🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
16-12-1444 ᴴ | 05-07-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
16-12-1444 ᴴ | 05-07-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
16-12-1444 ᴴ | 05-07-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
16-12-1444 ᴴ | 05-07-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
Forwarded from Ghulam Mustafa Naimi
جاروب کش کی گل افشانیاں

غلام مصطفےٰ نعیمی
روشن مستقبل دہلی


پچھلے ہفتے بِہار کے بہادر گنج اور گانگی ہاٹ میں 27 اور 28 دسمبر کو دو جلسے منعقد ہوئے۔جس میں مفتی مطیع الرحمن مضطر رضوی صاحب کا خصوصی بیان ہوا۔مفتی صاحب نے خطاب کرتے ہوئے خانقاہ سراواں کے معمولات ونظریات پر نقد کیا کیا، اعتدال و وسطیت اور احسان وسلوک کے سارے جھنڈا بردار جامے سے باہر ہوگیے۔خطاب کے فوراً بعد ہی سراوی حضرات کی جانب سے مفتی صاحب کی کردار کشی کی مہم چھیڑ دی گئی۔حالانکہ یہ وہی مفتی مطیع الرحمن ہیں جنہیں خود یہی لوگ فقیہ النفس، صاحب بصیرت اور حق گو مفتی کہتے نہیں تھکتے تھے مگر ان کی فکر پر سوال کیا اٹھایا اخلاق وتصوف کے علم بردار ساری اخلاقیات بھلا بیٹھے۔جاروب کشوں کے سرخیل نے شدت غضب میں ایک لمبی چوڑی تحریر لکھ کر مفتی صاحب کو "قلاباز، چور کا ساتھی، فقیہ نفس ونفسانیت" جیسی صلواتیں بھی سنا ڈالیں۔اتنے پر بھی مَن نہیں بھرا تو دوسروں کی آڑ لیکر گستاخ اور کافر ڈکلئیر کرتے ہوئے یوں گل افشانی کی:
"بعض اہل علم کا کہنا ہے کہ مفتی صاحب پر علی الاقل کفر لزومی ثابت ہے اور ایسے میں انہیں غیر مسلم کہا جاسکتا ہے۔"

*چونکیے مت!*
*فقہاے دین کو "علماے حیض و نفاس" کہنے والے یہ وہی روشن خیال جاروب کش ہیں جنھوں نے علماے عصر کو طعنہ دیتے ہوئے لکھا تھا:*
*"جہاں تک علما کی بات کریں تو موجودہ عہد کے علما بالعموم اس مرض تکفیریت میں مبتلا ہیں۔"*
(مسئلہ تکفیر و متکلمین ص 28)

جاروب کشوں کی یہ جماعت عرصہ دراز سے طواغیت اربعہ کی وکالت کا فریضہ انجام دیتے ہوئے اہل سنت کو تکفیری کہنا عملاً فرض مانتی ہے مگر آج مفتی مطیع الرحمن صاحب نے ذرا سا نقد کیا کیا، یہ لوگ مفتی صاحب پر ہی کفر کی تلوار سونت کر کھڑے ہوگیے ہیں۔اس وقت جاروب کشوں کا پورا گروہ "مفتی مطیع الرحمن کافر ہوگیے" کی تشہیر میں لگا ہوا ہے۔سوشل میڈیا کے سارے معتدل منے کفر کی گردان میں مصروف ہیں اب تحقیق کی حاجت ہے نہ تکفیریت کا خوف!
_یہ بات اپنے آپ میں کس قدر حیران کن ہے کہ جو شخص 26 دسمبر تک ان کے نزدیک شعور وآگہی کا قطب مینار تھا وہ دو دن کے اندر اتنا پست قد ہوگیا کہ اب ان پر "کھیل کھیلنے" اور "آپ کی کہانیاں یاد ہیں" جیسی عامیانہ اور دھمکی آمیز زبان استعمال کی جارہی ہے۔

ایک پل میں ہیں بدلے پیمانے، اک پل میں ٹوٹے یارانے
جو جان سے بڑھ کر اپنا تھا وہ آج رقیب جاں ہے بنا


وقت کا کھیل_____

وقت بھی کیسے کیسے نظارے دکھاتا ہے، چند سال ہی گزرے ہیں جب جاروب کشوں کی یہ جماعت تعظیم وتکریم اور تواضع و انکساری کو "غلو عقیدت" اور "عقیدت بے جا کا اسیر" کہہ کر اہل سنت کا مذاق اڑاتی تھی۔ہم چو من دیگرے نیست کی خماری میں فکری آوارگی پر دانش وری اور حقیقت پسندی کا خوش نما لیبل لگایا جاتا تھا تاکہ باز پرس کرنے والوں کو متشدد، تنگ نظری اور قدامت پسندی کا طعنہ دے کر خود کو بچایا بھی جاسکے۔یہی لوگ "سگ کوچہ اور سگ در" جیسے متواضع جملوں پر حقیقی معنی کا اطلاق کرکے نہایت سطحی تبصرے کیا کرتے تھے۔مگر آج حقیقت پسندی اور دانش وری کے وہی سورما ایک ایسے شیخ کی چوکھٹ کے "جاروب کش" بنے بیٹھے ہیں جو کفر واسلام کی سرحد سے بہت دور کہیں دھونی رمائے بیٹھا ہے۔سراواں کا ایک جاروب کش اپنی عقیدت کا اظہار اس طرح کرتا ہے:
"ان (شیخ سراواں) کی صحبت بابرکت سے ہمیں حلاوت ایمان، فکر آخرت اور لذت بندگی حاصل ہوئی....اس در کے گداگروں میں شامل ہونا ہمارے لیے فخر واعزاز کی بات ہے۔"
(فتوی سراواں)

عقیدت ومحبت کے اس اظہاریہ پر ہم کسی جاروب کش سے یہ مطالبہ بالکل نہیں کریں گے کہ حلاوت ایمان اور لذت بندگی کا حصول نصیبے کی بات ہے مگر یہ حلاوت ولذت اُسی تیسری دنیا سے جڑی ہے جس کی تمنا ان کے شیخ کرتے ہیں یا اس کا کوئی سرا محمد عربی ﷺ کے دین سے بھی جڑتا ہے؟ ہم صرف اتنا ہی کہیں گے کہ ایک بار دل پر ہاتھ رکھ کر اپنی پرانی زندگی اور ان دل آزار تحریروں پر ضرور غور کریں جن میں اہل سنت کو بدنام کرنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی۔اکابرین اہل سنت پر طرح طرح کی الزام تراشیاں کی گئیں مگر آج وہ سارے الزامات جاروب کشوں کی زندگی کا حصہ بن گیے ہیں۔ابھی بھی وقت ہے کہ اپنی آزاد روی سے باز آجائیں ورنہ ایک وقت وہ بھی آئے گا جب یہ لوگ ہر اس برائی میں ملوث ہوں گے جس کا الزام اہل سنت کو دیا کرتے ہیں۔اس لیے اکابرین پر طنز وتشنیع سے باز آئیں ورنہ نشان عبرت بن جائیں گے۔

٢جمادی الثانیہ ١٤٤٣ھ
6 جنوری 2021 بروز جمعرات
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👌1
Forwarded from Ghulam Mustafa Naimi
شدید نامناسب علیہم الرحمہ !!

تحریر: غلام مصطفےٰ نعیمی
روشن مستقبل دہلی

عنوان دیکھ کر حیران نہ ہوں، یہ عجیب وغریب جملہ دیوبند کے عناصر اربعہ کی حمایت میں شیخ سراواں کے ایک رامپوری عاشق صادق کے قلم سے رقم ہوا ہے۔جس میں محرر نے اپنا موقف بیان کرتے ہوئے دیوبند کے عناصر اربعہ کو "مومن، علماے دین اور علیہم الرحمہ" قرار دیا ہے۔ان سے اظہار عقیدت کے ساتھ ہی محرر نے علماے دیوبند کی مذکورہ متنازعہ عبارات کو "شدید نامناسب" بھی قرار دیا ہے۔اس طرح علماے دیوبند کائنات کے وہ منفرد نمونے بن گئے ہیں جو بارگاہ رسالت میں "شدید نامناسب" جملے لکھ کر بھی ولی و بزرگ اور رب کی رحمتوں کے حق دار قرار پائے۔اگر آج وہ عناصر زندہ ہوتے تو اس موقف کو سن کر بڑے مخمصے میں پڑ جاتے کہ خود کو مومن، عالم دین اور علیہم الرحمہ کہنے والے محرر کا شکریہ ادا کریں یا ان کی عبارات کو "شدید نامناسب" کہہ کر دبے لفظوں میں بے ادب کہنے والے گستاخ کو ڈانٹ لگائیں؟؟

آہٹ ملی سکون کی مگر مخمصے میں ہیں
اس منطق عجیب سے عجب مرحلے میں ہیں

بارگاہ رسالت میں نامناسب جملوں کا استعمال____

بارگاہ رسالت میں صرف انہیں الفاظ کے استعمال کی اجازت ہے جو آداب رسالت کے موافق ہوں۔جن جملوں سے توہین رسالت تو کجا ترک ادب کا ہلکا سا بھی پہلو نکلتا ہو انہیں استعمال کرنا انتہائی مذموم اور برا کام ہے۔اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے:
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَقُوۡلُوۡا رَاعِنَا وَ قُوۡلُوا انۡظُرۡنَا وَ اسۡمَعُوۡا ؕ وَ لِلۡکٰفِرِیۡنَ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿سورہ بقرہ:۱۰۴﴾

"اے ایمان والو! راعنا نہ کہو اور یوں عرض کرو کہ حضور ہم پر نظر رکھیں اور پہلے ہی سے بغور سنو اور کافروں کے لئے دردناک عذاب ہے۔"

لفظ "راعنا" لغت قریش میں درست ومناسب تھا اسی لیے صحابہ کرام اسے بارگاہ رسالت میں بے تکلفی سے استعمال فرماتے تھے لیکن لغت یہود میں یہ لفظ خلاف آداب تھا۔بس اسی بنیاد پر کہ اس لفظ کے استعمال سے ترک ادب کا ہلکا سا شائبہ نکلتا تھا، خداوند قدوس نے اس کے استعمال پر پابندی لگا کر قیامت تک کے لیے یہ نظیر قائم فرما دی کہ ہمارے محبوب کی بارگاہ میں ایسا کوئی جملہ استعمال نہ کیا جائے جو ان کی بارگاہ ناز کے لیے نامناسب اور خلاف ادب ہو۔


___الفاظ کا اپنا ایک محل اور اثر ہوتا ہے۔جس کی بنیاد پر ہر ایک کے مقام و مرتبے اور حیثیت عرفی کے مطابق الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں۔اس لیے جن لفظوں سے دوست کو پکارا جاتا ہے اُنہیں بھائی کے لیے استعمال نہیں کیا جاتا۔جن لفظوں سے بچوں کو پکارتے ہیں وہ والد کے لیے استعمال نہیں کر سکتے۔یعنی دنیوی رشتے اور تعلقات نبھانے میں بھی "مناسب الفاظ" کا استعمال بے حد ضروری ہے ورنہ انسان بد اخلاق اور بدزبان کہلائے گا۔جب عام انسانوں/رشتوں/تعلق داریوں میں "مناسب الفاظ" ضروری ہیں تو تاجدار مدینہ ﷺ کی مقدس ترین بارگاہ کا ادب واحترام کا خیال کس قدر ضروری ہوگا، لیکن شہرت بد کے حصول اور عقل آوارہ پر ضرورت سے زیادہ اعتماد نے بعض لوگوں کو یہاں تک پہنچا دیا کہ رسول کریم ﷺ کی شان اقدس میں "شدید نامناسب" جملوں کے استعمال کو بھی اتنا ہلکا گردانا جارہا ہے کہ خلاف ادب مان کر بھی اُنہیں "علیہم الرحمہ" کہہ کر رحمت ربی کا حق دار قرار دیا جارہا ہے۔بارگاہ رسالت کے متعلق ایسی بے حسی بے ضمیری اور بے ایمانی کا مظاہرہ کرنے والوں نے شاید قرآن کی اس آیت پر غور نہیں کیا:
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَرۡفَعُوۡۤا اَصۡوَاتَکُمۡ فَوۡقَ صَوۡتِ النَّبِیِّ وَلَا تَجۡہَرُوۡا لَہٗ بِالۡقَوۡلِ کَجَہۡرِ بَعۡضِکُمۡ لِبَعۡضٍ اَنۡ تَحۡبَطَ اَعۡمَالُکُمۡ وَاَنۡتُمۡ لَا تَشۡعُرُوۡنَ ﴿سورہ حجرات ۲﴾
"اے ایمان والو اپنی آوازیں اونچی نہ کرو اس غیب بتانے والے (نبی) کی آواز سے اور ان کے حضور بات چلا کر نہ کہو جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چلاتے ہو کہ کہیں تمہارے عمل اَکارت نہ ہوجائیں اور تمہیں خبر نہ ہو۔"

غور فرمائیں!
بارگاہ رسالت میں نامناسب الفاظ/انداز/لہجے کے استعمال پر اعمال برباد ہونے کی وعید سنائی جارہی ہے، لیکن مے خانہ سراواں کا ایک بادہ خوار کس قدر جسارت کے ساتھ کہتا ہے کہ بارگاہ رسالت میں "شدید نامناسب" حرکتیں کرکے بھی دیوبند کے عناصر اربعہ رحمت ربی کے حق دار ہیں۔کاش اُسے احساس ہوتا کہ جس بارگاہ میں نامناسب لہجہ سلب ایمان کا سبب بن سکتا ہے اُس بارگاہ میں "شدید نامناسب" الفاظ کی شناعت اور قباحت کس قدر سخت ہوگی!!

عجیب بات ہے!
ایک طرف علماے دیوبند کی متنازعہ عبارات کو "شدید نامناسب" یعنی بارگاہ رسالت کے ادب کے خلاف بھی مانا جائے، پھر نہایت ڈھٹائی اور شقاوت کے ساتھ اُن عبارتوں کے قائلین کو "مومن وعالم اور علیہم الرحمہ" کہہ کر بارگاہ رسالت کے آداب کو ہلکا سمجھنے کی جسارت ناروا بھی کی جائے۔اُنہیں یاد رکھنا چاہیے کہ بے ادب کبھی فلاح نہیں پاتے، حضرت مولانا روم فرماتے ہیں:
1
Forwarded from Ghulam Mustafa Naimi
از خدا جوئیم توفیق ادب
بے ادب محروم ماند از فضلِ رب

"ہم خدا سے ادب کی توفیق چاہتے ہیں اور بے ادب ہمیشہ خدا کے فضل سے محروم رہتا ہے۔"
(مثنوی مولانا روم، دفتر دوم)

بارگاہ رسالت مآب ﷺ میں "شدید نامناسب عبارات" کے استعمال کو کوئی بھی ذی شعور اور صاحبِ ایمان ادب کہنے کی جسارت نہیں کر سکتا یہ یقیناً بے ادبی ہے۔مولانا روم نے عمومی بے ادبوں کو فضل خدا سے محروم بتایا ہے۔جب عام بے ادب فضل خدا سے ہمیشہ کے لیے محروم ہوجاتا ہے تو جن لوگوں نے بارگاہ رسالت میں بے ادبی کا مظاہرہ کیا ہو ان کی محرومی کا کیا حال ہوگا؟

لیکن افسوس صد افسوس! زلف سراواں کے اسیر اُن محرومان بارگاہ خدا کو "علیہم الرحمہ" کہہ کر اپنی عاقبت کو داؤں پر لگا رہے ہیں۔

ہو سکے تو یہ کرلیں___

عرصہ دراز سے سراوی مکتب فکر کے اہل علم وقلم دیوبندی عناصر اربعہ پر وارد شرعی حکم کو تبدیل/منسوخ کرانے کی جی توڑ کوشش کر رہے ہیں۔شاید سراواں کے روشن خیال صوفیا، علماے دیوبند کو أقطاب امت میں شامل کرکے ان کا عرس منانے اور ان کی "خدمات جلیلہ" پر سیمینار وسمپوزیم کے خواہش مند ہیں اسی لیے ان کو "مومن، علماے دین اور علیہم الرحمہ" بنایا جارہا ہے تاکہ کل کو سراواں میں عرس نانوتوی وتھانوی منایا جائے تو کسی کو جائے اعتراض باقی نہ رہے۔خیر اپنے بزرگوں کے لیے کوششیں کرنا اُن کا آئینی حق ہے جس سے اُنہیں محروم نہیں کیا جاسکتا، ہاں اس مقام پر اہل سراواں کو دو باتوں پر توجہ دینا چاہیے؛
1۔جب خانقاہ سراواں کے غیر اعلانیہ ترجمان (अघोषित प्रवक्ता) عناصر اربعہ کی عبارات کو "شدید نامناسب" تسلیم کر ہی چکے ہیں تو وہ اپنے مذکورہ نظریہ پر دیوبندی مکتب فکر سے تصدیق بھی کرالیں۔حالانکہ مذکورہ عبارات "شدید نامناسب" نہیں بلکہ "شدید گستاخانہ" ہیں۔شدید نامناسب کی ٹکڑا اس لیے پکڑا ہے تاکہ اہل سنت کو فریب دہی میں آسانی ہو۔پھر بھی اگر سراوی حضرات طبقہ دیابنہ سے ان عبارات کو "شدید نامناسب" ہی تسلیم کرالیں تو ہوسکتا ہے اپنے ہم مزاجوں/ہم خیالوں کے سمجھانے سے ان پر بھی مذکورہ عبارات کی شناعت وقباحت ظاہر ہوجائے اور وہ بھی ایسی خلاف ادب تحریرات کے دفاع سے تائب ہوجائیں۔

2۔جب طبقہ سراواں متنازعہ عبارات کو "شدید نامناسب" مان چکا ہے تو صدق دل کے ساتھ اس بات پر غور کریں کہ جب وہ اپنے ممدوح اعظم صوفی احسان اللہ کے بارے میں نامناسب جملہ سننے کے روادار نہیں ہیں۔تو آخر ان کی غیرت نبی آخر الزماں ﷺ کی بارگاہ میں "شدید نامناسب" جملے لکھنے والوں کو کس طرح اپنا بزرگ اور ولی ماننے پر تیار ہوجاتی ہے؟
کیا اہل سراواں کو پیغمبر اسلام ﷺ کی بارگاہ سے اتنا بھی لگاؤ نہیں جتنا وہ اپنے پیر مغاں سے رکھتے ہیں؟
صوفی احسان اللہ پر ذرا سی تنقید سنتے ہی جاروب کشان سراواں آپے سے باہر ہوجاتے ہیں اور رسول ہاشمی علیہ السلام کی بارگاہ اقدس کی بے ادبی پر در گزر اور نظر اندازی کا مشورہ دیتے ہیں۔آخر اس بے حسی کو کیا نام دیا جائے؟
عرصہ ہوا شیخ سراواں کی جانب سے حسام الحرمین کی تصدیق وتائید منظر عام پر آچکی ہے لیکن کچھ وقت پہلے مذکورہ اَگَھوشِت پِرْوَکتَا نے اس تحریر کو سیاسی اسٹریٹجی اور "صلح حدیبیہ جدید" قرار دیا تھا، جس کی تردید ذمہ داران خانقاہ نے آج تک نہیں کی۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خانقاہ کا موقف ہاتھی دانت کی طرح ہے۔اب جب کہ ان کے غیر اعلانیہ ترجمان اور سرخیل جاروب کش کے نظریات کافی حد تک کھل کر سامنے چکے ہیں تو ذمہ داران خانقاہ وہابیہ کے تعلق سے اپنا موقف کھل کر ظاہر کریں تاکہ سادہ لوح سنی مسلمان ان سے اپنی اور اپنے عقیدے کی حفاظت کر سکیں۔

٤ جمادی الأولى ١٤٤٤
29 نومبر 2022 بروز منگل
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👌1
Forwarded from Ghulam Mustafa Naimi
____دیتے ہیں وہ فریب بہت خانقاہ میں !!

غلام مصطفےٰ نعیمی
روشن مستقبل دہلی

چند مہینے پہلے خانقاہ سراواں میں سابق سیاست دان عارف محمد خان(گورنر آف کیرلا)کی آمد ہوئی۔شیخ خانقاہ صوفی احسان اللہ سعیدی صاحب نے اپنے جاروب کشوں کے ساتھ مل کر نہایت گرم جوشی کے ساتھ گورنر صاحب کا استقبال کیا۔استقبالیہ مناظر دیکھ بہت سارے افراد کو حیرت کا سخت جھٹکا لگا کہ بہرحال خانقاہ سراواں احسان وسلوک اور اتباع قرآن وسنت کی دعوے دار ہے جب کہ عارف محمد خان قرآن وحدیث پر اعتراض کرنے والے اسلام بیزار ناقد کے طور پر پہچان رکھتے ہیں۔شاہ بانو کیس(1985) کے زمانے ہی سے موصوف قرآن وسنت اور فقہ اسلامی پر نہایت جارحانہ اعتراض کرتے چلے آرہے ہیں۔تب سے لیکر آج تک ان کی اسلام بیزاری میں رتّی بھر کمی نہیں آئی بلکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی ہی جارہی ہے۔

_____شاہ بانو کیس اور عارف خان کا رویہ

محترمہ شاہ بانو اندور کے مشہور ومعروف وکیل محمد احمد صاحب کی پہلی بیوی تھیں۔جنہیں اُن کے شوہر نے شادی کے چالیس سال بعد طلاق دے دی تھی۔اس وقت شاہ بانو عمر کے ساٹھویں برس میں تھیں۔شاہ بانو کے پاس شوہر کا دیا گیا مکان تھا، بچے جوان اور خود کفیل تھے لیکن ضعیف العمری کی طلاق نے اُنہیں اور ان کے بیٹوں کو شدید صدمہ پہنچایا، نتیجتاً انہوں نے اپنے شوہر کے خلاف نان ونفقہ کا مقدمہ درج کرا دیا۔مقامی کورٹ سے سپریم کورٹ تک شاہ بانو کامیاب رہیں اور 23 اپریل 1985 کو سپریم کورٹ نے دستور ہند میں شامل شریعت ایپلیکیشن ایکٹ 1937 کے خلاف جاکر محمد احمد کو طلاق کے باوجود بھی تازندگی شاہ بانو کا نفقہ ادا کرنے کا حکم سنایا۔یہ فیصلہ بھلے ہی ایک فرد کے خلاف تھا لیکن اس کی زد پوری ملت اسلامیہ پر پڑ رہی تھی کیوں کہ سپریم کورٹ نے کریمنل پروسیجر ایکٹ کا سہارا لیکر مسلم پرسنل لا میں مداخلت کا دروازہ کھول دیا تھا۔اس طرح میاں بیوی کی آپسی ناچاقی اور اَنا کی جنگ میں ملت اسلامیہ کا شرعی اور دستوری حق داؤں پر لگ گیا تھا۔چونکہ یہ فیصلہ مسلم پرسنل لا کے سراسر خلاف تھا اور مستقبل میں مسلم پرسنل لا میں مداخلت کے لیے نظیر بن سکتا تھا اس لیے مسلمانان ہند نے اس فیصلے کی پر زور مخالفت کی۔اس وقت عارف محمد خان کانگریسی حکومت میں وزیر ہوا کرتے تھے۔موصوف اُسی زمانے سے ماڈرن فکر اور آزاد خیالی کے لیے مشہور تھے۔مسلمانان ہند نے حکومت سے کورٹ کے فیصلے کے خلاف آئینی اقدام کا مطالبہ کیا تو عارف خان ہَتّھے سے اکھڑ گئے اور اس مطالبے کی مخالفت میں اتر آئے اور انہوں نے مسلم پرسنل لا میں عدالتی مداخلت کی کھلی حمایت شروع کردی۔اس وقت راجیو گاندھی حکومت نے عارف خان کی مخالفت کو نظر انداز کرتے ہوئے رائے عامہ کا احترام کیا اور پارلیمنٹ کے ذریعے "مسلم خاتون ایکٹ(تحفظ طلاق ایکٹ1986) پاس کرکے اس فیصلے کو کالعدم قرار دلایا۔قانون سازی کے ساتھ ہی مستقبل میں ایسے فیصلوں کا چور دروازہ بھی بند کردیا گیا۔

__پورب اور پچھم کا ملن

کانگریس میں خوار ہونے کی وجہ سے عارف خان مستعفی ہوگئے اور مختلف پارٹیوں میں ہوتے ہوئے اپنی اصل جائے قرار بی جے پی سے وابستہ ہوگئے۔حجابات اٹھے تو موصوف کی آزاد خیالی کو نئے پر لگ گئے۔اب تو آنجناب کو بُت پرستی سے بھی کوئی پرہیز نہیں رہ گیا ہے۔مندروں میں شِو لنگ پر دودھ اور مورتیوں پر پھول چڑھانے کی تصویریں/خبریں آئے دن میڈیا میں آتی رہتی ہیں۔
🔹اب ایک طرف شیخ سراواں ہیں جو بظاہر اسلام پسند ہیں۔
🔸 تو دوسری جانب وہ شخص جس نے شریعت مطہرہ کی مخالفت میں وزارت تک چھوڑ دی۔
🔹ایک طرف توحید کا علم بردار شیخ ہے۔
🔸تو دوسری جانب شِو لنگ پر دودھ چڑھانے والا اسلام بیزار۔

سیاہ وسفید جیسے متضاد نظریات رکھنے والوں کی اس گرم جوشی اور اپنائیت پر بہت سے سوال اٹھتے ہیں۔ممکن ہے کہ محبین شیخ یہ جواب دیں کہ ہم؛
"محبت سب سے، نفرت کسی سے نہیں"

پر عمل پیرا ہیں۔تو اس پر اتنا ہی کہا جاسکتا ہے کہ یہ نعرہ آر ایس ایس کے اس معصومانہ نعرے کی طرح ہے جسے ان کے رضا کار بڑی معصومیت کے ساتھ لگاتے ہیں؛
"ہم ہر طرح کی ہِنسا [تشدد] کے خلاف ہیں"

کیا شیخ کے محبین اس بات کی وضاحت کریں گے کہ ایک ایسا کلمہ گو جو علانیہ بت پرستی جیسے کاموں میں ملوث ہے، آخر اُسے بلانے/استقبالیہ دینے کے پیچھے کیا مقصد ہے؟
کسی ظاہری مشرک کی آمد سے عوام کنفیوز نہیں ہوتے کیوں کہ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ آنے والا کافر ہی ہے لیکن جو شخص ظاہرً مسلمان ہو، پھر بُت پرستی کرتا پھرے۔ہر دینی وملی معاملے پر مسلمانوں کی مخالفت کرے۔مدارس کو بند کرنے اور مذہبی تعلیم پر پابندی کا مطالبہ کرے۔ایسے اسلام بیزار اور ملت مخالف شخص کو کسی خانقاہ میں پرتپاک استقبالیہ دینا آخر کس فکر کی غمازی کرتا ہے؟
1