🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
Forwarded from Ghulam Mustafa Naimi
سراواں کے متضاد سُر: ایک جائزہ__

غلام مصطفےٰ نعیمی
روشن مستقبل دہلی

کسی بھی فکر اور دعوے میں پختگی اور یکسانیت اس وقت ہوتی ہے جب بندہ مخلص اور مقصد نیک ہو۔لیکن جب مقصد ہی خلاف خیر ہو تو فکر وعمل میں ناپائداری اور تضاد کا آنا فطری بات ہے، خلوص تو ایسے مقام پر سرے ہی سے معدوم ہوتا ہے۔وابستگان سراواں اِن دنوں اسی شش وپنج کے آزار میں مبتلا ہیں۔حالیہ دنوں میں وابستگان سراواں نے تک۔فیر دیابنہ کا موضوع اٹھا رکھا ہے۔ جاروب کشان سراواں مختلف جہتوں سے علماے دیوبند کی شدید گستاخانہ عبارتوں کو ہلکا کرنے کی کوششوں میں دل وجان سے مصروف ہیں۔لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ اس عنوان پر اُن کے سُر ایک دوسرے اور خود اپنے آپ ہی سے یکسر متضاد و مختلف ہیں۔اس تحریر میں ہم ان کے انہیں تضادات کو پیش کرتے ہیں تاکہ اہل علم پر اچھی طرح ظاہر ہوجائے کہ جن حضرات کا فکری قبلہ ہر دوسری تحریر میں تبدیل ہوجاتا ہو وہ کس قدر سنجیدہ اور بالغ نظر ہیں۔

دعوے اور صفائی____

اپنی گذشتہ تحریرات میں ترجمان سراواں نے لکھا تھا:
"علماے دیوبند خدا ترس دین دار،علیھم الرحمہ ہیں۔"

"جو [دہلوی] کی تکفیر سے بچے گا ہم اس کی تک۔فیر کریں گے۔"

اس طرح طبقہ سراواں نے اپنے نظریات کا کھل کر اعلان کرتے ہوئے دو بنیادی دعوے کیےتھے:
1؍ اسماعیل قطعی یقینی گستاخ ہے کہ جو اس کی تکفیر نہ کرے اسے کافر کہا جائے گا۔
2؍ علماے دیوبند شان رسالت میں شدید نامناسب کلمات کے باوجود
"علیہم الرحمہ" ہیں۔

انہیں دعوؤں پر نقد کرتے ہوئے ہم نے لکھا تھا:
1؍یہ کون سا عشق ہے کہ شان رسالت میں "شدید نامناسب کلمات" کے قائلین کو بھی بزرگ اور ولی مانتا ہے۔

2؍آپ اسماعیل دہلوی کو کافر [کلامی] مانتے ہیں اور اسے کافر [فقہی] ماننے والے امام احمد رضا کی تکفیر تک پر اڑے ہوئے ہیں تو دہلوی کو قطعی جنتی کہنے والے علماے دیوبند آپ کے محبوب ومحترم کس طرح بنے ہوئے ہیں؟
اگر اپنے دعوے میں سچے ہیں تو دہلوی کو قطعی جنتی کہنے والے علماے دیوبند پر تمہاری زبان وقلم کیوں خاموش ہے؟

ترجمان صاحب نے جواب برائے جواب لکھتے ہوئے بڑی عجیب بات لکھی کہ وہ دعوی ہم نے الزاماً کیا تھا،یعنی حقیقت میں ایسا نہیں ہے،اس لنگ جواب سے صرف نظر کر بھی لیا جائے تو بنیادی سوال اپنی جگہ برقرار ہے کہ؛
دہلوی کو مثل یزید اور کافر فقہی لکھنے والے امام احمد رضا پر وابستگان سراواں شمشیر تک۔فیر نکالے بیٹھے ہیں جب کہ اسی دہلوی کو قطعی جنتی اور اس کی "گالیوں" کو موافق قرآن وحدیث لکھنے والے عناصر دیوبند پر ان کے منہ سے ایک لفظ تک نہیں نکلتا؟
شیدید نامناسب کلمات کے اعتراف کے باوجود ان کی مذمت کی بجائے انہیں "خدا ترس اور علیہم الرحمہ" کہنا آخر کس صوفی کا نظریہ ہے؟

کیا شیخ سراواں اور ان کے وابستگان علمی وفکری اعتبار سے اتنے یتیم اور مفلوج ہوچکے ہیں کہ شان رسالت میں شدید نامناسب کلمات اور ان کے قائلین کی رسمی مذمت اور تنبیہ بھی نہ کر سکیں؟
کیا حرمت رسالت کی پاس بانی کے لیے ان کے ذخیرہ الفاظ میں مذمت وتنبیہ کا ایک لفظ تک نہیں بچا؟
شیخ سراواں کی شان میں ذرا سی تنقید پر تمامی جاروب کش تیر وتفنگ لیکر نکل پڑتے ہیں۔لیکن شان رسالت مأبﷺ کی شدید نامناسب تنقیص پر رسمی مذمت وتنبیہ سے بھی پہلوتہی!

ہے فکر تجھے اپنوں کی،ناموس کی ان کے فکر نہیں
کل کیسے منہ دکھلائے گا جو آج توان کا بن نہ سکا

سراوی تضادات کے نمونے___

تکفیر دیابنہ کے متعلق وابستگان سراواں کے اب تک مختلف دعوے سامنے آچکے ہیں۔آگے بڑھنے سے پہلے ان کے دعوؤں پر ایک نگاہ ڈال لیں تاکہ حقائق سمجھنے میں آسانی رہے۔
🔹شیخ سراوں صوفی احسان اللہ صاحب دیوبند کے عناصر اربعہ کی نام زد تک۔فیر کر چکے ہیں۔(بھلے ہی دب کر کی ہے)
🔸شیخ سراواں کے غیر اعلانیہ ترجمان اُنہیں عناصر اربعہ کو "خدا ترس، دین دار، علیہم الرحمہ" کہہ کر اپنا بزرگ ماننے کا اعلان کر چکے ہیں۔
🔹ترجمان صاحب کی حالیہ تحریر کے مطابق: "ان [امام احمد رضا] کا مولانا دہلوی [کے کفر کلامی] پر سکوت قابل تحسین ہے۔"
🔸جب کہ سراواں کے ڈاکٹر اِن ویٹنگ کے مطابق دہلوی پر سکوت حماقت ومنافقت ہے۔
🔹ترجمان صاحب کے مطابق: "شاہ اسماعیل دہلوی ہوں یا اکابر دیوبند، ان کی تکفیریں فقہی ہیں۔"
🔸لیکن ڈاکٹر اِن ویٹنگ کے نزدیک دہلوی کی تکفیر کلامی ہے کہ جو اس کے کفر [کلامی ] پر سکوت کرے وہ بھی مثل دہلوی [کافر] ہے۔

یہ وہ دعاوی ہیں جو شیخ سراواں اور ان سے گہری وابستگی رکھنے اور ان کی ترجمانی کرنے والے افراد کی جانب سے سامنے آئے ہیں۔شیخ سراواں کو درست ماننے کی صورت میں ترجمان صاحب کے بزرگ کفر کی بھینٹ چڑھےجاتے ہیں اور ترجمان کو درست مانا جائے تو شیخ کے تسلیم شدہ کافروں کو بزرگ ماننے کا عجوبہ وجود میں آتا ہے۔اسی طرح ترجمان صاحب اور داکٹر اِن ویٹنگ کے دعوؤں کے مابین بھی بڑا تضاد ہے، ترجمان کے نزدیک دہلوی کے کفر [کلامی] پر سکوت قابل تحسین ہے تو انتظاری ڈاکٹر کے نزدیک سکوت حماقت
2
Forwarded from Ghulam Mustafa Naimi
ومنافقت ہے۔اب یہاں پہنچ کر دو ہی صورتیں بنتی ہیں یا تو ڈاکٹر اِن ویٹنگ کی عقل پر سکوت برتا جائے یا ترجمان صاحب کو منافق واحمق سمجھا جائے۔ترجمان صاحب ہمیں اس پر الزام نہ دیں ہم ان لفظوں اور ان کے اطلاق سے بالکل بری ہیں یہ تو انہیں کے قبیلے کا تحفہ ہے۔

چلتے چلتے___

اپنی تحریر کے اختتام پر ترجمان صاحب نے عناصر دیوبند سے لگاؤ اور اپنی طبیعت پر اپنے پیرو مرشد کا اثر بیان کرتے ہوئے لکھا ہے:
"تکفیر اکابر دیوبند کا پورا پروسیز جو فاضل بریلوی نے اختیار کیا،اس پر جب جب غور کرتا ہوں ذاتی طور پر سخت مایوس ہوتا ہوں،فی الواقع اس مرحلے پر میرے مرشد گرامی کی رہنمائی نہ ہوتی تو فاضل بریلوی سے متعلق نقطہ نظر غلبہ عشق کا نہ ہوکر بہت سخت ہوتا۔"

موصوف کے اس اقتباس سے چند باتیں ظاہر ہوتی ہیں:
1؍اکابر دیوبند کا تکفیری پروسیز درست نہیں ہے۔
2؍جس سے ذاتی طور پر ترجمان صاحب سخت مایوس ہیں۔
3؍مرشد کی رہنمائی نے روک رکھا ہے ورنہ اعلیٰ حضرت کے تئیں نظریہ بڑا سخت ہوتا۔

موصوف کے اقتباس سے ماخوذ ان نکات پر چند باتیں ہم بھی پیش کرتے ہیں شاید سمجھ میں آجائیں:
🔸 عناصر دیوبند کا تکفیری پروسیز کسی کو سمجھائیں نہ سمجھائیں لیکن اپنے مرشد گرامی کو ضرور سمجھا دیں تاکہ ان کا جرم تکفیر بھی معاف ہو جائے اور دب کر تصدیق کرنے کا داغ بھی دھل جائے۔
🔹ذاتی مایوسی اور شکوہ وہاں لائق توجہ ہوتا ہے جہاں انسان مؤدب، متواضع اور مثبت فکر ونظر کا حامل ہو۔آنجناب کے اب تک تمام کاموں میں زیادہ تر وقت اکابرین کی کردار کشی، بدزبانی، بھونڈی تعبیرات، حیثیت عرفی کا انکار، صلح سے فرار اور مسلسل اختلاف وانتشار ہی میں گزرا ہے۔اگر ایسا شخص کسی نمائندہ شخصیت سے مایوس ہوتا ہے تو اس کا نوٹس بھلا کون لے اور کیوں لے؟
🔸اپنےدادا استاذ حضور حافظ علیہ الرحمہ کو آپ بھی تسلیم کرتے ہیں (بھلے ہی دب کر اور دکھاوے کے لیے) انہیں اس پروسیز پر کامل اطمینان تھا،جہاں اطمینان کرنے والے حافظ ملت جیسے افراد ہوں وہاں آپ جیسوں کی مایوسی صرف انا پرستی اور اکابر بیزاری ہے اس کے سوا کچھ بھی نہیں!
🔹ترجمان صاحب کے مرشد کی رہنمائی بھی خوب ہے جس نے انہیں فاضل بریلوی پر سخت نظریہ اختیار کرنے سے روک دیا۔(حالانکہ یہ بھی محض ہوائی دعوی ہے موصوف امام احمد رضا اور اکابرین اہل سنت پر انتہائی بدزبانی کا مظاہرہ کر چکے ہیں اور اب بھی تنقید بے جا سے باز نہیں آئے ہیں) لیکن انہیں کے دیگر معتقدین شبانہ روز امام احمد رضا کی شان میں غلیظ ترین باتیں لکھتے ہیں اور ان کی حیثیت عرفی کو لگاتار مجروح کرتے ہیں۔آخر رہنمائی کا یہ کون سا حصہ ہے کہ ایک طرف روکنے کا دعوی دوسری جانب گالی بازوں کا تقرر اور حوصلہ افزائی!

موصوف نے ہمیں مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے:
"ایک مومن کے لیے یہ قطعی عقیدہ بنا لینا کہ اگر اسے کافر نہ مانا تو خود کافر ہو جاؤ گے نہایت متوحش عقیدہ ہے۔"

سراواں کی سادگی بھی بڑی پر فریب ہوتی ہے، کتنی معصومیت کے ساتھ "مومن" کو کافر بنانے کا الزام دے کر گزارش کا لہجہ اپنا لیتے ہیں تاکہ سامنے والا ان کی ہم دردی اور انکساری کا قائل ہوجائے۔
ارے میاں! مومن کو جاہل سے جاہل مومن بھی کافر نہیں کہتا چہ جائے کہ کوئی فقیہ وعالم اسے کافر قرار دے، ہاں جب کوئی آوارہ مزاج شان رسالت مأب ﷺمیں گستاخی کا مرتکب ہوتا ہے تو اتمام حجت کے بعد حکم شرع بیان کیا جاتا ہے۔آپ عناصر اربعہ کی ماقبل گستاخی زندگی دیکھ کر 'شدید نامناسب' کلمات تک کو ہلکا کرنے کی جسارت کر رہے ہیں، کل مرزا قادیانی کے دعوئ نبوت سے قبل کے کاموں کو اس کی گستاخیوں کے لیے ڈھال نہ بنا لینا۔
اگر مشورہ دینا ہی ہے تو اپنے ڈاکٹر اِن ویٹنگ کو دیجئے جو بیچارہ آپ کے ممدوحین کے "قطعی جنتی مجاہد" کو گستاخ رسول کہہ کر خود بھی 'متوحش' بنا ہوا ہے اور آپ کے قبیلے کو بھی 'متوحش' بنا رہا ہے۔
(مَن شک پر کنفیوزن دور کرنے کے لیے برادر کبیر علامہ طارق انور مصباحی کے رسالے "تکفیر فقہی میں مَن شَک کا استعمال" مطالعہ کریں۔ابحاث سمجھ نہ آئیں تو ان سے براہ راست سمجھ لیں کنفیوزن دور ہوجائے گا ان شاء اللہ۔)

٢٦ جمادی الاولی ١٤٤٤ھ
21 دسمبر 2022 بروز بدھ
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👌1
Forwarded from Ghulam Mustafa Naimi
خانقاہ سراواں کی سنیمائی تاویلات :ایک جائزہ
غلام مصطفیٰ نعیمی gmnaimi@gmail.com
(مدیر اعلیٰ سواد اعظم دہلی)

خانقاہ سراواں کی سنیما پروری کی نقاب کشائی پر مبنی ہماری تحریر"خانقاہ سراواں : سماع سے سنیما تک" پر وابستگان خانقاہ نے عادت کے مطابق رجوع کی بجائے تاویلات کا راستہ اختیار کیا.
پہلا جواب براہ راست خانقاہ کے ذمہ داران کی جانب سے لکھا گیا... دوسرا جواب وہیں کے ایک استاذ مولانا افضل حسین نے لکھا اور شیخ خانقاہ کی محبت سے مجبور ہوکر رامپور کے ایک عاشق وفا کیش نے بھی جواب کے نام پر ایک سوال کرکے"شہیدوں میں نام" لکھانے کی کوشش کی... اور کیوں نہ کرتے آخر.......
ساز دل پہ تان اسی دیار سے ہے
یہاں ہم ذمہ داران خانقاہ کی تحریر پر ہی گفتگو کریں گے.اور مولانا افضل حسین صاحب سے گزارش کریں گے کہ وہ مجاز عقلی, اور اسناد کی ابحاث دوبارہ دیکھ لیں تاکہ معلوم ہوجائے کہ مجاز عقلی کے لئے کیا شرائط وضوابط ہیں... اور بغیر تجوز وملابست کے معاملہ فہمی کہاں پہنچا سکتی ہے. اگر ہر مقام پر بغیر تجوز ملابست کے مجاز عقلی مان لیا جائے تو لغت اور معنیٰ موضوع لہ کا جنازہ نکل جائے گا ؟
سنیمائی تاویلات پر گفتگو سے پہلے ایک بات کی داد دینا پڑے گی کہ ایک گانے کو جائز ٹھہرانے کے لئے غلامان شیخ نے نہ جانے کتنی فلموں,گانوں اور سنگرز کی تاریخ کھنگال ڈالی. آج کل ایک محقق صاحب سماع بالمزامیر کی تاریخ کھنگال رہے ہیں ممکن ہے کہ "تاریخ سنیما کی تحقیقی سعادت" بھی انہیں کے حصے آئی ہو.
خانقاہ سراواں کی تاویلات:
ہمارے ایرادات پر سراوی تاویلات درج ذیل ہیں :
1-اگر صرف فلمائے جانے سے کوئی کلام ناجائز ہوتا ہے تو کئی صوفیہ اور ڈاکٹر اقبال وغیرہ کا کلام بھی فلموں میں استعمال ہوا ہے,اس پر اعتراض کیوں نہیں کیا جاتا؟
2-"میرا کرما تو میرا دھرما تو" میں "کرما,کرم اور دھرما"فرض کے معنی میں ہے اور شاعر کی مراد یہ ہے:
اے وطن ہم حب الوطنی کے تقاضے کو پورا کرتے ہوئے اس سے منسوب اپنے سبھی کاموں اور فرائض کو جو تجھ سے متعلق ہیں بخوبی انجام دیں گے.
"دھرما" کا معنی مذہب لینا سیاق و سباق کے اعتبار سے بالکل غلط ہے.
3-ہندو مسلم سِکھ عیسائی ہم وطن ہونے کے ناطے ہمنام ہیں یعنی سب ایک ہی وطن کے رہنے والے ہیں اور اسی سبب سے ہمنام یعنی ہندوستانی ہیں.
وابستگان خانقاہ کی سنیمائی تاویلات کو دیکھ کر بے اختیار زبان سے یہی نکلا
آیا ہے کیا زمانہ, بدلا ہے کتنا منظر
جواز گانا پہ صوفی دلیل دیتے ہیں

قارئین! آئیےان "تقدس مأب صوفیہ" کی تاویلات کا جائزہ لیتے ہیں.خانقاہ سراواں کا کہنا ہے کہ اگر ان کا گایا ہوا گانا غلط ہے تو جن صوفیہ کا کلام فلموں میں استعمال کیا گیا ہے وہ غلط کیوں نہیں ہے؟
اس پر ان صاحبان سے عرض ہے کہ ڈاکٹر اقبال یا صوفیہ کرام نے اپنا کلام پاکیزہ اور اچھے مقصد کے لیے تحریر کیا تھا کسی فلمی ڈائریکٹر کے لئے نہیں, اور جس فلم کا گانا آپ نے گایا ہے وہ خاص فلم کے لئے ہی لکھا گیا ہے خانقاہ کے لئے نہیں؟ فافھم وتدبر!
کہاں حضرت امیر خسرو کا کلام اور کہاں ایک فلمی گویّے کا گانا!کیا دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے؟گر فرق مراتب نہ کنی زندیقی..

فلمی گانے کی نحوست کا اثر تو دیکھیے
اک گویّے کو خسرو سے ملاتے یہ ہیں
یہ بات تعجب خیز ہے کہ اتنی بنیادی بات خانقاہ سراواں کے صوفیوں کی نگاہوں سے کیسے اوجھل ہوگئی ک فلمی گانوں کی اصل یہ ہے کہ وہ محض فلموں کے لیے ہی لکھے جاتے ہیں اور ساتھ میں سُر تَال بھی ملائے جاتے ہیں...اگر کوئی کلام خلاف شرع نہ ہو تو اسے استعمال کرنے کی گنجائش تو نکل سکتی ہے لیکن! فلمی گانے کی دُھن کاپی کرنا اور اسی کی طرز پر سُر تَال ملانا قطعاً جائز نہیں. اور خانقاہ کے احاطے میں فلمی گانا ہی نہیں گایا گیا بلکہ اس کی دُھن اور سُر تَال کی رعایت کا اہتمام بھی کیا گیا.
یہاں یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ جب کسی چیز کی نقل کی جاتی ہے تو فطری طور پر اصل چیز دماغ میں گردش کرتی ہے.تو جب خانقاہ سراواں میں یہ گانا گایا ہوگا تو گانے والے طلبہ حتی کہ سامعین طلبہ کا دھیان بھی لازمی طور پر گانے,ایکٹرز اور فلم کی طرف بھی گیا ہوگا.حب الوطنی کے نام پر گانا بجے گا تو حب الوطنی کے مناظر دیکھنے کا اشتیاق بھی پیدا ہوگا,یہی وہ موقع ہوتا ہے جب شیطان وار کرتا ہے اور ذرا سا اشتیاق پیدا ہوتے ہی قدم سنیما گھر کی طرف اٹھ جاتے ہیں.حب الوطنی کے نام پر اتنے سارے گناہوں کا ارتکاب!!
یہ ساری خرابیاں صرف اس لئے آرہی ہیں کہ حب الوطنی کے نام پر حکومتی عطیات کا حصول ہی مقصد اصلی ہے. نہیں تو مدعیان تصوف سب کو فلم اور گانوں سے قریب کیوں کرنا چاہتے ہیں ؟؟
دوسری بات جب آپ کسی کلام,دُھن سُرتال کو مکمل کاپی کرتے ہیں تو آپ کو باربار وہ کلام سننا پڑتا ہے اور سُر تال کے ساتھ لَے ملانے کے لئے متواتر مشق کرنا پڑتی ہے. اب ذرا تصور کریں کہ خانقاہ کے اساتذہ بچوں کو تیاری کرا رہے ہیں, خانقاہ, درس گاہ اور تربیت گاہ میں گانا بج رہا ہے اور طلبہ اس کی مش
1
Forwarded from Ghulam Mustafa Naimi
ق کر رہے ہیں.اگر سُر تَال میں کمی نظر آتی ہے تو خانقاہ کے راگ پسند اساتذہ کلام اور سُر تَال کی کی اصلاح کرتے ہیں..ایک گانے پر پرفارم کرنے کے لئے درجنوں مرتبہ وہ گانا خانقاہ میں بجایا اور سنا گیا ہوگا.منظر کچھ اس طرح ہوگا:

شیخ حرم کی ہوگئی شیطاں سے یاری اس قدر
سن کے گانے مست ہیں روز وشب شام وسحر

تزکیہ نفس اور اجتناب عن المعاصی کا سائن بورڈ لیکر گھومنے والے "صوفیہ"یہ حدیث پڑھیں:
الغناء ینبت النفاق فی القلب کما ینبت الماء البقل(مشکواۃ)
گانے کی محبت دل میں اس طرح نفاق پیدا کرتی ہے جس طرح پانی سبزہ اگاتا ہے.
چھوڑ بیٹھے اللہ اللہ, گارہے ہیں گانے اب
ماڈرن صوفی کی اب یہی پہچان ہے
حامیان خانقاہ کی دوسری تاویل یہ ہے کہ "کرما(کرم) اور دھرما"(فرض) کے معنی میں ہے,معترض ہندی سے نابلد ہونے کی وجہ سے اعتراض کر بیٹھے.
زبان سے کون واقف ہے اور کون نابلد؟اس کا فیصلہ قارئین پر چھوڑتے ہوئے چند باتیں عرض ہیں.
ہندی زبان میں بعض الفاظ پر الف کا اضافہ کر دیتے ہیں.(ہندی میںआ کیमात्रा ) جیسے رام کو راما(रामा) شِو کو شِوا(शिवा) کرشن کو کرشن(कृष्णा ) اسی طرح لفظ کرم کو کرما(कर्मा) اور دھرم کو دھرما(धर्मा) لکھا جاتا ہے. لیکن اس سے مفہوم پر کوئی فرق نہیں پڑتا... اس تفصیل کے بعد یہ بھی سمجھ لیں کہ لفظ کرما کا معنی کام اور فرض( कर्तव्य)آتا ہے. اور دھرما کا معنی دھرم یعنی مذہب آتا ہے.. جو معنی خانقاہ سراواں نے بتائے ہیں ہندی لغات اس کی تصدیق نہیں کرتیں. لفظ "کرم دھرم"ایک ساتھ درج ذیل معنی میں استعمال ہوتے ہیں:
1,وہ کام جو دھارمک گرنتھوں میں فرض مانے گئے ہیں.
2,مذہبی عادات
3,مخصوص مذاہب کے کام
اس تفصیل کے بعد
"میرا کرما تو میرا دھرما تو" کا مفہوم یہ نکلے گا. اے میرے وطن میرا کرم(فرض) بھی تو اور میرا دھرم(مذہب) بھی تو ہے..
اس شعر کی جو توجیہ اہل سراواں نے کی ہے وہ توجیہ القول مالا یرضی بہ القائل کی قبیل سے ہے.
ہندو آئدیالوجی کے مطابق دیش دھرم کا حصہ ہے اسی لئے اہل ہنود ملک کو دیوی کا درجہ دے کر اس کی پوجا کرتے ہیں اور اسے "بھارت ماتا" کے نام سے یاد کرتے ہیں.(ویسے بھارت ماتا کے جے کارے تو صوفیوں نے بھی بڑی فراخ دلی سے لگائے ہوئے ہیں) اس سے بھی پتا لگتا ہے کہ اہل ہنود کے نزدیک ملک کو دھرم ماننا اعتقاد کا حصہ ہے اوراس گانے کو لکھنے والا امیر خسرو یا اقبال نہیں ایک مشرک وکافر ہی ہے اور اس نے اپنے اعتقاد کے مطابق ہی لکھا ہے.
تیسری تاویل یہ ہے کہ مذکورہ گانے میں ہندو مسلم سِکھ عیسائی کو ہم وطن ہونے کی وجہ سے ہمنام بتایا گیا ہے.جو درست ہے. اس پر ڈاکٹر اقبال کے شعر "مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا:ہندی ہیں ہم وطن ہندوستاں ہمارا"
سے استناد کرتے ہوئے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ ڈاکٹر اقبال بھی وہی کہہ رہے ہیں جو فلمی نغمہ نگار نے کہا ہے.
قطع نظر اس کے کہ ڈاکٹر اقبال جیسے بالغ نظر مفکر ملت کو ایک فلمی نغمہ نگار کی تائید میں پیش کیا جارہا ہے, کچھ چیزوں پر غور کریں :
(الف) ہم وطن ہونے کی بنیاد پر کسی بھی مذہب باالخصوص اسلام نے کوئی تفریق نہیں کی ہاں! نام ولباس اور اعتقاد کی بنیاد پر امتیاز ضرور کیا ہے. اس لئے مسلمان دیگر برادران وطن کو ملکی بھائی مانتے ہیں مگر نام ولباس اور اعتقاد میں اپنا ایک جدا کلچر وتہذیب رکھتے ہیں.
(ب) شدت پسند عناصر عرصہ دراز سے مسلمانوں پر معترض ہیں کہ ان کے نام عربی کیوں ہیں, ہندوستانی تہذیب کے مطابق کیوں نہیں؟
(ج) مسلمانوں کے علاوہ سبھی مذاہب کے ماننے والوں کے نام قریب ایک جیسے ہیں. یہاں کچھ مشہور افراد کے نام دیکھیں:
منوہر(ہندو,CM Haryana)
منوہر(عیسائی,CM Goa)
امت شاہ(جین)
امت کمار(ہندو)
بلویر سنگھ(سِکھ)
بلویر شرما(ہندو)
یہ مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے نام ہیں لیکن مسلمانوں کے نام سب سے مختلف ہوتے ہیں اور یہ چیز شدت پسندوں کی نگاہ میں کھٹکتی ہے.
فلمی گانے کا مصرعہ ثانی"جوکرے ان کو جدا مذہب نہیں الزام ہے" محل نظر ہے. جب وطن کی بنیاد پر تفریق ہی نہیں تو اس پر طعن کیسا؟
ہاں! اصل طعن مسلمانوں کی ممتاز وجداگانہ تہذیب پر ہے. اور شدت پسند چاہتے ہیں کہ مسلمان اپنا منفرد اسلامی تشخص چھوڑ کر ہندوانہ تہذیب وکلچر میں ڈھل جائیں. اس کلچر کو وہ ہندوستانی کلچر کا نام دیتے ہیں اور اسی کا اظہار گانے میں کیا گیا ہے.
جب کوئی مذہب ہم وطن ہونے کی بنیاد پر تفریق نہیں کرتا تو مذہب کو الزام کہنا چہ معنی دارد ؟ ڈاکٹر اقبال کا شعر ہمارا ہی موئد ہے کہ مذہب دشمنی نہیں سکھاتا وطن کے اعتبار سے ہم ہندی ہیں.
اور وفادران شیخ کو ترانہ اقبال کا یہ شعر بھی یاد رکھنا چاہئے جو ان کے علاحدہ تشخص کا اعلان کرتا ہے :
اے آبرود گنگا وہ دن ہے یاد تجھ کو
اترا تیرے کنارے جب کارواں ہمارا
کچھ بات ہے کہ ہستی مٹتی نہیں ہماری
برسوں رہا ہے دشمن دور زماں ہمارا
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👌1
Forwarded from Ghulam Mustafa Naimi
خانقاہ سراواں : سماع سے سنیما تک
غلام مصطفیٰ نعیمی gmnaimi@gmail.com
(مدیر اعلیٰ سواد اعظم دہلی)
ایک زمانہ تھا کہ ایک دنیا دار مسلمان بھی سرِ عام فلمی گانا گنگنانے تک سے شرماتا تھا, شرم وحیا اسے عوامی مقامات پر گانا گانے سے مانع تھی.لیکن! اکیسویں صدی کے صوفیہ کا کمال دیکھئے کہ اب کھلے عام محفلوں میں فلمی گانوں پر سُر تَال ملائے جارہے ہیں اور یہ اعلان کیا جارہا ہے :
گئے وہ دن کہ گونجتی تھیں صدائیں ھو ھو کی
دیار شیخ میں اب گانے سنائی دیتے ہیں

گذشتہ ماہ 26 جنوری کو جب ملک کا یوم جمہوریہ شان و شوکت کے ساتھ منایا جارہا تھا...ایک طرف مدارس اسلامیہ میں"ہم بلبلیں ہیں اس کی یہ گلستاں ہمارا....
ہو میرے دم سے یوں ہی میرے وطن کی زنیت...
ہندی ہیں ہم وطن ہے ہندوستاں ہمارا..
جیسے ترانے گونج رہے تھے,
تو دوسری جانب شیخِ سراواں کی سرپرستی میں تصوف کے جھنڈا بردار گروہِ فضلا کے طلبہ حب الوطنی کے نام پر ایک فلم کا گانا,گا رہے تھے. جس کے چند شعر درج ذیل ہیں:
▪️"میرا کرما تو, میرا دھرما تو...

▪️ہندو مسلم سِکھ عیسائی ہم وطن ہم نام ہیں
▪️جو کرے ان کو جدا,مذہب نہیں الزام ہے

اس گانے کی صداؤں سے خانقاہ کے بام ودر گونج رہے تھے. طلبہ کے ساتھ ساتھ اساتذہ نے بھی لَے سے لَے ملا کر اچھا ساتھ نبھایا.
اب اس جھنڈا بردار گروہ سے یہ پوچھنا گستاخی ہوگی کہ:
🔹 ہندو مسلم, سکھ عیسائی ہم وطن تو بے شک ہیں لیکن ہم نام کس طرح ہیں ؟؟
🔹کیا ناصر و نَریش,مجیب ومُکیش اور ذیشان و جے رام ہم نام ہیں ؟
🔹حب الوطنی کے نام پر وطن کو اپنا دھرم اور مذہب قرار دینا کہاں تک درست ہے؟
🔹کیا ملک کو مذہب کا درجہ دینا عند الشرع درست ہے؟
لیکن! ان ساری باتوں سے بھلا ان کو کیا فرق پڑتا ہے یہ تو "صوفی لوگ"ہیں اور شریعت سے ان کا کیا لینا دینا؟ شرع کا پاس ولحاظ تو اہل اسلام کرتے ہیں.. اسی لئے تصوف کے جھنڈا بردار گروہ نے ردائے شرم وحیا اتار کر "فلم دوستی" کا خوب مظاہرہ کیا اور بکمال بے حیائی اس ویڈیو کو سوشل میڈیا پر اپلوڈ بھی کیا کہ کہیں کوئی ان پر "سنیما بیزاری کا الزام" نہ لگا دے...
جب فقیر تک یہ ویڈیو پہنچا تو فقیر نے تصدیق کے لئے خانقاہ کے استاذ مولانا کتاب الدین صاحب کو فون کیا. موصوف نے اولاً تو انکار کیا لیکن بعد میں دو چند شعر پڑھنے کا اقرار کیا اور یہ صوفیانہ نصیحت بھی کی کہ" یہ نہ دیکھا جائے کہ فلمی گانا ہے بلکہ گانے کا مفہوم دیکھا جائے"...
خیر! خانقاہ کی اس "سنیما پروری" سے امید ہے کہ جلد ہی شیخ خانقاہ کی سرپرستی میں فلموں کا پریمیر شو بھی رکھا جانے لگے... جہاں خوب رو,پری وش,مہ لقائیں جناب شیخ سے "اکتساب فیض" کے لئے حاضر ہوں گی اور سماع وسنیما کی "جُگل بَندی" کا الگ ہی نظارہ ہوگا.
اور ہاں!حاملین شریعت معترض نہ ہوں کہ جناب شیخ کا نعرہ ہے:
"محبت سب کے لئے, نفرت کسی سے نہیں"
مزید اپنے شیخ کے دفاع میں کئی وظیفہ یاب مولوی آکر کہیں گے:
خذ ما صفا ودع ما کدر, پر عمل کیا جارہا ہے, اہل شریعت تو ہمیشہ فتوی ہی لگاتے ہیں آخر ثقافت وتوارث بھی کوئی چیز ہے؟
اور اس طرح خانقاہ سراواں و سنیما مل کر وہ "گلہائے تصوف" کھلائیں گے جس کا نقشہ جوش ملیح آبادی نے سالوں پہلے اس طرح کھینچا تھا:
اک دن جو بہر فاتحہ اک بنت مہرو ماہ
پہنچی نظر جھکائے ہوئے سوئے خانقاہ
زہّاد نے اٹھائی جھجھکتے ہوئے نگاہ
ہونٹوں میں دب کے ٹوٹ گئی ضرب لا الہ
پڑھتے ہی فاتحہ جو وہ اک سمت پھر گئی
اک پیر کے تو ہاتھ سے تسبیح گر گئی
القصہ دین(شیخ) کفر کا دیوانہ ہوگیا
کعبہ ذرا سی دیر میں بت خانہ ہوگیا

(یہ رہا سراوی گانے کا لنک👇👇)

https://youtu.be/R550lTjuAuM
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👌1
Forwarded from Ghulam Mustafa Naimi
*مدعیان تصوف:افکارونظریات*[1]

غلام مصطفےٰ نعیمی
جنرل سیکریٹری تحریک فروغ اسلام دہلی
gmnaimi@gmail.com

خانقاہ کچھوچھہ مقدسہ کے اظہار موقف کے بعد بعض مدعیان تصوف کا ردعمل ایسا تھا جیسا رنگے ہاتھوں پکڑے جانے پر کسی پاکٹ مار کا ہوتاہے۔اعلان برأت واظہار موقف کے بعد "اعتدال ووسطیت اور احسان ورواداری" کی مالا جپنے والے متصوفین نے سوشل میڈیاپرگالی گلوچ کا بازار گرم کردیا۔سادات کچھوچھہ مقدسہ پر انتہائی بھونڈے اور بھدے جملے کسے گئے،اس سے بھی دل نہیں بھراتوشیخ سراواں سے اکتساب فیض کرنے والے ایک نیم اردوخواں،خشخشی ریش مجاور سے جی بھرکر ہرزہ سرائی کرائی گئی۔حدتویہ ہے کہ سیدنا ابوبکرصدیق وحضرت امیرمعاویہ رضی اللہ عنہما کی شان اقدس میں انتہائی رکیک اور ایمان سوز لفظوں کا استعمال کیاگیا۔تصوف وسلوک کی بات کرنے والے ان "متصوفین"کی زبان کے نمونہ آپ بھی ملاحظہ فرمائیں:
🔻 سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی افضلیت اور خلافت کے اجماع کا انکار کیا۔
🔻 سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی ذات پر فسق وفجور کا حکم لگایا۔
🔻 تعظیم حضرت امیرمعاویہ کے قائلین کو کافر قرار دیا۔
🔻 سوادِ اہل سنت کو خارجی وناصبی قرار دیا۔
🔻 عدم ایمان ابو طالب کے قائلین کو کافر قرار دیا۔
🔻 اکابرین کچھوچھہ کو خارجی اور ان کی سیادت کو مسلوب قراردیا۔
یہ سب نمونے تو ہم نے بڑی احتیاط سے نقل کئے ہیں ورنہ اصل زبان تو نقل کئے جانے لائق ہے ہی نہیں!!

یہ ان لوگوں کی زبان ہے جو دوسروں پر سخت کلامی کا الزام دیتے ہیں۔اِنہیں "متصوفین"کا دعوی ہے کہ "صوفیا نے کسی کو کافر نہیں کہا"،لیکن آپ دیکھیں کہ اس رفض زدہ مجاور نے کس بے دردی کے ساتھ کفر کی گن مشین چلائی ہے جس سے اخلاف واسلاف تک کوئی محفوظ نہیں رہا،پھر بھی ان لوگوں کا دعویٰ ہے کہ یہ "محبت والے ہیں"۔
کتنے میٹھے ہیں تیرے لب اے رقیب
گالیاں دے کے بھی بدمزہ نہ ہوئے
جب چہارجانب سے ان رفض نواز مجاورین کا تعاقب شروع ہوا،تو ڈیمج کنٹرول( control Damage)کی کوششوں کے تحت چندسرخیل متصوفین اجمیر معلی میں جمع ہوئے۔پہلے ان سرخیل متصوفین پر ایک نظرڈال لیں تاکہ ان کے خدوخال ذہن میں رہیں۔
🔻 کاظم پاشا حیدرآباد :موصوف اپنے حلقہ احباب میں خطیب دکن کے طور پر شہرت رکھتے ہیں۔آنجناب نے اپنی ایک تقریر میں صحابی رسول حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ کومعاذاللہ 'بدبخت' قرار دیا۔
🔻 سرورچشتی: موصوف خشخشی ریش گدین نشین ہیں،آپ کے فرمان عالیشان کے مطابق سواد اعظم اہل سنت کی اکثریت خارجی وناصبی ہے۔
🔻 تنویراشرف بیجاپور: صوفی کانفرنس میں موصوف کی باوقار موجودگی میں"شری نریندر مودی" کےلئے"عمرخضر" کی دعا کرائی گئی،مگرجناب کے لبوں پر قفل سکوت لگا رہا۔

عزیزان گرامی!!
جو متصوفین ایسے سوقیانہ خیالات اور ایسی بازاری زبان رکھتے ہوں ،ان کی زبانوں سے "احسان وسلوک"کی بات سننا ایسا ہی ہے جیسا آر ایس ایس کے لوگوں سے "حب الوطنی" کا بھاشن سننا۔
سونا جنگل، رات اندھیری، چھائی بدلی کالی ہے
سونے والو!جاگتے رہیو چوروں کی رکھوالی ہے

مؤرخہ 30 صفرالمظفر1440ھ
9نومبر 2018ء بروز جمعہ
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👌1
Forwarded from Ghulam Mustafa Naimi
*بند دماغ سراویوں, نیچریوں اور جدیدیوں کے نام*
از : غلام مصطفی نعیمی
ایڈیٹر سواد اعظم دہلی

بچپن میں ایک فارسی کہاوت پڑھی تھی :
یک من علم را دہ من عقل باید. یعنی ایک مَن علم کے لئے دس مَن عقل چاہیے. لیکن حالاتِ زمانہ کی نیرنگی دیکھیے کہ جن لوگوں کو چھٹانک بھر بھی دولتِ علم صحیح طور سے نہ مل پائی وہ لوگ علم وفن کے کوہِ ہمالہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا کے علم پر نکتہ چینی کرنے کی جسارتِ بیجا کرتے ہیں.
پچاس سے زائد علوم پر مہارت رکھنے والی اتنی عظیم اور عبقری شخصیت کے علم پر اعتراض کرنے والے افراد کے بارے میں معروف پاکستانی محقق علامہ پیر ابوالحسن واحد رضوی تحریر فرماتے ہیں :
"آج کل جو شہرت حاصل کرنے کے لیے مختلف باتیں کرتے ہیں وہ عالم تو دور حقیقی طور پر طالب علم بھی نہیں ہیں. بلکہ عقل سے بھی کورے اور فہم سے عاری ہیں. اور رہی تقویٰ کی صفت! تو یہ تو شروع ہی سے ان کے لیے اجنبی اور نادیدہ ہے"
کور عقلی جیسی صفات سے متصف یہ حضرات آئے دن اپنی انہیں صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے رہتے ہیں..
پچھلے دنوں سیدی اعلی حضرت کے ایک فتوے پر ایک "صاحب بہادر" کا نوٹ اور انہیں کے ہم خیال افراد کے کچھ تبصرے نگاہوں سے گزرے... جن میں ان تمام افراد نے اپنی کور عقلی کا خوب خوب ثبوت دیا.
سوال یہ تھا کہ جن اداروں میں انگریزی کی تعلیم دی جاتی ہے وہاں چرم قربانی دینا موجب ثواب ہے یا نہیں ؟
اس کا جواب دیتے ہوئے اعلی حضرت تحریر فرماتے ہیں :
"مصرف قربانی میں تین باتیں حدیث میں ارشاد ہوئی ہیں :کھاؤ اور ذخیرہ رکھو اور ثواب کے کام کرو.
انگریزی پڑھنا بے شک کوئی بات ثواب کی نہیں. اگر یہ احتیاط ہوسکے کہ اس کے دام صرف قرآن مجید وعلم دین کی تعلیم میں صرف کیے جائیں تو دے سکتے ہیں ورنہ نہیں."
اعلی حضرت کے اس صاف وشفاف فتوے پر اپنی زہر بجھی طبیعت کا مظاہرہ کچھ اس طرح کیا گیا اور اعلی حضرت پر یہ رکیک الزام لگایا گیا:
"مولانا احمد رضا خاں علیہ الرحمہ کو آنے والے جبری حالات ومقتضیات کا وقت رہتے اندازہ نہیں ہوسکا اور وہ ایک ضروری چیز سے بھی لوگوں کو جاہل رکھے ہوئے تھے.
کیا مخالف کی زبان سیکھنا اور اس کی تہذیب سے آشنا ہونا ان لوگوں کے لئے بھی غلط ٹھہرے گا جو دین وسنیت کے سپاہی بننے جارہے تھے؟"

قارئین اس تبصرہ کی زبان پر غور کریں کہ امام احمد رضا قادری قدس سرہ کے علم وفضل پر کس گھٹیا اور بھونڈے انداز میں تبصرہ کیا گیا ہے.
"صاحب بہادر" اور ان کے دوستوں نے فیس بک پر بڑے سطحی انداز میں اپنی "فطری صلاحیتوں" کا استعمال کرتے ہوئے تنقیص میں کوئی کسر باقی نہ رکھی.
قارئین!
اعلی حضرت نے یہ فتوی 1333ھ میں دیا تھا یعنی آج سے قریب 105 سال پہلے...جب وطنِ عزیز انگریزوں کے غاصبانہ قبضے میں تھا.
اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے یہ نکات ملاحظہ فرمائیں:
اعلی حضرت قدس سرہ نے *اِس فتوے میں انگریزی زبان کی تعلیم سے کہیں بھی منع نہیں کیا. بلکہ اُس زمانے میں (105 سال پہلے کے بھارت میں) اس کے صِرف اور صِرف "کارِ ثواب" ہونے کی نفی کی ہے.
اب اِسے سراواں کا "فیضِ خیانت" کہا جائے یا کم عقلی اور جہالت کہ "صاحب بہادر" نے یہ نتیجہ نکال لیا کہ اعلی حضرت لوگوں کے انگریزی زبان سیکھنے کو غلط کہہ رہے ہیں اور لوگوں کو اس سے روک رہے ہیں؟؟؟!؟!!!
ہم "صاحب بہادر" کو زندگی بھر کی مہلت دیتے ہیں کہ وہ اس فتوے میں اپنا اختراعی مفہوم ثابت کرکے دکھائیں.
انگریزی زبان کی تعلیم کو اُس دور میں "کارِ ثواب" نہ ماننے پر "صاحب بہادر" کی اتنی برہمی کہیں اس بات کی غمازی تو نہیں کر رہی کہ اگر "صاحب بہادر" اور اُن کے ممدوحین اُس انگریزوں کے بھارت میں ہوتے تو انگریزوں کی زبان سیکھنے اور سکھانے کو کارِ ثواب اور قربتِ خداوندی کا وسیلہ قرار دے دیتے.!!!
بے خودی بے سبب نہیں غالب..

انگریز بہادر چونکہ مسلمانوں کو اپنا حقیقی دشمن سمجھتے تھے اس لیے انھوں نے اہل اسلام کو ان کے مذہب سے دور کرنے کی خاطر مسلمانوں میں رائج زبان عربی وفارسی اور اردو کو کمزورکرنا چاہا اورانگریزی زبان کو بڑھاوا دینا شروع کیا تاکہ مسلمانوں کا رشتہ اپنی زبانوں سے کمزور ہو جائے. جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسان اپنے مذہب سے بہت دور ہوجاتا ہے اور پھر اس کو بہکانا بہت آسان ہوجاتا ہے... جیسا کہ آزادی کے فوراً بعد اردو کو کمزور کر ہندی ودیگر علاقائی زبانوں کو بڑھاوا دیا گیا جس کا نتیجہ آج یہ ہے کہ مسلمانوں کی ایک بہت بڑی تعداد دین اور دینی تعلیم سے دور ہوچکی ہے.
ہر قوم کی زبان اس کی ثقافت اور کلچر کی جان ہوا کرتی ہے. انگریزی زبان کے فروغ کے پس پشت مغربی تہذیب اور مغربی کلچر کو بڑھاوا دینا انگریزوں کا مقصود تھا تاکہ اسلامی تہذیب وآثار کو ختم کیا جاسکے. جس طرح آج ہندو طاقتیں سنسکرت اور ہندی کی تعلیم کے نام پر ہندو کلچر کو بڑھاوا دے رہی ہیں. وہی ماحول اس وقت انگریزی کا تھا.
اب سے سو سال پہلے انگریزی زبان کی آج کی طرح کوئی عالمی حیثیت بھی نہیں تھی کہ جس سے بہت وسیع پیمانے پر تب
1
Forwarded from Ghulam Mustafa Naimi
لغ واشاعت اور دینی فوائد حاصل کیے جاسکتے.
زبانیں صرف وسیلۂ استفہام و اظہار ہوا کرتی ہیں. جس زبان کا یہ حال ہو ظاہر ہے اس کی تعلیم ہمارے دینی نقطۂ نظر سے "کارِ ثواب" نہیں ہو سکتی.
یہ نکات تو ہماری محدود فکر کا نتیجہ ہیں. اس عظیم المرتبت شخصیت کی فکر و نظر کی وسعت کا کیا عالم ہوگا جسے اللہ تعالی نے اپنے دین کی تجدید کے لیے مامور فرمایا ہو؟
اس لیے اگر اعلی حضرت نے اس زمانے کے ماحول کو مد نظر رکھتے ہوئے "انگریزی تعلیم کو کارِ ثواب" قرار نہیں دیا تو آج کے "کالے انگریزوں" کے پیٹ میں بھلا کیوں درد ہورہا ہے یہ سمجھ سے پرے ہے.
"صاحب بہادر" نے ایک خیانت یہ کی ہے کہ اعلی حضرت نے اپنے فتوے میں ایک قید لگائی تھی کہ اگر چرمِ قربانی کو تعلیم قرآن اور دینی تعلیم میں ہی خرچ کیا جائے تو جن اداروں میں انگریزی پڑھائی جاتی ہو وہاں بھی دے سکتے ہیں.
لیکن معترض نے کمال ڈھٹائی سے "مقید" کو "مطلق" سے بدل کر یہ سرخی لگائی :
"جن مدرسوں میں انگریزی پڑھائی جائے وہاں چرم قربانی دینا جائز نہیں"!!!!
دن کے اجالے میں آنکھوں کے سامنے چوری کرنا شاید اِسی ادا کا نام ہے :
عجب دزدے دلاور ست...
اب آئیں اعلی حضرت کی فکری وسعت اور جذبہ دینی کا یہ رُخ ملاحظہ کریں جسے یا تو معترضین شوقِ تنقیص میں دیکھ نہیں پاتے یا دیکھ کر بھی آنکھیں بند کرلیتے ہیں.
آپ کی بارگاہ میں انگریزی زبان سیکھنے کے تعلق سے سوال کیا گیا تو آپ نے یہ جواب تحریر فرمایا :
"ذی علم مسلمان اگر بہ نیتِ ردّ نصاری انگریزی پڑھے، اجر پائے گا.. اور دنیا کے لیے صرف زبان سیکھنے یا حساب اقلیدس جغرافیہ جائز علم پڑھنے میں حرج نہیں بشرطیکہ ہمہ تن اس میں مصروف ہوکر اپنے دینی علم سے غافل نہ ہو جائے"
(فتاوی رضویہ قدیم جلد نہم ص 99)
پہلے فتوے میں خیانت کرنے والے کور عقل اب بتائیں کہ اعلی حضرت انگریزی سے لوگوں کو جاہل رکھے ہوئے تھے یا بہ نیتِ ردّ نصاریٰ سیکھنے پر اجر و ثواب کا مژدہ سنا رہے تھے؟؟
لوگوں کو جاہل رکھنے جیسا گھٹیا اور بیہودہ الزام لگانے جیسا ذلیل کام تو دشمن بھی نہیں کر سکا مگر یہ کام "بھیڑ نما بھیڑیے"خوب کر رہے ہیں.
مخالف کی زبان سیکھ کر ان کی تردید کرنے والے سپاہی دیکھنا ہوں تو مبلغِ اسلام علامہ عبدالعلیم صدیقی میرٹھی علیہ الرحمہ کا نام نامی ہی کافی ہے.جو اعلی حضرت کے دامن کرم سے وابستہ تھے...
اب ایک نظر معترض کے رویے پر:
معترض صاحب بریلوی حضرات پر گالی جیسا الزام لگا کر خود "بند دماغ, بے بصیرت بریلوی, جاہل اور اجڈ" جیسے "ادبی چاشنی میں دھلے ہوئے جملے" استعمال کرتے ہیں... ان کی اس ادبی زبان کو دیکھ کر بے اختیار کہنا پڑتا ہے :
کتنے میٹھے ہیں تیرے لب اے رقیب
گالی دے کر بھی بد مزہ نہ ہوئے
کہتے ہیں دل کا معاملہ بھی بڑا عجیب ہوتا ہے. یہ جب محبت کرتا ہے تو"کفر واسلام کی سرحد سے بہت دور دنیا بسانے والے" کو "داعیِ اسلام", "عارف باللہ" کہتے نہیں تھکتا.
لیکن!
اگر یہی دل بغض ونفرت پال لے تو "مجددِ دین" اور "شیخ الاسلام والمسلمین" کو بھی "مولانا" کہتے وقت زبان گنگ اور قلم کی روشنائی خشک ہوجاتی ہے.!!

آخر میں ہم یہی دعا کریں گے کہ مولیٰ تعالیٰ ہمیں بزرگوں کی بے ادبی, انانیت, ضد اور ہٹ دھرمی سے محفوظ رکھے اور بھٹکے ہوئے آہوؤں کو پھر سے سوے حرم رواں دواں فرمائے.

غلام مصطفی نعیمی
ایڈیٹر: "سواد اعظم" دہلی
ای میل: gmnaimi@gmail.com
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👌1
Forwarded from Zubair 006
تاج الشریعہ اور تحفظ ایمان

از محمد زبیر قادری،
ایڈیٹر مسلک، ممبئی
حضور تاج الشریعہ حضرت علامہ مفتی اختررضا قادری ازہری رحمۃ اللہ علیہ کا شمار ہندوستان میں اہلِ سنّت و جماعت کے ان اساطین میں ہوتا ہے، جن کی وجہ سے یہاں سُنّیت محفوظ ہے ، اور محفوظ رہے گی۔ اس میں دو رائے نہیں کہ حق و باطل میں امتیاز خانوادۂ رضویہ کا ہمیشہ سے وطیرہ رہا ہے۔ حضور تاج الشریعہ نے بھی زندگی بھر اس پر عمل کیا .... ان شاء اللہ ہمیشہ ہمیش یہ عمل مستحکم اور قائم و دائم رہے۔
اکثر لوگ خانوادۂ اعلیٰ حضرت پر یہ اعتراضات کرتے ہیں کہ وہ لوگ سوائے فتویٰ دینے کے دین و سُنّیت کا کچھ کام نہیں کرتے۔اور جو بھی کام کرتا ہے، اس پر فتوے بازی شروع کردیتے ہیں۔
کافی عرصے قبل احقر بھی اس خیال کا حامی ہوگیا تھا۔ لیکن حالات کا مشاہدہ کرتے کرتے حق و باطل میں امتیاز واضح ہوگیا۔ سمجھ میں آگیا کہ ہر کسی کا احتساب کیوں ضروری ہے۔
ہمارے پڑوسی ملک کا منظر نامہ دیکھ لیجیے، بہت سارے دینی فتنے وہاں سے اُٹھے۔جس نے سُنیت کو پارہ پارہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اس بات کا ہمیں اعتراف ہے کہ وہاں دین و سنّیت کا اچھا خاصا کام ہوا اور ہورہا ہے.... مگر ساتھ ہی وہاں سے اُٹھنے والے دینی فتنوں نے سنّیت کو جو نقصان پہنچایا، اس کی تلافی بھی ممکن نہیں۔ طاہر القادری، گوہر شاہی، جاوید غامدی، مرزا انجینئر وغیرہ اور نہ جانے کتنے ہی پیروں نے عوام کو گمراہ کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی ہے۔ قادیانیت کو سب سے زیادہ فروغ وہیں سے ملا.... یہ سب کیسے ممکن ہوگیا؟؟ حالانکہ وہاں بھی سنّیوں کی اکثریت ہے، اس کے باوجود بھی آئے دن نت نئے فتنے و فرقے وجود پذیر ہوتے رہتے ہیں اور دین و سنّیت کو کھوکھلا کرنے کی کوششیں کرتے رہتے ہیں ۔
اس کے برعکس ہند میں جب بھی دین کے نام پر کوئی فتنہ اُٹھنے کی کوشش کرتا ہے، اس کا سر کچل دیا جاتا ہے، اس کا گلا دبا دیا جاتا ہے۔ایسی سخت گرفت کی جاتی ہے کہ اگر وہ فتنہ مکمل ختم نہیں ہوتا، تب بھی محدود و مطعون ضرور ہوجاتا ہے۔ اس قدر معتوب ہوجاتا ہے کہ لوگ ان کو بُرے الفاظ سے یاد کرتے ہیں۔ حال ہی میں الہٰ آباد سے اُٹھنے والا فتنہ سیّد سراواں کو دیکھ لیجیے۔ جس نے کئی بڑوں پر ایسا جادو چلایا کہ وہ بھی تقلید سے منحرف اُس صوفی کے اسیر نظر آنے لگے۔ لیکن خانوادۂ بریلی شریف سے وابستہ رہنے والے علما و مفتیان و خلفا کبھی کسی فتنے سے جلد متاثر نہیں ہوتے۔ کبھی کسی نئی فکر و نظر سے متاثر نہیں ہوتے۔ لہٰذا علما کی گرفت اور تعاقب سے جلد ہی شیخ سراواں کا جادو مانند سراب زائل ہوگیا، ورنہ نہ جانے کتنے لوگ اس کے دام فریب کا شکار ہوجاتے۔
اس سے قبل ماہ نامہ جامِ نور تیزی سے ایک فتنے کی شکل میں اُبھرا.... حضرت علامہ ارشد القادری کی نسبت نے لوگوں کو اس تحریک کے قریب کردیا.... مگر جب اس نے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہٗ کی فکر و نظر سے انحراف کیا، تو لوگ اس سے دور ہوتے گئے۔ اس فتنے نے بہت اہلِ علم کو اپنا اسیر کیا.... پھر ان کی زبانیں اپنے اسلاف کے حق میں گستاخ ہوگئیں۔ رفتہ رفتہ جام نور کی حقیقت واضح ہوتی گئی... اور آخر میں یہ فتنۂ رواں صدی طاہر القادری سے مل گیا۔تو اس کی اصلیت خوب واضح ہوگئی۔
عرض مدّعا یہی ہے کہ دین پر کسی حاکم کی گرفت مضبوط ہونا لازمی ہے، ورنہ لوگ دین سے کھلواڑ کرنے لگ جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی بروقت پکڑ کرنا، اس فتنے کا سدّباب کرنا.... آج کے دور میں سب سے اہم ضرورت ہے، جو کہ حضور تاج الشریعہ کے ذریعے ممکن ہوئی۔خارجی فتنوں سے تو ہم مستقل برسرِ پیکار رہتے ہی ہیں، لیکن داخلی فتنے جب سُنّی بن کر گمراہ کرنے نکلتے ہیں، تو اس کی پہچان دیر سے ہوتی ہے، تب تک کافی لوگ اس فتنے کے اسیر اور گمراہیت کا شکار ہوجاتے ہیں۔
آج فتنوں کا دَور دَورہ ہے.... باطل مذاہب.... باطل فرقے تو ہیں ہی.... لیکن صلح کلیت ایک بڑا فتنہ ہے، جو سنّیت میں رہتے ہوئے سنّیت کی جڑیں کھوکھلی کرنے میں لگا ہوا ہے۔ کوئی بھی فرد ہو، اِدارہ یا تنظیم ہو، جب تک وہ دین و سنّیت پر مضبوطی سے قائم ہے.... اور اسلاف سے ہٹ کر کچھ غلط راہ نہیں اپناتا، تب تک وہ اپنا ہے..... ورنہ سنّیت میں اس کے لیے جگہ نہیں۔
گروہ در گروہ اور فرقہ در فرقہ بنانے سے سنّیت پارہ پارہ ہورہی ہے۔ ہر کوئی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنائے اسی کو سارا دین سمجھ رہا ہے۔ تنظیمیں ، اِدارے بنائے جاتے ہیں دین و سُنّیت کی تبلیغ و اشاعت کے لیے، لیکن تنظیم کو ہی سارا دین و اسلام سمجھ لیا جاتا ہے.... اپنے آپ کو ہر تنقید سے بالاتر اور معصوم عن الخطا سمجھنا، یوں لگتا ہے اس دور کا خاصا بن گیا ہے۔ اس لیے بھلے ہی آپ کسی بھی تنظیم سے وابستہ ہوں، یہ مزاج اپنا لیجیے کہ صرف سنّیت کے لیے کام کرنا ہے، سُنّی مبلغ ہی بنے رہنا ہے۔ اور تنظیم کا مقصد بھی تو یہی ہے ناں!!!
1
Forwarded from Zubair 006
حضور تاج الشریعہ کا یہی مشن تھا، جس پر عمل پیرا ہوکر ہم سنّیت کا صحیح معنوں میں تحفّظ کرسکتے ہیں۔ اس لیے اس مشن کو جاری رہنا چاہیے۔
حضور تاج الشریعہ کی حالاتِ حاضرہ پر گہری نظر رہتی تھی۔ وہ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنے کے لیے ریڈیو پر خبریں برابر سنتے تھے۔ دنیاوی سیاست و حالات پر نظر رکھتے تھے۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ آپ ہر معاملے میں بہت محتاط روی سے کام لیتے تھے۔ کسی کے بارے فوراً رائے نہیں دے دیتے تھے، بلکہ خاموشی سے جائزہ لیتے، اس کے معاملات پرکھتے، پھر کوئی فیصلہ لیتے۔ یہی محتاط روی دین کی اساس ہے۔۔۔
جبکہ کچھ لوگوں کا عمل دیکھ لیجیے کہ کل تک جن چیزوں کو حرام قرار دے کر ان سے دور و نفور تھے، آج جواز کا فتویٰ دے کر گلے کا ہار بنا کر استعمال کر رہے ہیں۔ کچھ لوگوں کے فتوے اس قدر جلدی بدل جاتے ہیں، جیسے کہ لباس تبدیل کر رہے ہوں۔ ایسے لوگوں سے دین کا نقصان ہے۔ اللہ بچائے دورِ جدید کے ............سے۔
حضور تاج الشریعہ ہمارے درمیان نہیں رہے، لیکن ہمیں ان کے مشن کو جاری و ساری رکھنا ہوگا۔ یہی مشن مسلکِ اعلیٰ حضرت ہے۔
زندگی یہ نہیں ہے کسی کے لیے زندگی ہے نبی کی نبی کے لیے
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👌1
عالم ربانی برکات ثانی حضرت سید شاہ محمد حقانی قدس سرہٗ

ولادتِ با سعادت:
حضرت سید شاہ محمد حقانی قدس سرہٗ کی ولادت 1145ھ میں ہوئی۔

سلسلۂ نسب:
شاہ حقانی قدس سرہٗ کے والد حضرت سید شاہ آل محمد مارہروی جبکہ دادا جان حضور صاحب البرکات سید شاہ برکت اللہ مارہروی رحمہما اللہ ہیں۔

آپ کی والدہ کا نام سیدہ غنیمت بی بی علیہا الرحمہ ہے (جو حضور صاحب البرکات کی دعاؤں کا ثمرہ تھیں) اور نانا جان سید شاہ عظمت اللہ قدس سرہٗ ہیں جو حضور صاحب البرکات کے منجھلے بھائی ہیں۔

تحصیلِ علم:
اپنے والد ماجد حضرت سید شاہ آل محمد قدس سرہٗ اور بڑے بھائی حضرت سید شاہ حمزہ عینی قدس سرہٗ سے علوم ظاہری و باطنی کی تکمیل کی۔

والدِ ماجد کے وصال کے وقت عمر:
20؍ سال

بیعت و خلافت:
بیعت و خلافت والد ماجد سید شاہ آل محمد قدس سرہٗ سے ہے اور بڑے بھائی سید شاہ حمزہ عینی قدس سرہٗ سے بھی اجازت و خلافت حاصل ہے۔

تصنیفات و تالیفات:
آپ نے دو اہم تصنیفیں یادگار چھوڑی ہیں:

(۱) تفسیر ’’عنایت رسول کی‘‘ کے نام سے ہے اور اردو زبان کی اولین تفاسیر میں شمار ہوتی ہے۔

(۲) دوسری ’’نعت رسول کی‘‘ سادہ اور عام فہم انداز میں سو احادیث کا ایک مجموعہ ہے، جو ترغیب و ترہیب پر مشتمل ہے۔

تفسیر قرآن مجیدکی ابتداء و تکمیل:
ساٹھ سال کی عمر میں لکھنے کی ابتداء کی اور صرف چار ماہ پانچ دن کی مختصر مدت میں مکمل فرمائی۔

وصالِ پُر ملال:
17 ذی الحجہ بروز جمعہ 1201ھ کو۔

خاندان برکات کا شاہجہاں:
حضرت شاہ حقانی کو خاندان برکات کا شاہجہاں کہنے کی وجہ یہ ہے کہ شاہ حقانی قدس سرہٗ کو فنون لطیفہ سے بہت دلچسپی تھی، خصوصاً تعمیرات اور شجر کاری آپ کا محبوب مشغلہ تھا، آپ کے باغ میں انواع و اقسام کے پھل اور میوے ہوتے تھے۔

آپ کی تفسیر کی اشاعت:
حضرت امین ملت پرو فیسر سید شاہ محمد امین میاں صاحب کے ہاتھوں ہوئی۔

اہم کارنامے:
خانقاہ کا دیوان خانہ، حویلی سجادہ نشینی، تمام مختلف مکانات اور حصار باغ پختہ وغیرہ تعمیر کرایا تھا جن کی جگہ پر اب نئی عمارتیں بن چکی ہیں ۔

بہ شکریہ:
البرکات اسلامک ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ، انوپ شہر روڈ،علی گڑھ

دعاؤں کا طالب:
محمد حسین مُشاہد رضوی

https://scholars.pk/ur/scholar/aalim-e-rabbani-barkaat-e-saani-hazrat-syed-muhammad-haqqani
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
16-12-1444 ᴴ | 05-07-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
17-12-1444 ᴴ | 06-07-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1