قد ہوتے ہیں اور ایک تذکرہ ’’میخانہ جامی‘‘ شائع کیا ہے جو سلسلہ جامی سے منسلک شعراء کے حالات پر مشتمل ہے۔
تصنیف و تالیف:
اس شعبہ میں آپ نے منظوم کام کیا۔ آپ کی شاعری کا بڑا حصہ نعت اور منقبت پر مشتمل ہے۔
٭ زاد آخرت ، مرتبہ قدیر صدیقی، مطبوعہ کراچی ۱۹۹۱ء
اس مجموعے می نحمد کے بعد نعتیہ غزلیں ہیں۔ پھر قصیدے، خمسے، نظمیں ، مناجات اور رباعیات وغیرہ ہیں۔
شاعری:
ڈاکٹر فرمان علی فتح پوری آپ کی شاعری کے متعلق اپنے تاثرات میں لکھتے ہیں :
’’جامی بدایو نی کے یہاں سیرت محمد ی اور شمائل نبوی کے بیان میں جو لطافت و حلاوت درآئی ہے وہ تو اپنی جگہ ان کے کمالات فن کا حیرت انگیز اظہار ہے ہی لیکن اس اظہار میں محبت کی جو تڑپ، روح کی جو نے چینی ، دل و نظر کی جو وارفتگی ، طبیعت کی جو عاجزی و فتادگی ، جسم وجاں کی جو سپردگی ، احساس ذات کی گمشدگی اور لب و لہجے کی جو شائستگی و پاکیز گی نظر آتی ہے وہ کی ایسی انفرادیت ہے جو حضور ﷺ کی ذات گرامی سے والہانہ شیفتگی و توفیق الہی کے بغیر آدمی کو میسر نہیں آتی ‘‘۔
ڈاکٹر ابوالخیر کشفی (کراچی ) لکھتے ہیں :
’’ان کے رب نے ان کی ذات میں کئی شخصیتیں جمع فرما دی تھیں ۔ وہ عالم تھے صاحب تقویٰ مسلمان تھے ، اچھے شاعر تھے ۔ ان کے عشق رسول اور شاعر ی کے ذوق نے ان کی نعت گوئی میں اپنا اظہار پایا‘‘۔
انتخاب کلام:
بزم جہاں میں بادہ اطہر کی ہے تلاش
یعنی نگاہ قاسم کوثر کی ہے تلاش
ان کا جمال دیکھ کر بند ہو چشم شوق اگر
سوئیں صباح حشر تک چین سے ہم مزار میں
شب معراج بے پردہ ہوئیں اللہ سے باتیں
مگر وہ کیا ہوئیں کیسے ہوئیں پردہ ہی پردا ہے
تمہاری غیب دانی بخشش علم الہی ہے
تمہیں معلوم ہے ہر بات پوشیدہ زمانے کی
اس لئے آپ ہوئے شکل بشر میں ظاہر
قسمت خاک میں تھا نور کا پیکر ہونا
کفن پہناو تو خاک مدینہ رخ پہ مل دینا
یہی بس ایک صورت ہے خدا کو منہ دکھانے کی
رچی عالم شادی ، مچی ہیں دھومیں زمین پر اور آسماں پر
مکین عالم شہ دو عالم ، مکاں سے پہنچے میں لامکاں پر
تھی محفل توحید وہاں، ذکر دوئی کیا
انوار تھے انوار کے مہماں شب معراج
علیم و عالم علم لدنی نام کے امی
خبردار حقیقت، مخبر سادق خبر آئے
ثانی ہے کہاں کوئی سلطان رسالت کا
ساقی بھی یگانہ ہے مے خانہ وحدت کا
نبی اور یاران نبی میں فرق ہے اتنا
نبی اللہ کے نائب ہیں ، یہ نائب نبی کے ہیں
علاقہ قطبیت کا ، غوثیت کا ، کاملیت کا
بہ فضل حضرت باری بنام غوث اعظم کا
وصال :مولانا محمد عبدالجامع جامی صدیقی ۱۹، ذوالحجہ ۱۳۸۴ھ؍۲۲اپریل ۱۹۶۵ء بروز بوقت بعمر ۸۵ سال و اصل بحق ہو ئے ۔ غالبا مجاہد ملت حضرت علامہ عبدالحامد بدایونی نے جنازہ کی امامت کے فرائض انجام دیئے ۔ لیاقت آباد بی ایریا قبرستان میں تدفین عمل میں آئی ۔ جناب محمد ابرار علی صدیقی بدایونی نے قطعہ تاریخ وصال کہا:
ہوئے مرحوم حضرت جامی
مل گیا ہے وصال حق ان کو
فکر تاریخ ارتحال ہے کیا
برملا مہر مغفرت دیکھو
۱۹۶۵ء
[محترم الحاھ شمیم الدین صاحب کا مشکور ہوں کہ جنہوں نے زاد آخرت اور تزکرہ شعرائے بدایوں برائے مطالعہ فراہم کی، جس سے حالات ترتیب دیئے گئے۔]
جاتی کے قاضی علماء
جاتی کے قاضی (مفتی )علماء کی دینی علمی ادبی اور فکری خدمات ہیں ۔ انہوں نے اپنے دور میں اسلام و سنیت کی تحریری تدریسی اور عدل و انصاف کے ذریعے عظیم خدمات سر انجام دی ہیں جو کہ اپنوں کی غفلت کی وجہ سے تاریخ کا حصہ نہ بن سکیں ۔ یہ قاضی حضرات کلہوڑ ا قوم سے تعلق رکھتے ہیں ۔ اصل میں حیدر آباد کے رہائشی تھے ۔ مغل دور حکومت تا میروں کے دور حکومت تک حیدرآباد میں مسد قضا ء پر فائز المرام رہے ۔ اس کے بعد مختلف مقامات پر نقل مکانی کرتے ہوئے بالآخر جاتی میں آکر مستقل رہائش اختیار کی ۔
جہاں بھی رہے درس و تدریس سے وابستہ رہے ۔ قال اللہ و قال الرسول کی مجالس بر پا کر تے رہے ۔ قاضی علماء نہ فقط قاضی تھے بلکہ اپنے دور کے بہترین خوش خط بھی تھے اس کے علاوہ نادرو نایاب قلمی و مخطوطات پر مشتمل کتب خانہ بھی رکھتے تھے جو کہ دستبر د زمانہ کے زد میں آگیا اور ضائع ہو گیا ۔ اس خاندان کی مستورات کا پردہ ضرب المثل ہے ۔
۱۔ مولانا قاضی محمد اکبر
قاضی محمد اکبر بن عبداللطیف بن ضیاء الدین کلہوڑو عالم باعمل شخصیت کے حامل بزرگ تھے ۔ میر نصیر الدین خان ٹامپر حاکم حیدرآباد کے دور میں مسند قضاء (جج ) پر فائز تھے ۔قاضی کے علاوہ بہترین خوش نویس (کاتب ) بھی تھے ۔ میر نصیرالدین خان کے کہنے پر مشہور تاریخی کتاب ’’حبیب السیر ‘‘۱۱۹۶ھ کو تین جلدوں میں نقل کیا ۔ اس کے علاوہ ’’تاریخ خاقانی منظور ‘‘ اور دیگر نایاب کتب کو انہوں نے اپنے قلم سے نقل کیں ۔ تاریخ وفات معلام نہ ہو سکی البتہ گنجوٹکر (ضلع حیدرآباد) کے قبرستان میں آپ کا مزار واقع ہے ۔
تصنیف و تالیف:
اس شعبہ میں آپ نے منظوم کام کیا۔ آپ کی شاعری کا بڑا حصہ نعت اور منقبت پر مشتمل ہے۔
٭ زاد آخرت ، مرتبہ قدیر صدیقی، مطبوعہ کراچی ۱۹۹۱ء
اس مجموعے می نحمد کے بعد نعتیہ غزلیں ہیں۔ پھر قصیدے، خمسے، نظمیں ، مناجات اور رباعیات وغیرہ ہیں۔
شاعری:
ڈاکٹر فرمان علی فتح پوری آپ کی شاعری کے متعلق اپنے تاثرات میں لکھتے ہیں :
’’جامی بدایو نی کے یہاں سیرت محمد ی اور شمائل نبوی کے بیان میں جو لطافت و حلاوت درآئی ہے وہ تو اپنی جگہ ان کے کمالات فن کا حیرت انگیز اظہار ہے ہی لیکن اس اظہار میں محبت کی جو تڑپ، روح کی جو نے چینی ، دل و نظر کی جو وارفتگی ، طبیعت کی جو عاجزی و فتادگی ، جسم وجاں کی جو سپردگی ، احساس ذات کی گمشدگی اور لب و لہجے کی جو شائستگی و پاکیز گی نظر آتی ہے وہ کی ایسی انفرادیت ہے جو حضور ﷺ کی ذات گرامی سے والہانہ شیفتگی و توفیق الہی کے بغیر آدمی کو میسر نہیں آتی ‘‘۔
ڈاکٹر ابوالخیر کشفی (کراچی ) لکھتے ہیں :
’’ان کے رب نے ان کی ذات میں کئی شخصیتیں جمع فرما دی تھیں ۔ وہ عالم تھے صاحب تقویٰ مسلمان تھے ، اچھے شاعر تھے ۔ ان کے عشق رسول اور شاعر ی کے ذوق نے ان کی نعت گوئی میں اپنا اظہار پایا‘‘۔
انتخاب کلام:
بزم جہاں میں بادہ اطہر کی ہے تلاش
یعنی نگاہ قاسم کوثر کی ہے تلاش
ان کا جمال دیکھ کر بند ہو چشم شوق اگر
سوئیں صباح حشر تک چین سے ہم مزار میں
شب معراج بے پردہ ہوئیں اللہ سے باتیں
مگر وہ کیا ہوئیں کیسے ہوئیں پردہ ہی پردا ہے
تمہاری غیب دانی بخشش علم الہی ہے
تمہیں معلوم ہے ہر بات پوشیدہ زمانے کی
اس لئے آپ ہوئے شکل بشر میں ظاہر
قسمت خاک میں تھا نور کا پیکر ہونا
کفن پہناو تو خاک مدینہ رخ پہ مل دینا
یہی بس ایک صورت ہے خدا کو منہ دکھانے کی
رچی عالم شادی ، مچی ہیں دھومیں زمین پر اور آسماں پر
مکین عالم شہ دو عالم ، مکاں سے پہنچے میں لامکاں پر
تھی محفل توحید وہاں، ذکر دوئی کیا
انوار تھے انوار کے مہماں شب معراج
علیم و عالم علم لدنی نام کے امی
خبردار حقیقت، مخبر سادق خبر آئے
ثانی ہے کہاں کوئی سلطان رسالت کا
ساقی بھی یگانہ ہے مے خانہ وحدت کا
نبی اور یاران نبی میں فرق ہے اتنا
نبی اللہ کے نائب ہیں ، یہ نائب نبی کے ہیں
علاقہ قطبیت کا ، غوثیت کا ، کاملیت کا
بہ فضل حضرت باری بنام غوث اعظم کا
وصال :مولانا محمد عبدالجامع جامی صدیقی ۱۹، ذوالحجہ ۱۳۸۴ھ؍۲۲اپریل ۱۹۶۵ء بروز بوقت بعمر ۸۵ سال و اصل بحق ہو ئے ۔ غالبا مجاہد ملت حضرت علامہ عبدالحامد بدایونی نے جنازہ کی امامت کے فرائض انجام دیئے ۔ لیاقت آباد بی ایریا قبرستان میں تدفین عمل میں آئی ۔ جناب محمد ابرار علی صدیقی بدایونی نے قطعہ تاریخ وصال کہا:
ہوئے مرحوم حضرت جامی
مل گیا ہے وصال حق ان کو
فکر تاریخ ارتحال ہے کیا
برملا مہر مغفرت دیکھو
۱۹۶۵ء
[محترم الحاھ شمیم الدین صاحب کا مشکور ہوں کہ جنہوں نے زاد آخرت اور تزکرہ شعرائے بدایوں برائے مطالعہ فراہم کی، جس سے حالات ترتیب دیئے گئے۔]
جاتی کے قاضی علماء
جاتی کے قاضی (مفتی )علماء کی دینی علمی ادبی اور فکری خدمات ہیں ۔ انہوں نے اپنے دور میں اسلام و سنیت کی تحریری تدریسی اور عدل و انصاف کے ذریعے عظیم خدمات سر انجام دی ہیں جو کہ اپنوں کی غفلت کی وجہ سے تاریخ کا حصہ نہ بن سکیں ۔ یہ قاضی حضرات کلہوڑ ا قوم سے تعلق رکھتے ہیں ۔ اصل میں حیدر آباد کے رہائشی تھے ۔ مغل دور حکومت تا میروں کے دور حکومت تک حیدرآباد میں مسد قضا ء پر فائز المرام رہے ۔ اس کے بعد مختلف مقامات پر نقل مکانی کرتے ہوئے بالآخر جاتی میں آکر مستقل رہائش اختیار کی ۔
جہاں بھی رہے درس و تدریس سے وابستہ رہے ۔ قال اللہ و قال الرسول کی مجالس بر پا کر تے رہے ۔ قاضی علماء نہ فقط قاضی تھے بلکہ اپنے دور کے بہترین خوش خط بھی تھے اس کے علاوہ نادرو نایاب قلمی و مخطوطات پر مشتمل کتب خانہ بھی رکھتے تھے جو کہ دستبر د زمانہ کے زد میں آگیا اور ضائع ہو گیا ۔ اس خاندان کی مستورات کا پردہ ضرب المثل ہے ۔
۱۔ مولانا قاضی محمد اکبر
قاضی محمد اکبر بن عبداللطیف بن ضیاء الدین کلہوڑو عالم باعمل شخصیت کے حامل بزرگ تھے ۔ میر نصیر الدین خان ٹامپر حاکم حیدرآباد کے دور میں مسند قضاء (جج ) پر فائز تھے ۔قاضی کے علاوہ بہترین خوش نویس (کاتب ) بھی تھے ۔ میر نصیرالدین خان کے کہنے پر مشہور تاریخی کتاب ’’حبیب السیر ‘‘۱۱۹۶ھ کو تین جلدوں میں نقل کیا ۔ اس کے علاوہ ’’تاریخ خاقانی منظور ‘‘ اور دیگر نایاب کتب کو انہوں نے اپنے قلم سے نقل کیں ۔ تاریخ وفات معلام نہ ہو سکی البتہ گنجوٹکر (ضلع حیدرآباد) کے قبرستان میں آپ کا مزار واقع ہے ۔
❤1
۲۔ قاضی محمد منٹھار
ایک متقی عالم دین اور صاحب نسبت بزرگ تھے ۔ بتاتے ہیں کہ ایک بار ان پر فنائیت کی ایسی کیفیت طاری ہوئی جس سے دنیا جز ہے کہ مسجد میں نماز ادا کرتے ہوئے سجدہ میں چلے گئے اور ایسا چلے گئے کہ اٹھنے کا نام ہی نہیں بالااخر لوگوں نے اٹھا کر مسجد شریف کے ایک کونے میں رکھ دیا جہاں انہیں بحالت سجدہ چھ ماہ گزرگئے ۔ چھ ماہ کے بعد آپ کی کیفیت پوری ہوئی تو نماز سے باہر آئے لیکن فنافی اللہ کے مقام پر فائز ہونے کے چند روز بعد آپ نے انتقال کیا ۔ آپ کا مزار شریف سیرانی ضلع بدین میں واقع ہے ۔
۳۔قاضی گل محمد
بہترین خطاط اور نامور عالم و فاضل تھے ۔ تاریخ ’’روضۃالشھداء ‘‘ فارسی کا نقل ۱۲۵۰ ھ کو تیار کیا ۔ اس کے علاوہ بھی علمی ادبی اور فکری کاوشیں ہو ں گی لیکن اپنوں کی عدم الچسپی اور تاریخی اہمیت سے غفلت کی وجہ سے محفوظ نہ ہو سکیں ۔ آپ کا مزار مبارک شاہ بندر کے پر انہ مقام ’’دیرہ پرانہ ‘‘ میں واقع ہے ۔
۴۔ قاضی کمال الدین
ایک عالم دین و شاعر تھے ۔ آپ کی ذہنی تخلیقات میں سے ایک کتاب محفوظ ہے ۔ شیخ سلامت اللہ فاروقی قادری المعروف شیخ مغل (متوفی ۶۰۱ھ) کی درگاہ شریف جاتی (ضلع ٹھٹھہ) میں قائم اورمرجع خلائق ہے ۔ آپ کی ملفوظات ’’مقصود العارفین ‘‘ جس کو آپ کے خلیفہ مخدوم آری نے فارسی میں قلمبند کیا تھا ۔ قاضی کمال الدین نے مقصود العارفین کا ۱۲۸۶ھ کو سندھی نظم میں منتقل کیا اور اس کا نام ’’مقصود العاشقین ‘‘ تجویز کیا ۔ آپ کا مزار شریف درگاہ شیخ مغل کے متصل قبرستان میں ہے۔
۵۔قاضی محمد بلال
مولانا قاضی محمد بلال بن قاضی گل محمد اپنے سلف کی طرح علم و ادب کے پیکر تھے ۔ مشہور بزرگ و صو فی شاعر حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی ؒ کی کتاب ’’شاہ جو رسالو ‘‘ پر دسترس رکھتے تھے ۔ فارسی میں شاعری بھی آپ کی یاد گار ہے ۔ غالبا۹۵؍۱۹۹۴ء کو انتقال کیا ۔ شاہ بندر کے پرانہ مقام ’’دیرہ پرانہ کے قبرستان میں مزار واقع ہے ۔
۶۔ قاضی محمد سعید
ایک مانے ہوئے عالم دین ، اچھے اوصاف کے مالک اور عظیم خطاط تھے ۔ آپ کا مزار حضرت شیخ مغل کے متصل قبرستان میں واقع ہے۔
۷۔قاضی عبدالکریم
مولانا قاضی عبدالکریم بن قاضی محمد سعید ۱۸۸۲ء کو جاتی شہر میں تولد ہوئے ۔ تعلیم و تربیت اپنے والد محترم سے حاصل کرکے فارغ التحصیل ہوئے ۔صاحب علم و فضل کے علاوہ خوش مزاج انسان تھے ۔ تحریک خلافت میں بھی کام کیا لیکن زندگی نے وفانہ کی اور جلد ۱۹۲۵ء کو ۴۳ سال کی عمر میں انتقال کیا ۔
آپ کا مزار اپنے والد ماجد کے برابر میں درگاہ شیخ مغل تحصیل جاتی میں واقع ہے۔
[محترم حافظ حبیب سندھی (چوہڑ جمالی ) کے مضمون ‘‘جاتی کے قاضی خاندان کی علمی خدمات ( سندھی ) مطبوعہ مجلہ ’’سندھ‘‘ (سندھی ) حیدرآباد مئی ۱۹۹۲ء سے ماخوذہے ]
مولانا جمال الدین ابڑو
مولانا جمال الدین بن مولانا مفتی ابوالجمال خدا بخش ابڑو، گوٹھ ملا ابڑو ، اسٹیشن مشوری شریف ضلع لاڑکانہ میں ۱۹۰۹ ء کو تولد ہوئے ۔
تعلیم و تربیت:
اول تا آخر تعلیم مدرسہ الفیض سو نہ جتوئی ضلع لاڑکانہ میں صدر العلماء سرتاج الفقہاء علامہ مفتی ابوا لفیض غلام عمر جتوئی قادری قدس سرہسے حاصل کی۔
بیعت:
حضرت سید غلام تضی شاہ جیلانی (درگاہ جیلانیہ گمبٹ ضلع خیر پور میرس) سے سلسلہ عالیہ قادریہ میں بیعت ہوئے ۔
شروع میں رئیس گل محمد مگسی کے گوٹھ نزد سر ہاری ضلع سانگھڑ میں پندرہ (۱۵ ) سال درس دیا ۔ اس کے بعد درگاہ مرتضائیہ جیلانیہ گمبٹ (ضلع خیر پور میرس ) میں امام و مدرس کے فرائض انجام دئیے ۔ آخر میں گوٹھ واپس آکر ملا ابڑا کی درسگاہ دارالسعادات میں درس دیا ۔
وصال:
مولانا جمال الدین ابڑو نے ۱۹۸۴ء کو انتقال کیا اور تاج السالکین شیخ بریقت مولانا میاں علی محمد مشوریؒ سجادہ نشین اول مشوری شریف نے نماز جنازہ کی امامت فرمائی اور آبائی قبرستان میں تدفین عمل میں آئی ۔
( انوارِعلماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-alhaj-molana-abdul-jamay-jami-siddiqui
ایک متقی عالم دین اور صاحب نسبت بزرگ تھے ۔ بتاتے ہیں کہ ایک بار ان پر فنائیت کی ایسی کیفیت طاری ہوئی جس سے دنیا جز ہے کہ مسجد میں نماز ادا کرتے ہوئے سجدہ میں چلے گئے اور ایسا چلے گئے کہ اٹھنے کا نام ہی نہیں بالااخر لوگوں نے اٹھا کر مسجد شریف کے ایک کونے میں رکھ دیا جہاں انہیں بحالت سجدہ چھ ماہ گزرگئے ۔ چھ ماہ کے بعد آپ کی کیفیت پوری ہوئی تو نماز سے باہر آئے لیکن فنافی اللہ کے مقام پر فائز ہونے کے چند روز بعد آپ نے انتقال کیا ۔ آپ کا مزار شریف سیرانی ضلع بدین میں واقع ہے ۔
۳۔قاضی گل محمد
بہترین خطاط اور نامور عالم و فاضل تھے ۔ تاریخ ’’روضۃالشھداء ‘‘ فارسی کا نقل ۱۲۵۰ ھ کو تیار کیا ۔ اس کے علاوہ بھی علمی ادبی اور فکری کاوشیں ہو ں گی لیکن اپنوں کی عدم الچسپی اور تاریخی اہمیت سے غفلت کی وجہ سے محفوظ نہ ہو سکیں ۔ آپ کا مزار مبارک شاہ بندر کے پر انہ مقام ’’دیرہ پرانہ ‘‘ میں واقع ہے ۔
۴۔ قاضی کمال الدین
ایک عالم دین و شاعر تھے ۔ آپ کی ذہنی تخلیقات میں سے ایک کتاب محفوظ ہے ۔ شیخ سلامت اللہ فاروقی قادری المعروف شیخ مغل (متوفی ۶۰۱ھ) کی درگاہ شریف جاتی (ضلع ٹھٹھہ) میں قائم اورمرجع خلائق ہے ۔ آپ کی ملفوظات ’’مقصود العارفین ‘‘ جس کو آپ کے خلیفہ مخدوم آری نے فارسی میں قلمبند کیا تھا ۔ قاضی کمال الدین نے مقصود العارفین کا ۱۲۸۶ھ کو سندھی نظم میں منتقل کیا اور اس کا نام ’’مقصود العاشقین ‘‘ تجویز کیا ۔ آپ کا مزار شریف درگاہ شیخ مغل کے متصل قبرستان میں ہے۔
۵۔قاضی محمد بلال
مولانا قاضی محمد بلال بن قاضی گل محمد اپنے سلف کی طرح علم و ادب کے پیکر تھے ۔ مشہور بزرگ و صو فی شاعر حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی ؒ کی کتاب ’’شاہ جو رسالو ‘‘ پر دسترس رکھتے تھے ۔ فارسی میں شاعری بھی آپ کی یاد گار ہے ۔ غالبا۹۵؍۱۹۹۴ء کو انتقال کیا ۔ شاہ بندر کے پرانہ مقام ’’دیرہ پرانہ کے قبرستان میں مزار واقع ہے ۔
۶۔ قاضی محمد سعید
ایک مانے ہوئے عالم دین ، اچھے اوصاف کے مالک اور عظیم خطاط تھے ۔ آپ کا مزار حضرت شیخ مغل کے متصل قبرستان میں واقع ہے۔
۷۔قاضی عبدالکریم
مولانا قاضی عبدالکریم بن قاضی محمد سعید ۱۸۸۲ء کو جاتی شہر میں تولد ہوئے ۔ تعلیم و تربیت اپنے والد محترم سے حاصل کرکے فارغ التحصیل ہوئے ۔صاحب علم و فضل کے علاوہ خوش مزاج انسان تھے ۔ تحریک خلافت میں بھی کام کیا لیکن زندگی نے وفانہ کی اور جلد ۱۹۲۵ء کو ۴۳ سال کی عمر میں انتقال کیا ۔
آپ کا مزار اپنے والد ماجد کے برابر میں درگاہ شیخ مغل تحصیل جاتی میں واقع ہے۔
[محترم حافظ حبیب سندھی (چوہڑ جمالی ) کے مضمون ‘‘جاتی کے قاضی خاندان کی علمی خدمات ( سندھی ) مطبوعہ مجلہ ’’سندھ‘‘ (سندھی ) حیدرآباد مئی ۱۹۹۲ء سے ماخوذہے ]
مولانا جمال الدین ابڑو
مولانا جمال الدین بن مولانا مفتی ابوالجمال خدا بخش ابڑو، گوٹھ ملا ابڑو ، اسٹیشن مشوری شریف ضلع لاڑکانہ میں ۱۹۰۹ ء کو تولد ہوئے ۔
تعلیم و تربیت:
اول تا آخر تعلیم مدرسہ الفیض سو نہ جتوئی ضلع لاڑکانہ میں صدر العلماء سرتاج الفقہاء علامہ مفتی ابوا لفیض غلام عمر جتوئی قادری قدس سرہسے حاصل کی۔
بیعت:
حضرت سید غلام تضی شاہ جیلانی (درگاہ جیلانیہ گمبٹ ضلع خیر پور میرس) سے سلسلہ عالیہ قادریہ میں بیعت ہوئے ۔
شروع میں رئیس گل محمد مگسی کے گوٹھ نزد سر ہاری ضلع سانگھڑ میں پندرہ (۱۵ ) سال درس دیا ۔ اس کے بعد درگاہ مرتضائیہ جیلانیہ گمبٹ (ضلع خیر پور میرس ) میں امام و مدرس کے فرائض انجام دئیے ۔ آخر میں گوٹھ واپس آکر ملا ابڑا کی درسگاہ دارالسعادات میں درس دیا ۔
وصال:
مولانا جمال الدین ابڑو نے ۱۹۸۴ء کو انتقال کیا اور تاج السالکین شیخ بریقت مولانا میاں علی محمد مشوریؒ سجادہ نشین اول مشوری شریف نے نماز جنازہ کی امامت فرمائی اور آبائی قبرستان میں تدفین عمل میں آئی ۔
( انوارِعلماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-alhaj-molana-abdul-jamay-jami-siddiqui
scholars.pk
Hazrat Alhaj Molana Abdul Jamay Jami Siddiqui
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت علامہ مفتی محمد یوسف سہالوی فرنگی محلی علیہ الرحمہ
اسمِ گرامی: محمد یوسف ۔ نسب: حضرت علامہ مفتی محمد یوسف سہالوی فرنگی محلی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا سلسلۂ نسب یہ ہے:
مفتی محمد یوسف بن مفتی محمد اصغر بن مفتی ابی الرحیم بن مولانا محمد یعقوب بن مولانا عبد العزیز بن مولانا سعید بن مولانا قطب الدین الشہید السہالوی(رحمۃ اللہ تعالٰی علیہم اجمعین)۔
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے آبا و اَجداد اپنے وقت کے جیّد علمائے کرام اور اجلّہ مشائخ تھے۔ آپ کے دادا مفتی ابی الرحیم، جو ستاسی (۸۷)سے زائد کتب کے مصنّف تھے، باندہ میں ذیقعدہ ۱۲۶۴ھ کو پیدا ہوئے تھے اور اُن کی وفات لکھنؤ میں ۱۹؍ربیع الاوّل ۱۳۰۴ھ،کو ہوئی۔ (تذکرہ علمائے ہند)
ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1223ھ/بمطابق 1808ء کو ہوئی۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم سے لیکر آخر تک اکثر کتب اپنے والدِ گرامی مفتی محمد اصغر علیہ الرحمہ سے پڑھیں۔کچھ کتب مولانا مفتی محمد ظہور اللہ، مولانا احمد انوار الحق اور اپنے بھائی مولانا نوراللہ سے پڑھیں،اور اس وقت کے کاملین میں شمار ہوئے۔
بیعت و خلافت:
آپ نے اپنے استادِ محترم حضرت مولانا احمد انوار الحق (متوفّٰی ۲۶؍شعبان ۱۲۳۶ھ) کے ہاتھ پر بیعت کی۔
سیرت و خصائص:
مولانا فقیر محمد جہلمی فرماتے ہیں:
مفتی محمدیوسف اپنے زمانے کے جمال و کمال میں یوسف اور جامعِ فروع واصول اور ہاویِ معقول و منقول، متعب، متہجد، صاحبِ ریاضت و مجاہدت و مکاشفہ تھے۔ ۔ والدِ ماجد کی وفات کےبعدلکھنؤ کی عدالت وافتاء کا کام آپ کے سپرد ہوا جس کو آپ نےبڑی دیانت کے ساتھ زمانۂ غدر ہند تک سر انجام دیا، پھر جونپور میں مدرسۂ حاجی امام بخش کے مدرس مقرر ہوئے جہان ۱۲۸۶ھ تک افادۂ خلق اللہ میں مشغول رہے۔ دن رات طلبہ کی تعلیم میں مشغول رہتے تھے ہیں۔ علوم وفنون میں امامت کا منصب رکھتے تھے، اکثر علمائے فرنگی محل کا سلسلۂ تلمذ آپ سے وابستہ ہے۔
تصنیفات:
مفتی محمد یوسف تدریس کے ساتھ تصنیف بھی فرماتے تھے۔ بہت سی کتب پر حواشی تحریر فرمائے۔آپ کی مشہور تصنیفات (تعلیقات و حواشی) کے نام درجِ ذیل ہیں:
تعلیقاتِ صحیح بخاری
تعلیقاتِ تفسیر بیضاوی
حواشی شرح مسلم ملا حسن
حواشی شرح سلم قاضی مبارک
حواشی شرح شمس بازغہ
تکملہ حواشی شمس بازغہ ملا حسن
حواشی شرح وقایہ( نا مکمل)۔
وصال:
ماہِ شعبان ۱۲۸۶ھ میں، مفتی محمد یوسف جونپور سے حرمین شریفین حاضر ہوئے اور جب حج کر کے مدینۂ منوّرہ کی طرف روانہ ہوئے تو راستے میں اسہالِ کبدی میں مبتلا ہو گئے، اور پھر مدینے شریف پہنچتے ہی شنبہ (ہفتہ) کے روز، ۱۹؍ ذی الحجہ ۱۲۸۶ھ مطابق فروری 1870ء کو،آپ نے وفات پائی۔ ’’فاضل دانش پروہ‘‘ تاریخِ وفات ہے۔
تدفین:
آپ کو جنّت البقیع شریف میں، حضرت سیّدنا امام حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ کے مزار شریف کے قریب دفن کیا گیا۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علماء اہلِ سنت۔ حدائق الحنفیہ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-mufti-mohammad-yousuf-farngi
اسمِ گرامی: محمد یوسف ۔ نسب: حضرت علامہ مفتی محمد یوسف سہالوی فرنگی محلی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا سلسلۂ نسب یہ ہے:
مفتی محمد یوسف بن مفتی محمد اصغر بن مفتی ابی الرحیم بن مولانا محمد یعقوب بن مولانا عبد العزیز بن مولانا سعید بن مولانا قطب الدین الشہید السہالوی(رحمۃ اللہ تعالٰی علیہم اجمعین)۔
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے آبا و اَجداد اپنے وقت کے جیّد علمائے کرام اور اجلّہ مشائخ تھے۔ آپ کے دادا مفتی ابی الرحیم، جو ستاسی (۸۷)سے زائد کتب کے مصنّف تھے، باندہ میں ذیقعدہ ۱۲۶۴ھ کو پیدا ہوئے تھے اور اُن کی وفات لکھنؤ میں ۱۹؍ربیع الاوّل ۱۳۰۴ھ،کو ہوئی۔ (تذکرہ علمائے ہند)
ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1223ھ/بمطابق 1808ء کو ہوئی۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم سے لیکر آخر تک اکثر کتب اپنے والدِ گرامی مفتی محمد اصغر علیہ الرحمہ سے پڑھیں۔کچھ کتب مولانا مفتی محمد ظہور اللہ، مولانا احمد انوار الحق اور اپنے بھائی مولانا نوراللہ سے پڑھیں،اور اس وقت کے کاملین میں شمار ہوئے۔
بیعت و خلافت:
آپ نے اپنے استادِ محترم حضرت مولانا احمد انوار الحق (متوفّٰی ۲۶؍شعبان ۱۲۳۶ھ) کے ہاتھ پر بیعت کی۔
سیرت و خصائص:
مولانا فقیر محمد جہلمی فرماتے ہیں:
مفتی محمدیوسف اپنے زمانے کے جمال و کمال میں یوسف اور جامعِ فروع واصول اور ہاویِ معقول و منقول، متعب، متہجد، صاحبِ ریاضت و مجاہدت و مکاشفہ تھے۔ ۔ والدِ ماجد کی وفات کےبعدلکھنؤ کی عدالت وافتاء کا کام آپ کے سپرد ہوا جس کو آپ نےبڑی دیانت کے ساتھ زمانۂ غدر ہند تک سر انجام دیا، پھر جونپور میں مدرسۂ حاجی امام بخش کے مدرس مقرر ہوئے جہان ۱۲۸۶ھ تک افادۂ خلق اللہ میں مشغول رہے۔ دن رات طلبہ کی تعلیم میں مشغول رہتے تھے ہیں۔ علوم وفنون میں امامت کا منصب رکھتے تھے، اکثر علمائے فرنگی محل کا سلسلۂ تلمذ آپ سے وابستہ ہے۔
تصنیفات:
مفتی محمد یوسف تدریس کے ساتھ تصنیف بھی فرماتے تھے۔ بہت سی کتب پر حواشی تحریر فرمائے۔آپ کی مشہور تصنیفات (تعلیقات و حواشی) کے نام درجِ ذیل ہیں:
تعلیقاتِ صحیح بخاری
تعلیقاتِ تفسیر بیضاوی
حواشی شرح مسلم ملا حسن
حواشی شرح سلم قاضی مبارک
حواشی شرح شمس بازغہ
تکملہ حواشی شمس بازغہ ملا حسن
حواشی شرح وقایہ( نا مکمل)۔
وصال:
ماہِ شعبان ۱۲۸۶ھ میں، مفتی محمد یوسف جونپور سے حرمین شریفین حاضر ہوئے اور جب حج کر کے مدینۂ منوّرہ کی طرف روانہ ہوئے تو راستے میں اسہالِ کبدی میں مبتلا ہو گئے، اور پھر مدینے شریف پہنچتے ہی شنبہ (ہفتہ) کے روز، ۱۹؍ ذی الحجہ ۱۲۸۶ھ مطابق فروری 1870ء کو،آپ نے وفات پائی۔ ’’فاضل دانش پروہ‘‘ تاریخِ وفات ہے۔
تدفین:
آپ کو جنّت البقیع شریف میں، حضرت سیّدنا امام حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ کے مزار شریف کے قریب دفن کیا گیا۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علماء اہلِ سنت۔ حدائق الحنفیہ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-mufti-mohammad-yousuf-farngi
scholars.pk
Hazrat Molana Mufti Mohammad Yousuf Farngi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
زبدۃُ السالکین صوفی مولانا خالد علی خاں قادری رضوی مھتمم دار العلوم مظہر اسلام مسجد بی بی جی صاحبہ بریلی ولادت: حضرت مولانا صوفی خالد علی خاں رضوی بن مولانا ساجد علی خاں بریلوی محلہ گڑھیار بریلی شریف میں ۱۸؍شعبان المعظم ۱۳۵۵ھ؍۱۹۳۶ء کو پیدا ہوئے۔ حضور مفتی…
حضرت علامہ شاہ مفتی محمد خالد رضا علی خان علیہ الرحمہ
نام و نسب:
حضرت مفتی خالد رضا علی خاں بن مولانا ساجد علی خاں بریلوی بن واجد علی خاں بن بخش اللہ (رحمۃ اللہ علیہم) ۔
تاریخ ولادت:
آپ کی ولادت 18 شعبان المعظم 1355ھ/ 1936ء کوبریلی شریف میں ہوئی ۔
محسن اہلسنت حضرت علامہ شاہ مفتی محمد خالد رضاعلی خان سرکار مفتیِ اعظم ہند مصطفٰی رضا خان نوری بریلوی کے خلیفہ اور نواسے تھے۔
حضور مفتی اعظم ہند قدس سرۂ نے چار سال کی عمر میں بسم اللہ خوانی سے کرائی، حضور مفتی اعظم ہند نے بوقت خلافت اپنے دست مبارک سےآپ کو حضور اعلیٰ حضرت کا عمامہ وجبہ شریف پہنایا اور دیگر تبرکات سے سرفراز فرمایا، حضور مفتی اعظم ہند نے خلافت سے نوازتے وقت جملہ سلاسلِ حقہ یعنی سلسلۂ قادریہ، چشتیہ ، نقشبندیہ، سہروردیہ کی اجازت مرحمت فرمائی، حضور مفتی اعظم ہند کے ساتھ دومرتبہ زیارت حرمین شریفین کاشرف حاصل ہوا، دوران سفر حضور مفتی اعظم ہند نے آپ کو نماز پڑھانے کا حکم فرمایا۔ آپ نے حضور مفتی اعظم ہند کی سرپرستی میں دارالعلوم مظہر اسلام میں سولہ (16) سال تک تشنگان علوم نبویہ کو علوم وفنون سے سیراب فرمایا، آپ یادگار ِحضور مفتی اعظم ہند دارالعلوم مظہر اسلام کے عہدۂ نظامت پرتیس (30) سال تک فائز رہ کر نمایاں خدمات انجام دیتے رہے، نیزآپ اپنی آخر عمرتک آسیب زدہ پریشان حال لوگوں کی دستگیری فرماتے رہے اور نقوش وتعویذات کے ذریعے پریشانیوں کاحل فرماتے رہے۔ آپ کو حضور صدر الشریعہ اور حضور مفتی اعظم ہند قدس سرھما کا تلمیذ رشید ہونے کا شرف بھی حاصل ہے۔
آپ زہد وتقویٰ حلم وبردباری صبر و رضا سادگی وسنجیدگی میں حضور مفتی اعظم ہند کے پیکر تھے۔
تاریخ وصال:
اور آپ کا وصال مبارک ۱۹ ذالحجۃ کو ہوا۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-shah-mufti-muhammad-khalid-raza-khan
نام و نسب:
حضرت مفتی خالد رضا علی خاں بن مولانا ساجد علی خاں بریلوی بن واجد علی خاں بن بخش اللہ (رحمۃ اللہ علیہم) ۔
تاریخ ولادت:
آپ کی ولادت 18 شعبان المعظم 1355ھ/ 1936ء کوبریلی شریف میں ہوئی ۔
محسن اہلسنت حضرت علامہ شاہ مفتی محمد خالد رضاعلی خان سرکار مفتیِ اعظم ہند مصطفٰی رضا خان نوری بریلوی کے خلیفہ اور نواسے تھے۔
حضور مفتی اعظم ہند قدس سرۂ نے چار سال کی عمر میں بسم اللہ خوانی سے کرائی، حضور مفتی اعظم ہند نے بوقت خلافت اپنے دست مبارک سےآپ کو حضور اعلیٰ حضرت کا عمامہ وجبہ شریف پہنایا اور دیگر تبرکات سے سرفراز فرمایا، حضور مفتی اعظم ہند نے خلافت سے نوازتے وقت جملہ سلاسلِ حقہ یعنی سلسلۂ قادریہ، چشتیہ ، نقشبندیہ، سہروردیہ کی اجازت مرحمت فرمائی، حضور مفتی اعظم ہند کے ساتھ دومرتبہ زیارت حرمین شریفین کاشرف حاصل ہوا، دوران سفر حضور مفتی اعظم ہند نے آپ کو نماز پڑھانے کا حکم فرمایا۔ آپ نے حضور مفتی اعظم ہند کی سرپرستی میں دارالعلوم مظہر اسلام میں سولہ (16) سال تک تشنگان علوم نبویہ کو علوم وفنون سے سیراب فرمایا، آپ یادگار ِحضور مفتی اعظم ہند دارالعلوم مظہر اسلام کے عہدۂ نظامت پرتیس (30) سال تک فائز رہ کر نمایاں خدمات انجام دیتے رہے، نیزآپ اپنی آخر عمرتک آسیب زدہ پریشان حال لوگوں کی دستگیری فرماتے رہے اور نقوش وتعویذات کے ذریعے پریشانیوں کاحل فرماتے رہے۔ آپ کو حضور صدر الشریعہ اور حضور مفتی اعظم ہند قدس سرھما کا تلمیذ رشید ہونے کا شرف بھی حاصل ہے۔
آپ زہد وتقویٰ حلم وبردباری صبر و رضا سادگی وسنجیدگی میں حضور مفتی اعظم ہند کے پیکر تھے۔
تاریخ وصال:
اور آپ کا وصال مبارک ۱۹ ذالحجۃ کو ہوا۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-shah-mufti-muhammad-khalid-raza-khan
scholars.pk
Hazrat Allama Shah Mufti Muhammed Khalid Raza Khan
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
شہزادۂ غوث الاعظم، حضرت سید ابو الفرح سراج الدین عبد الجبار بن غوث الاعظم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
اپنے والد بزرگوار اور قزاز رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ سے حدیث سنی اور تفقہ حاصل کیا۔ خوش نویس بھی تھے۔ صوفی منش،
صاحبِ ریاضت و مجاہدہ تھے ۔
تشرع و اتباع، تبتل و انقطاع، فقر و قناعت، انکسار و مسکنت میں یگانہ وقت تھے ۔
ابو منصور محدّث رحمۃ اللہ علیہ اور سید عبد الرزاق رحمۃ اللہ علیہ برادرِ خورد حدیث میں ان کے شاگرد تھے۔
وصال:
انیسویں (19) ذی الحجہ 575ھ میں انتقال کیا ۔
مدفن:
بغداد کے مقبرہ حلبہ میں مدفون ہوئے۔
(شریف التواریخ)
اپنے والد بزرگوار اور قزاز رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ سے حدیث سنی اور تفقہ حاصل کیا۔ خوش نویس بھی تھے۔ صوفی منش،
صاحبِ ریاضت و مجاہدہ تھے ۔
تشرع و اتباع، تبتل و انقطاع، فقر و قناعت، انکسار و مسکنت میں یگانہ وقت تھے ۔
ابو منصور محدّث رحمۃ اللہ علیہ اور سید عبد الرزاق رحمۃ اللہ علیہ برادرِ خورد حدیث میں ان کے شاگرد تھے۔
وصال:
انیسویں (19) ذی الحجہ 575ھ میں انتقال کیا ۔
مدفن:
بغداد کے مقبرہ حلبہ میں مدفون ہوئے۔
(شریف التواریخ)
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
18-12-1444 ᴴ | 07-07-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
19-12-1444 ᴴ | 08-07-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2