🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
سید عبد اللہ شاہ غازی رحمۃ اللہ علیہ نام و نسب: آپ کا اسمِ گرامی سید عبد اللہ، کنیت ابو محمد اور لقب الاشتر ہے۔ آپ کا سلسلہ نسب پانچویں پشت میں حضرت سیدنا امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ عنہ سے جاکر ملتا ہے۔ پورا سلسلہ نسب یوں ہے: سید عبد اللہ بن سید…
سید عبد اللہ شاہ غازی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
آپ کا اسمِ گرامی سید عبد اللہ، کنیت ابو محمد اور لقب الاشتر ہے۔
آپ کا سلسلہ نسب پانچویں پشت میں حضرت سیدنا امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ عنہ سے جاکر ملتا ہے۔
پورا سلسلہ نسب یوں ہے:
سید عبد اللہ بن سید محمد ذو النفس الذکیہ بن سید عبد اللہ المحض بن سید حسن مثنیٰ بن سیدنا امام حسن بن علی (رضی اللہ تعالٰی عنہم)
تاریخ و مقامِ ولادت:
آپ کی ولادتِ باسعادت 98 ھ مدینۃ المنورہ میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
آپ کی تعلیم و تربیت اپنے والد محترم حضرت سید محمد نفس ذکیہ کے زیرِ سایہ ہوئی ۔ علمِ حدیث میں ملکہ تام رکھتے تھے ۔ بعض مصنفین نے آپ کو محدثین میں شمار کیا ۔
سیرت و خصائص:
سید عبد اللہ شاہ غازی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ پیکرِ علم و عمل تھے ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کی رضا پر آپ کی خاص توجہ مرکوز تھی ۔ مخلوق کی رہنمائی کرنے میں بھی آپ نے کامل توجہ دی، اور خدا کے خدائی کی ایک تعداد تھی جو آپ کے فیض سے مستفیض ہوئی ۔
آپ ہی کی ذاتِ گرامی وادی سندھ میں سادات کی وہ قدیم ترین شخصیت ہیں کہ جنہوں نے وادی سندھ میں اسلام کو متعارف کرایا ۔ آپ نے کئی لوگوں کو اسلام کی تعلیمات سے متعارف کرا کر دائرہ اسلام میں داخل کیا ـ
آج سندہ میں جو اسلام کا جھنڈا لہرا رہا ہے وہ آپ ہی کی مرہونِ منت ہے ۔ آپ کو خلافت سے زیادہ اسلام کی تبلیغ و اشاعت عزیز تھی جس کے خاطر آپ سر زمین سندھ میں وارد ہوئے ۔
عموماً پورا سندھ اور خصوصاً کراچی کی شہرت بھی در حقیقت آپ کی ذاتِ گرامی کا صدقہ ہے ۔ (یہ انہیں بزرگانِ دین کا فیضان ہے آج ہم سرکارِ دو عالم ﷺ کے نام کا کلمہ پڑھنے والے ہیں ۔ اگر یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے اولیاء یہاں تشریف نہیں لاتے تو ہم نہ جانے کس باطل مذہب کی پیروی کر رہے ہوتے ۔
آج انہیں کی بدولت ہم نے اللہ تعالی کو پہچانا اس کے حبیب ﷺ کی معرفت حاصل کی، ابدی جہنم کے عذاب سے نجات پائی ۔ اللہ کے اولیاء کے اس احسان کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے بلکہ ہما وقت اس بات کو اپنے ذہنوں میں رکھنا چاہئے۔
اور ان کے مزار پر انوار پر عقیدت و احترام اور شریعت کے دائرے میں رہ کر حاضری دینا چاہئے اور جتنا ہو سکے ان کی بارگاہ میں ایصالِ ثواب کرنا چاہئے۔
وصال:
آپ کا وصال 20 ذو الحجہ 151 ھ / بمطابق جنوری 769 ء کو ہوا۔
عرس مبارک:
آپ رحمۃ اللہ علیہ کا عرس بڑے شاندار طریقے سے بڑے اہتمام اور بہت نظم و ضبط کے ساتھ 20,21,22 ذو الحجہ کو عقیدت و احترام کے ساتھ کراچی کلفٹن میں منایا جاتا ہے۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اولیاء سندھ
https://scholars.pk/ur/scholar/gotodate?bd=2&day=20&month=12&year=
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abdullah-shah-ghazi
نام و نسب:
آپ کا اسمِ گرامی سید عبد اللہ، کنیت ابو محمد اور لقب الاشتر ہے۔
آپ کا سلسلہ نسب پانچویں پشت میں حضرت سیدنا امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ عنہ سے جاکر ملتا ہے۔
پورا سلسلہ نسب یوں ہے:
سید عبد اللہ بن سید محمد ذو النفس الذکیہ بن سید عبد اللہ المحض بن سید حسن مثنیٰ بن سیدنا امام حسن بن علی (رضی اللہ تعالٰی عنہم)
تاریخ و مقامِ ولادت:
آپ کی ولادتِ باسعادت 98 ھ مدینۃ المنورہ میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
آپ کی تعلیم و تربیت اپنے والد محترم حضرت سید محمد نفس ذکیہ کے زیرِ سایہ ہوئی ۔ علمِ حدیث میں ملکہ تام رکھتے تھے ۔ بعض مصنفین نے آپ کو محدثین میں شمار کیا ۔
سیرت و خصائص:
سید عبد اللہ شاہ غازی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ پیکرِ علم و عمل تھے ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کی رضا پر آپ کی خاص توجہ مرکوز تھی ۔ مخلوق کی رہنمائی کرنے میں بھی آپ نے کامل توجہ دی، اور خدا کے خدائی کی ایک تعداد تھی جو آپ کے فیض سے مستفیض ہوئی ۔
آپ ہی کی ذاتِ گرامی وادی سندھ میں سادات کی وہ قدیم ترین شخصیت ہیں کہ جنہوں نے وادی سندھ میں اسلام کو متعارف کرایا ۔ آپ نے کئی لوگوں کو اسلام کی تعلیمات سے متعارف کرا کر دائرہ اسلام میں داخل کیا ـ
آج سندہ میں جو اسلام کا جھنڈا لہرا رہا ہے وہ آپ ہی کی مرہونِ منت ہے ۔ آپ کو خلافت سے زیادہ اسلام کی تبلیغ و اشاعت عزیز تھی جس کے خاطر آپ سر زمین سندھ میں وارد ہوئے ۔
عموماً پورا سندھ اور خصوصاً کراچی کی شہرت بھی در حقیقت آپ کی ذاتِ گرامی کا صدقہ ہے ۔ (یہ انہیں بزرگانِ دین کا فیضان ہے آج ہم سرکارِ دو عالم ﷺ کے نام کا کلمہ پڑھنے والے ہیں ۔ اگر یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے اولیاء یہاں تشریف نہیں لاتے تو ہم نہ جانے کس باطل مذہب کی پیروی کر رہے ہوتے ۔
آج انہیں کی بدولت ہم نے اللہ تعالی کو پہچانا اس کے حبیب ﷺ کی معرفت حاصل کی، ابدی جہنم کے عذاب سے نجات پائی ۔ اللہ کے اولیاء کے اس احسان کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے بلکہ ہما وقت اس بات کو اپنے ذہنوں میں رکھنا چاہئے۔
اور ان کے مزار پر انوار پر عقیدت و احترام اور شریعت کے دائرے میں رہ کر حاضری دینا چاہئے اور جتنا ہو سکے ان کی بارگاہ میں ایصالِ ثواب کرنا چاہئے۔
وصال:
آپ کا وصال 20 ذو الحجہ 151 ھ / بمطابق جنوری 769 ء کو ہوا۔
عرس مبارک:
آپ رحمۃ اللہ علیہ کا عرس بڑے شاندار طریقے سے بڑے اہتمام اور بہت نظم و ضبط کے ساتھ 20,21,22 ذو الحجہ کو عقیدت و احترام کے ساتھ کراچی کلفٹن میں منایا جاتا ہے۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اولیاء سندھ
https://scholars.pk/ur/scholar/gotodate?bd=2&day=20&month=12&year=
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abdullah-shah-ghazi
scholars.pk
Search by Date
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
19-12-1444 ᴴ | 08-07-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
20-12-1444 ᴴ | 09-07-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
20-12-1444 ᴴ | 09-07-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
20-12-1444 ᴴ | 09-07-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1