مراقبہ کے متعلق شیخ فرماتے ہیں: کہ قرآن کریم کی وہ تمام آیات و کلمات جن سے توحید کا مفہوم سمجھا جاتا ہے یہ سب اسمائے مراقبہ ہیں، یعنی جب مراقبہ کرنے کااِرادہ ہوتو ان آیات و کلمات کو پڑھاجائے اور وہ کلمات یہ ہیں۔ وھو معکم اینما کنتم، اینما تولو فثم وجہ اللہ، الم یعلم بان اللہ یری، نحن اقرب الیہ من حبل الورید، ان اللہ بکلّ شی محیط، وفی انفسکم افلا تبصرون، ان معی ربی سیھدین، اسی طرح اللہ حاضری اللہ ناظری اللہ شاھدی اللہ معی اور ذات باری کا مراقبہ یاحیی یاقیوم کا مراقبہ انیس کا مراقبہ، تمام اسمائے حسنیٰ کا مراقبہ، قرآن کریم کی تلاوت کا مراقبہ، اپنے فنا ہوجانے کا مراقبہ، مراقبہ کے یہ چندرموز تحریر کردیے گئے تا کہ ان میں سے کسی کو پسند کرکے مراقبہ شروع کردیں اور فائدہ حاصل کریں۔ اور مراقبہ دراصل نام ہے اپنی ہستی اور تمام کائنات کو مٹادینے اور اللہ کی ذات کو تمام احوال میں ثابت رکھنے کا اور بس، پس ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ جہاں کہیں بھی (بشرطیکہ کوئی شرعی مانع نہ ہو) وہ اللہ کا ذکر کرے اور اس کے ذریعہ اپنے دل کی پاکیزگی حاصل کرے۔
مراقبہ کی وجہ تسمیہ:
یہ ہے کہ مراقبہ کا اصل مادہ ہے رقیب، جس کے معنی محافظ اور نگرانی کرنے والے کے ہیں، یعنی جب تک مرید مراقبہ میں مشغول ہے تو وہ خواہشات نفسانیہ، شیطانی وساوس اور جسمانی شواغل خواطر قلبیہ خناسیہ سے محفوظ ہوکر اللہ کی جانب متوجہ ہوتاہے۔ اسی لیے مشہور ہے کہ فکر افضل ہے ذکرسے، اس لیے کہ فکر تو ایک باطنی شغل ہے جس کی کسی کو خبر نہیں، یعنی مراقبہ اس کو کہتے ہیں کہ دل کی نگہبانی کرکے اللہﷻ کی جانب متوجہ کرنا اور جو چیز خدا کے ماسوٰی ہے اس کو دل میں جگہ نہ دینا، سو ایسے آدمی کو صوفیا کی اصطلاح میں اہل دل کہتے ہیں۔(تذکرہ مشائخِ قادریہ رضویہ: 282)
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 11؍ ذوالحج 921ھ، مطابق وسط ماہِ جنوری 1516ءکوہوا۔آپ کامزار پرانور دولت آباد دکن (ہند) میں مرجعِ خلائق ہے۔سببِ وصال: آپ کوعمدہ خوشبو سونگھتے ہی ایسا ذوق و حال طاری ہوتا کہ جاں بلب ہوجاتے تھے، چنانچہ ظاہری سبب آپ کےوصال کا یہی ہوا۔ جس زمانے میں آپ بہت کمزور و ضعیف ہوگئے تھے۔ایک شخص آپ کی خدمت میں نہایت ہی عمدہ اوراعلیٰ قسم کی خوشبولایا،تو اسی خوشبو کےاثر سے آپ کی روح قفس عنصری سےپرواز کرگئی۔
شجرہ شریف میں اس طرح ذکر ہے:
طورِ عرفان و علو و حمد و حُسنٰی و بَہا
دے علیؔ موسیٰؔ حسن ؔاحمدؔ بہاؔ کےواسطے
اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں:
منتقیِ جوہر زجیلاں سید احمد الاماں
بے بہا گوہر بہاء الدین بہا امداد کُن
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-bahauddin-shattari-junaidi
مراقبہ کی وجہ تسمیہ:
یہ ہے کہ مراقبہ کا اصل مادہ ہے رقیب، جس کے معنی محافظ اور نگرانی کرنے والے کے ہیں، یعنی جب تک مرید مراقبہ میں مشغول ہے تو وہ خواہشات نفسانیہ، شیطانی وساوس اور جسمانی شواغل خواطر قلبیہ خناسیہ سے محفوظ ہوکر اللہ کی جانب متوجہ ہوتاہے۔ اسی لیے مشہور ہے کہ فکر افضل ہے ذکرسے، اس لیے کہ فکر تو ایک باطنی شغل ہے جس کی کسی کو خبر نہیں، یعنی مراقبہ اس کو کہتے ہیں کہ دل کی نگہبانی کرکے اللہﷻ کی جانب متوجہ کرنا اور جو چیز خدا کے ماسوٰی ہے اس کو دل میں جگہ نہ دینا، سو ایسے آدمی کو صوفیا کی اصطلاح میں اہل دل کہتے ہیں۔(تذکرہ مشائخِ قادریہ رضویہ: 282)
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 11؍ ذوالحج 921ھ، مطابق وسط ماہِ جنوری 1516ءکوہوا۔آپ کامزار پرانور دولت آباد دکن (ہند) میں مرجعِ خلائق ہے۔سببِ وصال: آپ کوعمدہ خوشبو سونگھتے ہی ایسا ذوق و حال طاری ہوتا کہ جاں بلب ہوجاتے تھے، چنانچہ ظاہری سبب آپ کےوصال کا یہی ہوا۔ جس زمانے میں آپ بہت کمزور و ضعیف ہوگئے تھے۔ایک شخص آپ کی خدمت میں نہایت ہی عمدہ اوراعلیٰ قسم کی خوشبولایا،تو اسی خوشبو کےاثر سے آپ کی روح قفس عنصری سےپرواز کرگئی۔
شجرہ شریف میں اس طرح ذکر ہے:
طورِ عرفان و علو و حمد و حُسنٰی و بَہا
دے علیؔ موسیٰؔ حسن ؔاحمدؔ بہاؔ کےواسطے
اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں:
منتقیِ جوہر زجیلاں سید احمد الاماں
بے بہا گوہر بہاء الدین بہا امداد کُن
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-bahauddin-shattari-junaidi
scholars.pk
Hazrat Sheikh Bahauddin Shattari Junaidi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
10-12-1444 ᴴ | 29-06-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
11-12-1444 ᴴ | 30-06-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
11-12-1444 ᴴ | 30-06-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
11-12-1444 ᴴ | 30-06-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1