Forwarded from Ghulam Mustafa Naimi
____دیتے ہیں وہ فریب بہت خانقاہ میں !!
غلام مصطفےٰ نعیمی
روشن مستقبل دہلی
چند مہینے پہلے خانقاہ سراواں میں سابق سیاست دان عارف محمد خان(گورنر آف کیرلا)کی آمد ہوئی۔شیخ خانقاہ صوفی احسان اللہ سعیدی صاحب نے اپنے جاروب کشوں کے ساتھ مل کر نہایت گرم جوشی کے ساتھ گورنر صاحب کا استقبال کیا۔استقبالیہ مناظر دیکھ بہت سارے افراد کو حیرت کا سخت جھٹکا لگا کہ بہرحال خانقاہ سراواں احسان وسلوک اور اتباع قرآن وسنت کی دعوے دار ہے جب کہ عارف محمد خان قرآن وحدیث پر اعتراض کرنے والے اسلام بیزار ناقد کے طور پر پہچان رکھتے ہیں۔شاہ بانو کیس(1985) کے زمانے ہی سے موصوف قرآن وسنت اور فقہ اسلامی پر نہایت جارحانہ اعتراض کرتے چلے آرہے ہیں۔تب سے لیکر آج تک ان کی اسلام بیزاری میں رتّی بھر کمی نہیں آئی بلکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی ہی جارہی ہے۔
_____شاہ بانو کیس اور عارف خان کا رویہ
محترمہ شاہ بانو اندور کے مشہور ومعروف وکیل محمد احمد صاحب کی پہلی بیوی تھیں۔جنہیں اُن کے شوہر نے شادی کے چالیس سال بعد طلاق دے دی تھی۔اس وقت شاہ بانو عمر کے ساٹھویں برس میں تھیں۔شاہ بانو کے پاس شوہر کا دیا گیا مکان تھا، بچے جوان اور خود کفیل تھے لیکن ضعیف العمری کی طلاق نے اُنہیں اور ان کے بیٹوں کو شدید صدمہ پہنچایا، نتیجتاً انہوں نے اپنے شوہر کے خلاف نان ونفقہ کا مقدمہ درج کرا دیا۔مقامی کورٹ سے سپریم کورٹ تک شاہ بانو کامیاب رہیں اور 23 اپریل 1985 کو سپریم کورٹ نے دستور ہند میں شامل شریعت ایپلیکیشن ایکٹ 1937 کے خلاف جاکر محمد احمد کو طلاق کے باوجود بھی تازندگی شاہ بانو کا نفقہ ادا کرنے کا حکم سنایا۔یہ فیصلہ بھلے ہی ایک فرد کے خلاف تھا لیکن اس کی زد پوری ملت اسلامیہ پر پڑ رہی تھی کیوں کہ سپریم کورٹ نے کریمنل پروسیجر ایکٹ کا سہارا لیکر مسلم پرسنل لا میں مداخلت کا دروازہ کھول دیا تھا۔اس طرح میاں بیوی کی آپسی ناچاقی اور اَنا کی جنگ میں ملت اسلامیہ کا شرعی اور دستوری حق داؤں پر لگ گیا تھا۔چونکہ یہ فیصلہ مسلم پرسنل لا کے سراسر خلاف تھا اور مستقبل میں مسلم پرسنل لا میں مداخلت کے لیے نظیر بن سکتا تھا اس لیے مسلمانان ہند نے اس فیصلے کی پر زور مخالفت کی۔اس وقت عارف محمد خان کانگریسی حکومت میں وزیر ہوا کرتے تھے۔موصوف اُسی زمانے سے ماڈرن فکر اور آزاد خیالی کے لیے مشہور تھے۔مسلمانان ہند نے حکومت سے کورٹ کے فیصلے کے خلاف آئینی اقدام کا مطالبہ کیا تو عارف خان ہَتّھے سے اکھڑ گئے اور اس مطالبے کی مخالفت میں اتر آئے اور انہوں نے مسلم پرسنل لا میں عدالتی مداخلت کی کھلی حمایت شروع کردی۔اس وقت راجیو گاندھی حکومت نے عارف خان کی مخالفت کو نظر انداز کرتے ہوئے رائے عامہ کا احترام کیا اور پارلیمنٹ کے ذریعے "مسلم خاتون ایکٹ(تحفظ طلاق ایکٹ1986) پاس کرکے اس فیصلے کو کالعدم قرار دلایا۔قانون سازی کے ساتھ ہی مستقبل میں ایسے فیصلوں کا چور دروازہ بھی بند کردیا گیا۔
__پورب اور پچھم کا ملن
کانگریس میں خوار ہونے کی وجہ سے عارف خان مستعفی ہوگئے اور مختلف پارٹیوں میں ہوتے ہوئے اپنی اصل جائے قرار بی جے پی سے وابستہ ہوگئے۔حجابات اٹھے تو موصوف کی آزاد خیالی کو نئے پر لگ گئے۔اب تو آنجناب کو بُت پرستی سے بھی کوئی پرہیز نہیں رہ گیا ہے۔مندروں میں شِو لنگ پر دودھ اور مورتیوں پر پھول چڑھانے کی تصویریں/خبریں آئے دن میڈیا میں آتی رہتی ہیں۔
🔹اب ایک طرف شیخ سراواں ہیں جو بظاہر اسلام پسند ہیں۔
🔸 تو دوسری جانب وہ شخص جس نے شریعت مطہرہ کی مخالفت میں وزارت تک چھوڑ دی۔
🔹ایک طرف توحید کا علم بردار شیخ ہے۔
🔸تو دوسری جانب شِو لنگ پر دودھ چڑھانے والا اسلام بیزار۔
سیاہ وسفید جیسے متضاد نظریات رکھنے والوں کی اس گرم جوشی اور اپنائیت پر بہت سے سوال اٹھتے ہیں۔ممکن ہے کہ محبین شیخ یہ جواب دیں کہ ہم؛
"محبت سب سے، نفرت کسی سے نہیں"
پر عمل پیرا ہیں۔تو اس پر اتنا ہی کہا جاسکتا ہے کہ یہ نعرہ آر ایس ایس کے اس معصومانہ نعرے کی طرح ہے جسے ان کے رضا کار بڑی معصومیت کے ساتھ لگاتے ہیں؛
"ہم ہر طرح کی ہِنسا [تشدد] کے خلاف ہیں"
کیا شیخ کے محبین اس بات کی وضاحت کریں گے کہ ایک ایسا کلمہ گو جو علانیہ بت پرستی جیسے کاموں میں ملوث ہے، آخر اُسے بلانے/استقبالیہ دینے کے پیچھے کیا مقصد ہے؟
کسی ظاہری مشرک کی آمد سے عوام کنفیوز نہیں ہوتے کیوں کہ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ آنے والا کافر ہی ہے لیکن جو شخص ظاہرً مسلمان ہو، پھر بُت پرستی کرتا پھرے۔ہر دینی وملی معاملے پر مسلمانوں کی مخالفت کرے۔مدارس کو بند کرنے اور مذہبی تعلیم پر پابندی کا مطالبہ کرے۔ایسے اسلام بیزار اور ملت مخالف شخص کو کسی خانقاہ میں پرتپاک استقبالیہ دینا آخر کس فکر کی غمازی کرتا ہے؟
غلام مصطفےٰ نعیمی
روشن مستقبل دہلی
چند مہینے پہلے خانقاہ سراواں میں سابق سیاست دان عارف محمد خان(گورنر آف کیرلا)کی آمد ہوئی۔شیخ خانقاہ صوفی احسان اللہ سعیدی صاحب نے اپنے جاروب کشوں کے ساتھ مل کر نہایت گرم جوشی کے ساتھ گورنر صاحب کا استقبال کیا۔استقبالیہ مناظر دیکھ بہت سارے افراد کو حیرت کا سخت جھٹکا لگا کہ بہرحال خانقاہ سراواں احسان وسلوک اور اتباع قرآن وسنت کی دعوے دار ہے جب کہ عارف محمد خان قرآن وحدیث پر اعتراض کرنے والے اسلام بیزار ناقد کے طور پر پہچان رکھتے ہیں۔شاہ بانو کیس(1985) کے زمانے ہی سے موصوف قرآن وسنت اور فقہ اسلامی پر نہایت جارحانہ اعتراض کرتے چلے آرہے ہیں۔تب سے لیکر آج تک ان کی اسلام بیزاری میں رتّی بھر کمی نہیں آئی بلکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی ہی جارہی ہے۔
_____شاہ بانو کیس اور عارف خان کا رویہ
محترمہ شاہ بانو اندور کے مشہور ومعروف وکیل محمد احمد صاحب کی پہلی بیوی تھیں۔جنہیں اُن کے شوہر نے شادی کے چالیس سال بعد طلاق دے دی تھی۔اس وقت شاہ بانو عمر کے ساٹھویں برس میں تھیں۔شاہ بانو کے پاس شوہر کا دیا گیا مکان تھا، بچے جوان اور خود کفیل تھے لیکن ضعیف العمری کی طلاق نے اُنہیں اور ان کے بیٹوں کو شدید صدمہ پہنچایا، نتیجتاً انہوں نے اپنے شوہر کے خلاف نان ونفقہ کا مقدمہ درج کرا دیا۔مقامی کورٹ سے سپریم کورٹ تک شاہ بانو کامیاب رہیں اور 23 اپریل 1985 کو سپریم کورٹ نے دستور ہند میں شامل شریعت ایپلیکیشن ایکٹ 1937 کے خلاف جاکر محمد احمد کو طلاق کے باوجود بھی تازندگی شاہ بانو کا نفقہ ادا کرنے کا حکم سنایا۔یہ فیصلہ بھلے ہی ایک فرد کے خلاف تھا لیکن اس کی زد پوری ملت اسلامیہ پر پڑ رہی تھی کیوں کہ سپریم کورٹ نے کریمنل پروسیجر ایکٹ کا سہارا لیکر مسلم پرسنل لا میں مداخلت کا دروازہ کھول دیا تھا۔اس طرح میاں بیوی کی آپسی ناچاقی اور اَنا کی جنگ میں ملت اسلامیہ کا شرعی اور دستوری حق داؤں پر لگ گیا تھا۔چونکہ یہ فیصلہ مسلم پرسنل لا کے سراسر خلاف تھا اور مستقبل میں مسلم پرسنل لا میں مداخلت کے لیے نظیر بن سکتا تھا اس لیے مسلمانان ہند نے اس فیصلے کی پر زور مخالفت کی۔اس وقت عارف محمد خان کانگریسی حکومت میں وزیر ہوا کرتے تھے۔موصوف اُسی زمانے سے ماڈرن فکر اور آزاد خیالی کے لیے مشہور تھے۔مسلمانان ہند نے حکومت سے کورٹ کے فیصلے کے خلاف آئینی اقدام کا مطالبہ کیا تو عارف خان ہَتّھے سے اکھڑ گئے اور اس مطالبے کی مخالفت میں اتر آئے اور انہوں نے مسلم پرسنل لا میں عدالتی مداخلت کی کھلی حمایت شروع کردی۔اس وقت راجیو گاندھی حکومت نے عارف خان کی مخالفت کو نظر انداز کرتے ہوئے رائے عامہ کا احترام کیا اور پارلیمنٹ کے ذریعے "مسلم خاتون ایکٹ(تحفظ طلاق ایکٹ1986) پاس کرکے اس فیصلے کو کالعدم قرار دلایا۔قانون سازی کے ساتھ ہی مستقبل میں ایسے فیصلوں کا چور دروازہ بھی بند کردیا گیا۔
__پورب اور پچھم کا ملن
کانگریس میں خوار ہونے کی وجہ سے عارف خان مستعفی ہوگئے اور مختلف پارٹیوں میں ہوتے ہوئے اپنی اصل جائے قرار بی جے پی سے وابستہ ہوگئے۔حجابات اٹھے تو موصوف کی آزاد خیالی کو نئے پر لگ گئے۔اب تو آنجناب کو بُت پرستی سے بھی کوئی پرہیز نہیں رہ گیا ہے۔مندروں میں شِو لنگ پر دودھ اور مورتیوں پر پھول چڑھانے کی تصویریں/خبریں آئے دن میڈیا میں آتی رہتی ہیں۔
🔹اب ایک طرف شیخ سراواں ہیں جو بظاہر اسلام پسند ہیں۔
🔸 تو دوسری جانب وہ شخص جس نے شریعت مطہرہ کی مخالفت میں وزارت تک چھوڑ دی۔
🔹ایک طرف توحید کا علم بردار شیخ ہے۔
🔸تو دوسری جانب شِو لنگ پر دودھ چڑھانے والا اسلام بیزار۔
سیاہ وسفید جیسے متضاد نظریات رکھنے والوں کی اس گرم جوشی اور اپنائیت پر بہت سے سوال اٹھتے ہیں۔ممکن ہے کہ محبین شیخ یہ جواب دیں کہ ہم؛
"محبت سب سے، نفرت کسی سے نہیں"
پر عمل پیرا ہیں۔تو اس پر اتنا ہی کہا جاسکتا ہے کہ یہ نعرہ آر ایس ایس کے اس معصومانہ نعرے کی طرح ہے جسے ان کے رضا کار بڑی معصومیت کے ساتھ لگاتے ہیں؛
"ہم ہر طرح کی ہِنسا [تشدد] کے خلاف ہیں"
کیا شیخ کے محبین اس بات کی وضاحت کریں گے کہ ایک ایسا کلمہ گو جو علانیہ بت پرستی جیسے کاموں میں ملوث ہے، آخر اُسے بلانے/استقبالیہ دینے کے پیچھے کیا مقصد ہے؟
کسی ظاہری مشرک کی آمد سے عوام کنفیوز نہیں ہوتے کیوں کہ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ آنے والا کافر ہی ہے لیکن جو شخص ظاہرً مسلمان ہو، پھر بُت پرستی کرتا پھرے۔ہر دینی وملی معاملے پر مسلمانوں کی مخالفت کرے۔مدارس کو بند کرنے اور مذہبی تعلیم پر پابندی کا مطالبہ کرے۔ایسے اسلام بیزار اور ملت مخالف شخص کو کسی خانقاہ میں پرتپاک استقبالیہ دینا آخر کس فکر کی غمازی کرتا ہے؟
❤1
Forwarded from Ghulam Mustafa Naimi
اس پر فتن دور میں جہاں مختلف طاقتیں اہل ایمان کو تہذیبی اعتبار سے کفر وشرک کی طرف ڈھکیلنے میں جی جان سے جُٹی ہیں ایسے نازک وقت میں عارف خان جیسے شخص کی عوامی عزت افزائی عوام الناس کو ایک خاموش پیغام دینا نہیں ہے کہ مندر جانا، شِو لنگ پر دودھ ڈالنا اور مورتی پر پھول چڑھانے جیسے کام ایسے نہیں ہیں جن سے پرہیز کیا جائے اگر ایسا ہوتا تو شیخ سراواں جیسا پیر اور ان کے درجنوں جاروب کش، عارف خان کو اتنی عزت کیوں دیتے، کیا یہ رویہ مسلمانوں میں غیر محسوس طریقے سے شرک کو بڑھاوا دینے اور اسلام بیزاری کو ہلکا کرنے کے مترادف نہیں ہے؟
کیا اس ملاقات میں عارف خان کو ایسے ایمان سوز اعمال سے باز رہنے کی تاکید وتلقین کی گئی؟
ایسے کتنے ہی سوالات ہیں جو شیخ سراواں اور سروای حضرات سے جواب چاہتے ہیں۔
___اہل سراواں کے Experiments
اپنے اہداف ومقاصد کے لیے سراوی حضرات لگاتار نئے نئے Experiments کرتے رہتے ہیں۔یوں تو ان کے تجربات اور اقدامات کی فہرست خاصی طویل ہے، اختصاراً چند اہم تجربات/اقدامات درج ذیل ہیں:
🔸 سجدہ تعظیمی کی شروعات
🔹فلمی گانوں کی تربیت اور اجتماعی پرفارمنس
🔸مسلم مخالف قوانین پر حکومت کی حمایت
🔹شیعہ اور وہابی علما کے خصوصی خطابات
🔸فرضی آئی ڈیز کے ذریعے علما کو گالیاں دینا۔
🔹اختلاف کے نام پر بدتمیزی کرنا/بدتمیزوں کو شہ دینا
🔸معمولات اہل سنت کے خلاف تحریری وتقریری سرگرمیاں
🔹بدنام زمانہ دشنام طرازوں کو اعزاز دینا
عارف خان کی آمد اور استقبالیہ بھی اِنہیں تجربات کی نئی کڑی ہے۔خدا جانے اس کے پیچھے کیا مقاصد پوشیدہ ہیں۔کیوں کہ جو انسان نیشنلزم کے نام پر شرک کی ترغیب وتشہیر کا برانڈ ایمبیسڈر بنا ہوا ہو اسے ایک شیخ طریقت کا مثالی اعزاز دینا چہ معنی دارد؟
آج کل مذہبی چولہ پہن کر کاروبار کرنے کا ٹرینڈ بھی چل رہا ہے اور کامیابی سے چل رہا ہے۔کہیں ایسا تو نہیں کہ اس مذہبی دورے کی آڑ میں کاروباری مفاد کا تحفظ کارفرما ہو، اس لیے اس شخص کو بلایا گیا جو حکومت کا قریبی اور آر ایس ایس کا منظور نظر ہے۔اس کی آمد سے حکومتی عنایات کا حصول آسان ہوجائے گا۔
اگر اس دورے کے پیچھے ذاتی اغراض پوشیدہ ہیں تو بے حد افسوس ہے کہ سراوی لوگ نہایت گھٹیا سودا کر رہے ہیں۔دنیوی فوائد کے لیے جن لوگوں کی خوشامد کی جارہی ہے وہ اس کی قیمت سود سمیت وصول کرتے ہیں کہیں ایسا نہ ہو کہ اِن کے مفادات کا سُود مسلمانان ہند کو نہ چکانا پڑے؟
یہ بھی یاد رہے!
سراوی حضرات ہمیشہ موقع دیکھ کر تجربات کرتے ہیں۔پہلے جماعتی نظریات کے خلاف کوئی اقدام یا شوشہ چھوڑا جاتا ہے اور باقی لوگ تشہیری مورچہ سنبھالتے ہیں۔تنقید ہوتی ہے تو دیگر لوگ اصلی/فرضی ناموں سے دفاع میں اترتے ہیں۔جب دفاعی کوششیں ناکام ہوجاتی ہیں تو دشنام طرازوں کو میدان میں اتارا جاتا ہے۔اس سے بھی کام نہیں بنتا تو خفت مٹانے کے لیے وقتی طور پر معاملے کو ٹھنڈے بستے میں ڈال دیا جاتا ہے ماضی میں ایسا کئی بار ہوچکا ہے دیکھتے ہیں اس بار قبول حق کی توفیق ملتی ہے یا کٹ حجتی کے بعد اس معاملے کو بھی ٹھنڈے بستے میں ڈالا جاتا ہے۔
٢٥ محرم الحرام ١٤٤٤ھ
24 اگست 2022 بروز بدھ
کیا اس ملاقات میں عارف خان کو ایسے ایمان سوز اعمال سے باز رہنے کی تاکید وتلقین کی گئی؟
ایسے کتنے ہی سوالات ہیں جو شیخ سراواں اور سروای حضرات سے جواب چاہتے ہیں۔
___اہل سراواں کے Experiments
اپنے اہداف ومقاصد کے لیے سراوی حضرات لگاتار نئے نئے Experiments کرتے رہتے ہیں۔یوں تو ان کے تجربات اور اقدامات کی فہرست خاصی طویل ہے، اختصاراً چند اہم تجربات/اقدامات درج ذیل ہیں:
🔸 سجدہ تعظیمی کی شروعات
🔹فلمی گانوں کی تربیت اور اجتماعی پرفارمنس
🔸مسلم مخالف قوانین پر حکومت کی حمایت
🔹شیعہ اور وہابی علما کے خصوصی خطابات
🔸فرضی آئی ڈیز کے ذریعے علما کو گالیاں دینا۔
🔹اختلاف کے نام پر بدتمیزی کرنا/بدتمیزوں کو شہ دینا
🔸معمولات اہل سنت کے خلاف تحریری وتقریری سرگرمیاں
🔹بدنام زمانہ دشنام طرازوں کو اعزاز دینا
عارف خان کی آمد اور استقبالیہ بھی اِنہیں تجربات کی نئی کڑی ہے۔خدا جانے اس کے پیچھے کیا مقاصد پوشیدہ ہیں۔کیوں کہ جو انسان نیشنلزم کے نام پر شرک کی ترغیب وتشہیر کا برانڈ ایمبیسڈر بنا ہوا ہو اسے ایک شیخ طریقت کا مثالی اعزاز دینا چہ معنی دارد؟
آج کل مذہبی چولہ پہن کر کاروبار کرنے کا ٹرینڈ بھی چل رہا ہے اور کامیابی سے چل رہا ہے۔کہیں ایسا تو نہیں کہ اس مذہبی دورے کی آڑ میں کاروباری مفاد کا تحفظ کارفرما ہو، اس لیے اس شخص کو بلایا گیا جو حکومت کا قریبی اور آر ایس ایس کا منظور نظر ہے۔اس کی آمد سے حکومتی عنایات کا حصول آسان ہوجائے گا۔
اگر اس دورے کے پیچھے ذاتی اغراض پوشیدہ ہیں تو بے حد افسوس ہے کہ سراوی لوگ نہایت گھٹیا سودا کر رہے ہیں۔دنیوی فوائد کے لیے جن لوگوں کی خوشامد کی جارہی ہے وہ اس کی قیمت سود سمیت وصول کرتے ہیں کہیں ایسا نہ ہو کہ اِن کے مفادات کا سُود مسلمانان ہند کو نہ چکانا پڑے؟
یہ بھی یاد رہے!
سراوی حضرات ہمیشہ موقع دیکھ کر تجربات کرتے ہیں۔پہلے جماعتی نظریات کے خلاف کوئی اقدام یا شوشہ چھوڑا جاتا ہے اور باقی لوگ تشہیری مورچہ سنبھالتے ہیں۔تنقید ہوتی ہے تو دیگر لوگ اصلی/فرضی ناموں سے دفاع میں اترتے ہیں۔جب دفاعی کوششیں ناکام ہوجاتی ہیں تو دشنام طرازوں کو میدان میں اتارا جاتا ہے۔اس سے بھی کام نہیں بنتا تو خفت مٹانے کے لیے وقتی طور پر معاملے کو ٹھنڈے بستے میں ڈال دیا جاتا ہے ماضی میں ایسا کئی بار ہوچکا ہے دیکھتے ہیں اس بار قبول حق کی توفیق ملتی ہے یا کٹ حجتی کے بعد اس معاملے کو بھی ٹھنڈے بستے میں ڈالا جاتا ہے۔
٢٥ محرم الحرام ١٤٤٤ھ
24 اگست 2022 بروز بدھ
❤1
Forwarded from Ghulam Mustafa Naimi
ناموس رسالت اور فکر سراواں: ایک جائزہ____
غلام مصطفےٰ نعیمی
روشن مستقبل دہلی
_____گذشتہ دنوں سراواں کے غیر اعلانیہ ترجمان صاحب نے علماے دیوبند کو شان رسالت میں "شدید نامناسب" کلمات کے استعمال کا مجرم مان کر بھی "علیہم الرحمہ" قرار دیا تھا۔اسی پر ہم نے ایک تحریر لکھ کر طبقہ سراواں سے کچھ سوال پوچھے تھے۔خانقاہ سراواں کے تئیں نرم گوشہ رکھنے والے حلقوں سے بھی یہ سوال اٹھا کہ بارگاہ رسالت میں شدید مناسب کلمات کے اعتراف کے باوجود" قائلین شدید نامناسب" کو بزرگ و ولی ماننا کون سا ایمان، کیسی غیرت اور کون سی محبت ہے؟
اب اسے جھنجھلاہٹ کہیں یا خود کو پاک صاف اور عاشق رسول دکھانے کی کوشش کہ پہلی بار اہل سراواں نے عظمت رسالت اور ناموس مصطفےٰ ﷺ کا نام لیکر اپنا چہرہ اجلا کرنے کی کوشش کی ہے ورنہ اب تک تو یہ لوگ گستاخ اور گستاخیوں کی وکالت ہی کا فریضہ انجام دیتے آئے ہیں۔کاش! حامیان سراواں کا یہ دعوی زبان وقلم کی بجائے دل سے نکلا ہوتا تو اس کا رنگ کچھ اور ہی ہوتا مگر افسوس انہوں نے بڑی کچی زمین پر پاؤں جمانے کی کوشش کی ہے،یہاں وہ جتنا پاؤں ماریں گے اتنا ہی دھنستے جائیں گے:
جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا، ناپائدار ہوگا
____تازہ تحریر میں کیا ہے؟
حالیہ تحریر میں ترجمان سراواں نے مولانا اسماعیل دہلوی کی کتاب تقویت الایمان کی قباحت، اہانت اور گستاخیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے:
"دہلوی سب وشتم کر رہا ہے، گالیوں پر گالیاں بک رہا ہے۔رسول کے حق میں عطائی علم غیب بھی شرک کہہ رہا ہے۔شفاعت بھی رد کر رہا ہے۔دہلوی نبی کو ہر قسم کی گالیاں دیتا ہے۔ان سے ہر اختیار چھینتا ہے۔ان کے ہر اعزاز کو شرک کہتا ہے۔وہ پوری بدتمیزی پر اترا ہوا ہے۔"
اس تبصرے کے بعد موصوف نے اپنے گروہی مزاج کے برخلاف جاتے ہوئے یہ اعلان بھی کر ڈالا ہے:
"جو بھی اس(دہلوی) کے کفر میں شک کرے گا، اس کی تک۔فیر سے بچے گا، ہم اس کی تک۔فیر کریں گے۔"
اپنے اس دعوے کے بعد حسب عادت محرر نے امام احمد رضا کے تئیں اپنی گروہی سوچ کا اظہار کرتے ہوئے اس جملے کو لکھنا ضروری سمجھا:
"ہم عظمت رسول کے سامنے ایک نہیں ہزار فاضل بریلوی قربان کر دیں گے، ہم کلمہ کسی بریلوی کا نہیں اپنے نبی کا پڑھتے ہیں۔"
یعنی گستاخیاں کرے دہلوی اور قربانی دی جائے امام احمد رضا کی، قبل ازیں کہ ہم اس جملے پر کچھ کہیں، آئیے پہلے سراوی صاحب کے اس دعوے؛
"جو دہلوی کے کفر میں شک کرے گا ہم اس کی تک۔فیر کریں گے۔"
پر قدرے تجزیاتی گفتگو کرتے ہیں۔اس دعوے کی حقیقت جاننے کے لیے دو باتیں سمجھناضروری ہیں:
1؍تقویت الایمان کے بارے میں امام احمد رضا کی رائے۔
2؍تقویت الایمان کے بارے میں علماے دیوبند کی رائے۔
ہر دو موقف کو سمجھنا اس لیے ضروری ہے تاکہ معلوم ہوجائے کہ جو تقویت الایمان اہل سراواں کے نزدیک مغلظات کا پلندہ اور مصنف نہایت بدتمیز ہے،آخر اس کتاب اور صاحب کتاب کے متعلق اہل سنت اور دیوبندی علما کے کیا نظریات ہیں؟
سب سے پہلے تقویۃ الایمان کے متعلق رامپوری صاحب کے "خدا ترس ،دین پھیلانے والے،علیہم الرحمہ" بزرگوں کے خیالات جان لیتے ہیں تاکہ قارئین پر اچھی طرح روشن ہوجائے کہ اہل سراواں کے ممدوحین تقویت الایمان جیسی کتاب کے بارے میں کیا نظریات رکھتے ہیں۔مولانا اشرف علی تھانوی تقویت الایمان کے بارے میں لکھتے ہیں:
"وہ کتاب بالکل قرآن وحدیث کے مطابق ہے۔جس شخص میں بدفہمی نہ ہو کہ نیز عنوان سے متوحش نہ ہو جائے ، اس کے درس کے قابل ہے۔جو شخص اس کتاب کو گمراہ کن اور بُرا کہتا ہے وہ قائل یا جاہل ہے یا معاند فقط۔"
دیوبند کے سرکردہ عالم مولانا رشید احمد گنگوہی تقویت الایمان کی بابت لکھتے ہیں:
"کتاب تقویت الایمان نہایت ہی عمدہ کتاب ہے اس کا رکھنا اور پڑھنا اور عمل کرنا عین اسلام ہے۔"
(فتاویٰ رشیدیہ ص351)
یہ اقتباس تو کتاب سے متعلق تھے اب لگے ہاتھوں صاحب کتاب مولوی اسمعیل دہلوی کے متعلق بھی گنگوہی صاحب کے نیک خیالات جان لیں تاکہ کوئی گوشہ باقی نہ رہ جائے، گنگوہی صاحب،دہلوی صاحب کے متعلق رقم طراز ہیں:
"مولوی اسمعیل دہلوی قطعی جنتّی ہیں۔" (فتاوٰی رشیدیہ ص252)
ان مختصر اقتباسات سے جو مفہوم سمجھ آتا ہے وہ کچھ اس طرح ہے:
🔸تقویت الایمان موافق قرآن وحدیث ہے۔
🔹نہایت بہترین کتاب ہے۔
🔸اس کارکھنا،پڑھنا عین اسلام ہے۔
🔹اس پر تنقید کرنے والا جاہل، بدفہم یا گمراہ ہے۔
🔸مصنف تقویت الایمان قطعی جنتی ہے۔
یہاں پہنچ کر صورت حال بڑی سنگین ہوجاتی ہے کہ جس کتاب کو رامپوری صاحب نے مغلظات کا پلندہ قرار دیا تھا اسی کتاب کو ان کے "خدا ترس بزرگ" موافق قرآن وحدیث بتا رہے ہیں۔جن عبارات کو رامپوری صاحب نے "گالیاں قرار دیا،انہیں عبارات کو ممدوحین سراواں باعث اجر وثواب اور عین اسلام بتارہے ہیں۔رامپوری صاحب شاہ اسماعیل دہلوی کو "نہایت بدتمیز" قرار دے رہے ہیں اور ان کے علیہم الرحمہ بزرگ دہلوی صاحب کو قطعی جنتی قرار دے چکے ہیں۔اب یہ بڑا عجیب معمہ ہے کہ
غلام مصطفےٰ نعیمی
روشن مستقبل دہلی
_____گذشتہ دنوں سراواں کے غیر اعلانیہ ترجمان صاحب نے علماے دیوبند کو شان رسالت میں "شدید نامناسب" کلمات کے استعمال کا مجرم مان کر بھی "علیہم الرحمہ" قرار دیا تھا۔اسی پر ہم نے ایک تحریر لکھ کر طبقہ سراواں سے کچھ سوال پوچھے تھے۔خانقاہ سراواں کے تئیں نرم گوشہ رکھنے والے حلقوں سے بھی یہ سوال اٹھا کہ بارگاہ رسالت میں شدید مناسب کلمات کے اعتراف کے باوجود" قائلین شدید نامناسب" کو بزرگ و ولی ماننا کون سا ایمان، کیسی غیرت اور کون سی محبت ہے؟
اب اسے جھنجھلاہٹ کہیں یا خود کو پاک صاف اور عاشق رسول دکھانے کی کوشش کہ پہلی بار اہل سراواں نے عظمت رسالت اور ناموس مصطفےٰ ﷺ کا نام لیکر اپنا چہرہ اجلا کرنے کی کوشش کی ہے ورنہ اب تک تو یہ لوگ گستاخ اور گستاخیوں کی وکالت ہی کا فریضہ انجام دیتے آئے ہیں۔کاش! حامیان سراواں کا یہ دعوی زبان وقلم کی بجائے دل سے نکلا ہوتا تو اس کا رنگ کچھ اور ہی ہوتا مگر افسوس انہوں نے بڑی کچی زمین پر پاؤں جمانے کی کوشش کی ہے،یہاں وہ جتنا پاؤں ماریں گے اتنا ہی دھنستے جائیں گے:
جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا، ناپائدار ہوگا
____تازہ تحریر میں کیا ہے؟
حالیہ تحریر میں ترجمان سراواں نے مولانا اسماعیل دہلوی کی کتاب تقویت الایمان کی قباحت، اہانت اور گستاخیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے:
"دہلوی سب وشتم کر رہا ہے، گالیوں پر گالیاں بک رہا ہے۔رسول کے حق میں عطائی علم غیب بھی شرک کہہ رہا ہے۔شفاعت بھی رد کر رہا ہے۔دہلوی نبی کو ہر قسم کی گالیاں دیتا ہے۔ان سے ہر اختیار چھینتا ہے۔ان کے ہر اعزاز کو شرک کہتا ہے۔وہ پوری بدتمیزی پر اترا ہوا ہے۔"
اس تبصرے کے بعد موصوف نے اپنے گروہی مزاج کے برخلاف جاتے ہوئے یہ اعلان بھی کر ڈالا ہے:
"جو بھی اس(دہلوی) کے کفر میں شک کرے گا، اس کی تک۔فیر سے بچے گا، ہم اس کی تک۔فیر کریں گے۔"
اپنے اس دعوے کے بعد حسب عادت محرر نے امام احمد رضا کے تئیں اپنی گروہی سوچ کا اظہار کرتے ہوئے اس جملے کو لکھنا ضروری سمجھا:
"ہم عظمت رسول کے سامنے ایک نہیں ہزار فاضل بریلوی قربان کر دیں گے، ہم کلمہ کسی بریلوی کا نہیں اپنے نبی کا پڑھتے ہیں۔"
یعنی گستاخیاں کرے دہلوی اور قربانی دی جائے امام احمد رضا کی، قبل ازیں کہ ہم اس جملے پر کچھ کہیں، آئیے پہلے سراوی صاحب کے اس دعوے؛
"جو دہلوی کے کفر میں شک کرے گا ہم اس کی تک۔فیر کریں گے۔"
پر قدرے تجزیاتی گفتگو کرتے ہیں۔اس دعوے کی حقیقت جاننے کے لیے دو باتیں سمجھناضروری ہیں:
1؍تقویت الایمان کے بارے میں امام احمد رضا کی رائے۔
2؍تقویت الایمان کے بارے میں علماے دیوبند کی رائے۔
ہر دو موقف کو سمجھنا اس لیے ضروری ہے تاکہ معلوم ہوجائے کہ جو تقویت الایمان اہل سراواں کے نزدیک مغلظات کا پلندہ اور مصنف نہایت بدتمیز ہے،آخر اس کتاب اور صاحب کتاب کے متعلق اہل سنت اور دیوبندی علما کے کیا نظریات ہیں؟
سب سے پہلے تقویۃ الایمان کے متعلق رامپوری صاحب کے "خدا ترس ،دین پھیلانے والے،علیہم الرحمہ" بزرگوں کے خیالات جان لیتے ہیں تاکہ قارئین پر اچھی طرح روشن ہوجائے کہ اہل سراواں کے ممدوحین تقویت الایمان جیسی کتاب کے بارے میں کیا نظریات رکھتے ہیں۔مولانا اشرف علی تھانوی تقویت الایمان کے بارے میں لکھتے ہیں:
"وہ کتاب بالکل قرآن وحدیث کے مطابق ہے۔جس شخص میں بدفہمی نہ ہو کہ نیز عنوان سے متوحش نہ ہو جائے ، اس کے درس کے قابل ہے۔جو شخص اس کتاب کو گمراہ کن اور بُرا کہتا ہے وہ قائل یا جاہل ہے یا معاند فقط۔"
دیوبند کے سرکردہ عالم مولانا رشید احمد گنگوہی تقویت الایمان کی بابت لکھتے ہیں:
"کتاب تقویت الایمان نہایت ہی عمدہ کتاب ہے اس کا رکھنا اور پڑھنا اور عمل کرنا عین اسلام ہے۔"
(فتاویٰ رشیدیہ ص351)
یہ اقتباس تو کتاب سے متعلق تھے اب لگے ہاتھوں صاحب کتاب مولوی اسمعیل دہلوی کے متعلق بھی گنگوہی صاحب کے نیک خیالات جان لیں تاکہ کوئی گوشہ باقی نہ رہ جائے، گنگوہی صاحب،دہلوی صاحب کے متعلق رقم طراز ہیں:
"مولوی اسمعیل دہلوی قطعی جنتّی ہیں۔" (فتاوٰی رشیدیہ ص252)
ان مختصر اقتباسات سے جو مفہوم سمجھ آتا ہے وہ کچھ اس طرح ہے:
🔸تقویت الایمان موافق قرآن وحدیث ہے۔
🔹نہایت بہترین کتاب ہے۔
🔸اس کارکھنا،پڑھنا عین اسلام ہے۔
🔹اس پر تنقید کرنے والا جاہل، بدفہم یا گمراہ ہے۔
🔸مصنف تقویت الایمان قطعی جنتی ہے۔
یہاں پہنچ کر صورت حال بڑی سنگین ہوجاتی ہے کہ جس کتاب کو رامپوری صاحب نے مغلظات کا پلندہ قرار دیا تھا اسی کتاب کو ان کے "خدا ترس بزرگ" موافق قرآن وحدیث بتا رہے ہیں۔جن عبارات کو رامپوری صاحب نے "گالیاں قرار دیا،انہیں عبارات کو ممدوحین سراواں باعث اجر وثواب اور عین اسلام بتارہے ہیں۔رامپوری صاحب شاہ اسماعیل دہلوی کو "نہایت بدتمیز" قرار دے رہے ہیں اور ان کے علیہم الرحمہ بزرگ دہلوی صاحب کو قطعی جنتی قرار دے چکے ہیں۔اب یہ بڑا عجیب معمہ ہے کہ
❤1
Forwarded from Ghulam Mustafa Naimi
ایک کتاب سراپا مغلظات بھی ہو اور وہی کتاب موافق قرآن وحدیث بھی ہو۔
ایک ہی مصنف بارگاہ رسالت میں "بدتمیز" بھی مانا جائے اور اسی کو ممدوحین سراواں قطعی جنتی کی سند بھی تھما دیں۔فیا للعجب!
ہمارے قول وعمل میں تضاد کتنا ہے
مگر یہ دل ہے کہ خوش اعتقاد کتنا ہے
سین بدلتا ہے____
تقویت الایمان کے متعلق علماے دیوبند کی رائے جاننے کے بعد امام احمد رضا کی رائے بھی جان لیں تاکہ تصویر کے دونوں رخ نگاہوں کے سامنے رہیں۔اعلیٰ حضرت تقویت الایمان اور اس کے مصنف کے بارے میں تحریر فرماتے ہیں:
"اس فرقہ منفرقہ وہابیہ اسماعیلیہ اور اس کے امام نافر جام پر جزعا قطعا یقینا اجماعا بوجہ کثیرہ کفر لازم اور بلاشبہ جماہیر فقہائے کرام واصحاب فتوی اکابر و اعلام کی صریحات واضحہ پر یہ سب کے سب مرتد کافر باجماع ائمہ ان سب پر اپنے تمام کفریات ملعونہ سے بالتصریح توبہ ورجوع اور ازسرنو کلمہ اسلام پڑھنا فرض و واجب۔"
(الکوکبۃ الشہابیہ۔صفحہ نمبر/۶۱)
صاحب کتاب کی بابت آپ تحریر فرماتے ہیں:
"بالجملہ اس طائفہ حائفہ خصوصاً ان کے پیشوا کا حال مثل یزید پلید علیہ ماعلیہ ہے۔" (جلد ۱۵؍۲۳۵ سافٹ وئیر)
دوسری جگہ لکھتے ہیں:
"اگر اس کی ضلالت وگمراہی پر آگاہ ہوکر اسے اہل حق جانتا ہو تو خود اسی کی مثل گمراہ وبد دین ہے۔"
(فتاوی رضویہ جلد ۳؍۱۸۹ مطبوعہ رضا اکیڈمی)
معزز قارئین!
اب آپ ذرا دیکھیں نظریں بدلتی ہیں تو نظارہ کیسے بدلتا ہے۔تقویت الایمان کی "گالیوں" کو موافق قرآن وحدیث اور عین اسلام بتانے والے عناصر اربعہ پر ترجمان سراواں کے منہ سے ایک لفظ نہیں نکلا لیکن جس امام احمد رضا نے دہلوی کو گمراہ،کافر فقہی (کافر فقہی سمجھ نہ آئے تو علامہ طارق انور مصباحی کی علمی تحریر "رد فرقہ بجنوریہ" کی قسطیں پڑھ لیں،معلومات ہوجائے گی) اور مثل یزید پلید قرار دیا۔اس کی پیروی کرنے والوں کو گمراہ وبد دین لکھا،اس کی کتاب کو کفر وگمراہی کا مجموعہ قرار دیا ،ترجمان سراواں ان کی اور ان جیسے ہزاروں علما کی قربانی دینے کی بات کرتے ہیں۔
سنو ترجمان سراواں!
قربانی ہمیشہ اپنی چیز کی ہوتی ہے پرائی چیز کی نہیں، امام احمد رضا سراواں وگنگوہ کی میراث نہیں کہ تم ان کی قربانی کا خیال بھی لاؤ۔امام احمد رضا دنیاے اسلام کے کروڑوں عاشقان رسالت کے دلوں کی دھڑکن ہیں۔اس کھرے سونے پر کوئی ایرا غیرا نگاہ ڈالنے کی کوشش نہ کرے۔قربانی دینی ہے تو اپنے قبیلے ہی سے تلاش کرو۔تھانوی صاحب کو لاؤ یا گنگوہی صاحب کی گردن پر کارد تکفیر چلاؤ۔اگر حق پسند ہو تقویت الایمان کی "گالیوں" کو موافق قرآن وسنت کہنے والے تھانوی صاحب کی تکفیر کرکے دکھاؤ؟
اگر انصاف کی ذرا بھی رمق باقی ہے تو "نہایت بدتمیز" مصنف کو قطعی جنتی لکھنے والے گنگوہی صاحب پر فتوی تکفیر جاری کرکے دکھاؤ؟
لیکن ہم جانتے ہیں کہ تم اور تمہارا پورا قبیلہ مر کر مٹی میں مل جائے گا لیکن عناصر دیابنہ کے ان اقتباسات پر ایک لفظ نہیں لکھ پائے گا۔ جن عناصر کو تم لوگوں نے "خدا ترس اور علیہم الرحمہ" بنا لیا ہے تم لوگ ان کی تکفیر تو کجا ایک لفظ لکھنے کی ہمت تک نہیں جٹا سکتے۔
اخیراً ہم طبقہ سراواں کو ان کے "خدا ترس اور دین پھیلانے والے بزرگ" جناب گنگوہی صاحب کی زبانی کچھ یاد دہانی کرا دیتے ہیں تاکہ آئندہ اگر رامپوری صاحب تقویت الایمان کی بابت کچھ لکھیں تو اپنے ممدوح کی یہ عبارت اچھی طرح یاد رکھیں:
"جو تقویۃالایمان کو کفر اور مولوی اسمعیل کو کافر کہے وہ خود کافر اور شیطان ملعون ہے۔"
(فتاوٰی رشید یہ ص252،356)
اب اہل سراواں شیطان ملعون کہنے کا الزام ہمیں نہ دیں کہ یہ تحفہ آپ ہی قبیلے کے "بزرگ عالم" نے بھیجا ہے۔ہمارے امام نے تقویت الایمان کو تفویت الایمان لکھ کر ہمیں سب کچھ بتا دیا ہے۔
۱۵؍جمادی الاولیٰ ۱۴۴۴ھ
۱۰؍دسمبر ۲۰۲۲ بروز ہفتہ
ایک ہی مصنف بارگاہ رسالت میں "بدتمیز" بھی مانا جائے اور اسی کو ممدوحین سراواں قطعی جنتی کی سند بھی تھما دیں۔فیا للعجب!
ہمارے قول وعمل میں تضاد کتنا ہے
مگر یہ دل ہے کہ خوش اعتقاد کتنا ہے
سین بدلتا ہے____
تقویت الایمان کے متعلق علماے دیوبند کی رائے جاننے کے بعد امام احمد رضا کی رائے بھی جان لیں تاکہ تصویر کے دونوں رخ نگاہوں کے سامنے رہیں۔اعلیٰ حضرت تقویت الایمان اور اس کے مصنف کے بارے میں تحریر فرماتے ہیں:
"اس فرقہ منفرقہ وہابیہ اسماعیلیہ اور اس کے امام نافر جام پر جزعا قطعا یقینا اجماعا بوجہ کثیرہ کفر لازم اور بلاشبہ جماہیر فقہائے کرام واصحاب فتوی اکابر و اعلام کی صریحات واضحہ پر یہ سب کے سب مرتد کافر باجماع ائمہ ان سب پر اپنے تمام کفریات ملعونہ سے بالتصریح توبہ ورجوع اور ازسرنو کلمہ اسلام پڑھنا فرض و واجب۔"
(الکوکبۃ الشہابیہ۔صفحہ نمبر/۶۱)
صاحب کتاب کی بابت آپ تحریر فرماتے ہیں:
"بالجملہ اس طائفہ حائفہ خصوصاً ان کے پیشوا کا حال مثل یزید پلید علیہ ماعلیہ ہے۔" (جلد ۱۵؍۲۳۵ سافٹ وئیر)
دوسری جگہ لکھتے ہیں:
"اگر اس کی ضلالت وگمراہی پر آگاہ ہوکر اسے اہل حق جانتا ہو تو خود اسی کی مثل گمراہ وبد دین ہے۔"
(فتاوی رضویہ جلد ۳؍۱۸۹ مطبوعہ رضا اکیڈمی)
معزز قارئین!
اب آپ ذرا دیکھیں نظریں بدلتی ہیں تو نظارہ کیسے بدلتا ہے۔تقویت الایمان کی "گالیوں" کو موافق قرآن وحدیث اور عین اسلام بتانے والے عناصر اربعہ پر ترجمان سراواں کے منہ سے ایک لفظ نہیں نکلا لیکن جس امام احمد رضا نے دہلوی کو گمراہ،کافر فقہی (کافر فقہی سمجھ نہ آئے تو علامہ طارق انور مصباحی کی علمی تحریر "رد فرقہ بجنوریہ" کی قسطیں پڑھ لیں،معلومات ہوجائے گی) اور مثل یزید پلید قرار دیا۔اس کی پیروی کرنے والوں کو گمراہ وبد دین لکھا،اس کی کتاب کو کفر وگمراہی کا مجموعہ قرار دیا ،ترجمان سراواں ان کی اور ان جیسے ہزاروں علما کی قربانی دینے کی بات کرتے ہیں۔
سنو ترجمان سراواں!
قربانی ہمیشہ اپنی چیز کی ہوتی ہے پرائی چیز کی نہیں، امام احمد رضا سراواں وگنگوہ کی میراث نہیں کہ تم ان کی قربانی کا خیال بھی لاؤ۔امام احمد رضا دنیاے اسلام کے کروڑوں عاشقان رسالت کے دلوں کی دھڑکن ہیں۔اس کھرے سونے پر کوئی ایرا غیرا نگاہ ڈالنے کی کوشش نہ کرے۔قربانی دینی ہے تو اپنے قبیلے ہی سے تلاش کرو۔تھانوی صاحب کو لاؤ یا گنگوہی صاحب کی گردن پر کارد تکفیر چلاؤ۔اگر حق پسند ہو تقویت الایمان کی "گالیوں" کو موافق قرآن وسنت کہنے والے تھانوی صاحب کی تکفیر کرکے دکھاؤ؟
اگر انصاف کی ذرا بھی رمق باقی ہے تو "نہایت بدتمیز" مصنف کو قطعی جنتی لکھنے والے گنگوہی صاحب پر فتوی تکفیر جاری کرکے دکھاؤ؟
لیکن ہم جانتے ہیں کہ تم اور تمہارا پورا قبیلہ مر کر مٹی میں مل جائے گا لیکن عناصر دیابنہ کے ان اقتباسات پر ایک لفظ نہیں لکھ پائے گا۔ جن عناصر کو تم لوگوں نے "خدا ترس اور علیہم الرحمہ" بنا لیا ہے تم لوگ ان کی تکفیر تو کجا ایک لفظ لکھنے کی ہمت تک نہیں جٹا سکتے۔
اخیراً ہم طبقہ سراواں کو ان کے "خدا ترس اور دین پھیلانے والے بزرگ" جناب گنگوہی صاحب کی زبانی کچھ یاد دہانی کرا دیتے ہیں تاکہ آئندہ اگر رامپوری صاحب تقویت الایمان کی بابت کچھ لکھیں تو اپنے ممدوح کی یہ عبارت اچھی طرح یاد رکھیں:
"جو تقویۃالایمان کو کفر اور مولوی اسمعیل کو کافر کہے وہ خود کافر اور شیطان ملعون ہے۔"
(فتاوٰی رشید یہ ص252،356)
اب اہل سراواں شیطان ملعون کہنے کا الزام ہمیں نہ دیں کہ یہ تحفہ آپ ہی قبیلے کے "بزرگ عالم" نے بھیجا ہے۔ہمارے امام نے تقویت الایمان کو تفویت الایمان لکھ کر ہمیں سب کچھ بتا دیا ہے۔
۱۵؍جمادی الاولیٰ ۱۴۴۴ھ
۱۰؍دسمبر ۲۰۲۲ بروز ہفتہ
❤1
Forwarded from Ghulam Mustafa Naimi
سراواں کے متضاد سُر: ایک جائزہ__
غلام مصطفےٰ نعیمی
روشن مستقبل دہلی
کسی بھی فکر اور دعوے میں پختگی اور یکسانیت اس وقت ہوتی ہے جب بندہ مخلص اور مقصد نیک ہو۔لیکن جب مقصد ہی خلاف خیر ہو تو فکر وعمل میں ناپائداری اور تضاد کا آنا فطری بات ہے، خلوص تو ایسے مقام پر سرے ہی سے معدوم ہوتا ہے۔وابستگان سراواں اِن دنوں اسی شش وپنج کے آزار میں مبتلا ہیں۔حالیہ دنوں میں وابستگان سراواں نے تک۔فیر دیابنہ کا موضوع اٹھا رکھا ہے۔ جاروب کشان سراواں مختلف جہتوں سے علماے دیوبند کی شدید گستاخانہ عبارتوں کو ہلکا کرنے کی کوششوں میں دل وجان سے مصروف ہیں۔لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ اس عنوان پر اُن کے سُر ایک دوسرے اور خود اپنے آپ ہی سے یکسر متضاد و مختلف ہیں۔اس تحریر میں ہم ان کے انہیں تضادات کو پیش کرتے ہیں تاکہ اہل علم پر اچھی طرح ظاہر ہوجائے کہ جن حضرات کا فکری قبلہ ہر دوسری تحریر میں تبدیل ہوجاتا ہو وہ کس قدر سنجیدہ اور بالغ نظر ہیں۔
دعوے اور صفائی____
اپنی گذشتہ تحریرات میں ترجمان سراواں نے لکھا تھا:
"علماے دیوبند خدا ترس دین دار،علیھم الرحمہ ہیں۔"
"جو [دہلوی] کی تکفیر سے بچے گا ہم اس کی تک۔فیر کریں گے۔"
اس طرح طبقہ سراواں نے اپنے نظریات کا کھل کر اعلان کرتے ہوئے دو بنیادی دعوے کیےتھے:
1؍ اسماعیل قطعی یقینی گستاخ ہے کہ جو اس کی تکفیر نہ کرے اسے کافر کہا جائے گا۔
2؍ علماے دیوبند شان رسالت میں شدید نامناسب کلمات کے باوجود
"علیہم الرحمہ" ہیں۔
انہیں دعوؤں پر نقد کرتے ہوئے ہم نے لکھا تھا:
1؍یہ کون سا عشق ہے کہ شان رسالت میں "شدید نامناسب کلمات" کے قائلین کو بھی بزرگ اور ولی مانتا ہے۔
2؍آپ اسماعیل دہلوی کو کافر [کلامی] مانتے ہیں اور اسے کافر [فقہی] ماننے والے امام احمد رضا کی تکفیر تک پر اڑے ہوئے ہیں تو دہلوی کو قطعی جنتی کہنے والے علماے دیوبند آپ کے محبوب ومحترم کس طرح بنے ہوئے ہیں؟
اگر اپنے دعوے میں سچے ہیں تو دہلوی کو قطعی جنتی کہنے والے علماے دیوبند پر تمہاری زبان وقلم کیوں خاموش ہے؟
ترجمان صاحب نے جواب برائے جواب لکھتے ہوئے بڑی عجیب بات لکھی کہ وہ دعوی ہم نے الزاماً کیا تھا،یعنی حقیقت میں ایسا نہیں ہے،اس لنگ جواب سے صرف نظر کر بھی لیا جائے تو بنیادی سوال اپنی جگہ برقرار ہے کہ؛
دہلوی کو مثل یزید اور کافر فقہی لکھنے والے امام احمد رضا پر وابستگان سراواں شمشیر تک۔فیر نکالے بیٹھے ہیں جب کہ اسی دہلوی کو قطعی جنتی اور اس کی "گالیوں" کو موافق قرآن وحدیث لکھنے والے عناصر دیوبند پر ان کے منہ سے ایک لفظ تک نہیں نکلتا؟
شیدید نامناسب کلمات کے اعتراف کے باوجود ان کی مذمت کی بجائے انہیں "خدا ترس اور علیہم الرحمہ" کہنا آخر کس صوفی کا نظریہ ہے؟
کیا شیخ سراواں اور ان کے وابستگان علمی وفکری اعتبار سے اتنے یتیم اور مفلوج ہوچکے ہیں کہ شان رسالت میں شدید نامناسب کلمات اور ان کے قائلین کی رسمی مذمت اور تنبیہ بھی نہ کر سکیں؟
کیا حرمت رسالت کی پاس بانی کے لیے ان کے ذخیرہ الفاظ میں مذمت وتنبیہ کا ایک لفظ تک نہیں بچا؟
شیخ سراواں کی شان میں ذرا سی تنقید پر تمامی جاروب کش تیر وتفنگ لیکر نکل پڑتے ہیں۔لیکن شان رسالت مأبﷺ کی شدید نامناسب تنقیص پر رسمی مذمت وتنبیہ سے بھی پہلوتہی!
ہے فکر تجھے اپنوں کی،ناموس کی ان کے فکر نہیں
کل کیسے منہ دکھلائے گا جو آج توان کا بن نہ سکا
سراوی تضادات کے نمونے___
تکفیر دیابنہ کے متعلق وابستگان سراواں کے اب تک مختلف دعوے سامنے آچکے ہیں۔آگے بڑھنے سے پہلے ان کے دعوؤں پر ایک نگاہ ڈال لیں تاکہ حقائق سمجھنے میں آسانی رہے۔
🔹شیخ سراوں صوفی احسان اللہ صاحب دیوبند کے عناصر اربعہ کی نام زد تک۔فیر کر چکے ہیں۔(بھلے ہی دب کر کی ہے)
🔸شیخ سراواں کے غیر اعلانیہ ترجمان اُنہیں عناصر اربعہ کو "خدا ترس، دین دار، علیہم الرحمہ" کہہ کر اپنا بزرگ ماننے کا اعلان کر چکے ہیں۔
🔹ترجمان صاحب کی حالیہ تحریر کے مطابق: "ان [امام احمد رضا] کا مولانا دہلوی [کے کفر کلامی] پر سکوت قابل تحسین ہے۔"
🔸جب کہ سراواں کے ڈاکٹر اِن ویٹنگ کے مطابق دہلوی پر سکوت حماقت ومنافقت ہے۔
🔹ترجمان صاحب کے مطابق: "شاہ اسماعیل دہلوی ہوں یا اکابر دیوبند، ان کی تکفیریں فقہی ہیں۔"
🔸لیکن ڈاکٹر اِن ویٹنگ کے نزدیک دہلوی کی تکفیر کلامی ہے کہ جو اس کے کفر [کلامی ] پر سکوت کرے وہ بھی مثل دہلوی [کافر] ہے۔
یہ وہ دعاوی ہیں جو شیخ سراواں اور ان سے گہری وابستگی رکھنے اور ان کی ترجمانی کرنے والے افراد کی جانب سے سامنے آئے ہیں۔شیخ سراواں کو درست ماننے کی صورت میں ترجمان صاحب کے بزرگ کفر کی بھینٹ چڑھےجاتے ہیں اور ترجمان کو درست مانا جائے تو شیخ کے تسلیم شدہ کافروں کو بزرگ ماننے کا عجوبہ وجود میں آتا ہے۔اسی طرح ترجمان صاحب اور داکٹر اِن ویٹنگ کے دعوؤں کے مابین بھی بڑا تضاد ہے، ترجمان کے نزدیک دہلوی کے کفر [کلامی] پر سکوت قابل تحسین ہے تو انتظاری ڈاکٹر کے نزدیک سکوت حماقت
غلام مصطفےٰ نعیمی
روشن مستقبل دہلی
کسی بھی فکر اور دعوے میں پختگی اور یکسانیت اس وقت ہوتی ہے جب بندہ مخلص اور مقصد نیک ہو۔لیکن جب مقصد ہی خلاف خیر ہو تو فکر وعمل میں ناپائداری اور تضاد کا آنا فطری بات ہے، خلوص تو ایسے مقام پر سرے ہی سے معدوم ہوتا ہے۔وابستگان سراواں اِن دنوں اسی شش وپنج کے آزار میں مبتلا ہیں۔حالیہ دنوں میں وابستگان سراواں نے تک۔فیر دیابنہ کا موضوع اٹھا رکھا ہے۔ جاروب کشان سراواں مختلف جہتوں سے علماے دیوبند کی شدید گستاخانہ عبارتوں کو ہلکا کرنے کی کوششوں میں دل وجان سے مصروف ہیں۔لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ اس عنوان پر اُن کے سُر ایک دوسرے اور خود اپنے آپ ہی سے یکسر متضاد و مختلف ہیں۔اس تحریر میں ہم ان کے انہیں تضادات کو پیش کرتے ہیں تاکہ اہل علم پر اچھی طرح ظاہر ہوجائے کہ جن حضرات کا فکری قبلہ ہر دوسری تحریر میں تبدیل ہوجاتا ہو وہ کس قدر سنجیدہ اور بالغ نظر ہیں۔
دعوے اور صفائی____
اپنی گذشتہ تحریرات میں ترجمان سراواں نے لکھا تھا:
"علماے دیوبند خدا ترس دین دار،علیھم الرحمہ ہیں۔"
"جو [دہلوی] کی تکفیر سے بچے گا ہم اس کی تک۔فیر کریں گے۔"
اس طرح طبقہ سراواں نے اپنے نظریات کا کھل کر اعلان کرتے ہوئے دو بنیادی دعوے کیےتھے:
1؍ اسماعیل قطعی یقینی گستاخ ہے کہ جو اس کی تکفیر نہ کرے اسے کافر کہا جائے گا۔
2؍ علماے دیوبند شان رسالت میں شدید نامناسب کلمات کے باوجود
"علیہم الرحمہ" ہیں۔
انہیں دعوؤں پر نقد کرتے ہوئے ہم نے لکھا تھا:
1؍یہ کون سا عشق ہے کہ شان رسالت میں "شدید نامناسب کلمات" کے قائلین کو بھی بزرگ اور ولی مانتا ہے۔
2؍آپ اسماعیل دہلوی کو کافر [کلامی] مانتے ہیں اور اسے کافر [فقہی] ماننے والے امام احمد رضا کی تکفیر تک پر اڑے ہوئے ہیں تو دہلوی کو قطعی جنتی کہنے والے علماے دیوبند آپ کے محبوب ومحترم کس طرح بنے ہوئے ہیں؟
اگر اپنے دعوے میں سچے ہیں تو دہلوی کو قطعی جنتی کہنے والے علماے دیوبند پر تمہاری زبان وقلم کیوں خاموش ہے؟
ترجمان صاحب نے جواب برائے جواب لکھتے ہوئے بڑی عجیب بات لکھی کہ وہ دعوی ہم نے الزاماً کیا تھا،یعنی حقیقت میں ایسا نہیں ہے،اس لنگ جواب سے صرف نظر کر بھی لیا جائے تو بنیادی سوال اپنی جگہ برقرار ہے کہ؛
دہلوی کو مثل یزید اور کافر فقہی لکھنے والے امام احمد رضا پر وابستگان سراواں شمشیر تک۔فیر نکالے بیٹھے ہیں جب کہ اسی دہلوی کو قطعی جنتی اور اس کی "گالیوں" کو موافق قرآن وحدیث لکھنے والے عناصر دیوبند پر ان کے منہ سے ایک لفظ تک نہیں نکلتا؟
شیدید نامناسب کلمات کے اعتراف کے باوجود ان کی مذمت کی بجائے انہیں "خدا ترس اور علیہم الرحمہ" کہنا آخر کس صوفی کا نظریہ ہے؟
کیا شیخ سراواں اور ان کے وابستگان علمی وفکری اعتبار سے اتنے یتیم اور مفلوج ہوچکے ہیں کہ شان رسالت میں شدید نامناسب کلمات اور ان کے قائلین کی رسمی مذمت اور تنبیہ بھی نہ کر سکیں؟
کیا حرمت رسالت کی پاس بانی کے لیے ان کے ذخیرہ الفاظ میں مذمت وتنبیہ کا ایک لفظ تک نہیں بچا؟
شیخ سراواں کی شان میں ذرا سی تنقید پر تمامی جاروب کش تیر وتفنگ لیکر نکل پڑتے ہیں۔لیکن شان رسالت مأبﷺ کی شدید نامناسب تنقیص پر رسمی مذمت وتنبیہ سے بھی پہلوتہی!
ہے فکر تجھے اپنوں کی،ناموس کی ان کے فکر نہیں
کل کیسے منہ دکھلائے گا جو آج توان کا بن نہ سکا
سراوی تضادات کے نمونے___
تکفیر دیابنہ کے متعلق وابستگان سراواں کے اب تک مختلف دعوے سامنے آچکے ہیں۔آگے بڑھنے سے پہلے ان کے دعوؤں پر ایک نگاہ ڈال لیں تاکہ حقائق سمجھنے میں آسانی رہے۔
🔹شیخ سراوں صوفی احسان اللہ صاحب دیوبند کے عناصر اربعہ کی نام زد تک۔فیر کر چکے ہیں۔(بھلے ہی دب کر کی ہے)
🔸شیخ سراواں کے غیر اعلانیہ ترجمان اُنہیں عناصر اربعہ کو "خدا ترس، دین دار، علیہم الرحمہ" کہہ کر اپنا بزرگ ماننے کا اعلان کر چکے ہیں۔
🔹ترجمان صاحب کی حالیہ تحریر کے مطابق: "ان [امام احمد رضا] کا مولانا دہلوی [کے کفر کلامی] پر سکوت قابل تحسین ہے۔"
🔸جب کہ سراواں کے ڈاکٹر اِن ویٹنگ کے مطابق دہلوی پر سکوت حماقت ومنافقت ہے۔
🔹ترجمان صاحب کے مطابق: "شاہ اسماعیل دہلوی ہوں یا اکابر دیوبند، ان کی تکفیریں فقہی ہیں۔"
🔸لیکن ڈاکٹر اِن ویٹنگ کے نزدیک دہلوی کی تکفیر کلامی ہے کہ جو اس کے کفر [کلامی ] پر سکوت کرے وہ بھی مثل دہلوی [کافر] ہے۔
یہ وہ دعاوی ہیں جو شیخ سراواں اور ان سے گہری وابستگی رکھنے اور ان کی ترجمانی کرنے والے افراد کی جانب سے سامنے آئے ہیں۔شیخ سراواں کو درست ماننے کی صورت میں ترجمان صاحب کے بزرگ کفر کی بھینٹ چڑھےجاتے ہیں اور ترجمان کو درست مانا جائے تو شیخ کے تسلیم شدہ کافروں کو بزرگ ماننے کا عجوبہ وجود میں آتا ہے۔اسی طرح ترجمان صاحب اور داکٹر اِن ویٹنگ کے دعوؤں کے مابین بھی بڑا تضاد ہے، ترجمان کے نزدیک دہلوی کے کفر [کلامی] پر سکوت قابل تحسین ہے تو انتظاری ڈاکٹر کے نزدیک سکوت حماقت
❤2
Forwarded from Ghulam Mustafa Naimi
ومنافقت ہے۔اب یہاں پہنچ کر دو ہی صورتیں بنتی ہیں یا تو ڈاکٹر اِن ویٹنگ کی عقل پر سکوت برتا جائے یا ترجمان صاحب کو منافق واحمق سمجھا جائے۔ترجمان صاحب ہمیں اس پر الزام نہ دیں ہم ان لفظوں اور ان کے اطلاق سے بالکل بری ہیں یہ تو انہیں کے قبیلے کا تحفہ ہے۔
چلتے چلتے___
اپنی تحریر کے اختتام پر ترجمان صاحب نے عناصر دیوبند سے لگاؤ اور اپنی طبیعت پر اپنے پیرو مرشد کا اثر بیان کرتے ہوئے لکھا ہے:
"تکفیر اکابر دیوبند کا پورا پروسیز جو فاضل بریلوی نے اختیار کیا،اس پر جب جب غور کرتا ہوں ذاتی طور پر سخت مایوس ہوتا ہوں،فی الواقع اس مرحلے پر میرے مرشد گرامی کی رہنمائی نہ ہوتی تو فاضل بریلوی سے متعلق نقطہ نظر غلبہ عشق کا نہ ہوکر بہت سخت ہوتا۔"
موصوف کے اس اقتباس سے چند باتیں ظاہر ہوتی ہیں:
1؍اکابر دیوبند کا تکفیری پروسیز درست نہیں ہے۔
2؍جس سے ذاتی طور پر ترجمان صاحب سخت مایوس ہیں۔
3؍مرشد کی رہنمائی نے روک رکھا ہے ورنہ اعلیٰ حضرت کے تئیں نظریہ بڑا سخت ہوتا۔
موصوف کے اقتباس سے ماخوذ ان نکات پر چند باتیں ہم بھی پیش کرتے ہیں شاید سمجھ میں آجائیں:
🔸 عناصر دیوبند کا تکفیری پروسیز کسی کو سمجھائیں نہ سمجھائیں لیکن اپنے مرشد گرامی کو ضرور سمجھا دیں تاکہ ان کا جرم تکفیر بھی معاف ہو جائے اور دب کر تصدیق کرنے کا داغ بھی دھل جائے۔
🔹ذاتی مایوسی اور شکوہ وہاں لائق توجہ ہوتا ہے جہاں انسان مؤدب، متواضع اور مثبت فکر ونظر کا حامل ہو۔آنجناب کے اب تک تمام کاموں میں زیادہ تر وقت اکابرین کی کردار کشی، بدزبانی، بھونڈی تعبیرات، حیثیت عرفی کا انکار، صلح سے فرار اور مسلسل اختلاف وانتشار ہی میں گزرا ہے۔اگر ایسا شخص کسی نمائندہ شخصیت سے مایوس ہوتا ہے تو اس کا نوٹس بھلا کون لے اور کیوں لے؟
🔸اپنےدادا استاذ حضور حافظ علیہ الرحمہ کو آپ بھی تسلیم کرتے ہیں (بھلے ہی دب کر اور دکھاوے کے لیے) انہیں اس پروسیز پر کامل اطمینان تھا،جہاں اطمینان کرنے والے حافظ ملت جیسے افراد ہوں وہاں آپ جیسوں کی مایوسی صرف انا پرستی اور اکابر بیزاری ہے اس کے سوا کچھ بھی نہیں!
🔹ترجمان صاحب کے مرشد کی رہنمائی بھی خوب ہے جس نے انہیں فاضل بریلوی پر سخت نظریہ اختیار کرنے سے روک دیا۔(حالانکہ یہ بھی محض ہوائی دعوی ہے موصوف امام احمد رضا اور اکابرین اہل سنت پر انتہائی بدزبانی کا مظاہرہ کر چکے ہیں اور اب بھی تنقید بے جا سے باز نہیں آئے ہیں) لیکن انہیں کے دیگر معتقدین شبانہ روز امام احمد رضا کی شان میں غلیظ ترین باتیں لکھتے ہیں اور ان کی حیثیت عرفی کو لگاتار مجروح کرتے ہیں۔آخر رہنمائی کا یہ کون سا حصہ ہے کہ ایک طرف روکنے کا دعوی دوسری جانب گالی بازوں کا تقرر اور حوصلہ افزائی!
موصوف نے ہمیں مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے:
"ایک مومن کے لیے یہ قطعی عقیدہ بنا لینا کہ اگر اسے کافر نہ مانا تو خود کافر ہو جاؤ گے نہایت متوحش عقیدہ ہے۔"
سراواں کی سادگی بھی بڑی پر فریب ہوتی ہے، کتنی معصومیت کے ساتھ "مومن" کو کافر بنانے کا الزام دے کر گزارش کا لہجہ اپنا لیتے ہیں تاکہ سامنے والا ان کی ہم دردی اور انکساری کا قائل ہوجائے۔
ارے میاں! مومن کو جاہل سے جاہل مومن بھی کافر نہیں کہتا چہ جائے کہ کوئی فقیہ وعالم اسے کافر قرار دے، ہاں جب کوئی آوارہ مزاج شان رسالت مأب ﷺمیں گستاخی کا مرتکب ہوتا ہے تو اتمام حجت کے بعد حکم شرع بیان کیا جاتا ہے۔آپ عناصر اربعہ کی ماقبل گستاخی زندگی دیکھ کر 'شدید نامناسب' کلمات تک کو ہلکا کرنے کی جسارت کر رہے ہیں، کل مرزا قادیانی کے دعوئ نبوت سے قبل کے کاموں کو اس کی گستاخیوں کے لیے ڈھال نہ بنا لینا۔
اگر مشورہ دینا ہی ہے تو اپنے ڈاکٹر اِن ویٹنگ کو دیجئے جو بیچارہ آپ کے ممدوحین کے "قطعی جنتی مجاہد" کو گستاخ رسول کہہ کر خود بھی 'متوحش' بنا ہوا ہے اور آپ کے قبیلے کو بھی 'متوحش' بنا رہا ہے۔
(مَن شک پر کنفیوزن دور کرنے کے لیے برادر کبیر علامہ طارق انور مصباحی کے رسالے "تکفیر فقہی میں مَن شَک کا استعمال" مطالعہ کریں۔ابحاث سمجھ نہ آئیں تو ان سے براہ راست سمجھ لیں کنفیوزن دور ہوجائے گا ان شاء اللہ۔)
٢٦ جمادی الاولی ١٤٤٤ھ
21 دسمبر 2022 بروز بدھ
چلتے چلتے___
اپنی تحریر کے اختتام پر ترجمان صاحب نے عناصر دیوبند سے لگاؤ اور اپنی طبیعت پر اپنے پیرو مرشد کا اثر بیان کرتے ہوئے لکھا ہے:
"تکفیر اکابر دیوبند کا پورا پروسیز جو فاضل بریلوی نے اختیار کیا،اس پر جب جب غور کرتا ہوں ذاتی طور پر سخت مایوس ہوتا ہوں،فی الواقع اس مرحلے پر میرے مرشد گرامی کی رہنمائی نہ ہوتی تو فاضل بریلوی سے متعلق نقطہ نظر غلبہ عشق کا نہ ہوکر بہت سخت ہوتا۔"
موصوف کے اس اقتباس سے چند باتیں ظاہر ہوتی ہیں:
1؍اکابر دیوبند کا تکفیری پروسیز درست نہیں ہے۔
2؍جس سے ذاتی طور پر ترجمان صاحب سخت مایوس ہیں۔
3؍مرشد کی رہنمائی نے روک رکھا ہے ورنہ اعلیٰ حضرت کے تئیں نظریہ بڑا سخت ہوتا۔
موصوف کے اقتباس سے ماخوذ ان نکات پر چند باتیں ہم بھی پیش کرتے ہیں شاید سمجھ میں آجائیں:
🔸 عناصر دیوبند کا تکفیری پروسیز کسی کو سمجھائیں نہ سمجھائیں لیکن اپنے مرشد گرامی کو ضرور سمجھا دیں تاکہ ان کا جرم تکفیر بھی معاف ہو جائے اور دب کر تصدیق کرنے کا داغ بھی دھل جائے۔
🔹ذاتی مایوسی اور شکوہ وہاں لائق توجہ ہوتا ہے جہاں انسان مؤدب، متواضع اور مثبت فکر ونظر کا حامل ہو۔آنجناب کے اب تک تمام کاموں میں زیادہ تر وقت اکابرین کی کردار کشی، بدزبانی، بھونڈی تعبیرات، حیثیت عرفی کا انکار، صلح سے فرار اور مسلسل اختلاف وانتشار ہی میں گزرا ہے۔اگر ایسا شخص کسی نمائندہ شخصیت سے مایوس ہوتا ہے تو اس کا نوٹس بھلا کون لے اور کیوں لے؟
🔸اپنےدادا استاذ حضور حافظ علیہ الرحمہ کو آپ بھی تسلیم کرتے ہیں (بھلے ہی دب کر اور دکھاوے کے لیے) انہیں اس پروسیز پر کامل اطمینان تھا،جہاں اطمینان کرنے والے حافظ ملت جیسے افراد ہوں وہاں آپ جیسوں کی مایوسی صرف انا پرستی اور اکابر بیزاری ہے اس کے سوا کچھ بھی نہیں!
🔹ترجمان صاحب کے مرشد کی رہنمائی بھی خوب ہے جس نے انہیں فاضل بریلوی پر سخت نظریہ اختیار کرنے سے روک دیا۔(حالانکہ یہ بھی محض ہوائی دعوی ہے موصوف امام احمد رضا اور اکابرین اہل سنت پر انتہائی بدزبانی کا مظاہرہ کر چکے ہیں اور اب بھی تنقید بے جا سے باز نہیں آئے ہیں) لیکن انہیں کے دیگر معتقدین شبانہ روز امام احمد رضا کی شان میں غلیظ ترین باتیں لکھتے ہیں اور ان کی حیثیت عرفی کو لگاتار مجروح کرتے ہیں۔آخر رہنمائی کا یہ کون سا حصہ ہے کہ ایک طرف روکنے کا دعوی دوسری جانب گالی بازوں کا تقرر اور حوصلہ افزائی!
موصوف نے ہمیں مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے:
"ایک مومن کے لیے یہ قطعی عقیدہ بنا لینا کہ اگر اسے کافر نہ مانا تو خود کافر ہو جاؤ گے نہایت متوحش عقیدہ ہے۔"
سراواں کی سادگی بھی بڑی پر فریب ہوتی ہے، کتنی معصومیت کے ساتھ "مومن" کو کافر بنانے کا الزام دے کر گزارش کا لہجہ اپنا لیتے ہیں تاکہ سامنے والا ان کی ہم دردی اور انکساری کا قائل ہوجائے۔
ارے میاں! مومن کو جاہل سے جاہل مومن بھی کافر نہیں کہتا چہ جائے کہ کوئی فقیہ وعالم اسے کافر قرار دے، ہاں جب کوئی آوارہ مزاج شان رسالت مأب ﷺمیں گستاخی کا مرتکب ہوتا ہے تو اتمام حجت کے بعد حکم شرع بیان کیا جاتا ہے۔آپ عناصر اربعہ کی ماقبل گستاخی زندگی دیکھ کر 'شدید نامناسب' کلمات تک کو ہلکا کرنے کی جسارت کر رہے ہیں، کل مرزا قادیانی کے دعوئ نبوت سے قبل کے کاموں کو اس کی گستاخیوں کے لیے ڈھال نہ بنا لینا۔
اگر مشورہ دینا ہی ہے تو اپنے ڈاکٹر اِن ویٹنگ کو دیجئے جو بیچارہ آپ کے ممدوحین کے "قطعی جنتی مجاہد" کو گستاخ رسول کہہ کر خود بھی 'متوحش' بنا ہوا ہے اور آپ کے قبیلے کو بھی 'متوحش' بنا رہا ہے۔
(مَن شک پر کنفیوزن دور کرنے کے لیے برادر کبیر علامہ طارق انور مصباحی کے رسالے "تکفیر فقہی میں مَن شَک کا استعمال" مطالعہ کریں۔ابحاث سمجھ نہ آئیں تو ان سے براہ راست سمجھ لیں کنفیوزن دور ہوجائے گا ان شاء اللہ۔)
٢٦ جمادی الاولی ١٤٤٤ھ
21 دسمبر 2022 بروز بدھ
❤1
Forwarded from Ghulam Mustafa Naimi
خانقاہ سراواں کی سنیمائی تاویلات :ایک جائزہ
غلام مصطفیٰ نعیمی gmnaimi@gmail.com
(مدیر اعلیٰ سواد اعظم دہلی)
خانقاہ سراواں کی سنیما پروری کی نقاب کشائی پر مبنی ہماری تحریر"خانقاہ سراواں : سماع سے سنیما تک" پر وابستگان خانقاہ نے عادت کے مطابق رجوع کی بجائے تاویلات کا راستہ اختیار کیا.
پہلا جواب براہ راست خانقاہ کے ذمہ داران کی جانب سے لکھا گیا... دوسرا جواب وہیں کے ایک استاذ مولانا افضل حسین نے لکھا اور شیخ خانقاہ کی محبت سے مجبور ہوکر رامپور کے ایک عاشق وفا کیش نے بھی جواب کے نام پر ایک سوال کرکے"شہیدوں میں نام" لکھانے کی کوشش کی... اور کیوں نہ کرتے آخر.......
ساز دل پہ تان اسی دیار سے ہے
یہاں ہم ذمہ داران خانقاہ کی تحریر پر ہی گفتگو کریں گے.اور مولانا افضل حسین صاحب سے گزارش کریں گے کہ وہ مجاز عقلی, اور اسناد کی ابحاث دوبارہ دیکھ لیں تاکہ معلوم ہوجائے کہ مجاز عقلی کے لئے کیا شرائط وضوابط ہیں... اور بغیر تجوز وملابست کے معاملہ فہمی کہاں پہنچا سکتی ہے. اگر ہر مقام پر بغیر تجوز ملابست کے مجاز عقلی مان لیا جائے تو لغت اور معنیٰ موضوع لہ کا جنازہ نکل جائے گا ؟
سنیمائی تاویلات پر گفتگو سے پہلے ایک بات کی داد دینا پڑے گی کہ ایک گانے کو جائز ٹھہرانے کے لئے غلامان شیخ نے نہ جانے کتنی فلموں,گانوں اور سنگرز کی تاریخ کھنگال ڈالی. آج کل ایک محقق صاحب سماع بالمزامیر کی تاریخ کھنگال رہے ہیں ممکن ہے کہ "تاریخ سنیما کی تحقیقی سعادت" بھی انہیں کے حصے آئی ہو.
خانقاہ سراواں کی تاویلات:
ہمارے ایرادات پر سراوی تاویلات درج ذیل ہیں :
1-اگر صرف فلمائے جانے سے کوئی کلام ناجائز ہوتا ہے تو کئی صوفیہ اور ڈاکٹر اقبال وغیرہ کا کلام بھی فلموں میں استعمال ہوا ہے,اس پر اعتراض کیوں نہیں کیا جاتا؟
2-"میرا کرما تو میرا دھرما تو" میں "کرما,کرم اور دھرما"فرض کے معنی میں ہے اور شاعر کی مراد یہ ہے:
اے وطن ہم حب الوطنی کے تقاضے کو پورا کرتے ہوئے اس سے منسوب اپنے سبھی کاموں اور فرائض کو جو تجھ سے متعلق ہیں بخوبی انجام دیں گے.
"دھرما" کا معنی مذہب لینا سیاق و سباق کے اعتبار سے بالکل غلط ہے.
3-ہندو مسلم سِکھ عیسائی ہم وطن ہونے کے ناطے ہمنام ہیں یعنی سب ایک ہی وطن کے رہنے والے ہیں اور اسی سبب سے ہمنام یعنی ہندوستانی ہیں.
وابستگان خانقاہ کی سنیمائی تاویلات کو دیکھ کر بے اختیار زبان سے یہی نکلا
آیا ہے کیا زمانہ, بدلا ہے کتنا منظر
جواز گانا پہ صوفی دلیل دیتے ہیں
قارئین! آئیےان "تقدس مأب صوفیہ" کی تاویلات کا جائزہ لیتے ہیں.خانقاہ سراواں کا کہنا ہے کہ اگر ان کا گایا ہوا گانا غلط ہے تو جن صوفیہ کا کلام فلموں میں استعمال کیا گیا ہے وہ غلط کیوں نہیں ہے؟
اس پر ان صاحبان سے عرض ہے کہ ڈاکٹر اقبال یا صوفیہ کرام نے اپنا کلام پاکیزہ اور اچھے مقصد کے لیے تحریر کیا تھا کسی فلمی ڈائریکٹر کے لئے نہیں, اور جس فلم کا گانا آپ نے گایا ہے وہ خاص فلم کے لئے ہی لکھا گیا ہے خانقاہ کے لئے نہیں؟ فافھم وتدبر!
کہاں حضرت امیر خسرو کا کلام اور کہاں ایک فلمی گویّے کا گانا!کیا دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے؟گر فرق مراتب نہ کنی زندیقی..
فلمی گانے کی نحوست کا اثر تو دیکھیے
اک گویّے کو خسرو سے ملاتے یہ ہیں
یہ بات تعجب خیز ہے کہ اتنی بنیادی بات خانقاہ سراواں کے صوفیوں کی نگاہوں سے کیسے اوجھل ہوگئی ک فلمی گانوں کی اصل یہ ہے کہ وہ محض فلموں کے لیے ہی لکھے جاتے ہیں اور ساتھ میں سُر تَال بھی ملائے جاتے ہیں...اگر کوئی کلام خلاف شرع نہ ہو تو اسے استعمال کرنے کی گنجائش تو نکل سکتی ہے لیکن! فلمی گانے کی دُھن کاپی کرنا اور اسی کی طرز پر سُر تَال ملانا قطعاً جائز نہیں. اور خانقاہ کے احاطے میں فلمی گانا ہی نہیں گایا گیا بلکہ اس کی دُھن اور سُر تَال کی رعایت کا اہتمام بھی کیا گیا.
یہاں یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ جب کسی چیز کی نقل کی جاتی ہے تو فطری طور پر اصل چیز دماغ میں گردش کرتی ہے.تو جب خانقاہ سراواں میں یہ گانا گایا ہوگا تو گانے والے طلبہ حتی کہ سامعین طلبہ کا دھیان بھی لازمی طور پر گانے,ایکٹرز اور فلم کی طرف بھی گیا ہوگا.حب الوطنی کے نام پر گانا بجے گا تو حب الوطنی کے مناظر دیکھنے کا اشتیاق بھی پیدا ہوگا,یہی وہ موقع ہوتا ہے جب شیطان وار کرتا ہے اور ذرا سا اشتیاق پیدا ہوتے ہی قدم سنیما گھر کی طرف اٹھ جاتے ہیں.حب الوطنی کے نام پر اتنے سارے گناہوں کا ارتکاب!!
یہ ساری خرابیاں صرف اس لئے آرہی ہیں کہ حب الوطنی کے نام پر حکومتی عطیات کا حصول ہی مقصد اصلی ہے. نہیں تو مدعیان تصوف سب کو فلم اور گانوں سے قریب کیوں کرنا چاہتے ہیں ؟؟
دوسری بات جب آپ کسی کلام,دُھن سُرتال کو مکمل کاپی کرتے ہیں تو آپ کو باربار وہ کلام سننا پڑتا ہے اور سُر تال کے ساتھ لَے ملانے کے لئے متواتر مشق کرنا پڑتی ہے. اب ذرا تصور کریں کہ خانقاہ کے اساتذہ بچوں کو تیاری کرا رہے ہیں, خانقاہ, درس گاہ اور تربیت گاہ میں گانا بج رہا ہے اور طلبہ اس کی مش
غلام مصطفیٰ نعیمی gmnaimi@gmail.com
(مدیر اعلیٰ سواد اعظم دہلی)
خانقاہ سراواں کی سنیما پروری کی نقاب کشائی پر مبنی ہماری تحریر"خانقاہ سراواں : سماع سے سنیما تک" پر وابستگان خانقاہ نے عادت کے مطابق رجوع کی بجائے تاویلات کا راستہ اختیار کیا.
پہلا جواب براہ راست خانقاہ کے ذمہ داران کی جانب سے لکھا گیا... دوسرا جواب وہیں کے ایک استاذ مولانا افضل حسین نے لکھا اور شیخ خانقاہ کی محبت سے مجبور ہوکر رامپور کے ایک عاشق وفا کیش نے بھی جواب کے نام پر ایک سوال کرکے"شہیدوں میں نام" لکھانے کی کوشش کی... اور کیوں نہ کرتے آخر.......
ساز دل پہ تان اسی دیار سے ہے
یہاں ہم ذمہ داران خانقاہ کی تحریر پر ہی گفتگو کریں گے.اور مولانا افضل حسین صاحب سے گزارش کریں گے کہ وہ مجاز عقلی, اور اسناد کی ابحاث دوبارہ دیکھ لیں تاکہ معلوم ہوجائے کہ مجاز عقلی کے لئے کیا شرائط وضوابط ہیں... اور بغیر تجوز وملابست کے معاملہ فہمی کہاں پہنچا سکتی ہے. اگر ہر مقام پر بغیر تجوز ملابست کے مجاز عقلی مان لیا جائے تو لغت اور معنیٰ موضوع لہ کا جنازہ نکل جائے گا ؟
سنیمائی تاویلات پر گفتگو سے پہلے ایک بات کی داد دینا پڑے گی کہ ایک گانے کو جائز ٹھہرانے کے لئے غلامان شیخ نے نہ جانے کتنی فلموں,گانوں اور سنگرز کی تاریخ کھنگال ڈالی. آج کل ایک محقق صاحب سماع بالمزامیر کی تاریخ کھنگال رہے ہیں ممکن ہے کہ "تاریخ سنیما کی تحقیقی سعادت" بھی انہیں کے حصے آئی ہو.
خانقاہ سراواں کی تاویلات:
ہمارے ایرادات پر سراوی تاویلات درج ذیل ہیں :
1-اگر صرف فلمائے جانے سے کوئی کلام ناجائز ہوتا ہے تو کئی صوفیہ اور ڈاکٹر اقبال وغیرہ کا کلام بھی فلموں میں استعمال ہوا ہے,اس پر اعتراض کیوں نہیں کیا جاتا؟
2-"میرا کرما تو میرا دھرما تو" میں "کرما,کرم اور دھرما"فرض کے معنی میں ہے اور شاعر کی مراد یہ ہے:
اے وطن ہم حب الوطنی کے تقاضے کو پورا کرتے ہوئے اس سے منسوب اپنے سبھی کاموں اور فرائض کو جو تجھ سے متعلق ہیں بخوبی انجام دیں گے.
"دھرما" کا معنی مذہب لینا سیاق و سباق کے اعتبار سے بالکل غلط ہے.
3-ہندو مسلم سِکھ عیسائی ہم وطن ہونے کے ناطے ہمنام ہیں یعنی سب ایک ہی وطن کے رہنے والے ہیں اور اسی سبب سے ہمنام یعنی ہندوستانی ہیں.
وابستگان خانقاہ کی سنیمائی تاویلات کو دیکھ کر بے اختیار زبان سے یہی نکلا
آیا ہے کیا زمانہ, بدلا ہے کتنا منظر
جواز گانا پہ صوفی دلیل دیتے ہیں
قارئین! آئیےان "تقدس مأب صوفیہ" کی تاویلات کا جائزہ لیتے ہیں.خانقاہ سراواں کا کہنا ہے کہ اگر ان کا گایا ہوا گانا غلط ہے تو جن صوفیہ کا کلام فلموں میں استعمال کیا گیا ہے وہ غلط کیوں نہیں ہے؟
اس پر ان صاحبان سے عرض ہے کہ ڈاکٹر اقبال یا صوفیہ کرام نے اپنا کلام پاکیزہ اور اچھے مقصد کے لیے تحریر کیا تھا کسی فلمی ڈائریکٹر کے لئے نہیں, اور جس فلم کا گانا آپ نے گایا ہے وہ خاص فلم کے لئے ہی لکھا گیا ہے خانقاہ کے لئے نہیں؟ فافھم وتدبر!
کہاں حضرت امیر خسرو کا کلام اور کہاں ایک فلمی گویّے کا گانا!کیا دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے؟گر فرق مراتب نہ کنی زندیقی..
فلمی گانے کی نحوست کا اثر تو دیکھیے
اک گویّے کو خسرو سے ملاتے یہ ہیں
یہ بات تعجب خیز ہے کہ اتنی بنیادی بات خانقاہ سراواں کے صوفیوں کی نگاہوں سے کیسے اوجھل ہوگئی ک فلمی گانوں کی اصل یہ ہے کہ وہ محض فلموں کے لیے ہی لکھے جاتے ہیں اور ساتھ میں سُر تَال بھی ملائے جاتے ہیں...اگر کوئی کلام خلاف شرع نہ ہو تو اسے استعمال کرنے کی گنجائش تو نکل سکتی ہے لیکن! فلمی گانے کی دُھن کاپی کرنا اور اسی کی طرز پر سُر تَال ملانا قطعاً جائز نہیں. اور خانقاہ کے احاطے میں فلمی گانا ہی نہیں گایا گیا بلکہ اس کی دُھن اور سُر تَال کی رعایت کا اہتمام بھی کیا گیا.
یہاں یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ جب کسی چیز کی نقل کی جاتی ہے تو فطری طور پر اصل چیز دماغ میں گردش کرتی ہے.تو جب خانقاہ سراواں میں یہ گانا گایا ہوگا تو گانے والے طلبہ حتی کہ سامعین طلبہ کا دھیان بھی لازمی طور پر گانے,ایکٹرز اور فلم کی طرف بھی گیا ہوگا.حب الوطنی کے نام پر گانا بجے گا تو حب الوطنی کے مناظر دیکھنے کا اشتیاق بھی پیدا ہوگا,یہی وہ موقع ہوتا ہے جب شیطان وار کرتا ہے اور ذرا سا اشتیاق پیدا ہوتے ہی قدم سنیما گھر کی طرف اٹھ جاتے ہیں.حب الوطنی کے نام پر اتنے سارے گناہوں کا ارتکاب!!
یہ ساری خرابیاں صرف اس لئے آرہی ہیں کہ حب الوطنی کے نام پر حکومتی عطیات کا حصول ہی مقصد اصلی ہے. نہیں تو مدعیان تصوف سب کو فلم اور گانوں سے قریب کیوں کرنا چاہتے ہیں ؟؟
دوسری بات جب آپ کسی کلام,دُھن سُرتال کو مکمل کاپی کرتے ہیں تو آپ کو باربار وہ کلام سننا پڑتا ہے اور سُر تال کے ساتھ لَے ملانے کے لئے متواتر مشق کرنا پڑتی ہے. اب ذرا تصور کریں کہ خانقاہ کے اساتذہ بچوں کو تیاری کرا رہے ہیں, خانقاہ, درس گاہ اور تربیت گاہ میں گانا بج رہا ہے اور طلبہ اس کی مش
❤1
Forwarded from Ghulam Mustafa Naimi
ق کر رہے ہیں.اگر سُر تَال میں کمی نظر آتی ہے تو خانقاہ کے راگ پسند اساتذہ کلام اور سُر تَال کی کی اصلاح کرتے ہیں..ایک گانے پر پرفارم کرنے کے لئے درجنوں مرتبہ وہ گانا خانقاہ میں بجایا اور سنا گیا ہوگا.منظر کچھ اس طرح ہوگا:
شیخ حرم کی ہوگئی شیطاں سے یاری اس قدر
سن کے گانے مست ہیں روز وشب شام وسحر
تزکیہ نفس اور اجتناب عن المعاصی کا سائن بورڈ لیکر گھومنے والے "صوفیہ"یہ حدیث پڑھیں:
الغناء ینبت النفاق فی القلب کما ینبت الماء البقل(مشکواۃ)
گانے کی محبت دل میں اس طرح نفاق پیدا کرتی ہے جس طرح پانی سبزہ اگاتا ہے.
چھوڑ بیٹھے اللہ اللہ, گارہے ہیں گانے اب
ماڈرن صوفی کی اب یہی پہچان ہے
حامیان خانقاہ کی دوسری تاویل یہ ہے کہ "کرما(کرم) اور دھرما"(فرض) کے معنی میں ہے,معترض ہندی سے نابلد ہونے کی وجہ سے اعتراض کر بیٹھے.
زبان سے کون واقف ہے اور کون نابلد؟اس کا فیصلہ قارئین پر چھوڑتے ہوئے چند باتیں عرض ہیں.
ہندی زبان میں بعض الفاظ پر الف کا اضافہ کر دیتے ہیں.(ہندی میںआ کیमात्रा ) جیسے رام کو راما(रामा) شِو کو شِوا(शिवा) کرشن کو کرشن(कृष्णा ) اسی طرح لفظ کرم کو کرما(कर्मा) اور دھرم کو دھرما(धर्मा) لکھا جاتا ہے. لیکن اس سے مفہوم پر کوئی فرق نہیں پڑتا... اس تفصیل کے بعد یہ بھی سمجھ لیں کہ لفظ کرما کا معنی کام اور فرض( कर्तव्य)آتا ہے. اور دھرما کا معنی دھرم یعنی مذہب آتا ہے.. جو معنی خانقاہ سراواں نے بتائے ہیں ہندی لغات اس کی تصدیق نہیں کرتیں. لفظ "کرم دھرم"ایک ساتھ درج ذیل معنی میں استعمال ہوتے ہیں:
1,وہ کام جو دھارمک گرنتھوں میں فرض مانے گئے ہیں.
2,مذہبی عادات
3,مخصوص مذاہب کے کام
اس تفصیل کے بعد
"میرا کرما تو میرا دھرما تو" کا مفہوم یہ نکلے گا. اے میرے وطن میرا کرم(فرض) بھی تو اور میرا دھرم(مذہب) بھی تو ہے..
اس شعر کی جو توجیہ اہل سراواں نے کی ہے وہ توجیہ القول مالا یرضی بہ القائل کی قبیل سے ہے.
ہندو آئدیالوجی کے مطابق دیش دھرم کا حصہ ہے اسی لئے اہل ہنود ملک کو دیوی کا درجہ دے کر اس کی پوجا کرتے ہیں اور اسے "بھارت ماتا" کے نام سے یاد کرتے ہیں.(ویسے بھارت ماتا کے جے کارے تو صوفیوں نے بھی بڑی فراخ دلی سے لگائے ہوئے ہیں) اس سے بھی پتا لگتا ہے کہ اہل ہنود کے نزدیک ملک کو دھرم ماننا اعتقاد کا حصہ ہے اوراس گانے کو لکھنے والا امیر خسرو یا اقبال نہیں ایک مشرک وکافر ہی ہے اور اس نے اپنے اعتقاد کے مطابق ہی لکھا ہے.
تیسری تاویل یہ ہے کہ مذکورہ گانے میں ہندو مسلم سِکھ عیسائی کو ہم وطن ہونے کی وجہ سے ہمنام بتایا گیا ہے.جو درست ہے. اس پر ڈاکٹر اقبال کے شعر "مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا:ہندی ہیں ہم وطن ہندوستاں ہمارا"
سے استناد کرتے ہوئے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ ڈاکٹر اقبال بھی وہی کہہ رہے ہیں جو فلمی نغمہ نگار نے کہا ہے.
قطع نظر اس کے کہ ڈاکٹر اقبال جیسے بالغ نظر مفکر ملت کو ایک فلمی نغمہ نگار کی تائید میں پیش کیا جارہا ہے, کچھ چیزوں پر غور کریں :
(الف) ہم وطن ہونے کی بنیاد پر کسی بھی مذہب باالخصوص اسلام نے کوئی تفریق نہیں کی ہاں! نام ولباس اور اعتقاد کی بنیاد پر امتیاز ضرور کیا ہے. اس لئے مسلمان دیگر برادران وطن کو ملکی بھائی مانتے ہیں مگر نام ولباس اور اعتقاد میں اپنا ایک جدا کلچر وتہذیب رکھتے ہیں.
(ب) شدت پسند عناصر عرصہ دراز سے مسلمانوں پر معترض ہیں کہ ان کے نام عربی کیوں ہیں, ہندوستانی تہذیب کے مطابق کیوں نہیں؟
(ج) مسلمانوں کے علاوہ سبھی مذاہب کے ماننے والوں کے نام قریب ایک جیسے ہیں. یہاں کچھ مشہور افراد کے نام دیکھیں:
منوہر(ہندو,CM Haryana)
منوہر(عیسائی,CM Goa)
امت شاہ(جین)
امت کمار(ہندو)
بلویر سنگھ(سِکھ)
بلویر شرما(ہندو)
یہ مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے نام ہیں لیکن مسلمانوں کے نام سب سے مختلف ہوتے ہیں اور یہ چیز شدت پسندوں کی نگاہ میں کھٹکتی ہے.
فلمی گانے کا مصرعہ ثانی"جوکرے ان کو جدا مذہب نہیں الزام ہے" محل نظر ہے. جب وطن کی بنیاد پر تفریق ہی نہیں تو اس پر طعن کیسا؟
ہاں! اصل طعن مسلمانوں کی ممتاز وجداگانہ تہذیب پر ہے. اور شدت پسند چاہتے ہیں کہ مسلمان اپنا منفرد اسلامی تشخص چھوڑ کر ہندوانہ تہذیب وکلچر میں ڈھل جائیں. اس کلچر کو وہ ہندوستانی کلچر کا نام دیتے ہیں اور اسی کا اظہار گانے میں کیا گیا ہے.
جب کوئی مذہب ہم وطن ہونے کی بنیاد پر تفریق نہیں کرتا تو مذہب کو الزام کہنا چہ معنی دارد ؟ ڈاکٹر اقبال کا شعر ہمارا ہی موئد ہے کہ مذہب دشمنی نہیں سکھاتا وطن کے اعتبار سے ہم ہندی ہیں.
اور وفادران شیخ کو ترانہ اقبال کا یہ شعر بھی یاد رکھنا چاہئے جو ان کے علاحدہ تشخص کا اعلان کرتا ہے :
اے آبرود گنگا وہ دن ہے یاد تجھ کو
اترا تیرے کنارے جب کارواں ہمارا
کچھ بات ہے کہ ہستی مٹتی نہیں ہماری
برسوں رہا ہے دشمن دور زماں ہمارا
شیخ حرم کی ہوگئی شیطاں سے یاری اس قدر
سن کے گانے مست ہیں روز وشب شام وسحر
تزکیہ نفس اور اجتناب عن المعاصی کا سائن بورڈ لیکر گھومنے والے "صوفیہ"یہ حدیث پڑھیں:
الغناء ینبت النفاق فی القلب کما ینبت الماء البقل(مشکواۃ)
گانے کی محبت دل میں اس طرح نفاق پیدا کرتی ہے جس طرح پانی سبزہ اگاتا ہے.
چھوڑ بیٹھے اللہ اللہ, گارہے ہیں گانے اب
ماڈرن صوفی کی اب یہی پہچان ہے
حامیان خانقاہ کی دوسری تاویل یہ ہے کہ "کرما(کرم) اور دھرما"(فرض) کے معنی میں ہے,معترض ہندی سے نابلد ہونے کی وجہ سے اعتراض کر بیٹھے.
زبان سے کون واقف ہے اور کون نابلد؟اس کا فیصلہ قارئین پر چھوڑتے ہوئے چند باتیں عرض ہیں.
ہندی زبان میں بعض الفاظ پر الف کا اضافہ کر دیتے ہیں.(ہندی میںआ کیमात्रा ) جیسے رام کو راما(रामा) شِو کو شِوا(शिवा) کرشن کو کرشن(कृष्णा ) اسی طرح لفظ کرم کو کرما(कर्मा) اور دھرم کو دھرما(धर्मा) لکھا جاتا ہے. لیکن اس سے مفہوم پر کوئی فرق نہیں پڑتا... اس تفصیل کے بعد یہ بھی سمجھ لیں کہ لفظ کرما کا معنی کام اور فرض( कर्तव्य)آتا ہے. اور دھرما کا معنی دھرم یعنی مذہب آتا ہے.. جو معنی خانقاہ سراواں نے بتائے ہیں ہندی لغات اس کی تصدیق نہیں کرتیں. لفظ "کرم دھرم"ایک ساتھ درج ذیل معنی میں استعمال ہوتے ہیں:
1,وہ کام جو دھارمک گرنتھوں میں فرض مانے گئے ہیں.
2,مذہبی عادات
3,مخصوص مذاہب کے کام
اس تفصیل کے بعد
"میرا کرما تو میرا دھرما تو" کا مفہوم یہ نکلے گا. اے میرے وطن میرا کرم(فرض) بھی تو اور میرا دھرم(مذہب) بھی تو ہے..
اس شعر کی جو توجیہ اہل سراواں نے کی ہے وہ توجیہ القول مالا یرضی بہ القائل کی قبیل سے ہے.
ہندو آئدیالوجی کے مطابق دیش دھرم کا حصہ ہے اسی لئے اہل ہنود ملک کو دیوی کا درجہ دے کر اس کی پوجا کرتے ہیں اور اسے "بھارت ماتا" کے نام سے یاد کرتے ہیں.(ویسے بھارت ماتا کے جے کارے تو صوفیوں نے بھی بڑی فراخ دلی سے لگائے ہوئے ہیں) اس سے بھی پتا لگتا ہے کہ اہل ہنود کے نزدیک ملک کو دھرم ماننا اعتقاد کا حصہ ہے اوراس گانے کو لکھنے والا امیر خسرو یا اقبال نہیں ایک مشرک وکافر ہی ہے اور اس نے اپنے اعتقاد کے مطابق ہی لکھا ہے.
تیسری تاویل یہ ہے کہ مذکورہ گانے میں ہندو مسلم سِکھ عیسائی کو ہم وطن ہونے کی وجہ سے ہمنام بتایا گیا ہے.جو درست ہے. اس پر ڈاکٹر اقبال کے شعر "مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا:ہندی ہیں ہم وطن ہندوستاں ہمارا"
سے استناد کرتے ہوئے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ ڈاکٹر اقبال بھی وہی کہہ رہے ہیں جو فلمی نغمہ نگار نے کہا ہے.
قطع نظر اس کے کہ ڈاکٹر اقبال جیسے بالغ نظر مفکر ملت کو ایک فلمی نغمہ نگار کی تائید میں پیش کیا جارہا ہے, کچھ چیزوں پر غور کریں :
(الف) ہم وطن ہونے کی بنیاد پر کسی بھی مذہب باالخصوص اسلام نے کوئی تفریق نہیں کی ہاں! نام ولباس اور اعتقاد کی بنیاد پر امتیاز ضرور کیا ہے. اس لئے مسلمان دیگر برادران وطن کو ملکی بھائی مانتے ہیں مگر نام ولباس اور اعتقاد میں اپنا ایک جدا کلچر وتہذیب رکھتے ہیں.
(ب) شدت پسند عناصر عرصہ دراز سے مسلمانوں پر معترض ہیں کہ ان کے نام عربی کیوں ہیں, ہندوستانی تہذیب کے مطابق کیوں نہیں؟
(ج) مسلمانوں کے علاوہ سبھی مذاہب کے ماننے والوں کے نام قریب ایک جیسے ہیں. یہاں کچھ مشہور افراد کے نام دیکھیں:
منوہر(ہندو,CM Haryana)
منوہر(عیسائی,CM Goa)
امت شاہ(جین)
امت کمار(ہندو)
بلویر سنگھ(سِکھ)
بلویر شرما(ہندو)
یہ مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے نام ہیں لیکن مسلمانوں کے نام سب سے مختلف ہوتے ہیں اور یہ چیز شدت پسندوں کی نگاہ میں کھٹکتی ہے.
فلمی گانے کا مصرعہ ثانی"جوکرے ان کو جدا مذہب نہیں الزام ہے" محل نظر ہے. جب وطن کی بنیاد پر تفریق ہی نہیں تو اس پر طعن کیسا؟
ہاں! اصل طعن مسلمانوں کی ممتاز وجداگانہ تہذیب پر ہے. اور شدت پسند چاہتے ہیں کہ مسلمان اپنا منفرد اسلامی تشخص چھوڑ کر ہندوانہ تہذیب وکلچر میں ڈھل جائیں. اس کلچر کو وہ ہندوستانی کلچر کا نام دیتے ہیں اور اسی کا اظہار گانے میں کیا گیا ہے.
جب کوئی مذہب ہم وطن ہونے کی بنیاد پر تفریق نہیں کرتا تو مذہب کو الزام کہنا چہ معنی دارد ؟ ڈاکٹر اقبال کا شعر ہمارا ہی موئد ہے کہ مذہب دشمنی نہیں سکھاتا وطن کے اعتبار سے ہم ہندی ہیں.
اور وفادران شیخ کو ترانہ اقبال کا یہ شعر بھی یاد رکھنا چاہئے جو ان کے علاحدہ تشخص کا اعلان کرتا ہے :
اے آبرود گنگا وہ دن ہے یاد تجھ کو
اترا تیرے کنارے جب کارواں ہمارا
کچھ بات ہے کہ ہستی مٹتی نہیں ہماری
برسوں رہا ہے دشمن دور زماں ہمارا
❤1
Forwarded from Ghulam Mustafa Naimi
خانقاہ سراواں : سماع سے سنیما تک
غلام مصطفیٰ نعیمی gmnaimi@gmail.com
(مدیر اعلیٰ سواد اعظم دہلی)
ایک زمانہ تھا کہ ایک دنیا دار مسلمان بھی سرِ عام فلمی گانا گنگنانے تک سے شرماتا تھا, شرم وحیا اسے عوامی مقامات پر گانا گانے سے مانع تھی.لیکن! اکیسویں صدی کے صوفیہ کا کمال دیکھئے کہ اب کھلے عام محفلوں میں فلمی گانوں پر سُر تَال ملائے جارہے ہیں اور یہ اعلان کیا جارہا ہے :
گئے وہ دن کہ گونجتی تھیں صدائیں ھو ھو کی
دیار شیخ میں اب گانے سنائی دیتے ہیں
گذشتہ ماہ 26 جنوری کو جب ملک کا یوم جمہوریہ شان و شوکت کے ساتھ منایا جارہا تھا...ایک طرف مدارس اسلامیہ میں"ہم بلبلیں ہیں اس کی یہ گلستاں ہمارا....
ہو میرے دم سے یوں ہی میرے وطن کی زنیت...
ہندی ہیں ہم وطن ہے ہندوستاں ہمارا..
جیسے ترانے گونج رہے تھے,
تو دوسری جانب شیخِ سراواں کی سرپرستی میں تصوف کے جھنڈا بردار گروہِ فضلا کے طلبہ حب الوطنی کے نام پر ایک فلم کا گانا,گا رہے تھے. جس کے چند شعر درج ذیل ہیں:
▪️"میرا کرما تو, میرا دھرما تو...
▪️ہندو مسلم سِکھ عیسائی ہم وطن ہم نام ہیں
▪️جو کرے ان کو جدا,مذہب نہیں الزام ہے
اس گانے کی صداؤں سے خانقاہ کے بام ودر گونج رہے تھے. طلبہ کے ساتھ ساتھ اساتذہ نے بھی لَے سے لَے ملا کر اچھا ساتھ نبھایا.
اب اس جھنڈا بردار گروہ سے یہ پوچھنا گستاخی ہوگی کہ:
🔹 ہندو مسلم, سکھ عیسائی ہم وطن تو بے شک ہیں لیکن ہم نام کس طرح ہیں ؟؟
🔹کیا ناصر و نَریش,مجیب ومُکیش اور ذیشان و جے رام ہم نام ہیں ؟
🔹حب الوطنی کے نام پر وطن کو اپنا دھرم اور مذہب قرار دینا کہاں تک درست ہے؟
🔹کیا ملک کو مذہب کا درجہ دینا عند الشرع درست ہے؟
لیکن! ان ساری باتوں سے بھلا ان کو کیا فرق پڑتا ہے یہ تو "صوفی لوگ"ہیں اور شریعت سے ان کا کیا لینا دینا؟ شرع کا پاس ولحاظ تو اہل اسلام کرتے ہیں.. اسی لئے تصوف کے جھنڈا بردار گروہ نے ردائے شرم وحیا اتار کر "فلم دوستی" کا خوب مظاہرہ کیا اور بکمال بے حیائی اس ویڈیو کو سوشل میڈیا پر اپلوڈ بھی کیا کہ کہیں کوئی ان پر "سنیما بیزاری کا الزام" نہ لگا دے...
جب فقیر تک یہ ویڈیو پہنچا تو فقیر نے تصدیق کے لئے خانقاہ کے استاذ مولانا کتاب الدین صاحب کو فون کیا. موصوف نے اولاً تو انکار کیا لیکن بعد میں دو چند شعر پڑھنے کا اقرار کیا اور یہ صوفیانہ نصیحت بھی کی کہ" یہ نہ دیکھا جائے کہ فلمی گانا ہے بلکہ گانے کا مفہوم دیکھا جائے"...
خیر! خانقاہ کی اس "سنیما پروری" سے امید ہے کہ جلد ہی شیخ خانقاہ کی سرپرستی میں فلموں کا پریمیر شو بھی رکھا جانے لگے... جہاں خوب رو,پری وش,مہ لقائیں جناب شیخ سے "اکتساب فیض" کے لئے حاضر ہوں گی اور سماع وسنیما کی "جُگل بَندی" کا الگ ہی نظارہ ہوگا.
اور ہاں!حاملین شریعت معترض نہ ہوں کہ جناب شیخ کا نعرہ ہے:
"محبت سب کے لئے, نفرت کسی سے نہیں"
مزید اپنے شیخ کے دفاع میں کئی وظیفہ یاب مولوی آکر کہیں گے:
خذ ما صفا ودع ما کدر, پر عمل کیا جارہا ہے, اہل شریعت تو ہمیشہ فتوی ہی لگاتے ہیں آخر ثقافت وتوارث بھی کوئی چیز ہے؟
اور اس طرح خانقاہ سراواں و سنیما مل کر وہ "گلہائے تصوف" کھلائیں گے جس کا نقشہ جوش ملیح آبادی نے سالوں پہلے اس طرح کھینچا تھا:
اک دن جو بہر فاتحہ اک بنت مہرو ماہ
پہنچی نظر جھکائے ہوئے سوئے خانقاہ
زہّاد نے اٹھائی جھجھکتے ہوئے نگاہ
ہونٹوں میں دب کے ٹوٹ گئی ضرب لا الہ
پڑھتے ہی فاتحہ جو وہ اک سمت پھر گئی
اک پیر کے تو ہاتھ سے تسبیح گر گئی
القصہ دین(شیخ) کفر کا دیوانہ ہوگیا
کعبہ ذرا سی دیر میں بت خانہ ہوگیا
(یہ رہا سراوی گانے کا لنک👇👇)
https://youtu.be/R550lTjuAuM
غلام مصطفیٰ نعیمی gmnaimi@gmail.com
(مدیر اعلیٰ سواد اعظم دہلی)
ایک زمانہ تھا کہ ایک دنیا دار مسلمان بھی سرِ عام فلمی گانا گنگنانے تک سے شرماتا تھا, شرم وحیا اسے عوامی مقامات پر گانا گانے سے مانع تھی.لیکن! اکیسویں صدی کے صوفیہ کا کمال دیکھئے کہ اب کھلے عام محفلوں میں فلمی گانوں پر سُر تَال ملائے جارہے ہیں اور یہ اعلان کیا جارہا ہے :
گئے وہ دن کہ گونجتی تھیں صدائیں ھو ھو کی
دیار شیخ میں اب گانے سنائی دیتے ہیں
گذشتہ ماہ 26 جنوری کو جب ملک کا یوم جمہوریہ شان و شوکت کے ساتھ منایا جارہا تھا...ایک طرف مدارس اسلامیہ میں"ہم بلبلیں ہیں اس کی یہ گلستاں ہمارا....
ہو میرے دم سے یوں ہی میرے وطن کی زنیت...
ہندی ہیں ہم وطن ہے ہندوستاں ہمارا..
جیسے ترانے گونج رہے تھے,
تو دوسری جانب شیخِ سراواں کی سرپرستی میں تصوف کے جھنڈا بردار گروہِ فضلا کے طلبہ حب الوطنی کے نام پر ایک فلم کا گانا,گا رہے تھے. جس کے چند شعر درج ذیل ہیں:
▪️"میرا کرما تو, میرا دھرما تو...
▪️ہندو مسلم سِکھ عیسائی ہم وطن ہم نام ہیں
▪️جو کرے ان کو جدا,مذہب نہیں الزام ہے
اس گانے کی صداؤں سے خانقاہ کے بام ودر گونج رہے تھے. طلبہ کے ساتھ ساتھ اساتذہ نے بھی لَے سے لَے ملا کر اچھا ساتھ نبھایا.
اب اس جھنڈا بردار گروہ سے یہ پوچھنا گستاخی ہوگی کہ:
🔹 ہندو مسلم, سکھ عیسائی ہم وطن تو بے شک ہیں لیکن ہم نام کس طرح ہیں ؟؟
🔹کیا ناصر و نَریش,مجیب ومُکیش اور ذیشان و جے رام ہم نام ہیں ؟
🔹حب الوطنی کے نام پر وطن کو اپنا دھرم اور مذہب قرار دینا کہاں تک درست ہے؟
🔹کیا ملک کو مذہب کا درجہ دینا عند الشرع درست ہے؟
لیکن! ان ساری باتوں سے بھلا ان کو کیا فرق پڑتا ہے یہ تو "صوفی لوگ"ہیں اور شریعت سے ان کا کیا لینا دینا؟ شرع کا پاس ولحاظ تو اہل اسلام کرتے ہیں.. اسی لئے تصوف کے جھنڈا بردار گروہ نے ردائے شرم وحیا اتار کر "فلم دوستی" کا خوب مظاہرہ کیا اور بکمال بے حیائی اس ویڈیو کو سوشل میڈیا پر اپلوڈ بھی کیا کہ کہیں کوئی ان پر "سنیما بیزاری کا الزام" نہ لگا دے...
جب فقیر تک یہ ویڈیو پہنچا تو فقیر نے تصدیق کے لئے خانقاہ کے استاذ مولانا کتاب الدین صاحب کو فون کیا. موصوف نے اولاً تو انکار کیا لیکن بعد میں دو چند شعر پڑھنے کا اقرار کیا اور یہ صوفیانہ نصیحت بھی کی کہ" یہ نہ دیکھا جائے کہ فلمی گانا ہے بلکہ گانے کا مفہوم دیکھا جائے"...
خیر! خانقاہ کی اس "سنیما پروری" سے امید ہے کہ جلد ہی شیخ خانقاہ کی سرپرستی میں فلموں کا پریمیر شو بھی رکھا جانے لگے... جہاں خوب رو,پری وش,مہ لقائیں جناب شیخ سے "اکتساب فیض" کے لئے حاضر ہوں گی اور سماع وسنیما کی "جُگل بَندی" کا الگ ہی نظارہ ہوگا.
اور ہاں!حاملین شریعت معترض نہ ہوں کہ جناب شیخ کا نعرہ ہے:
"محبت سب کے لئے, نفرت کسی سے نہیں"
مزید اپنے شیخ کے دفاع میں کئی وظیفہ یاب مولوی آکر کہیں گے:
خذ ما صفا ودع ما کدر, پر عمل کیا جارہا ہے, اہل شریعت تو ہمیشہ فتوی ہی لگاتے ہیں آخر ثقافت وتوارث بھی کوئی چیز ہے؟
اور اس طرح خانقاہ سراواں و سنیما مل کر وہ "گلہائے تصوف" کھلائیں گے جس کا نقشہ جوش ملیح آبادی نے سالوں پہلے اس طرح کھینچا تھا:
اک دن جو بہر فاتحہ اک بنت مہرو ماہ
پہنچی نظر جھکائے ہوئے سوئے خانقاہ
زہّاد نے اٹھائی جھجھکتے ہوئے نگاہ
ہونٹوں میں دب کے ٹوٹ گئی ضرب لا الہ
پڑھتے ہی فاتحہ جو وہ اک سمت پھر گئی
اک پیر کے تو ہاتھ سے تسبیح گر گئی
القصہ دین(شیخ) کفر کا دیوانہ ہوگیا
کعبہ ذرا سی دیر میں بت خانہ ہوگیا
(یہ رہا سراوی گانے کا لنک👇👇)
https://youtu.be/R550lTjuAuM
YouTube
Jamia Arifia Sarawan Filmi Song Har Karam Apna Karen ge (Karma)
Minhaji.tahir.sarwan.misbahi
❤1
Forwarded from Ghulam Mustafa Naimi
*مدعیان تصوف:افکارونظریات*[1]
غلام مصطفےٰ نعیمی
جنرل سیکریٹری تحریک فروغ اسلام دہلی
gmnaimi@gmail.com
خانقاہ کچھوچھہ مقدسہ کے اظہار موقف کے بعد بعض مدعیان تصوف کا ردعمل ایسا تھا جیسا رنگے ہاتھوں پکڑے جانے پر کسی پاکٹ مار کا ہوتاہے۔اعلان برأت واظہار موقف کے بعد "اعتدال ووسطیت اور احسان ورواداری" کی مالا جپنے والے متصوفین نے سوشل میڈیاپرگالی گلوچ کا بازار گرم کردیا۔سادات کچھوچھہ مقدسہ پر انتہائی بھونڈے اور بھدے جملے کسے گئے،اس سے بھی دل نہیں بھراتوشیخ سراواں سے اکتساب فیض کرنے والے ایک نیم اردوخواں،خشخشی ریش مجاور سے جی بھرکر ہرزہ سرائی کرائی گئی۔حدتویہ ہے کہ سیدنا ابوبکرصدیق وحضرت امیرمعاویہ رضی اللہ عنہما کی شان اقدس میں انتہائی رکیک اور ایمان سوز لفظوں کا استعمال کیاگیا۔تصوف وسلوک کی بات کرنے والے ان "متصوفین"کی زبان کے نمونہ آپ بھی ملاحظہ فرمائیں:
🔻 سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی افضلیت اور خلافت کے اجماع کا انکار کیا۔
🔻 سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی ذات پر فسق وفجور کا حکم لگایا۔
🔻 تعظیم حضرت امیرمعاویہ کے قائلین کو کافر قرار دیا۔
🔻 سوادِ اہل سنت کو خارجی وناصبی قرار دیا۔
🔻 عدم ایمان ابو طالب کے قائلین کو کافر قرار دیا۔
🔻 اکابرین کچھوچھہ کو خارجی اور ان کی سیادت کو مسلوب قراردیا۔
یہ سب نمونے تو ہم نے بڑی احتیاط سے نقل کئے ہیں ورنہ اصل زبان تو نقل کئے جانے لائق ہے ہی نہیں!!
یہ ان لوگوں کی زبان ہے جو دوسروں پر سخت کلامی کا الزام دیتے ہیں۔اِنہیں "متصوفین"کا دعوی ہے کہ "صوفیا نے کسی کو کافر نہیں کہا"،لیکن آپ دیکھیں کہ اس رفض زدہ مجاور نے کس بے دردی کے ساتھ کفر کی گن مشین چلائی ہے جس سے اخلاف واسلاف تک کوئی محفوظ نہیں رہا،پھر بھی ان لوگوں کا دعویٰ ہے کہ یہ "محبت والے ہیں"۔
کتنے میٹھے ہیں تیرے لب اے رقیب
گالیاں دے کے بھی بدمزہ نہ ہوئے
جب چہارجانب سے ان رفض نواز مجاورین کا تعاقب شروع ہوا،تو ڈیمج کنٹرول( control Damage)کی کوششوں کے تحت چندسرخیل متصوفین اجمیر معلی میں جمع ہوئے۔پہلے ان سرخیل متصوفین پر ایک نظرڈال لیں تاکہ ان کے خدوخال ذہن میں رہیں۔
🔻 کاظم پاشا حیدرآباد :موصوف اپنے حلقہ احباب میں خطیب دکن کے طور پر شہرت رکھتے ہیں۔آنجناب نے اپنی ایک تقریر میں صحابی رسول حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ کومعاذاللہ 'بدبخت' قرار دیا۔
🔻 سرورچشتی: موصوف خشخشی ریش گدین نشین ہیں،آپ کے فرمان عالیشان کے مطابق سواد اعظم اہل سنت کی اکثریت خارجی وناصبی ہے۔
🔻 تنویراشرف بیجاپور: صوفی کانفرنس میں موصوف کی باوقار موجودگی میں"شری نریندر مودی" کےلئے"عمرخضر" کی دعا کرائی گئی،مگرجناب کے لبوں پر قفل سکوت لگا رہا۔
عزیزان گرامی!!
جو متصوفین ایسے سوقیانہ خیالات اور ایسی بازاری زبان رکھتے ہوں ،ان کی زبانوں سے "احسان وسلوک"کی بات سننا ایسا ہی ہے جیسا آر ایس ایس کے لوگوں سے "حب الوطنی" کا بھاشن سننا۔
سونا جنگل، رات اندھیری، چھائی بدلی کالی ہے
سونے والو!جاگتے رہیو چوروں کی رکھوالی ہے
مؤرخہ 30 صفرالمظفر1440ھ
9نومبر 2018ء بروز جمعہ
غلام مصطفےٰ نعیمی
جنرل سیکریٹری تحریک فروغ اسلام دہلی
gmnaimi@gmail.com
خانقاہ کچھوچھہ مقدسہ کے اظہار موقف کے بعد بعض مدعیان تصوف کا ردعمل ایسا تھا جیسا رنگے ہاتھوں پکڑے جانے پر کسی پاکٹ مار کا ہوتاہے۔اعلان برأت واظہار موقف کے بعد "اعتدال ووسطیت اور احسان ورواداری" کی مالا جپنے والے متصوفین نے سوشل میڈیاپرگالی گلوچ کا بازار گرم کردیا۔سادات کچھوچھہ مقدسہ پر انتہائی بھونڈے اور بھدے جملے کسے گئے،اس سے بھی دل نہیں بھراتوشیخ سراواں سے اکتساب فیض کرنے والے ایک نیم اردوخواں،خشخشی ریش مجاور سے جی بھرکر ہرزہ سرائی کرائی گئی۔حدتویہ ہے کہ سیدنا ابوبکرصدیق وحضرت امیرمعاویہ رضی اللہ عنہما کی شان اقدس میں انتہائی رکیک اور ایمان سوز لفظوں کا استعمال کیاگیا۔تصوف وسلوک کی بات کرنے والے ان "متصوفین"کی زبان کے نمونہ آپ بھی ملاحظہ فرمائیں:
🔻 سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی افضلیت اور خلافت کے اجماع کا انکار کیا۔
🔻 سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی ذات پر فسق وفجور کا حکم لگایا۔
🔻 تعظیم حضرت امیرمعاویہ کے قائلین کو کافر قرار دیا۔
🔻 سوادِ اہل سنت کو خارجی وناصبی قرار دیا۔
🔻 عدم ایمان ابو طالب کے قائلین کو کافر قرار دیا۔
🔻 اکابرین کچھوچھہ کو خارجی اور ان کی سیادت کو مسلوب قراردیا۔
یہ سب نمونے تو ہم نے بڑی احتیاط سے نقل کئے ہیں ورنہ اصل زبان تو نقل کئے جانے لائق ہے ہی نہیں!!
یہ ان لوگوں کی زبان ہے جو دوسروں پر سخت کلامی کا الزام دیتے ہیں۔اِنہیں "متصوفین"کا دعوی ہے کہ "صوفیا نے کسی کو کافر نہیں کہا"،لیکن آپ دیکھیں کہ اس رفض زدہ مجاور نے کس بے دردی کے ساتھ کفر کی گن مشین چلائی ہے جس سے اخلاف واسلاف تک کوئی محفوظ نہیں رہا،پھر بھی ان لوگوں کا دعویٰ ہے کہ یہ "محبت والے ہیں"۔
کتنے میٹھے ہیں تیرے لب اے رقیب
گالیاں دے کے بھی بدمزہ نہ ہوئے
جب چہارجانب سے ان رفض نواز مجاورین کا تعاقب شروع ہوا،تو ڈیمج کنٹرول( control Damage)کی کوششوں کے تحت چندسرخیل متصوفین اجمیر معلی میں جمع ہوئے۔پہلے ان سرخیل متصوفین پر ایک نظرڈال لیں تاکہ ان کے خدوخال ذہن میں رہیں۔
🔻 کاظم پاشا حیدرآباد :موصوف اپنے حلقہ احباب میں خطیب دکن کے طور پر شہرت رکھتے ہیں۔آنجناب نے اپنی ایک تقریر میں صحابی رسول حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ کومعاذاللہ 'بدبخت' قرار دیا۔
🔻 سرورچشتی: موصوف خشخشی ریش گدین نشین ہیں،آپ کے فرمان عالیشان کے مطابق سواد اعظم اہل سنت کی اکثریت خارجی وناصبی ہے۔
🔻 تنویراشرف بیجاپور: صوفی کانفرنس میں موصوف کی باوقار موجودگی میں"شری نریندر مودی" کےلئے"عمرخضر" کی دعا کرائی گئی،مگرجناب کے لبوں پر قفل سکوت لگا رہا۔
عزیزان گرامی!!
جو متصوفین ایسے سوقیانہ خیالات اور ایسی بازاری زبان رکھتے ہوں ،ان کی زبانوں سے "احسان وسلوک"کی بات سننا ایسا ہی ہے جیسا آر ایس ایس کے لوگوں سے "حب الوطنی" کا بھاشن سننا۔
سونا جنگل، رات اندھیری، چھائی بدلی کالی ہے
سونے والو!جاگتے رہیو چوروں کی رکھوالی ہے
مؤرخہ 30 صفرالمظفر1440ھ
9نومبر 2018ء بروز جمعہ
❤1
Forwarded from Ghulam Mustafa Naimi
*بند دماغ سراویوں, نیچریوں اور جدیدیوں کے نام*
از : غلام مصطفی نعیمی
ایڈیٹر سواد اعظم دہلی
بچپن میں ایک فارسی کہاوت پڑھی تھی :
یک من علم را دہ من عقل باید. یعنی ایک مَن علم کے لئے دس مَن عقل چاہیے. لیکن حالاتِ زمانہ کی نیرنگی دیکھیے کہ جن لوگوں کو چھٹانک بھر بھی دولتِ علم صحیح طور سے نہ مل پائی وہ لوگ علم وفن کے کوہِ ہمالہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا کے علم پر نکتہ چینی کرنے کی جسارتِ بیجا کرتے ہیں.
پچاس سے زائد علوم پر مہارت رکھنے والی اتنی عظیم اور عبقری شخصیت کے علم پر اعتراض کرنے والے افراد کے بارے میں معروف پاکستانی محقق علامہ پیر ابوالحسن واحد رضوی تحریر فرماتے ہیں :
"آج کل جو شہرت حاصل کرنے کے لیے مختلف باتیں کرتے ہیں وہ عالم تو دور حقیقی طور پر طالب علم بھی نہیں ہیں. بلکہ عقل سے بھی کورے اور فہم سے عاری ہیں. اور رہی تقویٰ کی صفت! تو یہ تو شروع ہی سے ان کے لیے اجنبی اور نادیدہ ہے"
کور عقلی جیسی صفات سے متصف یہ حضرات آئے دن اپنی انہیں صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے رہتے ہیں..
پچھلے دنوں سیدی اعلی حضرت کے ایک فتوے پر ایک "صاحب بہادر" کا نوٹ اور انہیں کے ہم خیال افراد کے کچھ تبصرے نگاہوں سے گزرے... جن میں ان تمام افراد نے اپنی کور عقلی کا خوب خوب ثبوت دیا.
سوال یہ تھا کہ جن اداروں میں انگریزی کی تعلیم دی جاتی ہے وہاں چرم قربانی دینا موجب ثواب ہے یا نہیں ؟
اس کا جواب دیتے ہوئے اعلی حضرت تحریر فرماتے ہیں :
"مصرف قربانی میں تین باتیں حدیث میں ارشاد ہوئی ہیں :کھاؤ اور ذخیرہ رکھو اور ثواب کے کام کرو.
انگریزی پڑھنا بے شک کوئی بات ثواب کی نہیں. اگر یہ احتیاط ہوسکے کہ اس کے دام صرف قرآن مجید وعلم دین کی تعلیم میں صرف کیے جائیں تو دے سکتے ہیں ورنہ نہیں."
اعلی حضرت کے اس صاف وشفاف فتوے پر اپنی زہر بجھی طبیعت کا مظاہرہ کچھ اس طرح کیا گیا اور اعلی حضرت پر یہ رکیک الزام لگایا گیا:
"مولانا احمد رضا خاں علیہ الرحمہ کو آنے والے جبری حالات ومقتضیات کا وقت رہتے اندازہ نہیں ہوسکا اور وہ ایک ضروری چیز سے بھی لوگوں کو جاہل رکھے ہوئے تھے.
کیا مخالف کی زبان سیکھنا اور اس کی تہذیب سے آشنا ہونا ان لوگوں کے لئے بھی غلط ٹھہرے گا جو دین وسنیت کے سپاہی بننے جارہے تھے؟"
قارئین اس تبصرہ کی زبان پر غور کریں کہ امام احمد رضا قادری قدس سرہ کے علم وفضل پر کس گھٹیا اور بھونڈے انداز میں تبصرہ کیا گیا ہے.
"صاحب بہادر" اور ان کے دوستوں نے فیس بک پر بڑے سطحی انداز میں اپنی "فطری صلاحیتوں" کا استعمال کرتے ہوئے تنقیص میں کوئی کسر باقی نہ رکھی.
قارئین!
اعلی حضرت نے یہ فتوی 1333ھ میں دیا تھا یعنی آج سے قریب 105 سال پہلے...جب وطنِ عزیز انگریزوں کے غاصبانہ قبضے میں تھا.
اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے یہ نکات ملاحظہ فرمائیں:
اعلی حضرت قدس سرہ نے *اِس فتوے میں انگریزی زبان کی تعلیم سے کہیں بھی منع نہیں کیا. بلکہ اُس زمانے میں (105 سال پہلے کے بھارت میں) اس کے صِرف اور صِرف "کارِ ثواب" ہونے کی نفی کی ہے.
اب اِسے سراواں کا "فیضِ خیانت" کہا جائے یا کم عقلی اور جہالت کہ "صاحب بہادر" نے یہ نتیجہ نکال لیا کہ اعلی حضرت لوگوں کے انگریزی زبان سیکھنے کو غلط کہہ رہے ہیں اور لوگوں کو اس سے روک رہے ہیں؟؟؟!؟!!!
ہم "صاحب بہادر" کو زندگی بھر کی مہلت دیتے ہیں کہ وہ اس فتوے میں اپنا اختراعی مفہوم ثابت کرکے دکھائیں.
انگریزی زبان کی تعلیم کو اُس دور میں "کارِ ثواب" نہ ماننے پر "صاحب بہادر" کی اتنی برہمی کہیں اس بات کی غمازی تو نہیں کر رہی کہ اگر "صاحب بہادر" اور اُن کے ممدوحین اُس انگریزوں کے بھارت میں ہوتے تو انگریزوں کی زبان سیکھنے اور سکھانے کو کارِ ثواب اور قربتِ خداوندی کا وسیلہ قرار دے دیتے.!!!
بے خودی بے سبب نہیں غالب..
انگریز بہادر چونکہ مسلمانوں کو اپنا حقیقی دشمن سمجھتے تھے اس لیے انھوں نے اہل اسلام کو ان کے مذہب سے دور کرنے کی خاطر مسلمانوں میں رائج زبان عربی وفارسی اور اردو کو کمزورکرنا چاہا اورانگریزی زبان کو بڑھاوا دینا شروع کیا تاکہ مسلمانوں کا رشتہ اپنی زبانوں سے کمزور ہو جائے. جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسان اپنے مذہب سے بہت دور ہوجاتا ہے اور پھر اس کو بہکانا بہت آسان ہوجاتا ہے... جیسا کہ آزادی کے فوراً بعد اردو کو کمزور کر ہندی ودیگر علاقائی زبانوں کو بڑھاوا دیا گیا جس کا نتیجہ آج یہ ہے کہ مسلمانوں کی ایک بہت بڑی تعداد دین اور دینی تعلیم سے دور ہوچکی ہے.
ہر قوم کی زبان اس کی ثقافت اور کلچر کی جان ہوا کرتی ہے. انگریزی زبان کے فروغ کے پس پشت مغربی تہذیب اور مغربی کلچر کو بڑھاوا دینا انگریزوں کا مقصود تھا تاکہ اسلامی تہذیب وآثار کو ختم کیا جاسکے. جس طرح آج ہندو طاقتیں سنسکرت اور ہندی کی تعلیم کے نام پر ہندو کلچر کو بڑھاوا دے رہی ہیں. وہی ماحول اس وقت انگریزی کا تھا.
اب سے سو سال پہلے انگریزی زبان کی آج کی طرح کوئی عالمی حیثیت بھی نہیں تھی کہ جس سے بہت وسیع پیمانے پر تب
از : غلام مصطفی نعیمی
ایڈیٹر سواد اعظم دہلی
بچپن میں ایک فارسی کہاوت پڑھی تھی :
یک من علم را دہ من عقل باید. یعنی ایک مَن علم کے لئے دس مَن عقل چاہیے. لیکن حالاتِ زمانہ کی نیرنگی دیکھیے کہ جن لوگوں کو چھٹانک بھر بھی دولتِ علم صحیح طور سے نہ مل پائی وہ لوگ علم وفن کے کوہِ ہمالہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا کے علم پر نکتہ چینی کرنے کی جسارتِ بیجا کرتے ہیں.
پچاس سے زائد علوم پر مہارت رکھنے والی اتنی عظیم اور عبقری شخصیت کے علم پر اعتراض کرنے والے افراد کے بارے میں معروف پاکستانی محقق علامہ پیر ابوالحسن واحد رضوی تحریر فرماتے ہیں :
"آج کل جو شہرت حاصل کرنے کے لیے مختلف باتیں کرتے ہیں وہ عالم تو دور حقیقی طور پر طالب علم بھی نہیں ہیں. بلکہ عقل سے بھی کورے اور فہم سے عاری ہیں. اور رہی تقویٰ کی صفت! تو یہ تو شروع ہی سے ان کے لیے اجنبی اور نادیدہ ہے"
کور عقلی جیسی صفات سے متصف یہ حضرات آئے دن اپنی انہیں صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے رہتے ہیں..
پچھلے دنوں سیدی اعلی حضرت کے ایک فتوے پر ایک "صاحب بہادر" کا نوٹ اور انہیں کے ہم خیال افراد کے کچھ تبصرے نگاہوں سے گزرے... جن میں ان تمام افراد نے اپنی کور عقلی کا خوب خوب ثبوت دیا.
سوال یہ تھا کہ جن اداروں میں انگریزی کی تعلیم دی جاتی ہے وہاں چرم قربانی دینا موجب ثواب ہے یا نہیں ؟
اس کا جواب دیتے ہوئے اعلی حضرت تحریر فرماتے ہیں :
"مصرف قربانی میں تین باتیں حدیث میں ارشاد ہوئی ہیں :کھاؤ اور ذخیرہ رکھو اور ثواب کے کام کرو.
انگریزی پڑھنا بے شک کوئی بات ثواب کی نہیں. اگر یہ احتیاط ہوسکے کہ اس کے دام صرف قرآن مجید وعلم دین کی تعلیم میں صرف کیے جائیں تو دے سکتے ہیں ورنہ نہیں."
اعلی حضرت کے اس صاف وشفاف فتوے پر اپنی زہر بجھی طبیعت کا مظاہرہ کچھ اس طرح کیا گیا اور اعلی حضرت پر یہ رکیک الزام لگایا گیا:
"مولانا احمد رضا خاں علیہ الرحمہ کو آنے والے جبری حالات ومقتضیات کا وقت رہتے اندازہ نہیں ہوسکا اور وہ ایک ضروری چیز سے بھی لوگوں کو جاہل رکھے ہوئے تھے.
کیا مخالف کی زبان سیکھنا اور اس کی تہذیب سے آشنا ہونا ان لوگوں کے لئے بھی غلط ٹھہرے گا جو دین وسنیت کے سپاہی بننے جارہے تھے؟"
قارئین اس تبصرہ کی زبان پر غور کریں کہ امام احمد رضا قادری قدس سرہ کے علم وفضل پر کس گھٹیا اور بھونڈے انداز میں تبصرہ کیا گیا ہے.
"صاحب بہادر" اور ان کے دوستوں نے فیس بک پر بڑے سطحی انداز میں اپنی "فطری صلاحیتوں" کا استعمال کرتے ہوئے تنقیص میں کوئی کسر باقی نہ رکھی.
قارئین!
اعلی حضرت نے یہ فتوی 1333ھ میں دیا تھا یعنی آج سے قریب 105 سال پہلے...جب وطنِ عزیز انگریزوں کے غاصبانہ قبضے میں تھا.
اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے یہ نکات ملاحظہ فرمائیں:
اعلی حضرت قدس سرہ نے *اِس فتوے میں انگریزی زبان کی تعلیم سے کہیں بھی منع نہیں کیا. بلکہ اُس زمانے میں (105 سال پہلے کے بھارت میں) اس کے صِرف اور صِرف "کارِ ثواب" ہونے کی نفی کی ہے.
اب اِسے سراواں کا "فیضِ خیانت" کہا جائے یا کم عقلی اور جہالت کہ "صاحب بہادر" نے یہ نتیجہ نکال لیا کہ اعلی حضرت لوگوں کے انگریزی زبان سیکھنے کو غلط کہہ رہے ہیں اور لوگوں کو اس سے روک رہے ہیں؟؟؟!؟!!!
ہم "صاحب بہادر" کو زندگی بھر کی مہلت دیتے ہیں کہ وہ اس فتوے میں اپنا اختراعی مفہوم ثابت کرکے دکھائیں.
انگریزی زبان کی تعلیم کو اُس دور میں "کارِ ثواب" نہ ماننے پر "صاحب بہادر" کی اتنی برہمی کہیں اس بات کی غمازی تو نہیں کر رہی کہ اگر "صاحب بہادر" اور اُن کے ممدوحین اُس انگریزوں کے بھارت میں ہوتے تو انگریزوں کی زبان سیکھنے اور سکھانے کو کارِ ثواب اور قربتِ خداوندی کا وسیلہ قرار دے دیتے.!!!
بے خودی بے سبب نہیں غالب..
انگریز بہادر چونکہ مسلمانوں کو اپنا حقیقی دشمن سمجھتے تھے اس لیے انھوں نے اہل اسلام کو ان کے مذہب سے دور کرنے کی خاطر مسلمانوں میں رائج زبان عربی وفارسی اور اردو کو کمزورکرنا چاہا اورانگریزی زبان کو بڑھاوا دینا شروع کیا تاکہ مسلمانوں کا رشتہ اپنی زبانوں سے کمزور ہو جائے. جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسان اپنے مذہب سے بہت دور ہوجاتا ہے اور پھر اس کو بہکانا بہت آسان ہوجاتا ہے... جیسا کہ آزادی کے فوراً بعد اردو کو کمزور کر ہندی ودیگر علاقائی زبانوں کو بڑھاوا دیا گیا جس کا نتیجہ آج یہ ہے کہ مسلمانوں کی ایک بہت بڑی تعداد دین اور دینی تعلیم سے دور ہوچکی ہے.
ہر قوم کی زبان اس کی ثقافت اور کلچر کی جان ہوا کرتی ہے. انگریزی زبان کے فروغ کے پس پشت مغربی تہذیب اور مغربی کلچر کو بڑھاوا دینا انگریزوں کا مقصود تھا تاکہ اسلامی تہذیب وآثار کو ختم کیا جاسکے. جس طرح آج ہندو طاقتیں سنسکرت اور ہندی کی تعلیم کے نام پر ہندو کلچر کو بڑھاوا دے رہی ہیں. وہی ماحول اس وقت انگریزی کا تھا.
اب سے سو سال پہلے انگریزی زبان کی آج کی طرح کوئی عالمی حیثیت بھی نہیں تھی کہ جس سے بہت وسیع پیمانے پر تب
❤1
Forwarded from Ghulam Mustafa Naimi
لغ واشاعت اور دینی فوائد حاصل کیے جاسکتے.
زبانیں صرف وسیلۂ استفہام و اظہار ہوا کرتی ہیں. جس زبان کا یہ حال ہو ظاہر ہے اس کی تعلیم ہمارے دینی نقطۂ نظر سے "کارِ ثواب" نہیں ہو سکتی.
یہ نکات تو ہماری محدود فکر کا نتیجہ ہیں. اس عظیم المرتبت شخصیت کی فکر و نظر کی وسعت کا کیا عالم ہوگا جسے اللہ تعالی نے اپنے دین کی تجدید کے لیے مامور فرمایا ہو؟
اس لیے اگر اعلی حضرت نے اس زمانے کے ماحول کو مد نظر رکھتے ہوئے "انگریزی تعلیم کو کارِ ثواب" قرار نہیں دیا تو آج کے "کالے انگریزوں" کے پیٹ میں بھلا کیوں درد ہورہا ہے یہ سمجھ سے پرے ہے.
"صاحب بہادر" نے ایک خیانت یہ کی ہے کہ اعلی حضرت نے اپنے فتوے میں ایک قید لگائی تھی کہ اگر چرمِ قربانی کو تعلیم قرآن اور دینی تعلیم میں ہی خرچ کیا جائے تو جن اداروں میں انگریزی پڑھائی جاتی ہو وہاں بھی دے سکتے ہیں.
لیکن معترض نے کمال ڈھٹائی سے "مقید" کو "مطلق" سے بدل کر یہ سرخی لگائی :
"جن مدرسوں میں انگریزی پڑھائی جائے وہاں چرم قربانی دینا جائز نہیں"!!!!
دن کے اجالے میں آنکھوں کے سامنے چوری کرنا شاید اِسی ادا کا نام ہے :
عجب دزدے دلاور ست...
اب آئیں اعلی حضرت کی فکری وسعت اور جذبہ دینی کا یہ رُخ ملاحظہ کریں جسے یا تو معترضین شوقِ تنقیص میں دیکھ نہیں پاتے یا دیکھ کر بھی آنکھیں بند کرلیتے ہیں.
آپ کی بارگاہ میں انگریزی زبان سیکھنے کے تعلق سے سوال کیا گیا تو آپ نے یہ جواب تحریر فرمایا :
"ذی علم مسلمان اگر بہ نیتِ ردّ نصاری انگریزی پڑھے، اجر پائے گا.. اور دنیا کے لیے صرف زبان سیکھنے یا حساب اقلیدس جغرافیہ جائز علم پڑھنے میں حرج نہیں بشرطیکہ ہمہ تن اس میں مصروف ہوکر اپنے دینی علم سے غافل نہ ہو جائے"
(فتاوی رضویہ قدیم جلد نہم ص 99)
پہلے فتوے میں خیانت کرنے والے کور عقل اب بتائیں کہ اعلی حضرت انگریزی سے لوگوں کو جاہل رکھے ہوئے تھے یا بہ نیتِ ردّ نصاریٰ سیکھنے پر اجر و ثواب کا مژدہ سنا رہے تھے؟؟
لوگوں کو جاہل رکھنے جیسا گھٹیا اور بیہودہ الزام لگانے جیسا ذلیل کام تو دشمن بھی نہیں کر سکا مگر یہ کام "بھیڑ نما بھیڑیے"خوب کر رہے ہیں.
مخالف کی زبان سیکھ کر ان کی تردید کرنے والے سپاہی دیکھنا ہوں تو مبلغِ اسلام علامہ عبدالعلیم صدیقی میرٹھی علیہ الرحمہ کا نام نامی ہی کافی ہے.جو اعلی حضرت کے دامن کرم سے وابستہ تھے...
اب ایک نظر معترض کے رویے پر:
معترض صاحب بریلوی حضرات پر گالی جیسا الزام لگا کر خود "بند دماغ, بے بصیرت بریلوی, جاہل اور اجڈ" جیسے "ادبی چاشنی میں دھلے ہوئے جملے" استعمال کرتے ہیں... ان کی اس ادبی زبان کو دیکھ کر بے اختیار کہنا پڑتا ہے :
کتنے میٹھے ہیں تیرے لب اے رقیب
گالی دے کر بھی بد مزہ نہ ہوئے
کہتے ہیں دل کا معاملہ بھی بڑا عجیب ہوتا ہے. یہ جب محبت کرتا ہے تو"کفر واسلام کی سرحد سے بہت دور دنیا بسانے والے" کو "داعیِ اسلام", "عارف باللہ" کہتے نہیں تھکتا.
لیکن!
اگر یہی دل بغض ونفرت پال لے تو "مجددِ دین" اور "شیخ الاسلام والمسلمین" کو بھی "مولانا" کہتے وقت زبان گنگ اور قلم کی روشنائی خشک ہوجاتی ہے.!!
آخر میں ہم یہی دعا کریں گے کہ مولیٰ تعالیٰ ہمیں بزرگوں کی بے ادبی, انانیت, ضد اور ہٹ دھرمی سے محفوظ رکھے اور بھٹکے ہوئے آہوؤں کو پھر سے سوے حرم رواں دواں فرمائے.
غلام مصطفی نعیمی
ایڈیٹر: "سواد اعظم" دہلی
ای میل: gmnaimi@gmail.com
زبانیں صرف وسیلۂ استفہام و اظہار ہوا کرتی ہیں. جس زبان کا یہ حال ہو ظاہر ہے اس کی تعلیم ہمارے دینی نقطۂ نظر سے "کارِ ثواب" نہیں ہو سکتی.
یہ نکات تو ہماری محدود فکر کا نتیجہ ہیں. اس عظیم المرتبت شخصیت کی فکر و نظر کی وسعت کا کیا عالم ہوگا جسے اللہ تعالی نے اپنے دین کی تجدید کے لیے مامور فرمایا ہو؟
اس لیے اگر اعلی حضرت نے اس زمانے کے ماحول کو مد نظر رکھتے ہوئے "انگریزی تعلیم کو کارِ ثواب" قرار نہیں دیا تو آج کے "کالے انگریزوں" کے پیٹ میں بھلا کیوں درد ہورہا ہے یہ سمجھ سے پرے ہے.
"صاحب بہادر" نے ایک خیانت یہ کی ہے کہ اعلی حضرت نے اپنے فتوے میں ایک قید لگائی تھی کہ اگر چرمِ قربانی کو تعلیم قرآن اور دینی تعلیم میں ہی خرچ کیا جائے تو جن اداروں میں انگریزی پڑھائی جاتی ہو وہاں بھی دے سکتے ہیں.
لیکن معترض نے کمال ڈھٹائی سے "مقید" کو "مطلق" سے بدل کر یہ سرخی لگائی :
"جن مدرسوں میں انگریزی پڑھائی جائے وہاں چرم قربانی دینا جائز نہیں"!!!!
دن کے اجالے میں آنکھوں کے سامنے چوری کرنا شاید اِسی ادا کا نام ہے :
عجب دزدے دلاور ست...
اب آئیں اعلی حضرت کی فکری وسعت اور جذبہ دینی کا یہ رُخ ملاحظہ کریں جسے یا تو معترضین شوقِ تنقیص میں دیکھ نہیں پاتے یا دیکھ کر بھی آنکھیں بند کرلیتے ہیں.
آپ کی بارگاہ میں انگریزی زبان سیکھنے کے تعلق سے سوال کیا گیا تو آپ نے یہ جواب تحریر فرمایا :
"ذی علم مسلمان اگر بہ نیتِ ردّ نصاری انگریزی پڑھے، اجر پائے گا.. اور دنیا کے لیے صرف زبان سیکھنے یا حساب اقلیدس جغرافیہ جائز علم پڑھنے میں حرج نہیں بشرطیکہ ہمہ تن اس میں مصروف ہوکر اپنے دینی علم سے غافل نہ ہو جائے"
(فتاوی رضویہ قدیم جلد نہم ص 99)
پہلے فتوے میں خیانت کرنے والے کور عقل اب بتائیں کہ اعلی حضرت انگریزی سے لوگوں کو جاہل رکھے ہوئے تھے یا بہ نیتِ ردّ نصاریٰ سیکھنے پر اجر و ثواب کا مژدہ سنا رہے تھے؟؟
لوگوں کو جاہل رکھنے جیسا گھٹیا اور بیہودہ الزام لگانے جیسا ذلیل کام تو دشمن بھی نہیں کر سکا مگر یہ کام "بھیڑ نما بھیڑیے"خوب کر رہے ہیں.
مخالف کی زبان سیکھ کر ان کی تردید کرنے والے سپاہی دیکھنا ہوں تو مبلغِ اسلام علامہ عبدالعلیم صدیقی میرٹھی علیہ الرحمہ کا نام نامی ہی کافی ہے.جو اعلی حضرت کے دامن کرم سے وابستہ تھے...
اب ایک نظر معترض کے رویے پر:
معترض صاحب بریلوی حضرات پر گالی جیسا الزام لگا کر خود "بند دماغ, بے بصیرت بریلوی, جاہل اور اجڈ" جیسے "ادبی چاشنی میں دھلے ہوئے جملے" استعمال کرتے ہیں... ان کی اس ادبی زبان کو دیکھ کر بے اختیار کہنا پڑتا ہے :
کتنے میٹھے ہیں تیرے لب اے رقیب
گالی دے کر بھی بد مزہ نہ ہوئے
کہتے ہیں دل کا معاملہ بھی بڑا عجیب ہوتا ہے. یہ جب محبت کرتا ہے تو"کفر واسلام کی سرحد سے بہت دور دنیا بسانے والے" کو "داعیِ اسلام", "عارف باللہ" کہتے نہیں تھکتا.
لیکن!
اگر یہی دل بغض ونفرت پال لے تو "مجددِ دین" اور "شیخ الاسلام والمسلمین" کو بھی "مولانا" کہتے وقت زبان گنگ اور قلم کی روشنائی خشک ہوجاتی ہے.!!
آخر میں ہم یہی دعا کریں گے کہ مولیٰ تعالیٰ ہمیں بزرگوں کی بے ادبی, انانیت, ضد اور ہٹ دھرمی سے محفوظ رکھے اور بھٹکے ہوئے آہوؤں کو پھر سے سوے حرم رواں دواں فرمائے.
غلام مصطفی نعیمی
ایڈیٹر: "سواد اعظم" دہلی
ای میل: gmnaimi@gmail.com
❤1
Forwarded from Zubair 006
تاج الشریعہ اور تحفظ ایمان
از محمد زبیر قادری،
ایڈیٹر مسلک، ممبئی
حضور تاج الشریعہ حضرت علامہ مفتی اختررضا قادری ازہری رحمۃ اللہ علیہ کا شمار ہندوستان میں اہلِ سنّت و جماعت کے ان اساطین میں ہوتا ہے، جن کی وجہ سے یہاں سُنّیت محفوظ ہے ، اور محفوظ رہے گی۔ اس میں دو رائے نہیں کہ حق و باطل میں امتیاز خانوادۂ رضویہ کا ہمیشہ سے وطیرہ رہا ہے۔ حضور تاج الشریعہ نے بھی زندگی بھر اس پر عمل کیا .... ان شاء اللہ ہمیشہ ہمیش یہ عمل مستحکم اور قائم و دائم رہے۔
اکثر لوگ خانوادۂ اعلیٰ حضرت پر یہ اعتراضات کرتے ہیں کہ وہ لوگ سوائے فتویٰ دینے کے دین و سُنّیت کا کچھ کام نہیں کرتے۔اور جو بھی کام کرتا ہے، اس پر فتوے بازی شروع کردیتے ہیں۔
کافی عرصے قبل احقر بھی اس خیال کا حامی ہوگیا تھا۔ لیکن حالات کا مشاہدہ کرتے کرتے حق و باطل میں امتیاز واضح ہوگیا۔ سمجھ میں آگیا کہ ہر کسی کا احتساب کیوں ضروری ہے۔
ہمارے پڑوسی ملک کا منظر نامہ دیکھ لیجیے، بہت سارے دینی فتنے وہاں سے اُٹھے۔جس نے سُنیت کو پارہ پارہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اس بات کا ہمیں اعتراف ہے کہ وہاں دین و سنّیت کا اچھا خاصا کام ہوا اور ہورہا ہے.... مگر ساتھ ہی وہاں سے اُٹھنے والے دینی فتنوں نے سنّیت کو جو نقصان پہنچایا، اس کی تلافی بھی ممکن نہیں۔ طاہر القادری، گوہر شاہی، جاوید غامدی، مرزا انجینئر وغیرہ اور نہ جانے کتنے ہی پیروں نے عوام کو گمراہ کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی ہے۔ قادیانیت کو سب سے زیادہ فروغ وہیں سے ملا.... یہ سب کیسے ممکن ہوگیا؟؟ حالانکہ وہاں بھی سنّیوں کی اکثریت ہے، اس کے باوجود بھی آئے دن نت نئے فتنے و فرقے وجود پذیر ہوتے رہتے ہیں اور دین و سنّیت کو کھوکھلا کرنے کی کوششیں کرتے رہتے ہیں ۔
اس کے برعکس ہند میں جب بھی دین کے نام پر کوئی فتنہ اُٹھنے کی کوشش کرتا ہے، اس کا سر کچل دیا جاتا ہے، اس کا گلا دبا دیا جاتا ہے۔ایسی سخت گرفت کی جاتی ہے کہ اگر وہ فتنہ مکمل ختم نہیں ہوتا، تب بھی محدود و مطعون ضرور ہوجاتا ہے۔ اس قدر معتوب ہوجاتا ہے کہ لوگ ان کو بُرے الفاظ سے یاد کرتے ہیں۔ حال ہی میں الہٰ آباد سے اُٹھنے والا فتنہ سیّد سراواں کو دیکھ لیجیے۔ جس نے کئی بڑوں پر ایسا جادو چلایا کہ وہ بھی تقلید سے منحرف اُس صوفی کے اسیر نظر آنے لگے۔ لیکن خانوادۂ بریلی شریف سے وابستہ رہنے والے علما و مفتیان و خلفا کبھی کسی فتنے سے جلد متاثر نہیں ہوتے۔ کبھی کسی نئی فکر و نظر سے متاثر نہیں ہوتے۔ لہٰذا علما کی گرفت اور تعاقب سے جلد ہی شیخ سراواں کا جادو مانند سراب زائل ہوگیا، ورنہ نہ جانے کتنے لوگ اس کے دام فریب کا شکار ہوجاتے۔
اس سے قبل ماہ نامہ جامِ نور تیزی سے ایک فتنے کی شکل میں اُبھرا.... حضرت علامہ ارشد القادری کی نسبت نے لوگوں کو اس تحریک کے قریب کردیا.... مگر جب اس نے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہٗ کی فکر و نظر سے انحراف کیا، تو لوگ اس سے دور ہوتے گئے۔ اس فتنے نے بہت اہلِ علم کو اپنا اسیر کیا.... پھر ان کی زبانیں اپنے اسلاف کے حق میں گستاخ ہوگئیں۔ رفتہ رفتہ جام نور کی حقیقت واضح ہوتی گئی... اور آخر میں یہ فتنۂ رواں صدی طاہر القادری سے مل گیا۔تو اس کی اصلیت خوب واضح ہوگئی۔
عرض مدّعا یہی ہے کہ دین پر کسی حاکم کی گرفت مضبوط ہونا لازمی ہے، ورنہ لوگ دین سے کھلواڑ کرنے لگ جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی بروقت پکڑ کرنا، اس فتنے کا سدّباب کرنا.... آج کے دور میں سب سے اہم ضرورت ہے، جو کہ حضور تاج الشریعہ کے ذریعے ممکن ہوئی۔خارجی فتنوں سے تو ہم مستقل برسرِ پیکار رہتے ہی ہیں، لیکن داخلی فتنے جب سُنّی بن کر گمراہ کرنے نکلتے ہیں، تو اس کی پہچان دیر سے ہوتی ہے، تب تک کافی لوگ اس فتنے کے اسیر اور گمراہیت کا شکار ہوجاتے ہیں۔
آج فتنوں کا دَور دَورہ ہے.... باطل مذاہب.... باطل فرقے تو ہیں ہی.... لیکن صلح کلیت ایک بڑا فتنہ ہے، جو سنّیت میں رہتے ہوئے سنّیت کی جڑیں کھوکھلی کرنے میں لگا ہوا ہے۔ کوئی بھی فرد ہو، اِدارہ یا تنظیم ہو، جب تک وہ دین و سنّیت پر مضبوطی سے قائم ہے.... اور اسلاف سے ہٹ کر کچھ غلط راہ نہیں اپناتا، تب تک وہ اپنا ہے..... ورنہ سنّیت میں اس کے لیے جگہ نہیں۔
گروہ در گروہ اور فرقہ در فرقہ بنانے سے سنّیت پارہ پارہ ہورہی ہے۔ ہر کوئی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنائے اسی کو سارا دین سمجھ رہا ہے۔ تنظیمیں ، اِدارے بنائے جاتے ہیں دین و سُنّیت کی تبلیغ و اشاعت کے لیے، لیکن تنظیم کو ہی سارا دین و اسلام سمجھ لیا جاتا ہے.... اپنے آپ کو ہر تنقید سے بالاتر اور معصوم عن الخطا سمجھنا، یوں لگتا ہے اس دور کا خاصا بن گیا ہے۔ اس لیے بھلے ہی آپ کسی بھی تنظیم سے وابستہ ہوں، یہ مزاج اپنا لیجیے کہ صرف سنّیت کے لیے کام کرنا ہے، سُنّی مبلغ ہی بنے رہنا ہے۔ اور تنظیم کا مقصد بھی تو یہی ہے ناں!!!
از محمد زبیر قادری،
ایڈیٹر مسلک، ممبئی
حضور تاج الشریعہ حضرت علامہ مفتی اختررضا قادری ازہری رحمۃ اللہ علیہ کا شمار ہندوستان میں اہلِ سنّت و جماعت کے ان اساطین میں ہوتا ہے، جن کی وجہ سے یہاں سُنّیت محفوظ ہے ، اور محفوظ رہے گی۔ اس میں دو رائے نہیں کہ حق و باطل میں امتیاز خانوادۂ رضویہ کا ہمیشہ سے وطیرہ رہا ہے۔ حضور تاج الشریعہ نے بھی زندگی بھر اس پر عمل کیا .... ان شاء اللہ ہمیشہ ہمیش یہ عمل مستحکم اور قائم و دائم رہے۔
اکثر لوگ خانوادۂ اعلیٰ حضرت پر یہ اعتراضات کرتے ہیں کہ وہ لوگ سوائے فتویٰ دینے کے دین و سُنّیت کا کچھ کام نہیں کرتے۔اور جو بھی کام کرتا ہے، اس پر فتوے بازی شروع کردیتے ہیں۔
کافی عرصے قبل احقر بھی اس خیال کا حامی ہوگیا تھا۔ لیکن حالات کا مشاہدہ کرتے کرتے حق و باطل میں امتیاز واضح ہوگیا۔ سمجھ میں آگیا کہ ہر کسی کا احتساب کیوں ضروری ہے۔
ہمارے پڑوسی ملک کا منظر نامہ دیکھ لیجیے، بہت سارے دینی فتنے وہاں سے اُٹھے۔جس نے سُنیت کو پارہ پارہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اس بات کا ہمیں اعتراف ہے کہ وہاں دین و سنّیت کا اچھا خاصا کام ہوا اور ہورہا ہے.... مگر ساتھ ہی وہاں سے اُٹھنے والے دینی فتنوں نے سنّیت کو جو نقصان پہنچایا، اس کی تلافی بھی ممکن نہیں۔ طاہر القادری، گوہر شاہی، جاوید غامدی، مرزا انجینئر وغیرہ اور نہ جانے کتنے ہی پیروں نے عوام کو گمراہ کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی ہے۔ قادیانیت کو سب سے زیادہ فروغ وہیں سے ملا.... یہ سب کیسے ممکن ہوگیا؟؟ حالانکہ وہاں بھی سنّیوں کی اکثریت ہے، اس کے باوجود بھی آئے دن نت نئے فتنے و فرقے وجود پذیر ہوتے رہتے ہیں اور دین و سنّیت کو کھوکھلا کرنے کی کوششیں کرتے رہتے ہیں ۔
اس کے برعکس ہند میں جب بھی دین کے نام پر کوئی فتنہ اُٹھنے کی کوشش کرتا ہے، اس کا سر کچل دیا جاتا ہے، اس کا گلا دبا دیا جاتا ہے۔ایسی سخت گرفت کی جاتی ہے کہ اگر وہ فتنہ مکمل ختم نہیں ہوتا، تب بھی محدود و مطعون ضرور ہوجاتا ہے۔ اس قدر معتوب ہوجاتا ہے کہ لوگ ان کو بُرے الفاظ سے یاد کرتے ہیں۔ حال ہی میں الہٰ آباد سے اُٹھنے والا فتنہ سیّد سراواں کو دیکھ لیجیے۔ جس نے کئی بڑوں پر ایسا جادو چلایا کہ وہ بھی تقلید سے منحرف اُس صوفی کے اسیر نظر آنے لگے۔ لیکن خانوادۂ بریلی شریف سے وابستہ رہنے والے علما و مفتیان و خلفا کبھی کسی فتنے سے جلد متاثر نہیں ہوتے۔ کبھی کسی نئی فکر و نظر سے متاثر نہیں ہوتے۔ لہٰذا علما کی گرفت اور تعاقب سے جلد ہی شیخ سراواں کا جادو مانند سراب زائل ہوگیا، ورنہ نہ جانے کتنے لوگ اس کے دام فریب کا شکار ہوجاتے۔
اس سے قبل ماہ نامہ جامِ نور تیزی سے ایک فتنے کی شکل میں اُبھرا.... حضرت علامہ ارشد القادری کی نسبت نے لوگوں کو اس تحریک کے قریب کردیا.... مگر جب اس نے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہٗ کی فکر و نظر سے انحراف کیا، تو لوگ اس سے دور ہوتے گئے۔ اس فتنے نے بہت اہلِ علم کو اپنا اسیر کیا.... پھر ان کی زبانیں اپنے اسلاف کے حق میں گستاخ ہوگئیں۔ رفتہ رفتہ جام نور کی حقیقت واضح ہوتی گئی... اور آخر میں یہ فتنۂ رواں صدی طاہر القادری سے مل گیا۔تو اس کی اصلیت خوب واضح ہوگئی۔
عرض مدّعا یہی ہے کہ دین پر کسی حاکم کی گرفت مضبوط ہونا لازمی ہے، ورنہ لوگ دین سے کھلواڑ کرنے لگ جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی بروقت پکڑ کرنا، اس فتنے کا سدّباب کرنا.... آج کے دور میں سب سے اہم ضرورت ہے، جو کہ حضور تاج الشریعہ کے ذریعے ممکن ہوئی۔خارجی فتنوں سے تو ہم مستقل برسرِ پیکار رہتے ہی ہیں، لیکن داخلی فتنے جب سُنّی بن کر گمراہ کرنے نکلتے ہیں، تو اس کی پہچان دیر سے ہوتی ہے، تب تک کافی لوگ اس فتنے کے اسیر اور گمراہیت کا شکار ہوجاتے ہیں۔
آج فتنوں کا دَور دَورہ ہے.... باطل مذاہب.... باطل فرقے تو ہیں ہی.... لیکن صلح کلیت ایک بڑا فتنہ ہے، جو سنّیت میں رہتے ہوئے سنّیت کی جڑیں کھوکھلی کرنے میں لگا ہوا ہے۔ کوئی بھی فرد ہو، اِدارہ یا تنظیم ہو، جب تک وہ دین و سنّیت پر مضبوطی سے قائم ہے.... اور اسلاف سے ہٹ کر کچھ غلط راہ نہیں اپناتا، تب تک وہ اپنا ہے..... ورنہ سنّیت میں اس کے لیے جگہ نہیں۔
گروہ در گروہ اور فرقہ در فرقہ بنانے سے سنّیت پارہ پارہ ہورہی ہے۔ ہر کوئی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنائے اسی کو سارا دین سمجھ رہا ہے۔ تنظیمیں ، اِدارے بنائے جاتے ہیں دین و سُنّیت کی تبلیغ و اشاعت کے لیے، لیکن تنظیم کو ہی سارا دین و اسلام سمجھ لیا جاتا ہے.... اپنے آپ کو ہر تنقید سے بالاتر اور معصوم عن الخطا سمجھنا، یوں لگتا ہے اس دور کا خاصا بن گیا ہے۔ اس لیے بھلے ہی آپ کسی بھی تنظیم سے وابستہ ہوں، یہ مزاج اپنا لیجیے کہ صرف سنّیت کے لیے کام کرنا ہے، سُنّی مبلغ ہی بنے رہنا ہے۔ اور تنظیم کا مقصد بھی تو یہی ہے ناں!!!
❤1