🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
24-12-1444 ᴴ | 13-07-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
24-12-1444 ᴴ | 13-07-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت مولانا نور محمد منگلو رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

مولانا نور محمد بن اللہ بخش منگلو بروز بدھ ۱۸۸۲ء کو گوٹھ منگلہ (تحصیل گمبٹ ضلع خیر پورمیرس سندھ) میں تولد ہوئے

تعلیم و تربیت:
ابتدائی تعلیم آبائی گوٹھ میں حاصل کی۔ اعلیٰ تعلیم کیلئے مدرسہ دار الفیض سونہ جتوئی میں داخل ہوئے اور سراج الفقہاء مفتی اعظم حضرت علامہ ابو الفیض غلام عمر جتوئی قدس سرہٗ سے استفادہ کرکے فارغ التحصیل ہوئے۔

بیعت:
آپ سلسلہ نقشبندیہ میں پیر عبد الغفار صاحب سے بیعت تھے ۔

درس و تدریس:
زندگی بھر درس و تدریس سے وابستہ رہے کتب بینی کا انتہائی شوق تھا۔ جس کے سبب کافی تعداد میں کتابیں جمع کرلی تھیں۔ آج بھی چھ سات بوریاں کتابوں سے بھری ہوئی گھر کے ایک اسٹور نما جگہ میں بے یار و مددگار پڑی ہیں۔ افسوس اب ان کا کوئی قدردان نہیں رہا۔

اولاد:
آپ نے دو شادیاں کی پہلی بیوی سے: ۱۔ عبدالحمید ـ اور دوسری بیوی سے ـ ۲۔ خلیل الرحمن اور ایک بیٹی تولد ہوئی ۔

تلامذہ:
آپ کے بعض شاگردوں کے نام:

۱۔ مولوی محمد اسماعیل کھہڑو میرو واہن تحصیل گمبٹ
۲۔ مولوی حبیب اللہ رتڑ ستابو تحصیل گمبٹ
۳۔ مولوی نور محمد رٹر نور پور تحصیل گمبٹ
۴۔ حافظ محمد یعقوب سولنگی گوٹھ ابو بکر ماچھی تحصیل گمبٹ
۵۔ حافظ رشید احمد منگلو گوٹھ منگلہ

وصال:
مولانا نور محمد نے ۲۵ ، ذوالحجہ ۱۳۸۴ھ / ۳ مئی ۱۹۶۴ء کو ۸۲ سال کی عمر میں صبح سویرے انتقال کیا۔ آخری آرام گاہ گوٹھ منگلہ کی جامع مسجد کے احاطہ میں واقع ہے۔

(حاجی محدم جام منگلو، گوٹھ اگڑا تحصیل گمبٹ نے مواد مہیا کیا۔)


( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-noor-muhammad-manglo
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت مولانا محمد عبد اللہ جھنگوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

ولادت:
مولانا محمد عبد اللہ بن احمد یار (رحمہما اللہ تعالیٰ ) ۱۲، محرم ، ۱۵ ستمبر (۱۳۴۰ھ/ ۱۹۲۱ئ) کو لنگر انہ چک ۲۳۷، نزد محمدی شریف، ضلع جھنگ میں پیدا ہوئے ۔

تعلیم:
محمدی شریف مین قرآن پاک پڑھنے کے بعد ابتدائی کتابیں پرھیں ، بعد ازاں بھیرہ ضلع سرگودھا میں مولانا سعید الرحمن ہزاروی سے علمی استفادہ کیا ، پھر موضع قفری (ضلع سرگودھا) میں مولانا خدا بخش سے درس نظامی کی آخری کتابیں حمد اللہ شرح لم ، مسلم الثبوت اور توضیح تلویح وغیرہ پڑھیں پھر کچھ عرصہ محمدی شریف جا کر پڑھتے رہے ـ

درسِ حدیث کے لئے مرکز علم و عرفان بریلی شریف گئے اور حضرت شیخ الحدیث مولانا ابو الفضل سردار احمد قدس سرہ العزیز سے اکتساب فیض کیا ۔

سلسلۂ عالیہ چشتیہ میں شیخ الاسلام حضرت خواجہ محمد قمر الدین سیالوی مدظلہ العالی کے مرید تھے ۔

تکمیلِ علوم کے بعد مدرسہ ضیاء شمس الاسلام ، سیال شریف (ضلع سرگودھا) میں مدرس مقرر ہوئے ۔ اسی دوران جب استاذ الاساتذہ مولانا عطا محمد بندالوی دامت الطافہ سیال شریف تشریف لائے تو مولانا محمد عبد اللہ جھنگوی تبرکا ان کے حلقۂ درس میں شریک ہوئے اور میبذی و غیرہ کتب پڑھیں ۔

غالباً ۱۹۵۷ء میں حضرت محدث اعظم پاکستان مولانا سردار احمد قدس سرہ کے بلانے پر مولانا صاحبزادہ قاضی محمد فضل رسول مدظلہ کی تعلیم کے لئے جامعہ رضویہ لائل پور تشریف لے گئے، ان دنوں راقم الحروف کو بھی آپ سے صرف کی بعض کتابیں پڑھنے کا موقع ملا، لیکن چند ماہ بعد ہی حضرت شیخ الاسلام خواجہ محمد قمر الدین سیالوی مدظلہ العالی بہ نفس نفیس لائل پور تشریف لائے اور مولانا کو اپنے ساتھ سیال شریف لے گئے ۔ بعد ازاں ایک سال جامعہ حنفیہ قصور اور دو تین سال شمس العلوم مظفریہ رضویہ، واں بھچراں میں مدرس رہے ۔ اس کے علاوہ آستانۂ عالیہ سیال شریف ہی قیام رہا [1] اور زندگی کے آخری دِنوں تک درس و تدریس میں مصروف رہے ۔

مولانا محمد عبد اللہ جھنگوی رحمہ اللہ تعالیٰ کوش اخلاق ، مِلن سار اور پر خلوص انسان تھے ۔ دن رات طلباء کو پڑھانے اور محنت کرانے میں لگے رہتے ۔

۱۹۷۳ء میں آپ کا نوجوان صاحبزادہ فوت ہو گیا ، یہ صدمہ جان لیوا ثابت ہوا اور آپ ۲۵، ذی الحجہ، ۱۹ جنوری (۱۳۹۳ھ/۱۹۷۴ئ) کو دار فانی سے رحلت فرما گئے ـ [2]

[1] غلام علی ، مولانا : الیواقیت المہریہ ، ص ۱۳۔

[2] مکتوب گرامی مولانا صاحبزادہ عزیز احمد مدظلہ مدرس ضیاء شمس الاسلام ، سیال شریف بنام راقم الحروف۔

( تذکرہ اکابرِ اہلسنت )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-muhammad-abdullah-jhangvi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
تاج الدین حضرت عبداللہ ابنِ ترکمانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نام و نسب:
احمد بن عثمان بن ابراہیم بن مصطفیٰ ماردینی:

ولادت:
آپ قاہرہ میں شنبہ کی رات، بتاریخ ۲۵ ذی الحجہ ۶۸۱ھ میں پیدا ہوئے ۔

درس و تدریس:
فقہ اپنے باپ اور بھائی سے پڑھی اور حدیث کو دمیاطی اور ابنِ صواف سے سنا اور روایت کیا، مدت تک تدریس کی اور فتوےٰ دیا ۔

لقب:
تاج الدین لقب تھا، مگر ابن ترکمانی کے نام سے مشہور تھے ۔

تصنیفات:
تصانیف بہت عمدہ فقہ و اصول فقہ و حدیث و فرائض و نحو و ہئیت اور منطق وغیرہ میں کیں اور جامع کبیر و ہدایہ کی شرح تصنیف کی ـ

وصال:
اور غرہ ماہ جمادی الاولیٰ ۷۴۴ھ میں وفات پائی ۔ ’’معدن شرف‘‘ آپ کی تاریخ وفات ہے ۔

( حدائق الحنفیہ )

https://scholars.pk/ur/scholar/tajuddin-hazrat-abdullah-ibn-e-turkmani
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
24-12-1444 ᴴ | 13-07-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
25-12-1444 ᴴ | 14-07-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1