🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امیر حمزہ القادری التُرابی الرفاعی

نسب:
امیر حمزہ قادری بن غلام نبی قادری بن ابوبکر قادری بن محمد حسین قادری بن محمد قادری۔

ولادت:
ان کی ولادت ۱۴ جون ۱۹۹۳ بروز پیر بعد نمازِ عشا سیون ڈے ہاسپتال کراچی میں ہوئی۔

طریقت:
ان کے والد نے انہیں پیرِ طریقت رہبرِ شریعت حضرت علامہ مولانا سید شاہ تراب الحق قادری سے مرید بنوایا۔

تعلیم:
انہوں نے دنیاوی تعلیم میٹرک کی ہے اور ساتھ ہی انہوں نے درسِ نظامی 2016 میں مکمل کیااور افتاء کورس 2017 میں مکمل کیا ہے۔

سیرت:
ان کا گھرانہ مذہبی اور رضویت میں پکا پابند ہے اور ان کے والد محترم نے انہیں شروع ہی سے رضویات کا ماحول فراہم کیا اور انہوں نے شروع ہی سے رضویات کو جانا اور اسی کو پسند بھی کیا ان کے والد نے انہیں پیدائش کے فورا بعد حضرت علامہ مولانا سید شاہ تراب الحق قادری کا مرید بنایا۔ ان کے والدین کی شروع ہی سے یہ خواہش تھی کہ انہیں عالم و مفتی بنائیں گے جو کہ انہوں نے ان کا یہ عظیم خواب پورا کر دیکھایااور یہ اپنے والدین کے اکلوتےبیٹے ہیں اور یہ اپنے پورے خاندان میں صرف یہی ایک عالم و مفتی ہیں ۔ ان خوابوں کو پورا کرنے کے بعد انہوں نے ٹیکٹینگ کورس کیا اور ساتھ ہی انہوں نے درزی کا کام بھی سیکھا ہے۔ اور ان کی سوچ صرف اور صرف دین اسلام کی صحیح معنوں میں خدمت کرنا ہے اور ان کے دل میں اسلام کا درد اور سنیت کا بھی درد موجود ہےاور یہ غریبوں کو اپنا دوست بنانا پسند کرتے ہیں اور لوگوں کے دکھ اور درد میں شریک رہتے ہیں اور انہی معاملات میں ان سب کی رہنمائی بھی کرتے ہیں اور ان کی زندگی کا مزید سلسلہ جیسے ان کا نکاح 30 نومبر 2017 کو گنبدِ خضرا کے سائے میں برکتیں لوٹتے ہوئے ہوا اور انہیں ایام میں انہوں نے عمرہ کی سعادت بھی اپنے والدین کے ساتھ پائی انہوں نے کئیں مزارات میں بزرگوں سے فیضان بھی حاصل کیا۔

استاذ محترم:
انہوں نےتعلیم ان کے عزیز استاد حضرت علامہ مولانا مفتی محمد شاہد قادری رفاعی سے حاصل کی اور مزید اساتذۂ کرام کے نام یہ ہیں حضرت مفتی اکرام المحسن فیضی، حضرت علامہ مولانا مفتی محمد عطاء اللہ نعیمی، حضرت علامہ مولانا محمد شکیل احمد قادری، حضرت علامہ مولانا مفتی محمد اللہ رحم قادری، حضرت علامہ مولانامفتی محمد اکمل مدنی، حضرت علامہ مولانا مفتی محمد مدنی رضا، حضرت علامہ مولانا مفتی محمد معاذ، حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی قادری، حضرت علامہ مولانا مفتی محمد ناصر قادری، حضرت علامہ مولانا مفتی محمد فرحان شیخ، حضرت علامہ مولانا مفتی رؤوف خان قادری، حضرت مولانا مفتی محمد عابد سلیمی،حضرت علامہ مولانا مفتی آصف مدنی، حضرت علامہ مولانا مفتی آصف میمن،حضرت علامہ مولانا مفتی طارق مدنی، حضرت مفتی مولانا زبیر میمن، حضرت علامہ مولانا مفتی زین العابدین مدنی، حضرت مفتی زاہد مدنی۔

اجازت و خلافت:
حضرت شیخ عبد العزیز الخطیب قادری شامی صاحب نے بخاری شریف کی اجازت عطا فرمائی، حضرت علامہ مولانا مفتی وجاہت رسول قادری رضوی صاحب نے خلافت و عملیات کی اجازت عطا فرمائی، حضرت مفتی اکرام المحسن فیضی صاحب نے شمائلِ ترمذی شریف کی اجازت عطا فرمائی، حضرت علامہ مولانا مفتی عبد الکریم امجدی قادری صاحب نے تمام اوراد و وظائف کی اجازت عطا فرمائی، حضرت علامہ مولانا مفتی بلال معروف قادری صاحب نے تعویزات لکھنے کی اجازت عطا فرمائی، حضرت علامہ مولانامفتی محمد شاہدمدنی رفاعی صاحب نے بھی اوراد و وظائف کی اجازت عطا فرمائی۔
https://scholars.pk/ur/scholar/allamah-ameer-hamzah-qadri
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
حضرت شیخ ابو المظفر شمس الدین یوسف بغدادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

یوسف بن فرغلی بن عبداللہ بغدادی: حافظ ابو الفرج ابن جوزی کے نواسہ تھے جو ۵۸۱؁ھ میں بغداد میں پیدا ہوئے۔ابو المظفر کنیت شمس الدین لقب تھا۔ بڑے ذکی،عالم فاضل،فقیہ محدث،واعظ فائق اقران اور فارس میدان بحث تھے۔ آپ کی مجلس میں بڑے بڑے علماء و فضلاء و صلحاء اور ملوک و امراء دوزراء شامل ہوتے تھےجس میں نزہت قلوب وابصار حاصل ہوتی تھی اور وعظ میں اس قدر لوگوں کا ہجو ہوتا تھا کہ جس روز آپ کو وعظ کرنا ہوتو تھا اس سے ایک دن پہلے لوگ رات کو مسجد دمشق میں آکر اپنے بیٹھنے کے لیے جگہ روک لیا کرتے تھے۔اکثر ذمی لوگ بھی آپکے وعظ میں کفر و شرک سے بیزار ہوکر حلقۂ اسلام میں آتے تھے۔ آپکا باپ وزیر عون الدین بن ہبیرہکا غلام تھا جس نے شیخ جمال الدین ابن جوزی حنبلی کی بیٹی سے نکاحکیا اور اس کے بطن سے آپ پیدا ہوئے اور آپ نے اپنے نانا سے فقہ پڑھی اور حدیث کو سُنا اور حنبلی مذہب پر قائم ہوئے مگر جب موصل و دمشق میں آئے اور جمال الدین محمود حصیری وغیرہ سے تفقہ کیا تو حنفی مذہب اختیار کیا اور دمشق میں کچھ اوپر ۶۰۰؁ھ میں سکونت اختیار کی،تصانیف مفیدہ و عمدہ کیں جن میں سے تفسیر قرآن شریف ۲۹مجلد اور تاریخ مرأۃ الزمان چالیس مجلد اور شرح جامع کبیر اور کتاب ایثار الانصاف اور منتہی السول فی سیرۃ الرسول اور لوامع فی احادیث المختصر اور جامع اور کتاب فی مناقب النعمان مشہور و معروف ہیں۔

آپ سے آپ کے بیٹے عبد العزیز متوفی ۶۷۰؁ھ نے تفقہ کیا۔وفات آپ کی منگل کی رات ۲۱؍ماہِ ذی الحجہ ۶۵۴؁ھ میں شہر دمشق میں ہوئی اور جبل قاسیون دفن کیے گئے۔’’مشہور زمانہ‘‘ آپ کی تاریخ وفا ت ہے۔

( حدائق الحنفیہ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-abul-muzaffar-shamsuddin-yousuf-baghdadi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت علامہ اقبال حسین نعیمی

مولانا اقبال حسین نعیمی بن ڈاکٹر فدا حسین پٹھان ایک اندازے کے مطابق ۱۹۳۲ء کو بریلی شریف (یوپی، بھارت) میں تولد ہوئے۔

تعلیم و تربیت:
میٹر بریلی شریف سے پاس کی۔ ان دنوں تحریک پاکستان زوروں پر تھی بالآخر پاکستان وجو دمیں آیا اور آپ کا خاندان کراچی میں شفٹ ہو کر آیا۔ کراچی میں تاج العلماء مفتی محمد عمر نعیمی کے قائم کردہ مدرسہ مخزن عربیہ بحرالعلوم نزد آرام باغ سے تعلیم مکمل کرکے فارغ التحصیل ہوئے۔ یہاں تاج العلماء کے علاوہ آپ کے شاگرد ارشد مولانا عبدالباری برمی سے صرف و نحو کی تعلیم حاصل کی تھی۔

بیعت:
حضرت مولانا پیر عبدلعزیز کھلنوی (بنگلہ دیش) سے سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں دست بیعت ہوئے ۔ حضرت عبدالعزیز ابو الخیر دہلوی مجددی قدس سرہ سے دست بیعت تھے۔

عادات و خصائل:
مولانا ، امامت و خطابت ، پی آئی اے میں ملازمت، دارالعلوم نعیمیہ فیڈرل بی ایریا کا انتظام و انصرام، ریسرچ اینڈ رجسٹریشن آفیسر محکمہ اوقاف سندھ اور نکاح رجسٹرار کی طرح کی کئی مناصب پر فائز رہے۔

اس کے علاوہ دار العلوم نعیمیہ اور جامعہ مسجد نعیمیہ کی تعمیر و ترقی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ شروع سے دارالعلوم کے رکن و معاون رہے۔ مولانا اچھے انسان بہترین دوست اور شفیق استاد تھے۔ مروت و محبت کے عمل سے سر شار تھے۔ آخری عمر میں نعت خوانی اور حسن قرأت کی محافل میں شرکت اور خود بھی اہتمام کرکے محافل برپا کرتے تھے۔

سفر حرمین شریفین:
۱۹۸۰ء میں حج بیت اللہ اور زیارت روضہ رسول اللہ ﷺ کا شرف حاصل کیا۔

۱۹۸۸ء میں نجف اشرف، کربلا معلیٰ اور بغداد شریف میں مزارات مقدسہ کی حاضری دی اس کے بعد انگلینڈ کا تبلیغی دورہ کیا۔

۱۹۸۲ء میں سری لنکا اور ایران کا دورا کیا۔

ان تمام سفر میں مولانا الحاج جمیل احمد نعیمی صاحب (کراچی) ان کے رفیق سفر تھے۔ وہ بتاتے ہیں کہ بلا خوف تردد کہہ سکتا ہوں کہ اس احقر نے موصوف کو ایک اچھا رفیق سفر پایا اور یہ بھی کہ مرحوم کو سفر و حضر اور خلوت و جلوت میں معمولات کا پابند دیکھا۔

اولاد:
آپ کو اللہ تعالیٰ نے چار لڑکیاں اور دو لڑکے …
۱۔ جمال اقبال اور
۲۔ کمال اقبال … عطا فرمائے۔

تصنیف و تالیف:
اس سلسلہ میں موصوف کی کوئی تحریر سامنے نہیں آئی البتہ ’’تذکرہ اولیائے سندھ ‘‘مطبوعہ علمی کتاب گھر کراچی، ان کے نام سے ضرور شائع ہوتی رہی ہے لیکن حقیقت میں وہ ان کی تخلیق و تحقیق نہیں بلکہ کتاب کا سیاق و سباق لب و لہجہ اور انداز بیاں خود اصل مصنف کی نشاندہی کر رہا ہے۔

وصال:
مولانا الحاج اقبال حسین نعیمی کے دو تین ماہ بیماری اور امتحان میں گزرے۔ بیماری و تکلیف کے باوجود سب سے خندہ پیشانی سے پیش آتے۔ صبر و شکر کے دامن کو ہاتھ سے جانے نہیں دیا ایک روز مرض کی شدت کی وجہ سے ان کے صاحبزادے ، ضیاء الدین ہسپتال (کراچی) لے گئے لہٰذا ۲۱ ذولحجہ ۱۴۲۲ھ/۶ مارچ ۲۰۰۲ء بروز بدھ بوقت اذان فجر ۷۰ سال کی عمر میں انتقال کیا۔

نماز جنازہ اسی روز بعد نماز طہر مسجد اقصیٰ فیڈرل بی ایریا دستگیر سوسائٹی بلاک ۱۴ میں قائد اہل سنت علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی کی اقتداء میں ادا ہوئی اور سخی حسن قبرستان (نارتھ ناظم آباد) میں تدفین ہوئی۔

(محترم مولانا جمیل احمدنعیمی صاحب نے مواد فراہم کیا فقیر نہایت مشکور ہے۔)

( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )

https://scholars.pk/ur/scholar/molana-iqbal-husaini-hussain
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
20-12-1444 ᴴ | 09-07-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
21-12-1444 ᴴ | 10-07-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1