🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
13-12-1444 ᴴ | 02-07-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
13-12-1444 ᴴ | 02-07-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
13-12-1444 ᴴ | 02-07-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
13-12-1444 ᴴ | 02-07-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
سراج الفقہاء مولانا سراج احمد خان پوری رحمۃ اللہ علیہ
نام ونسب: اسم گرامی: حضرت مولانا سراج احمد ۔لقب:سراج الفقہاء۔آپ کی علمی وفقہی بصیرت کی بناء پریہ لقب غزالیِ زماں شیخ الحدیث حضرت سید احمد سعید شاہ کاظمینےدیاتھا۔خان پوروطن کی نسبت سے’’خان پوری‘‘ کہلاتےہیں۔سلسلۂ نسب اس طرح ہے:سراج الفقہاء حضرت مولانا سراج احمد خان پوری بن مولانااحمدیاربن مولانامحمدعالم علیہم الرحمۃ والرضوان۔آپکےوالدِگرامی مولانا احمدیارصاحباس علاقےکےجیدعالم دین اور صاحبِ فتویٰ وتقویٰ تھے۔آپ کےجدامجدمولانا محمد عالم حضرت خواجہ غلام فرید(کوٹ مٹھن شریف) کےپیر ومرشد اوربرادرِ بزرگ حضرت خواجہ فخرجہاں چشتیکےہم درس اور پیربھائی تھے۔مولانا محمد عالم نےتمام درسی کتب اپنےہاتھ سےلکھیں تھیں۔اسی طرح سراج الفقہاء کےنانا مولانا امام بخشبھی معاصرعلماء میں ممتاز مقام رکھتےتھے۔یعنی طرفین سےخالص علمی وروحانی ماحول تھا۔(سوانح سراج الفقہاء:7/تذکرہ اکابر اہل سنت:146)
تاریخِ ولادت:آپ کی ولادت باسعادت بروزبدھ 14/ذوالحجہ 1303ھ مطابق11/اگست1886ءکوقصبہ ’’مکھن بیلہ‘‘تحصیل خان پور،ضلع رحیم یارخان،پنجاب،پاکستان میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:آپ کاخاندان علمی وروحانی خاندان تھا۔اس لئےآپ کی تعلیم کی طرف خصوصی توجہ دی گئی۔ابتدائی تعلیم قاعدہ اپنےگاؤں مکھن بیلہ میں شروع کی۔پھر چاچڑاں شریف میں جامعہ فریدیہ (جس کےبانی حضرت خواجہ غلام فرید ہیں)میں ابتدائی کتب سےلےکرمطول تک تمام کتب استاذالعلماء مولانا تاج محمودصاحب اور جامع علوم عقلیہ ونقلیہ حضرت مولانا غلام رسول سےپڑھیں۔فنون عالیہ اور حدیث کی بعض کتب قصبہ مہمندضلع بہاولپور کےمعقولی عالم علامہ امام بخش،سےپڑھیں،اور 1317ھ/1899ء میں تقریباً14سال کی قلیل عمرمیں علوم نقلیہ وعقلیہ سےفارغ ہوئے۔(نورنور چہرے:98)
سرکارِدوعالمﷺکی نظرِعنایت: ابتداء میں آپ ذہنی طورپر کمزورتھے۔پڑھنےمیں دشواری محسوس ہوئی اس سےآپ کےگھر والوں کی تشویش لاحق ہوئی۔آپ کی والدہ محترمہ ایک عابدہ صالحہ خاتون تھیں،ایک رات خواب میں سرورِعالمﷺکی زیارت سےمشرف ہوئیں۔آپﷺنےسراج الفقہاء کےبارےمیں چند دعائیہ کلمات فرمائےاور یہ بھی ارشاد فرمایا کہ یہ بہت بڑا عالم ِ دین ہوگا۔پھر حنائی رنگ کے چنداوراق عطاء فرمائے،اور فرمایا:’’مولوی احمد یار کودےدینا تاکہ یہ پانی حل کرکےاپنے لڑکےکوپلائے‘‘۔جب آپ بیدارہوئی تواوراق ہاتھ میں نہیں تھے۔کچھ دیر بعد مولانا احمد یار صاحب تشریف لائے،توان کےپاس ایک کتاب تھی جسے کھولاگیا تووہی اوراق اس میں موجود تھے۔والدہ ماجدہ نےپہچان لئے۔چنانچہ وہ اوراق مولانا کوپلائے گئے،تو ان کا اثر عظیم ظاہر ہوا۔(ایضا:98)
سرکاردوعالمﷺ کی نظرِ کرم سےزمانۂ طالب علمی سےہی آپ کوہم درس طلباء پرفوقیت حاصل تھی۔آپ اکثر درسی وغیر درسی کتب مطالعے میں حل کرلیتےتھے۔کتبِ فقہ سے کنزالدقائق سبقاً پڑھی اور باقی کتابیں مطالعےسےحل کرلیں۔اسی طرح ریاضی،زیج،اور علمِ میقات وغیرہ پرمطالعےکی بدولت کمال مہارت حاصل کی۔(ایضا:99)
بیعت وخلافت: آپ دس سال کی عمر میں سلسلہ عالیہ چشتیہ نظامیہ میں فریدالعصر،ملک الشعراء،فردِ وحید حضرت خواجہ غلام فرید(کوٹ مٹھن شریف) کےدستِ حق پرست پربیعت ہوئے،خواجہ صاحب کی برکت سےایمان کی حفاظت کےساتھ ساتھ علماء ِ کرام میں ’’سراج الفقہاء‘‘کے
لقب سےملقب ہوئے۔
سیرت وخصائص: جامع منقول ومعقول،حاویِ اصول وفروع،نازشِ اہل سنت،قامعِ اہل بدعت،قاطعِ نجدیت وقادیانیت وہابیت ودیوبندیت، فقیہ العصر،استاذالعلماء،زبدۃ الفضلاء،قدوۃ الصلحاء،سراج الفقہاء حضرت علامہ مولانا مفتی سراج احمد خان پوری۔آپاپنےوقت کےجیدفقیہ اورنابغۂ روزگار شخصیت کےحامل تھے۔تمام علوم عقلیہ ونقلیہ میں بالعموم اور فن میراث وتوقیت،ریاضی و وصیت میں بالخصوص ایسی مہارت تھی،کہ ان میں اپنی نظیر آپ تھے۔حضرت سراج الفقہاء اپنےوقت میں مرجع العلماء تھے۔دوردراز کےلوگ آپ کی طرف رجوع کرتے۔حتیٰ کہ دارالعلوم دیوبندکےمفتی میراث کےمشکل ترین مسائل کےحل کےلئےآپ سےاستعانت ورابطہ قائم کرتے۔اگردورِ اخیرمیں آپ کوفنِ میراث کاامام کہاجائےتوبےجانہ ہوگا۔(ایضا:105)۔اسی طرح آپ کتبِ فقہ پربڑی گہری نظر رکھتےتھے۔فقہ حنفی کی ضخیم کتب کااول تا آخربنظرِ غائر مطالعہ فرماچکےتھے۔’’سراج اہل القبلہ‘‘علم الفرائض،وصیت،اورمیقات پرضخیم کتاب ہے۔جس کاخلاصہ ’’الزبدۃ السراجیہ فی علم المیقات والمیراث والوصیۃ‘‘ اور’’سراج الفتاویٰ‘‘ آپ کی علمی ثقاہت وفقہی بصیرت بین دلیل ہیں۔آپ کےاکثر فتووں کی بناء پرسابق ریاست بہاول پورمیں عدالتی فیصلے ہوتےرہے۔(سوانح سراج الفقہاء:16)
درس وتدریس: آپ نے نو جوانی کے عالم میں تدریس کی ابتداء کی،پہلےایک عرصہ تک قصبہ ڈیرہ گبولاں(ضلع رحیم یار خاں)میں اورپھراپنے گاؤں مکھن بیلہ میں تشنگان ِعلوم کوسیراب کیا۔بعدازاں چا چڑاں شریف میں اس وقت کے سجادہ نشین حضرت خواجہ فیض فرید کی تعلیم و تربیت آپ کےسپردہوئی جسےآپ نے بطریق احسن انجام د
نام ونسب: اسم گرامی: حضرت مولانا سراج احمد ۔لقب:سراج الفقہاء۔آپ کی علمی وفقہی بصیرت کی بناء پریہ لقب غزالیِ زماں شیخ الحدیث حضرت سید احمد سعید شاہ کاظمینےدیاتھا۔خان پوروطن کی نسبت سے’’خان پوری‘‘ کہلاتےہیں۔سلسلۂ نسب اس طرح ہے:سراج الفقہاء حضرت مولانا سراج احمد خان پوری بن مولانااحمدیاربن مولانامحمدعالم علیہم الرحمۃ والرضوان۔آپکےوالدِگرامی مولانا احمدیارصاحباس علاقےکےجیدعالم دین اور صاحبِ فتویٰ وتقویٰ تھے۔آپ کےجدامجدمولانا محمد عالم حضرت خواجہ غلام فرید(کوٹ مٹھن شریف) کےپیر ومرشد اوربرادرِ بزرگ حضرت خواجہ فخرجہاں چشتیکےہم درس اور پیربھائی تھے۔مولانا محمد عالم نےتمام درسی کتب اپنےہاتھ سےلکھیں تھیں۔اسی طرح سراج الفقہاء کےنانا مولانا امام بخشبھی معاصرعلماء میں ممتاز مقام رکھتےتھے۔یعنی طرفین سےخالص علمی وروحانی ماحول تھا۔(سوانح سراج الفقہاء:7/تذکرہ اکابر اہل سنت:146)
تاریخِ ولادت:آپ کی ولادت باسعادت بروزبدھ 14/ذوالحجہ 1303ھ مطابق11/اگست1886ءکوقصبہ ’’مکھن بیلہ‘‘تحصیل خان پور،ضلع رحیم یارخان،پنجاب،پاکستان میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:آپ کاخاندان علمی وروحانی خاندان تھا۔اس لئےآپ کی تعلیم کی طرف خصوصی توجہ دی گئی۔ابتدائی تعلیم قاعدہ اپنےگاؤں مکھن بیلہ میں شروع کی۔پھر چاچڑاں شریف میں جامعہ فریدیہ (جس کےبانی حضرت خواجہ غلام فرید ہیں)میں ابتدائی کتب سےلےکرمطول تک تمام کتب استاذالعلماء مولانا تاج محمودصاحب اور جامع علوم عقلیہ ونقلیہ حضرت مولانا غلام رسول سےپڑھیں۔فنون عالیہ اور حدیث کی بعض کتب قصبہ مہمندضلع بہاولپور کےمعقولی عالم علامہ امام بخش،سےپڑھیں،اور 1317ھ/1899ء میں تقریباً14سال کی قلیل عمرمیں علوم نقلیہ وعقلیہ سےفارغ ہوئے۔(نورنور چہرے:98)
سرکارِدوعالمﷺکی نظرِعنایت: ابتداء میں آپ ذہنی طورپر کمزورتھے۔پڑھنےمیں دشواری محسوس ہوئی اس سےآپ کےگھر والوں کی تشویش لاحق ہوئی۔آپ کی والدہ محترمہ ایک عابدہ صالحہ خاتون تھیں،ایک رات خواب میں سرورِعالمﷺکی زیارت سےمشرف ہوئیں۔آپﷺنےسراج الفقہاء کےبارےمیں چند دعائیہ کلمات فرمائےاور یہ بھی ارشاد فرمایا کہ یہ بہت بڑا عالم ِ دین ہوگا۔پھر حنائی رنگ کے چنداوراق عطاء فرمائے،اور فرمایا:’’مولوی احمد یار کودےدینا تاکہ یہ پانی حل کرکےاپنے لڑکےکوپلائے‘‘۔جب آپ بیدارہوئی تواوراق ہاتھ میں نہیں تھے۔کچھ دیر بعد مولانا احمد یار صاحب تشریف لائے،توان کےپاس ایک کتاب تھی جسے کھولاگیا تووہی اوراق اس میں موجود تھے۔والدہ ماجدہ نےپہچان لئے۔چنانچہ وہ اوراق مولانا کوپلائے گئے،تو ان کا اثر عظیم ظاہر ہوا۔(ایضا:98)
سرکاردوعالمﷺ کی نظرِ کرم سےزمانۂ طالب علمی سےہی آپ کوہم درس طلباء پرفوقیت حاصل تھی۔آپ اکثر درسی وغیر درسی کتب مطالعے میں حل کرلیتےتھے۔کتبِ فقہ سے کنزالدقائق سبقاً پڑھی اور باقی کتابیں مطالعےسےحل کرلیں۔اسی طرح ریاضی،زیج،اور علمِ میقات وغیرہ پرمطالعےکی بدولت کمال مہارت حاصل کی۔(ایضا:99)
بیعت وخلافت: آپ دس سال کی عمر میں سلسلہ عالیہ چشتیہ نظامیہ میں فریدالعصر،ملک الشعراء،فردِ وحید حضرت خواجہ غلام فرید(کوٹ مٹھن شریف) کےدستِ حق پرست پربیعت ہوئے،خواجہ صاحب کی برکت سےایمان کی حفاظت کےساتھ ساتھ علماء ِ کرام میں ’’سراج الفقہاء‘‘کے
لقب سےملقب ہوئے۔
سیرت وخصائص: جامع منقول ومعقول،حاویِ اصول وفروع،نازشِ اہل سنت،قامعِ اہل بدعت،قاطعِ نجدیت وقادیانیت وہابیت ودیوبندیت، فقیہ العصر،استاذالعلماء،زبدۃ الفضلاء،قدوۃ الصلحاء،سراج الفقہاء حضرت علامہ مولانا مفتی سراج احمد خان پوری۔آپاپنےوقت کےجیدفقیہ اورنابغۂ روزگار شخصیت کےحامل تھے۔تمام علوم عقلیہ ونقلیہ میں بالعموم اور فن میراث وتوقیت،ریاضی و وصیت میں بالخصوص ایسی مہارت تھی،کہ ان میں اپنی نظیر آپ تھے۔حضرت سراج الفقہاء اپنےوقت میں مرجع العلماء تھے۔دوردراز کےلوگ آپ کی طرف رجوع کرتے۔حتیٰ کہ دارالعلوم دیوبندکےمفتی میراث کےمشکل ترین مسائل کےحل کےلئےآپ سےاستعانت ورابطہ قائم کرتے۔اگردورِ اخیرمیں آپ کوفنِ میراث کاامام کہاجائےتوبےجانہ ہوگا۔(ایضا:105)۔اسی طرح آپ کتبِ فقہ پربڑی گہری نظر رکھتےتھے۔فقہ حنفی کی ضخیم کتب کااول تا آخربنظرِ غائر مطالعہ فرماچکےتھے۔’’سراج اہل القبلہ‘‘علم الفرائض،وصیت،اورمیقات پرضخیم کتاب ہے۔جس کاخلاصہ ’’الزبدۃ السراجیہ فی علم المیقات والمیراث والوصیۃ‘‘ اور’’سراج الفتاویٰ‘‘ آپ کی علمی ثقاہت وفقہی بصیرت بین دلیل ہیں۔آپ کےاکثر فتووں کی بناء پرسابق ریاست بہاول پورمیں عدالتی فیصلے ہوتےرہے۔(سوانح سراج الفقہاء:16)
درس وتدریس: آپ نے نو جوانی کے عالم میں تدریس کی ابتداء کی،پہلےایک عرصہ تک قصبہ ڈیرہ گبولاں(ضلع رحیم یار خاں)میں اورپھراپنے گاؤں مکھن بیلہ میں تشنگان ِعلوم کوسیراب کیا۔بعدازاں چا چڑاں شریف میں اس وقت کے سجادہ نشین حضرت خواجہ فیض فرید کی تعلیم و تربیت آپ کےسپردہوئی جسےآپ نے بطریق احسن انجام د