حضرت شیخ الحدیث علّامہ مشتاق احمد چشتی ملتان علیہ الرحمۃ
ولادت:
استاذ العلماء حضرت علامہ مشتاق احمد چشتی ابن حافظ غلام محمد صاحب (مرحوم) ۱۶ ذوالحجہ ۱۳۵۹ھ / میں بمقام بستی بختاور (بھکّر) ضلع میانوالی میں بلوچ چانڈیہ خاندان کے ایک عظیم علمی گھرانے میں پیدا ہوئے۔
آپ کے خاندان کے اکثر افراد علوم دینیہ سے بہرہ ور ہونے کے علاوہ حفظِ قرآن کی طرف بھی گہرا شغف رکھتے ہیں۔ آپ کے آباؤ اجداد میں سے حضرت فقیر محمد عیسیٰ قدس سرہ علاقہ بھکرے کے مشہور بزرگ ہوئے ہیں ان کے علاوہ حضرت فقیر غلام حیدر، فقیر غلام اسحاق، حافظ غلام محمد، مولانا محمد موسیٰ اور مولانا اللہ بخش صاحب اہلِ علم و روحانیت بزرگ گزرے ہیں۔
اس وقت آپ کے دو بڑے بھائیوں علامہ مولانا فیض احمد صاحب (مفتی و صدر مدّرس دار العلوم غوثیہ دربارِ عالیہ گولڑہ شریف) اور مولانا سیّد احمد (آپ کے استاذِ محترم) کے علاوہ دو بھتیجے مولانا ممتاز احمد اور مولانا کریم بخش علومِ اسلامیہ کے مدرس ہیں۔
آپ نے قرآن پاک حفظ کرنے کے بعد علومِ عربیہ کے منتخب نصاب (درسِ نظامی) کی مدرسہ محمودیہ پپلاں ضلع میانوالی، جامعہ غوثیہ گولڑہ شریف ضلع راولپنڈی اور مدرسہ عربیہ انوار العلوم ملتان سے تکمیلِ تحصیل کی۔
۱۳۸۲ھ / ۱۹۶۲ء میں مدرسہ عربیہ انوار العلوم ملتان سے سندِ فراغت حاصل کی جامعہ اسلامیہ (اسلامی یونیورسٹی) بہاول پور سے تخصص فی التفسیر و الحدیث (مماثل ایم اے) کی ڈگری حاصل کی۔ اس کے علاوہ آپ نے بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن لاہور سے فاضل فارسی اور ایف اے کا متحان بھی پاس کیا۔
آپ نے علوم عربیہ کی تحصیل مولانا سید احمد صاحب مدرس مدرسہ محمودیہ پپلاں (میانوالی) مولانا فیض احمد مدّرس و مفتی دربارِ عالیہ گولڑہ شریف اور غزالیٔ زماں حضرت علامہ سیّد احمد سعید شاہ صاحب کاظمی مدظلہ سے کی۔
آپ ایک فاضل مدّرس ہیں۔ آپ نے کچھ مدّت دار العلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ میں تدریس فرمائی اور پھر کچھ عرصہ جامعہ غوثیہ گولڑہ شریف میں علومِ اسلامیہ پڑھانے کے بعد آج کل مدرسہ عربیہ انوار العلوم ملتان میں تشنگانِ علم حدیث کی پیاس بجھا رہے ہیں۔
تدریس کے علاوہ آپ تبلیغِ دین کے سلسلے میں مختلف مقامات پر فرائضِ خطابت بھی سر انجام دیتے چلے آئے ہیں۔ آغازِ خطابت مدرسہ عربیہ انوار العلوم کی جامع مسجد سےکیا عید گاہ ملتان کے نائب خطیب رہے اور آج کل جامع مسجد مہریہ شمس آباد کالونی ملتان میں خطابت فرما رہے ہیں۔ ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت میں مجلسِ عمل تحفظ ختمِ نبوت میں اہل سنّت و جماعت کی نمائندگی کی۔
آپ نے ۱۳۷۴ھ / ۱۹۵۴ء میں حضرت پیر غلام محی الدین شاہ (المعروف بابوجی) صاحب رحمہ اللہ خلف الرشید حضرت قطب عالم پیر سیّد مہر علی شاہ صاحب قدس سرّہ العزیز کے دستِ مبارک پر سلسلۂ چشتیہ میں شرف بیعت حاصل کیا۔
۱۳۹۳ھ / ۱۹۷۳ء میں آپ نے حج بیت اللہ شریف و زیارت روضۂ رسول کی سعادت حاصل کی اور اسی سال حضرت پیر صاحب سیّد غلام محی الدّین شاہ رحمہ اللہ کی صعیّت میں بغداد شریف، کربلا معلّیٰ اور نجف اشرف حاضری دی۔
آپ نے تین مبسوط مقالے قرآن و حدیث کے سلسلے میں تحریر کیے
۱۔ مقامِ سنّت (مطبوعہ مکتبہ قادریہ لاہور
۲- جمع و تر تیب قرآن
۳۔ فنِّ تفسیر
کثیر التعداد طلباء نے آپ سے اکتسابِ فیض کیا جن میں سے چند مشہور تلامذہ یہ ہیں:
۱۔ مولانا عبد الستّار سعیدی مدرس عربیہ علی پور۔
۲۔ مولانا فضل احمد صاحب مدرس مدرسہ رحمت العلوم
۳۔ مولانا غلام فرید سعیدی مدرس مدرسہ رُکن الاسلام جامعہ مجددیہ حیدر آباد۔
آپ کے دو صاحبزادے غلام محبوب سبحانی اور غلام جیلانی ہیں جو بالترتیب چھ اور تین سال کی عمر کے ہیں۔ اللہ تعالیٰ دونوں صاحبزادوں کو علومِ دینیہ سے بہرور فرمائے۔
[۱۔ مکتوب حضرت مولانا محمد مشتاق احمد صاحب چشتی، بنامِ مرتّب]
( تعارف علماءِ اہلسنت )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-mushtaq-ahmad-chishti
ولادت:
استاذ العلماء حضرت علامہ مشتاق احمد چشتی ابن حافظ غلام محمد صاحب (مرحوم) ۱۶ ذوالحجہ ۱۳۵۹ھ / میں بمقام بستی بختاور (بھکّر) ضلع میانوالی میں بلوچ چانڈیہ خاندان کے ایک عظیم علمی گھرانے میں پیدا ہوئے۔
آپ کے خاندان کے اکثر افراد علوم دینیہ سے بہرہ ور ہونے کے علاوہ حفظِ قرآن کی طرف بھی گہرا شغف رکھتے ہیں۔ آپ کے آباؤ اجداد میں سے حضرت فقیر محمد عیسیٰ قدس سرہ علاقہ بھکرے کے مشہور بزرگ ہوئے ہیں ان کے علاوہ حضرت فقیر غلام حیدر، فقیر غلام اسحاق، حافظ غلام محمد، مولانا محمد موسیٰ اور مولانا اللہ بخش صاحب اہلِ علم و روحانیت بزرگ گزرے ہیں۔
اس وقت آپ کے دو بڑے بھائیوں علامہ مولانا فیض احمد صاحب (مفتی و صدر مدّرس دار العلوم غوثیہ دربارِ عالیہ گولڑہ شریف) اور مولانا سیّد احمد (آپ کے استاذِ محترم) کے علاوہ دو بھتیجے مولانا ممتاز احمد اور مولانا کریم بخش علومِ اسلامیہ کے مدرس ہیں۔
آپ نے قرآن پاک حفظ کرنے کے بعد علومِ عربیہ کے منتخب نصاب (درسِ نظامی) کی مدرسہ محمودیہ پپلاں ضلع میانوالی، جامعہ غوثیہ گولڑہ شریف ضلع راولپنڈی اور مدرسہ عربیہ انوار العلوم ملتان سے تکمیلِ تحصیل کی۔
۱۳۸۲ھ / ۱۹۶۲ء میں مدرسہ عربیہ انوار العلوم ملتان سے سندِ فراغت حاصل کی جامعہ اسلامیہ (اسلامی یونیورسٹی) بہاول پور سے تخصص فی التفسیر و الحدیث (مماثل ایم اے) کی ڈگری حاصل کی۔ اس کے علاوہ آپ نے بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن لاہور سے فاضل فارسی اور ایف اے کا متحان بھی پاس کیا۔
آپ نے علوم عربیہ کی تحصیل مولانا سید احمد صاحب مدرس مدرسہ محمودیہ پپلاں (میانوالی) مولانا فیض احمد مدّرس و مفتی دربارِ عالیہ گولڑہ شریف اور غزالیٔ زماں حضرت علامہ سیّد احمد سعید شاہ صاحب کاظمی مدظلہ سے کی۔
آپ ایک فاضل مدّرس ہیں۔ آپ نے کچھ مدّت دار العلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ میں تدریس فرمائی اور پھر کچھ عرصہ جامعہ غوثیہ گولڑہ شریف میں علومِ اسلامیہ پڑھانے کے بعد آج کل مدرسہ عربیہ انوار العلوم ملتان میں تشنگانِ علم حدیث کی پیاس بجھا رہے ہیں۔
تدریس کے علاوہ آپ تبلیغِ دین کے سلسلے میں مختلف مقامات پر فرائضِ خطابت بھی سر انجام دیتے چلے آئے ہیں۔ آغازِ خطابت مدرسہ عربیہ انوار العلوم کی جامع مسجد سےکیا عید گاہ ملتان کے نائب خطیب رہے اور آج کل جامع مسجد مہریہ شمس آباد کالونی ملتان میں خطابت فرما رہے ہیں۔ ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت میں مجلسِ عمل تحفظ ختمِ نبوت میں اہل سنّت و جماعت کی نمائندگی کی۔
آپ نے ۱۳۷۴ھ / ۱۹۵۴ء میں حضرت پیر غلام محی الدین شاہ (المعروف بابوجی) صاحب رحمہ اللہ خلف الرشید حضرت قطب عالم پیر سیّد مہر علی شاہ صاحب قدس سرّہ العزیز کے دستِ مبارک پر سلسلۂ چشتیہ میں شرف بیعت حاصل کیا۔
۱۳۹۳ھ / ۱۹۷۳ء میں آپ نے حج بیت اللہ شریف و زیارت روضۂ رسول کی سعادت حاصل کی اور اسی سال حضرت پیر صاحب سیّد غلام محی الدّین شاہ رحمہ اللہ کی صعیّت میں بغداد شریف، کربلا معلّیٰ اور نجف اشرف حاضری دی۔
آپ نے تین مبسوط مقالے قرآن و حدیث کے سلسلے میں تحریر کیے
۱۔ مقامِ سنّت (مطبوعہ مکتبہ قادریہ لاہور
۲- جمع و تر تیب قرآن
۳۔ فنِّ تفسیر
کثیر التعداد طلباء نے آپ سے اکتسابِ فیض کیا جن میں سے چند مشہور تلامذہ یہ ہیں:
۱۔ مولانا عبد الستّار سعیدی مدرس عربیہ علی پور۔
۲۔ مولانا فضل احمد صاحب مدرس مدرسہ رحمت العلوم
۳۔ مولانا غلام فرید سعیدی مدرس مدرسہ رُکن الاسلام جامعہ مجددیہ حیدر آباد۔
آپ کے دو صاحبزادے غلام محبوب سبحانی اور غلام جیلانی ہیں جو بالترتیب چھ اور تین سال کی عمر کے ہیں۔ اللہ تعالیٰ دونوں صاحبزادوں کو علومِ دینیہ سے بہرور فرمائے۔
[۱۔ مکتوب حضرت مولانا محمد مشتاق احمد صاحب چشتی، بنامِ مرتّب]
( تعارف علماءِ اہلسنت )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-mushtaq-ahmad-chishti
scholars.pk
Hazrat Allama Mushtaq Ahmad Chishti
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
👍2❤1
حضرت علامہ مولانا غلام رسول ہاشم چشتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
ولادت:
مولانا غلام رسول بن خلیفہ پیر محمد ۳، مارچ ۱۸۶۳ء کو شکار پور سندھ میں تولد ہوئے ۔
آپ رئیس العارفین حضرت خواجہ امین شاہ چشتی علیہ الرحمہ کے بڑے خلیفہ مولانا حافظ صاحبڈ نہ چشتی کے پڑ پوتے ( یعنی پوتے کے بیٹے ) تھے ۔
تعلیم و تربیت:
ابتدا میں محلہ کی مسجد شریف میں قرآن مجید کی تعلیم حاصل کی اس کے بعد حضرت مولانا قاضی سید بہادر علی شاہ چشتی ( جو کہ حضرت خواجہ سید محمد گیسودراز چشتی قدس سرہ متوفی ۸۲۵ھ مدفون حیدر آباد دکن کی اولاد میں سے تھے ) سے تعلیم و تربیت حاصل کی۔
بیعت:
اپنے والد ماجد خلیفہ پیر محمد سے سلسلہ عالیہ چشتیہ صابر یہ میں دست بیعت ہوئے اور بعد میں خلافت سے نوازے گئے۔
عادات و خصائل:
بعدفراغت علمی نواب سخی مدد خان مرحوم کی مشہور جامع مسجد کے امام و خطیب مقرر ہوئے ۔ آپ کا وعظ اثر انداز پر تاثیر تھا۔ شیرین گفتار کے مالک کے ، اس کے علاوہ نامور حکیم بھی تھے۔ پوری زندگی بندگی و معرفت خداوندی اور حب مصطفیٰ ﷺ سے عبارت تھی ۔ ذکر الٰہی ، درود شریف ، تلاوت قرآن مجید اور درس و تدریس آپ کا روز کا معمول تھا۔
شادی و اولاد:
آپ نے تین شادیاں کیں، جن سے پانچ بیٹے تولد ہوئے ۔ بڑے بیٹے میاں شہاب الدین چشتی نے شکار پور سے ہفت روز ہ سندھی اخبار ’’شہباز ‘‘ جاری کیا تھا۔
شاعری:
موصوف بلند پایہ کے شاعر تھے ، علم عروض کے ماہر اور فارسی زبان پر مکمل دسترس رکھتے تھے۔ ’’ہاشم ‘‘ تخلص تھا۔ نمونہ کلام :
چوں شوی فارغ از مناسک او
زاہد روضہ نبی می
روضہ دیدہ بگو تو اے احمد
سرورا دستگیر من می
تصنیف و تالیف:
آپ نے تلقین وارشاد، وعظ و نصیحت ، حلقہ ذکر، شعر و شاعری کے ساتھ تصنیف و تالیف کاکام بھی جاری رکھا۔ آپ کی بعض تصانیف کا علم ہو سکا جو کہ درج ذیل ہیں :
٭ میلاد نامہ ( سندھی ) حضور اکرم ﷺ کے میلاد شریف کا بیان
٭ معراج نامہ ( سندھی ) حضور اکرم ﷺ کے معراج شریف کا بیان
٭ تنبیہ المسلمین ( سندھی )
٭ دیوان ہاشم اس میں سندھی سرائیکی اور فارسی کلام درج ہے۔
وصال:
مولانا غلام رسول ہاشم چشتی نے ۲۷، جون ۱۹۲۶ئ؍۱۳۴۴ھ کو ۶۳ سال کی عمر میں انتقال کیا۔ آپ کی آخری آرامگاہ شکار پور کے قبرستان میں واقع ہے۔ ( ماخوذ: مہران مطبوعہ ۱۹۵۷ء )
( انوارِ علماءِ اہلسنت )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-molana-ghulam-rasool-hashim-chishti
ولادت:
مولانا غلام رسول بن خلیفہ پیر محمد ۳، مارچ ۱۸۶۳ء کو شکار پور سندھ میں تولد ہوئے ۔
آپ رئیس العارفین حضرت خواجہ امین شاہ چشتی علیہ الرحمہ کے بڑے خلیفہ مولانا حافظ صاحبڈ نہ چشتی کے پڑ پوتے ( یعنی پوتے کے بیٹے ) تھے ۔
تعلیم و تربیت:
ابتدا میں محلہ کی مسجد شریف میں قرآن مجید کی تعلیم حاصل کی اس کے بعد حضرت مولانا قاضی سید بہادر علی شاہ چشتی ( جو کہ حضرت خواجہ سید محمد گیسودراز چشتی قدس سرہ متوفی ۸۲۵ھ مدفون حیدر آباد دکن کی اولاد میں سے تھے ) سے تعلیم و تربیت حاصل کی۔
بیعت:
اپنے والد ماجد خلیفہ پیر محمد سے سلسلہ عالیہ چشتیہ صابر یہ میں دست بیعت ہوئے اور بعد میں خلافت سے نوازے گئے۔
عادات و خصائل:
بعدفراغت علمی نواب سخی مدد خان مرحوم کی مشہور جامع مسجد کے امام و خطیب مقرر ہوئے ۔ آپ کا وعظ اثر انداز پر تاثیر تھا۔ شیرین گفتار کے مالک کے ، اس کے علاوہ نامور حکیم بھی تھے۔ پوری زندگی بندگی و معرفت خداوندی اور حب مصطفیٰ ﷺ سے عبارت تھی ۔ ذکر الٰہی ، درود شریف ، تلاوت قرآن مجید اور درس و تدریس آپ کا روز کا معمول تھا۔
شادی و اولاد:
آپ نے تین شادیاں کیں، جن سے پانچ بیٹے تولد ہوئے ۔ بڑے بیٹے میاں شہاب الدین چشتی نے شکار پور سے ہفت روز ہ سندھی اخبار ’’شہباز ‘‘ جاری کیا تھا۔
شاعری:
موصوف بلند پایہ کے شاعر تھے ، علم عروض کے ماہر اور فارسی زبان پر مکمل دسترس رکھتے تھے۔ ’’ہاشم ‘‘ تخلص تھا۔ نمونہ کلام :
چوں شوی فارغ از مناسک او
زاہد روضہ نبی می
روضہ دیدہ بگو تو اے احمد
سرورا دستگیر من می
تصنیف و تالیف:
آپ نے تلقین وارشاد، وعظ و نصیحت ، حلقہ ذکر، شعر و شاعری کے ساتھ تصنیف و تالیف کاکام بھی جاری رکھا۔ آپ کی بعض تصانیف کا علم ہو سکا جو کہ درج ذیل ہیں :
٭ میلاد نامہ ( سندھی ) حضور اکرم ﷺ کے میلاد شریف کا بیان
٭ معراج نامہ ( سندھی ) حضور اکرم ﷺ کے معراج شریف کا بیان
٭ تنبیہ المسلمین ( سندھی )
٭ دیوان ہاشم اس میں سندھی سرائیکی اور فارسی کلام درج ہے۔
وصال:
مولانا غلام رسول ہاشم چشتی نے ۲۷، جون ۱۹۲۶ئ؍۱۳۴۴ھ کو ۶۳ سال کی عمر میں انتقال کیا۔ آپ کی آخری آرامگاہ شکار پور کے قبرستان میں واقع ہے۔ ( ماخوذ: مہران مطبوعہ ۱۹۵۷ء )
( انوارِ علماءِ اہلسنت )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-molana-ghulam-rasool-hashim-chishti
scholars.pk
Hazrat Allama Molana Ghulam Rasool Hashim Chishti
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت شیخ الحدیث علّامہ مشتاق احمد چشتی ملتان علیہ الرحمۃ
ولادت:
استاذ العلماء حضرت علامہ مشتاق احمد چشتی ابن حافظ غلام محمد صاحب (مرحوم) ۱۶ ذوالحجہ ۱۳۵۹ھ / میں بمقام بستی بختاور (بھکّر) ضلع میانوالی میں بلوچ چانڈیہ خاندان کے ایک عظیم علمی گھرانے میں پیدا ہوئے۔
آپ کے خاندان کے اکثر افراد علوم دینیہ سے بہرہ ور ہونے کے علاوہ حفظِ قرآن کی طرف بھی گہرا شغف رکھتے ہیں۔ آپ کے آباؤ اجداد میں سے حضرت فقیر محمد عیسیٰ قدس سرہ علاقہ بھکرے کے مشہور بزرگ ہوئے ہیں ان کے علاوہ حضرت فقیر غلام حیدر، فقیر غلام اسحاق، حافظ غلام محمد، مولانا محمد موسیٰ اور مولانا اللہ بخش صاحب اہلِ علم و روحانیت بزرگ گزرے ہیں۔
اس وقت آپ کے دو بڑے بھائیوں علامہ مولانا فیض احمد صاحب (مفتی و صدر مدّرس دار العلوم غوثیہ دربارِ عالیہ گولڑہ شریف) اور مولانا سیّد احمد (آپ کے استاذِ محترم) کے علاوہ دو بھتیجے مولانا ممتاز احمد اور مولانا کریم بخش علومِ اسلامیہ کے مدرس ہیں۔
آپ نے قرآن پاک حفظ کرنے کے بعد علومِ عربیہ کے منتخب نصاب (درسِ نظامی) کی مدرسہ محمودیہ پپلاں ضلع میانوالی، جامعہ غوثیہ گولڑہ شریف ضلع راولپنڈی اور مدرسہ عربیہ انوار العلوم ملتان سے تکمیلِ تحصیل کی۔
۱۳۸۲ھ / ۱۹۶۲ء میں مدرسہ عربیہ انوار العلوم ملتان سے سندِ فراغت حاصل کی جامعہ اسلامیہ (اسلامی یونیورسٹی) بہاول پور سے تخصص فی التفسیر و الحدیث (مماثل ایم اے) کی ڈگری حاصل کی۔ اس کے علاوہ آپ نے بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن لاہور سے فاضل فارسی اور ایف اے کا متحان بھی پاس کیا۔
آپ نے علوم عربیہ کی تحصیل مولانا سید احمد صاحب مدرس مدرسہ محمودیہ پپلاں (میانوالی) مولانا فیض احمد مدّرس و مفتی دربارِ عالیہ گولڑہ شریف اور غزالیٔ زماں حضرت علامہ سیّد احمد سعید شاہ صاحب کاظمی مدظلہ سے کی۔
آپ ایک فاضل مدّرس ہیں۔ آپ نے کچھ مدّت دار العلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ میں تدریس فرمائی اور پھر کچھ عرصہ جامعہ غوثیہ گولڑہ شریف میں علومِ اسلامیہ پڑھانے کے بعد آج کل مدرسہ عربیہ انوار العلوم ملتان میں تشنگانِ علم حدیث کی پیاس بجھا رہے ہیں۔
تدریس کے علاوہ آپ تبلیغِ دین کے سلسلے میں مختلف مقامات پر فرائضِ خطابت بھی سر انجام دیتے چلے آئے ہیں۔ آغازِ خطابت مدرسہ عربیہ انوار العلوم کی جامع مسجد سےکیا عید گاہ ملتان کے نائب خطیب رہے اور آج کل جامع مسجد مہریہ شمس آباد کالونی ملتان میں خطابت فرما رہے ہیں۔ ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت میں مجلسِ عمل تحفظ ختمِ نبوت میں اہل سنّت و جماعت کی نمائندگی کی۔
آپ نے ۱۳۷۴ھ / ۱۹۵۴ء میں حضرت پیر غلام محی الدین شاہ (المعروف بابوجی) صاحب رحمہ اللہ خلف الرشید حضرت قطب عالم پیر سیّد مہر علی شاہ صاحب قدس سرّہ العزیز کے دستِ مبارک پر سلسلۂ چشتیہ میں شرف بیعت حاصل کیا۔
۱۳۹۳ھ / ۱۹۷۳ء میں آپ نے حج بیت اللہ شریف و زیارت روضۂ رسول کی سعادت حاصل کی اور اسی سال حضرت پیر صاحب سیّد غلام محی الدّین شاہ رحمہ اللہ کی صعیّت میں بغداد شریف، کربلا معلّیٰ اور نجف اشرف حاضری دی۔
آپ نے تین مبسوط مقالے قرآن و حدیث کے سلسلے میں تحریر کیے
۱۔ مقامِ سنّت (مطبوعہ مکتبہ قادریہ لاہور
۲- جمع و تر تیب قرآن
۳۔ فنِّ تفسیر
کثیر التعداد طلباء نے آپ سے اکتسابِ فیض کیا جن میں سے چند مشہور تلامذہ یہ ہیں:
۱۔ مولانا عبد الستّار سعیدی مدرس عربیہ علی پور۔
۲۔ مولانا فضل احمد صاحب مدرس مدرسہ رحمت العلوم
۳۔ مولانا غلام فرید سعیدی مدرس مدرسہ رُکن الاسلام جامعہ مجددیہ حیدر آباد۔
آپ کے دو صاحبزادے غلام محبوب سبحانی اور غلام جیلانی ہیں جو بالترتیب چھ اور تین سال کی عمر کے ہیں۔ اللہ تعالیٰ دونوں صاحبزادوں کو علومِ دینیہ سے بہرور فرمائے۔
[۱۔ مکتوب حضرت مولانا محمد مشتاق احمد صاحب چشتی، بنامِ مرتّب]
( تعارف علماءِ اہلسنت )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-mushtaq-ahmad-chishti
ولادت:
استاذ العلماء حضرت علامہ مشتاق احمد چشتی ابن حافظ غلام محمد صاحب (مرحوم) ۱۶ ذوالحجہ ۱۳۵۹ھ / میں بمقام بستی بختاور (بھکّر) ضلع میانوالی میں بلوچ چانڈیہ خاندان کے ایک عظیم علمی گھرانے میں پیدا ہوئے۔
آپ کے خاندان کے اکثر افراد علوم دینیہ سے بہرہ ور ہونے کے علاوہ حفظِ قرآن کی طرف بھی گہرا شغف رکھتے ہیں۔ آپ کے آباؤ اجداد میں سے حضرت فقیر محمد عیسیٰ قدس سرہ علاقہ بھکرے کے مشہور بزرگ ہوئے ہیں ان کے علاوہ حضرت فقیر غلام حیدر، فقیر غلام اسحاق، حافظ غلام محمد، مولانا محمد موسیٰ اور مولانا اللہ بخش صاحب اہلِ علم و روحانیت بزرگ گزرے ہیں۔
اس وقت آپ کے دو بڑے بھائیوں علامہ مولانا فیض احمد صاحب (مفتی و صدر مدّرس دار العلوم غوثیہ دربارِ عالیہ گولڑہ شریف) اور مولانا سیّد احمد (آپ کے استاذِ محترم) کے علاوہ دو بھتیجے مولانا ممتاز احمد اور مولانا کریم بخش علومِ اسلامیہ کے مدرس ہیں۔
آپ نے قرآن پاک حفظ کرنے کے بعد علومِ عربیہ کے منتخب نصاب (درسِ نظامی) کی مدرسہ محمودیہ پپلاں ضلع میانوالی، جامعہ غوثیہ گولڑہ شریف ضلع راولپنڈی اور مدرسہ عربیہ انوار العلوم ملتان سے تکمیلِ تحصیل کی۔
۱۳۸۲ھ / ۱۹۶۲ء میں مدرسہ عربیہ انوار العلوم ملتان سے سندِ فراغت حاصل کی جامعہ اسلامیہ (اسلامی یونیورسٹی) بہاول پور سے تخصص فی التفسیر و الحدیث (مماثل ایم اے) کی ڈگری حاصل کی۔ اس کے علاوہ آپ نے بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن لاہور سے فاضل فارسی اور ایف اے کا متحان بھی پاس کیا۔
آپ نے علوم عربیہ کی تحصیل مولانا سید احمد صاحب مدرس مدرسہ محمودیہ پپلاں (میانوالی) مولانا فیض احمد مدّرس و مفتی دربارِ عالیہ گولڑہ شریف اور غزالیٔ زماں حضرت علامہ سیّد احمد سعید شاہ صاحب کاظمی مدظلہ سے کی۔
آپ ایک فاضل مدّرس ہیں۔ آپ نے کچھ مدّت دار العلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ میں تدریس فرمائی اور پھر کچھ عرصہ جامعہ غوثیہ گولڑہ شریف میں علومِ اسلامیہ پڑھانے کے بعد آج کل مدرسہ عربیہ انوار العلوم ملتان میں تشنگانِ علم حدیث کی پیاس بجھا رہے ہیں۔
تدریس کے علاوہ آپ تبلیغِ دین کے سلسلے میں مختلف مقامات پر فرائضِ خطابت بھی سر انجام دیتے چلے آئے ہیں۔ آغازِ خطابت مدرسہ عربیہ انوار العلوم کی جامع مسجد سےکیا عید گاہ ملتان کے نائب خطیب رہے اور آج کل جامع مسجد مہریہ شمس آباد کالونی ملتان میں خطابت فرما رہے ہیں۔ ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت میں مجلسِ عمل تحفظ ختمِ نبوت میں اہل سنّت و جماعت کی نمائندگی کی۔
آپ نے ۱۳۷۴ھ / ۱۹۵۴ء میں حضرت پیر غلام محی الدین شاہ (المعروف بابوجی) صاحب رحمہ اللہ خلف الرشید حضرت قطب عالم پیر سیّد مہر علی شاہ صاحب قدس سرّہ العزیز کے دستِ مبارک پر سلسلۂ چشتیہ میں شرف بیعت حاصل کیا۔
۱۳۹۳ھ / ۱۹۷۳ء میں آپ نے حج بیت اللہ شریف و زیارت روضۂ رسول کی سعادت حاصل کی اور اسی سال حضرت پیر صاحب سیّد غلام محی الدّین شاہ رحمہ اللہ کی صعیّت میں بغداد شریف، کربلا معلّیٰ اور نجف اشرف حاضری دی۔
آپ نے تین مبسوط مقالے قرآن و حدیث کے سلسلے میں تحریر کیے
۱۔ مقامِ سنّت (مطبوعہ مکتبہ قادریہ لاہور
۲- جمع و تر تیب قرآن
۳۔ فنِّ تفسیر
کثیر التعداد طلباء نے آپ سے اکتسابِ فیض کیا جن میں سے چند مشہور تلامذہ یہ ہیں:
۱۔ مولانا عبد الستّار سعیدی مدرس عربیہ علی پور۔
۲۔ مولانا فضل احمد صاحب مدرس مدرسہ رحمت العلوم
۳۔ مولانا غلام فرید سعیدی مدرس مدرسہ رُکن الاسلام جامعہ مجددیہ حیدر آباد۔
آپ کے دو صاحبزادے غلام محبوب سبحانی اور غلام جیلانی ہیں جو بالترتیب چھ اور تین سال کی عمر کے ہیں۔ اللہ تعالیٰ دونوں صاحبزادوں کو علومِ دینیہ سے بہرور فرمائے۔
[۱۔ مکتوب حضرت مولانا محمد مشتاق احمد صاحب چشتی، بنامِ مرتّب]
( تعارف علماءِ اہلسنت )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-mushtaq-ahmad-chishti
scholars.pk
Hazrat Allama Mushtaq Ahmad Chishti
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
15-12-1444 ᴴ | 04-07-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
16-12-1444 ᴴ | 05-07-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
16-12-1444 ᴴ | 05-07-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
16-12-1444 ᴴ | 05-07-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1