🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
20-12-1444 ᴴ | 09-07-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
20-12-1444 ᴴ | 09-07-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
حضرت تاج الشریعہ علیہ الرحمہ کے ایک شعرکے متعلق مفتی اکمل قادری صاحب کا تقریباً20منٹ دورانیہ پرمشتمل تفصیلی وضاحتی بیان سناہے۔جس میں مفتی صاحب نے کہاہے کہ
اعلی حضرت علیہ الرحمہ نے تکفیرسے قبل اکابرِ دیوبندکو تیس کا سال کا موقع دیا،ہو سکتا ہے کہ وہ معقول تاویل کر لیں اور پھر میں اس پر حکم شرع مرتب کروں۔
اس سے ملتی جلتی بات مفتی اکمل صاحب کے علاوہ بھی ہمارے کئی مؤلفین اپنی کتب میں لکھ چکے ہیں۔لیکن یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ اس دعوی کاحقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔
مولوی قاسم نانوتوی،مولوی رشیداحمدگنگوہی،مولوی خلیل احمدانبیٹھوی اورمولوی اشرفعلی تھانوی کے ساتھ ان کی تکفیرسے قبل اعلی حضرت کی ایسی کسی خط وکتابت کاثبوت کوئی شخص پیش نہیں کرسکتا۔تھانوی کوسیدی اعلی حضرت نے خط ضرورلکھے لیکن اس کی تکفیرکے بعد۔
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid02NDm6t8pjJa5vGP8iQbQMH5oRPE5kaNUiRmE3ri2YXB72WSBWZ8VN3vRoYbiFLjUyl&id=100004579304922&mibextid=Nif5oz
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
حضرت تاج الشریعہ علیہ الرحمہ کے ایک شعرکے متعلق مفتی اکمل قادری صاحب کا تقریباً20منٹ دورانیہ پرمشتمل تفصیلی وضاحتی بیان سناہے۔جس میں مفتی صاحب نے کہاہے کہ
اعلی حضرت علیہ الرحمہ نے تکفیرسے قبل اکابرِ دیوبندکو تیس کا سال کا موقع دیا،ہو سکتا ہے کہ وہ معقول تاویل کر لیں اور پھر میں اس پر حکم شرع مرتب کروں۔
اس سے ملتی جلتی بات مفتی اکمل صاحب کے علاوہ بھی ہمارے کئی مؤلفین اپنی کتب میں لکھ چکے ہیں۔لیکن یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ اس دعوی کاحقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔
مولوی قاسم نانوتوی،مولوی رشیداحمدگنگوہی،مولوی خلیل احمدانبیٹھوی اورمولوی اشرفعلی تھانوی کے ساتھ ان کی تکفیرسے قبل اعلی حضرت کی ایسی کسی خط وکتابت کاثبوت کوئی شخص پیش نہیں کرسکتا۔تھانوی کوسیدی اعلی حضرت نے خط ضرورلکھے لیکن اس کی تکفیرکے بعد۔
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid02NDm6t8pjJa5vGP8iQbQMH5oRPE5kaNUiRmE3ri2YXB72WSBWZ8VN3vRoYbiFLjUyl&id=100004579304922&mibextid=Nif5oz
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
20-12-1444 ᴴ | 09-07-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
20-12-1444 ᴴ | 09-07-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
قیمتی باتیں | بیٹی | عورت | بیوی
نکاح شیشہ ہے اور طلاق پتھر 📜
بچہ یا بچی گود لینا جائز ہے لیکن
گھر عورت کے لئے قید خانہ نہیں!
حضرت عمر کے موافق نزول قرآن
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
اپنے خاندان کو محفوظ کرنے کے لئے کچھ کام کر لیجئے کیونکہ جو کچھ ہوتا دِکھائی دے رہا ہے وہ بیان سے باہر ہے ـ ان تجاویز کو نظر انداز نہیں کیجئےگا ـ
https://t.me/islaamic_Knowledge/53976?single
آخری فوٹو ، فوٹو نمبر 10 پڑھئے
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
قیمتی باتیں | بیٹی | عورت | بیوی
نکاح شیشہ ہے اور طلاق پتھر 📜
بچہ یا بچی گود لینا جائز ہے لیکن
گھر عورت کے لئے قید خانہ نہیں!
حضرت عمر کے موافق نزول قرآن
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
اپنے خاندان کو محفوظ کرنے کے لئے کچھ کام کر لیجئے کیونکہ جو کچھ ہوتا دِکھائی دے رہا ہے وہ بیان سے باہر ہے ـ ان تجاویز کو نظر انداز نہیں کیجئےگا ـ
https://t.me/islaamic_Knowledge/53976?single
آخری فوٹو ، فوٹو نمبر 10 پڑھئے
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امیر حمزہ القادری التُرابی الرفاعی
نسب:
امیر حمزہ قادری بن غلام نبی قادری بن ابوبکر قادری بن محمد حسین قادری بن محمد قادری۔
ولادت:
ان کی ولادت ۱۴ جون ۱۹۹۳ بروز پیر بعد نمازِ عشا سیون ڈے ہاسپتال کراچی میں ہوئی۔
طریقت:
ان کے والد نے انہیں پیرِ طریقت رہبرِ شریعت حضرت علامہ مولانا سید شاہ تراب الحق قادری سے مرید بنوایا۔
تعلیم:
انہوں نے دنیاوی تعلیم میٹرک کی ہے اور ساتھ ہی انہوں نے درسِ نظامی 2016 میں مکمل کیااور افتاء کورس 2017 میں مکمل کیا ہے۔
سیرت:
ان کا گھرانہ مذہبی اور رضویت میں پکا پابند ہے اور ان کے والد محترم نے انہیں شروع ہی سے رضویات کا ماحول فراہم کیا اور انہوں نے شروع ہی سے رضویات کو جانا اور اسی کو پسند بھی کیا ان کے والد نے انہیں پیدائش کے فورا بعد حضرت علامہ مولانا سید شاہ تراب الحق قادری کا مرید بنایا۔ ان کے والدین کی شروع ہی سے یہ خواہش تھی کہ انہیں عالم و مفتی بنائیں گے جو کہ انہوں نے ان کا یہ عظیم خواب پورا کر دیکھایااور یہ اپنے والدین کے اکلوتےبیٹے ہیں اور یہ اپنے پورے خاندان میں صرف یہی ایک عالم و مفتی ہیں ۔ ان خوابوں کو پورا کرنے کے بعد انہوں نے ٹیکٹینگ کورس کیا اور ساتھ ہی انہوں نے درزی کا کام بھی سیکھا ہے۔ اور ان کی سوچ صرف اور صرف دین اسلام کی صحیح معنوں میں خدمت کرنا ہے اور ان کے دل میں اسلام کا درد اور سنیت کا بھی درد موجود ہےاور یہ غریبوں کو اپنا دوست بنانا پسند کرتے ہیں اور لوگوں کے دکھ اور درد میں شریک رہتے ہیں اور انہی معاملات میں ان سب کی رہنمائی بھی کرتے ہیں اور ان کی زندگی کا مزید سلسلہ جیسے ان کا نکاح 30 نومبر 2017 کو گنبدِ خضرا کے سائے میں برکتیں لوٹتے ہوئے ہوا اور انہیں ایام میں انہوں نے عمرہ کی سعادت بھی اپنے والدین کے ساتھ پائی انہوں نے کئیں مزارات میں بزرگوں سے فیضان بھی حاصل کیا۔
استاذ محترم:
انہوں نےتعلیم ان کے عزیز استاد حضرت علامہ مولانا مفتی محمد شاہد قادری رفاعی سے حاصل کی اور مزید اساتذۂ کرام کے نام یہ ہیں حضرت مفتی اکرام المحسن فیضی، حضرت علامہ مولانا مفتی محمد عطاء اللہ نعیمی، حضرت علامہ مولانا محمد شکیل احمد قادری، حضرت علامہ مولانا مفتی محمد اللہ رحم قادری، حضرت علامہ مولانامفتی محمد اکمل مدنی، حضرت علامہ مولانا مفتی محمد مدنی رضا، حضرت علامہ مولانا مفتی محمد معاذ، حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی قادری، حضرت علامہ مولانا مفتی محمد ناصر قادری، حضرت علامہ مولانا مفتی محمد فرحان شیخ، حضرت علامہ مولانا مفتی رؤوف خان قادری، حضرت مولانا مفتی محمد عابد سلیمی،حضرت علامہ مولانا مفتی آصف مدنی، حضرت علامہ مولانا مفتی آصف میمن،حضرت علامہ مولانا مفتی طارق مدنی، حضرت مفتی مولانا زبیر میمن، حضرت علامہ مولانا مفتی زین العابدین مدنی، حضرت مفتی زاہد مدنی۔
اجازت و خلافت:
حضرت شیخ عبد العزیز الخطیب قادری شامی صاحب نے بخاری شریف کی اجازت عطا فرمائی، حضرت علامہ مولانا مفتی وجاہت رسول قادری رضوی صاحب نے خلافت و عملیات کی اجازت عطا فرمائی، حضرت مفتی اکرام المحسن فیضی صاحب نے شمائلِ ترمذی شریف کی اجازت عطا فرمائی، حضرت علامہ مولانا مفتی عبد الکریم امجدی قادری صاحب نے تمام اوراد و وظائف کی اجازت عطا فرمائی، حضرت علامہ مولانا مفتی بلال معروف قادری صاحب نے تعویزات لکھنے کی اجازت عطا فرمائی، حضرت علامہ مولانامفتی محمد شاہدمدنی رفاعی صاحب نے بھی اوراد و وظائف کی اجازت عطا فرمائی۔
https://scholars.pk/ur/scholar/allamah-ameer-hamzah-qadri
نسب:
امیر حمزہ قادری بن غلام نبی قادری بن ابوبکر قادری بن محمد حسین قادری بن محمد قادری۔
ولادت:
ان کی ولادت ۱۴ جون ۱۹۹۳ بروز پیر بعد نمازِ عشا سیون ڈے ہاسپتال کراچی میں ہوئی۔
طریقت:
ان کے والد نے انہیں پیرِ طریقت رہبرِ شریعت حضرت علامہ مولانا سید شاہ تراب الحق قادری سے مرید بنوایا۔
تعلیم:
انہوں نے دنیاوی تعلیم میٹرک کی ہے اور ساتھ ہی انہوں نے درسِ نظامی 2016 میں مکمل کیااور افتاء کورس 2017 میں مکمل کیا ہے۔
سیرت:
ان کا گھرانہ مذہبی اور رضویت میں پکا پابند ہے اور ان کے والد محترم نے انہیں شروع ہی سے رضویات کا ماحول فراہم کیا اور انہوں نے شروع ہی سے رضویات کو جانا اور اسی کو پسند بھی کیا ان کے والد نے انہیں پیدائش کے فورا بعد حضرت علامہ مولانا سید شاہ تراب الحق قادری کا مرید بنایا۔ ان کے والدین کی شروع ہی سے یہ خواہش تھی کہ انہیں عالم و مفتی بنائیں گے جو کہ انہوں نے ان کا یہ عظیم خواب پورا کر دیکھایااور یہ اپنے والدین کے اکلوتےبیٹے ہیں اور یہ اپنے پورے خاندان میں صرف یہی ایک عالم و مفتی ہیں ۔ ان خوابوں کو پورا کرنے کے بعد انہوں نے ٹیکٹینگ کورس کیا اور ساتھ ہی انہوں نے درزی کا کام بھی سیکھا ہے۔ اور ان کی سوچ صرف اور صرف دین اسلام کی صحیح معنوں میں خدمت کرنا ہے اور ان کے دل میں اسلام کا درد اور سنیت کا بھی درد موجود ہےاور یہ غریبوں کو اپنا دوست بنانا پسند کرتے ہیں اور لوگوں کے دکھ اور درد میں شریک رہتے ہیں اور انہی معاملات میں ان سب کی رہنمائی بھی کرتے ہیں اور ان کی زندگی کا مزید سلسلہ جیسے ان کا نکاح 30 نومبر 2017 کو گنبدِ خضرا کے سائے میں برکتیں لوٹتے ہوئے ہوا اور انہیں ایام میں انہوں نے عمرہ کی سعادت بھی اپنے والدین کے ساتھ پائی انہوں نے کئیں مزارات میں بزرگوں سے فیضان بھی حاصل کیا۔
استاذ محترم:
انہوں نےتعلیم ان کے عزیز استاد حضرت علامہ مولانا مفتی محمد شاہد قادری رفاعی سے حاصل کی اور مزید اساتذۂ کرام کے نام یہ ہیں حضرت مفتی اکرام المحسن فیضی، حضرت علامہ مولانا مفتی محمد عطاء اللہ نعیمی، حضرت علامہ مولانا محمد شکیل احمد قادری، حضرت علامہ مولانا مفتی محمد اللہ رحم قادری، حضرت علامہ مولانامفتی محمد اکمل مدنی، حضرت علامہ مولانا مفتی محمد مدنی رضا، حضرت علامہ مولانا مفتی محمد معاذ، حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی قادری، حضرت علامہ مولانا مفتی محمد ناصر قادری، حضرت علامہ مولانا مفتی محمد فرحان شیخ، حضرت علامہ مولانا مفتی رؤوف خان قادری، حضرت مولانا مفتی محمد عابد سلیمی،حضرت علامہ مولانا مفتی آصف مدنی، حضرت علامہ مولانا مفتی آصف میمن،حضرت علامہ مولانا مفتی طارق مدنی، حضرت مفتی مولانا زبیر میمن، حضرت علامہ مولانا مفتی زین العابدین مدنی، حضرت مفتی زاہد مدنی۔
اجازت و خلافت:
حضرت شیخ عبد العزیز الخطیب قادری شامی صاحب نے بخاری شریف کی اجازت عطا فرمائی، حضرت علامہ مولانا مفتی وجاہت رسول قادری رضوی صاحب نے خلافت و عملیات کی اجازت عطا فرمائی، حضرت مفتی اکرام المحسن فیضی صاحب نے شمائلِ ترمذی شریف کی اجازت عطا فرمائی، حضرت علامہ مولانا مفتی عبد الکریم امجدی قادری صاحب نے تمام اوراد و وظائف کی اجازت عطا فرمائی، حضرت علامہ مولانا مفتی بلال معروف قادری صاحب نے تعویزات لکھنے کی اجازت عطا فرمائی، حضرت علامہ مولانامفتی محمد شاہدمدنی رفاعی صاحب نے بھی اوراد و وظائف کی اجازت عطا فرمائی۔
https://scholars.pk/ur/scholar/allamah-ameer-hamzah-qadri
scholars.pk
Allamah Ameer Hamzah Qadri
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت شیخ ابو المظفر شمس الدین یوسف بغدادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
یوسف بن فرغلی بن عبداللہ بغدادی: حافظ ابو الفرج ابن جوزی کے نواسہ تھے جو ۵۸۱ھ میں بغداد میں پیدا ہوئے۔ابو المظفر کنیت شمس الدین لقب تھا۔ بڑے ذکی،عالم فاضل،فقیہ محدث،واعظ فائق اقران اور فارس میدان بحث تھے۔ آپ کی مجلس میں بڑے بڑے علماء و فضلاء و صلحاء اور ملوک و امراء دوزراء شامل ہوتے تھےجس میں نزہت قلوب وابصار حاصل ہوتی تھی اور وعظ میں اس قدر لوگوں کا ہجو ہوتا تھا کہ جس روز آپ کو وعظ کرنا ہوتو تھا اس سے ایک دن پہلے لوگ رات کو مسجد دمشق میں آکر اپنے بیٹھنے کے لیے جگہ روک لیا کرتے تھے۔اکثر ذمی لوگ بھی آپکے وعظ میں کفر و شرک سے بیزار ہوکر حلقۂ اسلام میں آتے تھے۔ آپکا باپ وزیر عون الدین بن ہبیرہکا غلام تھا جس نے شیخ جمال الدین ابن جوزی حنبلی کی بیٹی سے نکاحکیا اور اس کے بطن سے آپ پیدا ہوئے اور آپ نے اپنے نانا سے فقہ پڑھی اور حدیث کو سُنا اور حنبلی مذہب پر قائم ہوئے مگر جب موصل و دمشق میں آئے اور جمال الدین محمود حصیری وغیرہ سے تفقہ کیا تو حنفی مذہب اختیار کیا اور دمشق میں کچھ اوپر ۶۰۰ھ میں سکونت اختیار کی،تصانیف مفیدہ و عمدہ کیں جن میں سے تفسیر قرآن شریف ۲۹مجلد اور تاریخ مرأۃ الزمان چالیس مجلد اور شرح جامع کبیر اور کتاب ایثار الانصاف اور منتہی السول فی سیرۃ الرسول اور لوامع فی احادیث المختصر اور جامع اور کتاب فی مناقب النعمان مشہور و معروف ہیں۔
آپ سے آپ کے بیٹے عبد العزیز متوفی ۶۷۰ھ نے تفقہ کیا۔وفات آپ کی منگل کی رات ۲۱؍ماہِ ذی الحجہ ۶۵۴ھ میں شہر دمشق میں ہوئی اور جبل قاسیون دفن کیے گئے۔’’مشہور زمانہ‘‘ آپ کی تاریخ وفا ت ہے۔
( حدائق الحنفیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-abul-muzaffar-shamsuddin-yousuf-baghdadi
یوسف بن فرغلی بن عبداللہ بغدادی: حافظ ابو الفرج ابن جوزی کے نواسہ تھے جو ۵۸۱ھ میں بغداد میں پیدا ہوئے۔ابو المظفر کنیت شمس الدین لقب تھا۔ بڑے ذکی،عالم فاضل،فقیہ محدث،واعظ فائق اقران اور فارس میدان بحث تھے۔ آپ کی مجلس میں بڑے بڑے علماء و فضلاء و صلحاء اور ملوک و امراء دوزراء شامل ہوتے تھےجس میں نزہت قلوب وابصار حاصل ہوتی تھی اور وعظ میں اس قدر لوگوں کا ہجو ہوتا تھا کہ جس روز آپ کو وعظ کرنا ہوتو تھا اس سے ایک دن پہلے لوگ رات کو مسجد دمشق میں آکر اپنے بیٹھنے کے لیے جگہ روک لیا کرتے تھے۔اکثر ذمی لوگ بھی آپکے وعظ میں کفر و شرک سے بیزار ہوکر حلقۂ اسلام میں آتے تھے۔ آپکا باپ وزیر عون الدین بن ہبیرہکا غلام تھا جس نے شیخ جمال الدین ابن جوزی حنبلی کی بیٹی سے نکاحکیا اور اس کے بطن سے آپ پیدا ہوئے اور آپ نے اپنے نانا سے فقہ پڑھی اور حدیث کو سُنا اور حنبلی مذہب پر قائم ہوئے مگر جب موصل و دمشق میں آئے اور جمال الدین محمود حصیری وغیرہ سے تفقہ کیا تو حنفی مذہب اختیار کیا اور دمشق میں کچھ اوپر ۶۰۰ھ میں سکونت اختیار کی،تصانیف مفیدہ و عمدہ کیں جن میں سے تفسیر قرآن شریف ۲۹مجلد اور تاریخ مرأۃ الزمان چالیس مجلد اور شرح جامع کبیر اور کتاب ایثار الانصاف اور منتہی السول فی سیرۃ الرسول اور لوامع فی احادیث المختصر اور جامع اور کتاب فی مناقب النعمان مشہور و معروف ہیں۔
آپ سے آپ کے بیٹے عبد العزیز متوفی ۶۷۰ھ نے تفقہ کیا۔وفات آپ کی منگل کی رات ۲۱؍ماہِ ذی الحجہ ۶۵۴ھ میں شہر دمشق میں ہوئی اور جبل قاسیون دفن کیے گئے۔’’مشہور زمانہ‘‘ آپ کی تاریخ وفا ت ہے۔
( حدائق الحنفیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-abul-muzaffar-shamsuddin-yousuf-baghdadi
scholars.pk
Hazrat Sheikh Abul Muzaffar Shamsuddin Yousuf Baghdadi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1