، بعدہٗ جامعہ رضویہ حمیدیہ بنارس میں مسندِ صدارت پر فائز ہوئے اور علوم وحکمت، تفسیر وحدیث اور فقہ کا خصوصی درس دیا۔ اکابر علماء میں بہ اعتبار علم وفضل قاضی شمس الدین احمد کا بلند مقام ہے [1] ۔
بیعت و خلافت:
حضرت مفتی قاضی شمس الدین احمد دس برس کی عمر میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری فاضل بریلوی قدس سرہٗ سے مرید ہوے [2] ۔ شہزادۂ امام احمد رضا مفتی اعظم ہند علامہ الشاہ مصطفیٰ رضا نوری نے جمیع سلاسل کی خلافت واجازت عطا فرمائی [3] ۔ مزید برآں حجۃ الاسلام مولانا حامد رضا خاں بریلوی قدس سرہٗ نے اجازت سے نوازا۔
عالمِ نکتہ داں:
حضرت قاضی شمس الدین احمد کا بچپن دیگر بچوں سے الگ تھلگ تھا۔ شروع سے محنت وعرق ریزی کے عادی تھے۔ پڑھنے میں د ل چسپی لیتے تھے اور نہایت ہی ذوق وشوق سے حصولِ علم کیا کرتے۔ دل میں بلند حوصلہ، پختہ ارادہ اورعزم وہمت رکھتے تھے۔ کئی بار قاضی شمس الدین احمد نے بطور تحدیث نعمت فرمایا کہ عالمِ نکتہ داں ہونے کی خبر جد محترم نے دی تھی، اور وہ فرمایا کرتے کہ ‘‘کہیے مولانا عالمِ نکتہ داں’’۔
سادگی و مزاج:
آج کی دنیا، جس میں تصنع اور تکلف کی افراط وتفریط ہے، اوریہ زندگی کےہر شعبے میں ہے، کوئی ایک شعبہ بھی اس سے خالی نہیں ہے، مگر شمس العلماء قاضی شمس الدین احمد نے اس دنیا میں رہتے ہوئے بھی اپنے دامن کو تصنُّع اور تکلُّف کی آلودگیوں سے پاک رکھا۔ آپ سادگی پسند تھے، مزاج سادہ تھا تو لباس بھی سادہ زیب تن فرماتے۔ مگر قاضی شمس الدین احمد کی اس سادگی میں بھی ایک عجب طرح کی کشش اور جاذبیت ہوتی، کس کی؟ علم وفن، ادب وحکمت کی۔ پیشانی چوڑی جس پر معرفت وحکمت کی گہری چھاپ تھی۔ آنکھیں چھوٹی مگر تفکرات کی دنیا میں وسیع، جوفکر وتدبر کے آنچل کے سائے میں اٹھتیں اور نکات عجیبہ دقائق لطیفہ کے جہانِ تازہ تلاش کر لیتی تھیں۔ جسم نہایت ہی لاغر و دبلا تھا مگر علمی کشش اور فنی رعب ودبدبہ کا پیکر تھا۔
❤1
اندازِ مُطالعۂ کتب:
مفتی قاضی شمس الدین احمد کا مطالعۂ کتب بھی جدا گانہ ہے جب مطالعہ فرماتے تو پنسل یا قلم پاس ہوتا تھا۔ اخبارات ، جرائد ، درسی کتابوں یا اردو ڈائجسٹ کا مطالعہ کر رہے ہیں، کسی جگہ کوئی اہم عبارت مل جاتی تو آپ اسے اپنی بیاض میں نقل فرمالیتے۔ قاضی شمس الدین احمد کا یہ انداز تا عمر باقی رہا۔ قطرہ قطرہ دریامی شود کے مصداق وہ بیاض اچھی خاصی ضخیم ہوگئی، جو کشکول جعفری کے نام سے ان کے شاگردوں کےدرمیان مشہور ہے۔ یقیناً وہ کشکول حقیقت و معلومات اور حقائق ومعارف کا خزانہ ہے۔
علم و فضل:
حضرت مفتی قاضی شمس الدین احمد کو علم کے ہر میدان میں دسترس حاصل تھی۔ فقہ ہو یا حدیث، منطق ہو یا فلسفہ، علمِ کلام ہو یا اصولِ فقہ، تاریخ ہو یا تنقید، تفسیر ہو یا علمِ تکسیر، ہر فن میں آپ سیر حاصل گفتگو فرماتے، اور معلومات کا دریا بہاتے۔ جس طرف آپکی نگاہ اٹھتی، مضامین کا تانتا بندھ جاتا اوروہ الفاظ وعبارت کا رُوپ دھار لیتے۔ صرف اتنا ہی ہیں بلکہ فصاحت وبلاغت کے سانچے میں ڈھل جاتے۔ اور قاضی شمس الدین احمد کی زبان سے جو الفاظ نکلتے وہ الفاظ نہیں ہوتے بلکہ پھول ہوتے، اور اپنی بوئے عنبریں سے ہر طالب علم کی مشامِ جاں کو معطر کرتے۔
حدیث اس انداز سے پڑھاتے کہ "امام بخاری ومسلم" کی یاد تازہ ہوجاتی۔ اسماء الرجال پر گفتگو فرماتے تو راویوں کے حالات زندگی، ان کے علمی کمالات، طرزِ معاشرت اس طرح واضح فرماتے کہ" تہذیب التہذیب" کا جلوہ نگاہوں میں پھر جاتا۔ فقہ پر لب کشاہوتے تحقیقات وتدقیقات کا جلوۂ رنگیں بکھیرتے۔ ائمہ کے اختلافات پر ہر ایک کی سندیں اور مسائل کی ترجیحات بڑے ہی اچھوتے انداز میں بیان فرماتے فقہی حزئیات مفتی قاضی شمس الدین احمد کی نگاہوں میں روشن تھیں۔
تنقیدی نظریہ:
مفتی قاضی شمس الدین احمد کی کیسی ذہانت وفطانت تھی؟ اللہ اللہ۔ جرأت و بے باکی آپ کےمزاج میں کوٹ کوٹ کر بھردی گئی تھی، ہر کسی کے سامنے اس کی غلطیوں کی نشان دہی فرمادیا کرتےتھے۔ تنقید آپ کی اچھی تھی اور بر ملا تنقید کیا کرتے تھے۔ کلام کے تجزیہ پر آپ کو عبور حاصل تھا۔ ہرکسی کی اور ہر قسم کی بات تسلیم کرنےکے عادی نہ تھے جب تک کہ اس کی دلیل نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت علامہ سعدی شیرازی کا یہ قول "ہرچہ گفتنی دلیلش بیار"
بار بار دہرایا کرتے اور جب دلیل سامنے آتی تو اس کے مقدمات کو پرکھتے۔ اس کے بعد کسی کو تسلیم کرنے کی باری آتی۔ اس اعتبار سے قاضی شمس الدین احمد کا تنقیدی شعور بلند وبالامعیاری تھا۔ آپ کی تنقید میں تعمیر زیادہ ہوتی۔ اس میں کہیں کہیں ظفر و مزاح سے کام لیتے جس سے تنقید کا رنگ و روغن دوبالا ہوجاتا اور سامعین کےلیے لطف و مزہ۔
امام احمد رضا کے متعلق تنقید:
مفتی قاضی شمس الدین احمد علیہ الرحمۃ کی اس تنقیدی صلاحیت کے باوجود آپ کی نگاہ میں ایک ایسی شخصیت تھی جنہیں آپ تنقید سے الگ تھلگ تصور کرتے تھے، اور وہ ذات تھی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری فاضل بریلوی قدس سرہٗ کی ۔ آپ امام احمد رضا بریلوی کے متعلق بار بار فرمایا کرتے کہ:
”میں اعلیٰ حضرت کو آنکھ بند کر کےجانتا ہوں اس لیے کہ انہوں نے جو مسائل کی تحقیق و تنفیح کی، بالکل صحیح کی۔ اس میں چوں چرا کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔
آپ حضور مفتی اعظم ہند قدس سرہ کا بے حد احترام کرتے، اس مرکزِ علم وفن کی بارگاہ میں علمی گفتگو فرماتے، لب کشا ہوتے تو ادب واحترام کے دائرہ میں، اور ادب واحترام کا یہ عالم ہوتا کہ کہیں ادب سے بات کرنے میں جھجکتے اور کہیں رُکتے۔ یہ تھا کمالِ ادب مرشدِ اعظم شہزادۂ اعلیٰ حضرت کی باگاہ میں۔
تصانیف:
حضرت مفتی قاضی شمس الدین احمد تا حیات رشد وہدایت کا پیغام دیتے رہے، اور اپنی یادوں کےنقوش چھوڑے جن میں مندرجہ ذیل تصانیف یادگار کا درجہ رکھتی ہیں۔ ❶ قانونِ شریعت حصہ اول، دوم ❷ قواعد النظر ❸ قواعد الاعراب ❹ کشکولِ جعفری ـ
چند مشہور تلامذہ:
قاضی شمس الدین احمد کے شاگردوں میں کثیر تعداد، جو اب علمی درس گاہوں میں بیٹھ کر اُن سے حاصل کیے ہوئے جواہر ریزوں کو بکھیر رہے ہیں، اور صحیح علم وفن کو آباد کر رہے ہیں۔ چند تلامذہ کے اسماء گرامی درجِ ذیل ہیں:
❶ مولانا مفتی محمد اعظم رضوی ٹانڈوی شیخ الحدیث دارالعلوم مظہر اسلام بریلی شریف ❷ مولانا شمس الدین صدیقی رضوی صدر المدرسین مسعود العلوم چھوٹی تکیہ بہرائچ ❸ مولانا حسام الدین احمد ہشام صاحبزادہ وجانشین (جونپور) ❹ مولانا شمشاد حسین رضوی بھاگلپوری ـ
مفتی قاضی شمس الدین احمد کا مطالعۂ کتب بھی جدا گانہ ہے جب مطالعہ فرماتے تو پنسل یا قلم پاس ہوتا تھا۔ اخبارات ، جرائد ، درسی کتابوں یا اردو ڈائجسٹ کا مطالعہ کر رہے ہیں، کسی جگہ کوئی اہم عبارت مل جاتی تو آپ اسے اپنی بیاض میں نقل فرمالیتے۔ قاضی شمس الدین احمد کا یہ انداز تا عمر باقی رہا۔ قطرہ قطرہ دریامی شود کے مصداق وہ بیاض اچھی خاصی ضخیم ہوگئی، جو کشکول جعفری کے نام سے ان کے شاگردوں کےدرمیان مشہور ہے۔ یقیناً وہ کشکول حقیقت و معلومات اور حقائق ومعارف کا خزانہ ہے۔
علم و فضل:
حضرت مفتی قاضی شمس الدین احمد کو علم کے ہر میدان میں دسترس حاصل تھی۔ فقہ ہو یا حدیث، منطق ہو یا فلسفہ، علمِ کلام ہو یا اصولِ فقہ، تاریخ ہو یا تنقید، تفسیر ہو یا علمِ تکسیر، ہر فن میں آپ سیر حاصل گفتگو فرماتے، اور معلومات کا دریا بہاتے۔ جس طرف آپکی نگاہ اٹھتی، مضامین کا تانتا بندھ جاتا اوروہ الفاظ وعبارت کا رُوپ دھار لیتے۔ صرف اتنا ہی ہیں بلکہ فصاحت وبلاغت کے سانچے میں ڈھل جاتے۔ اور قاضی شمس الدین احمد کی زبان سے جو الفاظ نکلتے وہ الفاظ نہیں ہوتے بلکہ پھول ہوتے، اور اپنی بوئے عنبریں سے ہر طالب علم کی مشامِ جاں کو معطر کرتے۔
حدیث اس انداز سے پڑھاتے کہ "امام بخاری ومسلم" کی یاد تازہ ہوجاتی۔ اسماء الرجال پر گفتگو فرماتے تو راویوں کے حالات زندگی، ان کے علمی کمالات، طرزِ معاشرت اس طرح واضح فرماتے کہ" تہذیب التہذیب" کا جلوہ نگاہوں میں پھر جاتا۔ فقہ پر لب کشاہوتے تحقیقات وتدقیقات کا جلوۂ رنگیں بکھیرتے۔ ائمہ کے اختلافات پر ہر ایک کی سندیں اور مسائل کی ترجیحات بڑے ہی اچھوتے انداز میں بیان فرماتے فقہی حزئیات مفتی قاضی شمس الدین احمد کی نگاہوں میں روشن تھیں۔
تنقیدی نظریہ:
مفتی قاضی شمس الدین احمد کی کیسی ذہانت وفطانت تھی؟ اللہ اللہ۔ جرأت و بے باکی آپ کےمزاج میں کوٹ کوٹ کر بھردی گئی تھی، ہر کسی کے سامنے اس کی غلطیوں کی نشان دہی فرمادیا کرتےتھے۔ تنقید آپ کی اچھی تھی اور بر ملا تنقید کیا کرتے تھے۔ کلام کے تجزیہ پر آپ کو عبور حاصل تھا۔ ہرکسی کی اور ہر قسم کی بات تسلیم کرنےکے عادی نہ تھے جب تک کہ اس کی دلیل نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت علامہ سعدی شیرازی کا یہ قول "ہرچہ گفتنی دلیلش بیار"
بار بار دہرایا کرتے اور جب دلیل سامنے آتی تو اس کے مقدمات کو پرکھتے۔ اس کے بعد کسی کو تسلیم کرنے کی باری آتی۔ اس اعتبار سے قاضی شمس الدین احمد کا تنقیدی شعور بلند وبالامعیاری تھا۔ آپ کی تنقید میں تعمیر زیادہ ہوتی۔ اس میں کہیں کہیں ظفر و مزاح سے کام لیتے جس سے تنقید کا رنگ و روغن دوبالا ہوجاتا اور سامعین کےلیے لطف و مزہ۔
امام احمد رضا کے متعلق تنقید:
مفتی قاضی شمس الدین احمد علیہ الرحمۃ کی اس تنقیدی صلاحیت کے باوجود آپ کی نگاہ میں ایک ایسی شخصیت تھی جنہیں آپ تنقید سے الگ تھلگ تصور کرتے تھے، اور وہ ذات تھی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری فاضل بریلوی قدس سرہٗ کی ۔ آپ امام احمد رضا بریلوی کے متعلق بار بار فرمایا کرتے کہ:
”میں اعلیٰ حضرت کو آنکھ بند کر کےجانتا ہوں اس لیے کہ انہوں نے جو مسائل کی تحقیق و تنفیح کی، بالکل صحیح کی۔ اس میں چوں چرا کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔
آپ حضور مفتی اعظم ہند قدس سرہ کا بے حد احترام کرتے، اس مرکزِ علم وفن کی بارگاہ میں علمی گفتگو فرماتے، لب کشا ہوتے تو ادب واحترام کے دائرہ میں، اور ادب واحترام کا یہ عالم ہوتا کہ کہیں ادب سے بات کرنے میں جھجکتے اور کہیں رُکتے۔ یہ تھا کمالِ ادب مرشدِ اعظم شہزادۂ اعلیٰ حضرت کی باگاہ میں۔
تصانیف:
حضرت مفتی قاضی شمس الدین احمد تا حیات رشد وہدایت کا پیغام دیتے رہے، اور اپنی یادوں کےنقوش چھوڑے جن میں مندرجہ ذیل تصانیف یادگار کا درجہ رکھتی ہیں۔ ❶ قانونِ شریعت حصہ اول، دوم ❷ قواعد النظر ❸ قواعد الاعراب ❹ کشکولِ جعفری ـ
چند مشہور تلامذہ:
قاضی شمس الدین احمد کے شاگردوں میں کثیر تعداد، جو اب علمی درس گاہوں میں بیٹھ کر اُن سے حاصل کیے ہوئے جواہر ریزوں کو بکھیر رہے ہیں، اور صحیح علم وفن کو آباد کر رہے ہیں۔ چند تلامذہ کے اسماء گرامی درجِ ذیل ہیں:
❶ مولانا مفتی محمد اعظم رضوی ٹانڈوی شیخ الحدیث دارالعلوم مظہر اسلام بریلی شریف ❷ مولانا شمس الدین صدیقی رضوی صدر المدرسین مسعود العلوم چھوٹی تکیہ بہرائچ ❸ مولانا حسام الدین احمد ہشام صاحبزادہ وجانشین (جونپور) ❹ مولانا شمشاد حسین رضوی بھاگلپوری ـ
❤1👍1