استاد العلماء علامہ گل محمد شہداد کوٹی ( متوفی سن ۱۳۰۶ھ)
۲۔ استاد العلماء علامہ خواجہ غلام صدیق شہداد کوٹی
۳۔ مولانا میاں غلام عمر شہداد کوٹی ( جوانی میں انتقال کیا )
۴۔ آپ کی صاحبزادی میاں عبدالحلیم کنڈوی کے عقد میں آئیں ( جو کہ کنڈہ میں مقیم تھے ) جس سے آپ کو نواسہ میاں نصیر الدین اول تولد ہوئے جو کہ حضرت غلام صدیق کے بعد سجادہ نشین ہوئے۔
تلامذہ:
آپ نے ۲۴ سال قدومت میمنت لزوم سے شہداد کوٹ کو سرفراز و شاداب فرمایا اور اس مختصر عرصہ میں بھی کثیر جماعت علماء نے استفادہ کیا۔ ان میں سے بعض کے اسماء گرامی درج ذیل ہیں :
٭ ولی کامل استاد العلماء علامہ عبدالرحمن سکھر ، سندھ
٭ استاد العلماء علامہ گل محمد فاروقی شہداد کوٹی
٭ استاد العلماء غوث الزمان علامہ غلام صدیق شہداد کوٹی
٭ استاد العلماء علامہ مفتی محمد حسن قریشی جامع مسجد مائی خیری فقیر جو پڑ حیدر آباد
٭ استاد العلماء مولانا مفتی محمد حسن کھوسہ بلوچ جو ہی ضلع دادو
٭ استاد العلماء مولانا مفتی محمد ہاشم یاسینی گڑھی یاسین
٭ استاد العلماء مولانا عبدالقادر اندھڑ پھنواری تحصیل پنو عاقل ضلع سکھر
٭ استاد العلماء مولانا نور محمد بھٹی قاضی میر پور بھاگ ناڑی ڈویزن قلات
٭ حضرت مولانا سید عباس علی شاہ لواری شریف ضلع بدین
٭ حضرت مولانا حاجی احمد ابڑو گوٹھ ملا ابڑا تحصیل لاڑکانہ
٭ حضرت مولانا محمد علی اوڈھو تحصیل گڑھی خیر و جمالی
٭ حضرت مولانا خیر محمد انڈھڑ پنو عاقل ضلع سکھر
٭ حضرت مولانا سید عبدالحق شاہ جانی بند تحصیل وارہ ضلع لاڑکانہ
٭ حضرت مولانا عبدالستار رستمی تحصیل شکار پور
٭ مولانا عبداللہ بیر والے
٭ مولانا حاجی احمد بوہڑ تحصیل قمبر وغیرہ
تصنیف و تالیف :
روایت ہے کہ آپ نے فتاویٰ نویسی کے علاوہ مستقل کتابیں بھی تحریر فرمائی اور اس کے علاوہ درسی کتب پر حواشی کا اہم و مفید کام بھی کیا جس کی تفصیل یوں ہے:
٭ فتاویٰ نور محمد یہ
٭ حاشیہ توضیح تلویح
٭ حاشیہ جامع تعلیلات
٭ حاشیہ ہدایہ شریف
٭ حاشیدہ ایسا غوجی
٭ حاشیہ زرادی
٭ حاشیہ قطبی
٭ حاشیہ بدیع المیزان
٭ حاشیہ عبدالغفور
٭ حاشیہ جامی
٭ حاشیہ شرح ماۃ عامل
٭ حاشیہ مسلم
٭ حاشیہ بیضاوی وغیرہ
وصال :
شیخ الاسلام علامہ مفتی نو ر محمد شہداد کوٹی نے نوے سال ( ۹۰) کی عمر مبارک میں ۱۲، ذوالحجہ ۱۲۹۶ھ؍ ۱۸۷۹ء کو انتقال کیا ۔ آپ کا مزار مقدس شہداد کوٹ ضلع لاڑکانہ میں درگاہ صدیقیہ میں مرجع خلائق ہے۔ ( تجلیات صدیقیہ ، الرحیم مشاہیر نمبر ۱۹۶۷ء وغیرہ )
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/noor-muhammad-shahdad-koti
۲۔ استاد العلماء علامہ خواجہ غلام صدیق شہداد کوٹی
۳۔ مولانا میاں غلام عمر شہداد کوٹی ( جوانی میں انتقال کیا )
۴۔ آپ کی صاحبزادی میاں عبدالحلیم کنڈوی کے عقد میں آئیں ( جو کہ کنڈہ میں مقیم تھے ) جس سے آپ کو نواسہ میاں نصیر الدین اول تولد ہوئے جو کہ حضرت غلام صدیق کے بعد سجادہ نشین ہوئے۔
تلامذہ:
آپ نے ۲۴ سال قدومت میمنت لزوم سے شہداد کوٹ کو سرفراز و شاداب فرمایا اور اس مختصر عرصہ میں بھی کثیر جماعت علماء نے استفادہ کیا۔ ان میں سے بعض کے اسماء گرامی درج ذیل ہیں :
٭ ولی کامل استاد العلماء علامہ عبدالرحمن سکھر ، سندھ
٭ استاد العلماء علامہ گل محمد فاروقی شہداد کوٹی
٭ استاد العلماء غوث الزمان علامہ غلام صدیق شہداد کوٹی
٭ استاد العلماء علامہ مفتی محمد حسن قریشی جامع مسجد مائی خیری فقیر جو پڑ حیدر آباد
٭ استاد العلماء مولانا مفتی محمد حسن کھوسہ بلوچ جو ہی ضلع دادو
٭ استاد العلماء مولانا مفتی محمد ہاشم یاسینی گڑھی یاسین
٭ استاد العلماء مولانا عبدالقادر اندھڑ پھنواری تحصیل پنو عاقل ضلع سکھر
٭ استاد العلماء مولانا نور محمد بھٹی قاضی میر پور بھاگ ناڑی ڈویزن قلات
٭ حضرت مولانا سید عباس علی شاہ لواری شریف ضلع بدین
٭ حضرت مولانا حاجی احمد ابڑو گوٹھ ملا ابڑا تحصیل لاڑکانہ
٭ حضرت مولانا محمد علی اوڈھو تحصیل گڑھی خیر و جمالی
٭ حضرت مولانا خیر محمد انڈھڑ پنو عاقل ضلع سکھر
٭ حضرت مولانا سید عبدالحق شاہ جانی بند تحصیل وارہ ضلع لاڑکانہ
٭ حضرت مولانا عبدالستار رستمی تحصیل شکار پور
٭ مولانا عبداللہ بیر والے
٭ مولانا حاجی احمد بوہڑ تحصیل قمبر وغیرہ
تصنیف و تالیف :
روایت ہے کہ آپ نے فتاویٰ نویسی کے علاوہ مستقل کتابیں بھی تحریر فرمائی اور اس کے علاوہ درسی کتب پر حواشی کا اہم و مفید کام بھی کیا جس کی تفصیل یوں ہے:
٭ فتاویٰ نور محمد یہ
٭ حاشیہ توضیح تلویح
٭ حاشیہ جامع تعلیلات
٭ حاشیہ ہدایہ شریف
٭ حاشیدہ ایسا غوجی
٭ حاشیہ زرادی
٭ حاشیہ قطبی
٭ حاشیہ بدیع المیزان
٭ حاشیہ عبدالغفور
٭ حاشیہ جامی
٭ حاشیہ شرح ماۃ عامل
٭ حاشیہ مسلم
٭ حاشیہ بیضاوی وغیرہ
وصال :
شیخ الاسلام علامہ مفتی نو ر محمد شہداد کوٹی نے نوے سال ( ۹۰) کی عمر مبارک میں ۱۲، ذوالحجہ ۱۲۹۶ھ؍ ۱۸۷۹ء کو انتقال کیا ۔ آپ کا مزار مقدس شہداد کوٹ ضلع لاڑکانہ میں درگاہ صدیقیہ میں مرجع خلائق ہے۔ ( تجلیات صدیقیہ ، الرحیم مشاہیر نمبر ۱۹۶۷ء وغیرہ )
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/noor-muhammad-shahdad-koti
scholars.pk
Noor Muhammad Shahdad Koti
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
This Web Page have good information about Islam and contains brief introduction of a great Islamic Celaebrity / Personality (Religious Scholar).
❤1
حضرت علامہ شیخ مفتی ابو الصفاء دمشقی خلوتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
مفتی ابو الصفاء بن احمد بن ایوب عدوی صالحی دمشقی خلوتی:
آپ علیہ الرحمہ اپنے زمانہ کے شیخ، امام، صدر الصدور، علامہ، فاضل، بارع، فقیہ، مفسر، نحوی تھے ۔
دمشق میں ۱۰۴۵ھ میں پیدا ہوئے اور وہیں نشو و نما پاکر اپنے والد ماجد سے طلبِ علم میں مشغول ہوئے ـ
اور ان سے طریق خلوتیہ اخذ کیا اور شیخ ابراہیم فنال دمشقی وغیرہ فضلاء سے پڑھا یہاں تک کہ بارع وفائق اقران ہوئے ـ
دمشق میں افتاء حنفیہ کی خدمت میں آپ کے سپرد ہوئی اور مرتے دم تک مفتی رہے ـ
اور آپ علیہ الرحمہ نے حج بھی کیا اور مکہ معظمہ میں مدرسہ مرادیہ کے متولی رہے جہاں آپ کی بڑی شہرت اور قدر و منزلت ظاہر ہوئی ـ
آپ کی تصنیفات سے ایک فتوٰی متداول ہے ۔
وصال:
وفات آپ کی منگل کے روز ۱۲ ماہ ذی الحجہ ۱۱۲۰ھ میں ہوئی اور ترتب مرج الدحداج میں دفن کیے گئے۔ ’’فاضلِ دہر‘‘ تاریخ وفات ہے ۔
عدوی عدی بن مسافر صحابی کی طرف منسوب ہے اور آپ کے اجداد بقاع عزیز کے جو دمشق کی نواح میں واقع ہے، رہنے والے تھے ۔
( حدائق الحنفیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-sheikh-mufti-abul-safa-bin-ahmad-dimashqi
مفتی ابو الصفاء بن احمد بن ایوب عدوی صالحی دمشقی خلوتی:
آپ علیہ الرحمہ اپنے زمانہ کے شیخ، امام، صدر الصدور، علامہ، فاضل، بارع، فقیہ، مفسر، نحوی تھے ۔
دمشق میں ۱۰۴۵ھ میں پیدا ہوئے اور وہیں نشو و نما پاکر اپنے والد ماجد سے طلبِ علم میں مشغول ہوئے ـ
اور ان سے طریق خلوتیہ اخذ کیا اور شیخ ابراہیم فنال دمشقی وغیرہ فضلاء سے پڑھا یہاں تک کہ بارع وفائق اقران ہوئے ـ
دمشق میں افتاء حنفیہ کی خدمت میں آپ کے سپرد ہوئی اور مرتے دم تک مفتی رہے ـ
اور آپ علیہ الرحمہ نے حج بھی کیا اور مکہ معظمہ میں مدرسہ مرادیہ کے متولی رہے جہاں آپ کی بڑی شہرت اور قدر و منزلت ظاہر ہوئی ـ
آپ کی تصنیفات سے ایک فتوٰی متداول ہے ۔
وصال:
وفات آپ کی منگل کے روز ۱۲ ماہ ذی الحجہ ۱۱۲۰ھ میں ہوئی اور ترتب مرج الدحداج میں دفن کیے گئے۔ ’’فاضلِ دہر‘‘ تاریخ وفات ہے ۔
عدوی عدی بن مسافر صحابی کی طرف منسوب ہے اور آپ کے اجداد بقاع عزیز کے جو دمشق کی نواح میں واقع ہے، رہنے والے تھے ۔
( حدائق الحنفیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-sheikh-mufti-abul-safa-bin-ahmad-dimashqi
scholars.pk
Hazrat Allama Sheikh Mufti Abul Safa Bin Ahmad Dimashqi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
11-12-1444 ᴴ | 30-06-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
12-12-1444 ᴴ | 01-07-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
12-12-1444 ᴴ | 01-07-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
12-12-1444 ᴴ | 01-07-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1