🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
17-12-1444 ᴴ | 06-07-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
17-12-1444 ᴴ | 06-07-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
Forwarded from Muhammad IBRAHEEM
*شیعی رسومات کی تاریخ ایجاد و آغاز*

لعنت کا آغاز: "۳۵۱ھ میں معزالدولہ(احمد بن بُویہ دیلمی) نے جامع مسجد بغداد کے ک دروازے پر نعوذ باللہ "نقل کفر کفر نہ باشد” یہ عبارت لکھوا دی۔

((لعن اللہ معاویۃ بن ابی سفیان ومن غصب فاطمۃ فدکا ومن منع من دفن الحسن عند جدہ ومن نفی ابا ذر ومن خرج العباس عن الشوری))

عید غدیر کی ایجاد:     معزالدولہ نے ۱۸ذوالحجہ ۳۵۱ھ کو بغداد میں عید منانے کا حکم دیا اور اس عید کا نام "عید خم غدیر” رکھا، خوب ڈھول بجائے گئے اور خوشیاں منائی گئیں۔ اسی تاریخ کو یعنی ۱۸ ذوالحجہ ۳۵ھ کو حضرت عثمان غنی چونکہ شہید ہوئے تھے لہٰذا اس روز شیعوں کے لیے "خم غدیر” کی عید منانے کا دن تجویز کیا گیا۔ احمد بن بویہ دیلمی یعنی معزالدولہ کی اس ایجاد کو جو ۳۵۱ھ میں ہوئی، شیعوں نے یہاں تک رواج دیا کہ آج کل کے شیعوں کا یہ عقیدہ ہے کہ عید غدیر کا مرتبہ عیدالاضحٰی سے زیادہ بلند ہے۔

ماتم اور تعزیہ داری کی ایجاد:   ۳۵۲ھ کے شروع ہونے پر ابن بویہ مذکور نے حکم دیا کہ ۱۰ محرم کو حضرت "امام” حسین کی شہادت کے غم میں تمام دکانیں بند کر دی جائیں، بیع و  شراء بالکل موقوف رہے، شہر و دیہات کے لوگ ماتمی لباس پہنیں اور علانیہ نوحہ کریں۔ عورتیں اپنے بال کھولے ہوئے، چہروں کو سیاہ کیے ہوئے، کپڑوں کو پھاڑتے ہوئے سڑکوں اور بازاروں میں مرثیے پڑھتی، منہ نوچتی اور چھاتیاں پیٹتی ہوئی، نکلیں۔ شیعوں نے اس حکم کی بخوشی تعمیل کی مگر اہل سنت دم بخود اور خاموش رہے کیونکہ شیعوں کی حکومت تھی۔ آئندہ سال ۳۵۳ھ میں پھر اسی حکم کا اعادہ کیا گیا اور سنیوں کو بھی اس کی تعمیل کا حکم دیا گیا۔اہل سنت اس ذلت کو برداشت نہ کرسکے چنانچہ شیعہ اور سنیوں میں فساد برپا ہوا اور بہت بڑی خون ریزی ہوئی۔ اس کے بعد شیعوں نے ہر سال اس رسم کو زیر عمل لانا شروع کر دیا اور آج تک اس کا رواج ہندوستان میں ہم دیکھ رہے ہیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ ہندوستان (متحدہ) میں اکثر سنی لوگ بھی تعزیے بناتے ہیں۔

("تاریخ اسلام” اکبر خان نجیب آبادی۔ ج:۲، ص ۵۶۶، طبع کراچی)
👍1
Forwarded from فرحان رفیق قادری
پھر چِیخْنا مت !

اسحاق بن عیسی کہتے ہیں ۔ہم اپنے ایک دوست کے گھر پر تھے ۔ایک ساتھی اٹھ کر دوسرے کمرے میں سونے کے لیے چلا گیا ۔تھوڑی دیر بعد اس کی چیخوں کی آواز آئی ہم پریشان دوڑتے ہوئے اس کے پاس پہنچے پوچھا :کیا ہوا ؟ وہ اپنے خصیے پکڑے ہوئے بائیں کروٹ لیٹا تھا ۔ہم نے پوچھا :چیخ کیوں رہے تھے ؟
بولا: جب میں نےخصیے پکڑ کر دبائے تو مجھے درد ہوا اور جب مجھے درد ہوا تو میں چیخ پڑا۔
ہم نے کہا :اب ایسا مت کرنا ۔
بولا: ہاں بالکل۔ان شاء اللہ جزاکم اللہ خیرا ۔

کتاب الحمقی و المغفلین لابن جوزی رحمہ اللہ دار الکتب بیروت العلمیہ صفحہ 150۔151

محرم میں نکاح کے جواز اور سوگ کی حرمت کا سن کر چیخیں مارنے والے بھی کچھ ایسے ہی کہ مظلوم صحابی جناب عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے یوم شہادت پر تو کوئی سوگ کی رگ نہیں پھڑکی البتہ متعائیوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے عید غدیر تو منانا شروع کر دی ۔
عشرہ عاشورا میں تفضیلیے ماتمی چیخیں مارنے میں مصروف ہونگے تو ہم شرعی حکم سناتے ہوئے عرض کرے گئے ایسا مت کرو تمہارا ہی فائدہ ہے۔اگر انشاء اللہ جزاکم اللہ خیرابولتےہوئے قبول کریں گے تو چیخیں بھی رک جایئے گی نہیں تواُس بناوٹی سوگیوں کو (جوشہادت عثمان رضی اللہ عنہ پر جشن میں مصروف ہے ) مزید آلات دیں گے کہ جی بھر کے چیخیں!

نوٹ: ہم شہادت عثمان پاک رضی اللہ عنہ کے سوگ کے قائل ہیں نہ ہی سیدنا امام حسین کے رضی اللہ عنہ۔

فرحان ر فیق قادری عفی عنہ ۔
👌1
عید غدیر کی حقیقت
@Maslake_Aalaa_Hazrat
عطا محمد مشاہدی
1
عید غدیر کا شرعی حکم
@Maslake_Aalaa_Hazrat
مفتی ذو الفقار خان نعیمی
1
Forwarded from 05 کتب تقاریر لائبریری 📚 (محمد جمال الدين خان قادری)
خطبات جمعہ خطبہ نمبر 72
حضرت عثمان غنی رضی الله
عنه 🌹 کی حیات و خدمات
https://t.me/Kutube_Taqaareer
مولانا نوید اختر امجدی
پیش کش روشن مستقبل دہلی
شان وعظمت حضرت عثمان غنی
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
سیرت و سوانح حضرت عثمان↶
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/8701
خلفاء | اہلبیت | صحابہ | کربلا ↶
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/14068
1
Forwarded from 05 کتب تقاریر لائبریری 📚 (محمد جمال الدين خان قادری)
Khutba 72- Hazrat Usman Gani.pdf
1.5 MB
Khutba⁷² Hazrat Usman Gani
https://t.me/Kutube_Taqaareer
Maulana Navaid Akhtar ᴬᵐʲᵃᵈⁱ
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👌1
حضرت مولانا حافظ دوست محمد للہی رحمۃ اللہ علیہ

ولادت:
حضرت مولانا حافظ دوست محد ابن حضرت خواجہ غلام للہی (قدس سرہما) ۱۲۶۶ھ/۵۰۔ ۱۸۴۹ء میں للہ شرف (ضلع جہلم) میں پیدا ہوئے ۔

ابھی آپ شیر خوار ہی تھے کہ عارف یگانہ حضرت خواجہ غلام محی الدین قصوری دائم الحضوری قدس سرہ نے آپ کو ایک مکتوب میں تحریر فرمایا:

’’مولوی حافظ دوست محمد کو دعا‘‘

اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے آپ حافظ بھی ہوئے اور مولوی بھی ۔ تکمیل علوم کے بعد تین سال تک والد ماجد سے کسب سلوک کیا اور سلسلۂ مجددیہ کے مقامات کی تکمیل کر کے سر ہند شریف میں حضرت مجدد الف ثانی قدس سرہ کے ایماء سے خلافت و اجازت سے مشف ہوئے ۔

والد ماجد حضرت خواجہ غلام نبی للہی قدس سرہ کے وصال کے بعد مسند ارشاد پر فائز ہوئے اور حق وـ داقت کی جانب خلق خدا کی رہنمائی فرمائی، غرباء اور مساکین کو الطاف خسروانہ سے نوازتے اور اہل دنیا سے کچھ غرض نہ رکھتے، صاحب حال ہوتے ہوئے کمال اخفاء سے کام لیتے، اہل حاجت حاضر ہوتے اور آپ کی نگاہ التفات سے کامیاب ہو کر لوٹتے ۔

۱۸ ذو الحجہ ، ۸ اپریل ( ۱۳۱۸ھ/۱۹۰۱ء) کو آپ کا وصال ہوا اور للہ شریف میں اپنے والد ماجد کے پہلو میں محو استراحت ہوئے ۔ آپ کے بعد آپ کے فرزند ارجنمد حضرت خواجہ محمد عبد الرسول قدس سرہ ہادیٔ خلق بنے لیکن عین عالم شباب میں ۲۹ سال کی عمر میں ۷ رمضان المبارک / ۲۰ اگست (۱۳۳۰ھ/۱۹۱۲ء) کو راہِئ دارِ آخرت ہوئے [1]

اس وقت حضرت خواجہ محمد عبد الرسول مد ظلہ العالی سلف کے طریقے پر چلتے ہوئے تبلیغ و ارشاد میں مصروف ہیں، مولائے کریم مستر شدین پر ان کا سایہ تا دیر سلامت رکھے ۔

[1] محمد حسن نقشبندی، مولانا: حالات مشائخ نقشبندیہ مجددیہ، ص ۳۸۲ ۔

( تذکرہ اکابرِ اہلسنت )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-dost-muhammad-lillahi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضور ریحان ملت ، علامہ ریحان رضا خاں بریلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نام و نسب:
اسم گرامی: مولانا محمد ریحان رضا خان ۔ لقب: ریحانِ ملت ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت مولانا محمد ریحان رضا قادری بن مفسرِ اعظم ہند حضرت مولانا محمد ابراہیم رضا خاں بن حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد حامد رضا خاں بن اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں قادری فاضل بریلوی بن مولانا نقی علی خاں بن مولانا رضا علی خاں بن حافظ کاظم علی خاں ۔ (علیہم الرحمۃ والرضوان) ۔ (حیاتِ اعلیٰ حضرت)

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 18 ذی الحجہ 1325ھ، مطابق ماہ جنوری 1908ء کو محلہ خواجہ قطب بریلی (انڈیا) میں ہوئی ۔ حضرت ریحان ملت مولانا محمد ریحان رضا علیہ الرحمۃ کی ولادت سے پورے خاندان میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ۔ خاندان کے ہر فرد کا چہرہ مسکرانے لگا ۔ چونکہ نبیرۂ اعلیٰ حضرت مفسرِ اعظم ہند کے یہاں یہ پہلی ولادت تھی، کانوں میں اذان و تکبیر پڑھی گئی ۔ حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد حامد رضا علیہ الرحمہ نے اپنا لعابِ دہن عطا فرمایا، جو منھ میں رکھ دیا گیا، جد امجد حجۃ الاسلام علیہ الرحمۃ نے نام رکھا، بعدہٗ پکارنے کے لیے ریحان رضا تجویز فرمایا، اسی واقعہ کی طرف نشان دہی کراتے ہوئے حضرت ریحان ملت نے اپنے نعتیہ کلام میں تحریر فرمایا ہے۔

؏: نام یہ جس نے دیا اس کو خبر تھی شاید
ان کا ریحان کہیں دنیا میں چمکتا ہوگا

تحصیلِ علم:
پیدائش کے بعد ریحان ملت نے طفولیت کے ایام علم و حکمت معرفت و طریقت کے خوش گوار ماحول میں گذارے ۔ بچپن ہی سے علم و ادب کے دلدادہ تھے ۔ اعلیٰ ذہانت و فطانت رکھتے تھے ۔ ریحان ملت کی تعلیم گھر پر ہوئی حسب الحکم والد ماجد مفسر اعظم ہند علیہ الرحمۃ لائل پور پاکستان تشریف لے گئے ۔ وہاں پر جامعہ رضویہ مظہر اسلام میں داخلہ لے کر محدث اعظم پاکستان حضرت مولانا محمد سردار احمد رضوی لائل پوری علیہ الرحمۃ کی خدمت میں تین سال مسلسل رہ کر معیاری کتابوں کا درس حاصل کیا، پھر وہاں سے واپسی کے بعد دار العلوم منظرِ اسلام بریلی شریف سے با قاعدہ دستار بندی ہوئی، اور سندِ فراغت پائی ۔

اساتذہ:
حضرت ریحان ملت کے اساتذۂ کرام میں مندرجہ ذیل حضرات کے اسماءِ گرامی قابل ذکر ہیں، جنہوں نے شب و روز محبت و شفقت کے ساتھ علمِ دین پڑھایا، اور معرفت و حکمت، علوم و فنون عطا فرما کر مستند عالم بنایا:

۱۔ حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد حامد رضا خاں قادری بریلوی علیہ الرحمۃ
۲۔ تاجدارِ اہلسنت حضرت مفتی اعظم مولانا مصطفیٰ رضا نوری بریلوی قدس سرہٗ
۳۔محدث اعظم پاکستان حضرت مولانا محمد سردار احمد رضوی لائل پوری علیہ الرحمۃ
۴۔ مفسر اعطم ہند حضرت مولانا محمد ابراہیم رضا خاں جیلانی بریلوی علیہ الرحمہ
۵۔ امام النحو حضرت مولانا سید غلام جیلانی میرٹھی علیہ الرحمۃ
۶۔ محدث منظر اسلام حضرت مولانا احسان علی رضوی علیہ الرحمۃ
۷۔ بحر العلوم حضرت مفتی سید افضل حسین رضوی مونگیری علیہ الرحمۃ
۸۔ حضرت مولانا مفتی جہانگیر خاں رضوی اعظمی مدظلہ ۔

بیعت و خلافت:
حضرت ریحان ملت بیعت و اردت حضور مفتی اعظم قدس سرہٗ سے رکھتے تھے ۔ 1357ھ / 1938ء کو جد امجد حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد حامد رضا خاں بریلوی علیہ الرحمۃ نے ماذون و مجاز فرمایا ۔ 15/جنوری 1962/1381 کو حضور مفتی اعظم مولانا مصطفیٰ رضا نوری بریلوی قدس سرہٗ نے ریحان ملت اور جانشین مفتی اعظم حضرت مولانا مفتی محمد اختر رضا خاں ازہری قادری بریلوی دامت برکاتہم القدسیہ کو ساتھ ہی ساتھ خلافت و اجازت عطا فرمائی، اور یہ خلافت میلاد شریف کی مبارک محفل میں عطا ہوئی ۔ خلافت کے وقت شمس العلماء حضرت مولانا قاضی شمس الدین احمد رضوی جعفری جونپوری علیہ الرحمۃ (مصنف قانونِ شریعت) بھی رونق افروز تھے، اور علاوہ ازیں والد ماجد مفسر اعظم ہند مولانا محمد ابراہیم رضا بریلوی علیہ الرحمۃ سے بھی اجازت حاصل تھی ۔ (مفتی اعظم اور ان کے خلفاء ص:368)

سیرت و خصائص:
گلشنِ رضویہ کے مہکتے پھول، جامع المنقول والمعقول، استاذ العلماء، سند الفضلاء، ریحانِ ملت، حضرت علامہ مولانا محمد رضا خان قادری بریلوی رحمۃ اللہ علیہ ۔ آپ علیہ الرحمہ فاضلِ کامل، اور جید عالم دین تھے ۔ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کی علمی و روحانی امانتوں کے وارثِ کامل تھے ۔ آپ علیہ الرحمہ کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دی گئی تھی ۔ یہی وجہ ہے کہ آگے چل کر اس مردِ کامل نے قوم و ملت، اور دینِ اسلام کے لئےکارہائے نمایاں انجام دئیے ۔ جن میں سے اہم کارنامے مرکز ِاسلام ’’منظرِ اسلام‘‘ اور رضا مسجد کی جدید خطوط پر تعمیر و ترقی، اور دار الاقامہ، نشر و اشاعت کے لئے برقی پریس کا اہتمام ہے ۔
1