🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Islamic Question and Answers
CAB & NRC AUR MILLAT E ISLAMIA.pdf
خطبات جمعہ CAB + NRC
ہے یا کالے پانی کی سزا ؟ 📖
سب کےلبوں پہ نام ہےصوفی نظام کا
ہر دل میں احترام ہے صوفی نظام کا
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
خطیب البراہین محی السنۃ تاج الاصفیاء علامۂ اجل فقیہ بے بدل پیکر زہد و تقویٰ سالک راہ عزیمت محدث بستوی پیر طریقت حضرت مفتی صوفی نظام الدین برکاتی رضوی رَحۡـمَـةُ الـلّٰـهِ تَـعَـالیٰ عَـلَـیۡـه
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
📝 سلمان رَضا فریدی مصباحی
موبائِل‌نمبر +968 9963 3908
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ظہر وعصر میں آہستہ اور مغرب، عشا وفجر میں جہری قراءت کی وجہ
ـــــ ـــــــ ـــــــ ـــــــ ـــــــ ـــــــ
ظہراورعصرکی نمازمیں آئستہ قرائت کرنےکی کیاوجہ ہے؟
کیا فرماتے ہیں علماۓ دین؟ 👆👆👆
سائل : محمد نعمان
ـــــ ـــــــ ـــــــ ـــــــ ـــــــ ـــــــ
الجواب : پہلی بات تو یہی ہے کہ حضور اکرم ﷺ سے یہی ثابت ہے. اس لیے آہستہ قراءت کرتے ہیں.
رہی بات اس کے پس منظر کی تو مختصر لفظوں میں یہ کہ ابتداء میں ہرنماز میں بلند آواز سے قراءت کی جاتی تھی. ــ بعد میں کفار آکر جہری قراءت کے وقت شوروغل مچانے لگے. اپنے اشعار پڑھنے لگے تاکہ مومنین کی قراءت سن کر اور لوگ متاثر نہ ہو جائیں.
اس کے بعد حکم بوا کہ ان دو نمازوں کی قراءت آہستہ آہستہ کی جائے. تو پھر وہی آج تک وہی روایت برقرار ہے. مغرب کھانے میں کفار مشغول رہتے اور وعشا وفجر میں سونے میں. اس لیے اس وقت جہری قراءت رہی.
جمعہ وعیدیں کا حکم چونکہ مدینہ شریف میں ہوا اور وہاں ان کی بالکل چلتی نہ تھی اس لیے جہر ہی رہی.

" والأصل في الجهر والإسرار أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يجهر بالقراءة في الصلوات كلها في الإبتداء، وكان المشركون يؤذونه، ويقولون لأتباعم: إذا سمعتموه يقرأ فارفعوا أصواتكم بالأشعار والأراجيز وقابلوه بكلام اللغو، حتى تغلبوه فيسكت، ويسبون من أنزل القرآن، ومن أنزل عليه، فأنزل الله تعالى: ﴿وَلَا تَجْهَرْ بِصَلاتِكَ وَلا تُخَافِتْ بِهَا﴾ [الإسراء: 110] أي لا تجهر بصلاتك كلها، ولا تخافت بها كلها، وابتغ بين ذلك سبيلاً: بأن تجهر بصلاة الليل، وتخافت بصلاة النهار، فكان بعد ذلك يخافت في صلاة الظهر والعصر؛ لاستعدادهم بالإيذاء فيهما، ويجهر في المغرب؛ لاشتغالهم بالأكل، وفي العشاء والفجر؛ لرقادهم، وفي الجمعة والعيدين؛ لأنه أقامهما بالمدينة، وما كان للكفار قوة. [حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح (ص: 253)]
واللہ تعالٰی اعلم.

فیضان سرور مصباحی
27/ دسمبر 2019
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from ابواسید عبیدرضامدنی
*سوال نمبر 72 :*
خطبہ کے وقت , خطیب کے لئے عصا یعنی لاٹھی ہاتھ میں لینا کیسا ہے ؟
*جواب :*
خطبہ کےوقت , خطیب کے لئے عصا یعنی لاٹھی کو ہاتھ میں نہ لینا بہتر ہے, البتہ اگر کوئی عذر ہو تو اس وجہ سے وہ لاٹھی کو ہاتھ میں لے سکتا ہے.
چنانچہ سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں :
"خطبہ میں عصا ہاتھ میں لینا بعض علماء نے سنت لکھا اور بعض نے مکروہ اور ظاہر ہے کہ اگر سنت بھی ہو تو کوئی سنت موکدہ نہیں تو بنظرِ اختلاف اس سے بچنا ہی بہتر ہے مگر جب کوئی عذر ہو"
*وذلک لان الفعل اذا ترد بین السنیۃ والکراھۃ کان ترکہ اولی* (وہ اس لئے کہ جب فعل کے سنت اور مکروہ ہونے میں شک ہو تو اس کا ترک بہتر ہوتا ہے).
*(فتاویٰ رضویہ جلد 8 صفحہ 303 رضا فاؤنڈیشن لاہور)*
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ والہ وسلم
کتبہ
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
03/04/2019
03068209672
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*سوال نمبر 138 :*
زلزلہ کیوں آتا ہے ؟
*جواب :*
زلزلہ آنے کا حقیقی سبب تو اللہ پاک کا ارادہ و حکم ہے اور عالمِ اسباب میں زلزلہ کا اصلی باعث لوگوں کے گناہ ہیں, اور زلزلہ اس طرح پیدا ہوتا ہے کہ ایک قاف نامی پہاڑ تمام زمین کو گھیرے ہوئے ہے اور اس کے ریشے, بڑے درخت کی جڑوں کی طرح, زمین کے اندر ہی اندر سب جگہ پھیلے ہوئے ہیں, جس جگہ زلزلے کا حکم ہوتا ہے تو وہ پہاڑ اس جگہ کے ریشے کو جنبش و حرکت دیتا ہے جس کی وجہ سے زمین ہلنے لگتی ہے.
چنانچہ سیدی اعلحضرت امامِ اہلِ سنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"اصلی باعث آدمیوں کے گناہ ہیں ، اور پیدا يوں ہوتا ہے کہ ایک پہاڑ تمام زمین کو محیط ہے اور اس کے ریشےزمین کے اندر اندر سب جگہ پھیلے ہوئے ہیں جیسے بڑے درخت کی جڑیں دور تک اندر اندر پھیلتی ہیں، جس زمین پر معاذاللہ زلزلہ کا حکم ہوتا ہے وہ پہاڑ اپنے اس جگہ کے ریشے کو جنبش دیتا ہے زمیں ہلنے لگتی ہے۔"
*(0فتاوی رضویہ جلد 27 صفحہ 93 رضا فاؤنڈیشن لاہور)*
اس حوالے سے فتاوی رضویہ میں ایک تفصیلی فتویٰ بھی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ : اعلحضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ سے سوال ہوا کہ :
نسبتِ زلزلہ مشہور ہے کہ زمین ایک شاخ گاؤ پر ہے کہ وہ ایک مچھلی پر کھڑی رہتی ہے۔ جب اس کا سینگ تھک جاتا ہے تو دوسرے سینگ پر بدل کر رکھ لیتی ہے۔ اس سے جو جنبش و حرکت زمین کو ہوتی ہے اس کو زلزلہ کہتے ہیں۔ اس میں استفسار یہ ہے کہ سطح زمین ایک ہی ہے، اس حالت میں جنبش سب زمین کو ہونا چاہیے، زلزلہ سب جگہ یکساں آنا چاہیے۔ گزارش یہ ہے کہ کسی جگہ کم ، کسی مقام پر زیادہ، کہیں بالکل نہیں آتا۔ بہرحال جو کیفیت واقعی اور حالت صحیح ہو، اس سے معزز فرمائیے؟
تو سیدی اعلحضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے جواباً تحریر فرمایا :
"زلزلہ کا سبب مذکورہ زبانِ زدِ عوام, محض بے اصل ہے اور اس پر وہ اعتراض نظرِ بظاہر صحیح و صواب۔ اہل سنت کے نزدیک ہر چیز کا سبب اصلی محض ارادۃ ﷲ عزوجل ہے۔ جتنے اجزاء کے لیے ارادہ تحریک ہوا, انہیں پر اثر واقع ہوتا ہے اس کا سبب وہ نہیں جو عوام بتاتے ہیں۔ سببِ حقیقی تو وہی ارادۃ ﷲ ہے ، اور عالمِ اسباب میں باعثِ اصلی بندوں کے معاصی۔
*"ما اصابکم من مصیبۃ فبما کسبت ایدیکم و یعفو عن کثیر"*
تمہیں جو مصیبت پہنچتی ہے تمہارے ہاتھوں کی کمائیوں کا بدلہ ہے, اور بہت کچھ معاف فرمادیتا ہے۔(ت)
(القرآن الکریم ۴۲ /۳۰ )
*(فتاوی رضویہ جلد 27 صفحہ 94, 95, 96 بحَذفِِ و بتغیرِِ رضا فاؤنڈیشن لاہور)*
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ والہ وسلم
کتبہ
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
24/09/2019
03068209672
*تصدیق و تصحیح :*
الجواب صحيح والمجيب نجيح
*فقط محمد عطاء اللہ النعیمی خادم الحدیث والافتاء بجامعۃالنور جمعیت اشاعت اہلسنت (پاکستان) کراچی*
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*سوال نمبر 54:*
چاند میں موجود سیاہی کیا چیز ہے ؟
*جواب:*
چاند میں موجود سیاہی حضرت جبریل علیہ السلام کے پر لگنے کے باعث ہے، جبکہ بعض علماء کے نزدیک یہ کچھ حروف ہیں.
چنانچہ فتاویٰ حدیثیہ میں ہے :
"حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اس کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے جواباً فرمایا کہ :
یہ حضرت جبریل امین علیہ السلام کے پر لگنے کا نشان ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے چاند کی روشنی کے سورج کی روشنی کی طرح ستر حصے پیدا کئے تھے، حضرت جبریل امین علیہ السلام نے چاند پر اپنے پر لگا کر اس کے انہتر (69) حصے محو کردیئے (یعنی مٹا دیے) اور ان انہتر حصوں کو سورج میں منتقل کردیا اور اس میں دوسری چیزوں کو روشن کرنے کی صلاحیت ختم کر دی اور نور کو باقی رکھا اور اس آیتِ کریمہ کا یہی مطلب ہے :
*فَمَحَوْنَا اٰیَۃَ اللَّیْلِ وَجَعَلْنَا اٰیَۃَ النَّھَارِ مُبْصِرَۃً*
ترجمہ کنزالایمان : رات کی نشانی مٹی ہوئی رکھی، اور دن کی نشانی دکھانے والی.
*(سورۃ بنی اسرائیل آیت : 12 پارہ : 15)*
بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ چاند میں موجود نظر آنے والی سیاہی کچھ حروف ہیں اور وہ لفظ و جمیل کے حروف کا مجموعہ ہیں.
*(فتاویٰ حدیثیہ مترجم صفحہ 527, 528 مکتبہ اعلحضرت لاہور )*
کتبہ
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
16/03/2019
03068209672
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM