🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.82K subscribers
69.7K photos
228 videos
257 files
8.85K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت استاذ العلماء حضرت مولانا ابو الضیاء محمد باقر ضیاء النوری بصیر پور علیہ الرحمۃ

ماہرِ تدریس و تحریر ابوالضیاء مولانا محمد باقر نوری ولد مولانا محمد سلطان ۱۰؍ ذوالحجہ ۱۳۴۳ھ / ۲ ؍ جولائی ۱۹۲۵ء بروز جمعۃ المبارک بوقت عصر بستی منگا بھڈال تحصیل دیپالپور ضلع ساہیوال میں پیدا ہوئے۔ خاندان کے اکثر افراد علومِ اسلامیہ سے بہرہ ور رہے۔ آپ نے نانا مولانا احمد دین، ماموں مولانا ابوالنور محمد صدیق رحمہما اللہ اپنے علاقے میں علم و حکمت کے سرچشمہ تھے۔

تعلیم و تربیت:

حضرت مولانا محمد باقر نوری نے ابتدائی کُتب اپنے والد مولانا محمد سلیمان سے پڑھیں۔ فارسی کی بعض کتب اپنے نانا اور کچھ اپنے ماموں سے پڑھیں۔ فلسفہ و منطق کی آخری کتب کا درس دار العلوم حنفیہ فریدیہ، فرید پور جاگیر ضلع ساہیوال میں مولانا چراغ دین سے لیا۔ باقی تمام فنون، فقہ، تفسیر، اصولِ تفسیر وغیرہ اپنے ماموں زاد بھائی فقیہ اعظم حضرت مولانا مفتی ابوالخیر محمد نور اللہ نعیمی سے فرید پور ہی میں پڑھے اور دورۂ حدیث بھی یہیں شروع کیا۔

اسی اثناء میں جب دار العلوم حنفیہ فریدیہ فرید پور سے بصیر پور منتقل ہوگیا، تو آپ نے درسِ حدیث کی تکمیل پر ۱۹۴۵ء میں دستارِ فضیلت اور سندِ فراغت دار العلوم حنفیہ فریدیہ بصیر پور سے حاصل کی۔

علمِ طب اپنے والد ماجد اور حکیم چراغ دین (کنداہیر سنگھ) سے حاصل کر کے امتحان کے بعد یُونانی طبی بورڈ سے سندِ طب حاصل کی۔ اُردو، پنجابی، فارسی اور عربی میں شعر کہہ لیتے ہیں۔ شاعری میں آپ کا تخلص ضیاء ہے۔

دینی و ملّی خدمات:

فراغت سے لے کر اب تک دارالعلوم حنفیہ فریدیہ بصیر پور میں صدر مدرس کی حیثیت سے علومِ اسلامیہ عربیہ کا فیضان جاری کیے ہوئے ہیں۔ بے شمار علماء علمی استفادہ کے بعد ملک کے اطراف و اکناف میں تبلیغ و اشاعت دین کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔

تدریس کے علاوہ تقریباً بارہ سال سے جامع مسجد شاہ مقیم رحمہ اللہ (حجرہ شاہ مقیم) میں خطبہ جمعہ دیتے ہیں۔ اس سے قبل چودہ سال غلّہ منڈی بصیری پور میں خطابت کے فرائض سر انجام دیتے رہے۔

مولانا محمد باقر ضیاء نوری نے تحریکِ ختم نبوّت میں بھر پور حصہ لیا۔ جمعہ کے خطبات کے علاوہ دیگر مواقع پر بھی حقیقتِ ختم نبوّت اور تحریک کے مقاصد و افادیت سے عوام کو روشناس کراتے رہے۔

۱۹۵۲ء کی تحریکِ ختمِ نبوّت پر بصیر پور سے گرفتار بھی ہوئے اور کئی ماہ تک ساہیوال جیل میں بند رہے، کئی سال تک انجمن حزب الرحمٰن کے صدرِ اعلیٰ رہے۔

تحریرات:

خطابت و تدریس کی مصروفیات کے باوجود آپ نے مندرجہ ذیل کتب بھی تصنیف فرمائیں:

۱۔ صرف ضیائی۔

۲۔ تنویر المقال شرح رسالہ فی الزوال۔

۳۔ القول علی القول (نماز میں لاؤڈ سپیکر کے جواز میں)۔

۴۔ میلاد شریف۔

۵۔ عورت کی امارت اور مودودی کا چیلنج۔

۶۔ العلم (علم و علماء کے فضائل کے بارے میں)۔

۷۔ سوشلزم کیا ہے؟

۸۔ پاک جنگ (۱۹۶۵ء) میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے کار نامے۔

۹۔ قدرت کا کرشمہ (مختلف اشیاء پر نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے اسمِ مبارک کا ظہور۔

۱۰۔ فضائلِ مدینہ شریف۔

۱۱۔ وجودِ باری۔

۱۲۔ فتاویٰ ضیائی (غیر مطبوعہ)

بیعت و حج:

۱۹۴۵ء میں فراغت کے موقعہ پر آپ نے حضرت مولانا مفتی محمد نور اللہ نعیمی سے بیعت کا شرف حاصل کیا۔ ۱۳۹۶ھ / ۱۹۷۶ء میں حج بیت اللہ شریف اور زیارت گنبدِ خضریٰ کی سعادت سے بہرہ ور ہوئے۔

چند مشہور تلامذہ:

مولانا محمد باقر نوری عرصہ تینتیس (۳۳) سال سے فنونِ اسلامیہ کی تدریس میں مصروف ہیں۔ اس دوران دار العلوم حنفیہ فریدیہ بصیر پور سے فارغ ہونے والے جملہ علماء کرام آپ کے شاگرد ہیں، تاہم چند مشہور تلامذہ یہ ہیں:

۱۔ مولانا محمد شریف نوری رحمہ اللہ۔

۲۔ ابو النصر مولانا سیّد منظور شاہ، ساہیوال۔

۳۔ مولانا محمد منشا تابش قصوری، مرید کے۔

۴۔ مولانا احمد علی قصوری، لاہور۔

۵۔ مولانا شاہ محمد چشتی قصوری، قصور۔

۶۔ مولانا ابوالفتح شبیّر احمد ہاشمی، بُورے والا۔

۷۔ مولانا ابو الفیض علی محمد نوری، وہاڑی۔

۸۔ مولانا غلام حسین صاحب نوری، ساہیوال۔

۹۔ مولانا صاحبزادہ ابو الفضل محمد نصر اللہ نوری، بصیر پور۔

۱۰۔ مولانا ابو الانعام محمد رمضان نوری، حویلی لکھّا۔

۱۱۔ مولانا منظور احمد شاعر نوری، قصور۔

۱۲۔ مولانا صاحبزادہ محمد محب اللہ، بصیر پور۔

اَولاد:

آپ کے چار صاحبزادے اور پانچ صاحبزادیاں ہیں۔ صاحبزادہ ابوالافضل مولانا محمد اجمل نوری دار العلوم حنفیہ فریدیہ میں مدرس ہیں۔ مولانا محمد احسن بھی علومِ اسلامیہ کے فارغ التحصیل ہیں، جبکہ صاحبزادہ محمد اعظم اور صاحبزادہ محمد اکرم درسِ نظامی کے متعلّم ہیں۔ [۱]

[۱۔ جملہ کوائف مؤرخہ ۱۳؍ اپریل ۱۹۷۸ء کو حضرت مولانا محمد باقر نوری کی جامعہ نظامیہ رضویہ میں آمد پر بالمشافہ حاصل کیے گئے۔ (مرتب)]

( تعارف علماءِ اہلسنت )

https://scholars.pk/ur/scholar/molana-abu-ul-zia-muhammad-baqir-zia-ul-noori
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت شیخ فتح علی موصلی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

صاحب ہمت اور عالی قدر بزرگ تھے ورع و مجاہدہ میں مقتدر تھے اپنی ذات پر اللہ کا خوف اور کیفیت حزن طاری رکھتے تھے۔ ہمیشہ گریاں رہتے۔ مخلوق خدا سے علیحدگی کا یہ عالم تھا کہ اپنے احوال کو چھپانے کے لیے اپنے ہاتھ میں چابیوں کا ایک گچھا لٹکائے رکھتے تاکہ لوگ یہ سمجھیں کہ آپ بہت سے صندوقوں کے مالک ہیں۔ جہاں جاتے چابیاں اپنے سامنے رکھا کرتے تاکہ لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ وہ کیا ہیں ایک دن ایک صاحب دل نے پوچھا کہ ان چابیوں سے کیا کرتے ہو فرمانے لگے جس دن سے میں نے چابیاں اٹھائی ہوئی ہیں۔ چوروں کی چوری سے چھوٹ گیا ہوں۔

حضرت عبداللہ﷫ بیان کرتے ہیں کہ ایک رات حضرت خواجہ سری سقطی﷫ کے گھر سویا ہوا تھا۔ رات کا ایک حصہ گزرا تھا۔ تو حضرت خواجہ پاکیزہ کپڑے پہنے کندھوں پر چادر اوڑھے باہر نکلے۔ میں نے پوچھا۔ اس وقت آپ کہاں جا رہے ہیں، کہنے لگے: حضرت فتح موصلی بیمار ہیں، میں انہیں دیکھنے جا رہا ہوں، رات کو پہرہ دار پولیس نے آپ کو پکڑ لیا، اور رات کو حوالات میں بند کردیا، دوسرے دن حاکم نے حکم دیا کہ تمام حوالاتیوں کو کوڑے مارے جائیں ایک سپاہی نے خواجہ سری سقطی کو کوڑانا مارنا چاہا تو اس کا ہاتھ ہوا میں معلق ہوگیا، اور زور کے باوجود وہاں ہی اکڑ گیا، حاکم نے کہا کوڑا کیوں نہیں مارتے، سپاہی کہنے لگا، میرے سامنے ایک بوڑھا کھڑا ہے وہ مجھے روک رہا ہے، حتی کہ میرا ہاتھ بیکار ہوکر رہ گیا ہے لوگوں نے دیکھا تو فتح موصلی تھے۔ حضرت سری کو آپ کے حوالے کردیا، اور آپ سے معافی کے طلب گار ہوئے۔

ایک دن ایک عارف نے حضرت فتح موصلی سے صدق کے بارے میں دریافت کیا، آپ نے ایک لوہار کی بھڑکتی ہوئی بھٹی میں اپنا ہاتھ رکھا، اور لوہے کا اک آتشین ٹکڑا پکڑ کر باہر لائے، اور ہتھیلی پر رکھ کر فرمایا کہ صدق اس کا نام ہے۔

حضرت شیخ فتح موصلی﷫ عیدالاضحیٰ کے دن ۲۱۹ھ کو فوت ہوئے عیدالاضحیٰ کو لوگ قربانی دے رہے تھے۔ آپ نے آسمان کی طرف منہ کیا اور کہا اے اللہ! تم جانتے ہو، میرے پاس قربانی کے لیے کچھ نہیں ہے، میری جان حاضر ہے، اسے ہی قبول فرمالے۔ انگشت شہادت گلے پر رکھی اور جان، جانِ آفرین کے سپرد کردی۔

ہست تاریخ آن خدا آگاہ
سالِ ترحیل دے عیاں گردو

قطب حق یا محب حقانی ۲۱۹
گر تو سلطانِ اہل دل خوانی ۲۱۹

( خزینۃ الاصفیاء )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-fatah-ali-moosali
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت خواجہ حسن عطار رحمتہ اللہ تعالٰی

آپ خواجہ علاؤالدین عطارؒ کے فرزند ہیں۔آپ کی ولایت کے شجرہ کا ثمرہ جذبہ قویٰ رکھتا تھا۔جذبہ کی صفت سے جس میں چاہتے تھے تصرف کیا کرتے تھے"اور اس کو اس جہان کے حضور اور شعور کے مقام سے بے خودی اور بے شعوری کے مقام تک پہنچادیتے تھے۔بعض اہل سلوک کو جو ذوق غیبت فنا بہت سے مشاہدہ کے بعد بھی اتفاقاً ہوا کرتا ہے چکھا دیا کرتے تھے۔تمام مادراء النہر خراسان کے علاقہ میں آپ کے تصرف کی کیفیت طالبین اور زائیرین میں مشہور تھی۔جو شخص آپ کے ہاتھ پر بوسہ دیتا"وہ گر پڑتا۔اس کو غیبت بے خودی کی دولت حاصل ہو جاتی۔ایسا سنا گیا ہے کہ ایک دن صبح کے وقت آپ گھر سے باہر نکلے۔آپ پر کیفیت غالب ہوئی۔جس شخص کی نگاہ آپ پر پڑتی سب کو بے خودی کی کیفیت ہوتی"اور گر پڑتا۔ایک درویش سفر مبارک کے ارادہ سے ہرات میں پہنچا"اس پر جذبہ غیبت بے خودی حیرت کے آثار ظاہر تھے۔کبھی بازاروں میں گشت لگاتا تو ایسا معلوم ہوتا کہ اس کو باطنی امر نے پکڑرکھا ہے۔لوگوں کی آمد و رفت اور ان کی گفتگو کا اس کو چنداں شعور نہ تھا۔اس سلسلہ کے ایک بزرگ عزیز نےجن کی خدمت میں"میں جایا کرتا تھا۔اس کی بابت پوچھا:

آپ نے فرمایا" کہ اس درویش کا کام اس سے بڑھ کر نہیں کہ ہمیشہ خواجہ حسن کی صورت کا رکھتا ہے"اوراسی کو یاد رکھتا ہے۔اس نگہداشت کی برکت سے ان کے جذبہ کی صفت اس میں اثرکرگئی ہے۔خواجگان کے بریق کے مطابق کبھی شفا خانہ میں آتے اور ان کی بیماری کو اٹھا لیا کرتے ۔جب سفر مبارک کے قصہ سے شیراز میں تشریف لائے تو وہاں کے ایک بڑے عالم (یعنی مولانا جا لال الدین بہبانی) کہ جن کو آپ کی نسبت بہت ہی حسن اخلاص تھابیمار ہوگئے۔خواجہ بزرگ ان کے پاس آئے"وہ عزیز تو تندرست ہوگیا اور خواجہ بیمار پڑگئے۔اسی بیماری میں آپ کا انتقال ہوا۔آپ کا انتقال پیر کی شب عید قربان ۸۲۶ھ میں ہوا ہے۔آپ کی نعش مبارک کو شیراز سے ضعانیاں مین لائے۔جہاں آپ کے والد ماجد کا مزار ہے۔

( نفحاتُ الاُنس )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-hasan-attar
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت علامہ قاضی لعل محمد مٹیاری علیہ الرحمۃ

بحر العلوم علامہ قاضی لعل محمد مٹیاروی

استاد العلماء والفضلاء علامہ قاضی لعل محمد، مٹیاری (ضلع حیدر آباد سندھ) میں ۲۹، شوال ۱۲۷۴ھ میں تولد ہوئے۔

تعلیم و تربیت:
مٹیاری میں تعلیم و تربیت حاصل کی، آپ کی خوشی نصیبی کہئے کہ ان دنوں مٹیاری میں رئیس العلماء حضرت علامہ حسن اللہ صدیقی (پاٹ شریف ) تدریس کے فرائض انجام دیتے تھے، اور آپ نے خوب ان سے استفادہ کیا۔ ( سندھ جا اسلامی درسگاہ ص ۴۱۳ ص۴۰۰)

قاضی صاحب نے میاں عبدالولی مٹیاروی سے بھی تعلیم حاصل کی جو کہ بے نظیر عالم ، عظیم فقیہ ، مخدوم محمد مٹیاروی کے شاگردار شد تھے اور وہ مخدوم عبدالکریم مٹیاروی بن مخدوم محمد عثمان مٹیاروی سے ، مخدوم عبدالکریم اپنے والد محترم سے جو کہ عالم اور فقیہ تھے، فقہ کی جزئیات پر عبور رکھتے تھے اور اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔ وہ نصر پور کے مشہور عالم ، محدث ، فقیہ صوفی نور محمد نصر پوری کے اور وہ امام اہل سنت مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی کے ہونہار شاگرد تھے۔ ( ایضاص ۲۷۱ص ۳۱۰)

درس و تدریس:
اپنے وقت کے عظیم عالم، فاضل جلیل ، محقق مفتی حضرت حاجی حافظ لعل محمد مٹیاروی یوں تو اپنے زمانہ کے بہت بڑے عالم تھے اور تمام علوم میں مہارت رکھتے تھے لیکن علم فقہ اور علم فرائض میں آپ کو خصوصی شہرت اور مہارت حاصل تھی ۔ بڑے بڑے علماء آپکی خدمت میں حاضر ہو کر علم فرائض کی تعلیم حاصل کیا کرتے تھے۔ اس علم کا آپ کے پاس پڑھنا سند کمال اور سبب فخر شمار کیا جاتاتھا۔

حضرت خواجہ عبدالرحمن مجددی جب سندھ تشریف لائے اور ٹکھڑ میں قیام پذیر ہوئے توآپ نے اپنے صاحبزاد گان خصوصا حضرت شیخ الاسلام خواجہ محمد حسن جان سر ہندی کی تعلیم کے لئے حضر ت مولانا قاضی لعل محمد کا انتخاب فرمایا اور حضرت مولانا کو ٹکھڑ بلا کر یہاں آپ سے صاحبزادگان کو تعلیم دلوائی۔

حضرت خواجہ محمد حسن جان سر ہندی جب عرب شریف سے اپنی تعلیم مکمل کر کے واپس سندھ لوٹے تو آپ ٹنڈو غلام علی والے میر صاحبان کی استدعا اور گذارش پر ٹنڈو غلام علی کے مدرسہ میں تدریس کے لئے اپنے استاد محترم حضرت قاضی صاحب کا تقرر فرمایا۔ قاضی صاحب کے حسن اخلاق اور طریقہ تعلیم کے باعث وہ دارالعلوم اس مقام اور شہرت کو پہنچا کہ دور دراز سے طلبا ء تحصیل علوم و فنون کیلئے آنے لگے اور خوب اکتساب فیض کر کے اس خطہ کو علم کی روشنی سے منور کرنے لگے یہاں تقریبا بیس سال آپ نے علوم و فنون کے جوہر لٹائے ۔

ٹنڈو غلام علی ( ضلع بدین ) کے دارالعلوم کے سرپرست میر امام بخش خان جب فوت ہو گئے تو وہ مدرسہ تتر بتر ہو گیا ، کوئی نگاہ داشت اور سر پرستی کرنے والا نہ رہا اس کی رونقیں ختم ہونے لگیں تو خواجہ محمد حسن جان سر ہندی نے اپنے استاد محترم کو اپنے صاحبزادگان حضرت آغا عبداللہ جان مجددی وغیرہ کی تعلیم کے لئے ٹنڈو سائینداد ( ضلع حیدر آباد ) بلا لیا۔ جہاں آپ نے دو سال قیام فرمایا اور صاحبزادگان کو تعلیم دے کر اپنے گوٹھ مٹیاری شریف تشریف لے گئے اور وہیں مستقل رہائش اختیا ر کر لی اور آخر تک یہیں درس و تدریس اور فتویٰ نویسی میں مشغول رہے۔ کثرت تعلیم کے باعث کتب درسیہ آپ کو زبانی یاد ہو گئیں تھیں ۔ چنانچہ آٰخر عمر میں بغیر کتاب کے طلباء کو زبانی پڑھایا کرتے تھے ۔

(سندھ کے صوفیائے نقشبند حصہ دوم ص ۲۷۲)

۱۳۰۰ھ میں مدرسہ صولتیہ ( مکہ مکرمہ ) میں ایک سال اعزازی طور پر حدیث کے مدرس رہے۔

(سندھو )

تلامذہ:
آپ زندگی بھر درس و تدریس سے وابستہ رہے اس لئے تلامذہ کی تعداد کثیر ہے۔ ان میں سے بعض کے اسماء درج ذیل ہیں ۔

٭ قاطع نجدیت حضرت خواجہ محمد حسن جان سر ہندی
٭ پیر طریقت آغا عبداللہ جان سر ہندی
٭ رئیس العلماء مفتی اعظم تھر علامہ محمد عثمان قرانی
٭ صاحبزادہ غلام علی جان بن آغا عبد اللہ جان سر ہندی
٭ مشہور شاعر حافظ حامد ٹکھڑ
٭ مولانا میاں احمد نصر پوری
٭ علامہ مولانا محمد قاسم کالرو عمر کوٹ
٭ سید میران محمد شاہ
٭ مولانا مفتی محمد حسین ٹھٹوی

نوٹ:
پیر حاجی بقادار شاہ مٹیاروی مرحوم کی روایت کے مطابق قاضی صاحب کے تلامذہ کی تعداد ۷۰۰ہے ۔

بیعت:
شیخ طریقت خواجہ عبد الرحمن جان سر ہندی قدس سرہ سے سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں آ پ بیعت تھے۔ ( روز نامہ سندھو حیدرآباد ۱۰ستمبر ۱۹۹۱ء ، مضمون نگار: محبوب علی مٹیاروی )
1
تصنیف و تالیف:
درس و تدریس کی مسلسل مشغولیت کے سبب تصنیف کی جانب کم وقت ملا ہو گا۔ ڈاکٹر جمن ٹالپر لکھتے ہیں : قاضی میاں لعل محمد متعلوی تیرہویں صدی کے اکابر علماء وفقہاء میں سے تھے ۔ جن کے پاس سندھ اور بیرون سندھ سے شرعی مسائل اور وراثت کے متعلق استفتاء آتے رہتے تھے۔ مٹیاری شہر کے قاضی تھے، قاضیوں کی مسجد شریف میں تعلیم وفتویٰ دیتے تھے۔ آپ کا تحریر کردہ مجموعہ تقریبا دو ہزار فتاویٰ پر مشتمل ہے ۔ ( سندھ جا اسلامی درسگاہ ص ۲۷۱)

آپ کی دو تصنیف کا علم ہوا ہے وہ آج بھی مٹیاری میں قلمی صورت میں محفوظ ہیں:

٭ نور العینین فی افضلیت الشیخین: سیدنا ابوبکر صدیق و سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہم کی افضلیت پر مشتمل اس کتاب میں ۶۳احادیث مبارکہ درج کی گئی ہیں ۔

٭ شروط الصلوٰۃ (سندھی) وضو غسل طہارت و مسائل نماز پر مشتمل ہے۔

٭ مولانا محمد معروف مٹیاروی نے قاضی صاحب کے تقریبا ۸۳ فتاویٰ کی جمع و ترتیب کا کام کیا تھا ۔ لیکن وہ ابھی تک قلمی صورت میں مولوی عبد اللہ مٹیاروی کے پاس ہے ۔ خدا کرے اشاعت کی کوئی صورت نکل آئے ۔ ( روز نامہ سندھو)

٭ قاضی صاحب نے اپنے ہونہار شاگرد خواجہ حسن جان سر ہندی کی وہابیت دیوبندیت غیر مقلدیت کے رد میں لکھی گئی کتاب ’’اصول الاربعہ فی تردید الوھابیہ ‘‘پر عربی میں تقریظ تحریر فرمائی تھی وہ کتاب کے ساتھ ہندو پاک اور ترکی وغیرہ سے کئی بار چھپ چکی ہے۔

سفر حرمین شریفین:
حضرت خواجہ عبدالرحمن مجددی جب ٹکہڑسے اپنے اہل و عیال کے ہمراہ حرمین شریفین چلے گئے تو حضرت قاضی صاحب بھی آپ کے ہمراہ تھے ۔ لیکن آپ مکہ معظمہ میں حج بیت اللہ اور مدینہ منورہ میں روضہ رسول ﷺ کی حاضری کے بعد واپس سندھ تشریف لے آئے تھے۔ جب کہ حضرت نے وہاں پانچ سال قیام فرمایا۔

قاضی صاحب عشق رسول ﷺ سے سر شار دل رکھتے تھے اور آل رسول کے انتہائی ادیب تھے۔

وصال:
7 حضرت قاضی لعل محمد نے ۱۰، ذوالحجہ ۱۳۵۳ھ ؍ ۱۹۳۵ء کو یعنی عین عید الاضحی کے روز مٹیاری میں ۷۹سال کی عمر میں وصال فرمایا اور وہیں مدفون ہوئے ۔ (مونس المخلصین از: آغا جان ۔ صوفیائے نقشبند )

( انوارِ علمائے اہلسنت سندھ )

https://scholars.pk/ur/scholar/allama-qazi-lal-muhammad
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت مولانا عنایت اللہ خاں رام پوری رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت مولانا عنایت اللہ خان رام پوری ۔ لقب: امام العلماء، سید الاصفیاء۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت مولانا عنایت اللہ خان، بن حبیب اللہ خان، بن شیخ رحمت اللہ خان، بن قاضی معظم خان علیہم الرحمۃ والرضوان۔مولانا عنایت اللہ خان﷫کاآبائی علاقہ’’شل بانڈہ‘‘ضلع بونیرموجودہ خیبر پختون خواہ ہے۔یہ علاقہ سوات سےباون کلومیٹر دور دشوارگزار پہاڑیوں میں واقع ہے۔آپ﷫ کے جد اعلیٰ قاضی معظم خاں﷫اپنے وقت کے ایک متبحر عالم وفاضل تھے۔جد امجد شیخ رحمت اللہ خاں﷫جناب سید فیض اللہ خاں صاحب بہادرمرحوم کےعہدِ اخیر میں رام پورآئے اور فوج میں جمعداری کامنصب ملا۔مولانا ﷫کے والدِگرامی رام پور میں دیہات و قصبہ جات کی ٹھیکہ داری کرتے تھے۔ان کی شادی محمد صالح خاں متبنیٰ و خلیفہ ملافقیر اخوند صاحب ﷫کی دخترنیک اختر سےہوئی۔ جن کے بطن سےحضرت العلام مولانا عنایت اللہ خاں رام پوری﷫ پیدا ہوئے۔ (تذکرہ کاملان رام پور:269)

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1258ھ مطابق 1842ء کو رام پور (انڈیا) میں ہوئی۔(تذکرہ علماء اہل سنت:134)

تحصیلِ علم:
بچپن میں حافظ اکبر خاں رام پوری اور حافظ عنایت اللہ خاں سے حفظِ قرآنِ پاک کیا۔ مولوی کریم نہٹوری سے فارسی کی چند کتابیں پڑھ کر سلسلۂ تعلیم ختم کردیا۔جوانی میں قدم رکھا۔اس وقت حضرت مولاناشاہ ارشادحسین رام پوری﷫ حرمین سےواپس آکر رام پور میں فقیراخوند﷫کی مسجد میں مقیم تھے۔آپ ایک مسئلہ مولانا سےدریافت کرنے کےلئے حاضر ہوئے۔حضرت مولانا نےآپ کی طرف بغور دیکھا اور چہرے پر آثارِ سعادت پرکھ کر فرمایاکب تک مسائل پوچھتے رہوگے،خود کیوں نہیں پڑھتے۔تاکہ لوگ تم سےمعلوم کریں۔آپ نے عرض کیا حضرت اب میں جوان ہوگیاہوں۔بچوں والی کتابیں پڑھتے ہوئے حیاآئےگی۔ مولانانےفرمایا ہم تمہیں ایسی کتاب پڑھائیں گے جو کسی نے نہ پڑھی ہوگی۔ مولانانے ’’ارشاد الصرف‘‘ آپ کو پڑھانے کےلیے ہی تصنیف فرمائی تھی۔ چند روز بعد آپ پر شوقِ علم ایسا غالب ہوا کہ ترک علائق کر کے پوری توجہ سےتحصیلِ علوم میں لگ گئے ۔آپ نے معقول و منقول کی اکثر کتابیں حضرت مولانا شاہ ارشاد حسین سے پڑھیں، اُن کی اجازت سےحضرت علامہ ہدایت اللہ خاں رام پوری، مولانا احمد حسن مراد آبادی، مولانا عبد العلی خاں ریاضی داں سے بھی کسبِ علم کیا۔ایک وقت ایسا آیا کہ آپ علامۂ زماں اور مرجع الفضلاء بن گئے۔

بیعت و خلافت:
امام العلماء والعرفاء، سندالاصفیاء، مرج البحرین، مجمع الفریقین، حضرت علامہ مولانا شاہ ارشاد حسین رام پوری﷫ کے دستِ حق پرست پر سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں بیعت ہوئے۔مجاہدات و ریاضات کے بعد خلاف واجازت سے مشرف ہوئے۔ حضرت مولانا ارشاد حسین رام پوری﷫ کی رحلت کےبعد خانقاہ مجددیہ اور سالکین کی رہبری آپ کےسپرد ہوئی۔(ایضا:135)

سیرت و خصائص:
استاذ العلماء، سند الاتقیاء، پیشوائے اہلِ سنت، شیخ ِطریقت، عارفِ حقیقت حضرت علامہ مولانا عنایت اللہ خاں رام پوری﷫ ۔

آپ﷫اپنے وقت کےمنقولات ومعقولات کے امام، بہترین مدرس، فقیہ العصر اور شیخِ طریقت تھے ۔ آپ کی ذات سےاہل سنت وجماعت کوترقی وعروج حاصل ہوا۔آپ نےاہل سنت کوقابل علماء کی جماعت عطاء کی۔آپ حضرت مولاناشاہ ارشادحسین رام پوری﷫کےمرید بھی تھےاورمراد بھی۔تیس سال کامل اپنے پیرومرشد اور استاذ مکرم کی خدمت کی،اس دوران دنیا واہل دنیا سےانقطاع کلی کرکے فیض مجددیہ سےخوب سیراب ہوئے۔ مرشد کی عنایتیں بھی آپ پربےحساب تھیں۔

درس و تدریس اور سالکین کی تربیت،عوام کو وعظ ونصیحت،خانقاہ مجددیہ کانظام وانصرام، سائلین کے سوالوں کےجوابات الغرض آپ دین متین کی خدمت میں ہمہ وقت مشغول رہتےتھے۔زیادہ شغف تدریس میں تھا۔تمام علوم پر یکساں مہارت حاصل تھی۔تمام فنونِ عقلیہ ونقلیہ کادرس پوری قوت وذوق سےدیتےتھے۔یہ سلسلہ پیرانہ سالی میں بھی برابر جاری رہا۔آپ کےخوان ِ علم سےکئی لوگ مستفید ہوئے۔آپ کے تمام معاملات توکل علی اللہ پرتھے۔ بظاہر کوئی ذریعہ معاش نہیں تھا، لیکن ہروقت فکرِمعاش سے بے نیاز اور بلکہ دوسروں کی مددکرتےتھے۔اعلیٰ حضرت مولانا شاہ امام احمد رضا خاں بریلوی ﷫سے آپ کے خصوصی روابط تھے،اکثر مراسلت رہتی تھی،حضرت فاضل بریلوی ﷫کے بہت سے فتاویٰ آپ کے دستخط اور مُہر سےمزین ہیں۔(تذکرہ علمائے اہل سنت:135)

تاریخِ وصال:
آپ کاوصال 10 ذوالحج 1345ھ ،مطابق جون 1927ء کو ہوا ۔ 11 ذی الحجہ کو اپنی خانقاہ میں مدفون ہوئے۔ مزار شریف رام پور انڈیا میں ہے۔

ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہل سنت۔تذکرہ کاملان رام پور۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-inayyat-ullah-khan-rampuri-qads
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
شیخ الاسلام حضرت مخدوم جہانیاں جہاں گشت رحمۃ اللہ علیہ

نام ونسب: اسم گرامی:سید جلال الدین بخاری۔کنیت: ابو عبداللہ۔لقب: جہانیاں جہاں گشت،مخدوم جہانیاں،سیاح عالم۔آپ کانام اپنےجدبزرگوار مخدوم العالم حضرت سید جلال الدین سرخ بخاری﷫ کےنام پر رکھاگیا۔سلسلہ نسب اس طرح ہے: حضرت سید جلال الدین مخدوم جہانیاں جہاں گشت بن سید احمد کبیر بن حضرت سید جلال الدین سرخ بخاری بن حضرت سید علی بن حضرت سید جعفر بن حضرت سید محمد بن حضرت سید محمود ۔الیٰ آخرہ۔علیہم الرحمۃ والرضوان۔آپ کاسلسلہ نسب سترہ واسطوں سےحضرت سید الشہداء امام عالی مقام امام حسین ﷜تک منتہی ہوتاہے۔آپ کاتعلق ساداتِ بخارا سےہے۔(تذکرہ اولیائے پاکستان دوم:243)

تاریخِ ولادت: آپ کی ولادت باسعادت 14/شعبان المعظم 707ھ مطابق 9/فروری1308ء بروز جمعرات مدینۃ السادات اوچ شریف ضلع بہاول پورپنجاب میں سید احمد کبیر﷫کےگھر پرہوئی۔آپ کی جبین مبارک سےسعادت مندی اور رشدوہدایت کےآثار واضح تھے۔حضرت شاہ سمنان جہانگیر اشرف سمنانی﷫ سےمنقول ہے کہ آپ کی پیدائش کےبعد آپ کےوالد گرامی آپ کوشیخ جمال خنداں رو﷫ کی خدمت میں لےگئے اور ان کےقدموں میں ڈال دیا۔حضرت جمال خندہ رو﷫ نےفرمایا:’’اس فرزند کی عظمت وبزرگی دنیا میں ایسی ہوگی جیسے آج کی شب(شب برات )کی ہے‘‘۔(یاد گار سہروردیہ:206)

تحصیل علم: آپ کی ابتدائی تعلیم وتربیت اوچ شریف میں ہوئی۔علامہ قاضی بہاءالدین آپ کےاستادتھے۔قاضی صاحب کے انتقال کےبعدہدایہ وبزودی ختم کرنےاورمزیدتعلیم حاصل کرنے کی غرض سے آپ اوچ سے ملتان آئے۔شیخ موسیٰ اورمولانامجدالدین جیسے شفیق استادملے۔آپ نےہدایہ اوربزودی جلدہی ختم کی۔بعد ازاں مدینہ منورہ جاکرمزیدتعلیم حاصل کی۔ملتان میں آپ شیخ رُکن الدین ابوالفتح ﷫کی اجازت سےمدرسے میں رہتےتھے۔اس کے بعد آپ مکہ مکرمہ تشریف لے گئے وہاں سے کلام اللہ کی ساتوں قرأتیں سیکھیں اور وہاں سے مدینہ منورہ تشریف لے آئے۔اور وہاں کے بہت بڑے عالم دین حضرت شیخ مکہ امام عبد اللہ یافعی اور شیخ عبد اللہ مطری علیہم الرحمۃ سے مختلف کتابیں اور صحاح ستہ پڑھیں۔ حضرت شیخ عبد اللہ مطری کی خدمت میں دو سال رہ کر صحاح ستہ کے علاوہ تہجد کے وقت عوارف المعارف اور حدیث شریف کا درس لیتے۔آپ کے استاد شیخ عبد اللہ المطری آپ سے بڑی شفقت و محبت فرماتے تھے۔ دیگر یہ کہ آپ نے عوارف المعارف کے جس نسخے سے درس لیا تھا وہ نسخہ حضرت شہاب الدین سہر وردی کے مطالعہ میں رہ چکا تھا۔ جب شیخ عبد اللہ مطری کے وصال کا وقت آیا تو انہوں نے وہ نسخہ حضرت امام عبد اللہ یافعی کے ہاتھ آپ کے پاس بھجوادیا تھا۔آپ اس نسخے کو بہت زیادہ عزیز رکھتے تھے۔(انسائیکلوپیڈیاج5،ص125)

بیعت وخلافت: آپ اپنے والد گرامی سید احمدکبیر﷫ کےدستِ حق پرست پربیعت ہوئے،اور خلافت واجازت اور خاندانی کمالات سے مشرف ہوئے۔اپنے چچا حضرت محمد غوث﷫سےخرقہ خلافت پہنا۔والد کےوصال کےبعد حضرت شیخ الاسلام ابوالفتح رکن عالم ملتانی﷫ کےدستِ حق پرست پر بیعت ہوئے اور سلسلہ عالیہ سہروردیہ میں خلافت واجازت سے مشرف ہوئے۔زیادہ ترآپ سلسلہ عالیہ سہروردیہ میں بیعت فرماتے تھے۔آپ فرماتے ہیں:میں نےچودہ عظیم شخصیات سےخرقہ پہنا اور اجازتیں حاصل کیں۔حضرت نظام الدین اولیاءسےعالم خواب میں پہناجوبیدارہونےکےبعدسرپرپایا۔حضرت شیخ رُکن الدین ابوالفتح کےخلیفہ حضرت شیخ قوام الدین سے،حضرت قطب الدین منور سے،حضرت نصیرالدین چراغ دہلی سے،شیخ مکہ امام عبداللہ یافعی سے،شیخ مدینہ حضرت عبداللہ المطری سے،قطب عدن حضرت فقیمہ بصال سے،شیخ اسحاق گازرونی سے،شیخ امین الدین، شیخ امام الدین سے،شیخ حمیدالدین سے،حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی کےخلیفہ شیخ شرف الدین محمودشاہ سے،سیداحمدرفاعی سے،شیخ نجم الدین صنعانی سے، حضرت شیخ نجم الدین کبریٰ سے،حضرت خضرسے،حضرت احدالدین حسنی سے،حضرت شیخ نورالدین سے۔رحمۃ اللہ علیہم اجمعین۔(تذکرہ اولیائے پاک وہند:117)

سیرت وخصائص:والئی اقلیمِ ولایت،حامی سنت، ماحیِ بدعت،غریق بحر ِمحبت،مقتدائے اہل مودت،شمع قصر ہدایت،سیاحِ عالم حضرت جلال الدین بخاری مخدوم جہانیاں جہاں گشت سہروردی رحمۃ اللہ علیہ۔آپ ﷫اپنےوقت کےعالم ِ متبحر،صوفیِ اعظم،اور دینِ مصطفیٰﷺکےعظیم داعی تھے۔رسول اللہﷺ کےدین کوہرسو پھیلایا۔جہاں بھی تشریف لےگئے دین کی بہاریں ساتھ لےگئے۔جب واپس ہوتے توگلشنِ اسلام سرسبز وشاداب ہوتا۔خدمتِ دین انہیں وراثت میں ملی تھی۔شہادت سید الشہداء کایہی فلسفہ تھا کہ مصطفیٰﷺ کےلائےدین کوآباد رکھنا ہے۔آپ کےدستِ حق پرست پر کئی قبائل شرف اسلام سےمشرف ہوئے۔جنوبی پنجاب اور بالخصوص ریاست بہاولپور کےعلاقے میں آپ کافیضان عام ہے۔ریاست کاٹھیاواڑ کےنواب کوآپ نے مشرف بااسلام کیا۔جس کی وجہ سے پوری ریاست اسلام کاگہوارہ بن گئی۔اسی طرح گجرات میں کثیر تعداد میں لوگ مشرف بااسلام ہوئے۔(انسائیکلوپیڈیا:127)۔سلطان محمد تغلق شاہ کےعہد میں آپ ’’شیخ الاسلام‘‘کےمنصب پرفائز رہے۔آپ نےکثیر تعداد میں
1
مدارس ومساجد اور خانقاہوں کی تعمیر کرائی۔

حضرت مخدوم جہانیاں ﷫اپنے وقت کےجید عالم دین اور کہنہ مشق مدرس تھے۔فنون میں زیادہ رغبت نہ تھی۔ قرآن وحدیث تفسیر وفقہ اور تصوف میں دل چسپی تھی۔مشکوٰۃ شریف کادرس مشہور ِعام تھا۔علمی لحاظ سے آپ کی ذات والا صفات طالبان حق کا مرجع تھی۔آپ کے ایک مرید حضرت علاؤ الدین علی بن سعد حسینی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں کہ آپ کو 188 علوم پر دسترس حاصل تھی۔ طالبان حق کو قرآن پاک، اور تفسیر مدارک حدیث شریف صحاح ستہ مشارق الانوار مشکوٰۃ المصابیح کے علاوہ فقہ میں ہدایہ وقدوری کا درس دیتے تھے۔اسی طرح تصوف کی تعلیم میں عوارف المعارف رسالہ مکیہ، قصیدہ لامیہ دیگر کا درس دیا کرتے تھے ۔آپ کے آستانے پر آنے والے طالبان حق کا اس قدر ہجوم ہوتا تھا کہ آپ کی طبیعت کو ذرا بھی آرام نہ ملتا۔ہمہ وقت دین متین کی تعلیم دیتے رہتے۔ اگر کوئی شخص آپ سے سوال اور مسئلہ سمجھنے میں بار بار سوال کرتا تو آپ بڑے احسن انداز میں جواب دیتے طبیعت ذرا بھی کبیدہ خاطر نہ ہوتی تھی۔(انسائیکلو پیڈیا:ج5،ص128)اللہ اکبر!یہ کیسی عظیم ہستیاں تھیں۔پہلے علاقہ اوچ شریف سےتحصیل علم کےلئے حرمین شریفین کا سفر کیا۔پھرساری زندگی اس علم کو جہاں بھرمیں تقسیم فرمایا۔اس وقت جید عالم ہی ایک باصفا صوفی ہوتا تھا۔آج معاملہ برعکس ہے۔آج کونسا ایسا سجادہ ہے جوتفسیر بیضاوی وجلالین اور بخاری ومشکوٰۃ کادرس دےرہاہو۔الاماشاء اللہ۔یہی فرق ہے کہ ان کی سیرت کو دیکھ کرغیر مسلم اسلام قبول کرلیتے تھے۔اِن کو دیکھ کر سنی بدمذہب ہورہے ہیں۔

آپ پانچ وقت کی نماز کے علاوہ،تہجد،اشراق،چاشت،صلوۃ الاوابین،صلوٰۃ التسبیح اور دیگر نوافل کا خصوصیت سے اہتمام فرماتے،اپنے شیوخ کے بتائے ہوئے اورادو وظائف کو ہر حال میں پورا فرماتے ۔رات کے وقت کچھ دیر نیند کرتے اور بقیہ رات یادِ خدا میں بسر کرتے، کھانا کبھی تنہانہ کھایا جو بھی کھاتے اپنے احباب میں تقسیم کر کے کھاتے۔آپ﷫نےچھتیس مرتبہ حج کی زیارت کی۔شریعت کی سختی سے پابندی کرتے اکثر فرماتے تھے کہ اصل شریعت ہے اور جب تک کوئی شریعت کو مضبوط نہ پکڑے گا حقیقت تک نہیں پہنچ سکتا۔سخاوت اور فیاضی کا یہ عالم تھا کہ جو بھی فتوحات آتیں ان میں سے بقدر ضرورت خانقاہ کےلیے رکھ کر بقیہ مستحقین میں تقسیم فرما دیتے تھے۔ اورفرماتے تھےکہ فتوحات اس لیے قبول کرلیتا ہوں کہ شیخ مکہ امام یافعی اور شیخ مدینہ عبد اللہ مطری اور دوسرے بزرگوں نے فرمایا ہے کہ فتوح کو اس لیے قبول کرو کہ دوسروں تک پہنچاؤ اور کچھ ضرورت کے مطابق رکھ لیا کرو۔آپ اپنے ہم عصر بزرگوں کا بہت احترام کرتے تھے ۔ ایک مرتبہ مخدوم الملک حضرت شرف الدین یحٰیی منیری علیہ الرحمۃ نے آپ کو جوتا بطور تحفہ بھیجا۔ جس کا مقصد یہ تھا کہ آپ کا نقش ِ پاہوں آپ نے جواب میں ان کو دستار بھیجی جس کا مقصد یہ تھا میں آپ کو اپنے سر کاتاج سمجھتا ہوں۔اسی طرح گمراہ اور جاہل صوفیوں کی خوب خبرلیتے تھے۔(ہمارےمشائخِ زمانہ میں یہ آداب واخلاق مفقود ہیں)

آپ﷫نےمکہ مکرمہ میں سات برس اور مدینہ منورہ میں دو سال قیام کیا۔اس کے علاوہ یمن،عدن،دمشق،لبنان،مدائن،فارس،بصرہ،کوفہ، شیراز، تبریز،ایران ،بلخ، نیشاپور،خراساں،سمرقند،گارزون،بحرین ، قطیف ،غزنین کے علاوہ دہلی، جونپور،ملتان،بھکر،الور،روہڑی کے علاوہ دیگر کئی شہروں میں تشریف لے گئے۔ اور دین متین کی خدمت کا فریضہ انجام دیتے رہے اور اسلام کا آفاتی پیغام لوگوں تک پہنچایا اور ہزاروں کی تعداد میں غیر مسلموں کو کلمہ پڑھا کر مشرف بہ اسلام کیا۔اسی بناء پر آپ کو’’جہانیاں جہاں گشت‘‘ کے لقب سےدنیا پہچانتی ہے۔آپ کے اسفار کی مکمل تفصیل ’’سفرنامہ جہانیاں جہاں گشت‘‘میں موجود ہے۔

بارگاہِ مصطفیٰﷺمیں قبولیت:جب آپ اوچ شریف سےمدینہ منورہ حاضرہوئے،اوربارگاہِ سیدالعالمینﷺ میں عرض گزار ہوئے:’’اَلسَّلَامُ عَلَیکَ یَاجَدّی‘‘۔آپ کوجواب ملا۔’’وَعَلَیکَ السَّلَامَ یاوَلَدِی‘‘۔(تذکرہ اولیائے پاک وہند:118)

آپ ﷫کےملفوظات وتعلیمات آب زر سےلکھنے کےقابل ہیں۔ان میں چند یہ ہیں۔(1)جاہل صوفیوں سے دور رہو،کیوں کہ وہ دین کےچور اور مسلمانوں کے راہزن ہیں۔(2)علم لدنی کےلئے تقویٰ ایسے شرط ہے جیسے نماز کےلئے وضو۔(3)ہرمسلمان پر عمل سےپہلے علم واجب ہے۔(4) اللہ کا ولی اللہ تعالیٰ کےعلاوہ کسی سے نہیں ڈرتا۔(تذکرہ اولیائے پاک وہند:121)

تاریخِ وصال:آپ کاوصال 10/ذوالحج785ھ، بروز پیر،عیدالاضحیٰ،مطابق 2/فروری 1384ء کوہوا۔مزار پر انور اوچ شریف تحصیل احمد پور شرقیہ ضلع بہاولپور میں مرجع خلائق عام ہے۔

ماخذ ومراجع: تذکرہ اولیائے پاک وہند۔انسائیکلوپیڈیا اولیاء کرام۔تذکرہ جہانیاں جہاں گشت۔تذکرہ اولیائے پاکستان جلددوم۔یادگار سہروردیہ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-makhdoom-jahanian-jahangasht-bukhari
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1