استاذ العلماء حضرت علامہ مولانا کریم بخش نقشبندی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
استاد العلماء مولانا کریم بخش بن اللہ ڈنہ بن کریم ڈنہ دایو گوٹھ جروار نزد ریلوے اسٹیشن بھر گڑی تحصیل شہداد کوٹ ضلع لاڑکانہ میں تولد ہوئے ۔
تعلیم و تربیت:
ابتداء تعلیم گوٹھ چانڈ کا نزد لاڑکانہ میں حاصل کی۔ بعد ازاں گوٹھ صدر جی بھٹیون ( ضلع خیر پور میرس ) کے مشہور عالم و بزرگ مولانا محمد موسیٰ کلہوڑو سے تعلیم حاصل کی ۔ (مولانا محمد موسیٰ کا مزار اسی گوٹھ میں واقع ہے) اعلیٰ تعلیم گوٹ آگانی ( ضلع لاڑکانہ ) کے مدرسہ نعیمیہ می رئیس العلماء مولانا مفتی محمد صالح نعیمی بھٹو سے حاصل کر کے فارغ التحصیل ہوئے ۔ مولانا اللہ ڈنہ سھتو سعید پوری ( ضلع خیر پور ) اور حضرت علامہ مفتی اللہ ڈنہ جمارانی مدظلہ ، آگانی میں آپ کے ہم سبق تھے۔
بیعت:
آپ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں حضرت پیر عبدالرحمن فضلی (مدیئجی ضلع شکار پور) سے دست بیعت ہوئے ۔
شادی و اولاد:
آپ ، مفتی محمد صالح نعیمی بھٹو ( فاضل جامعہ نعیمیہ مراد آباد ، انڈیا) کے منظور نظر شاگرد تھے۔ مالی پوزیشن نہایت کمزور تھی ۔ فارغ التحصیل ہونے کے بعد استاد محترم مفتی محمد صالح نے آپ کی شادی کرائی اور شادی کے تمام اخراجات خود برداشت کئے ۔ آپ کو دو بیٹیا ں چار بیٹے تولد ہوئے ، ان کے اسماء درج ذیل ہیں:
۱۔ محمد اعظم دایو واپڈا سکھر
۲۔ محمد قاسم مینجر نیشنل بینک گمبٹ ضلع خیر پور میرس
۳۔ حافظ محمد ہاشم
۴۔ محمد رفیق واپڈا
درس و تدریس:
بعد فراغت سعید پور ضلع خیر پور سے تدریس کا آغاز کیا۔ اس کے بعد حضرت مولانا محمد صالح مہر مہتمم جامعہ راشدیہ نے جامعہ راشدیہ درگاہ شریف راشدیہ پیر جو گوٹھ میں آپ کو مدرس مقرر کیا۔ آپ نحو اور کتب فقہ کی تدریس کے فرائض انجام دینے لگے اور برابر مستقل مزاجی سے ۳۵ سال کا طویل عرسہ جامعہ میں تددیس سے وابستہ رہے۔ متعلقہ موضوع پر کامل دسترس رکھتے تھے۔ دوران درس ایسی بے مثال آسان تقریر فرماتے کہ دوبارہ معلوم کرنے کی طلباء کو ضرورت محسوس نہیں ہوتی تھی۔
تلامذہ:
جامعہ راشدیہ جیسی عظیم درسگاہ میں ۳۵سال کے عرصہ طویل میں بے شمار طلباء نے آپ سے استفادہ کیا۔ بعض کے اسماء گرامی درج ذیل ہیں:
٭ مولانا علامہ عبد اللطیف سکندری خطیب جامع مسجد درگاہ جئے شاہ جیلانی سکھر
٭ مولانا مفتی عبد الرحیم سکندری شاہ پور چاکر
٭ مولانا علامہ محمد قاسم مصطفائی میر پور ماتھیلو
٭ مولانا مفتی غلام قادر سکندری کراچی
٭ مولانا حافظ کریم ڈنہ سکندری تحصیل گمبٹ
٭ مفتی محمد رحیم سکندری پیر جو گوٹھ
٭ مولانا عبد الرزاق سکندری شہداد پور
٭ مفتی عبدالکریم سکندری صوبائی خطیب محکمہ اوقاف سندھ
٭ مولانا عبد الکریم سکندری جھڈہ
٭ مولانامیر محمد قاسمی کراچی
وصال:
مولانا علامہ کریم بخش دایو نے ۲۶، جولائی ۱۹۸۸ء ؍ ذوالحجہ ۱۴۰۸کو انتقال کیا۔ مفتی محمد رحیم نے نماز جنازہ کی امامت کے فرائض انجام دیئے اور پیر جو گوٹھ ( ضلع خیر پور میرس ) کی مقدس کی مقدس سر زمین کے قدیم قبرستان میں علامہ تقدس علی خان رضوی کے پہلو میں مدفون ہیں ۔
[ذاتی معلومات کے علاوہ اکثر معلومات مولانا مرحوم کے شاگرد رشید مولانا عبداللطیف سکندری قادری پرانہ سکھر نے فراہم کی ، فقیر سراپا معصیت مشکور و ممنون ہے]
( انوارِ علماءِ اہلسنت )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-molana-karim-bakhsh-naqshbandi
استاد العلماء مولانا کریم بخش بن اللہ ڈنہ بن کریم ڈنہ دایو گوٹھ جروار نزد ریلوے اسٹیشن بھر گڑی تحصیل شہداد کوٹ ضلع لاڑکانہ میں تولد ہوئے ۔
تعلیم و تربیت:
ابتداء تعلیم گوٹھ چانڈ کا نزد لاڑکانہ میں حاصل کی۔ بعد ازاں گوٹھ صدر جی بھٹیون ( ضلع خیر پور میرس ) کے مشہور عالم و بزرگ مولانا محمد موسیٰ کلہوڑو سے تعلیم حاصل کی ۔ (مولانا محمد موسیٰ کا مزار اسی گوٹھ میں واقع ہے) اعلیٰ تعلیم گوٹ آگانی ( ضلع لاڑکانہ ) کے مدرسہ نعیمیہ می رئیس العلماء مولانا مفتی محمد صالح نعیمی بھٹو سے حاصل کر کے فارغ التحصیل ہوئے ۔ مولانا اللہ ڈنہ سھتو سعید پوری ( ضلع خیر پور ) اور حضرت علامہ مفتی اللہ ڈنہ جمارانی مدظلہ ، آگانی میں آپ کے ہم سبق تھے۔
بیعت:
آپ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں حضرت پیر عبدالرحمن فضلی (مدیئجی ضلع شکار پور) سے دست بیعت ہوئے ۔
شادی و اولاد:
آپ ، مفتی محمد صالح نعیمی بھٹو ( فاضل جامعہ نعیمیہ مراد آباد ، انڈیا) کے منظور نظر شاگرد تھے۔ مالی پوزیشن نہایت کمزور تھی ۔ فارغ التحصیل ہونے کے بعد استاد محترم مفتی محمد صالح نے آپ کی شادی کرائی اور شادی کے تمام اخراجات خود برداشت کئے ۔ آپ کو دو بیٹیا ں چار بیٹے تولد ہوئے ، ان کے اسماء درج ذیل ہیں:
۱۔ محمد اعظم دایو واپڈا سکھر
۲۔ محمد قاسم مینجر نیشنل بینک گمبٹ ضلع خیر پور میرس
۳۔ حافظ محمد ہاشم
۴۔ محمد رفیق واپڈا
درس و تدریس:
بعد فراغت سعید پور ضلع خیر پور سے تدریس کا آغاز کیا۔ اس کے بعد حضرت مولانا محمد صالح مہر مہتمم جامعہ راشدیہ نے جامعہ راشدیہ درگاہ شریف راشدیہ پیر جو گوٹھ میں آپ کو مدرس مقرر کیا۔ آپ نحو اور کتب فقہ کی تدریس کے فرائض انجام دینے لگے اور برابر مستقل مزاجی سے ۳۵ سال کا طویل عرسہ جامعہ میں تددیس سے وابستہ رہے۔ متعلقہ موضوع پر کامل دسترس رکھتے تھے۔ دوران درس ایسی بے مثال آسان تقریر فرماتے کہ دوبارہ معلوم کرنے کی طلباء کو ضرورت محسوس نہیں ہوتی تھی۔
تلامذہ:
جامعہ راشدیہ جیسی عظیم درسگاہ میں ۳۵سال کے عرصہ طویل میں بے شمار طلباء نے آپ سے استفادہ کیا۔ بعض کے اسماء گرامی درج ذیل ہیں:
٭ مولانا علامہ عبد اللطیف سکندری خطیب جامع مسجد درگاہ جئے شاہ جیلانی سکھر
٭ مولانا مفتی عبد الرحیم سکندری شاہ پور چاکر
٭ مولانا علامہ محمد قاسم مصطفائی میر پور ماتھیلو
٭ مولانا مفتی غلام قادر سکندری کراچی
٭ مولانا حافظ کریم ڈنہ سکندری تحصیل گمبٹ
٭ مفتی محمد رحیم سکندری پیر جو گوٹھ
٭ مولانا عبد الرزاق سکندری شہداد پور
٭ مفتی عبدالکریم سکندری صوبائی خطیب محکمہ اوقاف سندھ
٭ مولانا عبد الکریم سکندری جھڈہ
٭ مولانامیر محمد قاسمی کراچی
وصال:
مولانا علامہ کریم بخش دایو نے ۲۶، جولائی ۱۹۸۸ء ؍ ذوالحجہ ۱۴۰۸کو انتقال کیا۔ مفتی محمد رحیم نے نماز جنازہ کی امامت کے فرائض انجام دیئے اور پیر جو گوٹھ ( ضلع خیر پور میرس ) کی مقدس کی مقدس سر زمین کے قدیم قبرستان میں علامہ تقدس علی خان رضوی کے پہلو میں مدفون ہیں ۔
[ذاتی معلومات کے علاوہ اکثر معلومات مولانا مرحوم کے شاگرد رشید مولانا عبداللطیف سکندری قادری پرانہ سکھر نے فراہم کی ، فقیر سراپا معصیت مشکور و ممنون ہے]
( انوارِ علماءِ اہلسنت )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-molana-karim-bakhsh-naqshbandi
scholars.pk
Molana Karim Bakhsh Naqshbandi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
This Web Page have good information about Islam and contains brief introduction of a great Islamic Celaebrity / Personality (Religious Scholar).
❤1
حضرت شیخ بہاء الدین شطاری
نام و نسب:
اسمِ گرامی: حضرت شیخ بہاء الدین ـ لقب: شطاری، جنیدی ۔
سلسلۂِ نسب اس طرح ہے:
حضرت شیخ بہاء الدین شطاری قادری جنیدی بن شیخ ابراہیم بن شیخ عطاء اللہ انصاری۔
آپ کا تعلق قصبہ ’’جنید‘‘ سے تھا۔جو مضافاتِ سرہند میں واقع ہے۔اسی کی نسبت سےآپ ’’جنیدی‘‘ کہلاتے ہیں۔
تاریخِ ولادت:
کُتبِ سیّر آپ کی تاریخِ ولادت کےبارے میں خاموش ہیں ۔ تقریباً آپ کی ولادت باسعادت نویں صدی ہجری کے وسط میں ہوئی ہوگی۔ آپ کی جائےولادت قصبہ جنید مضافاتِ سرہند (ہند) ہے۔
تحصیلِ علم:
آپ نے اپنے علاقے میں ہی محنت و شوق سےمکمل علوم ِ دینیہ کی تحصیل و تکمیل فرمائی ۔ آپ کو علوم ِ عربیہ، فقہ اور اصولِ فقہ میں مہارتِ تامہ حاصل تھی۔آپ کا علمی مقام بہت بلند تھا۔آپ کی ذات مرجعِ علماءو فقراء تھی۔آپ صاحبِ تصانیف بزرگ تھے۔’’رسالۂِ شطاریہ‘‘ آپ کی مشہور تصنیف ہے۔جس کا ذکر حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی نے اپنی کتاب ’’اخبارالاخیار‘‘ میں فرمایا ہے۔
بیعت و خلافت:
آپ سلسلہ عالیہ قادریہ میں نبیرۂ غوث الاعظم، حضرت سید شیخ احمد جیلانی کےدستِ حق پرست پر بیعت ہوئے۔آپکے شیخِ طریقت نے خاص حرم شریف میں آپ کو بیعت کیا اور جملہ اورادووظائف کی اجازات دے کر خلافت سے بھی نوازا۔ سلسلہ قادریہ سےجوآپ کونسبت حاصل تھی،آپ اس پر فخر کرتےتھے۔
سیرت و خصائص:
قدوۃ السالکین، نور العارفین، منہاج العابدین فی الہند، رہبرِ علوم سنت، مظہرِ مذہبِ اہل سنت،حامی السنۃ والدین حضرت شیخ بہاء الدین ۔آپ صاحبِ کمالات و کرامات تھے۔سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ کے پچیسویں امام اور شیخِ طریقت ہیں۔اسی طرح آپ ہندوستان میں سلسلۂِ عالیہ قادریہ رضویہ کے پہلے بزرگ ہیں- اسی لیے آپ کو ’’امام سلسلۂِقادریہ فی الہند‘‘کے مبارک خطاب سے یاد کیا جاتا ہے۔آپ سلطان غیاث الدین بن محمد خلجی کےعہد میں بمقام مندو میں تشریف لائے،آپ کی ذات ِ اقدس سے سلسلۂِ عالیہ قادریہ کو ہندوستان میں عروج ملا۔ مخلوقِ خدا جوق درجوق آپ کےحلقۂِدرس میں شامل ہوئی،اور آپ کے فیضِ صحبت سےبےشمار خلق سلسلۂِ ارادت میں شامل برصغیر پاک و ہند کےکونے کونے میں پہنچ گئے۔یہی وجہ ہے کہ آج اس خطے میں سلسلۂِ عالیہ قادریہ سے لاکھوں لوگ وابستہ ہیں۔ہر شہر میں سلسلۂِ قادریہ کی خانقاہیں موجود ہیں۔آپ صاحب ولایت ، جامع شریعت و طریقت تھے۔عبادت و ریاضت میں یگانہ اور راہ سلوک میں مرشد زمانہ تھے، ساتھ ساتھ صاحب تصنیف بھی تھے۔ آپ کی مبارک تصنیف رسالہ فی الاوراد والاشغال المعروف بہ’’ رسالۂِ شطاریہ‘‘ صوفیاء اور ارباب طریقت کے درمیان مشہور و مقبول رہا ہے۔یہ رسالہ آپ نے اپنے مرید خاص اور احب الخلفا ءحضرت سیدشاہ ابراہیم ایرجی کے لیے تحریر فرمایاتھا۔یہ رسالہ علوم و معرفت کاخزینہ ہے۔
تعلیماتِ مبارکہ:
حضرت شیخ بہاء الدین اپنے رسالۂ شطاریہ میں تحریر فرماتے ہیں:کہ خدا وند قدوس تک رسائی کے طریقے مخلوق کے انفاس کے برابر ہیں یعنی بہت ہیں۔ ان سارے طریقوں میں تین طریقے زیادہ مشہور و معروف ہیں۔پہلا طریقہ : اخیار کاہے اور وہ نماز، روزہ، تلاوتِ قرآن مجید، حج اور جہاد ہے۔ اس طریقے پر چلنے والے طویل سفر طے کرنے کے باوجود بہت کم ہی منزلِ مقصود تک پہنچتے ہیں۔دوسرا طریقہ: اس میں اخلاقِ ذمیمہ کی تبدیلی، تزکیۂ نفس، تصفیہ دل اور جلائے روح کے لیے مجاہدات و ریاضت کیے جاتے ہیں۔اس راستے سے منزل مقصود تک پہنچنے والوں کی تعداد پہلے طریقہ کی بنسبت زیادہ ہے۔تیسرا طریقہ: شطاریہ ہے۔ اس طریقہ پر چلنے والے ابتدا ہی میں ان منازل سے آگے نکل جاتے ہیں جن پر دوسرے طریقوں کی بنسبت زیادہ عمدہ اور تقرب الی اللہ کے اعتبار سے زیادہ قریب ہے۔طریقۂِ شطاریہ کے دس اصول ہیں: 1توبہ:اللہ کے علاوہ ہر شے سے خروج کا نام توبہ ہے۔2زہد:زہد نام ہے دنیا، اس کی محبت اس کے سامان اور اس کی خواہشات کو ترک کرنے کا۔3 توکل: توکل اسباب ِدنیا سے کنارہ کشی کو کہتے ہیں۔4قناعت: خواہشات ِنفسانیہ کے ترک کو قناعت کہتے ہیں۔5عزلت: خلق سے میل جول کے ترک کو کہتے ہیں۔
توجہ الی الحق:
یہ ہر اس چیز کے چھوڑنے کا نام ہے جو غیرِ حق کی طرف داعی ہو۔یہ وہ منزل ہے جہاں خداوند قدوس کے علاوہ کوئی مطلوب، محبوب اور مقصود باقی نہیں رہتا۔7صبر: یہ انسان کا مجاہدہ کے ذریعے لذتوں کو چھوڑنا ہے۔8رضا: اللہ کی رضا میں داخل ہو کر نفس کی رضا سے نکلنے کا نام ہے۔ اس طرح کہ احکام ازلیہ کو تسلیم کرے اور خود کو بغیر کسی اعراض کے مصلحت خدا وندی کے حوالے کر دے۔9ذکر : یہ اللہ تعالیٰ کے ذکر کے علاوہ تمام مخلوق کے ذکر کا ترک ہے۔10مراقبہ: یہ اپنے وجود اور قوت سے نکلنے کا نام ہے۔
نام و نسب:
اسمِ گرامی: حضرت شیخ بہاء الدین ـ لقب: شطاری، جنیدی ۔
سلسلۂِ نسب اس طرح ہے:
حضرت شیخ بہاء الدین شطاری قادری جنیدی بن شیخ ابراہیم بن شیخ عطاء اللہ انصاری۔
آپ کا تعلق قصبہ ’’جنید‘‘ سے تھا۔جو مضافاتِ سرہند میں واقع ہے۔اسی کی نسبت سےآپ ’’جنیدی‘‘ کہلاتے ہیں۔
تاریخِ ولادت:
کُتبِ سیّر آپ کی تاریخِ ولادت کےبارے میں خاموش ہیں ۔ تقریباً آپ کی ولادت باسعادت نویں صدی ہجری کے وسط میں ہوئی ہوگی۔ آپ کی جائےولادت قصبہ جنید مضافاتِ سرہند (ہند) ہے۔
تحصیلِ علم:
آپ نے اپنے علاقے میں ہی محنت و شوق سےمکمل علوم ِ دینیہ کی تحصیل و تکمیل فرمائی ۔ آپ کو علوم ِ عربیہ، فقہ اور اصولِ فقہ میں مہارتِ تامہ حاصل تھی۔آپ کا علمی مقام بہت بلند تھا۔آپ کی ذات مرجعِ علماءو فقراء تھی۔آپ صاحبِ تصانیف بزرگ تھے۔’’رسالۂِ شطاریہ‘‘ آپ کی مشہور تصنیف ہے۔جس کا ذکر حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی نے اپنی کتاب ’’اخبارالاخیار‘‘ میں فرمایا ہے۔
بیعت و خلافت:
آپ سلسلہ عالیہ قادریہ میں نبیرۂ غوث الاعظم، حضرت سید شیخ احمد جیلانی کےدستِ حق پرست پر بیعت ہوئے۔آپکے شیخِ طریقت نے خاص حرم شریف میں آپ کو بیعت کیا اور جملہ اورادووظائف کی اجازات دے کر خلافت سے بھی نوازا۔ سلسلہ قادریہ سےجوآپ کونسبت حاصل تھی،آپ اس پر فخر کرتےتھے۔
سیرت و خصائص:
قدوۃ السالکین، نور العارفین، منہاج العابدین فی الہند، رہبرِ علوم سنت، مظہرِ مذہبِ اہل سنت،حامی السنۃ والدین حضرت شیخ بہاء الدین ۔آپ صاحبِ کمالات و کرامات تھے۔سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ کے پچیسویں امام اور شیخِ طریقت ہیں۔اسی طرح آپ ہندوستان میں سلسلۂِ عالیہ قادریہ رضویہ کے پہلے بزرگ ہیں- اسی لیے آپ کو ’’امام سلسلۂِقادریہ فی الہند‘‘کے مبارک خطاب سے یاد کیا جاتا ہے۔آپ سلطان غیاث الدین بن محمد خلجی کےعہد میں بمقام مندو میں تشریف لائے،آپ کی ذات ِ اقدس سے سلسلۂِ عالیہ قادریہ کو ہندوستان میں عروج ملا۔ مخلوقِ خدا جوق درجوق آپ کےحلقۂِدرس میں شامل ہوئی،اور آپ کے فیضِ صحبت سےبےشمار خلق سلسلۂِ ارادت میں شامل برصغیر پاک و ہند کےکونے کونے میں پہنچ گئے۔یہی وجہ ہے کہ آج اس خطے میں سلسلۂِ عالیہ قادریہ سے لاکھوں لوگ وابستہ ہیں۔ہر شہر میں سلسلۂِ قادریہ کی خانقاہیں موجود ہیں۔آپ صاحب ولایت ، جامع شریعت و طریقت تھے۔عبادت و ریاضت میں یگانہ اور راہ سلوک میں مرشد زمانہ تھے، ساتھ ساتھ صاحب تصنیف بھی تھے۔ آپ کی مبارک تصنیف رسالہ فی الاوراد والاشغال المعروف بہ’’ رسالۂِ شطاریہ‘‘ صوفیاء اور ارباب طریقت کے درمیان مشہور و مقبول رہا ہے۔یہ رسالہ آپ نے اپنے مرید خاص اور احب الخلفا ءحضرت سیدشاہ ابراہیم ایرجی کے لیے تحریر فرمایاتھا۔یہ رسالہ علوم و معرفت کاخزینہ ہے۔
تعلیماتِ مبارکہ:
حضرت شیخ بہاء الدین اپنے رسالۂ شطاریہ میں تحریر فرماتے ہیں:کہ خدا وند قدوس تک رسائی کے طریقے مخلوق کے انفاس کے برابر ہیں یعنی بہت ہیں۔ ان سارے طریقوں میں تین طریقے زیادہ مشہور و معروف ہیں۔پہلا طریقہ : اخیار کاہے اور وہ نماز، روزہ، تلاوتِ قرآن مجید، حج اور جہاد ہے۔ اس طریقے پر چلنے والے طویل سفر طے کرنے کے باوجود بہت کم ہی منزلِ مقصود تک پہنچتے ہیں۔دوسرا طریقہ: اس میں اخلاقِ ذمیمہ کی تبدیلی، تزکیۂ نفس، تصفیہ دل اور جلائے روح کے لیے مجاہدات و ریاضت کیے جاتے ہیں۔اس راستے سے منزل مقصود تک پہنچنے والوں کی تعداد پہلے طریقہ کی بنسبت زیادہ ہے۔تیسرا طریقہ: شطاریہ ہے۔ اس طریقہ پر چلنے والے ابتدا ہی میں ان منازل سے آگے نکل جاتے ہیں جن پر دوسرے طریقوں کی بنسبت زیادہ عمدہ اور تقرب الی اللہ کے اعتبار سے زیادہ قریب ہے۔طریقۂِ شطاریہ کے دس اصول ہیں: 1توبہ:اللہ کے علاوہ ہر شے سے خروج کا نام توبہ ہے۔2زہد:زہد نام ہے دنیا، اس کی محبت اس کے سامان اور اس کی خواہشات کو ترک کرنے کا۔3 توکل: توکل اسباب ِدنیا سے کنارہ کشی کو کہتے ہیں۔4قناعت: خواہشات ِنفسانیہ کے ترک کو قناعت کہتے ہیں۔5عزلت: خلق سے میل جول کے ترک کو کہتے ہیں۔
توجہ الی الحق:
یہ ہر اس چیز کے چھوڑنے کا نام ہے جو غیرِ حق کی طرف داعی ہو۔یہ وہ منزل ہے جہاں خداوند قدوس کے علاوہ کوئی مطلوب، محبوب اور مقصود باقی نہیں رہتا۔7صبر: یہ انسان کا مجاہدہ کے ذریعے لذتوں کو چھوڑنا ہے۔8رضا: اللہ کی رضا میں داخل ہو کر نفس کی رضا سے نکلنے کا نام ہے۔ اس طرح کہ احکام ازلیہ کو تسلیم کرے اور خود کو بغیر کسی اعراض کے مصلحت خدا وندی کے حوالے کر دے۔9ذکر : یہ اللہ تعالیٰ کے ذکر کے علاوہ تمام مخلوق کے ذکر کا ترک ہے۔10مراقبہ: یہ اپنے وجود اور قوت سے نکلنے کا نام ہے۔
❤1
مراقبہ کے متعلق شیخ فرماتے ہیں: کہ قرآن کریم کی وہ تمام آیات و کلمات جن سے توحید کا مفہوم سمجھا جاتا ہے یہ سب اسمائے مراقبہ ہیں، یعنی جب مراقبہ کرنے کااِرادہ ہوتو ان آیات و کلمات کو پڑھاجائے اور وہ کلمات یہ ہیں۔ وھو معکم اینما کنتم، اینما تولو فثم وجہ اللہ، الم یعلم بان اللہ یری، نحن اقرب الیہ من حبل الورید، ان اللہ بکلّ شی محیط، وفی انفسکم افلا تبصرون، ان معی ربی سیھدین، اسی طرح اللہ حاضری اللہ ناظری اللہ شاھدی اللہ معی اور ذات باری کا مراقبہ یاحیی یاقیوم کا مراقبہ انیس کا مراقبہ، تمام اسمائے حسنیٰ کا مراقبہ، قرآن کریم کی تلاوت کا مراقبہ، اپنے فنا ہوجانے کا مراقبہ، مراقبہ کے یہ چندرموز تحریر کردیے گئے تا کہ ان میں سے کسی کو پسند کرکے مراقبہ شروع کردیں اور فائدہ حاصل کریں۔ اور مراقبہ دراصل نام ہے اپنی ہستی اور تمام کائنات کو مٹادینے اور اللہ کی ذات کو تمام احوال میں ثابت رکھنے کا اور بس، پس ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ جہاں کہیں بھی (بشرطیکہ کوئی شرعی مانع نہ ہو) وہ اللہ کا ذکر کرے اور اس کے ذریعہ اپنے دل کی پاکیزگی حاصل کرے۔
مراقبہ کی وجہ تسمیہ:
یہ ہے کہ مراقبہ کا اصل مادہ ہے رقیب، جس کے معنی محافظ اور نگرانی کرنے والے کے ہیں، یعنی جب تک مرید مراقبہ میں مشغول ہے تو وہ خواہشات نفسانیہ، شیطانی وساوس اور جسمانی شواغل خواطر قلبیہ خناسیہ سے محفوظ ہوکر اللہ کی جانب متوجہ ہوتاہے۔ اسی لیے مشہور ہے کہ فکر افضل ہے ذکرسے، اس لیے کہ فکر تو ایک باطنی شغل ہے جس کی کسی کو خبر نہیں، یعنی مراقبہ اس کو کہتے ہیں کہ دل کی نگہبانی کرکے اللہﷻ کی جانب متوجہ کرنا اور جو چیز خدا کے ماسوٰی ہے اس کو دل میں جگہ نہ دینا، سو ایسے آدمی کو صوفیا کی اصطلاح میں اہل دل کہتے ہیں۔(تذکرہ مشائخِ قادریہ رضویہ: 282)
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 11؍ ذوالحج 921ھ، مطابق وسط ماہِ جنوری 1516ءکوہوا۔آپ کامزار پرانور دولت آباد دکن (ہند) میں مرجعِ خلائق ہے۔سببِ وصال: آپ کوعمدہ خوشبو سونگھتے ہی ایسا ذوق و حال طاری ہوتا کہ جاں بلب ہوجاتے تھے، چنانچہ ظاہری سبب آپ کےوصال کا یہی ہوا۔ جس زمانے میں آپ بہت کمزور و ضعیف ہوگئے تھے۔ایک شخص آپ کی خدمت میں نہایت ہی عمدہ اوراعلیٰ قسم کی خوشبولایا،تو اسی خوشبو کےاثر سے آپ کی روح قفس عنصری سےپرواز کرگئی۔
شجرہ شریف میں اس طرح ذکر ہے:
طورِ عرفان و علو و حمد و حُسنٰی و بَہا
دے علیؔ موسیٰؔ حسن ؔاحمدؔ بہاؔ کےواسطے
اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں:
منتقیِ جوہر زجیلاں سید احمد الاماں
بے بہا گوہر بہاء الدین بہا امداد کُن
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-bahauddin-shattari-junaidi
مراقبہ کی وجہ تسمیہ:
یہ ہے کہ مراقبہ کا اصل مادہ ہے رقیب، جس کے معنی محافظ اور نگرانی کرنے والے کے ہیں، یعنی جب تک مرید مراقبہ میں مشغول ہے تو وہ خواہشات نفسانیہ، شیطانی وساوس اور جسمانی شواغل خواطر قلبیہ خناسیہ سے محفوظ ہوکر اللہ کی جانب متوجہ ہوتاہے۔ اسی لیے مشہور ہے کہ فکر افضل ہے ذکرسے، اس لیے کہ فکر تو ایک باطنی شغل ہے جس کی کسی کو خبر نہیں، یعنی مراقبہ اس کو کہتے ہیں کہ دل کی نگہبانی کرکے اللہﷻ کی جانب متوجہ کرنا اور جو چیز خدا کے ماسوٰی ہے اس کو دل میں جگہ نہ دینا، سو ایسے آدمی کو صوفیا کی اصطلاح میں اہل دل کہتے ہیں۔(تذکرہ مشائخِ قادریہ رضویہ: 282)
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 11؍ ذوالحج 921ھ، مطابق وسط ماہِ جنوری 1516ءکوہوا۔آپ کامزار پرانور دولت آباد دکن (ہند) میں مرجعِ خلائق ہے۔سببِ وصال: آپ کوعمدہ خوشبو سونگھتے ہی ایسا ذوق و حال طاری ہوتا کہ جاں بلب ہوجاتے تھے، چنانچہ ظاہری سبب آپ کےوصال کا یہی ہوا۔ جس زمانے میں آپ بہت کمزور و ضعیف ہوگئے تھے۔ایک شخص آپ کی خدمت میں نہایت ہی عمدہ اوراعلیٰ قسم کی خوشبولایا،تو اسی خوشبو کےاثر سے آپ کی روح قفس عنصری سےپرواز کرگئی۔
شجرہ شریف میں اس طرح ذکر ہے:
طورِ عرفان و علو و حمد و حُسنٰی و بَہا
دے علیؔ موسیٰؔ حسن ؔاحمدؔ بہاؔ کےواسطے
اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں:
منتقیِ جوہر زجیلاں سید احمد الاماں
بے بہا گوہر بہاء الدین بہا امداد کُن
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-bahauddin-shattari-junaidi
scholars.pk
Hazrat Sheikh Bahauddin Shattari Junaidi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
10-12-1444 ᴴ | 29-06-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
11-12-1444 ᴴ | 30-06-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
11-12-1444 ᴴ | 30-06-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
11-12-1444 ᴴ | 30-06-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1