🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
عید غدیر کا شرعی حکم
@Maslake_Aalaa_Hazrat
مفتی ذو الفقار خان نعیمی
1
Forwarded from 05 کتب تقاریر لائبریری 📚 (محمد جمال الدين خان قادری)
خطبات جمعہ خطبہ نمبر 72
حضرت عثمان غنی رضی الله
عنه 🌹 کی حیات و خدمات
https://t.me/Kutube_Taqaareer
مولانا نوید اختر امجدی
پیش کش روشن مستقبل دہلی
شان وعظمت حضرت عثمان غنی
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
سیرت و سوانح حضرت عثمان↶
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8701
خلفاء | اہلبیت | صحابہ | کربلا ↶
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/14068
1
Forwarded from 05 کتب تقاریر لائبریری 📚 (محمد جمال الدين خان قادری)
Khutba 72- Hazrat Usman Gani.pdf
1.5 MB
Khutba⁷² Hazrat Usman Gani
https://t.me/Kutube_Taqaareer
Maulana Navaid Akhtar ᴬᵐʲᵃᵈⁱ
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👌1
حضرت مولانا حافظ دوست محمد للہی رحمۃ اللہ علیہ

ولادت:
حضرت مولانا حافظ دوست محد ابن حضرت خواجہ غلام للہی (قدس سرہما) ۱۲۶۶ھ/۵۰۔ ۱۸۴۹ء میں للہ شرف (ضلع جہلم) میں پیدا ہوئے ۔

ابھی آپ شیر خوار ہی تھے کہ عارف یگانہ حضرت خواجہ غلام محی الدین قصوری دائم الحضوری قدس سرہ نے آپ کو ایک مکتوب میں تحریر فرمایا:

’’مولوی حافظ دوست محمد کو دعا‘‘

اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے آپ حافظ بھی ہوئے اور مولوی بھی ۔ تکمیل علوم کے بعد تین سال تک والد ماجد سے کسب سلوک کیا اور سلسلۂ مجددیہ کے مقامات کی تکمیل کر کے سر ہند شریف میں حضرت مجدد الف ثانی قدس سرہ کے ایماء سے خلافت و اجازت سے مشف ہوئے ۔

والد ماجد حضرت خواجہ غلام نبی للہی قدس سرہ کے وصال کے بعد مسند ارشاد پر فائز ہوئے اور حق وـ داقت کی جانب خلق خدا کی رہنمائی فرمائی، غرباء اور مساکین کو الطاف خسروانہ سے نوازتے اور اہل دنیا سے کچھ غرض نہ رکھتے، صاحب حال ہوتے ہوئے کمال اخفاء سے کام لیتے، اہل حاجت حاضر ہوتے اور آپ کی نگاہ التفات سے کامیاب ہو کر لوٹتے ۔

۱۸ ذو الحجہ ، ۸ اپریل ( ۱۳۱۸ھ/۱۹۰۱ء) کو آپ کا وصال ہوا اور للہ شریف میں اپنے والد ماجد کے پہلو میں محو استراحت ہوئے ۔ آپ کے بعد آپ کے فرزند ارجنمد حضرت خواجہ محمد عبد الرسول قدس سرہ ہادیٔ خلق بنے لیکن عین عالم شباب میں ۲۹ سال کی عمر میں ۷ رمضان المبارک / ۲۰ اگست (۱۳۳۰ھ/۱۹۱۲ء) کو راہِئ دارِ آخرت ہوئے [1]

اس وقت حضرت خواجہ محمد عبد الرسول مد ظلہ العالی سلف کے طریقے پر چلتے ہوئے تبلیغ و ارشاد میں مصروف ہیں، مولائے کریم مستر شدین پر ان کا سایہ تا دیر سلامت رکھے ۔

[1] محمد حسن نقشبندی، مولانا: حالات مشائخ نقشبندیہ مجددیہ، ص ۳۸۲ ۔

( تذکرہ اکابرِ اہلسنت )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-dost-muhammad-lillahi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضور ریحان ملت ، علامہ ریحان رضا خاں بریلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نام و نسب:
اسم گرامی: مولانا محمد ریحان رضا خان ۔ لقب: ریحانِ ملت ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت مولانا محمد ریحان رضا قادری بن مفسرِ اعظم ہند حضرت مولانا محمد ابراہیم رضا خاں بن حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد حامد رضا خاں بن اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں قادری فاضل بریلوی بن مولانا نقی علی خاں بن مولانا رضا علی خاں بن حافظ کاظم علی خاں ۔ (علیہم الرحمۃ والرضوان) ۔ (حیاتِ اعلیٰ حضرت)

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 18 ذی الحجہ 1325ھ، مطابق ماہ جنوری 1908ء کو محلہ خواجہ قطب بریلی (انڈیا) میں ہوئی ۔ حضرت ریحان ملت مولانا محمد ریحان رضا علیہ الرحمۃ کی ولادت سے پورے خاندان میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ۔ خاندان کے ہر فرد کا چہرہ مسکرانے لگا ۔ چونکہ نبیرۂ اعلیٰ حضرت مفسرِ اعظم ہند کے یہاں یہ پہلی ولادت تھی، کانوں میں اذان و تکبیر پڑھی گئی ۔ حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد حامد رضا علیہ الرحمہ نے اپنا لعابِ دہن عطا فرمایا، جو منھ میں رکھ دیا گیا، جد امجد حجۃ الاسلام علیہ الرحمۃ نے نام رکھا، بعدہٗ پکارنے کے لیے ریحان رضا تجویز فرمایا، اسی واقعہ کی طرف نشان دہی کراتے ہوئے حضرت ریحان ملت نے اپنے نعتیہ کلام میں تحریر فرمایا ہے۔

؏: نام یہ جس نے دیا اس کو خبر تھی شاید
ان کا ریحان کہیں دنیا میں چمکتا ہوگا

تحصیلِ علم:
پیدائش کے بعد ریحان ملت نے طفولیت کے ایام علم و حکمت معرفت و طریقت کے خوش گوار ماحول میں گذارے ۔ بچپن ہی سے علم و ادب کے دلدادہ تھے ۔ اعلیٰ ذہانت و فطانت رکھتے تھے ۔ ریحان ملت کی تعلیم گھر پر ہوئی حسب الحکم والد ماجد مفسر اعظم ہند علیہ الرحمۃ لائل پور پاکستان تشریف لے گئے ۔ وہاں پر جامعہ رضویہ مظہر اسلام میں داخلہ لے کر محدث اعظم پاکستان حضرت مولانا محمد سردار احمد رضوی لائل پوری علیہ الرحمۃ کی خدمت میں تین سال مسلسل رہ کر معیاری کتابوں کا درس حاصل کیا، پھر وہاں سے واپسی کے بعد دار العلوم منظرِ اسلام بریلی شریف سے با قاعدہ دستار بندی ہوئی، اور سندِ فراغت پائی ۔

اساتذہ:
حضرت ریحان ملت کے اساتذۂ کرام میں مندرجہ ذیل حضرات کے اسماءِ گرامی قابل ذکر ہیں، جنہوں نے شب و روز محبت و شفقت کے ساتھ علمِ دین پڑھایا، اور معرفت و حکمت، علوم و فنون عطا فرما کر مستند عالم بنایا:

۱۔ حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد حامد رضا خاں قادری بریلوی علیہ الرحمۃ
۲۔ تاجدارِ اہلسنت حضرت مفتی اعظم مولانا مصطفیٰ رضا نوری بریلوی قدس سرہٗ
۳۔محدث اعظم پاکستان حضرت مولانا محمد سردار احمد رضوی لائل پوری علیہ الرحمۃ
۴۔ مفسر اعطم ہند حضرت مولانا محمد ابراہیم رضا خاں جیلانی بریلوی علیہ الرحمہ
۵۔ امام النحو حضرت مولانا سید غلام جیلانی میرٹھی علیہ الرحمۃ
۶۔ محدث منظر اسلام حضرت مولانا احسان علی رضوی علیہ الرحمۃ
۷۔ بحر العلوم حضرت مفتی سید افضل حسین رضوی مونگیری علیہ الرحمۃ
۸۔ حضرت مولانا مفتی جہانگیر خاں رضوی اعظمی مدظلہ ۔

بیعت و خلافت:
حضرت ریحان ملت بیعت و اردت حضور مفتی اعظم قدس سرہٗ سے رکھتے تھے ۔ 1357ھ / 1938ء کو جد امجد حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد حامد رضا خاں بریلوی علیہ الرحمۃ نے ماذون و مجاز فرمایا ۔ 15/جنوری 1962/1381 کو حضور مفتی اعظم مولانا مصطفیٰ رضا نوری بریلوی قدس سرہٗ نے ریحان ملت اور جانشین مفتی اعظم حضرت مولانا مفتی محمد اختر رضا خاں ازہری قادری بریلوی دامت برکاتہم القدسیہ کو ساتھ ہی ساتھ خلافت و اجازت عطا فرمائی، اور یہ خلافت میلاد شریف کی مبارک محفل میں عطا ہوئی ۔ خلافت کے وقت شمس العلماء حضرت مولانا قاضی شمس الدین احمد رضوی جعفری جونپوری علیہ الرحمۃ (مصنف قانونِ شریعت) بھی رونق افروز تھے، اور علاوہ ازیں والد ماجد مفسر اعظم ہند مولانا محمد ابراہیم رضا بریلوی علیہ الرحمۃ سے بھی اجازت حاصل تھی ۔ (مفتی اعظم اور ان کے خلفاء ص:368)

سیرت و خصائص:
گلشنِ رضویہ کے مہکتے پھول، جامع المنقول والمعقول، استاذ العلماء، سند الفضلاء، ریحانِ ملت، حضرت علامہ مولانا محمد رضا خان قادری بریلوی رحمۃ اللہ علیہ ۔ آپ علیہ الرحمہ فاضلِ کامل، اور جید عالم دین تھے ۔ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کی علمی و روحانی امانتوں کے وارثِ کامل تھے ۔ آپ علیہ الرحمہ کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دی گئی تھی ۔ یہی وجہ ہے کہ آگے چل کر اس مردِ کامل نے قوم و ملت، اور دینِ اسلام کے لئےکارہائے نمایاں انجام دئیے ۔ جن میں سے اہم کارنامے مرکز ِاسلام ’’منظرِ اسلام‘‘ اور رضا مسجد کی جدید خطوط پر تعمیر و ترقی، اور دار الاقامہ، نشر و اشاعت کے لئے برقی پریس کا اہتمام ہے ۔
1
آپ نے مشن اعلیٰ حضرت کی خوب ترویج فرمائی ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بے پناہ خوبیوں سے مالا مال کیا تھا ۔ دینی و عصری علوم و فنون سے بہرہ ور تھے ۔اگر چاہتے تو مالی منفعت کی خاطر کسی بھی فیلڈ کو منتخب کر لیتے ۔ لیکن حضرت ریحان ملت سند فراغت حاصل کرنے کے بعد منظر اسلام بریلی میں  بحیثیت مدرس بارہ سال تک قلیل مشاہرے پر تدریسی خدمات انجام دیتے رہے، اور زبانِ فیض ترجمان سے گوہر فشانی کرتے رہے، اس دوران ریحان ملت نے درسِ نظامی کی مختلف کتابیں پڑھائیں ۔ ادب سے زیادہ دل چسپی تھی ۔

فنِ وعظ گوئی:
حضرت ریحان ملت وقت کے بہترین مقرر اور مایۂ ناز خطیب تھے ۔ کبھی بھی تقریر کرنے سے قبل ذہن میں مضامین کی ترتیب نہیں دی اور نہ ہی تقریر کو لکھ کردیاد کیا بلکہ فی البدیہ تقریر فرماتے ۔

سیاسی گرمیاں:
1976ءمیں عوام وخواص بالخصوص علماءِ کرام کے انبوہ کثیر نے حضرت ریحان ملت کی ذہانت، فطانت، بالغ، نظری، دور اندیشی دیکھ کر بالجبر ریحانِ ملت کو میدانِ سیاست میں آزاد امیدوار کی حیثیت سے کھڑا کیا، کیونکہ اس وقت پارلیمنٹ اور اسمبلی میں کوئی حق بات کہنے والا نہیں تھا، کوئی نمائندہ ایسا نہیں تھا جو مسلمانوں کی صحیح قیادت کر سکے ۔ انہیں حالات کے پیش نظر لوگوں کے اصرار پر راضی ہوئے، میدان سیاست میں رہ کر کارہائے نمایاں انجام دیئے جو اپنی مثال آپ ہیں۔اس میدان میں بڑے بڑے دانشوروں کے قدم لغزش کھا جاتے ہیں، مگر ریحان ملت نے اٹھارہ سال کا طویل عرصہ میدان سیاست میں گزارا ۔ کہیں بھی کسی قسم کا دامنِ سفید پر بد نمائی کا داغ نہیں لگنے دیا، بلکہ کونسل اور اسمبلی میں ایسی بے باکی اور دلیری سے تقریریں کیں کہ خود کانگریس آئی کہ ممبروں کے دانت کھٹے ہو گئے ۔

جلوس محمدی ﷺ کا دوبارہ آغاز:
ہندوستان کی آزادی سے پہلے جلوسِ محمدی ﷺ بریلی میں نہایت ہی تزک و احتشام کے ساتھ منایا جاتا تھا، اور لوگ شان و شوکت کے ساتھ جلوس میں شریک ہوتے تھے، لیکن 1947ء سے جلوس محمدی ﷺ کا نکلنا بند ہو گیا تھا ۔ لوگوں کے پیہم اصرار سے ریحان ملت نے اچانک 1980ء میں 12 / ربیع الاول شریف کے موقع پر جلوس محمدی ﷺ نکالنے کا اعلان کر دیا ۔ پولیس والوں نے انتھک کوشش کی کہ جلوسِ محمدی ﷺ نہ نکالا جائے لیکن ریحانِ ملت نے فرمایا: ہر گز نہیں! جلوس ضرور نکلےگا ۔ آج ہمارے رسول سرکارِ مدینہ ﷺ کا یوم ولادت ہے، ہم اس خوشی میں جلوس نکالتے ہیں اور نکالتے رہیں گے چاہے اس کے لئے ہمیں جیل بھی جانا پڑے ۔

آپ علیہ الرحمہ نے پوری دنیا میں تبلیغی دورے کیے، جہاں گئے مشنِ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کو زندہ کرتے گئے، اور عشقِ محمدی ﷺ کی سوغات تقسیم کرتے گئے، بدمذہبیت و لادینیت کے عفریت کو ختم کرتے گئے ۔

تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 18 / رمضان المبارک 1405ھ، مطابق جون/ 1985ء کو ہوا ۔گنبدِ رضا (بریلی شریف) میں آرام فرما ہیں ۔

ماخذ و مراجع:
مفتی اعظم اور ان کےخلفاء۔

https://scholars.pk/ur/scholar/molana-muhammad-rehan-raza-khan-barelvi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
علامہ سید شاہ آل رسول قادری مارہروی رحمۃ اللہ علیہ

اسمِ گرامی:
آپ کا اسمِ گرامی آلِ رسول اور والد کا نام سید شاہ آل برکات المعروف ستھرے میاں تھا۔

تاریخ و مقامِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1209ھ میں ماہرہ ضلع ایٹہ (یوپی، انڈیا) میں ہوئی۔

تحصیلِ علم:
آپ کی تعلیم و تربیت آپ کے والد ماجد سید شاہ آل برکات ستھرے میاں رحمۃ اللہ علیہ کے آغوش شفقت میں ہوئی۔ آپ نے علوم دینیہ کی تحصیل حضرت عین الحق شاہ عبدالمجید بدایونی ، مولانا شاہ سلاست اﷲ کشفی بدایونی، حضرت شاہ نورالحق رزاق فرنگی محلی لکنھوی ،ملا عبدالواسع رحمتہ اﷲ علیہم سے کی۔مخدوم شیخ العالم عبدالحق رودولوی رحمۃ اللہ علیہ کے عرس مبارک کے موقع پر مشاہیر علماء و مشائخ کی موجودگی میں دستار بندی ہوئی۔ اسی سال حضرت سید شاہ آل احمد اچھے میاں مارہروی علیہ الرحمہ کے ارشاد پر سراج الہند حضرت مولانا شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمتہ اﷲ علیہ کے درسِ حدیث میں شریک ہوئے۔صحاحِ ستہ کا دورہ کرنے کے بعد حضرت محدث دہلوی قدس سرہ سے علویہ منامیہ کی اجازت اور احادیث و مصافحات کی اجازتیں پائیں۔

بیعت و خلافت:
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو اپنے بڑےچچاحضرت اچھے میاں رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے اجازت و خلافت حاصل تھی۔والد ماجد نے بھی اجازت مرحمت فرمائی تھی مگر مرید اچھے میاں رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے سلسلہ میں فرماتے تھے ۔

سیرت و خصائص:
حضرتِ شاہ آلِ رسول مارِہروی علیہ رحمۃ اللہ الباری تیرھویں صدی ہجری کے اَکابر اولیائے کرام میں سے تھے۔ جہانِ معرفت کے دانائے راز، حضرت خاتم الاکابر کی ذات ِ کریم نادرہ روزگار تھی۔وہبی وکسبی خوبیوں اورصوری ومعنوی محاسن کی ایک نرالی ہی جامعیت رکھی تھی۔آپ کی نگاہِ ولایت نےکئی گنہگاروں کو ولایت کے اعلٰی مقام پر فائز کیا۔حضرت خاتم الاکابر رحمۃ اللہ علیہ اپنی اس قدر جامعیت اور بے پناہ باطنی وظاہری صلاحیتوں کے باوجود بہت ہی متواضع اور منکسر المزاج تھے حتٰی کہ نماز میں امامت کے بجائے دوسروں کی اقتداء پسند کرتے تھے۔حالات وکمالات کے اخفاء میں سلف کی یادگار اور والدِ ماجد کے سچے جانشین تھے۔ امام احمد رضا خان محدث بریلوی رحمتہ اﷲ علیہ اپنے والد ماجد مولانا نقی علی خاں علیہ الرحمہ کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہوکر شرف بیعت سے مشرف ہوئے۔ ان سے آپ نے "قرأت" " تصوف" " اخلاق" " اسماء الرجال" " تاریخ " " لغت" "ادب" اور حدیث وغیرہ کی اجازت لی اور مجلس بیعت میں ہی خلافت سے سرفراز کردیئے گئے۔

تاریخِ وصال:
18 ذوالحجۃ الحرام 1296ھ بمطابق دسمبر 1879ء کو وصال شریف ہوا۔ وقتِ رِحلت لوگوں نے استدعا کی کہ حضور! کچھ وصیت فرمادیجئے۔ بہت اصرار پر فرمایا، مجبور کرتے ہو تو لکھ لو ہمارا وصیت نامہ۔ اَطِیْعُو االلہَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ (یعنی اللہ اور اس کے رسول عَزَّوَجَلَّ وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی اطاعت کرو)بس یہی کافی ہے اور اسی میں دین و دنیا کی فلاح ہے۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا مزار شریف مارہرہ شریف میں مرجع خلائق ہے۔

ماخذ و مراجع:
اہلِ سنت کی آواز۔شرح شجرہ قادریہ

https://scholars.pk/ur/scholar/murshid-e-ala-hazrat-syed-shah-aal-e-rasool-marehravi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
پاسبان مسلک اعلیٰ حضرت، حضرت علامہ مفتی ابو داؤد محمد صادق قادری رضوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

آفتاب ِرضویت:
مقتدائے اہلسنّت، شیخ طریقت، زبدۃ العلماء، عمدۃ الاتقیاء، پیکر صدق و صفا، فخرِِ ملتِ اسلامیہ، حامیٔ سنت، ماحیِ بدعت، جبلِ استقامت، آفتاب ِرضویت، ماہتابِ شریعت، یادگارِ اسلاف، سراپا تقویٰ و اخلاص، برکۃ الزامان، خلیفہ ٔ محدث اعظم پاکستان، نائبِ مصطفیٰ ﷺ حضرت مولانا علامہ الحاج الشیخ المفتی ابو داؤد محمد صادق صاحب قادری رضوی ۔

ابتدائی حالات:
حضرت نباض قوم جمادی الاخریٰ ۱۳۴۸ھ/دسمبر ۱۹۲۹ء میں محلّہ رنگپورہ (نزد جامع مسجد صدیقی) سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ وطن اصلی کوٹلی لوہاراں مشرقی ضلع سیالکوٹ ہے۔کوٹلی لوہاراں ہی میں ابتدائی تعلیم ناظرہ قرآن پاک اور اسکول کی ابتدائی چند جماعتوں تک ہوئی ۔ آپکے والد بزرگوار شاہ محمد مرحوم کا ملازمت کے دوران ۱۹۴۵ء میں بریلی شریف تبادلہ ہوا تو مولانا موصوف بھی اپنے والدین مرحومین کے ساتھ بریلی شریف پہنچ گئے اور وہاں دوران قیام اعلیٰ حضرت ﷫ کے مزار سےمتصل جامعہ رضویہ منظر اسلام کے شعبہ حفظ میں داخل ہوگئے اور حافظ محمد یوسف علی صاحب ﷫سے چند پارے حفظ کیے۔
کچھ عرصہ بعد سیالکوٹ واپسی ہوئی تو دو تین جگہ کسی کسب و ہنر کیلئے داخل کرایا گیا مگر خوش قسمتی سے بریلی شریف میں جودینی ماحول میسر آیا،دل میں وہی لگن تازہ رہی اور بالآخر باقاعدہ تعلیم کے حصول کیلئے کوٹلی لوہاراں مغربی ضلع سیالکوٹ میں سلطان الواعظین مولانا محمد بشیر صاحب﷫ (مدیر ماہنامہ طیبہ) کے والد ماجد ،خلیفۂ اعلیٰ حضرت، فقیہہ اعظم مولانا محمد شریف صاحب محدث کوٹلوی(رحمۃ اللہ علیہم) کی خدمت میں حاضر ہوئے۔

حضرت فقیہہ اعظم نے صَرف کے ابتدائی چند اسباق پڑھا کر رجب المرجب ۱۳۶۴ھ میں بنفس نفیس مولانا ابو داؤد محمد صادق کو ساتھ لے کر حضرت امیر ملت پیر سید جماعت علی شاہ صاحب ﷫کے آستانہ عالیہ پر حاضر ہو کر مدرسہ نقشبند یہ میں داخل کرادیا۔ وہاں مولانا ابو داؤد نے حضرت علامہ آل حسن سنبھلی صاحب ﷫سے ابدائی اسباق اور حضرت علامہ محمد عبد الرشید جھنگوی ﷫(فاضل جامعہ رضویہ منظر اسلام بریلی شریف) سے عربی، فاررسی کی چھوٹی بڑی کتابیں پڑھیں۔ محدث اعظم پاکستان ﷫نے شوال المکرّم ۱۳۶۸ھ/اگست ۱۹۴۹ میں مستقل طور پر لائل پور (فیصل آباد)تشریف لانے کےبعد ’’جامعہ رضویہ مظہرالاسلام ‘‘قائم فرمایا تو ابتدائی دنوں میں ہی مولانا ابو داؤد محمد صادق ﷫نے بھی آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر دورہ حدیث شریف میں داخلہ لیا اورشعبان المعظم ۱۳۶۹ ھ/۲ جون ۱۹۵۰ ءمیں پہلے سالانہ جلسہ دستار فضیلت میں دستاروسند سےمشرف ہوئے۔ دستار فضیلت کے بعد حضرت محدث اعظم﷫ کے حکم سے لائل پور ہی میں ایک مسجد میں امامت، ایک میں خطابت اور جامعہ رضویہ میں شوال المکرّم ۱۳۶۹ ھ میں تدریس کی خدمت سپرد ہوئی پھر ایک سال بعد حضرت محدث اعظم پاکستان﷫ کے حکم پر ۲۹ ذیقعد ۱۳۷۰ ھ/یکم ستمبر ۱۹۵۱ء گوجرانوالہ تشریف لے گئےاور مرکزی جامع مسجدزینت المساجد گوجرانوالہ میں خدمات سر انجام دینے لگے۔دینِ مصطفیٰ ﷺ کی خدمات کے فرائض سنبھالے ہوئے ہجری کےلحاظ سےآپکو ۶۶ سال اور عیسوی کےلحاظ سے ۶۴سال مکمل ہو ئے آپ کی آمد سے قبل گوجرانوالہ شہر دیوبندت ووہابیت کا مرکز تھا لیکن الحمد للہ آپکی محنت اور خلوص کی بدولت اب یہ شہر اہل حق اہل سنت کا مرکز بن گیا اور ہر طرف سے یا رسول اللہ ﷺ کی صدائیں آنے لگیں ۔
جب حکیم الامت حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی ﷫ سے آپکی ملاقات ہوئی تو انہوں نے مسرت کا اظہار کرتے ہوئےفرمایا!مولانا!’’آپ نے تو گوجرانوالہ میں اسلام کا چرچا فرما دیا ہے ارر ماشا ء اللہ خوب کام کیا ہے‘‘ اور پھر آپ ﷫نے آپکو اپنی دعاؤں سے نوازا۔

آپ کی دینی خدمات :
1) گوجرانوالہ شہر میں اہلسنت کی سب سے پہلی دینی درسگاہ ’’جامعہ سراج العلوم ‘‘ کا قیام جہاں سے کثیر تعداد میں حفاظ،قراء،اور جیدعلماء کرام (جن میں شہید ناموسِ مصطفیٰﷺ علامہ اکرم رضوی شہید﷫ بھی شامل ہیں) پڑھ کر پوری دنیا میں دینِ متین کی خدمات سرانجام دے رہے ہیں ۔
2) اہلسنت کامحبوب ترین مجلّہ ’’ماہنامہ رضائے مصطفیٰ ‘‘جو پاکستان میں نہیں بلکہ پوری دنیا میں ’’فکر رضا‘‘ کا امین اور اہلسنت کا ترجمان ہے ۔اس سے بڑھ کر اور کیا بڑی سعادت ہوسکتی ہے کہ رضائے مصطفیٰ کے قارئین میں حضور قطبِ مدینہ سیدی ضیاء الدین مدنی﷫ ،اور مفتی اعظم ہند﷫،اور حجۃ الاسلام﷫، جیسی عظیم شخصیات شامل رہیں ہیں۔
مفتی اعظم پاکستان مفتی وقارالدین ﷫ نے ’’وقار الفتاویٰ‘‘ میں تو یہاں تک لکھ دیا کہ ’’مولانا ابو داؤد محمد صادق رضوی اپنے رسالہ ماہنامہ رضائے مصطفیٰ میں جو کچھ لکھ رہے ہیں وہ سب درست ہے۔‘‘(وقار الفتاویٰ،ج1،ص،۳۳۶)
3) تمام موضوعات پر کتب و رسائل کی تصنیفات ۔
4) سینکڑوں کی تعداد میں اہم موضوعات پر پوسٹرز،اشتہارات،اور مضامین کی تألیف واشاعت ۔
2
5) انجمن رضائے مصطفیٰﷺ کا قیام جس سے منتشر عوامِ اہل سنت ایک پلیٹ فارم پہ جمع ہوکر ایک قوت بن گئے۔
6) پوری دنیا میں بد مذہبوں،نام نہاد اسکالروں،اور جعلی مولویوں اور پیروں،کا علمی تعاقب۔
7) تحریکِ پاکستان ،تحریک ختمِ نبوت اور تحریک نظامِ مصطفیٰ ﷺ میں بھر پور حصہ لیا اورکئی بار قید و بند کی صعوبتیں براشت کیں۔

؎یہ قصۂ لطیف ابھی نا تمام ہے
جو کچھ بیاں ہواوہ تمہید بیان ہے



آفتابِ رضویت غیروں کی نظرمیں:
1)ایک غیر مقلد و وکاندار سے کسی نے کہا کہ تحریک ختم نبوت کے دنوں میں تمہارے مولوی اسماعیل سلفی خطیب ’’ چوک نیائیں ‘‘ جیل میں ہمارے مولانا محمد صادق صاحب کے ساتھ اکٹھے رہے ہیں،وہاں کی کوئی بات سناتے ہیں یا نہیں؟اس دوکاندار نے کہا! پچھلے جمعہ کی نماز کے بعد ہم چند دوست ان کے پاس مسجد میں بیٹھے تھے،کسی نے ان سے پوچھا’’آپ اور مولانا صادق رضوی صاحب جیل میں اکٹھے تھے،ان کی کوئی بات سنائیے‘‘مولوی اسماعیل سلفی نے کہا’’اگر مولانا صادق رضوی میرے عقیدہ کا ہوتا تو میں روزانہ اس کے پاؤں دھو کر پینا اپنے لیے فخر سمجھتا‘‘۔
2) مجاہد تحریک ختم نبوت علامہ خالد حسن مجددی رقمطراز ہیں’’حق گوئی اور گستاخان رسول ﷺکی گوشمالی کرنے پر حضرت مولانا محمد صادق صاحب پر کئی مقدمات قائم ہوئے، حضرت پابند ِسلاسل اور جیل خانہ کی رونق بنے۔ اس بات کو مکمل کرنے سے سے پہلے عرض کروں ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں حضرت بھی جیل گئے، مجھے ایک دوسرے مسلک کے بہت بڑے’’عالم‘‘نے خود بتایا کہ ’’دوسرے علماء جیل میں خوش گپیوں میں وقت گذارتے تھے مگر حضرت الگ یاد خدا میں مگن رہتے، اگر مولانا محمد صادق میرے مسلک کے ہوتے تو ہم ان کی بیعت کرتے، ان کے زہد و اتقوی ٰسے ہم بہت متاثر تھے‘‘۔ اس دور میں کافی علماء معافی نامہ داخل کر کے واپس آئے مگر حضرت نے استقامت کے ساتھ مشقتیں اٹھائیں۔

حق گوئی وبیباکی:
ہمیشہ حق کا ساتھ دیا اور ہر باطل کا پوری قوت کیساتھ مقابلہ کیا اس میں اپنے پرائے کا فرق نہ جانا، نہ ڈرے،نہ دبے اور نہ ہی جھکے ہمیشہ ’’فکرِرضا ‘‘ پر کار بند رہے نام نہاد جدت پسندی اور صلح کلی سے ہمیشہ دور رہے۔ تائید ایزدی کی وجہ سے ہر میدان میں ہمیشہ کامیاب و کامران رہے۔
آپ ڈاکٹر اقبال کے ان اشعار کی عملی تفسیر تھے ۔

آئینِ جوانمرداں حق گوئی و بیباکی
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی
ہزار خوف ہوں لیکن زبان ہو دل کی رفیق
یہی رہا ہے ازل سے قلندروں کا طریق
گلشن کھلا دئیے ہیں
صادق نے دین حق کے گلشن کھلا دئیے ہیں
عشق نبی کے ہر سو ڈنکے بجا دئیے ہیں!
ہم سب کو ہیں مسلّم خدمات ان کی اعلیٰ
گھر گھر میں سنّیوں کے جلسے سجا دئیے ہیں
ایسے جلوس پہلے کم دیکھنے میں آئے
قیادت میں اُنکی ہم نے دشمن بھگا دئیے ہیں
جتنے شقی تھے دشمن سب مٹ گئے ہیں آخر
اب تو نشان اُن کے مدفن بنا دئیے ہیں
ہے شرفِ اہلسنّت صادق ہیں سب پہ غالب
فضل خدا سے سارے موذی مٹا دئیے ہیں
حق آپ کی کرامت سچ آپ کی متانت
خوب آپ کی بصیرت، سوتے جگا دئیے ہیں
ہے’’رضائے مصطفیٰ‘‘ کا سدا سربلند پرچم
کشتی اُنہی پہ چھوڑی، لنگر اٹھا دئیے ہیں

قارئین! حضرت نبّاض قوم کے حوالے سے مندرجہ بالا مضمون’’مشتے از خروارے‘‘تبرکاً چند جھلکیوں پر اکتفاکیا گیا ہے ورنہ ۶۶سالہ دینی خدمات اور آپکی عظیم شخصیت سے متعلق تو ایک دفتر بھی نا کافی ہے۔

؎ ورق تمام ہوا اور مدح باقی ہے
سفینہ چاہیے اس بحرِبیکراں کےلئے

وصالِ پر ملال:
۱۸۔ذوالحجہ ۱۴۳۶ھ بمطابق۳۔اکتوبر۲۰۱۵ بروز ہفتہ انتقال فرمایا اور نمازجنازہ۴۔اکتوبر بروز اتوار سہ پہر ۳بجے ادا کی گئی نماز جنازہ جناح اسٹیڈیم گوجرانوالہ میں مشہور عالِم ِدین مفتی غلام عباس رضوی نے پڑھائی۔ نمازجنازہ میں تقریباًً ۱۔لاکھ افراد نے شرکت فرمائی اور گوجرانوالہ کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ تھا۔ (انا للہ وانا الیہ راجعون)

خاکپائے رضویت:
محمد رمضان تونسوی رضوی

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-mufti-abu-dawood-muhammad-sadiq-qadri-rizvi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
خلیفۂ اعلیٰ حضرت، حضور صدر الافاضل، حضرت علامہ سید نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نام و نسب:
آپ کا نام سید نعیم الدین بن معین الدین بن امین الدین بن کریم الدین ہے ۔ (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم)

تاریخ و مقامِ ولادت:
آپ کی ولادت بروزپیر،21 صفر المظفر 1300ھ بمطابق جنوری 1883ء مراد آباد (یو.پی) میں ہوئی۔

تحصیلِ علم:
صدر الافاضل علیہ رحمۃ اللہ علیہ جب چار سال کے ہوئے تو آپ کے والد گرامی نے "" بسم اللہ خوانی "" کی پاکیزہ رسم ادا فرمائی۔ ناظرہ قرآنِ پاک ختم کرنے کے بعد آٹھ سال کی عمر میں حفظِ قرآن کی تکمیل کی۔ابتدائی تعلیم اپنے والد ماجد سے حاصل فرمائی ، متوسطات تک علوم درسیہ کی تکمیل حضرت مولانا حکیم فضل احمد صاحب سے کی، اس کے بعد بقیہ علوم کی تحصیل و تکمیل حضرت علامہ مولانا سید محمد گل صاحب کابلی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے کی۔

بیعت و خلافت:
آپ اپنے ہی استاذ گرامی حضرت مولانا سید محمد گل صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے اور اجازت وخلافت سے نوازے گئے۔ حضرت نے اپنے لائق وفائق تلمیذِ رشید کو چاروں سلسلوں اور جملہ اوراد ووظائف کی اجازت عطافرماکر ماذون ومجاز بنا دیا۔اس کے بعد غوث ِوقت، قطبِ دوراں، شیخ المشائخ حضرت شاہ سید علی حسین صاحب اشرفی میاں کچھوچھوی نے بھی خلافت واجازت سے سر فراز فرمایا۔

سیرت و خصائص:
حضور صدر الافاضل اپنی علمی جاہ وحشمت، شرافتِ نفس، اتباعِ شریعت، زہد وتقویٰ، سخن سَنجی،حق گوئی، جرأت وبے باکی اور دین حق کی حفاظت کے معاملے میں فقید المثال تھے۔ آپ اپنی مختلف دینی، علمی، تبلیغی، تحقیقی و تصنیفی مصروفیات اور مناظرہ ومقابلہ اور فِرَقِ باطلہ کے رد وابطال جیسی سرگرمیوں کے باوجود تاحیات درس و تدریس سے وابستہ رہے ۔آپ کا طرزِ تدریس بڑا دلچسپ و منفرد تھاافہام وتفہیم میں آپ یکتائے روزگار تھے جس کی بدولت اسباق طلبا کے دل ودماغ پر پوری طرح نقش ہو جاتے۔ طَلَبَہ کے خورد ونوش اور مدرسین کی تنخواہ آپ اداکرتے تھے۔ حضرت صدر الافاضل کو دیگر علوم وفنون کے علاوہ فنِ تقریرو مناظرہ میں بھی مہارت حاصل تھی۔ آپ اپنے وقت کے تقریباً تمام فِرَقِ باطلہ سے نبرد آزما رہے، ایک سے بڑھ کر ایک مناظر آپ کے مقابل آیا لیکن ہمیشہ میدان آپ کے ہاتھ رہا۔جو دلائل و حجج قائم فرماتے کسی کو اتنی طاقت نہ ہوتی کہ توڑ سکتا مخالف ایڑی چوٹی کا زور لگاتا لیکن ناممکن تھا کہ جو گرفت فرمائی تھی اس سے گُلُو خلاصی پاسکتایا وہ گرفت نرم پڑ جاتی،مخالف غضب و عناد میں انگلیاں چباتے مگر کچھ نہ کر سکتے۔حضور صدر الافاضل اپنی گوناگوں مصروفیات کے باوجود دار الافتاء بھی بڑی خوبی اور باقاعدگی کے ساتھ چلاتے،ہند وبیرون ہندنیز مراد آباد کے اطراف و اکناف سے بے شمار اِسْتِفْتا اور استفسارات آتے اور تمام جوابات آپ خود عنایت فرماتے۔ بفضلہ تعالیٰ فقہی جزئیات اس قدر مستحضر تھے کہ جوابات لکھنے کے لیے کُتُبْہَائے فقہ کی طرف مراجعت کی ضرورت بہت ہی کم پیش آتی ۔ قیامِ پاکستان میں آپ نے بھرپور حصہ لیا۔

وفات:
18 ذوالحجہ 1367ھ مطابق 23 اکتوبر 1948ء بروز جمعۃ المبارک صدر الافاضل نے داعی اجل کو لبیک کہا۔وقت وصال ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی، کلمہ طیبہ کا ورد جاری تھا، پیشانی اقدس اور چہرہ مبارک پر بے حد پسینہ آنے لگا، ازخود قبلہ رخ ہوکر دستہائے پاک اور قدمہائے ناز کو سیدھا کرلیا، ۱۲ بجکر ۲۰ منٹ پر اہل سنت کا یہ سالار اپنے خالقِ حقیقی سے جاملا۔ اِنَّا لِلّٰہ وَاِنَّااِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔آپ کی تدفین جامعہ نعیمیہ کی مسجدکےبائیں گوشے میں کی گئی۔

ماخذ و مراجع: روشن دریچے

https://scholars.pk/ur/scholar/sadrul-afazil-hazrat-allama-naeemuddin-muradabadi
1