محافظ ناموس رسالت حضرت غازی عبد القیوم شہید رحمۃ الله تعالیٰ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: غازی عبدالقیوم خان شہید ۔ والد کا اسم گرامی: عبد اللہ خان علیہ الرحمہ ۔ لقب: غازیِ اسلام، محافظ ناموس مصطفیٰ ﷺ ۔
آپ کا تعلق غیور و بہادر قوم پٹھان سے تھا ۔ آپ کاتعلق ایک غریب اور مذہبی گھرانے سے تھا ۔ 1932ء میں ان کے والدِ گرامی عبد اللہ خان کا انتقال ہو گیا ۔
تاریخِ ولادت:
غالباً آپ کی ولادت باسعادت 1330ھ مطابق 1912ء کو ’’غازی آباد‘‘ ضلع ہزارہ میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
غازی عبد القیوم خان کو بچپن ہی سے مذہبی تعلیم کا شوق تھا ۔ چھٹی جماعت پاس کرکے گاؤں کے علمائے کرام سے پڑھنا شروع کر دیا ۔ اکثر قرآنِ مجید کی تلاوت کرتے رہتے ۔ اسکول چھوڑ کر قرآنِ مجید کی تعلیم کی طرف ہمہ تن متوجہ ہو گئے، صوم و صلوٰۃ کی آخری وقت تک پوری پابندی کرتے رہے ۔
سیرت و خصائص:
غازی اسلام، شہید اسلام، محافظِ ناموس رسالت، محسنِ امت، پیکرِ غیرت و حمیت، کشتۂ عشق و محبت، عاشق رسول حضرت غازی عبد القیوم شہید رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ۔
رسم شبیری اور ضرب حیدری کی یاد تازہ کرنے والے عاشق جانباز، مصطفیٰ کریم ﷺ کے جان نثار، عاشق ِصادق، محافظ عظمتِ محبوبِ خدا ﷺ، شمع مصطفیٰ ﷺ کا یہ بے تاب پروانہ ہزارہ کے ایک دور افتادہ گاؤں ’’غازی‘‘ کا رہنے والا اور بہت غریب باپ کا بیٹا تھا ۔ مذہب سے لگاؤ گھٹی میں شامل تھا ۔ اس کی بے داغ جوانی پروان چڑھی تو صحیح معنوں میں ایک مسلمان اور صالح جوان کی پاکیزہ جوانی تھی ۔ نماز روزہ کسبِ حلال پر عمل اللہ تعالیٰ کی ذات پر ایمان خالص اور رسول اکرم ﷺ سے بے پاں عقیدت ومحبت ان کے ایمان کے اجزائے ترکیبی تھے ۔ آج کے بر عکس اس وقت بر صغیر کے ہر مسلمان کی تعمیر انہیں خطوط پر ہوتی تھی ۔
غازی عبد القیوم شہید ایک بوڑھے چچا، ضعیف والدہ، اور ایک بیوہ بہن کے کفیل، اور ان کے علاوہ ایک نئی نویلی دلہن کی آرزؤں اور تمناؤں کے امین تھے ۔ وقوعہ سے چند عرصہ قبل ان کی شادی ہوئی تھی ۔ بڑی بڑی کتب، اور اعلیٰ ڈگریوں کے حامل نہیں تھے ۔ بلکہ ایک ناظرہ قرآن مجید کے تلاوت کرنے والے سیدھے سادے دیہاتی مسلمان تھے ۔ البتہ بدر و حنین، خیبر و کربلا، فاتحین اسلام کے واقعات سنے ہوئے تھے ۔ جانثارانِ اسلام سے والہانہ عقیدت و محبت رکھتے تھے ۔
انتخابِ خداوندی:
جب ان کی عمر 21/22 سال کی ہوئی تو 1934ء میں ان کی شادی کر دی گئی ۔ شادی کے چند ماہ بعد ان کو کراچی جانے کا شوق پیدا ہوا ۔ وجہ یہ تھی کہ ان کے حقیقی چچا رحمت اللہ خان وہاں پہلے سے مقیم تھے اور وکٹوریہ گاڑیوں کا کاروبار کرتے تھے ۔ چنانچہ یہ کراچی چلے گئے اور اپنے چچا کے ہاں ٹھہرے ۔یہاں گھوڑا گاڑی چلاتے تھے ۔ لیکن ان کا زیادہ تر وقت گھر کے قریبی مسجد میں تلاوتِ قرآن، ذکر اللہ اور نوافل وغیرہ میں گزرتا تھا ۔ وہیں باجماعت نماز بھی ادا کرتے تھے ۔
امام صاحب نے درس میں نتھو رام کی خرافات کا بیان کیا، غازی صاحب کی غیرت ایمانی نے کروٹ لی، اور وہیں مسجد کے صحن میں اللہ تعالیٰ سے عہد کیا کہ اس گستاخ کو جہنم واصل کرکے اللہ کی زمین کو اس سے پاک کرونگا ۔
دوسرے ہی دن بازار سے ایک چاقو خریدا اور نتھو رام ہندو کی آئندہ پیشی کا انتظار کرنے لگے ۔
نتھو رام بد انجام کا حشر:
یہ 1933ء کے اوائل کا ذکر ہے، جب سندھ صوبہ بمبئی میں شامل تھا، ان دنوں آریہ سماج حیدر آباد (سندھ) کے سیکریٹری نتھو رام نے ’’ہسٹری آف اسلام‘‘ کے نام سے ایک کتاب شائع کی، جس میں آقائے دو جہاں، سرکارِ دو عالم ﷺ کی شانِ اقدس میں سخت دریدہ دہنی کا مظاہرہ کیا گیا، مسلمانوں میں اس کتاب کی اشاعت کے سبب بڑا اضطراب پیدا ہوا، جس سے متاثر ہو کر انگریز حکومت نے کتاب کو ضبط کیا اور نتھو رام پر عدالت میں مقدمہ چلایا گیا، جہاں اس پر معمولی جرمانہ ہوا اور ایک سال کی قید کی سزا سنائی گئی ۔
عدل و انصاف کی اس نرمی نے نتھورام کا حوصلہ بڑھا دیا اور اس نے وی ایم فیرس جوڈیشل کمشنر کے یہاں ماتحت عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر دی ۔ کمشنر کی عدالت نے اس گندہ دہن، شاتمِ رسول کی ضمانت منظور کر لی ۔ اس سے مسلمانوں کو بہت صدمہ ہوا ۔ وہ بہت مضطرب اور فکر مند تھے کہ توہینِ رسالت کے اس فتنے کا سدِّ باب آخر کس طرح کیا جائے ۔
ستمبر 1934ء کا واقعہ ہے کہ مقدمۂ اہانتِ رسول ﷺ کے ملزم نتھو رام کی اپیل کراچی کی عدالت میں سنی جا رہی تھی، عدالت دو انگریز ججوں کے بینچ پر مشتمل تھی ۔ عدالت کا کمرہ وکیلوں اور شہریوں سے بھرا ہوا تھا ۔ غازی عبد القیوم اطمینان کے ساتھ دوسرے تماشائیوں کے ساتھ وکلا کی قطار کے پیچھے نتھورام کے برابر والی کرسی پر بیٹھا ہوا تھا کہ عین مقدمے کی سماعت کے دوران وہ اپنا تیز دھار چاقو لے کر نتھو رام پر ٹوٹ پڑا اور اس کی گردن پر دو بھر پور وار کیے ۔ نتھو رام چاقو کے زخم کھا کر زور سے چیخا اور زمین پر لڑ کھڑا کر گر پڑا ۔
نام و نسب:
اسمِ گرامی: غازی عبدالقیوم خان شہید ۔ والد کا اسم گرامی: عبد اللہ خان علیہ الرحمہ ۔ لقب: غازیِ اسلام، محافظ ناموس مصطفیٰ ﷺ ۔
آپ کا تعلق غیور و بہادر قوم پٹھان سے تھا ۔ آپ کاتعلق ایک غریب اور مذہبی گھرانے سے تھا ۔ 1932ء میں ان کے والدِ گرامی عبد اللہ خان کا انتقال ہو گیا ۔
تاریخِ ولادت:
غالباً آپ کی ولادت باسعادت 1330ھ مطابق 1912ء کو ’’غازی آباد‘‘ ضلع ہزارہ میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
غازی عبد القیوم خان کو بچپن ہی سے مذہبی تعلیم کا شوق تھا ۔ چھٹی جماعت پاس کرکے گاؤں کے علمائے کرام سے پڑھنا شروع کر دیا ۔ اکثر قرآنِ مجید کی تلاوت کرتے رہتے ۔ اسکول چھوڑ کر قرآنِ مجید کی تعلیم کی طرف ہمہ تن متوجہ ہو گئے، صوم و صلوٰۃ کی آخری وقت تک پوری پابندی کرتے رہے ۔
سیرت و خصائص:
غازی اسلام، شہید اسلام، محافظِ ناموس رسالت، محسنِ امت، پیکرِ غیرت و حمیت، کشتۂ عشق و محبت، عاشق رسول حضرت غازی عبد القیوم شہید رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ۔
رسم شبیری اور ضرب حیدری کی یاد تازہ کرنے والے عاشق جانباز، مصطفیٰ کریم ﷺ کے جان نثار، عاشق ِصادق، محافظ عظمتِ محبوبِ خدا ﷺ، شمع مصطفیٰ ﷺ کا یہ بے تاب پروانہ ہزارہ کے ایک دور افتادہ گاؤں ’’غازی‘‘ کا رہنے والا اور بہت غریب باپ کا بیٹا تھا ۔ مذہب سے لگاؤ گھٹی میں شامل تھا ۔ اس کی بے داغ جوانی پروان چڑھی تو صحیح معنوں میں ایک مسلمان اور صالح جوان کی پاکیزہ جوانی تھی ۔ نماز روزہ کسبِ حلال پر عمل اللہ تعالیٰ کی ذات پر ایمان خالص اور رسول اکرم ﷺ سے بے پاں عقیدت ومحبت ان کے ایمان کے اجزائے ترکیبی تھے ۔ آج کے بر عکس اس وقت بر صغیر کے ہر مسلمان کی تعمیر انہیں خطوط پر ہوتی تھی ۔
غازی عبد القیوم شہید ایک بوڑھے چچا، ضعیف والدہ، اور ایک بیوہ بہن کے کفیل، اور ان کے علاوہ ایک نئی نویلی دلہن کی آرزؤں اور تمناؤں کے امین تھے ۔ وقوعہ سے چند عرصہ قبل ان کی شادی ہوئی تھی ۔ بڑی بڑی کتب، اور اعلیٰ ڈگریوں کے حامل نہیں تھے ۔ بلکہ ایک ناظرہ قرآن مجید کے تلاوت کرنے والے سیدھے سادے دیہاتی مسلمان تھے ۔ البتہ بدر و حنین، خیبر و کربلا، فاتحین اسلام کے واقعات سنے ہوئے تھے ۔ جانثارانِ اسلام سے والہانہ عقیدت و محبت رکھتے تھے ۔
انتخابِ خداوندی:
جب ان کی عمر 21/22 سال کی ہوئی تو 1934ء میں ان کی شادی کر دی گئی ۔ شادی کے چند ماہ بعد ان کو کراچی جانے کا شوق پیدا ہوا ۔ وجہ یہ تھی کہ ان کے حقیقی چچا رحمت اللہ خان وہاں پہلے سے مقیم تھے اور وکٹوریہ گاڑیوں کا کاروبار کرتے تھے ۔ چنانچہ یہ کراچی چلے گئے اور اپنے چچا کے ہاں ٹھہرے ۔یہاں گھوڑا گاڑی چلاتے تھے ۔ لیکن ان کا زیادہ تر وقت گھر کے قریبی مسجد میں تلاوتِ قرآن، ذکر اللہ اور نوافل وغیرہ میں گزرتا تھا ۔ وہیں باجماعت نماز بھی ادا کرتے تھے ۔
امام صاحب نے درس میں نتھو رام کی خرافات کا بیان کیا، غازی صاحب کی غیرت ایمانی نے کروٹ لی، اور وہیں مسجد کے صحن میں اللہ تعالیٰ سے عہد کیا کہ اس گستاخ کو جہنم واصل کرکے اللہ کی زمین کو اس سے پاک کرونگا ۔
دوسرے ہی دن بازار سے ایک چاقو خریدا اور نتھو رام ہندو کی آئندہ پیشی کا انتظار کرنے لگے ۔
نتھو رام بد انجام کا حشر:
یہ 1933ء کے اوائل کا ذکر ہے، جب سندھ صوبہ بمبئی میں شامل تھا، ان دنوں آریہ سماج حیدر آباد (سندھ) کے سیکریٹری نتھو رام نے ’’ہسٹری آف اسلام‘‘ کے نام سے ایک کتاب شائع کی، جس میں آقائے دو جہاں، سرکارِ دو عالم ﷺ کی شانِ اقدس میں سخت دریدہ دہنی کا مظاہرہ کیا گیا، مسلمانوں میں اس کتاب کی اشاعت کے سبب بڑا اضطراب پیدا ہوا، جس سے متاثر ہو کر انگریز حکومت نے کتاب کو ضبط کیا اور نتھو رام پر عدالت میں مقدمہ چلایا گیا، جہاں اس پر معمولی جرمانہ ہوا اور ایک سال کی قید کی سزا سنائی گئی ۔
عدل و انصاف کی اس نرمی نے نتھورام کا حوصلہ بڑھا دیا اور اس نے وی ایم فیرس جوڈیشل کمشنر کے یہاں ماتحت عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر دی ۔ کمشنر کی عدالت نے اس گندہ دہن، شاتمِ رسول کی ضمانت منظور کر لی ۔ اس سے مسلمانوں کو بہت صدمہ ہوا ۔ وہ بہت مضطرب اور فکر مند تھے کہ توہینِ رسالت کے اس فتنے کا سدِّ باب آخر کس طرح کیا جائے ۔
ستمبر 1934ء کا واقعہ ہے کہ مقدمۂ اہانتِ رسول ﷺ کے ملزم نتھو رام کی اپیل کراچی کی عدالت میں سنی جا رہی تھی، عدالت دو انگریز ججوں کے بینچ پر مشتمل تھی ۔ عدالت کا کمرہ وکیلوں اور شہریوں سے بھرا ہوا تھا ۔ غازی عبد القیوم اطمینان کے ساتھ دوسرے تماشائیوں کے ساتھ وکلا کی قطار کے پیچھے نتھورام کے برابر والی کرسی پر بیٹھا ہوا تھا کہ عین مقدمے کی سماعت کے دوران وہ اپنا تیز دھار چاقو لے کر نتھو رام پر ٹوٹ پڑا اور اس کی گردن پر دو بھر پور وار کیے ۔ نتھو رام چاقو کے زخم کھا کر زور سے چیخا اور زمین پر لڑ کھڑا کر گر پڑا ۔
❤1
غازی عبد القیوم نے پولیس کی گرفت سے بچنے اور فرار ہونے کی ذرہ برابر کوشش نہیں کی ۔ اس نے نہایت ہنسی خوشی اپنے آپ کو پولیس کے حوالے کر دیا ۔
انگریز جج نے ڈائس سے اتر کر اس سے پوچھا: ’’تم نے اس شخص کو کیوں قتل کیا؟‘‘
غازی عبد القیوم نے عدالت میں آویزاں جارج پنجم کی تصویر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ’’ کہ یہ تصویر تمہارے بادشاہ کی ہے ۔ کیا تم اپنے بادشاہ کی توہین کرنے والے کو موٹ کے گھاٹ نہیں اتار دو گے؟
اس ہندو نے میرے آقا اور میرے شہنشاہ ﷺ کی شان میں گستاخی کی ہے، جسے میری غیرت بردا شت نہیں کر سکی‘‘۔
غازی عبد القیوم پر مقدمہ چلا ۔ اس نے اقبالِ جرم کیا ۔ آخرِ کار سیشن جج نے اسے سزائے موت کا حکم سنایا ۔ غازی عبد القیوم نے فیصلہ سن کر کہا: ’’جج صاحب! میں آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ مجھے موت کی سزا دی ۔ یہ ایک جان کس گنتی میں ہے، اگر میرے پاس ایک لاکھ جانیں بھی ہوتیں، تو ناموسِ رسول ﷺ پر نچھاور کر دیتا‘‘ ۔ (شہیدان ناموس رسالت، ص:280)
اس فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی گئی ۔ دین دار مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ غازی عبد القیوم کا قانونی دفاع کرنے کے لیے سامنے آ گیا ۔ سید محمد اسلم بار ایٹ لا کو عبد القیوم کی پیروی کی سعادت حاصل ہوئی، لیکن اس مردِ مجاہد (عبد القیوم) نے پہلی ہی ملاقات میں اپنے قانونی مشیر پر واضح کر دیا کہ میں نے ماتحت عدالت میں جو اقبالی بیان دیا ہے، اس کے خلاف کچھ کہہ کر اپنی عاقبت خراب نہیں کروں گا۔
سید محمد اسلم نے مقدمے کی تیاری جاری رکھی اور شہادتوں کے سلسلے میں علامہ اقبال اور خواجہ حسن نظامی وغیرہ کو بطورِ گواہ طلب کرانے کی درخواست کی تاکہ وہ اسلامی نقطۂ نظر واضح کر سکیں، لیکن عدالت نے یہ درخواست مسترد کر دی ۔ مقدمۂ صفائی کی ساری بنیاد اس نکتے پر رکھی گئی تھی کہ: ’’یہ ایک مسلمان کا ایمان و عقیدہ ہے کہ اگر کوئی شخص ناموسِ رسول ﷺ پر حملہ کرے، تو وہ اسے موت کے گھاٹ اتار دیا جائے‘‘ ۔ (ایضا:)
اپیل کی سماعت جسٹس دادیبا مہتا (Dadiba Mehta) اور 9 ارکانِ جیوری کے سامنے شروع ہوئی ۔ جیوری چھ انگریزوں، دو پارسیوں اور ایک عیسائی ممبر پر مشتمل تھی ۔ عدالت کے باہر کم و بیش 25 ہزار مسلمانوں کا ایک بڑا ہجوم فیصلے کا منتظر تھا ۔ ایڈووکیٹ جنرل کے دلائل کے بعد غازی عبد القیوم کے پیروکار سیّد محمد اسلم نے صفائی کا موقف پیش کیا ۔ انہوں نے مقدمے کے بنیادی نکات اور اقدامِ قتل کے محرکات پر تین گھنٹے تک مدلل بحث کی ۔ ان کی تقریر کے بعض حصے اس قدر اہم تھے کہ انہیں قانون و انصاف کی تاریخ میں ہمیشہ زرّیں حروف میں لکھا جائےگا ۔
انہوں نے ’’اشتعال‘‘ کے قانونی مفہوم کو بیان کرتے ہوئے یہ نکتہ پیش کیا ’’سوال یہ نہیں کہ عبد القیوم کا اقدام ملک کے قانون کے خلاف ہے ۔ سوال یہ ہے کہ عبد القیوم نے یہ اقدام اشتعال کے عالم میں کیا ہے، تو کیوں نہ اسے وہ کم سے کم سزا دی جائے جس کی اجازت دفعہ 302 کے تحت قانون نے دے رکھی ہے ۔ اگر موجودہ قانون زمین کے چھوٹے سے ٹکڑے یا کسی عورت کے معاملے میں قاتل کو ’’اشتعال‘‘ کی رعایت دیتا ہے تو رعایت کا یہ اصول عبد القیوم کے مقدمے میں کیوں قابلِ قبول نہیں ہے! جبکہ ایک مسلمان کے ناموسِ رسول ﷺ پر حملے سے زیادہ اور کوئی اشتعال انگیزی نہیں ہوسکتی‘‘ ۔
وکیل صفائی کی تقریر کے دوران جج نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ کے اس اظہارِ خیال سے فرقہ وارانہ کشیدگی میں اضافہ نہیں ہوگا؟
سید محمد اسلم نے اس موقع پر جواب دیا: ’’جنابِ والا! مسلمان، حکومت اور ہندو اکثریت کو سمجھاتے سمجھاتے تھک گئے ہیں کہ ان کے لیے رسول اللہ ﷺ کی محبت کیا حیثیت رکھتی ہے اور اس بارے میں مسلمانوں کے جذبات کیا ہیں، مگر ان دونوں نے ذرا توجہ نہیں دی ۔ اب مجھے عدالت میں یہ واضح کرنے کا موقع مل رہا ہے کہ جب تک ایک مسلمان بھی زندہ ہے، وہ ناموسِ رسالت ﷺ کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز اور قوت کو ختم کرکے رہے گا ۔ اس معاملے میں مسلمان کو تعزیراتِ ہند کی پروا ہے، نہ پھانسی کے پھندے کی‘‘ ۔
غازی عبد القیوم کے پیروکار سیّد محمد اسلم نے اقدامِ قتل کے لیے اشتعال کے مفہوم کی اہمیت پر جو قانونی نکتہ پیش کیا تھا، اگر وہ تسلیم کر لیا جاتا، تو ناموسِ رسالت ﷺ پر حملہ کرنے کی مذموم تحریک ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتی اور آئندہ کوئی اس جسارت کا تصور بھی نہ کر سکتا، لیکن عدالت نے یہ اپیل خارج کر دی ۔ غازی عبدالقیوم کے لیے سزائے موت بحال رہی ۔
پر جوش اور مضطرب مسلمانوں کے لیے یہ وقت بڑی آزمائش کا تھا ۔
انگریز جج نے ڈائس سے اتر کر اس سے پوچھا: ’’تم نے اس شخص کو کیوں قتل کیا؟‘‘
غازی عبد القیوم نے عدالت میں آویزاں جارج پنجم کی تصویر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ’’ کہ یہ تصویر تمہارے بادشاہ کی ہے ۔ کیا تم اپنے بادشاہ کی توہین کرنے والے کو موٹ کے گھاٹ نہیں اتار دو گے؟
اس ہندو نے میرے آقا اور میرے شہنشاہ ﷺ کی شان میں گستاخی کی ہے، جسے میری غیرت بردا شت نہیں کر سکی‘‘۔
غازی عبد القیوم پر مقدمہ چلا ۔ اس نے اقبالِ جرم کیا ۔ آخرِ کار سیشن جج نے اسے سزائے موت کا حکم سنایا ۔ غازی عبد القیوم نے فیصلہ سن کر کہا: ’’جج صاحب! میں آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ مجھے موت کی سزا دی ۔ یہ ایک جان کس گنتی میں ہے، اگر میرے پاس ایک لاکھ جانیں بھی ہوتیں، تو ناموسِ رسول ﷺ پر نچھاور کر دیتا‘‘ ۔ (شہیدان ناموس رسالت، ص:280)
اس فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی گئی ۔ دین دار مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ غازی عبد القیوم کا قانونی دفاع کرنے کے لیے سامنے آ گیا ۔ سید محمد اسلم بار ایٹ لا کو عبد القیوم کی پیروی کی سعادت حاصل ہوئی، لیکن اس مردِ مجاہد (عبد القیوم) نے پہلی ہی ملاقات میں اپنے قانونی مشیر پر واضح کر دیا کہ میں نے ماتحت عدالت میں جو اقبالی بیان دیا ہے، اس کے خلاف کچھ کہہ کر اپنی عاقبت خراب نہیں کروں گا۔
سید محمد اسلم نے مقدمے کی تیاری جاری رکھی اور شہادتوں کے سلسلے میں علامہ اقبال اور خواجہ حسن نظامی وغیرہ کو بطورِ گواہ طلب کرانے کی درخواست کی تاکہ وہ اسلامی نقطۂ نظر واضح کر سکیں، لیکن عدالت نے یہ درخواست مسترد کر دی ۔ مقدمۂ صفائی کی ساری بنیاد اس نکتے پر رکھی گئی تھی کہ: ’’یہ ایک مسلمان کا ایمان و عقیدہ ہے کہ اگر کوئی شخص ناموسِ رسول ﷺ پر حملہ کرے، تو وہ اسے موت کے گھاٹ اتار دیا جائے‘‘ ۔ (ایضا:)
اپیل کی سماعت جسٹس دادیبا مہتا (Dadiba Mehta) اور 9 ارکانِ جیوری کے سامنے شروع ہوئی ۔ جیوری چھ انگریزوں، دو پارسیوں اور ایک عیسائی ممبر پر مشتمل تھی ۔ عدالت کے باہر کم و بیش 25 ہزار مسلمانوں کا ایک بڑا ہجوم فیصلے کا منتظر تھا ۔ ایڈووکیٹ جنرل کے دلائل کے بعد غازی عبد القیوم کے پیروکار سیّد محمد اسلم نے صفائی کا موقف پیش کیا ۔ انہوں نے مقدمے کے بنیادی نکات اور اقدامِ قتل کے محرکات پر تین گھنٹے تک مدلل بحث کی ۔ ان کی تقریر کے بعض حصے اس قدر اہم تھے کہ انہیں قانون و انصاف کی تاریخ میں ہمیشہ زرّیں حروف میں لکھا جائےگا ۔
انہوں نے ’’اشتعال‘‘ کے قانونی مفہوم کو بیان کرتے ہوئے یہ نکتہ پیش کیا ’’سوال یہ نہیں کہ عبد القیوم کا اقدام ملک کے قانون کے خلاف ہے ۔ سوال یہ ہے کہ عبد القیوم نے یہ اقدام اشتعال کے عالم میں کیا ہے، تو کیوں نہ اسے وہ کم سے کم سزا دی جائے جس کی اجازت دفعہ 302 کے تحت قانون نے دے رکھی ہے ۔ اگر موجودہ قانون زمین کے چھوٹے سے ٹکڑے یا کسی عورت کے معاملے میں قاتل کو ’’اشتعال‘‘ کی رعایت دیتا ہے تو رعایت کا یہ اصول عبد القیوم کے مقدمے میں کیوں قابلِ قبول نہیں ہے! جبکہ ایک مسلمان کے ناموسِ رسول ﷺ پر حملے سے زیادہ اور کوئی اشتعال انگیزی نہیں ہوسکتی‘‘ ۔
وکیل صفائی کی تقریر کے دوران جج نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ کے اس اظہارِ خیال سے فرقہ وارانہ کشیدگی میں اضافہ نہیں ہوگا؟
سید محمد اسلم نے اس موقع پر جواب دیا: ’’جنابِ والا! مسلمان، حکومت اور ہندو اکثریت کو سمجھاتے سمجھاتے تھک گئے ہیں کہ ان کے لیے رسول اللہ ﷺ کی محبت کیا حیثیت رکھتی ہے اور اس بارے میں مسلمانوں کے جذبات کیا ہیں، مگر ان دونوں نے ذرا توجہ نہیں دی ۔ اب مجھے عدالت میں یہ واضح کرنے کا موقع مل رہا ہے کہ جب تک ایک مسلمان بھی زندہ ہے، وہ ناموسِ رسالت ﷺ کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز اور قوت کو ختم کرکے رہے گا ۔ اس معاملے میں مسلمان کو تعزیراتِ ہند کی پروا ہے، نہ پھانسی کے پھندے کی‘‘ ۔
غازی عبد القیوم کے پیروکار سیّد محمد اسلم نے اقدامِ قتل کے لیے اشتعال کے مفہوم کی اہمیت پر جو قانونی نکتہ پیش کیا تھا، اگر وہ تسلیم کر لیا جاتا، تو ناموسِ رسالت ﷺ پر حملہ کرنے کی مذموم تحریک ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتی اور آئندہ کوئی اس جسارت کا تصور بھی نہ کر سکتا، لیکن عدالت نے یہ اپیل خارج کر دی ۔ غازی عبدالقیوم کے لیے سزائے موت بحال رہی ۔
پر جوش اور مضطرب مسلمانوں کے لیے یہ وقت بڑی آزمائش کا تھا ۔
❤1
بالآخر فروری 1135ء میں کراچی کے مسلمانوں نے ایک وفد حکیم الامّت علامہ اقبال کی خدمت میں لاہور بھیجنے کا فیصلہ کیا ۔ یہ وفد میکلوڈ روڈ والی کوٹھی میں علامہ اقبال کی خدمت میں حاضر ہو کر اس مقدمے کی روداد تفصیل کے ساتھ سنائی ۔ اس کے بعد عرض کیا کہ آپ وائسرائے سے ملاقات کریں، اپنے اثر و رسوخ کو کام میں لائیں اور انہیں اس پر آمادہ کریں کہ غازی عبد القیوم کی سزائے موت کو عمر قید میں بدل دی جائے ۔
وفد نے اصرار کے ساتھ کہا کہ آپ نے سعی و توجہ فرمائی تو پوری توقع ہے کہ غازی عبد القیوم کی جانب سے رحم کی اپیل حکومتِ ہند ضرور منظور کر لےگی‘‘ ۔
رحم کی اپیل پر علامہ اقبال کا جواب: علامہ وفد کی یہ گفتگو سُن کر دس بارہ منٹ تک بالکل خاموش رہے اور گہری سوچ میں ڈوب گئے ۔ وفد کے ارکان منتظر اور مضطرب تھے کہ دیکھیے علامہ کیا فرماتے ہیں ۔
توقع یہی تھی کہ جواب اثبات میں ملے گا کہ ایک عاشقِ رسول کا معاملہ دوسرے عاشقِ رسول کے سامنے پیش ہے ـ
اس سکوت کو پھر علامہ اقبال ہی کی آواز نے توڑا ۔ انہوں نے فرمایا: ’’کیا عبد القیوم کمزور پڑ گیا ہے؟‘‘ ارکانِ وفد نے کہا: ’’نہیں اس نے تو ہر عدالت میں اپنے اقدام کا اقبال اور اعتراف کیا ہے، اس نے نہ تو بیان تبدیل کیا اور نہ لاگ لپیٹ اور ایچ پیچ کی کوئی بات کہی وہ تو کھلے دل سے کہتا ہے کہ میں نے شہادت خریدی ہے مجھے پھانسی کے پھندے سے بچانے کی کوشش مت کرو ‘‘ ۔ وفد کی اس گفتگو کو سُن کر علامہ کا چہرہ تمتما گیا ۔
انہوں نے برہمی کے لہجے میں فرمایا: ’’جب وہ کہہ رہا ہے کہ میں نے شہادت خریدی ہے، تو میں اس کے اجر و ثواب کی راہ میں کیسے حائل ہو سکتا ہوں؟ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ میں ایسے مسلمان کے لیے وائسرائے کی خوشامد کروں، جو زندہ رہا تو غازی ہے اور مر گیا تو شہید ہے‘‘ ۔
علامہ کے لہجے میں اس قدر تیزی تھی کہ وفد کے ارکان اس سلسلے میں پھر کچھ اور کہنے کی جرأت نہ کر سکے ۔ وفد کراچی واپس ہو گیا ۔
غازی عبد القیوم کو جس دن پھانسی دی گئی، کراچی کی تاریخ میں وہ دن مسلمانوں کے جوش و اضطراب کا یادگار دن تھا ۔ دلوں میں یہ جذبہ موجزن تھا کہ کاش، یہ شہادت ہمیں میسر آتی ۔
لاہور میں غازی علم دین اور کراچی میں غازی عبد القیوم کے ان واقعات کا علامہ اقبال نے بہت زیادہ اثر قبول کیا تھا اور اپنے اس قلبی تاثر کو تین شعروں میں بیان فرما دیا ۔ یہ اشعار ’’لاہور اور کراچی‘‘ کے عنوان سے ’’ضربِ کلیم‘‘ میں شائع ہو چکے ہیں ـ
مگر غازی عبد القیوم کے لیے رحم کی درخواست کے اس واقعے کی روشنی میں ان اشعار کا مفہوم کچھ اور زیادہ ابھرتا ہے ۔
نظر اللہ پہ رکھتا ہے مسلمان غیور
موت کیا شے ہے؟ فقط عالمِ معنیٰ کا سفر
ان شہیدوں کی دیت اہلِ کلیسا سے نہ مانگ
قدر و قیمت میں ہے خوں جن کا حرم سے بڑھ کر
آہ اے مردِ مسلمان تجھے کیا یاد نہیں
حرفِ لَا تَدۡعُ مَعَ اللّٰہ اِلٰھًا اٰخَرۡ
لاکھوں کی تعداد میں مسلمانوں نے وقتِ جنازہ جلوس نکالے ۔ لاکھوں نے ان کی نمازِ جنازہ میں شرکت کی، ناموسِ رسول ﷺ پر اپنی جان نچھاور کرنے والے اس شہید کو بڑی عزت و تکریم کے ساتھ میوہ شاہ کے قبرستان میں ایک خاص چار دیواری کے اندر دفن کیا گیا ۔
اللہ تبارک و تعالیٰ ان کی قبرِ انور پر اپنی کروڑوں رحمتوں کا نزول فرمائے اور ان کے طفیل ہمارے اوپر بھی رحمت فرمائے ۔
ہمیں بھی غازی عبد القیوم خان شہید علیہ الرحمہ کی طرح ناموسِ رسالت پر مر مٹنے والا بنائے ۔ آمین بجاہ النبی الامین۔
تاریخ شہادت:
13 ذی الحجہ 1353ء بمطابق 19 مارچ 1935ء ۔ قبر انور میوہ شاہ قبرستان کراچی میں ہے ۔
ماخذ و مراجع:
شہیدان ناموس رسالت ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/ghazi-abdul-qayyum-shaheed
وفد نے اصرار کے ساتھ کہا کہ آپ نے سعی و توجہ فرمائی تو پوری توقع ہے کہ غازی عبد القیوم کی جانب سے رحم کی اپیل حکومتِ ہند ضرور منظور کر لےگی‘‘ ۔
رحم کی اپیل پر علامہ اقبال کا جواب: علامہ وفد کی یہ گفتگو سُن کر دس بارہ منٹ تک بالکل خاموش رہے اور گہری سوچ میں ڈوب گئے ۔ وفد کے ارکان منتظر اور مضطرب تھے کہ دیکھیے علامہ کیا فرماتے ہیں ۔
توقع یہی تھی کہ جواب اثبات میں ملے گا کہ ایک عاشقِ رسول کا معاملہ دوسرے عاشقِ رسول کے سامنے پیش ہے ـ
اس سکوت کو پھر علامہ اقبال ہی کی آواز نے توڑا ۔ انہوں نے فرمایا: ’’کیا عبد القیوم کمزور پڑ گیا ہے؟‘‘ ارکانِ وفد نے کہا: ’’نہیں اس نے تو ہر عدالت میں اپنے اقدام کا اقبال اور اعتراف کیا ہے، اس نے نہ تو بیان تبدیل کیا اور نہ لاگ لپیٹ اور ایچ پیچ کی کوئی بات کہی وہ تو کھلے دل سے کہتا ہے کہ میں نے شہادت خریدی ہے مجھے پھانسی کے پھندے سے بچانے کی کوشش مت کرو ‘‘ ۔ وفد کی اس گفتگو کو سُن کر علامہ کا چہرہ تمتما گیا ۔
انہوں نے برہمی کے لہجے میں فرمایا: ’’جب وہ کہہ رہا ہے کہ میں نے شہادت خریدی ہے، تو میں اس کے اجر و ثواب کی راہ میں کیسے حائل ہو سکتا ہوں؟ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ میں ایسے مسلمان کے لیے وائسرائے کی خوشامد کروں، جو زندہ رہا تو غازی ہے اور مر گیا تو شہید ہے‘‘ ۔
علامہ کے لہجے میں اس قدر تیزی تھی کہ وفد کے ارکان اس سلسلے میں پھر کچھ اور کہنے کی جرأت نہ کر سکے ۔ وفد کراچی واپس ہو گیا ۔
غازی عبد القیوم کو جس دن پھانسی دی گئی، کراچی کی تاریخ میں وہ دن مسلمانوں کے جوش و اضطراب کا یادگار دن تھا ۔ دلوں میں یہ جذبہ موجزن تھا کہ کاش، یہ شہادت ہمیں میسر آتی ۔
لاہور میں غازی علم دین اور کراچی میں غازی عبد القیوم کے ان واقعات کا علامہ اقبال نے بہت زیادہ اثر قبول کیا تھا اور اپنے اس قلبی تاثر کو تین شعروں میں بیان فرما دیا ۔ یہ اشعار ’’لاہور اور کراچی‘‘ کے عنوان سے ’’ضربِ کلیم‘‘ میں شائع ہو چکے ہیں ـ
مگر غازی عبد القیوم کے لیے رحم کی درخواست کے اس واقعے کی روشنی میں ان اشعار کا مفہوم کچھ اور زیادہ ابھرتا ہے ۔
نظر اللہ پہ رکھتا ہے مسلمان غیور
موت کیا شے ہے؟ فقط عالمِ معنیٰ کا سفر
ان شہیدوں کی دیت اہلِ کلیسا سے نہ مانگ
قدر و قیمت میں ہے خوں جن کا حرم سے بڑھ کر
آہ اے مردِ مسلمان تجھے کیا یاد نہیں
حرفِ لَا تَدۡعُ مَعَ اللّٰہ اِلٰھًا اٰخَرۡ
لاکھوں کی تعداد میں مسلمانوں نے وقتِ جنازہ جلوس نکالے ۔ لاکھوں نے ان کی نمازِ جنازہ میں شرکت کی، ناموسِ رسول ﷺ پر اپنی جان نچھاور کرنے والے اس شہید کو بڑی عزت و تکریم کے ساتھ میوہ شاہ کے قبرستان میں ایک خاص چار دیواری کے اندر دفن کیا گیا ۔
اللہ تبارک و تعالیٰ ان کی قبرِ انور پر اپنی کروڑوں رحمتوں کا نزول فرمائے اور ان کے طفیل ہمارے اوپر بھی رحمت فرمائے ۔
ہمیں بھی غازی عبد القیوم خان شہید علیہ الرحمہ کی طرح ناموسِ رسالت پر مر مٹنے والا بنائے ۔ آمین بجاہ النبی الامین۔
تاریخ شہادت:
13 ذی الحجہ 1353ء بمطابق 19 مارچ 1935ء ۔ قبر انور میوہ شاہ قبرستان کراچی میں ہے ۔
ماخذ و مراجع:
شہیدان ناموس رسالت ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/ghazi-abdul-qayyum-shaheed
scholars.pk
Ghazi Abdul Qayyum Shaheed
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
👍2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
محافظ ناموس رسالت حضرت غازی عبد القیوم شہید رحمۃ الله تعالیٰ علیہ نام و نسب: اسمِ گرامی: غازی عبدالقیوم خان شہید ۔ والد کا اسم گرامی: عبد اللہ خان علیہ الرحمہ ۔ لقب: غازیِ اسلام، محافظ ناموس مصطفیٰ ﷺ ۔ آپ کا تعلق غیور و بہادر قوم پٹھان سے تھا ۔ آپ کاتعلق…
محافظ ناموس رسالت حضرت غازی
عبد القیوم شہید رحمۃاللهتعالیٰعلیہ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
ولادت: غالباً 1330ھ مطابق 1912ء
شہادت: ۱۳ ذی الحجہ سنہ 1353 ھ
#یوم_وصال_ماہ_ذو_الحجہ 🌹
https://t.me/islaamic_Knowledge/53498
عبد القیوم شہید رحمۃاللهتعالیٰعلیہ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
ولادت: غالباً 1330ھ مطابق 1912ء
شہادت: ۱۳ ذی الحجہ سنہ 1353 ھ
#یوم_وصال_ماہ_ذو_الحجہ 🌹
https://t.me/islaamic_Knowledge/53498
❤2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
12-12-1444 ᴴ | 01-07-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
13-12-1444 ᴴ | 02-07-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
13-12-1444 ᴴ | 02-07-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
13-12-1444 ᴴ | 02-07-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1