🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
22-12-1444 ᴴ | 11-07-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ یوم ولادت حضور مفتئ اعظم ہند علامہ مصطفیٰ رضا خان نوری 🌹
22-12-1444 ᴴ | 11-07-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یوم ولادت حضور مفتئ اعظم ہند
علامہ مصطفیٰ رضا خان نوری 🌹
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یوم ولادت حضور مفتئ اعظم ہند
علامہ مصطفیٰ رضا خان نوری 🌹
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
حضرت شیخ صدر الدین عارف سہروردی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام و نسب:
آپ کا نام صدر الدین، لقب عارف، کنیت ابو الغانم تھا اور آپ شیخ الاسلام بہاؤ الدین زکریا ملتانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے صاحبزادے تھے ۔
بیعت و خلافت:
آپ نے اپنے والد کے دستِ حق پرست بیعت کی اور والد نے آپ کو خلافت بھی عطا فرمائی ۔
سیرت و خصائص:
حضرت صدر الدین عارف سہروردی علیہ الرحمہ بچپن ہی سے اخلاقِ حمیدہ اوصافِ جملیہ کے حامل تھے ۔ آپ نے اپنے والد کے زیرِ سایہ تربیت و نشو نما پائی ۔آپ بحرِ معرفت میں ایسے مستغرق تھے کہ بعض اوقات آپ کو اپنی خبر نہ ہوتی تھی ۔ ترک و تفرید میں یگانہ روزگار تھے ۔ پرہیز گاری، جود و سخا، لطف و بخشش، مہمان نوازی آپ کی خصوصیات تھیں ۔ والد کے بعد مسند پر متعین ہوئے، بہت سے اولیاء اللہ آپ کے سلسلہ اردات میں منسلک ہوئے ۔
آپ علیہ الرحمہ کے ایک مرید خواجہ ضیاء الدین نے ان کے ملفوظات کو جمع کر کے اس کا نام " کنوز الفوائد " رکھا تھا ۔ اس میں شیخ صدر الدین نے مسلمانوں کو جو نصیحتیں کی ہیں وہ عمل سے تعلق رکھتی ہیں ۔
ان نصائح سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ صوفیاء کرام نے اسلام کی تبلیغ میں کتنا موثر کردار ادا کیا ہے ۔ (اولیائے کرام کا اسلام کی نشر و اشاعت و خدمت کے لئے اپنا تن، من، دھن صرف کرنا ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ جس طرح انہوں نے ہما وقت دینِ اسلام کی خدمت کی اگر ہم سارا وقت نہیں بلکہ تھورا سا وقت بھی دینِ اسلام کو دیں تو ممکن ہے کہ یہی فعل ہماری اور دوسروں کی نجات و بخشش کا ساماں بن جائے ۔
خدمتِ دین صرف یہ نہیں کہ خود نیکی کرنا اور دوسروں کو نظر انداز کرنا بلکہ خود بھی نیکی کرنا اور گناہوں سے بچنا، دوسروں کو بھی نیکی کی دعوت دینا اور برائیوں سے بچانا چاہئے ۔
یہ کام کرنے کے لئے آپ کو دور دراز علاقوں میں سفر کرنے کی حاجت نہیں بلکہ اپنے گھر، عزیز و اقارب اور ساتھ بیٹھنے والے دوستوں سے شروع بھی کر سکتے ہیں۔) ـ
تاریخِ وصال:
آپ نے 23 ذو الحجہ 684 ھ بمطابق فروری 1286ء کو وفات پائی ۔ آپ کا مزار ملتان میں زیارت گاہِ خاص و عام ہے ۔
ماخذ و مراجع:
اخبار الاخیار، تذکرہ اولیاء سندھ، تذکرہ اولیائے پاک وہند
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-sadrduddin-arif-soharwardi
نام و نسب:
آپ کا نام صدر الدین، لقب عارف، کنیت ابو الغانم تھا اور آپ شیخ الاسلام بہاؤ الدین زکریا ملتانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے صاحبزادے تھے ۔
بیعت و خلافت:
آپ نے اپنے والد کے دستِ حق پرست بیعت کی اور والد نے آپ کو خلافت بھی عطا فرمائی ۔
سیرت و خصائص:
حضرت صدر الدین عارف سہروردی علیہ الرحمہ بچپن ہی سے اخلاقِ حمیدہ اوصافِ جملیہ کے حامل تھے ۔ آپ نے اپنے والد کے زیرِ سایہ تربیت و نشو نما پائی ۔آپ بحرِ معرفت میں ایسے مستغرق تھے کہ بعض اوقات آپ کو اپنی خبر نہ ہوتی تھی ۔ ترک و تفرید میں یگانہ روزگار تھے ۔ پرہیز گاری، جود و سخا، لطف و بخشش، مہمان نوازی آپ کی خصوصیات تھیں ۔ والد کے بعد مسند پر متعین ہوئے، بہت سے اولیاء اللہ آپ کے سلسلہ اردات میں منسلک ہوئے ۔
آپ علیہ الرحمہ کے ایک مرید خواجہ ضیاء الدین نے ان کے ملفوظات کو جمع کر کے اس کا نام " کنوز الفوائد " رکھا تھا ۔ اس میں شیخ صدر الدین نے مسلمانوں کو جو نصیحتیں کی ہیں وہ عمل سے تعلق رکھتی ہیں ۔
ان نصائح سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ صوفیاء کرام نے اسلام کی تبلیغ میں کتنا موثر کردار ادا کیا ہے ۔ (اولیائے کرام کا اسلام کی نشر و اشاعت و خدمت کے لئے اپنا تن، من، دھن صرف کرنا ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ جس طرح انہوں نے ہما وقت دینِ اسلام کی خدمت کی اگر ہم سارا وقت نہیں بلکہ تھورا سا وقت بھی دینِ اسلام کو دیں تو ممکن ہے کہ یہی فعل ہماری اور دوسروں کی نجات و بخشش کا ساماں بن جائے ۔
خدمتِ دین صرف یہ نہیں کہ خود نیکی کرنا اور دوسروں کو نظر انداز کرنا بلکہ خود بھی نیکی کرنا اور گناہوں سے بچنا، دوسروں کو بھی نیکی کی دعوت دینا اور برائیوں سے بچانا چاہئے ۔
یہ کام کرنے کے لئے آپ کو دور دراز علاقوں میں سفر کرنے کی حاجت نہیں بلکہ اپنے گھر، عزیز و اقارب اور ساتھ بیٹھنے والے دوستوں سے شروع بھی کر سکتے ہیں۔) ـ
تاریخِ وصال:
آپ نے 23 ذو الحجہ 684 ھ بمطابق فروری 1286ء کو وفات پائی ۔ آپ کا مزار ملتان میں زیارت گاہِ خاص و عام ہے ۔
ماخذ و مراجع:
اخبار الاخیار، تذکرہ اولیاء سندھ، تذکرہ اولیائے پاک وہند
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-sadrduddin-arif-soharwardi
scholars.pk
Hazrat Sheikh Sadrduddin Arif Soharwardi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
خلیفۂ اعلیٰ حضرت، مبلغ اعظم علامہ عبد العلیم صدیقی میرٹھی مدنی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام و نسب:
آپ کا نام محمد عبد العلیم اور والد کا نام محمد عبد الحکیم ہے ۔ آپ علیہ الرحمۃ کا سلسلۂ نسب خلیفۂ اوّل حضرت سیّدنا صدّیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملتا ہے۔
تاریخ و مقامِ ولادت:
حضرت مولانا شاہ محمد عبد العلیم صدّیقی قادری 15؍ رمضان المبارک 1310ھ کو محلہ مشائخاں میرٹھ میں تولّد ہوئے۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم گھر ہی میں حاصل کی ، چار سال دس ماہ کی عمر میں قرآن ِ پاک ختم کیا ۔ اردو، فارسی اور عربی کی ابتدائی تعلیم والدِ گرامی ہی سے حاصل کی، بعدازاں جامعہ قومیہ میرٹھ میں داخل ہوئے اور سولہ سال کی عمر میں درسِ نظامی کی سند حاصل کی۔آپ نے علومِ عربیہ کی تکمیل کے بعد علومِ جدیدہ کی تحصیل کا ارادہ کیا۔ اولاً اٹا وہ ہائی اسکول اور بعد میں میرٹھ کالج کے اندر انگریزی علوم کی تحصیل فرمائی۔ آپ اُردو، عربی، فارسی، انگریزی وغیرہ کئی زبانوں پر دسترس رکھتے تھے۔
بیعت و خلافت:
آپ اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِ سنّت مولانا شاہ احمد رضا خاں رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے اور خلافت و اجازت سے سرفراز ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
مولانا عبد العلیم صدّیقی میرٹھی نے مذہبی اور سیاسی سطح پر بڑے بڑے کارہائے نما انجام دیے۔ آپ نے کئی ممالک کا دورہ کیااور ہزاروں غیر مسلموں کومشرف بہ اسلام کیا۔ آپ اردو، عربی، فارسی کے علاوہ انگریزی زبان پر بھی حیرت انگیز عبور رکھتے تھے۔ مختلف ممالک میں سینکڑوں تعلیمی،دینی اور رفاہی ادارے قائم کیے، مدارس و مساجد بنوائیں، کتب خانے قائم کیے، اخبارات ورسائل اور مجلات جاری کرائے۔آپ نے سیاست میں بھی حصّہ لیا۔تحریکِ خلافت، تحریکِ مولات اور تحریکِ ختمِ نبوّت کے سلسلے میں کئی ماہ قید ومشقت بھی اٹھائی۔ 1940ء میں قراردادِ پاکستان ہونے کے بعدپاکستان کے لیے جدّ و جہدکی۔ 1946ء کی آل انڈیاسنّی کانفرنس میں شریک ہوئے۔ 1948ء میں پاکستان کے لیے مسوّدۂ آئین کی تیاری کے سلسلے میں سعی فرمائی۔آپ شعلہ بیان خطیب، بلند پایہ ادیب، اور عظیم مفکرِ اسلام تھے۔جب آپ نغمہ ریز آواز میں دلائل و براہین سے اسلام کی حقانیت بیان کرتے تو حاضرین پر سکوت چھاجاتااور بڑے بڑے سائنسدان،فلاسفر اور دہریہ قسم کے لوگ آپ کے دستِ اقدس پر حلقہ بگوشِ اسلام ہوجاتے۔ آپ تقریباً دنیا کی ہر زبان میں اس روانی سے تقریر کرتے تھے کہ اہلِ لسان ورطۂ حیرت میں رہ جاتے۔ آپ نے پوری قوت اور بےباکی سےدینِ فطرت اسلام کا پیغام دنیا کے گوشے گوشے میں پہنچایا،جس کے نتیجے میں پچاس ہزار سے زائد غیر مسلم مشرف بہ اسلام ہوئے۔
وصال:
چالیس سال تک دنیا بھر میں تبلیغِ اسلام کا فریضہ انجام دے کر 22؍ ذو الحجہ (23ویں شب، بعدِ مغرب) 1373ھ مطابق 22؍ اگست 1954ء کو مدینۂ منوّرہ میں اپنےخالقِ حقیقی سے جا ملے اور تعلیماتِ اسلامیہ کی تبلیغ واشاعت کے انعام کے طور پر جنّت البقیع میں تدفین کے لیے جگہ ملی۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابرِ اہلِ سنّت ، روشن دریچے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-shah-muhammad-abdul-aleem-siddiqui
نام و نسب:
آپ کا نام محمد عبد العلیم اور والد کا نام محمد عبد الحکیم ہے ۔ آپ علیہ الرحمۃ کا سلسلۂ نسب خلیفۂ اوّل حضرت سیّدنا صدّیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملتا ہے۔
تاریخ و مقامِ ولادت:
حضرت مولانا شاہ محمد عبد العلیم صدّیقی قادری 15؍ رمضان المبارک 1310ھ کو محلہ مشائخاں میرٹھ میں تولّد ہوئے۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم گھر ہی میں حاصل کی ، چار سال دس ماہ کی عمر میں قرآن ِ پاک ختم کیا ۔ اردو، فارسی اور عربی کی ابتدائی تعلیم والدِ گرامی ہی سے حاصل کی، بعدازاں جامعہ قومیہ میرٹھ میں داخل ہوئے اور سولہ سال کی عمر میں درسِ نظامی کی سند حاصل کی۔آپ نے علومِ عربیہ کی تکمیل کے بعد علومِ جدیدہ کی تحصیل کا ارادہ کیا۔ اولاً اٹا وہ ہائی اسکول اور بعد میں میرٹھ کالج کے اندر انگریزی علوم کی تحصیل فرمائی۔ آپ اُردو، عربی، فارسی، انگریزی وغیرہ کئی زبانوں پر دسترس رکھتے تھے۔
بیعت و خلافت:
آپ اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِ سنّت مولانا شاہ احمد رضا خاں رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے اور خلافت و اجازت سے سرفراز ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
مولانا عبد العلیم صدّیقی میرٹھی نے مذہبی اور سیاسی سطح پر بڑے بڑے کارہائے نما انجام دیے۔ آپ نے کئی ممالک کا دورہ کیااور ہزاروں غیر مسلموں کومشرف بہ اسلام کیا۔ آپ اردو، عربی، فارسی کے علاوہ انگریزی زبان پر بھی حیرت انگیز عبور رکھتے تھے۔ مختلف ممالک میں سینکڑوں تعلیمی،دینی اور رفاہی ادارے قائم کیے، مدارس و مساجد بنوائیں، کتب خانے قائم کیے، اخبارات ورسائل اور مجلات جاری کرائے۔آپ نے سیاست میں بھی حصّہ لیا۔تحریکِ خلافت، تحریکِ مولات اور تحریکِ ختمِ نبوّت کے سلسلے میں کئی ماہ قید ومشقت بھی اٹھائی۔ 1940ء میں قراردادِ پاکستان ہونے کے بعدپاکستان کے لیے جدّ و جہدکی۔ 1946ء کی آل انڈیاسنّی کانفرنس میں شریک ہوئے۔ 1948ء میں پاکستان کے لیے مسوّدۂ آئین کی تیاری کے سلسلے میں سعی فرمائی۔آپ شعلہ بیان خطیب، بلند پایہ ادیب، اور عظیم مفکرِ اسلام تھے۔جب آپ نغمہ ریز آواز میں دلائل و براہین سے اسلام کی حقانیت بیان کرتے تو حاضرین پر سکوت چھاجاتااور بڑے بڑے سائنسدان،فلاسفر اور دہریہ قسم کے لوگ آپ کے دستِ اقدس پر حلقہ بگوشِ اسلام ہوجاتے۔ آپ تقریباً دنیا کی ہر زبان میں اس روانی سے تقریر کرتے تھے کہ اہلِ لسان ورطۂ حیرت میں رہ جاتے۔ آپ نے پوری قوت اور بےباکی سےدینِ فطرت اسلام کا پیغام دنیا کے گوشے گوشے میں پہنچایا،جس کے نتیجے میں پچاس ہزار سے زائد غیر مسلم مشرف بہ اسلام ہوئے۔
وصال:
چالیس سال تک دنیا بھر میں تبلیغِ اسلام کا فریضہ انجام دے کر 22؍ ذو الحجہ (23ویں شب، بعدِ مغرب) 1373ھ مطابق 22؍ اگست 1954ء کو مدینۂ منوّرہ میں اپنےخالقِ حقیقی سے جا ملے اور تعلیماتِ اسلامیہ کی تبلیغ واشاعت کے انعام کے طور پر جنّت البقیع میں تدفین کے لیے جگہ ملی۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابرِ اہلِ سنّت ، روشن دریچے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-shah-muhammad-abdul-aleem-siddiqui
scholars.pk
Muslim Scholar: Biography of Maulana Shah Muhammad Abdul Aleem Siddiqui, Islamic Scholar, Muslim Scholar,Islamic Teacher , Books…
Hazrat Allama Shah Muhammad Abdul Aleem Siddiqui
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
22-12-1444 ᴴ | 11-07-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
23-12-1444 ᴴ | 12-07-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1