🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
23-12-1444 ᴴ | 12-07-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
23-12-1444 ᴴ | 12-07-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
شہادتِ امام حسین اور واقعۂ کربلا
پر سب سے معتبر کتاب آئینۂ قیامت
AaEena E Qiyamat Urdu
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/4337
आईनए क़ियामत Hindi ہندی
https://t.me/AhleSunnat_HindiBooks/4844
شہادت نامے | شہادت نامہ
حضرت قاسم کی شادی
ماہ محرم میں کسی کو فقیر بنانا
نوحے سُننا کیسا ہے؟
قبولیتِ دعا کے لئے ...
زندگی میں موت کی تیاری کر لو
درودِ پاک اور ذکرِ عمر
ماہ محرم میں شادی جائز ہے
عرسِ مبلغ اسلام علامہ عبد العلیم
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت امام بکار بن قتیبہ بن اسد بصری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
بکار بن قتیبہ بن اسد بصری: بصرہ میں ۱۸۲ھ؁ میں پیدا ہوئے۔فقیہ عادل امام فاضل محدث ثقہ متورع زاہد تھے۔ فقہ یحییٰ بن بلال رازی اصحاب امام ابو یوسف اور نیز امام زفر سے حاصل کی اور انہیں سے علم شروط کو اخذ کیا اور حدیث کو اباداؤدطیالسی اور ان کے معاصرین سے سنا اور روایت کیا اور آپ سے ابو عوانہ اور ابن خزیمہ نے اپنی اپنی صحیح میں روایت کیاور طحطاوی نے فائدہ کثیر اٹھایا اور تخریج کی۔کتاب الشروط،کتاب المحاضر والسجلات،کتاب الوثائق والعہوتصنیف کیں اور ایک کتاب امام شافعی کے ان اعتراضوں کی تردیدی میں لکھی جو انہوں نے امام ابو حنیفہ کے بعض مسائل پر کئے تھے، تاریخ خلکان وغیرہ میں لکھا ہے کہ احمد طولون حاکم مصر آپ کو علاوہ تنخواہ کے ہزار دینار سالانہ دیا کرتا تھا اور اور آپ بجنسہ سر بمبر بند اس کو رکھ چھوڑا کرتے تھے اور اس میں سے کچھ خرچ تھے،چند مدت کے بعد اس نے آپ کو واسطے مشوری خلع موفق بن متوکل کے طلب کیا۔آپ نے اس کو کہا کہ موفق کو حکومت سے بر طرف نہ کرنا چاہئے ،اس سے احمد طولون نے خفا ہو کر آپ کو قید کردیا اور جو اس نے آپ کو علاوہ تنخواہ کے بطور ہدیہ کے دیا ہوا تھا،واپس طلب کیا،آپ نے بجنسہ سر بمبر بند اس کے پاس بھجوادیا جو کل اٹھا رہ تھیلیاں تھیں، پس احمد ان کو دیکھ کر نہایت شرمندہ ہوا اور حکم دیا کہ آپ قضا کا کام محمد بن شادان جو ہری کو تفویض کردیں۔آپ نے ایسا ہی کیا،پس محمد بن شادان بطور خلیفہ کے مقرر ہوا اور آپ کا کام محمد بن شادان جو ہری کو تفویض کردیں۔آپ نے اسیا ہی کیا،پس محمد بن شادان بطور خلیفہ کے مقرر ہوا اور آپ کئی برس تک قید رہے اور قید ہی میں جمعرات کے روز ۲۴؍ماہ ذی الحجہ ۲۷۰ھ؁ کو فوت ہوئے اور اس کثرت سے لوگ آپ کے جنازہ پر آئے کہ ہجوم کے سبب سے آپ جمعہ کی عصر سے پہلے دفن نہ ہو سکے چنانچہ قرآپ کی مصلا بنی مسکین میں ابن طباطبائی کی قبر کے پاس واقع ہے اور زیارت گاہ اہل حاجات و مستجاب الدعوات ہے۔آپ کا دستور تھا کہ جب مسند قضاء سے فارغ ہو کر گھر میں آتے تو خلوت میں بیٹھ کر روتے اور جو کچھ دن کے اقضیہ و معاملات ہوتے،ان کو یاد کر کے اپنے نفس سے مخاطب ہوتے اور جو کچھ دن کے اقضیہ و معاملات ہوتے،ان کویاد کرکے اپنے نفس سے مکاطب ہوتے اور کہتے کہ اے مکّار ! آج دو آدمی فلاں خصومت میں تیرے پاس آئے اور تونے اس طرح پر حکم دیا،پس کل کے روز تو خدا کو کیا جواب دے گا۔یہ بھی آپ کا طریقہ تھا جب کسی مقدمہ والے کو حلف دینے کا ارادہ کرتے تو بڑی نصیحت سے یہ آیہ کریمہ پڑھ کر اس کے معانی سمجھاتے تھے ان الذین یشترون بعھد اللہ وایمانہ ثمنا قلیلا اورگواہوں سے ہر وقت حساب لیا کرتے اور سوا ل کیا کرتے تھے۔

کہتے ہیں کہ آپ کی محبوسی کے زمانہ میں اصحاب حدیث نےابن طولون سے انقطاع حدیث شکوہ کیا،اس نے ان کو اجازت دے دی کہ جیلخانہ کی کھڑکی کے باہر بیٹھ سن لیا کریں،پس آپ کھڑکی کے پاس بیٹھ کر تحدیث کرتے اور لوگ کھرکی کے باہر بیٹھ کر آپ سےحدیث سنتےتھے۔جب آپ فوت ہوئے تو مصر کا شہر میں برس تک بغیر قاضی کے رہا۔ ’’امام فصیح‘‘ آپ کی تاریخ وفات ہے۔

( حدائق الحنفیہ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-imam-bukaar-bin-qutaiba-bin-asad-basri
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت ابوالقاسم عبدالصمد واعظ دینوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

آپ کا اسم گرامی عبد الصمد بن عمر بن اسحاق تھا فقہ و حدیث کے امام تھے، زہد و تقویٰ میں یگانۂ روزگار، اور مجاہدہ میں معروف تھے، آپ کا ذریعہ معاش یہ تھا کہ طبیبوں اور عطاروں کی دوائیاں کوٹ کر روزی کمایا کرتے تھے، آپ کی وفات بروز منگل مورخہ ۲۴؍ ماہ ذوالحج ۳۹۷ھ کو ہوئی تھی، آپ کا مزار پُر انوار حضرت امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ کے مزار کے پہلو میں ہے۔

شیخ ابوالقاسم چو از عالم برفت
ہست محبوب زمان عبدالصمد
۳۹۷ھ

سال وصل آں شہ کون و مکان
نیز ابوالقاسم ولی عالی بداں
۳۹۷ھ

( خزینۃ الاصفیاء )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abul-qasim-abdul-samad-waiz-deenori
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
حضرت خواجہ محمد نقشبندی عمر عرف پارسارحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ


محمد بن محمد بن محمود حافظی بخاری المعروف بخواجۂ پارسا: آپ حافظ الدین کبیر محمد بخاری نسل میں خواجہ بہاؤ الدین نقشبندی کے اغرہ خلفاء میں سے حافظِ فروع واصول اور جامع معقل و منقول،فائق علی الاقران تھے ۷۵۶؁ھ میں پیدا ہوئے۔ علوم اپنے شہر کے علماء و فضلاء سے پڑھے اور فقہ کو ابی طاہر محمد بن محمد بن حسن طاہری تلیذ صدر الشریعہ عبید اللہ محبوبی سے حاصل کیا اور کتاب فصل الخطاب حقائق علم لدنی اور دقائق طریق نقشندی مین تصنیف کی۔نفخات الانس میں لکھا ہے کہ آپ ۵۲۲؁ھ میں واسطے حج و زیارت کے بخارا سے نہضت فرما ہوکر نسف و صغانیاں و ترمذ و بلخ و ہرات و جام وغیرہ سے گذر ے جہاں کے علماء ورؤ سانے آپ کی بری تکریم کی۔جب حج سے فارغ ہوئے تو آپ کو امراض لاحق ہوئے یہاں تک کہ آپ نے طواف و داع کا سواری پر کیا اور مدینہ منورہ کو تشریف لے گئے اور وہاں بدھ کے روز۲۳؍ماہِ ذی الحجہ سن مذکور میں پہنچے اور زیارت سے فارغ ہوکر پنچنشبہ کے روز وفات پائی۔مولانا شمس الدین محمد بن حمزہ فناری وغیرہ لوگوں نے آپ پر نماز پڑھی اور جمعہ کی رات کو حضرت عباس کے قبہ کے پاس دفن کیا،’’مخزن فہم‘‘ تاریخ وفات ہے۔

(حدائق الحنفیہ)

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khuwaja-muhammad-parsa-bukhari
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
حضرت مولانامفتی غلام سرور لاہوری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ
نام ونسب: آپ کا نام غلام سرور بن مفتی غلام محمد قریشی ،اسدی،ہاشمی ہے۔

تاریخ و مقامِ ولادت: آپ کی ولادت 1244 ھ/ 1837 ء میں محلہ کوٹلی مفتیاں ،لاہور میں ہوئی۔

تحصیلِ علم:آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم والدِ ماجد سے حاصل کی، علمِ طب بھی انہی سے حاصل کی، پھر علامہ مولانا غلام اللہ قصوری ثم لاہوری کی خدمت میں حاضر ہوکر تمام مروجہ علوم، تاریخ اور لغت کی تحصیل کی۔

بیعت: آپ اپنے والدِ ماجد کے دستِ حق پرست پرسلسلہ عالیہ سہروردیہ میں بیعت ہوئے۔

سیرت وخصائص:مفتی صاحب بے شمار خوبیوں کے مالک تھے، وہ بیک وقت جید عالم، بلند پایہ شاعرو ادیب، معلمِ اخلاق، باکمال تاریخ گو، مستند مورخ، مشہور زمانہ سوانح نگار اور سب سے بڑھ کر سرورِ دو عالم ﷺ، صحابہ کرام اور اولیائے عظام کے محبِ صادق تھے۔ آپ کے خاندان کے تمام بزرگ سنی، حنفی، مفتئ وقت اور جامعِ شریعت وطریقت تھے، مذہبی و اخلاقی اقدار آپ کو ورثہ میں ملی تھیں۔ آپ شگفتہ مزاج، ملنسار اور عبادت گزار صوفی تھے، شریعت و طریقت، تفسیر وحدیث، تاریخ وادب پر گہری نگاہ رکھتے تھے۔ جس موضوع پر گفتگو کرتےاس سے متعلقہ تمام تفصیلات کو بے تکلفی سے بیان کردیتے۔ آپ کو اہلِ علم قدرومنزلت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ آپ کی طبیعت میں بے حد استغناء تھا۔حکامِ وقت سے ملاقات پسند نہیں کرتے تھے۔غیور وخدار تھے، حق پات کہنے سے پہلوتہی نہ کرتے تھے۔مفتی صاحب کا دنیائے تاریخ پر یہ عظیم احسان ہے کہ انہوں نے اپنی تالیفات میںپنجاب کے جلیل القدر علماء ومشائخ کے حالات کوبڑی حد تکتفصیل سے قلمبند کردیا ورنہ جس طرح تذکرہ نگاروں نےاس مردم خیز خطہ کو نظر انداز کیاباعثِ تعجب ہی نہیں بلکہ قابلِ افسوس بھی ہے۔

وصال: آپ نے 24 ذو الحجہ 1307 ھ/ بمطابق اگست 1890 ء بروز جمعرات سفرِ آخرت اختیار کیا۔ آپ کوبیر بالاحسانی، مضافات میدانِ بدر میں سپردِ خاک کیاگیا۔

ماخذ ومراجع: تذکرہ اکابرِ اہلسنت

https://scholars.pk/ur/scholar/mufti-ghulam-sarwar-lahori
1👌1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
23-12-1444 ᴴ | 12-07-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
24-12-1444 ᴴ | 13-07-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1