Forwarded from مضامین قدیمہ
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما
موجودہ چیف جسٹس آف انڈیا
موجودہ چیف جسٹس آف انڈیا ڈی وائی چندر چوڈ ملک کا پچاسواں چیف جسٹس ہے۔
دستور ہند کی تشریح کا فریضہ سپریم کورٹ آف انڈیا کو انجام دینا ہے۔
موجودہ چیف جسٹس کے عہدہ کی مدت دو سال ہے۔9:نومبر 2022 کو اسے چیف جسٹس کا عہدہ تفویض کیا گیا۔نومبر 2024 میں اس کی مدت مکمل ہو جائے گی۔
موجودہ چیف جسٹس کے فیصلے دستور ہند کے مطابق ہوتے ہیں۔اس سے مودی حکومت بھی خوف زدہ ہے۔سب سے اہم بات ہے کہ لوک سبھا الیکشن 2024 بھی اسی کے عہد میں ہونے والا ہے۔
مودی حکومت نے عدلیہ پر بھی اپنے اثرات قائم کرنے کی کوشش کی اور متعدد چیف جسٹس بھی مودی حکومت سے متاثر ہوئے٫لیکن موجودہ چیف جسٹس کے فیصلوں کو دیکھ کر بھاجپائی حکومت گھبرائی ہوئی ہے۔
موجودہ چیف جسٹس نے اڈانی گھوٹالوں کی تفتیش کے لیے اپنی نگرانی میں ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔اس کے فیصلے کا بھی ملک کو انتظار ہے۔
موجودہ چیف جسٹس کے فیصلے تعصب سے بالاتر نظر آتے ہیں۔اگر ملک کا ہر چیف جسٹس اسی طرز پر کام کرتا رہے تو بھارت کی جمہوریت کو تباہ کرنے اور منو سمرتی کے نفاذ کی کوشش ناکام ہو جائے گی۔
لوک سبھا الیکشن 2024 سے قبل متعدد ریاستوں میں اسمبلی الیکشن ہیں۔ابھی ملک کے باشندوں کی نظر کرناٹک اسمبلی الیکشن 2023 پر لگی ہوئی ہے۔10:مئی کو ووٹنگ ہو گی اور 13:مئی کو کاؤنٹنگ ہو گی۔کرناٹک اسمبلی الیکشن کے نتیجے سے لوک سبھا الیکشن 2024 کا حال بھی کچھ ظاہر ہو جائے گا۔2023 کے اسمبلی انتخابات لوک سبھا الیکشن 2024 کے سیمی فائنل کی طرح ہیں۔
حزب مخالف کی پارٹیاں بھی ایک دوسرے کے قریب آ رہی ہیں۔اگر حزب مخالف کی پارٹیوں کا اتحاد ہو جائے تو 2024 کے لوک سبھا الیکشن میں کامیابی کی امید نظر آتی ہے۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:07:اپریل 2023
موجودہ چیف جسٹس آف انڈیا
موجودہ چیف جسٹس آف انڈیا ڈی وائی چندر چوڈ ملک کا پچاسواں چیف جسٹس ہے۔
دستور ہند کی تشریح کا فریضہ سپریم کورٹ آف انڈیا کو انجام دینا ہے۔
موجودہ چیف جسٹس کے عہدہ کی مدت دو سال ہے۔9:نومبر 2022 کو اسے چیف جسٹس کا عہدہ تفویض کیا گیا۔نومبر 2024 میں اس کی مدت مکمل ہو جائے گی۔
موجودہ چیف جسٹس کے فیصلے دستور ہند کے مطابق ہوتے ہیں۔اس سے مودی حکومت بھی خوف زدہ ہے۔سب سے اہم بات ہے کہ لوک سبھا الیکشن 2024 بھی اسی کے عہد میں ہونے والا ہے۔
مودی حکومت نے عدلیہ پر بھی اپنے اثرات قائم کرنے کی کوشش کی اور متعدد چیف جسٹس بھی مودی حکومت سے متاثر ہوئے٫لیکن موجودہ چیف جسٹس کے فیصلوں کو دیکھ کر بھاجپائی حکومت گھبرائی ہوئی ہے۔
موجودہ چیف جسٹس نے اڈانی گھوٹالوں کی تفتیش کے لیے اپنی نگرانی میں ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔اس کے فیصلے کا بھی ملک کو انتظار ہے۔
موجودہ چیف جسٹس کے فیصلے تعصب سے بالاتر نظر آتے ہیں۔اگر ملک کا ہر چیف جسٹس اسی طرز پر کام کرتا رہے تو بھارت کی جمہوریت کو تباہ کرنے اور منو سمرتی کے نفاذ کی کوشش ناکام ہو جائے گی۔
لوک سبھا الیکشن 2024 سے قبل متعدد ریاستوں میں اسمبلی الیکشن ہیں۔ابھی ملک کے باشندوں کی نظر کرناٹک اسمبلی الیکشن 2023 پر لگی ہوئی ہے۔10:مئی کو ووٹنگ ہو گی اور 13:مئی کو کاؤنٹنگ ہو گی۔کرناٹک اسمبلی الیکشن کے نتیجے سے لوک سبھا الیکشن 2024 کا حال بھی کچھ ظاہر ہو جائے گا۔2023 کے اسمبلی انتخابات لوک سبھا الیکشن 2024 کے سیمی فائنل کی طرح ہیں۔
حزب مخالف کی پارٹیاں بھی ایک دوسرے کے قریب آ رہی ہیں۔اگر حزب مخالف کی پارٹیوں کا اتحاد ہو جائے تو 2024 کے لوک سبھا الیکشن میں کامیابی کی امید نظر آتی ہے۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:07:اپریل 2023
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما
کرناٹک اسمبلی الیکشن:2023
(1)کرناٹک اسمبلی الیکشن:2023 کے لئے 10:مئی 2023 کو ووٹنگ ہو گی اور 13:مئی 2023 کو کاؤنٹنگ ہو گی۔
(2)اگر کانگریس اور جے ڈی ایس مل کر الیکشن لڑیں تو بہت اچھا ہو گا٫ورنہ جس سیٹ پر جس سیکولر امیدوار کے جیتنے کی امید زیادہ ہو٫اسی کو ووٹ دیں اور اپنے ووٹ بکھرنے نہ دیں۔
(3)الیکشن کے موقع پر لوگ ہزار / دو ہزار لے کر پانچ سال کے لئے اپنا قانونی اختیار غلط لوگوں کے سپرد کر دیتے ہیں٫پھر پانچ سال تک لوگ اس کا خمیازہ بھگتے رہتے ہیں۔لہذا رقم لے کر کسی کو اپنا قانونی اختیار نہ سونپیں٫بلکہ اپنی صوابدید کے مطابق اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کریں۔
(4) کرناٹک اسمبلی الیکشن:2023 لوک سبھا الیکشن:2024 کے لئے سیمی فائنل کی طرح ہے٫لہذا اس الیکشن میں مکمل سوجھ بوجھ سے کام لیں اور کسی قسم کی غلطی نہ کریں۔
(5) کرناٹک کے مشہور ومعروف وکیل اور قومی رہنما جناب صادق اللہ صاحب ایڈووکیٹ متولی مسجد اعظم چترا درگہ(کرناٹک)نے بتایا کہ اس مرتبہ سیکولر حکومت بننے کی امید زیادہ ہے۔فرقہ پرست قوتیں ہمیشہ کی طرح ہزار / دو ہزار روپے دے کر ووٹ خریدنے کی کوشش کریں گی٫لہذا تمام ووٹرس سے گزارش ہے کہ اس خرید وفروخت سے دور رہیں۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:10:اپریل 2023
کرناٹک اسمبلی الیکشن:2023
(1)کرناٹک اسمبلی الیکشن:2023 کے لئے 10:مئی 2023 کو ووٹنگ ہو گی اور 13:مئی 2023 کو کاؤنٹنگ ہو گی۔
(2)اگر کانگریس اور جے ڈی ایس مل کر الیکشن لڑیں تو بہت اچھا ہو گا٫ورنہ جس سیٹ پر جس سیکولر امیدوار کے جیتنے کی امید زیادہ ہو٫اسی کو ووٹ دیں اور اپنے ووٹ بکھرنے نہ دیں۔
(3)الیکشن کے موقع پر لوگ ہزار / دو ہزار لے کر پانچ سال کے لئے اپنا قانونی اختیار غلط لوگوں کے سپرد کر دیتے ہیں٫پھر پانچ سال تک لوگ اس کا خمیازہ بھگتے رہتے ہیں۔لہذا رقم لے کر کسی کو اپنا قانونی اختیار نہ سونپیں٫بلکہ اپنی صوابدید کے مطابق اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کریں۔
(4) کرناٹک اسمبلی الیکشن:2023 لوک سبھا الیکشن:2024 کے لئے سیمی فائنل کی طرح ہے٫لہذا اس الیکشن میں مکمل سوجھ بوجھ سے کام لیں اور کسی قسم کی غلطی نہ کریں۔
(5) کرناٹک کے مشہور ومعروف وکیل اور قومی رہنما جناب صادق اللہ صاحب ایڈووکیٹ متولی مسجد اعظم چترا درگہ(کرناٹک)نے بتایا کہ اس مرتبہ سیکولر حکومت بننے کی امید زیادہ ہے۔فرقہ پرست قوتیں ہمیشہ کی طرح ہزار / دو ہزار روپے دے کر ووٹ خریدنے کی کوشش کریں گی٫لہذا تمام ووٹرس سے گزارش ہے کہ اس خرید وفروخت سے دور رہیں۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:10:اپریل 2023
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما
جمہوریت کی پامالی اور فرقہ پرست قوتیں
(1)فرقہ پرست قوتیں دستور ہند کے خلاف کام بھی کرتی ہیں اور اپنی کٹ حجتی سے اس کو موافق دستور بھی ثابت کرتی ہیں۔
(2)فرقہ پرست قوتیں اور مین اسٹریم میڈیا نے ملک بھر کے سماج میں نفرت کا زہر گھول دیا ہے۔اس زہر کا تریاق یہی ہے کہ فرقہ پرستوں کو حکومت سے باہر کیا جائے۔
(3)حزب مخالف کی پارٹیاں لوک سبھا الیکشن:2024 کے لیے اتحاد کی کوشش کر رہی ہیں۔اگر کامیابی ملتی ہے تو ملک کا ماحول ضرور بدل جانے کی امید ہے۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:16:اپریل 2023
جمہوریت کی پامالی اور فرقہ پرست قوتیں
(1)فرقہ پرست قوتیں دستور ہند کے خلاف کام بھی کرتی ہیں اور اپنی کٹ حجتی سے اس کو موافق دستور بھی ثابت کرتی ہیں۔
(2)فرقہ پرست قوتیں اور مین اسٹریم میڈیا نے ملک بھر کے سماج میں نفرت کا زہر گھول دیا ہے۔اس زہر کا تریاق یہی ہے کہ فرقہ پرستوں کو حکومت سے باہر کیا جائے۔
(3)حزب مخالف کی پارٹیاں لوک سبھا الیکشن:2024 کے لیے اتحاد کی کوشش کر رہی ہیں۔اگر کامیابی ملتی ہے تو ملک کا ماحول ضرور بدل جانے کی امید ہے۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:16:اپریل 2023
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما
بھارتی میڈیا کی رذالت وبے حیائی
عہد حاضر میں فرقہ پرست پارٹیوں کے ارکان وکارکنان اور مین اسٹریم میڈیا کے اینکرسں رذالت وبے حیائی کی آخری منزل سے بھی پار جا چکے ہیں۔یہ لوگ کذب بیانی اور افترا پردازی کرتے ہیں۔
یہ لوگ فرقہ پرستوں کے علاوہ دیگر تمام لوگوں کے خلاف زہر افشانی کرتے رہتے ہیں۔خواہ وہ کسی دھرم اور کسی بھی ذات کے ہوں۔
کانگریسی لیڈر اگر برہمن بھی ہو تو اس پر یہ لوگ بھونکتے ہیں۔اسی طرح غیر بھاجپائی ہنود کے خلاف بھی زہر اگلتے ہیں۔الغرض جو بھاجپا سے منسلک نہیں ہیں٫خواہ وہ کوئی بھی ہو٫موقع ملنے پر اس کے خلاف ماحول سازی کرتے رہتے ہیں۔
حزب مخالف کے لیڈروں پر ای ڈی اور سی بی آئی کی کاروائی بھی اسی فکر کا نتیجہ ہے۔پولیس محکمہ ودیگر محکموں میں بھی عصبیت کے جراثیم حملہ کر چکے ہیں۔غیرت وحیا اور شرافت و انسانیت بھی غائب ہو چکی ہے۔
یہ لوگ انتہائی بے حیائی اور رذالت کے ساتھ دوسروں کی کردار کشی کرتے ہیں۔مین اسٹریم میڈیا کے اینکرسں اور فرقہ پرست لیڈروں کی باتیں سنیں٫سب کچھ ظاہر ہو جائے گا۔قوم مسلم اور دلت وغیرہ تو ان شیاطین کے آسان شکار ہیں۔
ہم نے اپنی عملی زندگی میں بھی ایسے بعض خبیثوں کو دیکھا ہے٫لیکن مین اسٹریم میڈیا کے اکثر افراد ایسے ہی بد کردار ہیں۔اللہ تعالی ایسے شریروں سے سب کو محفوظ فرمائے:آمین
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:23:اپریل 2023
بھارتی میڈیا کی رذالت وبے حیائی
عہد حاضر میں فرقہ پرست پارٹیوں کے ارکان وکارکنان اور مین اسٹریم میڈیا کے اینکرسں رذالت وبے حیائی کی آخری منزل سے بھی پار جا چکے ہیں۔یہ لوگ کذب بیانی اور افترا پردازی کرتے ہیں۔
یہ لوگ فرقہ پرستوں کے علاوہ دیگر تمام لوگوں کے خلاف زہر افشانی کرتے رہتے ہیں۔خواہ وہ کسی دھرم اور کسی بھی ذات کے ہوں۔
کانگریسی لیڈر اگر برہمن بھی ہو تو اس پر یہ لوگ بھونکتے ہیں۔اسی طرح غیر بھاجپائی ہنود کے خلاف بھی زہر اگلتے ہیں۔الغرض جو بھاجپا سے منسلک نہیں ہیں٫خواہ وہ کوئی بھی ہو٫موقع ملنے پر اس کے خلاف ماحول سازی کرتے رہتے ہیں۔
حزب مخالف کے لیڈروں پر ای ڈی اور سی بی آئی کی کاروائی بھی اسی فکر کا نتیجہ ہے۔پولیس محکمہ ودیگر محکموں میں بھی عصبیت کے جراثیم حملہ کر چکے ہیں۔غیرت وحیا اور شرافت و انسانیت بھی غائب ہو چکی ہے۔
یہ لوگ انتہائی بے حیائی اور رذالت کے ساتھ دوسروں کی کردار کشی کرتے ہیں۔مین اسٹریم میڈیا کے اینکرسں اور فرقہ پرست لیڈروں کی باتیں سنیں٫سب کچھ ظاہر ہو جائے گا۔قوم مسلم اور دلت وغیرہ تو ان شیاطین کے آسان شکار ہیں۔
ہم نے اپنی عملی زندگی میں بھی ایسے بعض خبیثوں کو دیکھا ہے٫لیکن مین اسٹریم میڈیا کے اکثر افراد ایسے ہی بد کردار ہیں۔اللہ تعالی ایسے شریروں سے سب کو محفوظ فرمائے:آمین
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:23:اپریل 2023
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما
بھاجپا کے خطرناک منصوبے
(1)کرناٹک اسمبلی الیکشن:2023 میں بھاجپا کو اپنی شکست کا احساس ہو چکا ہے۔اسی کے پیش نظر اہل کرناٹک کو کچھ پیشین گوئی بھی سنائی جا رہی ہے۔
امیت شاہ نے کہا ہے کہ اگر کرناٹک میں کانگریس کی حکومت بنتی ہے تو ریاست میں فسادات ہوں گے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھاجپا اور اس کی حمایتی فرقہ پرست قوتیں کرناٹک میں فسادات پھیلائیں گی اور یہ ہمیشہ سے ہوتا رہا ہے کہ فرقہ پرست قوتیں ہی ملک میں فسادات پھیلاتی ہیں۔
(2)کرناٹک میں کمزور مسلمانوں کے لیے چار فی صد ریزرویشن تھا۔بھاجپا نے اسے ختم کر دیا۔تلنگانہ میں امیت شاہ نے کہا کہ اگر تلنگانہ میں بھاجپا کی حکومت بن جائے تو مسلمانوں کا ریزرویشن ختم کر دیا جائے گا۔تلنگانہ میں بھی مسلمانوں کے لئے چار فی صد ریزرویشن ہے۔
ملک کی ترقی کے لئے ہر قوم کو ترقی یافتہ ہونا چاہیے۔مسلمانوں کا ریزرویشن ختم کرنے سے بھارت کی ایک قوم مزید کمزور ہو گی جس سے ملک کمزور ہو گا۔لیکن بھاجپا کو ملک کی ترقی نہیں چاہیے٫بلکہ قوم ہنود کو خوش کر کے ان کے ووٹ بٹورنا اور ملک پر حکم رانی کرنا مقصود ہے۔یہ لوگ ملک کی ترقی کے خواہش مند نہیں۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:27:اپریل 2023
بھاجپا کے خطرناک منصوبے
(1)کرناٹک اسمبلی الیکشن:2023 میں بھاجپا کو اپنی شکست کا احساس ہو چکا ہے۔اسی کے پیش نظر اہل کرناٹک کو کچھ پیشین گوئی بھی سنائی جا رہی ہے۔
امیت شاہ نے کہا ہے کہ اگر کرناٹک میں کانگریس کی حکومت بنتی ہے تو ریاست میں فسادات ہوں گے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھاجپا اور اس کی حمایتی فرقہ پرست قوتیں کرناٹک میں فسادات پھیلائیں گی اور یہ ہمیشہ سے ہوتا رہا ہے کہ فرقہ پرست قوتیں ہی ملک میں فسادات پھیلاتی ہیں۔
(2)کرناٹک میں کمزور مسلمانوں کے لیے چار فی صد ریزرویشن تھا۔بھاجپا نے اسے ختم کر دیا۔تلنگانہ میں امیت شاہ نے کہا کہ اگر تلنگانہ میں بھاجپا کی حکومت بن جائے تو مسلمانوں کا ریزرویشن ختم کر دیا جائے گا۔تلنگانہ میں بھی مسلمانوں کے لئے چار فی صد ریزرویشن ہے۔
ملک کی ترقی کے لئے ہر قوم کو ترقی یافتہ ہونا چاہیے۔مسلمانوں کا ریزرویشن ختم کرنے سے بھارت کی ایک قوم مزید کمزور ہو گی جس سے ملک کمزور ہو گا۔لیکن بھاجپا کو ملک کی ترقی نہیں چاہیے٫بلکہ قوم ہنود کو خوش کر کے ان کے ووٹ بٹورنا اور ملک پر حکم رانی کرنا مقصود ہے۔یہ لوگ ملک کی ترقی کے خواہش مند نہیں۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:27:اپریل 2023
👍1
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما
مال ودولت اور انسانی معاشرہ
عہد ماضی میں عمدہ اخلاق و کردار کو انسانی معاشرہ میں بلند مقام حاصل تھا۔مغربی طرز فکر نے انسانی سماج میں دولت وثروت کو سب سے بلند رتبہ پر فائز کر دیا ہے۔اب اچھے اخلاق و کردار کو ثانوی رتبہ میں رکھا جاتا ہے۔
اس جدید فکر کا نتیجہ یہ ہوا کہ اب مذہبی طبقات بھی حصول دولت کی طرف مائل ہو گئے اور موقع بموقع اپنی دولت کی نمائش کے طریقے بھی اپنائے جاتے ہیں۔خاص کر شادی بیاہ کی تقریب اور اسی طرح دیگر تقریبات کے موقع پر اعلی انتظامات کئے جاتے ہیں۔
ہم جس انسانی آبادی میں زندگی گزارتے ہیں٫وہاں بہت سے غریب ومحتاج بھی رہتے ہیں٫لہذا تقریبات سادگی کے ساتھ ادا کی جائیں اور اپنے آس پاس کے غریبوں٫محتاجوں اور مسکینوں کی حاجت روائی کی جائے۔
کوئی بیمار ہو گا کہ اس کے پاس علاج کے لئے روپے نہیں ہوں گے۔کسی کی جوان بیٹی ہو گی اور اس کے پاس شادی کے اخراجات نہیں ہوں گے۔کسی کے پاس اپنے بچوں کی تعلیم کے واسطے رقم نہیں ہو گی۔ایسوں کی خبر گیری کی جائے۔انہیں تنہائی میں کچھ دیا جائے۔لوگوں کے سامنے اس کا چرچا نہ کیا جائے۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:29:اپریل 2023
مال ودولت اور انسانی معاشرہ
عہد ماضی میں عمدہ اخلاق و کردار کو انسانی معاشرہ میں بلند مقام حاصل تھا۔مغربی طرز فکر نے انسانی سماج میں دولت وثروت کو سب سے بلند رتبہ پر فائز کر دیا ہے۔اب اچھے اخلاق و کردار کو ثانوی رتبہ میں رکھا جاتا ہے۔
اس جدید فکر کا نتیجہ یہ ہوا کہ اب مذہبی طبقات بھی حصول دولت کی طرف مائل ہو گئے اور موقع بموقع اپنی دولت کی نمائش کے طریقے بھی اپنائے جاتے ہیں۔خاص کر شادی بیاہ کی تقریب اور اسی طرح دیگر تقریبات کے موقع پر اعلی انتظامات کئے جاتے ہیں۔
ہم جس انسانی آبادی میں زندگی گزارتے ہیں٫وہاں بہت سے غریب ومحتاج بھی رہتے ہیں٫لہذا تقریبات سادگی کے ساتھ ادا کی جائیں اور اپنے آس پاس کے غریبوں٫محتاجوں اور مسکینوں کی حاجت روائی کی جائے۔
کوئی بیمار ہو گا کہ اس کے پاس علاج کے لئے روپے نہیں ہوں گے۔کسی کی جوان بیٹی ہو گی اور اس کے پاس شادی کے اخراجات نہیں ہوں گے۔کسی کے پاس اپنے بچوں کی تعلیم کے واسطے رقم نہیں ہو گی۔ایسوں کی خبر گیری کی جائے۔انہیں تنہائی میں کچھ دیا جائے۔لوگوں کے سامنے اس کا چرچا نہ کیا جائے۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:29:اپریل 2023
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما
بھارتی ماحول میں تبدیلیوں کے آثار
(1)بھارت میں فرقہ پرست قوتوں اور بھاجپائی میڈیا نے ایسا ماحول بنا دیا تھا کہ سیاسی پارٹیاں اور سیاسی لیڈران مسلمانوں کا نام لینے سے گھبراتے تھے۔
(2)چند ماہ قبل رایل گاندھی نے "بھارت جوڑو یاترا"نکالا اس یاترا میں راہل نے آر ایس ایس کی آئیڈیا لوجی پر سخت تنقید کی اور یاترا میں مسلمانوں کو شریک کیا۔اس کے بعد عوامی ماحول میں کچھ تبدیلی نظر آنے لگی۔
(3)امسال بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار اور نائب وزیر اعلی تیجسوی یادو نے رمضان میں مسلمانوں کو افطار پارٹی کا انتظام کیا اور دونوں نے مسلمانوں کی ٹوپی بھی پہنی۔اس سے فرقہ پرستوں کا پھیلایا ہوا بھرم ٹوٹنے لگا۔
(4)حالیہ کرناٹک اسمبلی الیکشن:2023 کے لئے کانگریس نے اپنے مینو فیسٹو میں ذکر کیا کہ اگر کانگریس کی حکومت بنتی ہے تو وہ بجرنگ دل اور اس جیسی نفرت پھیلانے والی جماعتوں پر پابندی لگائے گی۔
ان امور سے یہ محسوس ہونے لگا ہے کہ بھارت میں جمہوریت ہے ورنہ فرقہ پرستوں نے اپنے طور پر ملک کو ہندو راشٹر بنا دیا ہے۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:5:مئی 2023
بھارتی ماحول میں تبدیلیوں کے آثار
(1)بھارت میں فرقہ پرست قوتوں اور بھاجپائی میڈیا نے ایسا ماحول بنا دیا تھا کہ سیاسی پارٹیاں اور سیاسی لیڈران مسلمانوں کا نام لینے سے گھبراتے تھے۔
(2)چند ماہ قبل رایل گاندھی نے "بھارت جوڑو یاترا"نکالا اس یاترا میں راہل نے آر ایس ایس کی آئیڈیا لوجی پر سخت تنقید کی اور یاترا میں مسلمانوں کو شریک کیا۔اس کے بعد عوامی ماحول میں کچھ تبدیلی نظر آنے لگی۔
(3)امسال بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار اور نائب وزیر اعلی تیجسوی یادو نے رمضان میں مسلمانوں کو افطار پارٹی کا انتظام کیا اور دونوں نے مسلمانوں کی ٹوپی بھی پہنی۔اس سے فرقہ پرستوں کا پھیلایا ہوا بھرم ٹوٹنے لگا۔
(4)حالیہ کرناٹک اسمبلی الیکشن:2023 کے لئے کانگریس نے اپنے مینو فیسٹو میں ذکر کیا کہ اگر کانگریس کی حکومت بنتی ہے تو وہ بجرنگ دل اور اس جیسی نفرت پھیلانے والی جماعتوں پر پابندی لگائے گی۔
ان امور سے یہ محسوس ہونے لگا ہے کہ بھارت میں جمہوریت ہے ورنہ فرقہ پرستوں نے اپنے طور پر ملک کو ہندو راشٹر بنا دیا ہے۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:5:مئی 2023
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما
ملک کا بدلتا ماحول اور سیاسی پارٹیاں
کرناٹک اسمبلی الیکشن:2023 میں کانگریس کی جیت ہوتے ہی ملک کا سیاسی ماحول بدلنے لگا ہے۔اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اگر لوک سبھا الیکشن:2024 میں حزب مخالف کی پارٹیوں کو فتح یابی ملتی ہے تو ان شاء اللہ تعالی ملک کا ماحول یکسر بدل جائے گا اور پھر بی جے پی ایک طویل مدت تک منظر نامہ سے غائب رہے گی۔
بعض سیاسی پارٹیاں تیسرے محاذ کی کوشش کر رہی تھیں۔اس سے کچھ فائدہ ہونے کی امید نہیں ہے۔نتیش کمار نے حزب مخالف کے اتحاد کا جو فارمولہ پیش کیا ہے٫وہ نتیجہ بخش فارمولہ ہے۔
سنی و شیعہ یا سنی و دیوبندی اتحاد سے کوئی خاص سیاسی فائدہ ہونے کی امید نہیں۔بلکہ مذہبی دائرہ میں نقصان ہو گا۔صلح کلیت ملک بھر کو اپنے دام فریب میں پھنسا لے گی۔
اہل سنت وجماعت اپنے طور پر جو کچھ کر سکتے ہیں٫وہ کرتے رہیں۔مسلمانوں کے ملی مسائل پر توجہ دیں۔سیاسی محاذ آرائی سیاسی جماعتیں کر سکتی ہیں۔
یہ بات بھی ملک بھر میں گردش کر رہی ہے کہ کانگریس کے بغیر بھاجپا کو مرکز سے بے دخل نہیں کیا جا سکتا ہے۔ان معاملات میں جب دیگر سیاسی جماعتیں بے دست و پا نظر آتی ہیں تو کلمہ گو طبقات کے اتحاد سے کون سا محاذ سر کیا جا سکتا ہے۔
قوم مسلم اپنے ملی مسائل کے حل کے لئے برسر اقتدار سیاسی پارٹیوں سے رابطہ رکھیں٫کیوں کہ جو پارٹی اقتدار میں نہ ہو٫وہ زیادہ مدد نہیں کر سکتی ہے۔
کرناٹک کی نو منتخب کانگریسی حکومت نے پولیس کے اعلی افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور پولیس افسروں کو بتایا گیا کہ پولیس محکمہ کا بھگوا کرن ہم پسند نہیں کرتے۔
یہ بھی خبر ہے کہ کرناٹک حکومت بجرنگ دل اور آر ایس ایس پر پابندی کی تیاری کر رہی ہے۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:25:مئی 2023
ملک کا بدلتا ماحول اور سیاسی پارٹیاں
کرناٹک اسمبلی الیکشن:2023 میں کانگریس کی جیت ہوتے ہی ملک کا سیاسی ماحول بدلنے لگا ہے۔اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اگر لوک سبھا الیکشن:2024 میں حزب مخالف کی پارٹیوں کو فتح یابی ملتی ہے تو ان شاء اللہ تعالی ملک کا ماحول یکسر بدل جائے گا اور پھر بی جے پی ایک طویل مدت تک منظر نامہ سے غائب رہے گی۔
بعض سیاسی پارٹیاں تیسرے محاذ کی کوشش کر رہی تھیں۔اس سے کچھ فائدہ ہونے کی امید نہیں ہے۔نتیش کمار نے حزب مخالف کے اتحاد کا جو فارمولہ پیش کیا ہے٫وہ نتیجہ بخش فارمولہ ہے۔
سنی و شیعہ یا سنی و دیوبندی اتحاد سے کوئی خاص سیاسی فائدہ ہونے کی امید نہیں۔بلکہ مذہبی دائرہ میں نقصان ہو گا۔صلح کلیت ملک بھر کو اپنے دام فریب میں پھنسا لے گی۔
اہل سنت وجماعت اپنے طور پر جو کچھ کر سکتے ہیں٫وہ کرتے رہیں۔مسلمانوں کے ملی مسائل پر توجہ دیں۔سیاسی محاذ آرائی سیاسی جماعتیں کر سکتی ہیں۔
یہ بات بھی ملک بھر میں گردش کر رہی ہے کہ کانگریس کے بغیر بھاجپا کو مرکز سے بے دخل نہیں کیا جا سکتا ہے۔ان معاملات میں جب دیگر سیاسی جماعتیں بے دست و پا نظر آتی ہیں تو کلمہ گو طبقات کے اتحاد سے کون سا محاذ سر کیا جا سکتا ہے۔
قوم مسلم اپنے ملی مسائل کے حل کے لئے برسر اقتدار سیاسی پارٹیوں سے رابطہ رکھیں٫کیوں کہ جو پارٹی اقتدار میں نہ ہو٫وہ زیادہ مدد نہیں کر سکتی ہے۔
کرناٹک کی نو منتخب کانگریسی حکومت نے پولیس کے اعلی افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور پولیس افسروں کو بتایا گیا کہ پولیس محکمہ کا بھگوا کرن ہم پسند نہیں کرتے۔
یہ بھی خبر ہے کہ کرناٹک حکومت بجرنگ دل اور آر ایس ایس پر پابندی کی تیاری کر رہی ہے۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:25:مئی 2023
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما
مہا گٹھ بندھن کا مہا سمیلین
حزب مخالف کی اکثر بڑی پارٹیوں کا مہا گٹھ بندھن تیار ہو چکا ہے۔اس اتحاد کا مقصد یہ ہے کہ لوک سبھا الیکشن:2024 میں بی جے پی کے ایک امید وار کے بالمقابل حزب مخالف کا بھی ایک ہی امید وار ہو٫ کیوں کہ ووٹ منتشر ہو جانے کے سبب بھاجپا جیت جاتی ہے۔
لوک سبھا الیکشن:2019 میں بھاجپا کو صرف 37 فی صد ووٹ ملا اور بھاجپا جیت گئی جب کہ حزب مخالف کی پارٹیوں کو 63:فی صد ووٹ ملا اور حزب مخالف کے امیدوار ہار گئے۔ہار کی بڑی وجہ سیکولر ووٹ کا منتشر ہونا ہے۔
اگر حزب مخالف کی پارٹیاں مل جل کر الیکشن لڑیں اور بھاجپا کے امیدوار کے مقابل ایک امیدوار ہو تو بھاجپا کی شکست قریبا یقینی ہے۔
مہا گٹھ بندھن کا پہلا اجلاس 23:جون 2023 کو ہو چکا ہے۔
اب 12: جولائی 2023 کو شملہ میں دوسرا اجلاس ہونے والا ہے۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:27:جون 2023
مہا گٹھ بندھن کا مہا سمیلین
حزب مخالف کی اکثر بڑی پارٹیوں کا مہا گٹھ بندھن تیار ہو چکا ہے۔اس اتحاد کا مقصد یہ ہے کہ لوک سبھا الیکشن:2024 میں بی جے پی کے ایک امید وار کے بالمقابل حزب مخالف کا بھی ایک ہی امید وار ہو٫ کیوں کہ ووٹ منتشر ہو جانے کے سبب بھاجپا جیت جاتی ہے۔
لوک سبھا الیکشن:2019 میں بھاجپا کو صرف 37 فی صد ووٹ ملا اور بھاجپا جیت گئی جب کہ حزب مخالف کی پارٹیوں کو 63:فی صد ووٹ ملا اور حزب مخالف کے امیدوار ہار گئے۔ہار کی بڑی وجہ سیکولر ووٹ کا منتشر ہونا ہے۔
اگر حزب مخالف کی پارٹیاں مل جل کر الیکشن لڑیں اور بھاجپا کے امیدوار کے مقابل ایک امیدوار ہو تو بھاجپا کی شکست قریبا یقینی ہے۔
مہا گٹھ بندھن کا پہلا اجلاس 23:جون 2023 کو ہو چکا ہے۔
اب 12: جولائی 2023 کو شملہ میں دوسرا اجلاس ہونے والا ہے۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:27:جون 2023
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما
یونیفارم سول کوڈ
اور بی جے پی کی حکمت عملی
حزب مخالف کی پارٹیاں متحد ہو رہی ہیں۔لوک سبھا الیکشن:2024 میں بھاجپا کو اپنی شکست صاف نظر آ رہی ہے٫لہذا یونیفارم سول کوڈ کا معاملہ اٹھایا گیا تاکہ 2024 کے لوک سبھا الیکشن میں بھی ہندتو کے نام پر قوم ہنود بھاجپا کو ووٹ دے۔
قوم مسلم ایک جذباتی قوم ہے۔وہ حقائق سے زیادہ جذبات کے سہارے پیش قدمی کرتی ہے۔یونیفارم سول کوڈ کے نام پر مسلمان احتجاج ومظاہرے کریں گے اور ہندتو کے نام پر بھاجپا ہندو ووٹرز کو اپنی طرف مائل کرے گی۔
گزارش ہے کہ لوک سبھا الیکشن:2024 تک مسلمان زیادہ گرم جوشی نہ دکھائیں۔حسب ضرورت کورٹ میں معاملہ کو طول دینے کی کوشش کریں تاکہ لوک سبھا الیکشن:2024 گزر جائے۔
کنواں میں کتا گر جائے تو پہلے کتا کو کنواں سے نکالیں پھر پانی باہر پھینکیں۔اگر کتا کنواں میں رہ گیا اور سارا پانی باہر نکال دیں پھر بھی کنواں کا پانی پاک نہیں ہو گا۔ہوش سے کام لیں۔
یو نیفارم سول کوڈ پر کچھ دنوں تک خاموش رہیں۔حکومت کی چاپلوسی کرنے والی بڑی تحریکوں کا طرز عمل دیکھیں۔اگر وہ احتجاج کرتی ہیں تو سمجھ لیں کہ بھاجپائی حکومت کے اشارے پر ایسا ہو رہا ہے اور احتجاج سے جدا رہیں۔جلد بازی میں کوئی قدم نہ اٹھائیں۔
اگر بھاجپائی حکومت یونی فارم سول کوڈ نافذ بھی کر دیتی ہے اور 2024 میں ہار جاتی ہے تو اس قانون کو منسوخ کرایا جا سکتا ہے۔اٹل بہاری واجپائی کے عہد حکومت میں بھاجپا نے ایک قانون پوٹا کے نام سے بنایا تھا۔اس کے بعد کانگریسی حکومت نے اسے منسوخ کر دیا تھا۔یہ قانون بھی عام طور پر مسلمانوں پر نافذ کیا جاتا تھا۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:02:جولائی 2023
یونیفارم سول کوڈ
اور بی جے پی کی حکمت عملی
حزب مخالف کی پارٹیاں متحد ہو رہی ہیں۔لوک سبھا الیکشن:2024 میں بھاجپا کو اپنی شکست صاف نظر آ رہی ہے٫لہذا یونیفارم سول کوڈ کا معاملہ اٹھایا گیا تاکہ 2024 کے لوک سبھا الیکشن میں بھی ہندتو کے نام پر قوم ہنود بھاجپا کو ووٹ دے۔
قوم مسلم ایک جذباتی قوم ہے۔وہ حقائق سے زیادہ جذبات کے سہارے پیش قدمی کرتی ہے۔یونیفارم سول کوڈ کے نام پر مسلمان احتجاج ومظاہرے کریں گے اور ہندتو کے نام پر بھاجپا ہندو ووٹرز کو اپنی طرف مائل کرے گی۔
گزارش ہے کہ لوک سبھا الیکشن:2024 تک مسلمان زیادہ گرم جوشی نہ دکھائیں۔حسب ضرورت کورٹ میں معاملہ کو طول دینے کی کوشش کریں تاکہ لوک سبھا الیکشن:2024 گزر جائے۔
کنواں میں کتا گر جائے تو پہلے کتا کو کنواں سے نکالیں پھر پانی باہر پھینکیں۔اگر کتا کنواں میں رہ گیا اور سارا پانی باہر نکال دیں پھر بھی کنواں کا پانی پاک نہیں ہو گا۔ہوش سے کام لیں۔
یو نیفارم سول کوڈ پر کچھ دنوں تک خاموش رہیں۔حکومت کی چاپلوسی کرنے والی بڑی تحریکوں کا طرز عمل دیکھیں۔اگر وہ احتجاج کرتی ہیں تو سمجھ لیں کہ بھاجپائی حکومت کے اشارے پر ایسا ہو رہا ہے اور احتجاج سے جدا رہیں۔جلد بازی میں کوئی قدم نہ اٹھائیں۔
اگر بھاجپائی حکومت یونی فارم سول کوڈ نافذ بھی کر دیتی ہے اور 2024 میں ہار جاتی ہے تو اس قانون کو منسوخ کرایا جا سکتا ہے۔اٹل بہاری واجپائی کے عہد حکومت میں بھاجپا نے ایک قانون پوٹا کے نام سے بنایا تھا۔اس کے بعد کانگریسی حکومت نے اسے منسوخ کر دیا تھا۔یہ قانون بھی عام طور پر مسلمانوں پر نافذ کیا جاتا تھا۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:02:جولائی 2023
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما
بلڈوزر قانون یکساں کیوں نہیں؟
بھاجپائی میڈیا یکساں سول کوڈ کے لئے شور مچا رہا ہے۔ان سے سوال کیا جائے کہ بلڈوزر قانون میں یکسانیت کیوں نہیں؟صرف مسلمانوں کے گھروں پر بلڈوزر کیوں چلتے ہیں؟
کہا جاتا ہے کہ ایک ملک ایک قانون۔
دستوری قانون تو سب کے لئے ایک ہی ہے۔مسلمانوں کے لئے جدا گانہ دستور ہند نہیں۔
چوں کہ ملک میں مختلف مذاہب کے لوگ ہیں اور سب کو اپنے مذہب پر عمل کی اجازت دستور ہند میں دی گئی ہے تو مذہبی قانون سب کے جدا گانہ ہیں۔جب مذہب الگ الگ ہیں تو مذہبی قانون یکساں کیسے ہوں گے؟
کل کوئی نعرہ لگا سکتا ہے۔ایک ملک ایک زبان تو کیا یہ قابل قبول ہو گا۔ہرگز نہیں۔ملک بھر میں بے شمار زبانیں بولی جاتی ہیں۔
کوئی نعرہ لگائے کہ ایک ملک ایک برادری تو تمام اہل ملک کو کون سی برادری میں شامل کیا جائے گا؟
کوئی آواز لگائے کہ ایک ملک ایک لباس تو یہ بھی قابل قبول نہیں۔
کوئی یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ ایک ملک ایک مذہب تو اس طرح کی بات قابل قبول کیسے ہو سکتی ہے۔
ایک ملک میں دستوری قانون ایک ہوتا ہے جس کی روشنی میں ملک چلایا جاتا ہے۔دستور ہند میں وہ قوانین رقم کر دئیے گئے۔جن چیزوں میں یکسانیت نہیں ہو سکتی ہے ان میں یکسانیت کے لئے سر پھوڑنے کی ضرورت نہیں۔
بھاجپائیوں کا مقصد ہے کہ اگر تمام اہل ملک ہندو نہ ہو سکیں تو کم از کم ہندو نما ہو جائیں۔
ایسی مصیبتوں سے بچنے کی صورت یہی ہے کہ فرقہ پرست قوتوں کو حکومت سے بے دخل کیا جائے۔جس کے لئے رفتہ رفتہ ماحول بنتا جا رہا ہے۔بھاجپائی حکومت چراغ سحری کی طرح ٹمٹما رہی ہے۔وہ 2024 لوک سبھا الیکشن میں جیت حاصل کرنے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہی ہے۔ان شاء اللہ تعالی اس کی ہر تدبیر اسے ناکامی کی طرف دھکیلے گی۔
آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:03:جولائی 2023
بلڈوزر قانون یکساں کیوں نہیں؟
بھاجپائی میڈیا یکساں سول کوڈ کے لئے شور مچا رہا ہے۔ان سے سوال کیا جائے کہ بلڈوزر قانون میں یکسانیت کیوں نہیں؟صرف مسلمانوں کے گھروں پر بلڈوزر کیوں چلتے ہیں؟
کہا جاتا ہے کہ ایک ملک ایک قانون۔
دستوری قانون تو سب کے لئے ایک ہی ہے۔مسلمانوں کے لئے جدا گانہ دستور ہند نہیں۔
چوں کہ ملک میں مختلف مذاہب کے لوگ ہیں اور سب کو اپنے مذہب پر عمل کی اجازت دستور ہند میں دی گئی ہے تو مذہبی قانون سب کے جدا گانہ ہیں۔جب مذہب الگ الگ ہیں تو مذہبی قانون یکساں کیسے ہوں گے؟
کل کوئی نعرہ لگا سکتا ہے۔ایک ملک ایک زبان تو کیا یہ قابل قبول ہو گا۔ہرگز نہیں۔ملک بھر میں بے شمار زبانیں بولی جاتی ہیں۔
کوئی نعرہ لگائے کہ ایک ملک ایک برادری تو تمام اہل ملک کو کون سی برادری میں شامل کیا جائے گا؟
کوئی آواز لگائے کہ ایک ملک ایک لباس تو یہ بھی قابل قبول نہیں۔
کوئی یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ ایک ملک ایک مذہب تو اس طرح کی بات قابل قبول کیسے ہو سکتی ہے۔
ایک ملک میں دستوری قانون ایک ہوتا ہے جس کی روشنی میں ملک چلایا جاتا ہے۔دستور ہند میں وہ قوانین رقم کر دئیے گئے۔جن چیزوں میں یکسانیت نہیں ہو سکتی ہے ان میں یکسانیت کے لئے سر پھوڑنے کی ضرورت نہیں۔
بھاجپائیوں کا مقصد ہے کہ اگر تمام اہل ملک ہندو نہ ہو سکیں تو کم از کم ہندو نما ہو جائیں۔
ایسی مصیبتوں سے بچنے کی صورت یہی ہے کہ فرقہ پرست قوتوں کو حکومت سے بے دخل کیا جائے۔جس کے لئے رفتہ رفتہ ماحول بنتا جا رہا ہے۔بھاجپائی حکومت چراغ سحری کی طرح ٹمٹما رہی ہے۔وہ 2024 لوک سبھا الیکشن میں جیت حاصل کرنے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہی ہے۔ان شاء اللہ تعالی اس کی ہر تدبیر اسے ناکامی کی طرف دھکیلے گی۔
آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:03:جولائی 2023
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما
مسلم لڑکیوں کو ارتداد سے کیسے بچایا جائے؟
(1) مسلم لڑکیوں کو اپنی محبت کے جال میں پھنسا کر ہندو بنانے کے واسطے ایک گائیڈ لائن جاری کی گئی ہے۔بتایا جاتا ہے کہ یہ گائیڈ لائن آر ایس ایس کی جانب سے جاری کی گئی ہے۔
(2)مسلم بچیوں کو ارتداد سے بچانے کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ انہیں موبائل سے دور رکھیں اور گھر سے باہر جانے پر پابندی نافذ کریں۔
(3)مسلم لڑکیاں جاب نہیں کرتی ہیں٫بلکہ وہ شادی کے بعد ہاوس وائف بن کر رہتی ہیں٫لہذا ان کو کالج کی تعلیم دلانا بیکار ہے۔
اگر کوئی خواہش مند ہو تو وہ ڈسٹینس ایجوکیشن سسٹم کے ذریعہ تعلیم دلائے۔اس نظام تعلیم میں صرف امتحان دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔کلاس میں شرکت کرنی نہیں ہوتی ہے۔
(4)مسلم لڑکیوں کی تعلیم کے واسطے جو اسلامی مدارس قائم کئے گئے ہیں۔ان میں عصری تعلیم کا بھی معتد بہ حصہ ہو۔
ڈسٹینس ایجوکیشن سسٹم کے ذریعہ بچیوں کو امتحانات دلائے جائیں٫تاکہ وہ دینی و عصری ہر دو قسم کے سرٹیفکیٹ حاصلِ کر سکیں۔
(5)مفتیان کرام آف لائن ایجوکیشن سسٹم میں بالغ مسلم لڑکیوں کی شرکت کا حکم بیان کریں۔وہاں مخلوط کلاس ہوتے ہیں۔اکثر ٹیچر بھی مرد اور غیر محرم ہوتے ہیں۔غیر محرموں کے سامنے بالغ لڑکیوں کو بے حجاب رہنا پڑتا ہے۔اکثر اسکولوں میں یونیفارم سسٹم ایسا ہوتا ہے کہ لڑکیاں نیم برہنہ ہوتی ہیں۔ان سب کے شرعی احکام بتا کر مسلم لڑکیوں کو آف لائن اسکولی تعلیم سے دور رکھیں۔اس کے متبادل ڈسٹینس ایجوکیشن سسٹم کی طرف متوجہ کریں۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:09:اپریل 2023
مسلم لڑکیوں کو ارتداد سے کیسے بچایا جائے؟
(1) مسلم لڑکیوں کو اپنی محبت کے جال میں پھنسا کر ہندو بنانے کے واسطے ایک گائیڈ لائن جاری کی گئی ہے۔بتایا جاتا ہے کہ یہ گائیڈ لائن آر ایس ایس کی جانب سے جاری کی گئی ہے۔
(2)مسلم بچیوں کو ارتداد سے بچانے کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ انہیں موبائل سے دور رکھیں اور گھر سے باہر جانے پر پابندی نافذ کریں۔
(3)مسلم لڑکیاں جاب نہیں کرتی ہیں٫بلکہ وہ شادی کے بعد ہاوس وائف بن کر رہتی ہیں٫لہذا ان کو کالج کی تعلیم دلانا بیکار ہے۔
اگر کوئی خواہش مند ہو تو وہ ڈسٹینس ایجوکیشن سسٹم کے ذریعہ تعلیم دلائے۔اس نظام تعلیم میں صرف امتحان دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔کلاس میں شرکت کرنی نہیں ہوتی ہے۔
(4)مسلم لڑکیوں کی تعلیم کے واسطے جو اسلامی مدارس قائم کئے گئے ہیں۔ان میں عصری تعلیم کا بھی معتد بہ حصہ ہو۔
ڈسٹینس ایجوکیشن سسٹم کے ذریعہ بچیوں کو امتحانات دلائے جائیں٫تاکہ وہ دینی و عصری ہر دو قسم کے سرٹیفکیٹ حاصلِ کر سکیں۔
(5)مفتیان کرام آف لائن ایجوکیشن سسٹم میں بالغ مسلم لڑکیوں کی شرکت کا حکم بیان کریں۔وہاں مخلوط کلاس ہوتے ہیں۔اکثر ٹیچر بھی مرد اور غیر محرم ہوتے ہیں۔غیر محرموں کے سامنے بالغ لڑکیوں کو بے حجاب رہنا پڑتا ہے۔اکثر اسکولوں میں یونیفارم سسٹم ایسا ہوتا ہے کہ لڑکیاں نیم برہنہ ہوتی ہیں۔ان سب کے شرعی احکام بتا کر مسلم لڑکیوں کو آف لائن اسکولی تعلیم سے دور رکھیں۔اس کے متبادل ڈسٹینس ایجوکیشن سسٹم کی طرف متوجہ کریں۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:09:اپریل 2023
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
دشمنان اسلام کا خفیہ پلان
مسلم مردوں کو قتل کرو
مسلم عورتوں کو بندو بناؤ
تب انڈیا ہندو راشٹر بنے گا
مسلم مردوں کو قتل کرو
مسلم عورتوں کو بندو بناؤ
تب انڈیا ہندو راشٹر بنے گا
حضرت مولانا رفیع الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
رفیع الدین [1] بن فرید الدین خاں مراد آبادی: معتبر فضلائے ہند میں سے تھے۔حدیث کا علم مولوی خیر الدین سورتی تلمیذ شیخ محمد حیات سندی اور نیز مولانا شاہ ولی اللہ محدث دہلوی سے حاصل کیا اور مولانا شاہ عبد العزیزی دہلوی سے اکثر صحبت کی اور ان سے مسائل مشکلہ تفسیر وحدیث کے پوچھ کر نہایت جہاں میں اور تحقیقات و تدقیقات فرماتے رہے،بعد ازاں شیخ محمد غوث لاہور سے بیعت کی اور علم طریقت کا حاصل کیا پھر مکہ معطمہ کو تشریف لیجا کر حج کیا اور حرمین شریفین کے حالات میں ایک کتاب تصنیف فرمائی اور کتاب قصر الآمال بذکر الحال والمال اور کتاب سلوالکیب بذکر الحبیب اور ترجمہ عین العلم اور شرح اربعین نووی اور کنز الحسنات اور تذکرۃ المشائخ اور کتاب الاذکار اور تذکرۃ الملوک اور شرح غنیۃ الطالبین اور تاریخ افاغنہ وغیرہ آپ کی اشہر تصنیفات سے ہیں۔۱۵؍ماہ ذی الحجہ ۱۲۱۸ھ میں مراد آباد میں استسقاء کی بیماری سے فوت ہوئے،’’خورشید زماں‘‘ تاریخ وفات ہے۔
1۔ رفیع الدین بن فرید الدین عظمت اللہ بن عبد القادر لکھنوی،ولادت ۱۱۳۴ھ ،الاضافات العزیزی یہ بھی آپ کی تصنیف ہے۔’’نزہۃ الخواطر‘‘(مرتب)
(حدائق الحنفیہ)
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-rafiuddin-muradabadi
رفیع الدین [1] بن فرید الدین خاں مراد آبادی: معتبر فضلائے ہند میں سے تھے۔حدیث کا علم مولوی خیر الدین سورتی تلمیذ شیخ محمد حیات سندی اور نیز مولانا شاہ ولی اللہ محدث دہلوی سے حاصل کیا اور مولانا شاہ عبد العزیزی دہلوی سے اکثر صحبت کی اور ان سے مسائل مشکلہ تفسیر وحدیث کے پوچھ کر نہایت جہاں میں اور تحقیقات و تدقیقات فرماتے رہے،بعد ازاں شیخ محمد غوث لاہور سے بیعت کی اور علم طریقت کا حاصل کیا پھر مکہ معطمہ کو تشریف لیجا کر حج کیا اور حرمین شریفین کے حالات میں ایک کتاب تصنیف فرمائی اور کتاب قصر الآمال بذکر الحال والمال اور کتاب سلوالکیب بذکر الحبیب اور ترجمہ عین العلم اور شرح اربعین نووی اور کنز الحسنات اور تذکرۃ المشائخ اور کتاب الاذکار اور تذکرۃ الملوک اور شرح غنیۃ الطالبین اور تاریخ افاغنہ وغیرہ آپ کی اشہر تصنیفات سے ہیں۔۱۵؍ماہ ذی الحجہ ۱۲۱۸ھ میں مراد آباد میں استسقاء کی بیماری سے فوت ہوئے،’’خورشید زماں‘‘ تاریخ وفات ہے۔
1۔ رفیع الدین بن فرید الدین عظمت اللہ بن عبد القادر لکھنوی،ولادت ۱۱۳۴ھ ،الاضافات العزیزی یہ بھی آپ کی تصنیف ہے۔’’نزہۃ الخواطر‘‘(مرتب)
(حدائق الحنفیہ)
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-rafiuddin-muradabadi
scholars.pk
Hazrat Molana Rafiuddin Muradabadi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت یعقوب علیہ السلام
حضرت یعقوب علیہ السلام حضرت اسحاق علیہ السلام کے بیٹے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پوتے ہیں اور حضرت یوسف علیہ السلام حضرت یعقوب علیہ السلام کے بیٹے ہیں۔حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"الکریم ابن الکریم ابن الکریم ابن الکریم یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم"کریم ابن کریم ابن کریم بن کریم یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم ہیں۔
یعقوب علیہ السلام کے بیٹے: یعقوب علیہ السلام کے بارہ بیٹے ہیں یعنی یوسف علیہ السلام کے گیارہ بھائی ہیں۔ ان کے نام یہ ہیں یہودا، روبیل، شمعون، لادی، ریالون، یشجر، دینہ یہ تمام لڑکے آپ کی زوجہ لیا بنت لیان بن فاہر کے بطن سے ہیں، یہ زوجہ حضرت یعقوب علیہ السلام کی خالہ کی لڑکی تھی۔
دان، یفتالی، جاد، آشریہ لڑکے زلقہ اور بلھتہ کے بطن سے تھے۔ حضرت یوسف علیہ السلام اور بنیامین راحیل کے بطن سے تھے۔ راحیل کی وفات بنیامین کی پیدائش کے بعد جلد ہی ہوگئی تھی۔ لیا کی وفات کے بعد راحیل سے نکاح ہوا تھا۔ راحیل، لیا کی بہن تھی۔خیال رہے کہ جو نام ذکر کیے گئے ہیں یوسف علیہ السلام کے علاوہ وہ بارہ ہیں، اور مشہور یہ ہے کہ حضرت یوسف کے گیارہ بھائی تھے اسی وجہ سے اکثر حضرات نے دینہ نام کو شامل نہیں کیا۔کچھ حضرات نے شامل تو کیا ہے لیکن کہا ہے کہ یہ مونث کا نام ہے یعنی یوسف کی ایک بہن کا نام دینہ تھا۔
حضرت یعقوب علیہ السلام کاذکر قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے بڑے پیارے انداز میں فرمایاہے۔آپ اللہ تعالیٰ کے عظیم پیغمبر تھے۔
یعقوب علیہ السلام کی وفات اور قبر:
مصر میں جاکر یعقوب علیہ السلام چوبیس سال مقیم رہے، جب آپ کی وفات کا وقت قریب آگیا تو آپ نے اپنے بیٹوں کو وصیت کی کہ مجھے شام میں اپنے باپ حضرت اسحاق علیہ السلام کے پہلو میں دفن کرنا، آپ پر جب وفات طاری ہوئی تو حضرت یوسف علیہ السلام کود اپنے والد مکرم کا جسم ا طہر لے کر شام میں گئے اور اپنے دادا اسحاق علیہ السلام کے پہلو میں اپنے باپ یعقوب علیہ السلام کو دفن کرکے واپس مصر میں آگئے۔ (تفسیر کبیر)
خیال رہے کہ یعقوب علیہ السلام کے ایک بھائی کا نام عیص تھا یہ دونوں بھائی ایک ساتھ پیدا ہوئے تھے اور اسی دن ان کی بھی وفات ہوئی، دونوں بھائیوں کی عمریں ایک سو پینتالیس سال تھیں۔ دونوں ہی اپنے باپ اسحاق علیہ السلام کے پہلو میں ایک ساتھ دفن کیے گئے، یعقوب علیہ السلام کا تابوت خاص قسم کی لکڑی کا بنوایا گیا تھا جس میں مصر سے شام آپ کو لے کر گئے تھے۔ (خزائن العرفان)
https://scholars.pk/ur/scholar/holy-prophet-hazrat-yaqoob-bin-ishaq
حضرت یعقوب علیہ السلام حضرت اسحاق علیہ السلام کے بیٹے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پوتے ہیں اور حضرت یوسف علیہ السلام حضرت یعقوب علیہ السلام کے بیٹے ہیں۔حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"الکریم ابن الکریم ابن الکریم ابن الکریم یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم"کریم ابن کریم ابن کریم بن کریم یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم ہیں۔
یعقوب علیہ السلام کے بیٹے: یعقوب علیہ السلام کے بارہ بیٹے ہیں یعنی یوسف علیہ السلام کے گیارہ بھائی ہیں۔ ان کے نام یہ ہیں یہودا، روبیل، شمعون، لادی، ریالون، یشجر، دینہ یہ تمام لڑکے آپ کی زوجہ لیا بنت لیان بن فاہر کے بطن سے ہیں، یہ زوجہ حضرت یعقوب علیہ السلام کی خالہ کی لڑکی تھی۔
دان، یفتالی، جاد، آشریہ لڑکے زلقہ اور بلھتہ کے بطن سے تھے۔ حضرت یوسف علیہ السلام اور بنیامین راحیل کے بطن سے تھے۔ راحیل کی وفات بنیامین کی پیدائش کے بعد جلد ہی ہوگئی تھی۔ لیا کی وفات کے بعد راحیل سے نکاح ہوا تھا۔ راحیل، لیا کی بہن تھی۔خیال رہے کہ جو نام ذکر کیے گئے ہیں یوسف علیہ السلام کے علاوہ وہ بارہ ہیں، اور مشہور یہ ہے کہ حضرت یوسف کے گیارہ بھائی تھے اسی وجہ سے اکثر حضرات نے دینہ نام کو شامل نہیں کیا۔کچھ حضرات نے شامل تو کیا ہے لیکن کہا ہے کہ یہ مونث کا نام ہے یعنی یوسف کی ایک بہن کا نام دینہ تھا۔
حضرت یعقوب علیہ السلام کاذکر قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے بڑے پیارے انداز میں فرمایاہے۔آپ اللہ تعالیٰ کے عظیم پیغمبر تھے۔
یعقوب علیہ السلام کی وفات اور قبر:
مصر میں جاکر یعقوب علیہ السلام چوبیس سال مقیم رہے، جب آپ کی وفات کا وقت قریب آگیا تو آپ نے اپنے بیٹوں کو وصیت کی کہ مجھے شام میں اپنے باپ حضرت اسحاق علیہ السلام کے پہلو میں دفن کرنا، آپ پر جب وفات طاری ہوئی تو حضرت یوسف علیہ السلام کود اپنے والد مکرم کا جسم ا طہر لے کر شام میں گئے اور اپنے دادا اسحاق علیہ السلام کے پہلو میں اپنے باپ یعقوب علیہ السلام کو دفن کرکے واپس مصر میں آگئے۔ (تفسیر کبیر)
خیال رہے کہ یعقوب علیہ السلام کے ایک بھائی کا نام عیص تھا یہ دونوں بھائی ایک ساتھ پیدا ہوئے تھے اور اسی دن ان کی بھی وفات ہوئی، دونوں بھائیوں کی عمریں ایک سو پینتالیس سال تھیں۔ دونوں ہی اپنے باپ اسحاق علیہ السلام کے پہلو میں ایک ساتھ دفن کیے گئے، یعقوب علیہ السلام کا تابوت خاص قسم کی لکڑی کا بنوایا گیا تھا جس میں مصر سے شام آپ کو لے کر گئے تھے۔ (خزائن العرفان)
https://scholars.pk/ur/scholar/holy-prophet-hazrat-yaqoob-bin-ishaq
scholars.pk
Muslim Scholar Holy Prophet Hazrat Yaqoob Bin Ishaq A.S ,History, Books, Hadees, Family Tree, Photoes,HAZRAT YOUSUF A.S Story
…
…
Ziaetaiba please to share the true history of muslim scholar Holy Prophet Hazrat Yaqoob Bin Ishaq A.S, History, Books, Hadees, Family Tree, Photoes, Last Prophet of Islam,Date of Birth
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
14-12-1444 ᴴ | 03-07-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
15-12-1444 ᴴ | 04-07-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1