🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
شیخ الحدیث مولانا افتخار احمد قادری رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی: مولانا افتخار احمد قادری ۔لقب: قادری، عاشقِ مدینہ ۔ والد کا اسمِ گرامی: سکندر خان مرحوم ۔ قوم کے پختون تھے ۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1954 کو گاؤں " کاٹلنگ ، قصہ کڑکنی " ضلع مردان ، صوبہ خیبر پختون خواہ، پاکستان میں ہوئی ۔

تحصیلِ علم:
گاؤں کاٹلنگ کی مسجد مامونی میں پیر آف مانکی شریف کے خلیفہ حضرت مولانا عبدالجلیل صاحب کے پاس ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد 1970ء میں دارالعلوم امجدیہ کراچی تشریف لائے اور یہاں باقاعدہ درس نظامی کی تکمیل کی اور 1980ء میں شیخ الحدیث حضرت علامہ مولانا عبدالمصطفی ٰالازہری علیہ الرحمۃ سے دور حدیث مکمل کیا۔آپ کے مشہور اساتذہ میں علامہ مفتی سید شجاعت علی قادری، پروفیسر علامہ منتخب الحق قادری، علامہ مفتی وقار الدین قادری، مولانا قاری مصلح الدین صدیقی، علامہ مفتی نصر اللہ خان افغا نی اور مولانا محمد اسماعیل میمن رضوی وغیرہ کے نام لیئے جاتے ہیں۔

بیعت و خلافت:
قطبِ مدینہ حضرت مولانا ضیاء الدین مدنی قادری علیہ الرحمۃ سے سلسلہ قادریہ میں بیعت تھے۔ تاج الشریعہ حضرت مولانا مفتی اختر رضا خان بریلوی اور حضرت شیخ ڈاکٹر محمد علوی مالکی شیخ طریقت و شیخ مکہ معظمہ (منصنف: ذخائر محمدیہ) سے خلافتیں عطا ہوئیں۔

سیرت و خصائص:
عاشقِ مدینہ،عالم و عالم بالسنہ، شیخ الحدیث حضرت علامہ مولانا افتخار احمد قادری رحمۃ اللہ علیہ ۔ بعد فراغت 1981ء میں اپنے مادرِ علمی میں مدرس مقرر ہوئے ۔ محنت شوق اور لگن سے درس و تدریس کا مشغلہ جاری رکھا۔ اپنی حاضر دماغی، ذکاوت قابلیت اورحسنِ اخلاق کے سبب طلباء و علماء میں مقبول تھے۔ اساتذہ کے ادیب اورطلباء پر شفیق تھے۔ آپ نے ذہانت و مہارتِ تامہ سے اپنا لوہا منوایا کہ 1995ء میں مہتمم دارالعلوم امجدیہ مفتی ظفر علی نعمانی علیہ الرحمہ نے آپ کو دارالعلوم کا "شیخ الحدیث" منتخب کیا۔

آپ انتہائی ذکی اور بہت ہی محنت کرنے والے تھے، قدرت نے قوت حافظہ جیسی بے بہا نعمت سے سرفراز فرمایا تھا۔ رات دیر تک مطالعہ فرماتے تھے۔ جب مدرسہ کی لائٹ اپنے مقررہ وقت پر بند کردی جاتیں تو آپ باہر سڑک پر سرکاری لائٹ کے نیچے فٹ پاتھ پر بیٹھ کر مطالعہ فرماتے تھے۔ اس سے آپ کے شوقِ مطالعہ اور جذبۂ دین کا پتہ چلتا ہے۔آپ منکسر المزاج او ر سادہ طبیعت کے مالک تھے۔ ہر ایک ملنے والے سے پر تپاک طور پر ملاقات فرماتے تھے۔ حسنِ اخلاق کے مجسمہ تھے۔ دورہ حدیث کے طلباء کو عالم ہی سمجھتے اور فرماتے تھے کہ تم عالم دین ہو اپنے مقام کو پہچانو اور اپنی ذمہ داری کو خوب نبھاؤ۔ قرآن شریف کی روزانہ تلاوت ان کا معمول تھا اور رمضان المبارک میں 10 تا 20 ختم قرآن کرتے اور پوری بخاری شریف کا ایک ختم کرتے تھے۔ عشق رسول ﷺ کی دولت سے مالامال تھے ۔ دین سے انتہائی مخلص تھے۔

قابلِ رشک موت:
مولانا افتخار احمد کو حجِ بیت اللہ اور زیارتِ روضہ مقدس کا بہت اشتیاق تھا، زندگی بھر اس مقدس سفر کیلئے دعائیں لیتے رہے۔ اشتیاق و شوق دن بدن بڑھتا ہی جارہا تھا ۔ آخر آپ کی قسمت نے انگڑائی لی اور حج بیت اللہ کی سعادت سے بہرہ ور ہوئے۔ رفیقِ سفر شاگردِ رشید اور رشتہ دار مولانا محمد اسحاق قادری صاحب آپ کے ساتھ تھے۔ وہ بتاتے ہیں کراچی میں آپ کی طبیعت بہت خراب تھی مگر مکہ معظمہ میں طبعیت ایسی صحیح ہوگئی جیسے آپ بیمار تھے ہی نہیں۔ احسن طریقے سے حج ادا کیا، سارے ارکان ادا فرمائے۔ اس سال 9 ذوالحج جمعۃ المبارک کوتھی، جس کو " حج ِاکبر " سے موسوم کرتے ہیں۔

حج کی ادائیگی کے بعد مدینہ منور حاضری دی یہاں محبوب پاک ﷺ کے قدموں میں گنبد خضرا کی ٹھنڈی ٹھنڈی چھاؤں میں طبیعت بہت ہی زیادہ اچھی بہتر ہوگئی۔ حسبِ معمول ظہرکی نماز کے بعد آرام کرتے تھے اور یہی معمول کراچی میں بھی تھا۔ لیکن ہفتہ کے روز ظہر کے بعد ہوٹل کی طرف تشریف لے گئے ۔پھر مولانا اسحاق سے کہنے لگے مجھے پھر روضہ اقدس لے چلو۔عرض کی قبلہ!ابھی تو آرہےہیں۔عصر میں جائیں گے تھوڑی دیر آرام کرلیتے ہیں۔ فرمایا:آرام بہت کرلیا، جلدی لے چلو۔ مسجد نبوی میں پہنچے ۔
1
مولانا اسحاق صاحب رقمطراز ہیں:
مجھے فرمانے لگے  مجھے ریاض الجنۃ لے چلو، مجھےمنبر رسول ﷺ کے پاس لے چلو، اس وقت میں نے حضرت کی عجیب کیفیت دیکھی صرف عاشق کو نہیں ایک عشق کو میں نے اپنی نگاہوں سے دیکھا۔منبرِ رسول ﷺ کے پاس پہنچنے کے بعد اس کے بوسے لئے رو رو کرگڑ گڑا کر اپنے گناہوں کی معافیاں مانگنے لگے۔ پھر اللہ کےمحبوب ﷺ کے مزار پر انوار پرحاضری دی وہاں خوب درود و سلام پڑھا اور دعائیں مانگیں اور باب البقیع سے جب نکلے تو سامنے گنبدِ خضریٰ کو دیکھا سخت دھوپ میں اس کھلے صحن میں کھڑے ہوئے گنبدِ خضرا کو دیکھنے لگے شہادت کی انگلی اٹھائی اورایمان مفصل و  مجمل ، کلمہ شہادت اوررسول کریم ﷺ کی شان اقدس میں قرآن مقدس کی آیات کریمہ مثلا ً"ولو انھہم از طلمو انفسہم جائوک فاستغفرو اللہ واستغفر لہم الرسول لوجدو اللہ توابا رحیما (النساء :۶۴) کی تلاوت کی ۔ آخر میں انگلی ہلا ہلا کر عرض کی اے سبز گنبد کے مکیں آقا ﷺ! اے قلبِ عاشقاں کے تسکین آقا ﷺ! میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ بے شک اللہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور آپ اللہ تعالیٰ کے رسول (ﷺ) ہیں ۔ کچھ دیر تلاوتِ قرآن میں مصروف ہوگئے۔

عصر کے بعد بابِ بلال کے سامنے کھلے صحن میں گنبد خضریٰ کے پاس محبوب رب العالمینﷺ کے مبارک قدموں میں اچانک گر پڑے کچھ ہی دیر بعد حدودِ حرم ہی میں روح جسم سے پرواز کرکے مصطفیٰ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہو گئی ۔

؏:اے کاش مدینے میں مجھے موت یوں آئے۔۔قدموں میں تیرے سر ہو میری روح چلی ہو۔

تاریخِ وصال:
بروز ہفتہ 22 ذوالحجہ 1419ھ،مطابق 10 اپریل 1999ء، کووحرمِ نبوی میں انتقال کیا،اور بروز اتوار بعد نمازِ فجرجنت البقیع میں مدفون ہوئے۔

ماخذ و مراجع:
انوار علمائے اہلسنت سندھ ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/molana-iftikhar-ahmad-qadri
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت شیخ مادھو لال حسین لاہوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نام و نسب:
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا نام شیخ حسین ہے، لیکن آپ مادھو لال کے نام سے مشہور ہوئے۔ آپ کے والد کا نام کلسن رائے تھا، انہوں نے سلطان فیروز شاہ کے عہد میں اسلام قبول کیا اور ان کا نام شیخ عثمان رکھا گیا۔

ولادت:
آپ 945ھ میں لاہور میں پیدا ہوئے۔

تحصیلِ علم:
جب آپ سات سال کے ہوئے مکتب میں بھیجے گئے ،حافظ ابو بکر سے چھ پارے حفظ کئے، آپ نے شیخ سعد اللہ سے تفسیر مدارک کا کچھ حصہ پڑھا، آپ تعلیم زیادہ دن جاری نہ رکھ سکے کیونکہ ایک ولیِ کامل کی نگاہ سے آپ علومِ ظاہری وباطنی سے سرفراز ہوئے ۔

بیعت و خلافت:
حضرت شیخ بہلول نے آپ کو مرید کیا اور خرقہ خلافت سے سرفراز فرمایا۔

سیرت و خصا ئص:
آپ بڑے صاحب عشق و محبّت اور واقفِ ذوق و شوق تھے۔ آپ علیہ الرحمہ نے چھتیس سال عبادت، ریاضت اور مجاہدے میں گزارے۔ روزانہ ایک کلامِ پاک ختم کرنا آپ کا معمول تھا۔ حضرت داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ کے مزار پر نہایت پابندی سے حاضر ہوتے۔رات تلاوت کلامِ پاک اورعبادت میں گزارتے، دریا کے کنارے اور حضرت گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ کے مزار پَر سکون، یک سوئی پاتے، صبح کی نماز سے فارغ ہو کر مکتب میں تفسیر کا درس لینےجاتے، وہاں عصرتک رہتے، عصرکی نماز کے بعد ذکر و فکر میں مشغول ہوتے، مغرب کی نماز ادا کرکے عشاء کی نمازتک نفل پڑھتے، بیماری کی حالت میں آپ کے معمولات میں فرق نہیں آتاتھا ۔ آپ نےبارہ برس تک نہایت پابندی سے حضرت داتا گنج بخش رحمتہ اللہ علیہ کےمزارپرحاضری دی، آخراس حاضری کاصلہ آپ کومل ہی گیا، ایک دن آپ حسبِ معمول مزار مبارک پر حاضر تھے کہ نورانی صورت نمودارہوئی اورآپ سے فرمایا تم جانتے ہو، میں کون ہوں؟پھر خودہی بتایاکہ۔ "میں علی ہجویری ہوں"۔ آپ کےحال پر نہایت لطف وکرم فرمایا،آپ کونعمتِ باطنی سے مالا مال کر دیا، آپ کوولایت عطا فرمائی اور شرابِ وحدت سے مدہوش و سرشار کیا اور فرمایا کہ: "یہ اس خدمت کاصلہ ہے، جو تم نے بارہ سال کی ہے"۔

وصال:
آپ کا وصال 22 ذو الحجہ 1008ھ بمطابق جولائی 1600ء، 63 سال کی عمر میں ہوا ۔ آپ کا مزار لاہور میں واقع ہے جو مرجعِ خلائق ہے۔

ماخذ و مراجع:
تذکرہ اولیائے پاک و ہند، تذکرہ اولیائے لاہور

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-madhu-lal-hussain-qadri-lahori
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍1
شہزادۂ اعلیٰ حضرت ، تاجدار اہلسنت ، حضور مفتی اعظم ہند ، حضرت علامہ مصطفیٰ رضا خان نوری میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی: حضرت مفتی اعظم قدس سرہ کا پیدائشی اور اصلی نام محمد ہے۔ والد ماجد نے عرفی نام مصطفیٰ رضا رکھا۔ فنِ شاعری میں آپ اپنا تخلص "نوری" فرماتے تھے۔ لقب: مفتیِ اعظم ہند ہے۔

آپ امامِ اہلسنت مجدد دین و ملت شیخ الاسلام امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کے چھوٹےصاحبزادے ہیں۔

تاریخِ ولادت:
حضور مفتی اعظم قدس سرہ 22 ذی الحجہ 1310ھ 7 جولائی 1893ء بروز جمعہ بوقتِ صبح صادق دنیا میں تشریف لائے۔ آپ کی جائے ولادت محلہ رضا نگر ، سودا گران شہر بریلی شریف ، یوپی انڈیا  ہے۔

تحصیلِ علم:
حضور مفتئ اعظم ہند قدس سرہٗ نے اصل تربیت تو اپنے والد ماجد امام احمد رضا قدس سرہٗ سے پائی۔ علوم دینیہ کی تکمیل بھی اپنے والد ماجد اعلیٰ حضرت قدس سرہٗ سے کی۔

فراغت:
حضرت مفتی اعظم قدس سرہٗ ۱۳۲۸ھ/۱۹۱۰ء میں بہ عمر اٹھارہ سال خدا داد ذہانت ، ذوقِ مطالعہ، لگن اور محنت اساتذہ کرام کی شفقت ورافت ، اعلیٰ حضرت امام اہل سنت قدس سرہٗ کی توجہ کامل اور شیخ مکرم سید المشائخ قدس سرہٗ کی عنایات کے نتیجے میں جملہ علوم و فنون منقولات و معقولات پر عبور حاصل کر کے مرکزِ اہل سنت دار العلوم منظر اسلام  بریلی شریف سے تکمیل و فراغت پائی۔

بیعت و خلافت:
25 جمادی الثانی 1311ھ چھ ماہ تین یوم کی عمر شریف میں سید المشائخ حضرت شاہ ابو الحسین نوری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے داخلِ سلسلہ فرمایا اور تمام سلاسل کی اجازت و خلافت سے سرفراز فرمایا۔

مرشد کامل کی بشارت:
سید المشائخ نے حضرت مفتیِ اعظم کو بیعت کرتے وقت ارشاد فرمایا: "یہ بچہ دین و ملت کی بڑی خدمت کرے گا۔ اور مخلوق خدا کو اس کی ذات سے بہت فیض پہنچے گا۔ یہ بچہ ولی ہے۔ اس کی نگاہوں سے لاکھوں گم راہ انسان دین حق پر قائم ہوں گے ۔ یہ فیض کا دریا بہائےگا"۔

سیرتِ مبارکہ:
اسلام کا وہ بطل جلیل اور استقامت کا جبل عظیم جس کے جہاد بالقلم نے دینِ مصطفٰی ﷺ کی آبیاری فرمائی۔ جس کی نگاہ کیمیا اثر نے لاکھوں گم گشتگان راہ کو جادۂ حق سے ہم کنار کیا۔ جس کے در کی جبیں سائی وقت کے بڑے بڑے مسند نشینوں نے کی۔ جس کے ناخنِ ادراک میں لا ینحل مسائل کا حل تھا۔ جو بیک وقت علم ظاہر و باطن کا ایسا سنگم تھا جہاں ہر تشنہ لب کو سیرابی و آسودگی کی دولتِ گراں مایہ ملتی تھی۔ جو رسول پاک ﷺ کا سچا نائب ، تصدیق حق میں صدیقِ اکبر کا پرتو ، باطل کو چھانٹنے میں فاروق اعظم کا مظہر، رحم و کرم میں ذوالنورین کی تصویر، باطل شکنی میں حیدری شمشیر ۔ جس میں امام اعظم ابو حنیفہ کی فکر ، امام رازی کی حکمت ، امام غزالی کا تصوف اور مولائے روم کا سوزو گداز تھا۔

جو علم و فضل میں شہرۂ آفاق، معقولات میں بحر ذخار، منقولات میں دریاے ناپیدار کنار، فقہ روایت میں امیر المومنین اور سلطنت قرآن و حدیث کا مسلم الثبوت وزیر المجتہدین، اعلم العلما عند العلماء، افقہ الفقہا عند الفقہا، قطب عالم علی لسان الاولیاء، فانی فی اللہ ، باقی باللہ عاشقِ کاملِ رسول اللہ ﷺ مولانا الشاہ الحاج محمد ابو البرکات محی الدین جیلانی محمد مصطفی رضا قادری قدس سرہ جسے دنیا تاجدار اہل سنت حضور مفتئ اعظم ہند کے نام نامی اسمِ گرامی سے یاد کرتی ہے۔

وصال:
اکانوے سال اکیس دن کی عمر میں مختصر علالت کے بعد 14 محرم الحرام 1402ھ، بمطابق 12 نومبر 1981ء کو اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔

ماخذ و مراجع:
جہان مفتی اعظم ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/mufti-azam-hind-muhammad-mustafa-raza-khan-noori
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
شہزادۂ اعلیٰ حضرت ، تاجدار اہلسنت ، حضور مفتی اعظم ہند ، حضرت علامہ مصطفیٰ رضا خان نوری میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ نام و نسب: اسمِ گرامی: حضرت مفتی اعظم قدس سرہ کا پیدائشی اور اصلی نام محمد ہے۔ والد ماجد نے عرفی نام مصطفیٰ رضا رکھا۔ فنِ شاعری میں آپ اپنا تخلص…
ولادت: #حضور_مفتئ_اعظم_ہند
#علامہ_مصطفی_رضا_خان_نوری
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَعَالیٰ عَـنۡـهٗ 🌹 قسط ❽
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
شہزادۂ اعلیٰ حضرت🌹 ابو البرکات
محی الدین آل رحمٰن مفتئ اعظم ہند
مولانا مصطفیٰ رضا خان نوری‌بریلوی

رَضِیَ الــلّٰــهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَــعَــالیٰ عَــنۡـہٗ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یومِ ولادت ²²ذوالحجۃالحرام ۰۱۳۱ھ
یومِ وصال ¹⁴ محرم الحرام  ۲۰۴۱ھ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
کتب شان حضور مفتئ اعظم ہند
https://t.me/islaamic_Knowledge/36889
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
#یوم_ولادت_ماہ_ذو_الحجہ 🌹
#یوم_وصال_ماہ_محرم_الحرام
https://t.me/islaamic_Knowledge/54028
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
21-12-1444 ᴴ | 10-07-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
22-12-1444 ᴴ | 11-07-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1