🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
آپ نے مشن اعلیٰ حضرت کی خوب ترویج فرمائی ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بے پناہ خوبیوں سے مالا مال کیا تھا ۔ دینی و عصری علوم و فنون سے بہرہ ور تھے ۔اگر چاہتے تو مالی منفعت کی خاطر کسی بھی فیلڈ کو منتخب کر لیتے ۔ لیکن حضرت ریحان ملت سند فراغت حاصل کرنے کے بعد منظر اسلام بریلی میں  بحیثیت مدرس بارہ سال تک قلیل مشاہرے پر تدریسی خدمات انجام دیتے رہے، اور زبانِ فیض ترجمان سے گوہر فشانی کرتے رہے، اس دوران ریحان ملت نے درسِ نظامی کی مختلف کتابیں پڑھائیں ۔ ادب سے زیادہ دل چسپی تھی ۔

فنِ وعظ گوئی:
حضرت ریحان ملت وقت کے بہترین مقرر اور مایۂ ناز خطیب تھے ۔ کبھی بھی تقریر کرنے سے قبل ذہن میں مضامین کی ترتیب نہیں دی اور نہ ہی تقریر کو لکھ کردیاد کیا بلکہ فی البدیہ تقریر فرماتے ۔

سیاسی گرمیاں:
1976ءمیں عوام وخواص بالخصوص علماءِ کرام کے انبوہ کثیر نے حضرت ریحان ملت کی ذہانت، فطانت، بالغ، نظری، دور اندیشی دیکھ کر بالجبر ریحانِ ملت کو میدانِ سیاست میں آزاد امیدوار کی حیثیت سے کھڑا کیا، کیونکہ اس وقت پارلیمنٹ اور اسمبلی میں کوئی حق بات کہنے والا نہیں تھا، کوئی نمائندہ ایسا نہیں تھا جو مسلمانوں کی صحیح قیادت کر سکے ۔ انہیں حالات کے پیش نظر لوگوں کے اصرار پر راضی ہوئے، میدان سیاست میں رہ کر کارہائے نمایاں انجام دیئے جو اپنی مثال آپ ہیں۔اس میدان میں بڑے بڑے دانشوروں کے قدم لغزش کھا جاتے ہیں، مگر ریحان ملت نے اٹھارہ سال کا طویل عرصہ میدان سیاست میں گزارا ۔ کہیں بھی کسی قسم کا دامنِ سفید پر بد نمائی کا داغ نہیں لگنے دیا، بلکہ کونسل اور اسمبلی میں ایسی بے باکی اور دلیری سے تقریریں کیں کہ خود کانگریس آئی کہ ممبروں کے دانت کھٹے ہو گئے ۔

جلوس محمدی ﷺ کا دوبارہ آغاز:
ہندوستان کی آزادی سے پہلے جلوسِ محمدی ﷺ بریلی میں نہایت ہی تزک و احتشام کے ساتھ منایا جاتا تھا، اور لوگ شان و شوکت کے ساتھ جلوس میں شریک ہوتے تھے، لیکن 1947ء سے جلوس محمدی ﷺ کا نکلنا بند ہو گیا تھا ۔ لوگوں کے پیہم اصرار سے ریحان ملت نے اچانک 1980ء میں 12 / ربیع الاول شریف کے موقع پر جلوس محمدی ﷺ نکالنے کا اعلان کر دیا ۔ پولیس والوں نے انتھک کوشش کی کہ جلوسِ محمدی ﷺ نہ نکالا جائے لیکن ریحانِ ملت نے فرمایا: ہر گز نہیں! جلوس ضرور نکلےگا ۔ آج ہمارے رسول سرکارِ مدینہ ﷺ کا یوم ولادت ہے، ہم اس خوشی میں جلوس نکالتے ہیں اور نکالتے رہیں گے چاہے اس کے لئے ہمیں جیل بھی جانا پڑے ۔

آپ علیہ الرحمہ نے پوری دنیا میں تبلیغی دورے کیے، جہاں گئے مشنِ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کو زندہ کرتے گئے، اور عشقِ محمدی ﷺ کی سوغات تقسیم کرتے گئے، بدمذہبیت و لادینیت کے عفریت کو ختم کرتے گئے ۔

تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 18 / رمضان المبارک 1405ھ، مطابق جون/ 1985ء کو ہوا ۔گنبدِ رضا (بریلی شریف) میں آرام فرما ہیں ۔

ماخذ و مراجع:
مفتی اعظم اور ان کےخلفاء۔

https://scholars.pk/ur/scholar/molana-muhammad-rehan-raza-khan-barelvi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
علامہ سید شاہ آل رسول قادری مارہروی رحمۃ اللہ علیہ

اسمِ گرامی:
آپ کا اسمِ گرامی آلِ رسول اور والد کا نام سید شاہ آل برکات المعروف ستھرے میاں تھا۔

تاریخ و مقامِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1209ھ میں ماہرہ ضلع ایٹہ (یوپی، انڈیا) میں ہوئی۔

تحصیلِ علم:
آپ کی تعلیم و تربیت آپ کے والد ماجد سید شاہ آل برکات ستھرے میاں رحمۃ اللہ علیہ کے آغوش شفقت میں ہوئی۔ آپ نے علوم دینیہ کی تحصیل حضرت عین الحق شاہ عبدالمجید بدایونی ، مولانا شاہ سلاست اﷲ کشفی بدایونی، حضرت شاہ نورالحق رزاق فرنگی محلی لکنھوی ،ملا عبدالواسع رحمتہ اﷲ علیہم سے کی۔مخدوم شیخ العالم عبدالحق رودولوی رحمۃ اللہ علیہ کے عرس مبارک کے موقع پر مشاہیر علماء و مشائخ کی موجودگی میں دستار بندی ہوئی۔ اسی سال حضرت سید شاہ آل احمد اچھے میاں مارہروی علیہ الرحمہ کے ارشاد پر سراج الہند حضرت مولانا شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمتہ اﷲ علیہ کے درسِ حدیث میں شریک ہوئے۔صحاحِ ستہ کا دورہ کرنے کے بعد حضرت محدث دہلوی قدس سرہ سے علویہ منامیہ کی اجازت اور احادیث و مصافحات کی اجازتیں پائیں۔

بیعت و خلافت:
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو اپنے بڑےچچاحضرت اچھے میاں رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے اجازت و خلافت حاصل تھی۔والد ماجد نے بھی اجازت مرحمت فرمائی تھی مگر مرید اچھے میاں رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے سلسلہ میں فرماتے تھے ۔

سیرت و خصائص:
حضرتِ شاہ آلِ رسول مارِہروی علیہ رحمۃ اللہ الباری تیرھویں صدی ہجری کے اَکابر اولیائے کرام میں سے تھے۔ جہانِ معرفت کے دانائے راز، حضرت خاتم الاکابر کی ذات ِ کریم نادرہ روزگار تھی۔وہبی وکسبی خوبیوں اورصوری ومعنوی محاسن کی ایک نرالی ہی جامعیت رکھی تھی۔آپ کی نگاہِ ولایت نےکئی گنہگاروں کو ولایت کے اعلٰی مقام پر فائز کیا۔حضرت خاتم الاکابر رحمۃ اللہ علیہ اپنی اس قدر جامعیت اور بے پناہ باطنی وظاہری صلاحیتوں کے باوجود بہت ہی متواضع اور منکسر المزاج تھے حتٰی کہ نماز میں امامت کے بجائے دوسروں کی اقتداء پسند کرتے تھے۔حالات وکمالات کے اخفاء میں سلف کی یادگار اور والدِ ماجد کے سچے جانشین تھے۔ امام احمد رضا خان محدث بریلوی رحمتہ اﷲ علیہ اپنے والد ماجد مولانا نقی علی خاں علیہ الرحمہ کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہوکر شرف بیعت سے مشرف ہوئے۔ ان سے آپ نے "قرأت" " تصوف" " اخلاق" " اسماء الرجال" " تاریخ " " لغت" "ادب" اور حدیث وغیرہ کی اجازت لی اور مجلس بیعت میں ہی خلافت سے سرفراز کردیئے گئے۔

تاریخِ وصال:
18 ذوالحجۃ الحرام 1296ھ بمطابق دسمبر 1879ء کو وصال شریف ہوا۔ وقتِ رِحلت لوگوں نے استدعا کی کہ حضور! کچھ وصیت فرمادیجئے۔ بہت اصرار پر فرمایا، مجبور کرتے ہو تو لکھ لو ہمارا وصیت نامہ۔ اَطِیْعُو االلہَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ (یعنی اللہ اور اس کے رسول عَزَّوَجَلَّ وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی اطاعت کرو)بس یہی کافی ہے اور اسی میں دین و دنیا کی فلاح ہے۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا مزار شریف مارہرہ شریف میں مرجع خلائق ہے۔

ماخذ و مراجع:
اہلِ سنت کی آواز۔شرح شجرہ قادریہ

https://scholars.pk/ur/scholar/murshid-e-ala-hazrat-syed-shah-aal-e-rasool-marehravi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
پاسبان مسلک اعلیٰ حضرت، حضرت علامہ مفتی ابو داؤد محمد صادق قادری رضوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

آفتاب ِرضویت:
مقتدائے اہلسنّت، شیخ طریقت، زبدۃ العلماء، عمدۃ الاتقیاء، پیکر صدق و صفا، فخرِِ ملتِ اسلامیہ، حامیٔ سنت، ماحیِ بدعت، جبلِ استقامت، آفتاب ِرضویت، ماہتابِ شریعت، یادگارِ اسلاف، سراپا تقویٰ و اخلاص، برکۃ الزامان، خلیفہ ٔ محدث اعظم پاکستان، نائبِ مصطفیٰ ﷺ حضرت مولانا علامہ الحاج الشیخ المفتی ابو داؤد محمد صادق صاحب قادری رضوی ۔

ابتدائی حالات:
حضرت نباض قوم جمادی الاخریٰ ۱۳۴۸ھ/دسمبر ۱۹۲۹ء میں محلّہ رنگپورہ (نزد جامع مسجد صدیقی) سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ وطن اصلی کوٹلی لوہاراں مشرقی ضلع سیالکوٹ ہے۔کوٹلی لوہاراں ہی میں ابتدائی تعلیم ناظرہ قرآن پاک اور اسکول کی ابتدائی چند جماعتوں تک ہوئی ۔ آپکے والد بزرگوار شاہ محمد مرحوم کا ملازمت کے دوران ۱۹۴۵ء میں بریلی شریف تبادلہ ہوا تو مولانا موصوف بھی اپنے والدین مرحومین کے ساتھ بریلی شریف پہنچ گئے اور وہاں دوران قیام اعلیٰ حضرت ﷫ کے مزار سےمتصل جامعہ رضویہ منظر اسلام کے شعبہ حفظ میں داخل ہوگئے اور حافظ محمد یوسف علی صاحب ﷫سے چند پارے حفظ کیے۔
کچھ عرصہ بعد سیالکوٹ واپسی ہوئی تو دو تین جگہ کسی کسب و ہنر کیلئے داخل کرایا گیا مگر خوش قسمتی سے بریلی شریف میں جودینی ماحول میسر آیا،دل میں وہی لگن تازہ رہی اور بالآخر باقاعدہ تعلیم کے حصول کیلئے کوٹلی لوہاراں مغربی ضلع سیالکوٹ میں سلطان الواعظین مولانا محمد بشیر صاحب﷫ (مدیر ماہنامہ طیبہ) کے والد ماجد ،خلیفۂ اعلیٰ حضرت، فقیہہ اعظم مولانا محمد شریف صاحب محدث کوٹلوی(رحمۃ اللہ علیہم) کی خدمت میں حاضر ہوئے۔

حضرت فقیہہ اعظم نے صَرف کے ابتدائی چند اسباق پڑھا کر رجب المرجب ۱۳۶۴ھ میں بنفس نفیس مولانا ابو داؤد محمد صادق کو ساتھ لے کر حضرت امیر ملت پیر سید جماعت علی شاہ صاحب ﷫کے آستانہ عالیہ پر حاضر ہو کر مدرسہ نقشبند یہ میں داخل کرادیا۔ وہاں مولانا ابو داؤد نے حضرت علامہ آل حسن سنبھلی صاحب ﷫سے ابدائی اسباق اور حضرت علامہ محمد عبد الرشید جھنگوی ﷫(فاضل جامعہ رضویہ منظر اسلام بریلی شریف) سے عربی، فاررسی کی چھوٹی بڑی کتابیں پڑھیں۔ محدث اعظم پاکستان ﷫نے شوال المکرّم ۱۳۶۸ھ/اگست ۱۹۴۹ میں مستقل طور پر لائل پور (فیصل آباد)تشریف لانے کےبعد ’’جامعہ رضویہ مظہرالاسلام ‘‘قائم فرمایا تو ابتدائی دنوں میں ہی مولانا ابو داؤد محمد صادق ﷫نے بھی آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر دورہ حدیث شریف میں داخلہ لیا اورشعبان المعظم ۱۳۶۹ ھ/۲ جون ۱۹۵۰ ءمیں پہلے سالانہ جلسہ دستار فضیلت میں دستاروسند سےمشرف ہوئے۔ دستار فضیلت کے بعد حضرت محدث اعظم﷫ کے حکم سے لائل پور ہی میں ایک مسجد میں امامت، ایک میں خطابت اور جامعہ رضویہ میں شوال المکرّم ۱۳۶۹ ھ میں تدریس کی خدمت سپرد ہوئی پھر ایک سال بعد حضرت محدث اعظم پاکستان﷫ کے حکم پر ۲۹ ذیقعد ۱۳۷۰ ھ/یکم ستمبر ۱۹۵۱ء گوجرانوالہ تشریف لے گئےاور مرکزی جامع مسجدزینت المساجد گوجرانوالہ میں خدمات سر انجام دینے لگے۔دینِ مصطفیٰ ﷺ کی خدمات کے فرائض سنبھالے ہوئے ہجری کےلحاظ سےآپکو ۶۶ سال اور عیسوی کےلحاظ سے ۶۴سال مکمل ہو ئے آپ کی آمد سے قبل گوجرانوالہ شہر دیوبندت ووہابیت کا مرکز تھا لیکن الحمد للہ آپکی محنت اور خلوص کی بدولت اب یہ شہر اہل حق اہل سنت کا مرکز بن گیا اور ہر طرف سے یا رسول اللہ ﷺ کی صدائیں آنے لگیں ۔
جب حکیم الامت حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی ﷫ سے آپکی ملاقات ہوئی تو انہوں نے مسرت کا اظہار کرتے ہوئےفرمایا!مولانا!’’آپ نے تو گوجرانوالہ میں اسلام کا چرچا فرما دیا ہے ارر ماشا ء اللہ خوب کام کیا ہے‘‘ اور پھر آپ ﷫نے آپکو اپنی دعاؤں سے نوازا۔

آپ کی دینی خدمات :
1) گوجرانوالہ شہر میں اہلسنت کی سب سے پہلی دینی درسگاہ ’’جامعہ سراج العلوم ‘‘ کا قیام جہاں سے کثیر تعداد میں حفاظ،قراء،اور جیدعلماء کرام (جن میں شہید ناموسِ مصطفیٰﷺ علامہ اکرم رضوی شہید﷫ بھی شامل ہیں) پڑھ کر پوری دنیا میں دینِ متین کی خدمات سرانجام دے رہے ہیں ۔
2) اہلسنت کامحبوب ترین مجلّہ ’’ماہنامہ رضائے مصطفیٰ ‘‘جو پاکستان میں نہیں بلکہ پوری دنیا میں ’’فکر رضا‘‘ کا امین اور اہلسنت کا ترجمان ہے ۔اس سے بڑھ کر اور کیا بڑی سعادت ہوسکتی ہے کہ رضائے مصطفیٰ کے قارئین میں حضور قطبِ مدینہ سیدی ضیاء الدین مدنی﷫ ،اور مفتی اعظم ہند﷫،اور حجۃ الاسلام﷫، جیسی عظیم شخصیات شامل رہیں ہیں۔
مفتی اعظم پاکستان مفتی وقارالدین ﷫ نے ’’وقار الفتاویٰ‘‘ میں تو یہاں تک لکھ دیا کہ ’’مولانا ابو داؤد محمد صادق رضوی اپنے رسالہ ماہنامہ رضائے مصطفیٰ میں جو کچھ لکھ رہے ہیں وہ سب درست ہے۔‘‘(وقار الفتاویٰ،ج1،ص،۳۳۶)
3) تمام موضوعات پر کتب و رسائل کی تصنیفات ۔
4) سینکڑوں کی تعداد میں اہم موضوعات پر پوسٹرز،اشتہارات،اور مضامین کی تألیف واشاعت ۔
2
5) انجمن رضائے مصطفیٰﷺ کا قیام جس سے منتشر عوامِ اہل سنت ایک پلیٹ فارم پہ جمع ہوکر ایک قوت بن گئے۔
6) پوری دنیا میں بد مذہبوں،نام نہاد اسکالروں،اور جعلی مولویوں اور پیروں،کا علمی تعاقب۔
7) تحریکِ پاکستان ،تحریک ختمِ نبوت اور تحریک نظامِ مصطفیٰ ﷺ میں بھر پور حصہ لیا اورکئی بار قید و بند کی صعوبتیں براشت کیں۔

؎یہ قصۂ لطیف ابھی نا تمام ہے
جو کچھ بیاں ہواوہ تمہید بیان ہے



آفتابِ رضویت غیروں کی نظرمیں:
1)ایک غیر مقلد و وکاندار سے کسی نے کہا کہ تحریک ختم نبوت کے دنوں میں تمہارے مولوی اسماعیل سلفی خطیب ’’ چوک نیائیں ‘‘ جیل میں ہمارے مولانا محمد صادق صاحب کے ساتھ اکٹھے رہے ہیں،وہاں کی کوئی بات سناتے ہیں یا نہیں؟اس دوکاندار نے کہا! پچھلے جمعہ کی نماز کے بعد ہم چند دوست ان کے پاس مسجد میں بیٹھے تھے،کسی نے ان سے پوچھا’’آپ اور مولانا صادق رضوی صاحب جیل میں اکٹھے تھے،ان کی کوئی بات سنائیے‘‘مولوی اسماعیل سلفی نے کہا’’اگر مولانا صادق رضوی میرے عقیدہ کا ہوتا تو میں روزانہ اس کے پاؤں دھو کر پینا اپنے لیے فخر سمجھتا‘‘۔
2) مجاہد تحریک ختم نبوت علامہ خالد حسن مجددی رقمطراز ہیں’’حق گوئی اور گستاخان رسول ﷺکی گوشمالی کرنے پر حضرت مولانا محمد صادق صاحب پر کئی مقدمات قائم ہوئے، حضرت پابند ِسلاسل اور جیل خانہ کی رونق بنے۔ اس بات کو مکمل کرنے سے سے پہلے عرض کروں ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں حضرت بھی جیل گئے، مجھے ایک دوسرے مسلک کے بہت بڑے’’عالم‘‘نے خود بتایا کہ ’’دوسرے علماء جیل میں خوش گپیوں میں وقت گذارتے تھے مگر حضرت الگ یاد خدا میں مگن رہتے، اگر مولانا محمد صادق میرے مسلک کے ہوتے تو ہم ان کی بیعت کرتے، ان کے زہد و اتقوی ٰسے ہم بہت متاثر تھے‘‘۔ اس دور میں کافی علماء معافی نامہ داخل کر کے واپس آئے مگر حضرت نے استقامت کے ساتھ مشقتیں اٹھائیں۔

حق گوئی وبیباکی:
ہمیشہ حق کا ساتھ دیا اور ہر باطل کا پوری قوت کیساتھ مقابلہ کیا اس میں اپنے پرائے کا فرق نہ جانا، نہ ڈرے،نہ دبے اور نہ ہی جھکے ہمیشہ ’’فکرِرضا ‘‘ پر کار بند رہے نام نہاد جدت پسندی اور صلح کلی سے ہمیشہ دور رہے۔ تائید ایزدی کی وجہ سے ہر میدان میں ہمیشہ کامیاب و کامران رہے۔
آپ ڈاکٹر اقبال کے ان اشعار کی عملی تفسیر تھے ۔

آئینِ جوانمرداں حق گوئی و بیباکی
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی
ہزار خوف ہوں لیکن زبان ہو دل کی رفیق
یہی رہا ہے ازل سے قلندروں کا طریق
گلشن کھلا دئیے ہیں
صادق نے دین حق کے گلشن کھلا دئیے ہیں
عشق نبی کے ہر سو ڈنکے بجا دئیے ہیں!
ہم سب کو ہیں مسلّم خدمات ان کی اعلیٰ
گھر گھر میں سنّیوں کے جلسے سجا دئیے ہیں
ایسے جلوس پہلے کم دیکھنے میں آئے
قیادت میں اُنکی ہم نے دشمن بھگا دئیے ہیں
جتنے شقی تھے دشمن سب مٹ گئے ہیں آخر
اب تو نشان اُن کے مدفن بنا دئیے ہیں
ہے شرفِ اہلسنّت صادق ہیں سب پہ غالب
فضل خدا سے سارے موذی مٹا دئیے ہیں
حق آپ کی کرامت سچ آپ کی متانت
خوب آپ کی بصیرت، سوتے جگا دئیے ہیں
ہے’’رضائے مصطفیٰ‘‘ کا سدا سربلند پرچم
کشتی اُنہی پہ چھوڑی، لنگر اٹھا دئیے ہیں

قارئین! حضرت نبّاض قوم کے حوالے سے مندرجہ بالا مضمون’’مشتے از خروارے‘‘تبرکاً چند جھلکیوں پر اکتفاکیا گیا ہے ورنہ ۶۶سالہ دینی خدمات اور آپکی عظیم شخصیت سے متعلق تو ایک دفتر بھی نا کافی ہے۔

؎ ورق تمام ہوا اور مدح باقی ہے
سفینہ چاہیے اس بحرِبیکراں کےلئے

وصالِ پر ملال:
۱۸۔ذوالحجہ ۱۴۳۶ھ بمطابق۳۔اکتوبر۲۰۱۵ بروز ہفتہ انتقال فرمایا اور نمازجنازہ۴۔اکتوبر بروز اتوار سہ پہر ۳بجے ادا کی گئی نماز جنازہ جناح اسٹیڈیم گوجرانوالہ میں مشہور عالِم ِدین مفتی غلام عباس رضوی نے پڑھائی۔ نمازجنازہ میں تقریباًً ۱۔لاکھ افراد نے شرکت فرمائی اور گوجرانوالہ کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ تھا۔ (انا للہ وانا الیہ راجعون)

خاکپائے رضویت:
محمد رمضان تونسوی رضوی

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-mufti-abu-dawood-muhammad-sadiq-qadri-rizvi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
خلیفۂ اعلیٰ حضرت، حضور صدر الافاضل، حضرت علامہ سید نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نام و نسب:
آپ کا نام سید نعیم الدین بن معین الدین بن امین الدین بن کریم الدین ہے ۔ (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم)

تاریخ و مقامِ ولادت:
آپ کی ولادت بروزپیر،21 صفر المظفر 1300ھ بمطابق جنوری 1883ء مراد آباد (یو.پی) میں ہوئی۔

تحصیلِ علم:
صدر الافاضل علیہ رحمۃ اللہ علیہ جب چار سال کے ہوئے تو آپ کے والد گرامی نے "" بسم اللہ خوانی "" کی پاکیزہ رسم ادا فرمائی۔ ناظرہ قرآنِ پاک ختم کرنے کے بعد آٹھ سال کی عمر میں حفظِ قرآن کی تکمیل کی۔ابتدائی تعلیم اپنے والد ماجد سے حاصل فرمائی ، متوسطات تک علوم درسیہ کی تکمیل حضرت مولانا حکیم فضل احمد صاحب سے کی، اس کے بعد بقیہ علوم کی تحصیل و تکمیل حضرت علامہ مولانا سید محمد گل صاحب کابلی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے کی۔

بیعت و خلافت:
آپ اپنے ہی استاذ گرامی حضرت مولانا سید محمد گل صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے اور اجازت وخلافت سے نوازے گئے۔ حضرت نے اپنے لائق وفائق تلمیذِ رشید کو چاروں سلسلوں اور جملہ اوراد ووظائف کی اجازت عطافرماکر ماذون ومجاز بنا دیا۔اس کے بعد غوث ِوقت، قطبِ دوراں، شیخ المشائخ حضرت شاہ سید علی حسین صاحب اشرفی میاں کچھوچھوی نے بھی خلافت واجازت سے سر فراز فرمایا۔

سیرت و خصائص:
حضور صدر الافاضل اپنی علمی جاہ وحشمت، شرافتِ نفس، اتباعِ شریعت، زہد وتقویٰ، سخن سَنجی،حق گوئی، جرأت وبے باکی اور دین حق کی حفاظت کے معاملے میں فقید المثال تھے۔ آپ اپنی مختلف دینی، علمی، تبلیغی، تحقیقی و تصنیفی مصروفیات اور مناظرہ ومقابلہ اور فِرَقِ باطلہ کے رد وابطال جیسی سرگرمیوں کے باوجود تاحیات درس و تدریس سے وابستہ رہے ۔آپ کا طرزِ تدریس بڑا دلچسپ و منفرد تھاافہام وتفہیم میں آپ یکتائے روزگار تھے جس کی بدولت اسباق طلبا کے دل ودماغ پر پوری طرح نقش ہو جاتے۔ طَلَبَہ کے خورد ونوش اور مدرسین کی تنخواہ آپ اداکرتے تھے۔ حضرت صدر الافاضل کو دیگر علوم وفنون کے علاوہ فنِ تقریرو مناظرہ میں بھی مہارت حاصل تھی۔ آپ اپنے وقت کے تقریباً تمام فِرَقِ باطلہ سے نبرد آزما رہے، ایک سے بڑھ کر ایک مناظر آپ کے مقابل آیا لیکن ہمیشہ میدان آپ کے ہاتھ رہا۔جو دلائل و حجج قائم فرماتے کسی کو اتنی طاقت نہ ہوتی کہ توڑ سکتا مخالف ایڑی چوٹی کا زور لگاتا لیکن ناممکن تھا کہ جو گرفت فرمائی تھی اس سے گُلُو خلاصی پاسکتایا وہ گرفت نرم پڑ جاتی،مخالف غضب و عناد میں انگلیاں چباتے مگر کچھ نہ کر سکتے۔حضور صدر الافاضل اپنی گوناگوں مصروفیات کے باوجود دار الافتاء بھی بڑی خوبی اور باقاعدگی کے ساتھ چلاتے،ہند وبیرون ہندنیز مراد آباد کے اطراف و اکناف سے بے شمار اِسْتِفْتا اور استفسارات آتے اور تمام جوابات آپ خود عنایت فرماتے۔ بفضلہ تعالیٰ فقہی جزئیات اس قدر مستحضر تھے کہ جوابات لکھنے کے لیے کُتُبْہَائے فقہ کی طرف مراجعت کی ضرورت بہت ہی کم پیش آتی ۔ قیامِ پاکستان میں آپ نے بھرپور حصہ لیا۔

وفات:
18 ذوالحجہ 1367ھ مطابق 23 اکتوبر 1948ء بروز جمعۃ المبارک صدر الافاضل نے داعی اجل کو لبیک کہا۔وقت وصال ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی، کلمہ طیبہ کا ورد جاری تھا، پیشانی اقدس اور چہرہ مبارک پر بے حد پسینہ آنے لگا، ازخود قبلہ رخ ہوکر دستہائے پاک اور قدمہائے ناز کو سیدھا کرلیا، ۱۲ بجکر ۲۰ منٹ پر اہل سنت کا یہ سالار اپنے خالقِ حقیقی سے جاملا۔ اِنَّا لِلّٰہ وَاِنَّااِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔آپ کی تدفین جامعہ نعیمیہ کی مسجدکےبائیں گوشے میں کی گئی۔

ماخذ و مراجع: روشن دریچے

https://scholars.pk/ur/scholar/sadrul-afazil-hazrat-allama-naeemuddin-muradabadi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی:
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ ۔ کنیت: ابو عبد اللہ ۔ لقب: غنی، جامع القرآن، اور ذو النورین، یعنی دو نوروں والا ہے ۔ (کیونکہ حضور ﷺ کی دو صاحبزادیاں یکے بعد دیگرے آپ کے نکاح میں رہیں) ۔

منقول ہے کہ آج تک کسی انسان کو یہ سعادت نصیب نہیں ہوئی کہ اس کے عقد میں کسی نبی کی دو بیٹیاں آئی ہوں (سنن البیہقی) ۔

رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے:
اگر میری چالیس بیٹیاں بھی ہوتیں تو میں یکے بعد دیگرے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے نکاح کرتا چلا جاتا ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
امیر المومنین عثمان بن عفان بن ابی العاص بن امیہ بن عبد الشمس بن عبد المناف ۔ آپ کی والدہ کا نام ارویٰ بنت کریز بن ربیعہ بن حبیب بن عبد شمس بن عبد مناف تھا ۔ آپ کی نانی کا نام امِ حکیم بیضاء بنتِ عبد المطلب تھا جو آنحضرت ﷺ کے والد حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ کی سگی بہن تھیں، اور دونوں جڑواں پیدا ہوئے تھے ، رسولِ اکرم ﷺ کی پھوپھی تھیں ۔ اس لحاظ سے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کی پھوپھی زاد بہن کے بیٹے ہوئے ۔ آپ کا نسب والدہ اور والد دونوں نسبتوں سے آنحضرت ﷺ کے جد امجد حضرت عبد مناف سے ملتا ہے ۔ حضرت عبد مناف حضرت رسول اکرم ﷺ کے جد چہارم اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے جد پنجم تھے ۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت واقعۂ فیل کے چھ سال بعد مکۃ المکرمہ میں ہوئی۔

قبولِ اسلام:
امیر المؤمنین حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی کوشش سے مشرف با اسلام ہوئے ۔ آپ اسلام قبول کرنے والے چوتھے شخص ہیں ۔

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے فضائل:
اہل حق اہلِ سنت وجماعت کا متفقہ نظریہ ہے کہ حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کے بعد سب سے بلند مقام حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کا، ان کے بعد حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کا اور ان کے بعد حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا ہے اور یہ نظریہ حضور ﷺ کی زندگی ہی میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا تھا۔چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: " كُنَّا نُخَيِّرُ بَيْنَ النَّاسِ فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنُخَيِّرُ أَبَا بَكْرٍ ثُمَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ثُمَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ"(صحیح بخاری ج1، ص516 باب فضل ابی بکر رضی اللہ عنہ)

ترجمہ: ہم حضور علیہ السلام کے زمانے میں لوگوں کو ایک دوسرے پر ترجیح دیتے تھے۔ سب سے بہترحضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو سمجھتے تھے، ان کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اور ان کے بعد حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو۔

1۔ شیخین نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا کہ حضور علیہ السلام نے حضرت عثمان کے آنے پر اپنے کپڑے سمیٹ لیے اور فرمایا ! کیا میں اس شخص سے حیا نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں ۔۔ (الصواعق المحرقہ ،ص ، ۳۷۵ )

2۔ ابو نعیم نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ! کہ عثمان میری امت کا سب سے زیادہ حیا دار اور کریم شخص ہے ۔۔ (الصواعق المحرقہ ،ص ، ۳۷۵ )

3۔ طبرانی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا! کہ حضرت لوط علیہ السلام کے بعد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پہلے آدمی ہیں جنہوں نے خدا کی خاطر اپے اہل سمیت ہجرت کی ۔۔ (الصواعق المحرقہ ،ص ، ۳۷۵ )

4۔ ابن ماجہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان سے فرمایا اے عثمان! یہ جبریل ہیں جو مجھے بتار ہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ام کلثوم کو رقیہ کے مہر کے مثل پر تیری زوجیّت میں دیا ہے۔ اور اس کے ساتھ بھی ویسا ہی سلوک کرنا ۔۔ (الصواعق المحرقہ ،ص ، ۳۷۶ )

5۔ ترمذی نے حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ سے اور ابن ماجہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ ہر نبی کا جنت میں ایک رفیق ہوتا ہے اور جنت میں میرا رفیق عثمان ہے ۔۔ (الصواعق المحرقہ ،ص ،۳۷۶ )

6۔ ابن عساکر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہے رسول کریم ﷺ نے فرمایا! کہ عثمان کی شفاعت سے ستّر ہزار ایسے آدمی جنت میں بلا حساب داخل ہوں گے جو آگ کے مستحق ہو چکے ہوں گے ۔۔ (الصواعق المحرقہ ،ص ، ۳۷۷ )

7۔ ترمذی اور حاکم نے بیان کیا ہے اور اسے عبد الرحمٰن بن سمرہ سے صحیح قرار دیا ہے کہ حضور ﷺ ’’جیش العسرۃ‘‘ کی تیاری فرمارہے تھے تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ایک ہزار دنیار لے کر آئے اور آپ ﷺ کے حجرہ میں انہیں بکھیر دیا ۔ حضور ﷺ انہیں الٹنے پلٹنے لگے پھر فرمایا! عثمان آج کے بعد جو کام کرے گا اس کا اسے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔

8۔ ترمذی، ابنِ ماجہ، اور حاکم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا! اے عثمان! اللہ تعالیٰ تجھے (خلافت کی) ایک قمیص پہنائےگا اگر منافقین اس کے اتارنے کا ارادہ کریں تو تم اسے نہ اتارنا ۔یہاں تک کہ تم مجھ سے آ ملو ۔ (الصواعق المحرقہ ،ص ، ۳۷۷)
2
یہ حدیث حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت ِحقّہ پر واضح دلیل ہے ۔حدیث میں قمیص سے کنایۃً خلافت ِالٰہیہ مراد لی گئی ہے

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دس خصائل: ابن عساکر نے ابن ثور الضمی کے حوالہ سے بیان کیا ہے کہ میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس اس وقت گیا جب کہ آپ محصور تھے اس وقت اپ نے مجھ سے فرمایا کہ میری دس خصلیتیں اللہ تعالی کے پاس محفوظ ہیں (۱) میں اسلام قبول کرنے والا چوتھا شخص ہوں (۲) رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے یکے بعد دیگرے اپنی دو صاحبزادیوں کو میرے عقد میں دیا (۳) میں کبھی گانے بجانے میں شریک نہیں ہوا (۴) میں کبھی لہو و لعب میں مشغول نہیں ہوا (۵) میں نے کبھی کسی برائی اور بدی کی تمنا نہیں کی (۶) رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کرنے کے بعد اپنا سیدھا ہاتھ اپنی شرم گاہ کو نہیں لگایا (۷) اسلام لانے کے بعد میں نے ہر جمعہ کو اللہ کیلئے ایک غلام ازاد کیا اگر اس وقت ممکن نہ ہوا تو بعد میں آزاد کیا (۸) زمانہ جاہلیت یا عہد اسلام میں کبھی زنا کا مرتکب نہیں ہوا (۹) عہد جاہلیت اور زمانہ اسلام میں کبھی چوری نہیں کی (۱۰) رسول خدا صلی اللہ عنہ کے زمانہ کے مطابق میں نے قرآن کو جمع کیا۔

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت:
حضرت عمر ،فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنی وفات سے پہلے ایک کمیٹی تشکیل دی جس میں چھ صحابیشامل تھے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ، حضرت علی حضرت طلحہ ،حضرت زبیر ، حضرت سعد بن ابی وقاص اور حضرت عبدالرحمان بن عوف رضوان اللہ علیہم اجمعین اس کمیٹی میں شامل تھے۔ اس کمیٹی نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو خلیفہ نامزد کیا۔ یکم محرم 24ھ کو مسندِ خلافت پر بیٹھے اور مدتِ خلافت بارہ سال بارہ دن تھی۔ آپ کے دور خلافت میں ایران اور شمالی افریقہ کا کافی علاقہ اسلامی سلطنت میں شامل ہوا۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ کی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے محبت:

(1) نزال بن سبرہ سے روایت ہے: کہ میں نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں دریافت کیاتوآپ نے فرمایا:عثمان تو ملاء اعلیٰ میں "ذوالنورین "کے نام سے پکارے جاتے ہیں۔آپ رسول اللہ ﷺ کے داماد تھے۔آپ کی زوجیت میں رسول اللہ ﷺ کی دوصاحبزادیاں آئیں۔ رسول اللہ ﷺ نے آپ کو جنت کی ضمانت عطاء فرمائی۔ (الموافقۃ بین اہل البیت والصحابہ)

(2)حضرت عبد الرحمن بن عوف کے بعد حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی بیعت کرنے والے سب سے پہلے حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے۔ (بخاری، باب فضائل الصحابہ)

(3) حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم حضرت عثمانِ غنی کی امامت وخلافت کے معترف اور آپ کے معاونِ خاص تھے۔ابنِ ابی شیبہ نے اپنی سند سے حضرت محمد بن حنفیہ کے واسطے سے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا:"اگرعثمان غنی مجھے وادیِ ضرار جانے کا حکم دیں تومیں آپ کی اطاعت کروں گا"۔ (الموافقۃ بین اہل البیت والصحابہ)

(4) حضرت محمد بن حنفیہ سے روایت ہے :کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خبر ملی کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا قاتلین عثمان پر لعنت بھیج رہی ہیں تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھالیے اور کہا: میں قاتلین عثمان پر لعنت بھیجتا ہوں ۔ اے اللہ! ان پر پہاڑی و میدانی علاقوں میں (جہاں جہاں قاتلین عثمان ہیں) ان پر لعنت نازل فرما۔آپ نے یہ بات تین مرتبہ دہرائی۔ (فضائل الصحابہ ۔ حدیث:733)

اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے : "رحماء بینھم" صحابہ آپس میں شیر و شکر ہیں ۔ (سورت الفتح:29)

تاریخِ شہادت:
شہادت سے ایک رات پہلے سرکار دو عالم ﷺ آپ کو خواب میں ملے اور فرمایا: عثمان!" اِنْ شِئْتَ نُصرتَ عَلَیْہِمْ وَاِنْ شِئْتَ اَفْطَرْتَ عِنْدَنَا" یعنی اگر تمہا ری خو اہش ہو تو ان لوگوں کے مقابلے میں تمہا ری امداد کروں اور اگر تم چاہو تو ہما رے پا س آکر روزہ افطارکر و۔آپ نےعرض کی: یا رسولَ اللہ ﷺ! آپ کے دربارِ پرانوار میں حا ضر ہوکرروزہ افطارکر نا مجھے زیا دہ عزیز ہے ۔

مفسر شہیر محدثِ کبیر حضرت امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:یہ واقعہ خواب میں نہیں بلکہ بیداری کی حالت میں پیش آیا۔(الحاوی للفتاوی للسیوطی ج۲، ص۳۱۵)

جب بلوائی قتل کرنے کیلئے امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے گھر داخل ہوئے تو اس وقت آپ رضی اللہ عنہ قرآن ِمجید کی تلاوت فرما رہے تھے ۔جیسے ہی انہوں نے حملہ کیا تو آپکا خون سورۃ البقرۃ کی آیت نمبر ، 137 " فَسَیَکْفِیۡکَہُمُ اللہُۚ وَہُوَ السَّمِیۡعُ الْعَلِیۡمُ"پر گرا تو بروزِ قیامت حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کی گواہی قرآن ِمجید دیگا۔ یہ واقعہ فاجعہ بروز جمعہ 18ذی الحجہ 35ھ کو مدینہ منورہ میں رونما ہوا ۔ وقتِ شہادت آپ کی عمر 88 سال تھی۔ آپ کی قبرِ انور جنت البقیع میں ہے۔

ماخذ و مراجع:
تاریخ الخلفاء ۔ الصواعق المحرقہ ۔ سنن البیہقی ۔ الحاوی للفتاویٰ ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/3rd-caliph-of-islam-hazrat-syedna-usman-ghani
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
17-12-1444 ᴴ | 06-07-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
18-12-1444 ᴴ | 07-07-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1