Forwarded from Ghulam Mustafa Naimi
*مدعیان تصوف:افکارونظریات*[1]
غلام مصطفےٰ نعیمی
جنرل سیکریٹری تحریک فروغ اسلام دہلی
gmnaimi@gmail.com
خانقاہ کچھوچھہ مقدسہ کے اظہار موقف کے بعد بعض مدعیان تصوف کا ردعمل ایسا تھا جیسا رنگے ہاتھوں پکڑے جانے پر کسی پاکٹ مار کا ہوتاہے۔اعلان برأت واظہار موقف کے بعد "اعتدال ووسطیت اور احسان ورواداری" کی مالا جپنے والے متصوفین نے سوشل میڈیاپرگالی گلوچ کا بازار گرم کردیا۔سادات کچھوچھہ مقدسہ پر انتہائی بھونڈے اور بھدے جملے کسے گئے،اس سے بھی دل نہیں بھراتوشیخ سراواں سے اکتساب فیض کرنے والے ایک نیم اردوخواں،خشخشی ریش مجاور سے جی بھرکر ہرزہ سرائی کرائی گئی۔حدتویہ ہے کہ سیدنا ابوبکرصدیق وحضرت امیرمعاویہ رضی اللہ عنہما کی شان اقدس میں انتہائی رکیک اور ایمان سوز لفظوں کا استعمال کیاگیا۔تصوف وسلوک کی بات کرنے والے ان "متصوفین"کی زبان کے نمونہ آپ بھی ملاحظہ فرمائیں:
🔻 سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی افضلیت اور خلافت کے اجماع کا انکار کیا۔
🔻 سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی ذات پر فسق وفجور کا حکم لگایا۔
🔻 تعظیم حضرت امیرمعاویہ کے قائلین کو کافر قرار دیا۔
🔻 سوادِ اہل سنت کو خارجی وناصبی قرار دیا۔
🔻 عدم ایمان ابو طالب کے قائلین کو کافر قرار دیا۔
🔻 اکابرین کچھوچھہ کو خارجی اور ان کی سیادت کو مسلوب قراردیا۔
یہ سب نمونے تو ہم نے بڑی احتیاط سے نقل کئے ہیں ورنہ اصل زبان تو نقل کئے جانے لائق ہے ہی نہیں!!
یہ ان لوگوں کی زبان ہے جو دوسروں پر سخت کلامی کا الزام دیتے ہیں۔اِنہیں "متصوفین"کا دعوی ہے کہ "صوفیا نے کسی کو کافر نہیں کہا"،لیکن آپ دیکھیں کہ اس رفض زدہ مجاور نے کس بے دردی کے ساتھ کفر کی گن مشین چلائی ہے جس سے اخلاف واسلاف تک کوئی محفوظ نہیں رہا،پھر بھی ان لوگوں کا دعویٰ ہے کہ یہ "محبت والے ہیں"۔
کتنے میٹھے ہیں تیرے لب اے رقیب
گالیاں دے کے بھی بدمزہ نہ ہوئے
جب چہارجانب سے ان رفض نواز مجاورین کا تعاقب شروع ہوا،تو ڈیمج کنٹرول( control Damage)کی کوششوں کے تحت چندسرخیل متصوفین اجمیر معلی میں جمع ہوئے۔پہلے ان سرخیل متصوفین پر ایک نظرڈال لیں تاکہ ان کے خدوخال ذہن میں رہیں۔
🔻 کاظم پاشا حیدرآباد :موصوف اپنے حلقہ احباب میں خطیب دکن کے طور پر شہرت رکھتے ہیں۔آنجناب نے اپنی ایک تقریر میں صحابی رسول حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ کومعاذاللہ 'بدبخت' قرار دیا۔
🔻 سرورچشتی: موصوف خشخشی ریش گدین نشین ہیں،آپ کے فرمان عالیشان کے مطابق سواد اعظم اہل سنت کی اکثریت خارجی وناصبی ہے۔
🔻 تنویراشرف بیجاپور: صوفی کانفرنس میں موصوف کی باوقار موجودگی میں"شری نریندر مودی" کےلئے"عمرخضر" کی دعا کرائی گئی،مگرجناب کے لبوں پر قفل سکوت لگا رہا۔
عزیزان گرامی!!
جو متصوفین ایسے سوقیانہ خیالات اور ایسی بازاری زبان رکھتے ہوں ،ان کی زبانوں سے "احسان وسلوک"کی بات سننا ایسا ہی ہے جیسا آر ایس ایس کے لوگوں سے "حب الوطنی" کا بھاشن سننا۔
سونا جنگل، رات اندھیری، چھائی بدلی کالی ہے
سونے والو!جاگتے رہیو چوروں کی رکھوالی ہے
مؤرخہ 30 صفرالمظفر1440ھ
9نومبر 2018ء بروز جمعہ
غلام مصطفےٰ نعیمی
جنرل سیکریٹری تحریک فروغ اسلام دہلی
gmnaimi@gmail.com
خانقاہ کچھوچھہ مقدسہ کے اظہار موقف کے بعد بعض مدعیان تصوف کا ردعمل ایسا تھا جیسا رنگے ہاتھوں پکڑے جانے پر کسی پاکٹ مار کا ہوتاہے۔اعلان برأت واظہار موقف کے بعد "اعتدال ووسطیت اور احسان ورواداری" کی مالا جپنے والے متصوفین نے سوشل میڈیاپرگالی گلوچ کا بازار گرم کردیا۔سادات کچھوچھہ مقدسہ پر انتہائی بھونڈے اور بھدے جملے کسے گئے،اس سے بھی دل نہیں بھراتوشیخ سراواں سے اکتساب فیض کرنے والے ایک نیم اردوخواں،خشخشی ریش مجاور سے جی بھرکر ہرزہ سرائی کرائی گئی۔حدتویہ ہے کہ سیدنا ابوبکرصدیق وحضرت امیرمعاویہ رضی اللہ عنہما کی شان اقدس میں انتہائی رکیک اور ایمان سوز لفظوں کا استعمال کیاگیا۔تصوف وسلوک کی بات کرنے والے ان "متصوفین"کی زبان کے نمونہ آپ بھی ملاحظہ فرمائیں:
🔻 سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی افضلیت اور خلافت کے اجماع کا انکار کیا۔
🔻 سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی ذات پر فسق وفجور کا حکم لگایا۔
🔻 تعظیم حضرت امیرمعاویہ کے قائلین کو کافر قرار دیا۔
🔻 سوادِ اہل سنت کو خارجی وناصبی قرار دیا۔
🔻 عدم ایمان ابو طالب کے قائلین کو کافر قرار دیا۔
🔻 اکابرین کچھوچھہ کو خارجی اور ان کی سیادت کو مسلوب قراردیا۔
یہ سب نمونے تو ہم نے بڑی احتیاط سے نقل کئے ہیں ورنہ اصل زبان تو نقل کئے جانے لائق ہے ہی نہیں!!
یہ ان لوگوں کی زبان ہے جو دوسروں پر سخت کلامی کا الزام دیتے ہیں۔اِنہیں "متصوفین"کا دعوی ہے کہ "صوفیا نے کسی کو کافر نہیں کہا"،لیکن آپ دیکھیں کہ اس رفض زدہ مجاور نے کس بے دردی کے ساتھ کفر کی گن مشین چلائی ہے جس سے اخلاف واسلاف تک کوئی محفوظ نہیں رہا،پھر بھی ان لوگوں کا دعویٰ ہے کہ یہ "محبت والے ہیں"۔
کتنے میٹھے ہیں تیرے لب اے رقیب
گالیاں دے کے بھی بدمزہ نہ ہوئے
جب چہارجانب سے ان رفض نواز مجاورین کا تعاقب شروع ہوا،تو ڈیمج کنٹرول( control Damage)کی کوششوں کے تحت چندسرخیل متصوفین اجمیر معلی میں جمع ہوئے۔پہلے ان سرخیل متصوفین پر ایک نظرڈال لیں تاکہ ان کے خدوخال ذہن میں رہیں۔
🔻 کاظم پاشا حیدرآباد :موصوف اپنے حلقہ احباب میں خطیب دکن کے طور پر شہرت رکھتے ہیں۔آنجناب نے اپنی ایک تقریر میں صحابی رسول حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ کومعاذاللہ 'بدبخت' قرار دیا۔
🔻 سرورچشتی: موصوف خشخشی ریش گدین نشین ہیں،آپ کے فرمان عالیشان کے مطابق سواد اعظم اہل سنت کی اکثریت خارجی وناصبی ہے۔
🔻 تنویراشرف بیجاپور: صوفی کانفرنس میں موصوف کی باوقار موجودگی میں"شری نریندر مودی" کےلئے"عمرخضر" کی دعا کرائی گئی،مگرجناب کے لبوں پر قفل سکوت لگا رہا۔
عزیزان گرامی!!
جو متصوفین ایسے سوقیانہ خیالات اور ایسی بازاری زبان رکھتے ہوں ،ان کی زبانوں سے "احسان وسلوک"کی بات سننا ایسا ہی ہے جیسا آر ایس ایس کے لوگوں سے "حب الوطنی" کا بھاشن سننا۔
سونا جنگل، رات اندھیری، چھائی بدلی کالی ہے
سونے والو!جاگتے رہیو چوروں کی رکھوالی ہے
مؤرخہ 30 صفرالمظفر1440ھ
9نومبر 2018ء بروز جمعہ
❤1
Forwarded from Ghulam Mustafa Naimi
*بند دماغ سراویوں, نیچریوں اور جدیدیوں کے نام*
از : غلام مصطفی نعیمی
ایڈیٹر سواد اعظم دہلی
بچپن میں ایک فارسی کہاوت پڑھی تھی :
یک من علم را دہ من عقل باید. یعنی ایک مَن علم کے لئے دس مَن عقل چاہیے. لیکن حالاتِ زمانہ کی نیرنگی دیکھیے کہ جن لوگوں کو چھٹانک بھر بھی دولتِ علم صحیح طور سے نہ مل پائی وہ لوگ علم وفن کے کوہِ ہمالہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا کے علم پر نکتہ چینی کرنے کی جسارتِ بیجا کرتے ہیں.
پچاس سے زائد علوم پر مہارت رکھنے والی اتنی عظیم اور عبقری شخصیت کے علم پر اعتراض کرنے والے افراد کے بارے میں معروف پاکستانی محقق علامہ پیر ابوالحسن واحد رضوی تحریر فرماتے ہیں :
"آج کل جو شہرت حاصل کرنے کے لیے مختلف باتیں کرتے ہیں وہ عالم تو دور حقیقی طور پر طالب علم بھی نہیں ہیں. بلکہ عقل سے بھی کورے اور فہم سے عاری ہیں. اور رہی تقویٰ کی صفت! تو یہ تو شروع ہی سے ان کے لیے اجنبی اور نادیدہ ہے"
کور عقلی جیسی صفات سے متصف یہ حضرات آئے دن اپنی انہیں صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے رہتے ہیں..
پچھلے دنوں سیدی اعلی حضرت کے ایک فتوے پر ایک "صاحب بہادر" کا نوٹ اور انہیں کے ہم خیال افراد کے کچھ تبصرے نگاہوں سے گزرے... جن میں ان تمام افراد نے اپنی کور عقلی کا خوب خوب ثبوت دیا.
سوال یہ تھا کہ جن اداروں میں انگریزی کی تعلیم دی جاتی ہے وہاں چرم قربانی دینا موجب ثواب ہے یا نہیں ؟
اس کا جواب دیتے ہوئے اعلی حضرت تحریر فرماتے ہیں :
"مصرف قربانی میں تین باتیں حدیث میں ارشاد ہوئی ہیں :کھاؤ اور ذخیرہ رکھو اور ثواب کے کام کرو.
انگریزی پڑھنا بے شک کوئی بات ثواب کی نہیں. اگر یہ احتیاط ہوسکے کہ اس کے دام صرف قرآن مجید وعلم دین کی تعلیم میں صرف کیے جائیں تو دے سکتے ہیں ورنہ نہیں."
اعلی حضرت کے اس صاف وشفاف فتوے پر اپنی زہر بجھی طبیعت کا مظاہرہ کچھ اس طرح کیا گیا اور اعلی حضرت پر یہ رکیک الزام لگایا گیا:
"مولانا احمد رضا خاں علیہ الرحمہ کو آنے والے جبری حالات ومقتضیات کا وقت رہتے اندازہ نہیں ہوسکا اور وہ ایک ضروری چیز سے بھی لوگوں کو جاہل رکھے ہوئے تھے.
کیا مخالف کی زبان سیکھنا اور اس کی تہذیب سے آشنا ہونا ان لوگوں کے لئے بھی غلط ٹھہرے گا جو دین وسنیت کے سپاہی بننے جارہے تھے؟"
قارئین اس تبصرہ کی زبان پر غور کریں کہ امام احمد رضا قادری قدس سرہ کے علم وفضل پر کس گھٹیا اور بھونڈے انداز میں تبصرہ کیا گیا ہے.
"صاحب بہادر" اور ان کے دوستوں نے فیس بک پر بڑے سطحی انداز میں اپنی "فطری صلاحیتوں" کا استعمال کرتے ہوئے تنقیص میں کوئی کسر باقی نہ رکھی.
قارئین!
اعلی حضرت نے یہ فتوی 1333ھ میں دیا تھا یعنی آج سے قریب 105 سال پہلے...جب وطنِ عزیز انگریزوں کے غاصبانہ قبضے میں تھا.
اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے یہ نکات ملاحظہ فرمائیں:
اعلی حضرت قدس سرہ نے *اِس فتوے میں انگریزی زبان کی تعلیم سے کہیں بھی منع نہیں کیا. بلکہ اُس زمانے میں (105 سال پہلے کے بھارت میں) اس کے صِرف اور صِرف "کارِ ثواب" ہونے کی نفی کی ہے.
اب اِسے سراواں کا "فیضِ خیانت" کہا جائے یا کم عقلی اور جہالت کہ "صاحب بہادر" نے یہ نتیجہ نکال لیا کہ اعلی حضرت لوگوں کے انگریزی زبان سیکھنے کو غلط کہہ رہے ہیں اور لوگوں کو اس سے روک رہے ہیں؟؟؟!؟!!!
ہم "صاحب بہادر" کو زندگی بھر کی مہلت دیتے ہیں کہ وہ اس فتوے میں اپنا اختراعی مفہوم ثابت کرکے دکھائیں.
انگریزی زبان کی تعلیم کو اُس دور میں "کارِ ثواب" نہ ماننے پر "صاحب بہادر" کی اتنی برہمی کہیں اس بات کی غمازی تو نہیں کر رہی کہ اگر "صاحب بہادر" اور اُن کے ممدوحین اُس انگریزوں کے بھارت میں ہوتے تو انگریزوں کی زبان سیکھنے اور سکھانے کو کارِ ثواب اور قربتِ خداوندی کا وسیلہ قرار دے دیتے.!!!
بے خودی بے سبب نہیں غالب..
انگریز بہادر چونکہ مسلمانوں کو اپنا حقیقی دشمن سمجھتے تھے اس لیے انھوں نے اہل اسلام کو ان کے مذہب سے دور کرنے کی خاطر مسلمانوں میں رائج زبان عربی وفارسی اور اردو کو کمزورکرنا چاہا اورانگریزی زبان کو بڑھاوا دینا شروع کیا تاکہ مسلمانوں کا رشتہ اپنی زبانوں سے کمزور ہو جائے. جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسان اپنے مذہب سے بہت دور ہوجاتا ہے اور پھر اس کو بہکانا بہت آسان ہوجاتا ہے... جیسا کہ آزادی کے فوراً بعد اردو کو کمزور کر ہندی ودیگر علاقائی زبانوں کو بڑھاوا دیا گیا جس کا نتیجہ آج یہ ہے کہ مسلمانوں کی ایک بہت بڑی تعداد دین اور دینی تعلیم سے دور ہوچکی ہے.
ہر قوم کی زبان اس کی ثقافت اور کلچر کی جان ہوا کرتی ہے. انگریزی زبان کے فروغ کے پس پشت مغربی تہذیب اور مغربی کلچر کو بڑھاوا دینا انگریزوں کا مقصود تھا تاکہ اسلامی تہذیب وآثار کو ختم کیا جاسکے. جس طرح آج ہندو طاقتیں سنسکرت اور ہندی کی تعلیم کے نام پر ہندو کلچر کو بڑھاوا دے رہی ہیں. وہی ماحول اس وقت انگریزی کا تھا.
اب سے سو سال پہلے انگریزی زبان کی آج کی طرح کوئی عالمی حیثیت بھی نہیں تھی کہ جس سے بہت وسیع پیمانے پر تب
از : غلام مصطفی نعیمی
ایڈیٹر سواد اعظم دہلی
بچپن میں ایک فارسی کہاوت پڑھی تھی :
یک من علم را دہ من عقل باید. یعنی ایک مَن علم کے لئے دس مَن عقل چاہیے. لیکن حالاتِ زمانہ کی نیرنگی دیکھیے کہ جن لوگوں کو چھٹانک بھر بھی دولتِ علم صحیح طور سے نہ مل پائی وہ لوگ علم وفن کے کوہِ ہمالہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا کے علم پر نکتہ چینی کرنے کی جسارتِ بیجا کرتے ہیں.
پچاس سے زائد علوم پر مہارت رکھنے والی اتنی عظیم اور عبقری شخصیت کے علم پر اعتراض کرنے والے افراد کے بارے میں معروف پاکستانی محقق علامہ پیر ابوالحسن واحد رضوی تحریر فرماتے ہیں :
"آج کل جو شہرت حاصل کرنے کے لیے مختلف باتیں کرتے ہیں وہ عالم تو دور حقیقی طور پر طالب علم بھی نہیں ہیں. بلکہ عقل سے بھی کورے اور فہم سے عاری ہیں. اور رہی تقویٰ کی صفت! تو یہ تو شروع ہی سے ان کے لیے اجنبی اور نادیدہ ہے"
کور عقلی جیسی صفات سے متصف یہ حضرات آئے دن اپنی انہیں صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے رہتے ہیں..
پچھلے دنوں سیدی اعلی حضرت کے ایک فتوے پر ایک "صاحب بہادر" کا نوٹ اور انہیں کے ہم خیال افراد کے کچھ تبصرے نگاہوں سے گزرے... جن میں ان تمام افراد نے اپنی کور عقلی کا خوب خوب ثبوت دیا.
سوال یہ تھا کہ جن اداروں میں انگریزی کی تعلیم دی جاتی ہے وہاں چرم قربانی دینا موجب ثواب ہے یا نہیں ؟
اس کا جواب دیتے ہوئے اعلی حضرت تحریر فرماتے ہیں :
"مصرف قربانی میں تین باتیں حدیث میں ارشاد ہوئی ہیں :کھاؤ اور ذخیرہ رکھو اور ثواب کے کام کرو.
انگریزی پڑھنا بے شک کوئی بات ثواب کی نہیں. اگر یہ احتیاط ہوسکے کہ اس کے دام صرف قرآن مجید وعلم دین کی تعلیم میں صرف کیے جائیں تو دے سکتے ہیں ورنہ نہیں."
اعلی حضرت کے اس صاف وشفاف فتوے پر اپنی زہر بجھی طبیعت کا مظاہرہ کچھ اس طرح کیا گیا اور اعلی حضرت پر یہ رکیک الزام لگایا گیا:
"مولانا احمد رضا خاں علیہ الرحمہ کو آنے والے جبری حالات ومقتضیات کا وقت رہتے اندازہ نہیں ہوسکا اور وہ ایک ضروری چیز سے بھی لوگوں کو جاہل رکھے ہوئے تھے.
کیا مخالف کی زبان سیکھنا اور اس کی تہذیب سے آشنا ہونا ان لوگوں کے لئے بھی غلط ٹھہرے گا جو دین وسنیت کے سپاہی بننے جارہے تھے؟"
قارئین اس تبصرہ کی زبان پر غور کریں کہ امام احمد رضا قادری قدس سرہ کے علم وفضل پر کس گھٹیا اور بھونڈے انداز میں تبصرہ کیا گیا ہے.
"صاحب بہادر" اور ان کے دوستوں نے فیس بک پر بڑے سطحی انداز میں اپنی "فطری صلاحیتوں" کا استعمال کرتے ہوئے تنقیص میں کوئی کسر باقی نہ رکھی.
قارئین!
اعلی حضرت نے یہ فتوی 1333ھ میں دیا تھا یعنی آج سے قریب 105 سال پہلے...جب وطنِ عزیز انگریزوں کے غاصبانہ قبضے میں تھا.
اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے یہ نکات ملاحظہ فرمائیں:
اعلی حضرت قدس سرہ نے *اِس فتوے میں انگریزی زبان کی تعلیم سے کہیں بھی منع نہیں کیا. بلکہ اُس زمانے میں (105 سال پہلے کے بھارت میں) اس کے صِرف اور صِرف "کارِ ثواب" ہونے کی نفی کی ہے.
اب اِسے سراواں کا "فیضِ خیانت" کہا جائے یا کم عقلی اور جہالت کہ "صاحب بہادر" نے یہ نتیجہ نکال لیا کہ اعلی حضرت لوگوں کے انگریزی زبان سیکھنے کو غلط کہہ رہے ہیں اور لوگوں کو اس سے روک رہے ہیں؟؟؟!؟!!!
ہم "صاحب بہادر" کو زندگی بھر کی مہلت دیتے ہیں کہ وہ اس فتوے میں اپنا اختراعی مفہوم ثابت کرکے دکھائیں.
انگریزی زبان کی تعلیم کو اُس دور میں "کارِ ثواب" نہ ماننے پر "صاحب بہادر" کی اتنی برہمی کہیں اس بات کی غمازی تو نہیں کر رہی کہ اگر "صاحب بہادر" اور اُن کے ممدوحین اُس انگریزوں کے بھارت میں ہوتے تو انگریزوں کی زبان سیکھنے اور سکھانے کو کارِ ثواب اور قربتِ خداوندی کا وسیلہ قرار دے دیتے.!!!
بے خودی بے سبب نہیں غالب..
انگریز بہادر چونکہ مسلمانوں کو اپنا حقیقی دشمن سمجھتے تھے اس لیے انھوں نے اہل اسلام کو ان کے مذہب سے دور کرنے کی خاطر مسلمانوں میں رائج زبان عربی وفارسی اور اردو کو کمزورکرنا چاہا اورانگریزی زبان کو بڑھاوا دینا شروع کیا تاکہ مسلمانوں کا رشتہ اپنی زبانوں سے کمزور ہو جائے. جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسان اپنے مذہب سے بہت دور ہوجاتا ہے اور پھر اس کو بہکانا بہت آسان ہوجاتا ہے... جیسا کہ آزادی کے فوراً بعد اردو کو کمزور کر ہندی ودیگر علاقائی زبانوں کو بڑھاوا دیا گیا جس کا نتیجہ آج یہ ہے کہ مسلمانوں کی ایک بہت بڑی تعداد دین اور دینی تعلیم سے دور ہوچکی ہے.
ہر قوم کی زبان اس کی ثقافت اور کلچر کی جان ہوا کرتی ہے. انگریزی زبان کے فروغ کے پس پشت مغربی تہذیب اور مغربی کلچر کو بڑھاوا دینا انگریزوں کا مقصود تھا تاکہ اسلامی تہذیب وآثار کو ختم کیا جاسکے. جس طرح آج ہندو طاقتیں سنسکرت اور ہندی کی تعلیم کے نام پر ہندو کلچر کو بڑھاوا دے رہی ہیں. وہی ماحول اس وقت انگریزی کا تھا.
اب سے سو سال پہلے انگریزی زبان کی آج کی طرح کوئی عالمی حیثیت بھی نہیں تھی کہ جس سے بہت وسیع پیمانے پر تب
❤1
Forwarded from Ghulam Mustafa Naimi
لغ واشاعت اور دینی فوائد حاصل کیے جاسکتے.
زبانیں صرف وسیلۂ استفہام و اظہار ہوا کرتی ہیں. جس زبان کا یہ حال ہو ظاہر ہے اس کی تعلیم ہمارے دینی نقطۂ نظر سے "کارِ ثواب" نہیں ہو سکتی.
یہ نکات تو ہماری محدود فکر کا نتیجہ ہیں. اس عظیم المرتبت شخصیت کی فکر و نظر کی وسعت کا کیا عالم ہوگا جسے اللہ تعالی نے اپنے دین کی تجدید کے لیے مامور فرمایا ہو؟
اس لیے اگر اعلی حضرت نے اس زمانے کے ماحول کو مد نظر رکھتے ہوئے "انگریزی تعلیم کو کارِ ثواب" قرار نہیں دیا تو آج کے "کالے انگریزوں" کے پیٹ میں بھلا کیوں درد ہورہا ہے یہ سمجھ سے پرے ہے.
"صاحب بہادر" نے ایک خیانت یہ کی ہے کہ اعلی حضرت نے اپنے فتوے میں ایک قید لگائی تھی کہ اگر چرمِ قربانی کو تعلیم قرآن اور دینی تعلیم میں ہی خرچ کیا جائے تو جن اداروں میں انگریزی پڑھائی جاتی ہو وہاں بھی دے سکتے ہیں.
لیکن معترض نے کمال ڈھٹائی سے "مقید" کو "مطلق" سے بدل کر یہ سرخی لگائی :
"جن مدرسوں میں انگریزی پڑھائی جائے وہاں چرم قربانی دینا جائز نہیں"!!!!
دن کے اجالے میں آنکھوں کے سامنے چوری کرنا شاید اِسی ادا کا نام ہے :
عجب دزدے دلاور ست...
اب آئیں اعلی حضرت کی فکری وسعت اور جذبہ دینی کا یہ رُخ ملاحظہ کریں جسے یا تو معترضین شوقِ تنقیص میں دیکھ نہیں پاتے یا دیکھ کر بھی آنکھیں بند کرلیتے ہیں.
آپ کی بارگاہ میں انگریزی زبان سیکھنے کے تعلق سے سوال کیا گیا تو آپ نے یہ جواب تحریر فرمایا :
"ذی علم مسلمان اگر بہ نیتِ ردّ نصاری انگریزی پڑھے، اجر پائے گا.. اور دنیا کے لیے صرف زبان سیکھنے یا حساب اقلیدس جغرافیہ جائز علم پڑھنے میں حرج نہیں بشرطیکہ ہمہ تن اس میں مصروف ہوکر اپنے دینی علم سے غافل نہ ہو جائے"
(فتاوی رضویہ قدیم جلد نہم ص 99)
پہلے فتوے میں خیانت کرنے والے کور عقل اب بتائیں کہ اعلی حضرت انگریزی سے لوگوں کو جاہل رکھے ہوئے تھے یا بہ نیتِ ردّ نصاریٰ سیکھنے پر اجر و ثواب کا مژدہ سنا رہے تھے؟؟
لوگوں کو جاہل رکھنے جیسا گھٹیا اور بیہودہ الزام لگانے جیسا ذلیل کام تو دشمن بھی نہیں کر سکا مگر یہ کام "بھیڑ نما بھیڑیے"خوب کر رہے ہیں.
مخالف کی زبان سیکھ کر ان کی تردید کرنے والے سپاہی دیکھنا ہوں تو مبلغِ اسلام علامہ عبدالعلیم صدیقی میرٹھی علیہ الرحمہ کا نام نامی ہی کافی ہے.جو اعلی حضرت کے دامن کرم سے وابستہ تھے...
اب ایک نظر معترض کے رویے پر:
معترض صاحب بریلوی حضرات پر گالی جیسا الزام لگا کر خود "بند دماغ, بے بصیرت بریلوی, جاہل اور اجڈ" جیسے "ادبی چاشنی میں دھلے ہوئے جملے" استعمال کرتے ہیں... ان کی اس ادبی زبان کو دیکھ کر بے اختیار کہنا پڑتا ہے :
کتنے میٹھے ہیں تیرے لب اے رقیب
گالی دے کر بھی بد مزہ نہ ہوئے
کہتے ہیں دل کا معاملہ بھی بڑا عجیب ہوتا ہے. یہ جب محبت کرتا ہے تو"کفر واسلام کی سرحد سے بہت دور دنیا بسانے والے" کو "داعیِ اسلام", "عارف باللہ" کہتے نہیں تھکتا.
لیکن!
اگر یہی دل بغض ونفرت پال لے تو "مجددِ دین" اور "شیخ الاسلام والمسلمین" کو بھی "مولانا" کہتے وقت زبان گنگ اور قلم کی روشنائی خشک ہوجاتی ہے.!!
آخر میں ہم یہی دعا کریں گے کہ مولیٰ تعالیٰ ہمیں بزرگوں کی بے ادبی, انانیت, ضد اور ہٹ دھرمی سے محفوظ رکھے اور بھٹکے ہوئے آہوؤں کو پھر سے سوے حرم رواں دواں فرمائے.
غلام مصطفی نعیمی
ایڈیٹر: "سواد اعظم" دہلی
ای میل: gmnaimi@gmail.com
زبانیں صرف وسیلۂ استفہام و اظہار ہوا کرتی ہیں. جس زبان کا یہ حال ہو ظاہر ہے اس کی تعلیم ہمارے دینی نقطۂ نظر سے "کارِ ثواب" نہیں ہو سکتی.
یہ نکات تو ہماری محدود فکر کا نتیجہ ہیں. اس عظیم المرتبت شخصیت کی فکر و نظر کی وسعت کا کیا عالم ہوگا جسے اللہ تعالی نے اپنے دین کی تجدید کے لیے مامور فرمایا ہو؟
اس لیے اگر اعلی حضرت نے اس زمانے کے ماحول کو مد نظر رکھتے ہوئے "انگریزی تعلیم کو کارِ ثواب" قرار نہیں دیا تو آج کے "کالے انگریزوں" کے پیٹ میں بھلا کیوں درد ہورہا ہے یہ سمجھ سے پرے ہے.
"صاحب بہادر" نے ایک خیانت یہ کی ہے کہ اعلی حضرت نے اپنے فتوے میں ایک قید لگائی تھی کہ اگر چرمِ قربانی کو تعلیم قرآن اور دینی تعلیم میں ہی خرچ کیا جائے تو جن اداروں میں انگریزی پڑھائی جاتی ہو وہاں بھی دے سکتے ہیں.
لیکن معترض نے کمال ڈھٹائی سے "مقید" کو "مطلق" سے بدل کر یہ سرخی لگائی :
"جن مدرسوں میں انگریزی پڑھائی جائے وہاں چرم قربانی دینا جائز نہیں"!!!!
دن کے اجالے میں آنکھوں کے سامنے چوری کرنا شاید اِسی ادا کا نام ہے :
عجب دزدے دلاور ست...
اب آئیں اعلی حضرت کی فکری وسعت اور جذبہ دینی کا یہ رُخ ملاحظہ کریں جسے یا تو معترضین شوقِ تنقیص میں دیکھ نہیں پاتے یا دیکھ کر بھی آنکھیں بند کرلیتے ہیں.
آپ کی بارگاہ میں انگریزی زبان سیکھنے کے تعلق سے سوال کیا گیا تو آپ نے یہ جواب تحریر فرمایا :
"ذی علم مسلمان اگر بہ نیتِ ردّ نصاری انگریزی پڑھے، اجر پائے گا.. اور دنیا کے لیے صرف زبان سیکھنے یا حساب اقلیدس جغرافیہ جائز علم پڑھنے میں حرج نہیں بشرطیکہ ہمہ تن اس میں مصروف ہوکر اپنے دینی علم سے غافل نہ ہو جائے"
(فتاوی رضویہ قدیم جلد نہم ص 99)
پہلے فتوے میں خیانت کرنے والے کور عقل اب بتائیں کہ اعلی حضرت انگریزی سے لوگوں کو جاہل رکھے ہوئے تھے یا بہ نیتِ ردّ نصاریٰ سیکھنے پر اجر و ثواب کا مژدہ سنا رہے تھے؟؟
لوگوں کو جاہل رکھنے جیسا گھٹیا اور بیہودہ الزام لگانے جیسا ذلیل کام تو دشمن بھی نہیں کر سکا مگر یہ کام "بھیڑ نما بھیڑیے"خوب کر رہے ہیں.
مخالف کی زبان سیکھ کر ان کی تردید کرنے والے سپاہی دیکھنا ہوں تو مبلغِ اسلام علامہ عبدالعلیم صدیقی میرٹھی علیہ الرحمہ کا نام نامی ہی کافی ہے.جو اعلی حضرت کے دامن کرم سے وابستہ تھے...
اب ایک نظر معترض کے رویے پر:
معترض صاحب بریلوی حضرات پر گالی جیسا الزام لگا کر خود "بند دماغ, بے بصیرت بریلوی, جاہل اور اجڈ" جیسے "ادبی چاشنی میں دھلے ہوئے جملے" استعمال کرتے ہیں... ان کی اس ادبی زبان کو دیکھ کر بے اختیار کہنا پڑتا ہے :
کتنے میٹھے ہیں تیرے لب اے رقیب
گالی دے کر بھی بد مزہ نہ ہوئے
کہتے ہیں دل کا معاملہ بھی بڑا عجیب ہوتا ہے. یہ جب محبت کرتا ہے تو"کفر واسلام کی سرحد سے بہت دور دنیا بسانے والے" کو "داعیِ اسلام", "عارف باللہ" کہتے نہیں تھکتا.
لیکن!
اگر یہی دل بغض ونفرت پال لے تو "مجددِ دین" اور "شیخ الاسلام والمسلمین" کو بھی "مولانا" کہتے وقت زبان گنگ اور قلم کی روشنائی خشک ہوجاتی ہے.!!
آخر میں ہم یہی دعا کریں گے کہ مولیٰ تعالیٰ ہمیں بزرگوں کی بے ادبی, انانیت, ضد اور ہٹ دھرمی سے محفوظ رکھے اور بھٹکے ہوئے آہوؤں کو پھر سے سوے حرم رواں دواں فرمائے.
غلام مصطفی نعیمی
ایڈیٹر: "سواد اعظم" دہلی
ای میل: gmnaimi@gmail.com
❤1
Forwarded from Zubair 006
تاج الشریعہ اور تحفظ ایمان
از محمد زبیر قادری،
ایڈیٹر مسلک، ممبئی
حضور تاج الشریعہ حضرت علامہ مفتی اختررضا قادری ازہری رحمۃ اللہ علیہ کا شمار ہندوستان میں اہلِ سنّت و جماعت کے ان اساطین میں ہوتا ہے، جن کی وجہ سے یہاں سُنّیت محفوظ ہے ، اور محفوظ رہے گی۔ اس میں دو رائے نہیں کہ حق و باطل میں امتیاز خانوادۂ رضویہ کا ہمیشہ سے وطیرہ رہا ہے۔ حضور تاج الشریعہ نے بھی زندگی بھر اس پر عمل کیا .... ان شاء اللہ ہمیشہ ہمیش یہ عمل مستحکم اور قائم و دائم رہے۔
اکثر لوگ خانوادۂ اعلیٰ حضرت پر یہ اعتراضات کرتے ہیں کہ وہ لوگ سوائے فتویٰ دینے کے دین و سُنّیت کا کچھ کام نہیں کرتے۔اور جو بھی کام کرتا ہے، اس پر فتوے بازی شروع کردیتے ہیں۔
کافی عرصے قبل احقر بھی اس خیال کا حامی ہوگیا تھا۔ لیکن حالات کا مشاہدہ کرتے کرتے حق و باطل میں امتیاز واضح ہوگیا۔ سمجھ میں آگیا کہ ہر کسی کا احتساب کیوں ضروری ہے۔
ہمارے پڑوسی ملک کا منظر نامہ دیکھ لیجیے، بہت سارے دینی فتنے وہاں سے اُٹھے۔جس نے سُنیت کو پارہ پارہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اس بات کا ہمیں اعتراف ہے کہ وہاں دین و سنّیت کا اچھا خاصا کام ہوا اور ہورہا ہے.... مگر ساتھ ہی وہاں سے اُٹھنے والے دینی فتنوں نے سنّیت کو جو نقصان پہنچایا، اس کی تلافی بھی ممکن نہیں۔ طاہر القادری، گوہر شاہی، جاوید غامدی، مرزا انجینئر وغیرہ اور نہ جانے کتنے ہی پیروں نے عوام کو گمراہ کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی ہے۔ قادیانیت کو سب سے زیادہ فروغ وہیں سے ملا.... یہ سب کیسے ممکن ہوگیا؟؟ حالانکہ وہاں بھی سنّیوں کی اکثریت ہے، اس کے باوجود بھی آئے دن نت نئے فتنے و فرقے وجود پذیر ہوتے رہتے ہیں اور دین و سنّیت کو کھوکھلا کرنے کی کوششیں کرتے رہتے ہیں ۔
اس کے برعکس ہند میں جب بھی دین کے نام پر کوئی فتنہ اُٹھنے کی کوشش کرتا ہے، اس کا سر کچل دیا جاتا ہے، اس کا گلا دبا دیا جاتا ہے۔ایسی سخت گرفت کی جاتی ہے کہ اگر وہ فتنہ مکمل ختم نہیں ہوتا، تب بھی محدود و مطعون ضرور ہوجاتا ہے۔ اس قدر معتوب ہوجاتا ہے کہ لوگ ان کو بُرے الفاظ سے یاد کرتے ہیں۔ حال ہی میں الہٰ آباد سے اُٹھنے والا فتنہ سیّد سراواں کو دیکھ لیجیے۔ جس نے کئی بڑوں پر ایسا جادو چلایا کہ وہ بھی تقلید سے منحرف اُس صوفی کے اسیر نظر آنے لگے۔ لیکن خانوادۂ بریلی شریف سے وابستہ رہنے والے علما و مفتیان و خلفا کبھی کسی فتنے سے جلد متاثر نہیں ہوتے۔ کبھی کسی نئی فکر و نظر سے متاثر نہیں ہوتے۔ لہٰذا علما کی گرفت اور تعاقب سے جلد ہی شیخ سراواں کا جادو مانند سراب زائل ہوگیا، ورنہ نہ جانے کتنے لوگ اس کے دام فریب کا شکار ہوجاتے۔
اس سے قبل ماہ نامہ جامِ نور تیزی سے ایک فتنے کی شکل میں اُبھرا.... حضرت علامہ ارشد القادری کی نسبت نے لوگوں کو اس تحریک کے قریب کردیا.... مگر جب اس نے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہٗ کی فکر و نظر سے انحراف کیا، تو لوگ اس سے دور ہوتے گئے۔ اس فتنے نے بہت اہلِ علم کو اپنا اسیر کیا.... پھر ان کی زبانیں اپنے اسلاف کے حق میں گستاخ ہوگئیں۔ رفتہ رفتہ جام نور کی حقیقت واضح ہوتی گئی... اور آخر میں یہ فتنۂ رواں صدی طاہر القادری سے مل گیا۔تو اس کی اصلیت خوب واضح ہوگئی۔
عرض مدّعا یہی ہے کہ دین پر کسی حاکم کی گرفت مضبوط ہونا لازمی ہے، ورنہ لوگ دین سے کھلواڑ کرنے لگ جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی بروقت پکڑ کرنا، اس فتنے کا سدّباب کرنا.... آج کے دور میں سب سے اہم ضرورت ہے، جو کہ حضور تاج الشریعہ کے ذریعے ممکن ہوئی۔خارجی فتنوں سے تو ہم مستقل برسرِ پیکار رہتے ہی ہیں، لیکن داخلی فتنے جب سُنّی بن کر گمراہ کرنے نکلتے ہیں، تو اس کی پہچان دیر سے ہوتی ہے، تب تک کافی لوگ اس فتنے کے اسیر اور گمراہیت کا شکار ہوجاتے ہیں۔
آج فتنوں کا دَور دَورہ ہے.... باطل مذاہب.... باطل فرقے تو ہیں ہی.... لیکن صلح کلیت ایک بڑا فتنہ ہے، جو سنّیت میں رہتے ہوئے سنّیت کی جڑیں کھوکھلی کرنے میں لگا ہوا ہے۔ کوئی بھی فرد ہو، اِدارہ یا تنظیم ہو، جب تک وہ دین و سنّیت پر مضبوطی سے قائم ہے.... اور اسلاف سے ہٹ کر کچھ غلط راہ نہیں اپناتا، تب تک وہ اپنا ہے..... ورنہ سنّیت میں اس کے لیے جگہ نہیں۔
گروہ در گروہ اور فرقہ در فرقہ بنانے سے سنّیت پارہ پارہ ہورہی ہے۔ ہر کوئی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنائے اسی کو سارا دین سمجھ رہا ہے۔ تنظیمیں ، اِدارے بنائے جاتے ہیں دین و سُنّیت کی تبلیغ و اشاعت کے لیے، لیکن تنظیم کو ہی سارا دین و اسلام سمجھ لیا جاتا ہے.... اپنے آپ کو ہر تنقید سے بالاتر اور معصوم عن الخطا سمجھنا، یوں لگتا ہے اس دور کا خاصا بن گیا ہے۔ اس لیے بھلے ہی آپ کسی بھی تنظیم سے وابستہ ہوں، یہ مزاج اپنا لیجیے کہ صرف سنّیت کے لیے کام کرنا ہے، سُنّی مبلغ ہی بنے رہنا ہے۔ اور تنظیم کا مقصد بھی تو یہی ہے ناں!!!
از محمد زبیر قادری،
ایڈیٹر مسلک، ممبئی
حضور تاج الشریعہ حضرت علامہ مفتی اختررضا قادری ازہری رحمۃ اللہ علیہ کا شمار ہندوستان میں اہلِ سنّت و جماعت کے ان اساطین میں ہوتا ہے، جن کی وجہ سے یہاں سُنّیت محفوظ ہے ، اور محفوظ رہے گی۔ اس میں دو رائے نہیں کہ حق و باطل میں امتیاز خانوادۂ رضویہ کا ہمیشہ سے وطیرہ رہا ہے۔ حضور تاج الشریعہ نے بھی زندگی بھر اس پر عمل کیا .... ان شاء اللہ ہمیشہ ہمیش یہ عمل مستحکم اور قائم و دائم رہے۔
اکثر لوگ خانوادۂ اعلیٰ حضرت پر یہ اعتراضات کرتے ہیں کہ وہ لوگ سوائے فتویٰ دینے کے دین و سُنّیت کا کچھ کام نہیں کرتے۔اور جو بھی کام کرتا ہے، اس پر فتوے بازی شروع کردیتے ہیں۔
کافی عرصے قبل احقر بھی اس خیال کا حامی ہوگیا تھا۔ لیکن حالات کا مشاہدہ کرتے کرتے حق و باطل میں امتیاز واضح ہوگیا۔ سمجھ میں آگیا کہ ہر کسی کا احتساب کیوں ضروری ہے۔
ہمارے پڑوسی ملک کا منظر نامہ دیکھ لیجیے، بہت سارے دینی فتنے وہاں سے اُٹھے۔جس نے سُنیت کو پارہ پارہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اس بات کا ہمیں اعتراف ہے کہ وہاں دین و سنّیت کا اچھا خاصا کام ہوا اور ہورہا ہے.... مگر ساتھ ہی وہاں سے اُٹھنے والے دینی فتنوں نے سنّیت کو جو نقصان پہنچایا، اس کی تلافی بھی ممکن نہیں۔ طاہر القادری، گوہر شاہی، جاوید غامدی، مرزا انجینئر وغیرہ اور نہ جانے کتنے ہی پیروں نے عوام کو گمراہ کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی ہے۔ قادیانیت کو سب سے زیادہ فروغ وہیں سے ملا.... یہ سب کیسے ممکن ہوگیا؟؟ حالانکہ وہاں بھی سنّیوں کی اکثریت ہے، اس کے باوجود بھی آئے دن نت نئے فتنے و فرقے وجود پذیر ہوتے رہتے ہیں اور دین و سنّیت کو کھوکھلا کرنے کی کوششیں کرتے رہتے ہیں ۔
اس کے برعکس ہند میں جب بھی دین کے نام پر کوئی فتنہ اُٹھنے کی کوشش کرتا ہے، اس کا سر کچل دیا جاتا ہے، اس کا گلا دبا دیا جاتا ہے۔ایسی سخت گرفت کی جاتی ہے کہ اگر وہ فتنہ مکمل ختم نہیں ہوتا، تب بھی محدود و مطعون ضرور ہوجاتا ہے۔ اس قدر معتوب ہوجاتا ہے کہ لوگ ان کو بُرے الفاظ سے یاد کرتے ہیں۔ حال ہی میں الہٰ آباد سے اُٹھنے والا فتنہ سیّد سراواں کو دیکھ لیجیے۔ جس نے کئی بڑوں پر ایسا جادو چلایا کہ وہ بھی تقلید سے منحرف اُس صوفی کے اسیر نظر آنے لگے۔ لیکن خانوادۂ بریلی شریف سے وابستہ رہنے والے علما و مفتیان و خلفا کبھی کسی فتنے سے جلد متاثر نہیں ہوتے۔ کبھی کسی نئی فکر و نظر سے متاثر نہیں ہوتے۔ لہٰذا علما کی گرفت اور تعاقب سے جلد ہی شیخ سراواں کا جادو مانند سراب زائل ہوگیا، ورنہ نہ جانے کتنے لوگ اس کے دام فریب کا شکار ہوجاتے۔
اس سے قبل ماہ نامہ جامِ نور تیزی سے ایک فتنے کی شکل میں اُبھرا.... حضرت علامہ ارشد القادری کی نسبت نے لوگوں کو اس تحریک کے قریب کردیا.... مگر جب اس نے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہٗ کی فکر و نظر سے انحراف کیا، تو لوگ اس سے دور ہوتے گئے۔ اس فتنے نے بہت اہلِ علم کو اپنا اسیر کیا.... پھر ان کی زبانیں اپنے اسلاف کے حق میں گستاخ ہوگئیں۔ رفتہ رفتہ جام نور کی حقیقت واضح ہوتی گئی... اور آخر میں یہ فتنۂ رواں صدی طاہر القادری سے مل گیا۔تو اس کی اصلیت خوب واضح ہوگئی۔
عرض مدّعا یہی ہے کہ دین پر کسی حاکم کی گرفت مضبوط ہونا لازمی ہے، ورنہ لوگ دین سے کھلواڑ کرنے لگ جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی بروقت پکڑ کرنا، اس فتنے کا سدّباب کرنا.... آج کے دور میں سب سے اہم ضرورت ہے، جو کہ حضور تاج الشریعہ کے ذریعے ممکن ہوئی۔خارجی فتنوں سے تو ہم مستقل برسرِ پیکار رہتے ہی ہیں، لیکن داخلی فتنے جب سُنّی بن کر گمراہ کرنے نکلتے ہیں، تو اس کی پہچان دیر سے ہوتی ہے، تب تک کافی لوگ اس فتنے کے اسیر اور گمراہیت کا شکار ہوجاتے ہیں۔
آج فتنوں کا دَور دَورہ ہے.... باطل مذاہب.... باطل فرقے تو ہیں ہی.... لیکن صلح کلیت ایک بڑا فتنہ ہے، جو سنّیت میں رہتے ہوئے سنّیت کی جڑیں کھوکھلی کرنے میں لگا ہوا ہے۔ کوئی بھی فرد ہو، اِدارہ یا تنظیم ہو، جب تک وہ دین و سنّیت پر مضبوطی سے قائم ہے.... اور اسلاف سے ہٹ کر کچھ غلط راہ نہیں اپناتا، تب تک وہ اپنا ہے..... ورنہ سنّیت میں اس کے لیے جگہ نہیں۔
گروہ در گروہ اور فرقہ در فرقہ بنانے سے سنّیت پارہ پارہ ہورہی ہے۔ ہر کوئی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنائے اسی کو سارا دین سمجھ رہا ہے۔ تنظیمیں ، اِدارے بنائے جاتے ہیں دین و سُنّیت کی تبلیغ و اشاعت کے لیے، لیکن تنظیم کو ہی سارا دین و اسلام سمجھ لیا جاتا ہے.... اپنے آپ کو ہر تنقید سے بالاتر اور معصوم عن الخطا سمجھنا، یوں لگتا ہے اس دور کا خاصا بن گیا ہے۔ اس لیے بھلے ہی آپ کسی بھی تنظیم سے وابستہ ہوں، یہ مزاج اپنا لیجیے کہ صرف سنّیت کے لیے کام کرنا ہے، سُنّی مبلغ ہی بنے رہنا ہے۔ اور تنظیم کا مقصد بھی تو یہی ہے ناں!!!
❤1
Forwarded from Zubair 006
حضور تاج الشریعہ کا یہی مشن تھا، جس پر عمل پیرا ہوکر ہم سنّیت کا صحیح معنوں میں تحفّظ کرسکتے ہیں۔ اس لیے اس مشن کو جاری رہنا چاہیے۔
حضور تاج الشریعہ کی حالاتِ حاضرہ پر گہری نظر رہتی تھی۔ وہ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنے کے لیے ریڈیو پر خبریں برابر سنتے تھے۔ دنیاوی سیاست و حالات پر نظر رکھتے تھے۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ آپ ہر معاملے میں بہت محتاط روی سے کام لیتے تھے۔ کسی کے بارے فوراً رائے نہیں دے دیتے تھے، بلکہ خاموشی سے جائزہ لیتے، اس کے معاملات پرکھتے، پھر کوئی فیصلہ لیتے۔ یہی محتاط روی دین کی اساس ہے۔۔۔
جبکہ کچھ لوگوں کا عمل دیکھ لیجیے کہ کل تک جن چیزوں کو حرام قرار دے کر ان سے دور و نفور تھے، آج جواز کا فتویٰ دے کر گلے کا ہار بنا کر استعمال کر رہے ہیں۔ کچھ لوگوں کے فتوے اس قدر جلدی بدل جاتے ہیں، جیسے کہ لباس تبدیل کر رہے ہوں۔ ایسے لوگوں سے دین کا نقصان ہے۔ اللہ بچائے دورِ جدید کے ............سے۔
حضور تاج الشریعہ ہمارے درمیان نہیں رہے، لیکن ہمیں ان کے مشن کو جاری و ساری رکھنا ہوگا۔ یہی مشن مسلکِ اعلیٰ حضرت ہے۔
زندگی یہ نہیں ہے کسی کے لیے زندگی ہے نبی کی نبی کے لیے
حضور تاج الشریعہ کی حالاتِ حاضرہ پر گہری نظر رہتی تھی۔ وہ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنے کے لیے ریڈیو پر خبریں برابر سنتے تھے۔ دنیاوی سیاست و حالات پر نظر رکھتے تھے۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ آپ ہر معاملے میں بہت محتاط روی سے کام لیتے تھے۔ کسی کے بارے فوراً رائے نہیں دے دیتے تھے، بلکہ خاموشی سے جائزہ لیتے، اس کے معاملات پرکھتے، پھر کوئی فیصلہ لیتے۔ یہی محتاط روی دین کی اساس ہے۔۔۔
جبکہ کچھ لوگوں کا عمل دیکھ لیجیے کہ کل تک جن چیزوں کو حرام قرار دے کر ان سے دور و نفور تھے، آج جواز کا فتویٰ دے کر گلے کا ہار بنا کر استعمال کر رہے ہیں۔ کچھ لوگوں کے فتوے اس قدر جلدی بدل جاتے ہیں، جیسے کہ لباس تبدیل کر رہے ہوں۔ ایسے لوگوں سے دین کا نقصان ہے۔ اللہ بچائے دورِ جدید کے ............سے۔
حضور تاج الشریعہ ہمارے درمیان نہیں رہے، لیکن ہمیں ان کے مشن کو جاری و ساری رکھنا ہوگا۔ یہی مشن مسلکِ اعلیٰ حضرت ہے۔
زندگی یہ نہیں ہے کسی کے لیے زندگی ہے نبی کی نبی کے لیے
❤1
عالم ربانی برکات ثانی حضرت سید شاہ محمد حقانی قدس سرہٗ
ولادتِ با سعادت:
حضرت سید شاہ محمد حقانی قدس سرہٗ کی ولادت 1145ھ میں ہوئی۔
سلسلۂ نسب:
شاہ حقانی قدس سرہٗ کے والد حضرت سید شاہ آل محمد مارہروی جبکہ دادا جان حضور صاحب البرکات سید شاہ برکت اللہ مارہروی رحمہما اللہ ہیں۔
آپ کی والدہ کا نام سیدہ غنیمت بی بی علیہا الرحمہ ہے (جو حضور صاحب البرکات کی دعاؤں کا ثمرہ تھیں) اور نانا جان سید شاہ عظمت اللہ قدس سرہٗ ہیں جو حضور صاحب البرکات کے منجھلے بھائی ہیں۔
تحصیلِ علم:
اپنے والد ماجد حضرت سید شاہ آل محمد قدس سرہٗ اور بڑے بھائی حضرت سید شاہ حمزہ عینی قدس سرہٗ سے علوم ظاہری و باطنی کی تکمیل کی۔
والدِ ماجد کے وصال کے وقت عمر:
20؍ سال
بیعت و خلافت:
بیعت و خلافت والد ماجد سید شاہ آل محمد قدس سرہٗ سے ہے اور بڑے بھائی سید شاہ حمزہ عینی قدس سرہٗ سے بھی اجازت و خلافت حاصل ہے۔
تصنیفات و تالیفات:
آپ نے دو اہم تصنیفیں یادگار چھوڑی ہیں:
(۱) تفسیر ’’عنایت رسول کی‘‘ کے نام سے ہے اور اردو زبان کی اولین تفاسیر میں شمار ہوتی ہے۔
(۲) دوسری ’’نعت رسول کی‘‘ سادہ اور عام فہم انداز میں سو احادیث کا ایک مجموعہ ہے، جو ترغیب و ترہیب پر مشتمل ہے۔
تفسیر قرآن مجیدکی ابتداء و تکمیل:
ساٹھ سال کی عمر میں لکھنے کی ابتداء کی اور صرف چار ماہ پانچ دن کی مختصر مدت میں مکمل فرمائی۔
وصالِ پُر ملال:
17 ذی الحجہ بروز جمعہ 1201ھ کو۔
خاندان برکات کا شاہجہاں:
حضرت شاہ حقانی کو خاندان برکات کا شاہجہاں کہنے کی وجہ یہ ہے کہ شاہ حقانی قدس سرہٗ کو فنون لطیفہ سے بہت دلچسپی تھی، خصوصاً تعمیرات اور شجر کاری آپ کا محبوب مشغلہ تھا، آپ کے باغ میں انواع و اقسام کے پھل اور میوے ہوتے تھے۔
آپ کی تفسیر کی اشاعت:
حضرت امین ملت پرو فیسر سید شاہ محمد امین میاں صاحب کے ہاتھوں ہوئی۔
اہم کارنامے:
خانقاہ کا دیوان خانہ، حویلی سجادہ نشینی، تمام مختلف مکانات اور حصار باغ پختہ وغیرہ تعمیر کرایا تھا جن کی جگہ پر اب نئی عمارتیں بن چکی ہیں ۔
بہ شکریہ:
البرکات اسلامک ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ، انوپ شہر روڈ،علی گڑھ
دعاؤں کا طالب:
محمد حسین مُشاہد رضوی
https://scholars.pk/ur/scholar/aalim-e-rabbani-barkaat-e-saani-hazrat-syed-muhammad-haqqani
ولادتِ با سعادت:
حضرت سید شاہ محمد حقانی قدس سرہٗ کی ولادت 1145ھ میں ہوئی۔
سلسلۂ نسب:
شاہ حقانی قدس سرہٗ کے والد حضرت سید شاہ آل محمد مارہروی جبکہ دادا جان حضور صاحب البرکات سید شاہ برکت اللہ مارہروی رحمہما اللہ ہیں۔
آپ کی والدہ کا نام سیدہ غنیمت بی بی علیہا الرحمہ ہے (جو حضور صاحب البرکات کی دعاؤں کا ثمرہ تھیں) اور نانا جان سید شاہ عظمت اللہ قدس سرہٗ ہیں جو حضور صاحب البرکات کے منجھلے بھائی ہیں۔
تحصیلِ علم:
اپنے والد ماجد حضرت سید شاہ آل محمد قدس سرہٗ اور بڑے بھائی حضرت سید شاہ حمزہ عینی قدس سرہٗ سے علوم ظاہری و باطنی کی تکمیل کی۔
والدِ ماجد کے وصال کے وقت عمر:
20؍ سال
بیعت و خلافت:
بیعت و خلافت والد ماجد سید شاہ آل محمد قدس سرہٗ سے ہے اور بڑے بھائی سید شاہ حمزہ عینی قدس سرہٗ سے بھی اجازت و خلافت حاصل ہے۔
تصنیفات و تالیفات:
آپ نے دو اہم تصنیفیں یادگار چھوڑی ہیں:
(۱) تفسیر ’’عنایت رسول کی‘‘ کے نام سے ہے اور اردو زبان کی اولین تفاسیر میں شمار ہوتی ہے۔
(۲) دوسری ’’نعت رسول کی‘‘ سادہ اور عام فہم انداز میں سو احادیث کا ایک مجموعہ ہے، جو ترغیب و ترہیب پر مشتمل ہے۔
تفسیر قرآن مجیدکی ابتداء و تکمیل:
ساٹھ سال کی عمر میں لکھنے کی ابتداء کی اور صرف چار ماہ پانچ دن کی مختصر مدت میں مکمل فرمائی۔
وصالِ پُر ملال:
17 ذی الحجہ بروز جمعہ 1201ھ کو۔
خاندان برکات کا شاہجہاں:
حضرت شاہ حقانی کو خاندان برکات کا شاہجہاں کہنے کی وجہ یہ ہے کہ شاہ حقانی قدس سرہٗ کو فنون لطیفہ سے بہت دلچسپی تھی، خصوصاً تعمیرات اور شجر کاری آپ کا محبوب مشغلہ تھا، آپ کے باغ میں انواع و اقسام کے پھل اور میوے ہوتے تھے۔
آپ کی تفسیر کی اشاعت:
حضرت امین ملت پرو فیسر سید شاہ محمد امین میاں صاحب کے ہاتھوں ہوئی۔
اہم کارنامے:
خانقاہ کا دیوان خانہ، حویلی سجادہ نشینی، تمام مختلف مکانات اور حصار باغ پختہ وغیرہ تعمیر کرایا تھا جن کی جگہ پر اب نئی عمارتیں بن چکی ہیں ۔
بہ شکریہ:
البرکات اسلامک ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ، انوپ شہر روڈ،علی گڑھ
دعاؤں کا طالب:
محمد حسین مُشاہد رضوی
https://scholars.pk/ur/scholar/aalim-e-rabbani-barkaat-e-saani-hazrat-syed-muhammad-haqqani
scholars.pk
Aalim e Rabbani Barkaat e Saani Hazrat Syed Muhammad Haqqani
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles |…
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles |…
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
16-12-1444 ᴴ | 05-07-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
17-12-1444 ᴴ | 06-07-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1