🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
14-12-1444 ᴴ | 03-07-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
14-12-1444 ᴴ | 03-07-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما

ملکی سیاست اور قائدین ملت

(1)سال 2024 کے نصف اول ہی میں لوک سبھا الیکشن ہونے والا ہے٫لیکن حزب مخالف کی پارٹیاں اب تک کوئی مضبوط منصوبہ بندی نہ کر سکی ہیں۔عین موقع پر کچھ کرنا بھی چاہیں تو اس کی تکمیل مشکل ہے۔

اگر حزب مخالف کی تمام پارٹیاں متحد ہو کر لوک سبھا الیکشن لڑتی ہیں تو کامیابی کی امید ہے٫ورنہ سیکولر ووٹ منتشر ہو گا اور فرقہ پرست قوتیں فتح یاب ہو جائیں گی۔

(2) اقلیتوں اور مول نواسی اقوام پر فرقہ پرست قوتوں کے مظالم بڑھتے جا رہے ہیں۔ماب لنچنگ کا سلسلہ بند نہ ہو سکا٫حالاں کہ پارلیامنٹ میں بھی اس پر مباحثے ہوئے اور وقتا فوقتاً حزب مخالف کے پارلیمانی ارکان آواز بلند کرتے رہے ہیں۔

بھاجپا کی ریاستی حکومتیں کورٹ کے آرڈر کے بغیر اور تحقیق و تفتیش سے لاپرواہ ہو کر محض دھرم اور کمیونٹی کو دیکھ کر ملزم کے گھروں پر بلڈوزر چلا دیتی ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ بے گھر ہو جاتے ہیں۔

اقلیتوں اور مول نواسی لوگوں کو زبردستی قانونی شکنجوں میں جکڑ دیا جاتا ہے۔غلط الزامات عائد کر کے ان کو جیل بھیج دیا جاتا ہے۔پھر ایک طویل مدت بعد کورٹ ان کو باعزت بری کردیتا ہے۔ان کی زندگی کا سنہرا حصہ جیل میں گزر جاتا ہے۔اب وہ زیادہ کچھ کر بھی نہیں سکتے۔


(3)سیاسی تبدیلی کے واسطے سیاسی پارٹیوں کو اپنا طرز عمل اور اپنی فکر بدلنی ہو گی۔مذہبی قائدین اس میں کوئی بڑا کردار ادا نہیں کر سکتے۔نہ ہی سیاست و حکومت سے ان کا مضبوط تعلق ہے٫نہ ہی سیاسی داؤ پیچ سے وہ بہت زیادہ واقف ہیں۔

اگر ارکان پارلیامنٹ کو کرکٹ ٹیم میں شامل کر دیا جائے تو ہر میچ ہار جانا قریبا یقینی ہے۔وہ سیاست کے ماہر ہیں٫وہ لوگ تجربہ کار کرکٹر نہیں۔

اسی طرح تفسیر وحدیث اور فقہ وکلام کے ماہرین کو سیاست میں اتار دیا جائے تو وہ کوئی خاص کارنامہ انجام نہیں دے سکتے۔

(4)زمینی حقائق وسیاسی حالات یقینا پریشان کن ہیں۔بی جے پی نے دیگر پارٹیوں کو نیست ونابود کرنے کے واسطے ان کے ارکان وممبران اور اعلی کارکنان کے خلاف ای ڈی اور سی بی آئی ودیگر سرکاری ایجنسیوں کو لگا رکھا ہے۔

جب چند لمحوں میں کسی کی ساری جائیداد ضبط ہونے کا خطرہ ہو تو کون بھاجپا کی مخالفت کرکے اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنا پسند کرے گا۔اسی خوف سے دیگر پارٹیوں کے جیتے ہوئے ارکان اسمبلی بھی بھاجپا میں شامل ہو جاتے ہیں۔

(5)موجودہ ناموافق حالات اور بھاجپا کی مستحکم تدابیر کے باوجود لوک سبھا الیکشن 2024 میں بھاجپا کی فتح یابی کی پیشین گوئی نہیں کی جا سکتی٫کیوں کہ حالات سے اندازہ ہوتا ہے کہ خداوندی فیصلہ کچھ اور ہی ہے۔وقت خود ہی حکم الٰہی کو ظاہر کر دے گا۔

طارق انور مصباحی

جاری کردہ:21:فروری 2023
👍1
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما

لوک سبھا الیکشن:2024 اور اپوزیشن پارٹیاں

اپوزیشن پارٹیاں جس طرح منتشر ہیں,اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لوک سبھا الیکشن:2024 میں بھی بی جے پی فتحیاب ہو جائے۔

کانگریس اپنے زور بازو سے یہ الیکشن جیتنے کی پلاننگ کر رہی ہے,لیکن کامیابی کی امید زیادہ نہیں۔تیسرا فرنٹ بننے سے بھی کوئی خاص فائدہ ہونے کی امید نہیں۔

یہ ضرور امید ہے کہ اگر اگلا لوک سبھا الیکشن بی جے پی جیت جاتی ہے تو عوامی احتجاج کا سلسلہ زور پکڑے گا اور ملک بھر میں افراتفری رہے گی۔فرقہ پرست قوتیں مزید مظالم ڈھائیں گی۔اقلیتوں اور پس ماندہ طبقات کا جینا دوبھر ہو جائے گا۔

خدا خیر فرمائے۔ابھی ایک سال وقت ہے۔ممکن ہے کہ حزب مخالف کی پارٹیاں کوئی مضبوط منصوبہ بندی کریں۔سی بی آئی اور ای ڈی کی کاروائیاں بھی اپوزیشن کے لیڈروں کی نیند اڑا چکی ہیں۔

آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا

طارق انور مصباحی

جاری کردہ:12: مارچ 2023
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما

ذلیل ترین سیاست اور بے شرم لیڈران

میری عمر چالیس سال سے اوپر ہے۔عہد طفولیت میں اندرا گاندھی مرڈر کیس(1984) کے بارے میں بھی سنا٫جب کہ شاید میں قاعدہ بغدادی پڑھ رہا تھا۔

بھاگلپور فساد اور راجیو گاندھی مرڈر کیس بھی مجھے یاد ہے۔وی پی سنگھ کی وزارت عظمی کا عہد اور منڈل وکمنڈل کی سیاست کی کچھ یادیں بھی ذہن میں محفوظ ہیں۔

اٹل بہاری واجپائی کا عہد حکومت اور اس عہد میں نائب وزیراعظم لال کرشن اڈوانی کی مسلمانوں کے خلاف ہرزہ سرائیاں بھی یاد ہیں۔

2014 سے آج تک مودی کا عہد حکومت بھی دیکھ رہا ہوں۔حالیہ رواں مدت میں فرقہ پرست قوتوں کی ذلیل ترین سیاست اور سیاسی لیڈروں کی بے حیائی وبے شرمی یقینا قابل تعجب ہے۔سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ بنانے اور اپنے ہر مخالف کو ذلیل ورسوا اور پریشان کرنے میں یہ لوگ خوب ماہر ہیں۔فرقہ پرست پارٹیوں اور لیڈروں کی رگ وپے میں ناانصافی اور یہودیانہ سرشت سرایت کی ہوئی ہے۔ہم نے آج تک ایسی بدترین سیاست اور ایسے بدترین لیڈر نہیں دیکھے۔اللہ تعالی ایسے لوگوں کے شر وفتنہ سے ہماری حفاظت فرمائے۔آمین

طارق انور مصباحی

جاری کردہ:13:مارچ 2023
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما

فرقہ پرست قوتیں اور سیکولر پارٹیاں

بھارت کے پسماندہ طبقات اورمذہبی اقلیتیں سمجھتی ہیں کہ سیکولر پارٹیاں ہماری ہمدرد وخیر خواہ ہیں٫حالاں کہ سیکولر وغیر سیکولر پارٹیاں محض اپنے ذاتی وسیاسی مفادات کے پیش نظر کوئی اقدام کرتی ہیں۔

اگر تمام سیکولر پارٹیاں متحد ہو کر الیکشن میں اتریں تو فرقہ پرست پارٹیاں ضرور شکست وناکامی سے دو چار ہوں گی٫لیکن سیکولر پارٹیاں 2014 سے آج تک انفرادی طور پر قسمت آزمائی کر رہی ہیں۔اگر وہ الیکشن میں متحد ہو جائیں تو کامیابی کے بعد حکومت سازی میں بھی اتحاد کرنے والی پارٹیوں کو حصہ داری دینی ہو گی۔یہی حصہ داری انہیں ہضم نہیں ہوتی ہے۔

اگر سیکولر پارٹیاں پسماندہ طبقات اور مذہبی اقلیتوں کی خیر خواہ ہوتیں تو وہ ضرور متحد ہو کر انتخابی میدان میں اترتیں٫لیکن 2014 سے آج تک بہت سے اسمبلی انتخابات ہوئے۔2019 میں لوک سبھا الیکشن ہوا۔سیکولر پارٹیوں کے متحد نہ ہونے کے سبب سیکولر ووٹ منتشر ہو جاتے ہیں اور سیکولر پارٹیاں ہار جاتی ہیں۔فرقہ پرست پارٹیاں جیت کر حکومت پر قبضہ جما لیتی ہیں٫پھر پسماند طبقات اور اقلیتوں پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں۔

طارق انور مصباحی

جاری کردہ:23: مارچ 2023
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما

انتخابی نعروں کی بدلتی تصویریں

فرقہ پرست پارٹیاں ہمیشہ مسلم ہندو کی بات چھیڑ کر ہندو ووٹروں کو اپنی طرف راغب کر لیتی ہیں۔اگلا لوک سبھا الیکشن اپریل2024 میں ہونے کی امید ہے۔

چند ماہ سے اڈانی گھوٹالوں اور حزب مخالف کے ممبران پر ای ڈی اور سی بی آئی کے چھاپوں کی خبریں سرخیاں بٹور رہی ہیں۔راہل گاندھی کی پارلیمانی رکنیت کو کالعدم قرار دینے کی خبر بھی میڈیا پر چھائی ہوئی ہے۔

الغرض چند ماہ سے مسلم ہندو کے بھاجپائی نعرے ماند پڑ چکے ہیں٫لیکن فرقہ پرست قوتیں یہودیانہ ذہنیت سے لبریز ہیں۔وہ عین موقع پر کوئی بڑی سازش کر کے مسلم ہندو کرنے کا راستہ صاف کر سکتی ہیں۔لوک سبھا الیکشن 2019 کے موقع پر پیش آنے والا پلوامہ حادثہ آج تک ایک معمہ بنا ہوا ہے کہ اس کے پیچھے کس کی سازش تھی۔

جب فرقہ پرست پارٹیاں مسلم ہندو کرتی ہیں اور مسلمانوں کے بارے میں نفرت پھیلاتی ہیں تو سیکولر پارٹیاں بھی سافٹ ہندتو کو اپنا لیتی ہیں۔وہ بھی فرقہ پرستوں کا روپ دھار لیتی ہیں٫تاکہ ان کے اُمیدواروں کو بھی ووٹ مل سکیں اور وہ جیت جائیں۔

اب فرقہ پرستوں نے سیکولر پارٹیوں کا نام ونشان مٹانے کے واسطے ان کے ممبروں پر قانونی کاروائی شروع کر دی ہے تو سیکولر پارٹیاں سافٹ ہندتو کا نظریہ بھول چکی ہیں۔

حقیقت تو یہ ہے کہ سیکولر پارٹیاں مسلمانوں کا ذکر کرنے سے گھبراتی ہیں اور انتخابات میں مسلم لیڈروں کو ٹکٹ بھی بہت کم دیتی ہیں۔رفتہ رفتہ وہ موسم بہار بھی جلوہ افروز ہو چکا ہے کہ فرقہ پرست پارٹیاں سیکولر پارٹیوں کو نیست ونابود کرنے کے لیے طرح طرح کے ہتھکنڈے اپنا رہی ہے۔

موجودہ صورت حال کے سبب چند ہفتوں سے مسلم ہندو کے نعرے اور دونوں قوموں کے درمیان نفرت پھیلانے کی تحریک کچھ کمزور پڑ گئی ہے۔اگر لوک سبھا الیکشن 2024 تک نئے موضوعات ابھرتے رہے تو امید ہے کہ 2024 میں فرقہ پرستوں کو حکومت سے ہاتھ دھونا پڑے۔واللہ تعالیٰ اعلم

طارق انور مصباحی

جاری کردہ:26:مارچ 2023
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما

پوشیدہ دشمنوں سے پرہیز لازم

جس طرح کھلے دشمنوں سے پرہیز ضروری ہے٫اسی طرح چھپے دشمنوں سے بچنا بھی لازم ہے۔یہ خفیہ دشمن دوست کی شکل میں ہوتا ہے٫لیکن اس کے دل میں بغض وحسد بھرا ہوتا ہے۔وہ آپ کی کسی بھلائی کو دیکھ کر بے چین ہو جاتا ہے اور اس کا دل جوش غضب میں کنٹرول سے باہر ہو جاتا ہے۔

ایسے جھوٹے دوستوں کو اپنی کسی نعمت وکامیابی کی خبر نہ سنائیں٫ورنہ جوش غضب میں یہ کچھ بھی کر سکتے ہیں۔

کسی مصیبت وضرورت کے وقت ان سے مدد طلب نہ کریں٫ورنہ مصیبت دگنی ہو جائے گی اور ضرورت بھی پوری نہ ہو سکے گی٫بلکہ نئے مسائل کھڑے ہو جائیں گے۔

ایسے دوست نما دشمنوں سے پرہیز لازم ہے۔اگر تعلق رکھنا ہو تو محض چائے پان تک تعلق محدود رہے٫بلکہ ربط وتعلق کو محض دعا وسلام تک محدود رکھناچاہیے۔

دراصل ایسے لوگوں سے تعلق رکھنے کے سبب انسان مشکلات میں مبتلا ہوتا ہے۔وہ اپنے خفیہ دشمن کو دوست سمجھتا ہے اور مصیبت وضرورت کے وقت اس سے بھلائی کی امید رکھتا ہے٫جب کہ دوست نما دشمن ایسے موقع کا منتظر رہتا ہے۔وہ مصیبت میں مزید انہیں پھنسا دیتا ہے اور تمہیں مصیبت میں الجھا دیکھ کر اس کا دل خوشی سے جھومنے لگتا ہے۔

ایسے سماجی منافقین کی شناخت مسلسل تجربے سے ہوتی ہے اور جو خفیہ دشمن کو پہچان نہیں پاتا ہے٫وہ اس کے بچھائے ہوئے جال میں پھنس جاتا ہے۔

اپنے خفیہ دشمنوں کو پہچاننے کی کوشش کریں۔جب کسی کی حقیقت ظاہر ہو جائے تو اس سے پرہیز کرنا شروع کر دیں۔بعض ایسے بھی خفیہ دشمن ہوں گےجن کے بارے میں لوگ سمجھتے ہوں گے کہ فلاں وفلاں تمہارے خالص دوست ہیں٫حالاں کہ وہ اپنے باطن کے اعتبار سے تمہارے بدترین دشمن ہیں۔

واضح رہے کہ کسی مسلمان سے بغض وعداوت رکھنا ممنوع ہے۔کسی کے شر وفساد سے محفوظ رہنے کے واسطے اس سے پرہیز کرنا ممنوع نہیں۔

طارق انور مصباحی

جاری کردہ:30:مارچ 2023
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما

بھاجپا کی جیت کے اہم اسباب وعلل

انتخابات میں بی جے پی کی فتح یابی کے متعدد اسباب ہیں۔ان میں سے چند اہم اسباب و وجوہات درج ذیل ہیں۔

(1)سرکاری محکموں میں آر ایس ایس سے متاثر افسروں کی اکثریت۔

آر ایس ایس کی آئیڈیا لوجی کے پیروکار شاہی افسران بی جے پی کی تائید و حمایت کرتے ہیں٫یہاں تک کہ الیکشن کمیشن پر بھی شکوک وشبہات کا اظہار کیا جاتا ہے۔

بھارت کے سپریم کورٹ نے بھی چیف الیکشن کمیشن کی تقرری پر سوالات اٹھائے ہیں۔

(2)بھارت کی دو بڑی قوموں یعنی مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان نفرت پھیلا کر ہندو ووٹرز کو اپنی طرف مائل کرنا۔

بھارت میں ہندو کہلانے والوں کی اکثریت ہے۔بھاجپا مسلمانوں کا خوف دلا کر ہندو ووٹرز کو اپنی طرف مائل کر لیتی ہے۔

بھارت کا مین اسٹریم میڈیا مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان نفرت پھیلانے کا کام مسلسل کرتا رہتا ہے۔میڈیا کو جمہوریت کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے٫لیکن بھارتی میڈیا نے کئی سالوں قبل اپنی یہ حیثیت کھو دی ہے۔اب اسے گودی میڈیا کہا جاتا ہے۔

(الف)مرکزی مجلس قانون ساز میں بھاجپائیوں کی اکثریت ہے۔

(ب)انتظامیہ اہل حکومت کے اشارے پر کام کرتا ہے۔

(ج)عدلیہ کا حال بھی سب کے سامنے ہے۔

موجودہ چیف جسٹس آف انڈیا نے کچھ ہمت دکھائی تو اس پر سخت تنقید کی جانے لگی ہے۔

(3)حزب مخالف کی پارٹیوں کا انتشار۔

الیکشن میں ایک سیٹ پر فرقہ پرست پارٹیوں کا ایک امیدوار کھڑا ہوتا ہے٫جب کہ سیکولر پارٹیوں کے متعدد امیدوار قسمت آزمائی کرتے ہیں۔جس کے سبب ووٹ تقسیم ہو جاتا ہے اور فرقہ پرست امیدوار جیت جاتا ہے۔

(4)جھوٹے پروپیگنڈوں کے ذریعہ حزب مخالف کی پارٹیوں اور ممبروں کو بدنام کرنا۔

حزب مخالف کی پارٹیوں کے پاس میڈیا نہیں ہے٫لہذا وہ اپنا دفاع کرنے میں نا کام ہیں۔

(5)انکم ٹیکس(آئی ٹی)٫سی بی آئی اور ای ڈی کی کاروائیوں کے ذریعہ حزب مخالف کے ممبران اور سپورٹرز کو پریشان کرنا۔

حزب مخالف کی پارٹیاں سرکاری ایجنسیوں کی کاروائی کے خوف سے متحد نہیں ہو پاتی ہیں اور بہت سے ممبران بھاجپا میں شریک ہو جاتے ہیں۔

(6)جہاں بھاجپا کو اکثریت نہ مل سکے٫وہاں دیگر پارٹیوں کے جیتے ہوئے ممبران کو وزارت یا رقم کا لالچ دے کر یا سرکاری ایجنسیوں کا خوف دلا کر اپنی طرف لے آنا۔

بہت سی ریاستوں میں بھاجپا کو اکثریت نہ مل سکی تو اس نے دیگر پارٹیوں کے ممبروں کو عہدوں کا لالچ دے کر یا سرکاری جانچ کا خوف دلا کر اپنی تائید میں لے آئی یا وہ لوگ بھاجپا جوائن کر لئے اور بھاجپا کی حکومت بن گئی۔

موجودہ حالات کو دیکھ کر ایک امید ظاہر ہوتی ہے کہ حزب مخالف کی بہت سی پارٹیاں لوک سبھا الیکشن:2024 مل جل کر لڑیں گی۔ابھی سال بھر کا وقت باقی ہے۔

آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا

طارق انور مصباحی

جاری کردہ:یکم اپریل 2023
Forwarded from مضامین قدیمہ
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما

موجودہ چیف جسٹس آف انڈیا

موجودہ چیف جسٹس آف انڈیا ڈی وائی چندر چوڈ ملک کا پچاسواں چیف جسٹس ہے۔

دستور ہند کی تشریح کا فریضہ سپریم کورٹ آف انڈیا کو انجام دینا ہے۔

موجودہ چیف جسٹس کے عہدہ کی مدت دو سال ہے۔9:نومبر 2022 کو اسے چیف جسٹس کا عہدہ تفویض کیا گیا۔نومبر 2024 میں اس کی مدت مکمل ہو جائے گی۔

موجودہ چیف جسٹس کے فیصلے دستور ہند کے مطابق ہوتے ہیں۔اس سے مودی حکومت بھی خوف زدہ ہے۔سب سے اہم بات ہے کہ لوک سبھا الیکشن 2024 بھی اسی کے عہد میں ہونے والا ہے۔

مودی حکومت نے عدلیہ پر بھی اپنے اثرات قائم کرنے کی کوشش کی اور متعدد چیف جسٹس بھی مودی حکومت سے متاثر ہوئے٫لیکن موجودہ چیف جسٹس کے فیصلوں کو دیکھ کر بھاجپائی حکومت گھبرائی ہوئی ہے۔

موجودہ چیف جسٹس نے اڈانی گھوٹالوں کی تفتیش کے لیے اپنی نگرانی میں ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔اس کے فیصلے کا بھی ملک کو انتظار ہے۔

موجودہ چیف جسٹس کے فیصلے تعصب سے بالاتر نظر آتے ہیں۔اگر ملک کا ہر چیف جسٹس اسی طرز پر کام کرتا رہے تو بھارت کی جمہوریت کو تباہ کرنے اور منو سمرتی کے نفاذ کی کوشش ناکام ہو جائے گی۔

لوک سبھا الیکشن 2024 سے قبل متعدد ریاستوں میں اسمبلی الیکشن ہیں۔ابھی ملک کے باشندوں کی نظر کرناٹک اسمبلی الیکشن 2023 پر لگی ہوئی ہے۔10:مئی کو ووٹنگ ہو گی اور 13:مئی کو کاؤنٹنگ ہو گی۔کرناٹک اسمبلی الیکشن کے نتیجے سے لوک سبھا الیکشن 2024 کا حال بھی کچھ ظاہر ہو جائے گا۔2023 کے اسمبلی انتخابات لوک سبھا الیکشن 2024 کے سیمی فائنل کی طرح ہیں۔

حزب مخالف کی پارٹیاں بھی ایک دوسرے کے قریب آ رہی ہیں۔اگر حزب مخالف کی پارٹیوں کا اتحاد ہو جائے تو 2024 کے لوک سبھا الیکشن میں کامیابی کی امید نظر آتی ہے۔

طارق انور مصباحی

جاری کردہ:07:اپریل 2023
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما

کرناٹک اسمبلی الیکشن:2023

(1)کرناٹک اسمبلی الیکشن:2023 کے لئے 10:مئی 2023 کو ووٹنگ ہو گی اور 13:مئی 2023 کو کاؤنٹنگ ہو گی۔

(2)اگر کانگریس اور جے ڈی ایس مل کر الیکشن لڑیں تو بہت اچھا ہو گا٫ورنہ جس سیٹ پر جس سیکولر امیدوار کے جیتنے کی امید زیادہ ہو٫اسی کو ووٹ دیں اور اپنے ووٹ بکھرنے نہ دیں۔

(3)الیکشن کے موقع پر لوگ ہزار / دو ہزار لے کر پانچ سال کے لئے اپنا قانونی اختیار غلط لوگوں کے سپرد کر دیتے ہیں٫پھر پانچ سال تک لوگ اس کا خمیازہ بھگتے رہتے ہیں۔لہذا رقم لے کر کسی کو اپنا قانونی اختیار نہ سونپیں٫بلکہ اپنی صوابدید کے مطابق اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کریں۔

(4) کرناٹک اسمبلی الیکشن:2023 لوک سبھا الیکشن:2024 کے لئے سیمی فائنل کی طرح ہے٫لہذا اس الیکشن میں مکمل سوجھ بوجھ سے کام لیں اور کسی قسم کی غلطی نہ کریں۔

(5) کرناٹک کے مشہور ومعروف وکیل اور قومی رہنما جناب صادق اللہ صاحب ایڈووکیٹ متولی مسجد اعظم چترا درگہ(کرناٹک)نے بتایا کہ اس مرتبہ سیکولر حکومت بننے کی امید زیادہ ہے۔فرقہ پرست قوتیں ہمیشہ کی طرح ہزار / دو ہزار روپے دے کر ووٹ خریدنے کی کوشش کریں گی٫لہذا تمام ووٹرس سے گزارش ہے کہ اس خرید وفروخت سے دور رہیں۔

طارق انور مصباحی

جاری کردہ:10:اپریل 2023
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما

جمہوریت کی پامالی اور فرقہ پرست قوتیں

(1)فرقہ پرست قوتیں دستور ہند کے خلاف کام بھی کرتی ہیں اور اپنی کٹ حجتی سے اس کو موافق دستور بھی ثابت کرتی ہیں۔

(2)فرقہ پرست قوتیں اور مین اسٹریم میڈیا نے ملک بھر کے سماج میں نفرت کا زہر گھول دیا ہے۔اس زہر کا تریاق یہی ہے کہ فرقہ پرستوں کو حکومت سے باہر کیا جائے۔

(3)حزب مخالف کی پارٹیاں لوک سبھا الیکشن:2024 کے لیے اتحاد کی کوشش کر رہی ہیں۔اگر کامیابی ملتی ہے تو ملک کا ماحول ضرور بدل جانے کی امید ہے۔

طارق انور مصباحی

جاری کردہ:16:اپریل 2023
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما

بھارتی میڈیا کی رذالت وبے حیائی

عہد حاضر میں فرقہ پرست پارٹیوں کے ارکان وکارکنان اور مین اسٹریم میڈیا کے اینکرسں رذالت وبے حیائی کی آخری منزل سے بھی پار جا چکے ہیں۔یہ لوگ کذب بیانی اور افترا پردازی کرتے ہیں۔

یہ لوگ فرقہ پرستوں کے علاوہ دیگر تمام لوگوں کے خلاف زہر افشانی کرتے رہتے ہیں۔خواہ وہ کسی دھرم اور کسی بھی ذات کے ہوں۔

کانگریسی لیڈر اگر برہمن بھی ہو تو اس پر یہ لوگ بھونکتے ہیں۔اسی طرح غیر بھاجپائی ہنود کے خلاف بھی زہر اگلتے ہیں۔الغرض جو بھاجپا سے منسلک نہیں ہیں٫خواہ وہ کوئی بھی ہو٫موقع ملنے پر اس کے خلاف ماحول سازی کرتے رہتے ہیں۔

حزب مخالف کے لیڈروں پر ای ڈی اور سی بی آئی کی کاروائی بھی اسی فکر کا نتیجہ ہے۔پولیس محکمہ ودیگر محکموں میں بھی عصبیت کے جراثیم حملہ کر چکے ہیں۔غیرت وحیا اور شرافت و انسانیت بھی غائب ہو چکی ہے۔

یہ لوگ انتہائی بے حیائی اور رذالت کے ساتھ دوسروں کی کردار کشی کرتے ہیں۔مین اسٹریم میڈیا کے اینکرسں اور فرقہ پرست لیڈروں کی باتیں سنیں٫سب کچھ ظاہر ہو جائے گا۔قوم مسلم اور دلت وغیرہ تو ان شیاطین کے آسان شکار ہیں۔

ہم نے اپنی عملی زندگی میں بھی ایسے بعض خبیثوں کو دیکھا ہے٫لیکن مین اسٹریم میڈیا کے اکثر افراد ایسے ہی بد کردار ہیں۔اللہ تعالی ایسے شریروں سے سب کو محفوظ فرمائے:آمین

طارق انور مصباحی

جاری کردہ:23:اپریل 2023