Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
پیغامِ کربلا Paighame Karbala ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ گھر میں نہ بیٹھو بے خوف ہو کر میدان میں آؤ ! حق کے لئے پوری ہمت سے لڑو ! اگر تم ہار بھی گئے - تو جیت تمہاری ہی ہوگی - کربلا کا پیغام ... ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ 📝حضرت مولانا فریدی مصباحی موبائل نمبر +968 9963 3908 ➻═══════════➻…
ظلم کے خلاف آواز
✍ راحت انجم ممبئ
✍ راحت انجم ممبئ
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Islamic Question and Answers
CAB & NRC AUR MILLAT E ISLAMIA.pdf
خطبات جمعہ CAB + NRC
ہے یا کالے پانی کی سزا ؟ 📖
ہے یا کالے پانی کی سزا ؟ 📖
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
خطبات جمعہ CAB + NRC ہے یا کالے پانی کی سزا ؟ 📖
خطبات_جمعہ_CAB_+_NRC_ہے_یا_کالے.pdf
1.3 MB
خطبات جمعہ CAB / NRC
ہے یا کالے پانی کی سزا ؟ 📖
ہے یا کالے پانی کی سزا ؟ 📖
سب کےلبوں پہ نام ہےصوفی نظام کا
ہر دل میں احترام ہے صوفی نظام کا
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
خطیب البراہین محی السنۃ تاج الاصفیاء علامۂ اجل فقیہ بے بدل پیکر زہد و تقویٰ سالک راہ عزیمت محدث بستوی پیر طریقت حضرت مفتی صوفی نظام الدین برکاتی رضوی رَحۡـمَـةُ الـلّٰـهِ تَـعَـالیٰ عَـلَـیۡـه
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
📝 سلمان رَضا فریدی مصباحی
موبائِلنمبر +968 9963 3908
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
ہر دل میں احترام ہے صوفی نظام کا
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
خطیب البراہین محی السنۃ تاج الاصفیاء علامۂ اجل فقیہ بے بدل پیکر زہد و تقویٰ سالک راہ عزیمت محدث بستوی پیر طریقت حضرت مفتی صوفی نظام الدین برکاتی رضوی رَحۡـمَـةُ الـلّٰـهِ تَـعَـالیٰ عَـلَـیۡـه
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
📝 سلمان رَضا فریدی مصباحی
موبائِلنمبر +968 9963 3908
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 شرعی عدالت چینل 🌸
ظہر وعصر میں آہستہ اور مغرب، عشا وفجر میں جہری قراءت کی وجہ
ـــــ ـــــــ ـــــــ ـــــــ ـــــــ ـــــــ
ظہراورعصرکی نمازمیں آئستہ قرائت کرنےکی کیاوجہ ہے؟
کیا فرماتے ہیں علماۓ دین؟ 👆👆👆
سائل : محمد نعمان
ـــــ ـــــــ ـــــــ ـــــــ ـــــــ ـــــــ
الجواب : پہلی بات تو یہی ہے کہ حضور اکرم ﷺ سے یہی ثابت ہے. اس لیے آہستہ قراءت کرتے ہیں.
رہی بات اس کے پس منظر کی تو مختصر لفظوں میں یہ کہ ابتداء میں ہرنماز میں بلند آواز سے قراءت کی جاتی تھی. ــ بعد میں کفار آکر جہری قراءت کے وقت شوروغل مچانے لگے. اپنے اشعار پڑھنے لگے تاکہ مومنین کی قراءت سن کر اور لوگ متاثر نہ ہو جائیں.
اس کے بعد حکم بوا کہ ان دو نمازوں کی قراءت آہستہ آہستہ کی جائے. تو پھر وہی آج تک وہی روایت برقرار ہے. مغرب کھانے میں کفار مشغول رہتے اور وعشا وفجر میں سونے میں. اس لیے اس وقت جہری قراءت رہی.
جمعہ وعیدیں کا حکم چونکہ مدینہ شریف میں ہوا اور وہاں ان کی بالکل چلتی نہ تھی اس لیے جہر ہی رہی.
" والأصل في الجهر والإسرار أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يجهر بالقراءة في الصلوات كلها في الإبتداء، وكان المشركون يؤذونه، ويقولون لأتباعم: إذا سمعتموه يقرأ فارفعوا أصواتكم بالأشعار والأراجيز وقابلوه بكلام اللغو، حتى تغلبوه فيسكت، ويسبون من أنزل القرآن، ومن أنزل عليه، فأنزل الله تعالى: ﴿وَلَا تَجْهَرْ بِصَلاتِكَ وَلا تُخَافِتْ بِهَا﴾ [الإسراء: 110] أي لا تجهر بصلاتك كلها، ولا تخافت بها كلها، وابتغ بين ذلك سبيلاً: بأن تجهر بصلاة الليل، وتخافت بصلاة النهار، فكان بعد ذلك يخافت في صلاة الظهر والعصر؛ لاستعدادهم بالإيذاء فيهما، ويجهر في المغرب؛ لاشتغالهم بالأكل، وفي العشاء والفجر؛ لرقادهم، وفي الجمعة والعيدين؛ لأنه أقامهما بالمدينة، وما كان للكفار قوة. [حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح (ص: 253)]
واللہ تعالٰی اعلم.
فیضان سرور مصباحی
27/ دسمبر 2019
ـــــ ـــــــ ـــــــ ـــــــ ـــــــ ـــــــ
ظہراورعصرکی نمازمیں آئستہ قرائت کرنےکی کیاوجہ ہے؟
کیا فرماتے ہیں علماۓ دین؟ 👆👆👆
سائل : محمد نعمان
ـــــ ـــــــ ـــــــ ـــــــ ـــــــ ـــــــ
الجواب : پہلی بات تو یہی ہے کہ حضور اکرم ﷺ سے یہی ثابت ہے. اس لیے آہستہ قراءت کرتے ہیں.
رہی بات اس کے پس منظر کی تو مختصر لفظوں میں یہ کہ ابتداء میں ہرنماز میں بلند آواز سے قراءت کی جاتی تھی. ــ بعد میں کفار آکر جہری قراءت کے وقت شوروغل مچانے لگے. اپنے اشعار پڑھنے لگے تاکہ مومنین کی قراءت سن کر اور لوگ متاثر نہ ہو جائیں.
اس کے بعد حکم بوا کہ ان دو نمازوں کی قراءت آہستہ آہستہ کی جائے. تو پھر وہی آج تک وہی روایت برقرار ہے. مغرب کھانے میں کفار مشغول رہتے اور وعشا وفجر میں سونے میں. اس لیے اس وقت جہری قراءت رہی.
جمعہ وعیدیں کا حکم چونکہ مدینہ شریف میں ہوا اور وہاں ان کی بالکل چلتی نہ تھی اس لیے جہر ہی رہی.
" والأصل في الجهر والإسرار أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يجهر بالقراءة في الصلوات كلها في الإبتداء، وكان المشركون يؤذونه، ويقولون لأتباعم: إذا سمعتموه يقرأ فارفعوا أصواتكم بالأشعار والأراجيز وقابلوه بكلام اللغو، حتى تغلبوه فيسكت، ويسبون من أنزل القرآن، ومن أنزل عليه، فأنزل الله تعالى: ﴿وَلَا تَجْهَرْ بِصَلاتِكَ وَلا تُخَافِتْ بِهَا﴾ [الإسراء: 110] أي لا تجهر بصلاتك كلها، ولا تخافت بها كلها، وابتغ بين ذلك سبيلاً: بأن تجهر بصلاة الليل، وتخافت بصلاة النهار، فكان بعد ذلك يخافت في صلاة الظهر والعصر؛ لاستعدادهم بالإيذاء فيهما، ويجهر في المغرب؛ لاشتغالهم بالأكل، وفي العشاء والفجر؛ لرقادهم، وفي الجمعة والعيدين؛ لأنه أقامهما بالمدينة، وما كان للكفار قوة. [حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح (ص: 253)]
واللہ تعالٰی اعلم.
فیضان سرور مصباحی
27/ دسمبر 2019
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from ابواسید عبیدرضامدنی
*سوال نمبر 72 :*
خطبہ کے وقت , خطیب کے لئے عصا یعنی لاٹھی ہاتھ میں لینا کیسا ہے ؟
*جواب :*
خطبہ کےوقت , خطیب کے لئے عصا یعنی لاٹھی کو ہاتھ میں نہ لینا بہتر ہے, البتہ اگر کوئی عذر ہو تو اس وجہ سے وہ لاٹھی کو ہاتھ میں لے سکتا ہے.
چنانچہ سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں :
"خطبہ میں عصا ہاتھ میں لینا بعض علماء نے سنت لکھا اور بعض نے مکروہ اور ظاہر ہے کہ اگر سنت بھی ہو تو کوئی سنت موکدہ نہیں تو بنظرِ اختلاف اس سے بچنا ہی بہتر ہے مگر جب کوئی عذر ہو"
*وذلک لان الفعل اذا ترد بین السنیۃ والکراھۃ کان ترکہ اولی* (وہ اس لئے کہ جب فعل کے سنت اور مکروہ ہونے میں شک ہو تو اس کا ترک بہتر ہوتا ہے).
*(فتاویٰ رضویہ جلد 8 صفحہ 303 رضا فاؤنڈیشن لاہور)*
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ والہ وسلم
کتبہ
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
03/04/2019
03068209672
خطبہ کے وقت , خطیب کے لئے عصا یعنی لاٹھی ہاتھ میں لینا کیسا ہے ؟
*جواب :*
خطبہ کےوقت , خطیب کے لئے عصا یعنی لاٹھی کو ہاتھ میں نہ لینا بہتر ہے, البتہ اگر کوئی عذر ہو تو اس وجہ سے وہ لاٹھی کو ہاتھ میں لے سکتا ہے.
چنانچہ سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں :
"خطبہ میں عصا ہاتھ میں لینا بعض علماء نے سنت لکھا اور بعض نے مکروہ اور ظاہر ہے کہ اگر سنت بھی ہو تو کوئی سنت موکدہ نہیں تو بنظرِ اختلاف اس سے بچنا ہی بہتر ہے مگر جب کوئی عذر ہو"
*وذلک لان الفعل اذا ترد بین السنیۃ والکراھۃ کان ترکہ اولی* (وہ اس لئے کہ جب فعل کے سنت اور مکروہ ہونے میں شک ہو تو اس کا ترک بہتر ہوتا ہے).
*(فتاویٰ رضویہ جلد 8 صفحہ 303 رضا فاؤنڈیشن لاہور)*
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ والہ وسلم
کتبہ
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
03/04/2019
03068209672
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 شرعی عدالت چینل 🌸
*سوال نمبر 138 :*
زلزلہ کیوں آتا ہے ؟
*جواب :*
زلزلہ آنے کا حقیقی سبب تو اللہ پاک کا ارادہ و حکم ہے اور عالمِ اسباب میں زلزلہ کا اصلی باعث لوگوں کے گناہ ہیں, اور زلزلہ اس طرح پیدا ہوتا ہے کہ ایک قاف نامی پہاڑ تمام زمین کو گھیرے ہوئے ہے اور اس کے ریشے, بڑے درخت کی جڑوں کی طرح, زمین کے اندر ہی اندر سب جگہ پھیلے ہوئے ہیں, جس جگہ زلزلے کا حکم ہوتا ہے تو وہ پہاڑ اس جگہ کے ریشے کو جنبش و حرکت دیتا ہے جس کی وجہ سے زمین ہلنے لگتی ہے.
چنانچہ سیدی اعلحضرت امامِ اہلِ سنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"اصلی باعث آدمیوں کے گناہ ہیں ، اور پیدا يوں ہوتا ہے کہ ایک پہاڑ تمام زمین کو محیط ہے اور اس کے ریشےزمین کے اندر اندر سب جگہ پھیلے ہوئے ہیں جیسے بڑے درخت کی جڑیں دور تک اندر اندر پھیلتی ہیں، جس زمین پر معاذاللہ زلزلہ کا حکم ہوتا ہے وہ پہاڑ اپنے اس جگہ کے ریشے کو جنبش دیتا ہے زمیں ہلنے لگتی ہے۔"
*(0فتاوی رضویہ جلد 27 صفحہ 93 رضا فاؤنڈیشن لاہور)*
اس حوالے سے فتاوی رضویہ میں ایک تفصیلی فتویٰ بھی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ : اعلحضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ سے سوال ہوا کہ :
نسبتِ زلزلہ مشہور ہے کہ زمین ایک شاخ گاؤ پر ہے کہ وہ ایک مچھلی پر کھڑی رہتی ہے۔ جب اس کا سینگ تھک جاتا ہے تو دوسرے سینگ پر بدل کر رکھ لیتی ہے۔ اس سے جو جنبش و حرکت زمین کو ہوتی ہے اس کو زلزلہ کہتے ہیں۔ اس میں استفسار یہ ہے کہ سطح زمین ایک ہی ہے، اس حالت میں جنبش سب زمین کو ہونا چاہیے، زلزلہ سب جگہ یکساں آنا چاہیے۔ گزارش یہ ہے کہ کسی جگہ کم ، کسی مقام پر زیادہ، کہیں بالکل نہیں آتا۔ بہرحال جو کیفیت واقعی اور حالت صحیح ہو، اس سے معزز فرمائیے؟
تو سیدی اعلحضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے جواباً تحریر فرمایا :
"زلزلہ کا سبب مذکورہ زبانِ زدِ عوام, محض بے اصل ہے اور اس پر وہ اعتراض نظرِ بظاہر صحیح و صواب۔ اہل سنت کے نزدیک ہر چیز کا سبب اصلی محض ارادۃ ﷲ عزوجل ہے۔ جتنے اجزاء کے لیے ارادہ تحریک ہوا, انہیں پر اثر واقع ہوتا ہے اس کا سبب وہ نہیں جو عوام بتاتے ہیں۔ سببِ حقیقی تو وہی ارادۃ ﷲ ہے ، اور عالمِ اسباب میں باعثِ اصلی بندوں کے معاصی۔
*"ما اصابکم من مصیبۃ فبما کسبت ایدیکم و یعفو عن کثیر"*
تمہیں جو مصیبت پہنچتی ہے تمہارے ہاتھوں کی کمائیوں کا بدلہ ہے, اور بہت کچھ معاف فرمادیتا ہے۔(ت)
(القرآن الکریم ۴۲ /۳۰ )
*(فتاوی رضویہ جلد 27 صفحہ 94, 95, 96 بحَذفِِ و بتغیرِِ رضا فاؤنڈیشن لاہور)*
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ والہ وسلم
کتبہ
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
24/09/2019
03068209672
*تصدیق و تصحیح :*
الجواب صحيح والمجيب نجيح
*فقط محمد عطاء اللہ النعیمی خادم الحدیث والافتاء بجامعۃالنور جمعیت اشاعت اہلسنت (پاکستان) کراچی*
زلزلہ کیوں آتا ہے ؟
*جواب :*
زلزلہ آنے کا حقیقی سبب تو اللہ پاک کا ارادہ و حکم ہے اور عالمِ اسباب میں زلزلہ کا اصلی باعث لوگوں کے گناہ ہیں, اور زلزلہ اس طرح پیدا ہوتا ہے کہ ایک قاف نامی پہاڑ تمام زمین کو گھیرے ہوئے ہے اور اس کے ریشے, بڑے درخت کی جڑوں کی طرح, زمین کے اندر ہی اندر سب جگہ پھیلے ہوئے ہیں, جس جگہ زلزلے کا حکم ہوتا ہے تو وہ پہاڑ اس جگہ کے ریشے کو جنبش و حرکت دیتا ہے جس کی وجہ سے زمین ہلنے لگتی ہے.
چنانچہ سیدی اعلحضرت امامِ اہلِ سنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"اصلی باعث آدمیوں کے گناہ ہیں ، اور پیدا يوں ہوتا ہے کہ ایک پہاڑ تمام زمین کو محیط ہے اور اس کے ریشےزمین کے اندر اندر سب جگہ پھیلے ہوئے ہیں جیسے بڑے درخت کی جڑیں دور تک اندر اندر پھیلتی ہیں، جس زمین پر معاذاللہ زلزلہ کا حکم ہوتا ہے وہ پہاڑ اپنے اس جگہ کے ریشے کو جنبش دیتا ہے زمیں ہلنے لگتی ہے۔"
*(0فتاوی رضویہ جلد 27 صفحہ 93 رضا فاؤنڈیشن لاہور)*
اس حوالے سے فتاوی رضویہ میں ایک تفصیلی فتویٰ بھی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ : اعلحضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ سے سوال ہوا کہ :
نسبتِ زلزلہ مشہور ہے کہ زمین ایک شاخ گاؤ پر ہے کہ وہ ایک مچھلی پر کھڑی رہتی ہے۔ جب اس کا سینگ تھک جاتا ہے تو دوسرے سینگ پر بدل کر رکھ لیتی ہے۔ اس سے جو جنبش و حرکت زمین کو ہوتی ہے اس کو زلزلہ کہتے ہیں۔ اس میں استفسار یہ ہے کہ سطح زمین ایک ہی ہے، اس حالت میں جنبش سب زمین کو ہونا چاہیے، زلزلہ سب جگہ یکساں آنا چاہیے۔ گزارش یہ ہے کہ کسی جگہ کم ، کسی مقام پر زیادہ، کہیں بالکل نہیں آتا۔ بہرحال جو کیفیت واقعی اور حالت صحیح ہو، اس سے معزز فرمائیے؟
تو سیدی اعلحضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے جواباً تحریر فرمایا :
"زلزلہ کا سبب مذکورہ زبانِ زدِ عوام, محض بے اصل ہے اور اس پر وہ اعتراض نظرِ بظاہر صحیح و صواب۔ اہل سنت کے نزدیک ہر چیز کا سبب اصلی محض ارادۃ ﷲ عزوجل ہے۔ جتنے اجزاء کے لیے ارادہ تحریک ہوا, انہیں پر اثر واقع ہوتا ہے اس کا سبب وہ نہیں جو عوام بتاتے ہیں۔ سببِ حقیقی تو وہی ارادۃ ﷲ ہے ، اور عالمِ اسباب میں باعثِ اصلی بندوں کے معاصی۔
*"ما اصابکم من مصیبۃ فبما کسبت ایدیکم و یعفو عن کثیر"*
تمہیں جو مصیبت پہنچتی ہے تمہارے ہاتھوں کی کمائیوں کا بدلہ ہے, اور بہت کچھ معاف فرمادیتا ہے۔(ت)
(القرآن الکریم ۴۲ /۳۰ )
*(فتاوی رضویہ جلد 27 صفحہ 94, 95, 96 بحَذفِِ و بتغیرِِ رضا فاؤنڈیشن لاہور)*
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ والہ وسلم
کتبہ
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
24/09/2019
03068209672
*تصدیق و تصحیح :*
الجواب صحيح والمجيب نجيح
*فقط محمد عطاء اللہ النعیمی خادم الحدیث والافتاء بجامعۃالنور جمعیت اشاعت اہلسنت (پاکستان) کراچی*
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 شرعی عدالت چینل 🌸
*سوال نمبر 54:*
چاند میں موجود سیاہی کیا چیز ہے ؟
*جواب:*
چاند میں موجود سیاہی حضرت جبریل علیہ السلام کے پر لگنے کے باعث ہے، جبکہ بعض علماء کے نزدیک یہ کچھ حروف ہیں.
چنانچہ فتاویٰ حدیثیہ میں ہے :
"حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اس کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے جواباً فرمایا کہ :
یہ حضرت جبریل امین علیہ السلام کے پر لگنے کا نشان ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے چاند کی روشنی کے سورج کی روشنی کی طرح ستر حصے پیدا کئے تھے، حضرت جبریل امین علیہ السلام نے چاند پر اپنے پر لگا کر اس کے انہتر (69) حصے محو کردیئے (یعنی مٹا دیے) اور ان انہتر حصوں کو سورج میں منتقل کردیا اور اس میں دوسری چیزوں کو روشن کرنے کی صلاحیت ختم کر دی اور نور کو باقی رکھا اور اس آیتِ کریمہ کا یہی مطلب ہے :
*فَمَحَوْنَا اٰیَۃَ اللَّیْلِ وَجَعَلْنَا اٰیَۃَ النَّھَارِ مُبْصِرَۃً*
ترجمہ کنزالایمان : رات کی نشانی مٹی ہوئی رکھی، اور دن کی نشانی دکھانے والی.
*(سورۃ بنی اسرائیل آیت : 12 پارہ : 15)*
بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ چاند میں موجود نظر آنے والی سیاہی کچھ حروف ہیں اور وہ لفظ و جمیل کے حروف کا مجموعہ ہیں.
*(فتاویٰ حدیثیہ مترجم صفحہ 527, 528 مکتبہ اعلحضرت لاہور )*
کتبہ
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
16/03/2019
03068209672
چاند میں موجود سیاہی کیا چیز ہے ؟
*جواب:*
چاند میں موجود سیاہی حضرت جبریل علیہ السلام کے پر لگنے کے باعث ہے، جبکہ بعض علماء کے نزدیک یہ کچھ حروف ہیں.
چنانچہ فتاویٰ حدیثیہ میں ہے :
"حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اس کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے جواباً فرمایا کہ :
یہ حضرت جبریل امین علیہ السلام کے پر لگنے کا نشان ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے چاند کی روشنی کے سورج کی روشنی کی طرح ستر حصے پیدا کئے تھے، حضرت جبریل امین علیہ السلام نے چاند پر اپنے پر لگا کر اس کے انہتر (69) حصے محو کردیئے (یعنی مٹا دیے) اور ان انہتر حصوں کو سورج میں منتقل کردیا اور اس میں دوسری چیزوں کو روشن کرنے کی صلاحیت ختم کر دی اور نور کو باقی رکھا اور اس آیتِ کریمہ کا یہی مطلب ہے :
*فَمَحَوْنَا اٰیَۃَ اللَّیْلِ وَجَعَلْنَا اٰیَۃَ النَّھَارِ مُبْصِرَۃً*
ترجمہ کنزالایمان : رات کی نشانی مٹی ہوئی رکھی، اور دن کی نشانی دکھانے والی.
*(سورۃ بنی اسرائیل آیت : 12 پارہ : 15)*
بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ چاند میں موجود نظر آنے والی سیاہی کچھ حروف ہیں اور وہ لفظ و جمیل کے حروف کا مجموعہ ہیں.
*(فتاویٰ حدیثیہ مترجم صفحہ 527, 528 مکتبہ اعلحضرت لاہور )*
کتبہ
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
16/03/2019
03068209672
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 شرعی عدالت چینل 🌸
*سوال نمبر 140:*
جب اذان ہوتی ہے تو بعض جگہوں پر کتے اذان شروع ہوتے ہی رونا, چلانا یا بھونکنا شروع کر دیتے ہیں، تو کیا ایسے کتوں کو مار دینا چاہیے ؟
*جواب:*
جی نہیں, اس وجہ سے کہ کتے اذان سن کر روتے, چلاتے یا بھونکتے ہیں, ان کو نہیں مارنا چاہیے، البتہ یہ ممکن ہے کہ جب وہ شیطان کو اذان کے وقت حواس باختہ دیکھتے ہوں تو روتے ,چلاتے اور بھونکتے ہوں کیونکہ جب اذان دی جاتی ہے تو شیطان اذان سننے سے بچنے کیلئے گوز مارتے ہوئے (یعنی آواز کے ساتھ ہوا نکالتے ہوئے) بھاگتا ہے۔
چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا :
*"ﺇِﺫَﺍ ﻧُﻮْﺩِﻱَ ﻟِﻠﺼَّلوٰﺓِ ﺃَﺩْﺑَﺮَ ﺍﻟﺸَّﻴْﻄَﺎﻥُ ﻟَﻪ ﺿُﺮﺍﻁ حَتََی ﻻَ ﻳَﺴْﻤَﻊُ ﺍﻟﺘَّﺄﺫِﻳْﻦَ"*
یعنی جب نماز کیلئے اذان دی جاتی ہے تو شیطان گوز مارتے ہوئے (یعنی آواز کے ساتھ ہوا نکالتے ہوئے) بھاگتا ہے یہاں تک کہ اذان کو نہیں سنتا۔
*(صحیح بخاری , باب فضل التاذین , رقم الحدیث : 608, جلد اول صفحہ 153 مکتبہ رحمانیہ لاہور ,صحیح مسلم, سنن ابی داؤد, سنن نسائی, سنن دارمی, مسند امام احمد, موطا وغیرہ )*
*نوٹ :*
مسلم میں حضرت جابر (رضی اللہ عنہ) کی حدیث میں ہے کہ روحا تک بھاگتا ہے, حضرت جابر (رضی اللہُ عنہ) ہی نے بتایا کہ روحا مدینے سے چھتیس (36) میل دور ہے.
*(نزھۃ القاری شرح صحیح بخاری جلد اول صفحہ 293 ,294 فرید بک سٹال لاہور)*
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ والہ وسلم
کتبہ
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
27/09/2019
03068209672
*تصدیق و تصحیح :*
یہ جواب میرے نزدیک درست اور صحیح ہے، اللہ تعالیٰ آپ کے علم و عمل میں ترقی عطا فرمائے ۔
*ابوالحسنین مفتی محمد عارف محمود معطر القادری مرکزی دارالافتاء اہلسنت محلہ نور پورہ میانوالی سٹی*
جب اذان ہوتی ہے تو بعض جگہوں پر کتے اذان شروع ہوتے ہی رونا, چلانا یا بھونکنا شروع کر دیتے ہیں، تو کیا ایسے کتوں کو مار دینا چاہیے ؟
*جواب:*
جی نہیں, اس وجہ سے کہ کتے اذان سن کر روتے, چلاتے یا بھونکتے ہیں, ان کو نہیں مارنا چاہیے، البتہ یہ ممکن ہے کہ جب وہ شیطان کو اذان کے وقت حواس باختہ دیکھتے ہوں تو روتے ,چلاتے اور بھونکتے ہوں کیونکہ جب اذان دی جاتی ہے تو شیطان اذان سننے سے بچنے کیلئے گوز مارتے ہوئے (یعنی آواز کے ساتھ ہوا نکالتے ہوئے) بھاگتا ہے۔
چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا :
*"ﺇِﺫَﺍ ﻧُﻮْﺩِﻱَ ﻟِﻠﺼَّلوٰﺓِ ﺃَﺩْﺑَﺮَ ﺍﻟﺸَّﻴْﻄَﺎﻥُ ﻟَﻪ ﺿُﺮﺍﻁ حَتََی ﻻَ ﻳَﺴْﻤَﻊُ ﺍﻟﺘَّﺄﺫِﻳْﻦَ"*
یعنی جب نماز کیلئے اذان دی جاتی ہے تو شیطان گوز مارتے ہوئے (یعنی آواز کے ساتھ ہوا نکالتے ہوئے) بھاگتا ہے یہاں تک کہ اذان کو نہیں سنتا۔
*(صحیح بخاری , باب فضل التاذین , رقم الحدیث : 608, جلد اول صفحہ 153 مکتبہ رحمانیہ لاہور ,صحیح مسلم, سنن ابی داؤد, سنن نسائی, سنن دارمی, مسند امام احمد, موطا وغیرہ )*
*نوٹ :*
مسلم میں حضرت جابر (رضی اللہ عنہ) کی حدیث میں ہے کہ روحا تک بھاگتا ہے, حضرت جابر (رضی اللہُ عنہ) ہی نے بتایا کہ روحا مدینے سے چھتیس (36) میل دور ہے.
*(نزھۃ القاری شرح صحیح بخاری جلد اول صفحہ 293 ,294 فرید بک سٹال لاہور)*
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ والہ وسلم
کتبہ
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
27/09/2019
03068209672
*تصدیق و تصحیح :*
یہ جواب میرے نزدیک درست اور صحیح ہے، اللہ تعالیٰ آپ کے علم و عمل میں ترقی عطا فرمائے ۔
*ابوالحسنین مفتی محمد عارف محمود معطر القادری مرکزی دارالافتاء اہلسنت محلہ نور پورہ میانوالی سٹی*