🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
16-12-1444 ᴴ | 05-07-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
16-12-1444 ᴴ | 05-07-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
16-12-1444 ᴴ | 05-07-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
16-12-1444 ᴴ | 05-07-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
Forwarded from Ghulam Mustafa Naimi
جاروب کش کی گل افشانیاں

غلام مصطفےٰ نعیمی
روشن مستقبل دہلی


پچھلے ہفتے بِہار کے بہادر گنج اور گانگی ہاٹ میں 27 اور 28 دسمبر کو دو جلسے منعقد ہوئے۔جس میں مفتی مطیع الرحمن مضطر رضوی صاحب کا خصوصی بیان ہوا۔مفتی صاحب نے خطاب کرتے ہوئے خانقاہ سراواں کے معمولات ونظریات پر نقد کیا کیا، اعتدال و وسطیت اور احسان وسلوک کے سارے جھنڈا بردار جامے سے باہر ہوگیے۔خطاب کے فوراً بعد ہی سراوی حضرات کی جانب سے مفتی صاحب کی کردار کشی کی مہم چھیڑ دی گئی۔حالانکہ یہ وہی مفتی مطیع الرحمن ہیں جنہیں خود یہی لوگ فقیہ النفس، صاحب بصیرت اور حق گو مفتی کہتے نہیں تھکتے تھے مگر ان کی فکر پر سوال کیا اٹھایا اخلاق وتصوف کے علم بردار ساری اخلاقیات بھلا بیٹھے۔جاروب کشوں کے سرخیل نے شدت غضب میں ایک لمبی چوڑی تحریر لکھ کر مفتی صاحب کو "قلاباز، چور کا ساتھی، فقیہ نفس ونفسانیت" جیسی صلواتیں بھی سنا ڈالیں۔اتنے پر بھی مَن نہیں بھرا تو دوسروں کی آڑ لیکر گستاخ اور کافر ڈکلئیر کرتے ہوئے یوں گل افشانی کی:
"بعض اہل علم کا کہنا ہے کہ مفتی صاحب پر علی الاقل کفر لزومی ثابت ہے اور ایسے میں انہیں غیر مسلم کہا جاسکتا ہے۔"

*چونکیے مت!*
*فقہاے دین کو "علماے حیض و نفاس" کہنے والے یہ وہی روشن خیال جاروب کش ہیں جنھوں نے علماے عصر کو طعنہ دیتے ہوئے لکھا تھا:*
*"جہاں تک علما کی بات کریں تو موجودہ عہد کے علما بالعموم اس مرض تکفیریت میں مبتلا ہیں۔"*
(مسئلہ تکفیر و متکلمین ص 28)

جاروب کشوں کی یہ جماعت عرصہ دراز سے طواغیت اربعہ کی وکالت کا فریضہ انجام دیتے ہوئے اہل سنت کو تکفیری کہنا عملاً فرض مانتی ہے مگر آج مفتی مطیع الرحمن صاحب نے ذرا سا نقد کیا کیا، یہ لوگ مفتی صاحب پر ہی کفر کی تلوار سونت کر کھڑے ہوگیے ہیں۔اس وقت جاروب کشوں کا پورا گروہ "مفتی مطیع الرحمن کافر ہوگیے" کی تشہیر میں لگا ہوا ہے۔سوشل میڈیا کے سارے معتدل منے کفر کی گردان میں مصروف ہیں اب تحقیق کی حاجت ہے نہ تکفیریت کا خوف!
_یہ بات اپنے آپ میں کس قدر حیران کن ہے کہ جو شخص 26 دسمبر تک ان کے نزدیک شعور وآگہی کا قطب مینار تھا وہ دو دن کے اندر اتنا پست قد ہوگیا کہ اب ان پر "کھیل کھیلنے" اور "آپ کی کہانیاں یاد ہیں" جیسی عامیانہ اور دھمکی آمیز زبان استعمال کی جارہی ہے۔

ایک پل میں ہیں بدلے پیمانے، اک پل میں ٹوٹے یارانے
جو جان سے بڑھ کر اپنا تھا وہ آج رقیب جاں ہے بنا


وقت کا کھیل_____

وقت بھی کیسے کیسے نظارے دکھاتا ہے، چند سال ہی گزرے ہیں جب جاروب کشوں کی یہ جماعت تعظیم وتکریم اور تواضع و انکساری کو "غلو عقیدت" اور "عقیدت بے جا کا اسیر" کہہ کر اہل سنت کا مذاق اڑاتی تھی۔ہم چو من دیگرے نیست کی خماری میں فکری آوارگی پر دانش وری اور حقیقت پسندی کا خوش نما لیبل لگایا جاتا تھا تاکہ باز پرس کرنے والوں کو متشدد، تنگ نظری اور قدامت پسندی کا طعنہ دے کر خود کو بچایا بھی جاسکے۔یہی لوگ "سگ کوچہ اور سگ در" جیسے متواضع جملوں پر حقیقی معنی کا اطلاق کرکے نہایت سطحی تبصرے کیا کرتے تھے۔مگر آج حقیقت پسندی اور دانش وری کے وہی سورما ایک ایسے شیخ کی چوکھٹ کے "جاروب کش" بنے بیٹھے ہیں جو کفر واسلام کی سرحد سے بہت دور کہیں دھونی رمائے بیٹھا ہے۔سراواں کا ایک جاروب کش اپنی عقیدت کا اظہار اس طرح کرتا ہے:
"ان (شیخ سراواں) کی صحبت بابرکت سے ہمیں حلاوت ایمان، فکر آخرت اور لذت بندگی حاصل ہوئی....اس در کے گداگروں میں شامل ہونا ہمارے لیے فخر واعزاز کی بات ہے۔"
(فتوی سراواں)

عقیدت ومحبت کے اس اظہاریہ پر ہم کسی جاروب کش سے یہ مطالبہ بالکل نہیں کریں گے کہ حلاوت ایمان اور لذت بندگی کا حصول نصیبے کی بات ہے مگر یہ حلاوت ولذت اُسی تیسری دنیا سے جڑی ہے جس کی تمنا ان کے شیخ کرتے ہیں یا اس کا کوئی سرا محمد عربی ﷺ کے دین سے بھی جڑتا ہے؟ ہم صرف اتنا ہی کہیں گے کہ ایک بار دل پر ہاتھ رکھ کر اپنی پرانی زندگی اور ان دل آزار تحریروں پر ضرور غور کریں جن میں اہل سنت کو بدنام کرنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی۔اکابرین اہل سنت پر طرح طرح کی الزام تراشیاں کی گئیں مگر آج وہ سارے الزامات جاروب کشوں کی زندگی کا حصہ بن گیے ہیں۔ابھی بھی وقت ہے کہ اپنی آزاد روی سے باز آجائیں ورنہ ایک وقت وہ بھی آئے گا جب یہ لوگ ہر اس برائی میں ملوث ہوں گے جس کا الزام اہل سنت کو دیا کرتے ہیں۔اس لیے اکابرین پر طنز وتشنیع سے باز آئیں ورنہ نشان عبرت بن جائیں گے۔

٢جمادی الثانیہ ١٤٤٣ھ
6 جنوری 2021 بروز جمعرات
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👌1
Forwarded from Ghulam Mustafa Naimi
شدید نامناسب علیہم الرحمہ !!

تحریر: غلام مصطفےٰ نعیمی
روشن مستقبل دہلی

عنوان دیکھ کر حیران نہ ہوں، یہ عجیب وغریب جملہ دیوبند کے عناصر اربعہ کی حمایت میں شیخ سراواں کے ایک رامپوری عاشق صادق کے قلم سے رقم ہوا ہے۔جس میں محرر نے اپنا موقف بیان کرتے ہوئے دیوبند کے عناصر اربعہ کو "مومن، علماے دین اور علیہم الرحمہ" قرار دیا ہے۔ان سے اظہار عقیدت کے ساتھ ہی محرر نے علماے دیوبند کی مذکورہ متنازعہ عبارات کو "شدید نامناسب" بھی قرار دیا ہے۔اس طرح علماے دیوبند کائنات کے وہ منفرد نمونے بن گئے ہیں جو بارگاہ رسالت میں "شدید نامناسب" جملے لکھ کر بھی ولی و بزرگ اور رب کی رحمتوں کے حق دار قرار پائے۔اگر آج وہ عناصر زندہ ہوتے تو اس موقف کو سن کر بڑے مخمصے میں پڑ جاتے کہ خود کو مومن، عالم دین اور علیہم الرحمہ کہنے والے محرر کا شکریہ ادا کریں یا ان کی عبارات کو "شدید نامناسب" کہہ کر دبے لفظوں میں بے ادب کہنے والے گستاخ کو ڈانٹ لگائیں؟؟

آہٹ ملی سکون کی مگر مخمصے میں ہیں
اس منطق عجیب سے عجب مرحلے میں ہیں

بارگاہ رسالت میں نامناسب جملوں کا استعمال____

بارگاہ رسالت میں صرف انہیں الفاظ کے استعمال کی اجازت ہے جو آداب رسالت کے موافق ہوں۔جن جملوں سے توہین رسالت تو کجا ترک ادب کا ہلکا سا بھی پہلو نکلتا ہو انہیں استعمال کرنا انتہائی مذموم اور برا کام ہے۔اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے:
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَقُوۡلُوۡا رَاعِنَا وَ قُوۡلُوا انۡظُرۡنَا وَ اسۡمَعُوۡا ؕ وَ لِلۡکٰفِرِیۡنَ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿سورہ بقرہ:۱۰۴﴾

"اے ایمان والو! راعنا نہ کہو اور یوں عرض کرو کہ حضور ہم پر نظر رکھیں اور پہلے ہی سے بغور سنو اور کافروں کے لئے دردناک عذاب ہے۔"

لفظ "راعنا" لغت قریش میں درست ومناسب تھا اسی لیے صحابہ کرام اسے بارگاہ رسالت میں بے تکلفی سے استعمال فرماتے تھے لیکن لغت یہود میں یہ لفظ خلاف آداب تھا۔بس اسی بنیاد پر کہ اس لفظ کے استعمال سے ترک ادب کا ہلکا سا شائبہ نکلتا تھا، خداوند قدوس نے اس کے استعمال پر پابندی لگا کر قیامت تک کے لیے یہ نظیر قائم فرما دی کہ ہمارے محبوب کی بارگاہ میں ایسا کوئی جملہ استعمال نہ کیا جائے جو ان کی بارگاہ ناز کے لیے نامناسب اور خلاف ادب ہو۔


___الفاظ کا اپنا ایک محل اور اثر ہوتا ہے۔جس کی بنیاد پر ہر ایک کے مقام و مرتبے اور حیثیت عرفی کے مطابق الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں۔اس لیے جن لفظوں سے دوست کو پکارا جاتا ہے اُنہیں بھائی کے لیے استعمال نہیں کیا جاتا۔جن لفظوں سے بچوں کو پکارتے ہیں وہ والد کے لیے استعمال نہیں کر سکتے۔یعنی دنیوی رشتے اور تعلقات نبھانے میں بھی "مناسب الفاظ" کا استعمال بے حد ضروری ہے ورنہ انسان بد اخلاق اور بدزبان کہلائے گا۔جب عام انسانوں/رشتوں/تعلق داریوں میں "مناسب الفاظ" ضروری ہیں تو تاجدار مدینہ ﷺ کی مقدس ترین بارگاہ کا ادب واحترام کا خیال کس قدر ضروری ہوگا، لیکن شہرت بد کے حصول اور عقل آوارہ پر ضرورت سے زیادہ اعتماد نے بعض لوگوں کو یہاں تک پہنچا دیا کہ رسول کریم ﷺ کی شان اقدس میں "شدید نامناسب" جملوں کے استعمال کو بھی اتنا ہلکا گردانا جارہا ہے کہ خلاف ادب مان کر بھی اُنہیں "علیہم الرحمہ" کہہ کر رحمت ربی کا حق دار قرار دیا جارہا ہے۔بارگاہ رسالت کے متعلق ایسی بے حسی بے ضمیری اور بے ایمانی کا مظاہرہ کرنے والوں نے شاید قرآن کی اس آیت پر غور نہیں کیا:
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَرۡفَعُوۡۤا اَصۡوَاتَکُمۡ فَوۡقَ صَوۡتِ النَّبِیِّ وَلَا تَجۡہَرُوۡا لَہٗ بِالۡقَوۡلِ کَجَہۡرِ بَعۡضِکُمۡ لِبَعۡضٍ اَنۡ تَحۡبَطَ اَعۡمَالُکُمۡ وَاَنۡتُمۡ لَا تَشۡعُرُوۡنَ ﴿سورہ حجرات ۲﴾
"اے ایمان والو اپنی آوازیں اونچی نہ کرو اس غیب بتانے والے (نبی) کی آواز سے اور ان کے حضور بات چلا کر نہ کہو جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چلاتے ہو کہ کہیں تمہارے عمل اَکارت نہ ہوجائیں اور تمہیں خبر نہ ہو۔"

غور فرمائیں!
بارگاہ رسالت میں نامناسب الفاظ/انداز/لہجے کے استعمال پر اعمال برباد ہونے کی وعید سنائی جارہی ہے، لیکن مے خانہ سراواں کا ایک بادہ خوار کس قدر جسارت کے ساتھ کہتا ہے کہ بارگاہ رسالت میں "شدید نامناسب" حرکتیں کرکے بھی دیوبند کے عناصر اربعہ رحمت ربی کے حق دار ہیں۔کاش اُسے احساس ہوتا کہ جس بارگاہ میں نامناسب لہجہ سلب ایمان کا سبب بن سکتا ہے اُس بارگاہ میں "شدید نامناسب" الفاظ کی شناعت اور قباحت کس قدر سخت ہوگی!!

عجیب بات ہے!
ایک طرف علماے دیوبند کی متنازعہ عبارات کو "شدید نامناسب" یعنی بارگاہ رسالت کے ادب کے خلاف بھی مانا جائے، پھر نہایت ڈھٹائی اور شقاوت کے ساتھ اُن عبارتوں کے قائلین کو "مومن وعالم اور علیہم الرحمہ" کہہ کر بارگاہ رسالت کے آداب کو ہلکا سمجھنے کی جسارت ناروا بھی کی جائے۔اُنہیں یاد رکھنا چاہیے کہ بے ادب کبھی فلاح نہیں پاتے، حضرت مولانا روم فرماتے ہیں:
1