🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.82K subscribers
69.7K photos
228 videos
257 files
8.85K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
حضرت شاہ ابوالمعالی قادری رحمۃ اللہ علیہ

نام ونسب:
اسمِ گرامی: سید خیر الدین محمد۔ کنیت: ابوالمعالی۔ لقب: اسد الدین۔تخلص: اشعار میں معالی کے علاوہ ’’غربتی‘‘ بھی بطورِ تخلص استعمال کرتےتھے۔لیکن شاہ ابو المعالی کے نام سے زیادہ معروف ہیں۔ سلسلہ ٔ نسب اس طرح ہے: حضرت شاہ ابوالمعالی قادری بن سید رحمت اللہ بن سید فتح اللہ۔ علیہم الرحمہ۔ شیخ المشائخ حضرت داؤدکرمانی﷫ آپ کے حقیقی چچا تھے۔آپ ان کے داماد اور خلیفۂ اعظم تھے۔ بزرگوں کا وطن ’’کرمان‘‘ تھا۔ خاندانی تعلق ساداتِ کرمان سےہے۔ سلسلہ ٔ نسب اٹھائیس واسطوں سے حضرت امام محمد تقی﷜پر منتہی ہوتاہے۔ (تذکرہ صوفیائے پنجاب: 79/تذکرہ اولیائے پاک وہند: 225)

تاریخِ ولادت:آپ کی ولادت باسعادت بروز پیر، 10/ ذالحجہ 960ھ مطابق 16/نومبر1553ء کو’’شیر گڑھ‘‘تحصیل دیپالپور ضلع اوکاڑہ پنجاب پاکستان میں ہوئی۔

تحصیلِ علم: حضرت شاہ ابوالمعالی لاہوری﷫ ایک علمی و روحانی خانوادے سے تعلق رکھتےتھے۔ جو صدیوں سے علم وفضل میں اپنی مثال آپ تھے۔ آپ کے والدِ محترم سید رحمت اللہ ﷫ ایک عالمِ متبحر و عارف باللہ تھے۔ آپ کی تعلیم وتربیت والدِ گرامی کے زیرِسایہ ہوئی۔ تمام علوم ِ منقولات ومعقولات انہیں سے حاصل کیے۔اس وقت کے تمام مروجہ علوم کے ماہر ِ کامل اور عربی وفارسی ادب کے بہترین ادیب تھے۔

بیعت و خلافت: علوم ِ ظاہری کی تکمیل کے بعد سلسلہ عالیہ قادریہ حضرت شاہ ابو المعالی﷫ نے اپنے چچاشیخ داؤد کرمانی شیر گڑھی ﷫کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے۔تیس سال کے مجاہدات و ریاضات کے بعد خلافت عطاء فرمائی۔(تذکرہ صوفیائے پنجاب: 79)

سیرت وخصائص: صاحبِ اسرار و معارفِ یزدانی،شہبازِ لامکانی،حضرت شاہ ابوالمعالی قادری لاہوری﷫۔آپ﷫ اپنے وقت کے شیخِ کامل اور عالمِ اکمل تھے۔آپ کی ذات وا لا صفات سے دینِ اسلام اور سلسلہ عالیہ قادریہ کو بہت فروغ حاصل ہوا۔خرقۂ خلافت کےبعد شیخ کی طرف سے لاہورمیں رشد وہدایت پر مامور کیے گئے۔چنانچہ شیر گڑھ سے لاہور تک جہاں قیام فرمایا وہاں سرائے،کنواں،تالاب اور باغ لگواتے گئے۔آج بھی راستے میں ایسے مقامات و سرائے اور مکانات و بستیاں موجود ہیں جو آپ کے نام سے ہیں۔جب آپ لاہور میں تشریف لائے تو مخلوقِ خدا جوق در جوق حلقۂ ارادت میں داخل ہونے لگی، اور آپ نے بڑی قبولیت حاصل کی۔آپ کی بڑی کرامت یہ تھی کہ جو شخص آپ سے بیعت ہوتا اس کو اسی رات محبوبِ سبحانی حضرت غوث الاعظم سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی﷫ کا دیدار نصیب ہوتا۔

علمی خدمات: آپ﷫عربی وفارسی ادب کےبلند پایہ ماہر تھے۔آپ نے لوگوں کے عقائد کی اصلاح کےلئے صوفیانہ طرز کی کتب تحریر فرمائیں۔جن کا مقصد لوگوں کو دین کی طرف بلانا اور حقائق سے روشناس کراناتھا۔آپ کی خانقاہ شریف ایک علمی درسگاہ تھی جہاں قال اللہ، و قال رسول اللہ کی صدائیں ہر وقت بلند رہتی تھیں۔آپ﷫ ذوقِ شعری بھی رکھتے تھے۔زیادہ تر اشعار سید الانبیاء ﷺ اور سید الاولیاء﷫ کی شان میں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آپ﷫ نے امام المحققین حضرت شاہ عبد الحق محدث دہلوی﷫کو مشکوٰۃ کی شرح کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا اس کو جلد پورا کرو۔پھر اسی خط میں لکھا کہ’’انشاء اللہ کتابے شود کہ اہلِ عالَم ہمہ از آں مستفید شوند‘‘۔پھر مشورہ دیا کہ شرح میں جا بجا اشعار درج کیے جائیں۔ تاکہ طرزِ بیاں دل چسپ اور اثر انگیز ہو۔

فضل و کمال:آپ صاحبِ کشف وکرامات تھے، حضرت غوث الاعظم﷫کےسچےعاشق،اور اپنےپیرومرشدسے والہانہ عقیدت تھی۔بلکہ آپ فنافی الشیخ کےدرجےپرفائزتھے۔ صاحبِ سفینۃ الاولیاء رقم طراز ہے کہ عارفِ حق آگاہ حضرت ملاشاہ نے ایک مرتبہ بیان کیا کہ ہم اپنے استاد مُلا نعمت اللہ کے ہمراہ جو عالمِ باعمل تھے آپ کی زیارت کےلئے گئے۔ ہم سب حاضرِ خدمت تھے، کہ ایک شخص تسبیح آپ کےلئے لایا۔ آپ نے وہ قبول فرمالی اور اپنے سامنے رکھ دی۔ میرے دل میں گزرا اگر آپ کو کشفِ قلوب حاصل ہے تو یہ تسبیح مجھے عنایت فرمادیں۔ جب میں رخصت کے لیے کھڑا ہوا تو حضرت نے مجھے اپنے پاس بلایا۔ فرمایا: اپنے حسبِ مدّعا یہ تسبیح لے لو۔ اگر ہوسکے تو سو مرتبہ درود شریف پڑھ لیا کرنا۔ تمہیں اور لانے والے دونوں کو ثواب ہوگا۔

اسی طرح صاحبِ سفینۃ الاولیاء لکھتے ہیں: مولانا اخوند نعمت اللہ فرماتے تھے کہ ایک دن میرے دل میں خیال آیا کہ میں حضرت غوث الاعظم ﷫ سے ارادت و عقیدت رکھتا ہوں۔ یقیناً وہ بھی میری اس ارادت مندی سے آگاہ ہوں گے جب کہ وہ خود فرماتے ہیں کہ اگر میں مغرب میں ہوں اور میرا مرید ننگے سر مشرق میں ہو تو میں اس کی سرپوشی کروں گا۔ رات کو میں نے خواب میں دیکھا کہ میں کسی کام کے لیے پریشان و عاجز ہوں، سر ننگا ہے۔ اسی وقت حضرت غوث الثقلین تشریف لائے۔ اور ایک سفید پگڑی مجھے عنایت فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ یہ پگڑی لے لو۔ ہم تیرے اس حال سے خبردار تھے کہ تو ننگے سر کھڑا ہے۔ لہٰذا ہم نے چاہا کہ تیرا سر ڈھانپ دیں۔ صبح مجھے حضرت شاہ ابوالمعالی نے اپنے پاس بلایا اور سفید دستار مجھے عنایت
2
کرکے فرمایا: یہ وہی دستار ہے جو رات کو حضرت غوث الاعظم نے تجھے دی ہے۔(سفینۃ الاولیاء:245)

حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی ﷫ کی عقیدت: حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی﷫ آپ سے بے حد عقیدت رکھتےتھے۔شیخ محقق نے آپ کا ذکرِ خیر جابجا فرمایا ہے۔حضرت شیخ محقق نے فتوح الغیب کی شرح آپ کے اصرار پر لکھی۔اس کے خاتمے پر حضرت شاہ ابوالمعالی﷫ کاتذکرہ اس طرح فرمایا ہے: ’’اسد الدین شاہ ابوالمعالی کہ شیر بیشۂ جلالت، وسرہنگ ِ دیوانِ قدرت، واز والہان ِ آگاہ، و عاشقانِ درگاہِ قادریہ است‘‘۔ اسی طرح اخبار الاخیار میں حضرت شیخ داؤد کرمانی﷫کےتذکرے میں آپ کا ذکرِ خیر کیا ہے۔ حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی﷫ آپ کی روحانی سطوت کے اس درجہ معترف تھے کہ اپنے خانگی معاملات ان سے بیان فرماتے،اور ان سے راہنمائی لیتے،اور دعاؤں کی التجا کرتے۔ایک مکتوب میں حضرت شاہ ابوالمعالی سے اس طرح امداد کی التجاء کرتےہیں: ’’بالجملہ اندوہ و تنگ دلی از حد گزشتہ،وقتِ امداد و اعانت است،فریاد رسی می بایدکرد،ورائے آغاثہ کبریٰ کہ منتہیٰ بجناب حضرت غوث الاعظم است می باید پوشید، وذرع داؤدی در برکرد۔الیٰ آخرہ‘‘۔ایک خط میں آپ کی صحبتِ کیمیا اثر کےمتعلق اپنے تاثر کو اس طرح ظاہر کرتے ہوئے لکھتےہیں:’’ذوقِ صحبتِ ایشاں، درنگِ حال ایشاں کہ در ظاہر و باطن فقیر نشستہ است بتقریر بیان گنجائش ندارد‘‘۔ شیخ محقق﷫ کو جو آپ سے عقیدت و محبت تھی اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب وہ لاہور میں حضرت شاہ صاحب﷫ کی خدمت میں حاضر ہوتے، تو وہاں سے واپس ہونے کو ان کا جی نہیں چاہتاتھا۔شاہ صاحب سے والہانہ عقیدت ومحبت کےتاثر کو ایک جگہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’گرفتار ما بہ ایں شہر لاہور کہ وطن گزاشتہ ایں جا می باشیم،سبب آں ایں است کہ کسے ہست کہ گرفتار اویم‘‘۔(تذکرہ صوفیائے پنجاب: 84)

تصانیف: آپ ایک خدارسیدہ بزرگ ہونےکےعلاوہ ایک عالم بھی تھے۔آپ نےکئی کتابیں لکھی ہیں۔1۔تحفۃ القادریہ۔جس میں حضرت غوث الثقلین کے مناقب وکرامات کو جمع کیاہے۔2۔حلیہ۔سرورِ عالمﷺکا حلیہ مبارک بیان کیا ہے۔اس کا ایک اقتباس ملاحظہ پیشِ خدمت ہے۔ ’’ھو اسمر بیاض اللون و واسع الجبھۃ وازج الحاحبین واقلج الاسنان واسود العینین وملیح واقنا انف وازج الحواجب وطویل الیدین وثمام القد ومجتمع اللحیۃ ورفیق الانامل وضیق الغماد ولیس فی بدنہ شعر الا لخط الصدر الی الثرۃ وصورتہ احسن الصور وحسنہ حسن القمر ونورہ نور الشمس وکلامہ کلام روح القدس وقالہ قال الشریعۃ وحالہٗ حال الحقیقۃ وعلمہٗ علم الیقین ولسانہٗ لسان الذاکر وقلبہٗ عین المعرفۃ وذاتہٗ ذات انوار الحق ودینہ اکرام الادیان ملتہ اشرف الملل وخلقہ احسن الاخلاق وعملہٗ امر اللہ ونعلہ عبادۃ اللہ وجسمہٗ خیر الاجسام واسمہٗ خیرالانام صلی اللہ علیہ واٰلہٖ واصحابہ اجمعین۔

ترجمہ: حضور اکرم ﷺکا رنگ گندمی سرخ یا سفید ملا ہوا تھا۔ فراخ پیشانی، باریک ابرو، کشادہ دندان، سیاہ چشم، حیا دار ملیح نظر والی بلند ناک، بھرے ہوئے لمبے بازو، سر و قد (یعنی سیدھا جیسے مناسب ہوتا ہے) اور گنجان ریش مبارک، باریک بال، تنگ دہان تھا۔ آپ کے بدن مبارک پر بال نہیں تھے مگر سینۂ اقدس کے خط سے ناف تک اور آپ کی نازنین صورت تمام صورتوں سے احسن ہے، آپ کا حسن چاند کے حسن سے بڑھکر اور آپ کا نور، نورِ خورشید سے افضل۔ آپ کا کلام روح القدس کا کلام اور آپ کی گفتگو رازِ شریعت اور آپ کا حال حقیقت کی صورت ہے۔ آپ کا علم، علمِ یقین اور آپ کی زبان خدا کا ذکر کرنے والی زبان ہے۔ آپ کادل معرفت کا چشمہ، آپ کی ذات انوارِ حق کا کرشمہ، آپ کا دین تمام دنیا کے مذہبوں سے بلند اور آپ کی ملّت تمام ملّتوں سے برگزیدہ ہے۔ آپ کا خلقِ عظیم اخلاقِ حسنہ کا نچوڑ، آپ کا عمل خدا کا حکم، آپ کا کام اللہ کی عبادت، آپ کا جسم مخلوق میں خیروسعادت اور آپ کا اسمِ گرامی ’’خیرالانام‘‘ ہے صلی اللہ علیہ وآلہٖ واصحابہٖ اجمعین۔ 3۔باغِ ارم۔ 4۔زعفرانِ زار ـ 5۔رسالہ مونسِ جاں۔

آپ کی ایک مشہوررباعی حسب ذیل ہے؂:

یارب بحقِ جمالِ عبدالقادر
یارب بحقِ کمالِ عبدالقادر

برحال ابوالمعالی زاروضعیف
رحمےکن ودہ وصالِ عبدالقادر

تاریخِ وصال:
16/ربیع الاول 1024ھ مطابق مئی/1615ء کو واصل باللہ ہوئے۔آپ کا مزار لاہور میں مرجعِ خلائق ہے۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-khairuddin-abul-maali-qadri-karmani-lahori
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
فاضل جلیل حضرت مولانا علامہ محمد سعید شبلی ساہیوال علیہ الرحمہ

استاذ العلماء مولانا سعید صاحب شبلی بن مولانا قائم الدین ہندوستان کی مشہور ریاست فرید کوٹ میں دس ذوالحجۃ المبارکہ ۱۳۱۳ھ، ۱۸۹۶ء کو ایک علم دوست اور ممتاز ارائیں خاندان میں پیدا ہوئے۔

آپ تقریباً ساڑھے تین سال کے ہوئے ہوں گے کہ والدہ ماجدہ انتقال فرما گئیں۔ اس لیے دادی صاحبہ نے پرورش شروع کی اور اپنی ایک عابدہ، زاہدہ ہجمولی غوث بی بی کے پاس قرآن پاک کی تعلیم کے لیے بٹھایا۔ آپ نے پانچ سال کی عمر میں قرآن پاک ختم کیا اور پھر پنجابی زبان میں شرعی مسائل کی چند کتابیں پڑھ کر اردو میں اسلام کی پہلی، دوسری اور فارسی کی کچھ ابتدائی کتب حضرت علامہ مولانا قاضی محمد رکن الدین رحمۃ اللہ تعالیٰ، قاضی شہر اور خطیب و امام جامع مسجد و عیدگاہ فرید کوٹ سے پڑھیں۔ ازاں بعدِ سکوں کی دوسری جماعت میں داخلہ لیا داخلے کے صرف بیس دن بعد خدا داد ذہانت کے باعث سے تیسری جماعت میں منتقل کردیے گئے۔ تیسری، چوتھی اور پانچویں جماعت میں نمایاں کامیابی حاصل کرتے رہے، حتیٰ کہ ہائی سکول کے ہید ماسٹر انسپکٹر سکولز اور ڈائریکٹر تعلیم نے نوٹ تحریر کیا کہ اس بچے کو جماعت نہم میں ترقی دی جائے، کیونکہ اس کی قابلیت نویں جماعت کے طلباء سے ملتی جلتی ہے۔

اسی دوران میں آپ اپنے سکول کے ایک نامور فاضل استاذ مولانا محمد عبد الحلیم رحمۃ اللہ تعالیٰ عربک گولڈ میڈلسٹ ایم او امل سے بعد نماز ظہر عربی کا مروجہ تقلاب *** اور تفسیر جلالین، مشکوٰۃ شریف اور ترجمہ قرآن پاک پڑھتے رہے۔

کچھ عرصہ بعد اورنٹیل کالج لاہور میں منشی فاضل کے کورس کے لیے داخلہ لیا اور اپنی خدا داد قابلیت کے باعث نہ صرف انگریزی کا امتحان پاس کیا، بلکہ کالج کے پرنسپل اے سی ولز جرمن نے آپ کا نتیجہ دیکھ کر ماہانہ وظیفہ مقرر کردیا۔

منشی فاصل کے بعد آپ نے مولوی فاضل کی تیاری شروع کی، لیکن بعض نوجوان احباب نے آپ سے اکتساب فیض کی خواہش کا اظہار کیا، جس کے پیشِ نظر شہر کی جامع مسجد میں ثبینہ مدرسہ شروع کردیا گیا۔ (آغاز ہی میں ستر طلباء نے اپنے نام درج کروائے) چنانچہ تعلیمی مصروفیات کی وجہ سے آپ نے فاضل عربی کا پروگرام ترک کردیا۔

اساتذہ:
آپ نے جن اساتذہ سے اکتساب فیض کیا، ان کے اسماء گرامی یہ ہیں۔

۱۔ مولانا میاں قائم الدین رحمۃ اللہ علیہ ۱۹۵۶ء (والد ماجد)
۲۔ رابعہ عصر غوث بی بی، رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہا
۳۔ مولانا حافظ عبد الحلیم قریشی، بی اے او ایل عربک ایم او ایل گولڈ میڈلسٹ پنجاب یونیورسٹی
۴۔ مولانا قاضی محمد کن الدین، قاضی و خطیب شہر فرید کوٹ
۵۔ مولانا محمد دین، پروفیسر اعلیٰ شعبۂ فارسی اورنٹیل کالج لاہور
۶۔ مولانا رشید احمد ابن مولانا فیض الحسن سہارنپوری (شبلی نعمانی کے استاد)
۷۔ پادری اے سی ولز رجسٹرار پنجاب یونیورسٹی و پرنسپل اورنٹیل کالج لاہور (جو جدید انگلش کے اپنے مرتبہ اسباق عربی کے انداز میں پڑھاتے تھے۔)

۸۔ ماسٹر جیشی رام شائق چشتی صابری (شارح سلوک فریدی، جو قرآن مجید کی آیات و احادیث کے حوالہ جات اور اپنے اشعار سے تصنیف کی ہے ہندو نام ہے، نماز روزہ اور اوراد و وظائف، تہجد اور میلاد شریف کے پابند تھے۔)
۹۔ حضرت مولانا عبد العزیز مدرس شاہی مسجد لاہور
۱۰۔ مولانا کمال الدین، فاضل مراد آباد

مندرجہ بالا اساتذہ کے علاوہ جن بزرگان دین و مشائخ سے آپ نے روحانی فیوضات حاصل کیے، ان کے اسماء گرامی حسب ذیل ہیں۔

۱۔ شیخ الاسلام حضرت بابا فرید الیدن گنج شکر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (۱۹۴۸ء میں بحالت خواب)
۲ـ حضرت مولانا محمد صالح نقشبندی قادری چشتی سہروردی رحمۃ اللہ علیہ۔ (حضرت موصوف سے آپ کو شرفِ بیعت حاصل ہے بقول قاضی عبد الحکیم ایم اے لاہور
۳۔ حضرت پیر غوث محمد چشتی صابری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
۴۔ شیر ربانی حضرت میاں شیر محمد شرقپوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ[۱]

[۱۔ حضرت مولانا شبلی مدظلہ نے اپنی تصنیف لطیف فضائل صلوٰۃ و سلام میں ذکر فرمایا کہ ایک مرتبہ شرقپور شریف حاضری ہوئی، اس سے قبل مسئلہ تقلید کے بارے میں کچھ تفکر تھا؛ چنانچہ حضرت میاں صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے از خود حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ کی تصنیف کی تصنیف الا نصاف کا صفحہ ۶۸ نکال کر فرمایا اے پڑھو اس میں لکھا تھا کہ ہندوستان والوں کے لیے واجب ہے کہ وہ حنفی مذہب رہیں، فضائل
1
صلوٰۃ و سلام میں۔]

۵۔ حضرت پیر سید جماعت علی شاہ صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

۶۔ حضرت پیر علی حسین شاہ صاحب، محدث کچھوچھوی رحمۃ اللہ علیہ

۷۔ حضرت مولانا احمد مختار صاحب میرٹھی رحمۃ اللہ علیہ(تایا حضرت علامہ شاہ احمد نورانی مدظلہ)

۸۔ مفتی اعظم حضرت مولانا سید دیدار علی شاہ الواری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ۔

۹۔ حضرت مولانا مفتی محمد مظہر اللہ صاحب، خطیب جامع مسجد فتح پوری دہلی۔

۱۰۔ حجۃ الاسلام حضرت مولانا حامد رضا خاں صاحب رحمۃ اللہ علیہ(حضرت حجۃ الاسلام رحمۃ اللہ علیہ سے آپ کو خلافت بھی حاصل ہے، اسی نسبت سے آپ حامدی بھی کہلاتے ہیں۔ حکیم محمد موسیٰ امر تسری مدظلہ)

۱۱۔ مفتی اعظم حضرت مولانا مصطفیٰ رضا خان صاحب دامت برکاتہم العالیہ بریلی شریف۔

۱۲۔ صدر الاقاصل حضرت علامہ مولانا نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ۔ آپ کا(حضرت صدر الافاضل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ) کا طریقہ مبارکہ تھا کہ آپ کا جو شاگرد فیروزپور پنجاب کی طرف آتا، اسے حضرت شبلی کے مشورہ سے کام کرنے کی ہدایت فرماتے۔

۱۳۔ حضرت شیخ مولانا ضیاء الدین مدنی دامت برکاتہم العالیہ، مدینہ شریف(آپ سے علامہ شبلی کو خلافت حاصل ہے۔ حکیم محمد موسیٰ صاحب امر تسری مدظلہ)

۱۴۔ مجدّد وقت حضرت مولانا محمد یوسف بن اسماعیل بنھانی شامی رحمۃ اللہ علیہ۔

۱۵۔ حضرت محدّث اعظم پاکستان مولانا محمد سردار احمد رحمۃ اللہ سے آپ کی ملاقات ۱۹۵۰ء میں فیصل آباد میں ہوئی، تو حضرت محدّث اعظم نے فرمایا، میں ہندوستان کے جس شہر میں گیا آپ کی تعریف سنی؛ چنانچہ ۱۹۵۵ء جامعہ رضویہ کے طلباء کی دستار بندی بھی حضرت محدّث اعظم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے آپ کے دست مبارک سے کروائی۔

تبلیغ دین کے سلسلہ میں آپ نے نمایاں کردار ادا کیا۔ ۱۹۲۴ء میں ماہنامہ شریعت جاری کیا جس میں آپ کی مؤلفہ تفسیر قرآن پاک قسط وار شائع ہوتی رہی۔ یہ ماہنامہ تقریباً ڈھائی سال جاری رہا۔

اسلامیہ *** فیروز پور کینٹ کی طرف سے شائع ہونے والے ماہنامہ ’’مشرق‘‘ کے بھی مدیر رہے۔

آپ کی خطیبانہ زندگی کی تفصیل یہ ہے۔

۱۔ جامع مسجد فرید کوٹ(۱۷۔۱۹۱۶ء، ۲۴۔۲۳۔۱۹۲۱ء)

۲۔ جامع مسجد سرہانی کلاں ضلع امر تسر(۲۰۔۱۹۔۱۹۱۸ء)، (۱۹۲۰ء کے چند ماہ)

۳۔ جامع مسجد مکتر ضلع فیروز پور(۲۷۔۲۶۔۱۹۲۵ء)

۴۔ جامع مسجد فیروز پور چھاؤنی و عیدگاہ (۱۹۲۷ء تا ۱۹۴۷ء) ان تمام مساجد میں آپ بلا معاوضہ فرائض خطابت سرانجام دیتے رہے۔

۵۔ پاکستان بننے کے بعد ۱۹۴۸ء سے ۱۹۵۴ء تک محکمہ پولیس میں بطور مولوی سب انسپکٹر امامت و خطابت کے فرائض انجام دیے ہیں۔

۶۔ جامع مسجد ساہیوال(یہاں آپ نے منشی فاصل کی شبنیہ کلاس بھی جاری کی)

۷۔ مارچ ۱۹۵۵ء میں مسجد جان محمد لاہور صدر میں فرائض خطابت انجام دینے شروع کیے اور علوم شرقیہ کی تدریس کے لیے مدرسہ قائم کیا۔

۸۔ لاہور سے آپ دوبارہ ساہیوال تشریف لے گئے اور خطابت کے فرائض انجام دینے شروع کیے اس سے قبل آپ ساہیوال میں انجمن اصلاح المسلمین کی بنیاد ڈال چکے تھے اور مدینہ مسجد کے نام سے عظیم جامع مسجد بھی بنائی گئی تھی۔

۹۔ رینالہ خورد کے احباب، باصرار آپ کو برائے خطابت لے گئے، جہاں آپ نے خطابت کے علاوہ دینی علوم کا ایک مدرسہ بھی جاری کیا جس میں آپ خود اور نائب امام بلا معاوضہ تعلیم دیتے رہے۔

۱۰۔ انجمن اصلاح المسلمین ساہیوال کے اصرار پر آپ رینالہ خورد کی جامع مسجد سے مستعفی ہوکر ساہیوال میں انجمن مذکوہ کی نظامت مدرسہ جامعہ حنفیہ کی نگرانی اور جامع مسجد مدینہ کی خطابت اور تعمیر و تنظیم کے فرائض ادا کرنے لگے۔ دو سال بعد جامع مسجد کی تعمیر مکمل ہونے پر مستعفی ہوگئے۔

۱۱۔ ۱۰ء جنوری ۱۹۶۷ء کو آپ جامع مسجد گگو منڈی ساہیوال میں محکمہ اوقاف کی جانب سے خطیب مقرر ہوئے۔

۱۲۔ یکم جولائی ۱۹۶۷ء کو تبدیل ہوکر آستانہ عالیہ حضرت بابا فرید الدین گنج شکر رحمۃ اللہ تعالیٰ کی جامع مسجد میں بحیثیت خطیب تعینات ہوئے۔

۱۳۔ ۱۹ء نومبر ۱۹۷۲ء کو آپ کا تبادلہ مرکز
1
ی جامع مسجد غلہ منڈی عارف والہ میں ہوا، اور ۸؍ اگست ۱۹۷۸ء کو آپ ریٹائرڈ ہوگئے۔

آج کل آپ تصنیف و تالیف میں مصروف رہتے ہیں۔ خطابت کے علاوہ آپ مختلف سکولوں میں ناظم دینیات و مدرس کی حیثیت سے بھی فرائض انجام دیتے رہے، جن سکولوں میں آپ نے کام کیا، ان کی فہرست یہ ہے۔

۱۔ گورنمنت ہائی سکول فرید کوٹ(ہندوستان)

۲۔ گورنمنٹ ہائی سکول موگا۔ ضلع فیروز پور۔

۳۔ گورنمنٹ ہائی سکول مکتسر۔ ضلع فیروز پور۔

۴۔ اسلامیہ ہائی سکول، شیر انوالہ گیٹ، لاہور۔

۵۔ اسلامیہ ہائی سکول۔ فیروز پور، ہندوستان۔

۶۔ مسلم ہائی سکول، راولپنڈی

آپ مختلف دینی مدارس کی سرپرستی کے علاوہ تین سال رینالہ خورد میں علوم اسلامیہ کی تدریس بھی فرماتے رہے۔

آپ کے پاس ایک نادر کتب خانہ تھا، جو فسادات ۱۹۴۷ء میں تباہ ہوگیا، جس میں آپ کی بعض تصانیف میں ضائع ہوگئیں۔ سندھی تحریک اور تحریکِ پاکستان میں بالخصوص اور دیگر اسلامی تحریکوں میں بالعموم آپ نے نہایت گرمجوشی سے حصّہ لیا۔ مسلم لیگ کی کامیابی کے لیے آپ نے بارہ صفحات پر مشتمل خطبہ عید الاضحیٰ صدر مسلم لیگ کی درخواست پر تالیف کیا، جو بیس ہزار کی تعداد میں شائع ہوا اور پنجاب کی عید گاہوں میں خطباء حضرات نے بیان کیا۔ اس خطبہ میں آپ نے آیات و احادیث کے دلائل سے ثابت کیا تھا کہ کفارے سے تعلقات و موالات حرام ہے اور علامات قیامت میں سے ہے۔

چنانچہ کانگریسیوں کی طرف سے اعلان کیا گیا کہ انگریزوں کے چلے جانے کے بعد اس شخص پر علماء کی ہتکِ عزت کا دعویٰ کیا جائے گا۔ کانگریس اس منصوبے میں ناکام رہے، البتہ سکھوں نے آپ پر قاتلانہ حملہ کیا، جس سے آپ کا صاحبزادہ بعمر ۲۵؍ سال بُری طرح زخمی ہوگیا۔

ہندوستان میں قیام کے دوران ہی آپ انجمن اصلاح المسلمین قائم کی تھی، سالانہ جلسہ ہوا، تو فرید کوٹ جو سکھ ریاست تھی، کے حکام نے رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی لیکن آپ نے کوئی پروا نہ کی۔ بازار کے چوک میں ایک قدیم مسجد کو فرید کوٹ کے راجہ نے محض ایک مسافر شخص کے اذان کہنے پر مقضل کردیا تھا اور میونسپل کمیٹی نے وہاں دفتر بنایا ہوا تھا اور ان کا منصوبہ تھا کہ یہاں عالی شان عمارت تعمیر کی جائے۔

آپ نے دیگر مسلمانوں(سوائے چند وظیفہ خوارانِ ریاست کے) بالخصوص اپنے تلامذہ حضرت مولانا غلام قادر اشرفی، مولانا علم الدّین رحمہما اللہ کے تعاون سے مسجد کی بازیابی کا سوال اُٹھایا؛ چنانچہ ۱۹۴۶ء میں یہ مسجد مسلمانوں کو نہایت با وقار طریقے سے مل گئی۔

ماہنامہ ’’شریعت‘‘ اور ماہنامہ ’’مشرق‘‘ کی اوارت کے علاوہ درج ذیل تحریرات آپ کے رشحاتِ قلم ہیں۔

۱۔ تفسیر قرآن کریم، پہلی جلد

۲۔ اشاعتِ نماز(کلاں)

۳۔ خطبۂ عید الاضحیٰ (جس کا ذکر پیچھے گزر چکا ہے)

۴۔ خطبہ افتتاحیہ آل انڈیا نماز کانفرنس ۱۹۴۱ء

۵۔ مسائل عید الاضحیٰ

۶۔ شب برأت

۷۔ تفسیر حروفِ مقطعات

۸۔ جواہر البحار (فی الاحادیث) یہ کتاب ۱۹۳۹ء میں لکھی گئی، طباعت نہ ہوسکی اور ۱۹۴۷ء کے فسادات میں مشرقی پنجاب میں رہ گئی۔

۹۔ ابرارالرکائز

۱۰۔ کشف الستّار

۱۱۔ احسن الکلام فی فضائل الصلوٰۃ و السلام

۱۲۔ القول الثابت

۱۳۔ البنیات ور مسئلہ زکاۃ

۱۴۔ فیوض رحمانی در وجوب قربانی

۱۵۔ اربعین من احادیث سید المرسلین

۱۶۔ سیرت غوث اعظم(رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ)

۱۷۔ سیرتِ بابا فرید (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ)

۱۸۔ اشاعتِ نماز (خورو)

۱۹۔ دیدار مولیٰ تعالیٰ (بشمول معراج شریف مدلّل)

۲۰۔ بے مثل بشر

۲۱۔ محدثین ہندو پاک

۲۲۔ اصح المطالب فی شعب ابی طالب، وغیرہا

۲۳۔ البنیات فی قیام رمضان

حضرت مولانا محمد سعید شبلی مدظلہ کی خدمات سے متاثر ہوکر مسلموں و غیر مسلموں نے آپ کو تصدیقی سندات پیش کیں۔ اکثر سندات تقسیم ملک کے وقت ضائع ہوگئیں؛ البتہ ایک سند
1
جو مسلم ہائی سکول راولپنڈی کی طرف سے آپ کو دی گئی۔ آپ کے پاس موجود ہے، جس میں سکول کے مینجنگ ہیڈ ماسٹر نے آپ کی خدمت کو نہات شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا ہے۔

آپ سے علمی پیاس بجھانے والے فضلاء میں سے چند ایک کے اسماء یہ ہیں۔

۱۔ حضرت مولانا غلام قادر اشرفی رحمۃ اللہ تعالیٰ الیہ(م۔۱۳۹۹ھ)

۲۔ حضرت مولانا علم الدّین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

۳۔ چودھری عبد الرحمٰن صاحب، ایم اے ایل ایل ایم سابق ڈپٹی سیکرٹری گورنمنٹ پنجاب۔

۴۔ مولانا عبد الحفیظ خطیب جامع مسجد، رینالہ خورد

۵۔ مولانا عبد العزیز خطیب جامع مسجد، عارف والہ

۶۔ مولانا نظام الدین صاحب، بوریوالہ

۷۔ مولانا قاری عبد الرشید خطیب ساندہ خورو لاہور

۸۔ مولانا قاری احمد حسین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ، گجرات

۹۔ مولانا عبد الحمید رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ(مولوی فاضل آپ کے فرزند ارجمند)

۱۰۔ مولانا فیض علی خطیب گڑھی شاہو لاہور

علاوہ ازیں۔

جناب بصیر شمسی پنشنر بریگیڈیر، نصیر شمسی ہیڈ ماسٹر ملتان، چودھری نذیر احمد ماسٹر رینالہ خورو ڈاکٹر محمود الحسن بریگیڈیر راولپنڈی، قاضی عبد الحکیم ایم اے ہیڈ ماسٹر ریٹائرڈ لاہور۔[۱]

[۱۔ حضرت مولانا قاضی عبد الحکیم ایم اے ریٹائرڈ ہیڈ ماسٹر ہیں۔ نیک فطرت اور متشرع بزرگ ہیں۔ جامع مسجد عمر روڈ اسلام پورہ لاہور میں درس قرآن دیتے ہیں۔ آپ نے سنّی تبلیغی نصاب کے نام سے ایک کتاب بھی تصنیف فرمائی جو طبعت کے مراحل میں ہے۔]

اور جناب نذیر احمد پنشز ہوائی سروس وغیرہ کو بھی آپ سے اکتساب فیض کا شرف حاصل ہے۔[۱]

[۱۔ مکتوب حضرت علامہ شبلی مدظلہ بنام جناب حکیم محمد موسیٰ امر تسری مدظلہ]

آپ کے دو صاحبزادے، مولانا عبد المجید اور میاں عبد العزیز انتقال فرما چکے ہیں جبکہ تین صاحبزادے، میاں عبد الحفیظ فاروقی ساہیوال، میاں عبد المجید لاہور اور میاں عبد الرشید ساہیوال بقید حیات ہیں۔[۱]

[۱۔ صاحبزادگان کی فہرست علامہ شبلی مدظلہ کے پوتے جناب شاہد صاحب نے عنایت فرمائی۔]

( تعارف علماءِ اہلسنت )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-molana-muhammad-saeed-shibli-qadri
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت استاذ العلماء حضرت مولانا ابو الضیاء محمد باقر ضیاء النوری بصیر پور علیہ الرحمۃ

ماہرِ تدریس و تحریر ابوالضیاء مولانا محمد باقر نوری ولد مولانا محمد سلطان ۱۰؍ ذوالحجہ ۱۳۴۳ھ / ۲ ؍ جولائی ۱۹۲۵ء بروز جمعۃ المبارک بوقت عصر بستی منگا بھڈال تحصیل دیپالپور ضلع ساہیوال میں پیدا ہوئے۔ خاندان کے اکثر افراد علومِ اسلامیہ سے بہرہ ور رہے۔ آپ نے نانا مولانا احمد دین، ماموں مولانا ابوالنور محمد صدیق رحمہما اللہ اپنے علاقے میں علم و حکمت کے سرچشمہ تھے۔

تعلیم و تربیت:

حضرت مولانا محمد باقر نوری نے ابتدائی کُتب اپنے والد مولانا محمد سلیمان سے پڑھیں۔ فارسی کی بعض کتب اپنے نانا اور کچھ اپنے ماموں سے پڑھیں۔ فلسفہ و منطق کی آخری کتب کا درس دار العلوم حنفیہ فریدیہ، فرید پور جاگیر ضلع ساہیوال میں مولانا چراغ دین سے لیا۔ باقی تمام فنون، فقہ، تفسیر، اصولِ تفسیر وغیرہ اپنے ماموں زاد بھائی فقیہ اعظم حضرت مولانا مفتی ابوالخیر محمد نور اللہ نعیمی سے فرید پور ہی میں پڑھے اور دورۂ حدیث بھی یہیں شروع کیا۔

اسی اثناء میں جب دار العلوم حنفیہ فریدیہ فرید پور سے بصیر پور منتقل ہوگیا، تو آپ نے درسِ حدیث کی تکمیل پر ۱۹۴۵ء میں دستارِ فضیلت اور سندِ فراغت دار العلوم حنفیہ فریدیہ بصیر پور سے حاصل کی۔

علمِ طب اپنے والد ماجد اور حکیم چراغ دین (کنداہیر سنگھ) سے حاصل کر کے امتحان کے بعد یُونانی طبی بورڈ سے سندِ طب حاصل کی۔ اُردو، پنجابی، فارسی اور عربی میں شعر کہہ لیتے ہیں۔ شاعری میں آپ کا تخلص ضیاء ہے۔

دینی و ملّی خدمات:

فراغت سے لے کر اب تک دارالعلوم حنفیہ فریدیہ بصیر پور میں صدر مدرس کی حیثیت سے علومِ اسلامیہ عربیہ کا فیضان جاری کیے ہوئے ہیں۔ بے شمار علماء علمی استفادہ کے بعد ملک کے اطراف و اکناف میں تبلیغ و اشاعت دین کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔

تدریس کے علاوہ تقریباً بارہ سال سے جامع مسجد شاہ مقیم رحمہ اللہ (حجرہ شاہ مقیم) میں خطبہ جمعہ دیتے ہیں۔ اس سے قبل چودہ سال غلّہ منڈی بصیری پور میں خطابت کے فرائض سر انجام دیتے رہے۔

مولانا محمد باقر ضیاء نوری نے تحریکِ ختم نبوّت میں بھر پور حصہ لیا۔ جمعہ کے خطبات کے علاوہ دیگر مواقع پر بھی حقیقتِ ختم نبوّت اور تحریک کے مقاصد و افادیت سے عوام کو روشناس کراتے رہے۔

۱۹۵۲ء کی تحریکِ ختمِ نبوّت پر بصیر پور سے گرفتار بھی ہوئے اور کئی ماہ تک ساہیوال جیل میں بند رہے، کئی سال تک انجمن حزب الرحمٰن کے صدرِ اعلیٰ رہے۔

تحریرات:

خطابت و تدریس کی مصروفیات کے باوجود آپ نے مندرجہ ذیل کتب بھی تصنیف فرمائیں:

۱۔ صرف ضیائی۔

۲۔ تنویر المقال شرح رسالہ فی الزوال۔

۳۔ القول علی القول (نماز میں لاؤڈ سپیکر کے جواز میں)۔

۴۔ میلاد شریف۔

۵۔ عورت کی امارت اور مودودی کا چیلنج۔

۶۔ العلم (علم و علماء کے فضائل کے بارے میں)۔

۷۔ سوشلزم کیا ہے؟

۸۔ پاک جنگ (۱۹۶۵ء) میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے کار نامے۔

۹۔ قدرت کا کرشمہ (مختلف اشیاء پر نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے اسمِ مبارک کا ظہور۔

۱۰۔ فضائلِ مدینہ شریف۔

۱۱۔ وجودِ باری۔

۱۲۔ فتاویٰ ضیائی (غیر مطبوعہ)

بیعت و حج:

۱۹۴۵ء میں فراغت کے موقعہ پر آپ نے حضرت مولانا مفتی محمد نور اللہ نعیمی سے بیعت کا شرف حاصل کیا۔ ۱۳۹۶ھ / ۱۹۷۶ء میں حج بیت اللہ شریف اور زیارت گنبدِ خضریٰ کی سعادت سے بہرہ ور ہوئے۔

چند مشہور تلامذہ:

مولانا محمد باقر نوری عرصہ تینتیس (۳۳) سال سے فنونِ اسلامیہ کی تدریس میں مصروف ہیں۔ اس دوران دار العلوم حنفیہ فریدیہ بصیر پور سے فارغ ہونے والے جملہ علماء کرام آپ کے شاگرد ہیں، تاہم چند مشہور تلامذہ یہ ہیں:

۱۔ مولانا محمد شریف نوری رحمہ اللہ۔

۲۔ ابو النصر مولانا سیّد منظور شاہ، ساہیوال۔

۳۔ مولانا محمد منشا تابش قصوری، مرید کے۔

۴۔ مولانا احمد علی قصوری، لاہور۔

۵۔ مولانا شاہ محمد چشتی قصوری، قصور۔

۶۔ مولانا ابوالفتح شبیّر احمد ہاشمی، بُورے والا۔

۷۔ مولانا ابو الفیض علی محمد نوری، وہاڑی۔

۸۔ مولانا غلام حسین صاحب نوری، ساہیوال۔

۹۔ مولانا صاحبزادہ ابو الفضل محمد نصر اللہ نوری، بصیر پور۔

۱۰۔ مولانا ابو الانعام محمد رمضان نوری، حویلی لکھّا۔

۱۱۔ مولانا منظور احمد شاعر نوری، قصور۔

۱۲۔ مولانا صاحبزادہ محمد محب اللہ، بصیر پور۔

اَولاد:

آپ کے چار صاحبزادے اور پانچ صاحبزادیاں ہیں۔ صاحبزادہ ابوالافضل مولانا محمد اجمل نوری دار العلوم حنفیہ فریدیہ میں مدرس ہیں۔ مولانا محمد احسن بھی علومِ اسلامیہ کے فارغ التحصیل ہیں، جبکہ صاحبزادہ محمد اعظم اور صاحبزادہ محمد اکرم درسِ نظامی کے متعلّم ہیں۔ [۱]

[۱۔ جملہ کوائف مؤرخہ ۱۳؍ اپریل ۱۹۷۸ء کو حضرت مولانا محمد باقر نوری کی جامعہ نظامیہ رضویہ میں آمد پر بالمشافہ حاصل کیے گئے۔ (مرتب)]

( تعارف علماءِ اہلسنت )

https://scholars.pk/ur/scholar/molana-abu-ul-zia-muhammad-baqir-zia-ul-noori
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت شیخ فتح علی موصلی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

صاحب ہمت اور عالی قدر بزرگ تھے ورع و مجاہدہ میں مقتدر تھے اپنی ذات پر اللہ کا خوف اور کیفیت حزن طاری رکھتے تھے۔ ہمیشہ گریاں رہتے۔ مخلوق خدا سے علیحدگی کا یہ عالم تھا کہ اپنے احوال کو چھپانے کے لیے اپنے ہاتھ میں چابیوں کا ایک گچھا لٹکائے رکھتے تاکہ لوگ یہ سمجھیں کہ آپ بہت سے صندوقوں کے مالک ہیں۔ جہاں جاتے چابیاں اپنے سامنے رکھا کرتے تاکہ لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ وہ کیا ہیں ایک دن ایک صاحب دل نے پوچھا کہ ان چابیوں سے کیا کرتے ہو فرمانے لگے جس دن سے میں نے چابیاں اٹھائی ہوئی ہیں۔ چوروں کی چوری سے چھوٹ گیا ہوں۔

حضرت عبداللہ﷫ بیان کرتے ہیں کہ ایک رات حضرت خواجہ سری سقطی﷫ کے گھر سویا ہوا تھا۔ رات کا ایک حصہ گزرا تھا۔ تو حضرت خواجہ پاکیزہ کپڑے پہنے کندھوں پر چادر اوڑھے باہر نکلے۔ میں نے پوچھا۔ اس وقت آپ کہاں جا رہے ہیں، کہنے لگے: حضرت فتح موصلی بیمار ہیں، میں انہیں دیکھنے جا رہا ہوں، رات کو پہرہ دار پولیس نے آپ کو پکڑ لیا، اور رات کو حوالات میں بند کردیا، دوسرے دن حاکم نے حکم دیا کہ تمام حوالاتیوں کو کوڑے مارے جائیں ایک سپاہی نے خواجہ سری سقطی کو کوڑانا مارنا چاہا تو اس کا ہاتھ ہوا میں معلق ہوگیا، اور زور کے باوجود وہاں ہی اکڑ گیا، حاکم نے کہا کوڑا کیوں نہیں مارتے، سپاہی کہنے لگا، میرے سامنے ایک بوڑھا کھڑا ہے وہ مجھے روک رہا ہے، حتی کہ میرا ہاتھ بیکار ہوکر رہ گیا ہے لوگوں نے دیکھا تو فتح موصلی تھے۔ حضرت سری کو آپ کے حوالے کردیا، اور آپ سے معافی کے طلب گار ہوئے۔

ایک دن ایک عارف نے حضرت فتح موصلی سے صدق کے بارے میں دریافت کیا، آپ نے ایک لوہار کی بھڑکتی ہوئی بھٹی میں اپنا ہاتھ رکھا، اور لوہے کا اک آتشین ٹکڑا پکڑ کر باہر لائے، اور ہتھیلی پر رکھ کر فرمایا کہ صدق اس کا نام ہے۔

حضرت شیخ فتح موصلی﷫ عیدالاضحیٰ کے دن ۲۱۹ھ کو فوت ہوئے عیدالاضحیٰ کو لوگ قربانی دے رہے تھے۔ آپ نے آسمان کی طرف منہ کیا اور کہا اے اللہ! تم جانتے ہو، میرے پاس قربانی کے لیے کچھ نہیں ہے، میری جان حاضر ہے، اسے ہی قبول فرمالے۔ انگشت شہادت گلے پر رکھی اور جان، جانِ آفرین کے سپرد کردی۔

ہست تاریخ آن خدا آگاہ
سالِ ترحیل دے عیاں گردو

قطب حق یا محب حقانی ۲۱۹
گر تو سلطانِ اہل دل خوانی ۲۱۹

( خزینۃ الاصفیاء )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-fatah-ali-moosali
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت خواجہ حسن عطار رحمتہ اللہ تعالٰی

آپ خواجہ علاؤالدین عطارؒ کے فرزند ہیں۔آپ کی ولایت کے شجرہ کا ثمرہ جذبہ قویٰ رکھتا تھا۔جذبہ کی صفت سے جس میں چاہتے تھے تصرف کیا کرتے تھے"اور اس کو اس جہان کے حضور اور شعور کے مقام سے بے خودی اور بے شعوری کے مقام تک پہنچادیتے تھے۔بعض اہل سلوک کو جو ذوق غیبت فنا بہت سے مشاہدہ کے بعد بھی اتفاقاً ہوا کرتا ہے چکھا دیا کرتے تھے۔تمام مادراء النہر خراسان کے علاقہ میں آپ کے تصرف کی کیفیت طالبین اور زائیرین میں مشہور تھی۔جو شخص آپ کے ہاتھ پر بوسہ دیتا"وہ گر پڑتا۔اس کو غیبت بے خودی کی دولت حاصل ہو جاتی۔ایسا سنا گیا ہے کہ ایک دن صبح کے وقت آپ گھر سے باہر نکلے۔آپ پر کیفیت غالب ہوئی۔جس شخص کی نگاہ آپ پر پڑتی سب کو بے خودی کی کیفیت ہوتی"اور گر پڑتا۔ایک درویش سفر مبارک کے ارادہ سے ہرات میں پہنچا"اس پر جذبہ غیبت بے خودی حیرت کے آثار ظاہر تھے۔کبھی بازاروں میں گشت لگاتا تو ایسا معلوم ہوتا کہ اس کو باطنی امر نے پکڑرکھا ہے۔لوگوں کی آمد و رفت اور ان کی گفتگو کا اس کو چنداں شعور نہ تھا۔اس سلسلہ کے ایک بزرگ عزیز نےجن کی خدمت میں"میں جایا کرتا تھا۔اس کی بابت پوچھا:

آپ نے فرمایا" کہ اس درویش کا کام اس سے بڑھ کر نہیں کہ ہمیشہ خواجہ حسن کی صورت کا رکھتا ہے"اوراسی کو یاد رکھتا ہے۔اس نگہداشت کی برکت سے ان کے جذبہ کی صفت اس میں اثرکرگئی ہے۔خواجگان کے بریق کے مطابق کبھی شفا خانہ میں آتے اور ان کی بیماری کو اٹھا لیا کرتے ۔جب سفر مبارک کے قصہ سے شیراز میں تشریف لائے تو وہاں کے ایک بڑے عالم (یعنی مولانا جا لال الدین بہبانی) کہ جن کو آپ کی نسبت بہت ہی حسن اخلاص تھابیمار ہوگئے۔خواجہ بزرگ ان کے پاس آئے"وہ عزیز تو تندرست ہوگیا اور خواجہ بیمار پڑگئے۔اسی بیماری میں آپ کا انتقال ہوا۔آپ کا انتقال پیر کی شب عید قربان ۸۲۶ھ میں ہوا ہے۔آپ کی نعش مبارک کو شیراز سے ضعانیاں مین لائے۔جہاں آپ کے والد ماجد کا مزار ہے۔

( نفحاتُ الاُنس )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-hasan-attar
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت علامہ قاضی لعل محمد مٹیاری علیہ الرحمۃ

بحر العلوم علامہ قاضی لعل محمد مٹیاروی

استاد العلماء والفضلاء علامہ قاضی لعل محمد، مٹیاری (ضلع حیدر آباد سندھ) میں ۲۹، شوال ۱۲۷۴ھ میں تولد ہوئے۔

تعلیم و تربیت:
مٹیاری میں تعلیم و تربیت حاصل کی، آپ کی خوشی نصیبی کہئے کہ ان دنوں مٹیاری میں رئیس العلماء حضرت علامہ حسن اللہ صدیقی (پاٹ شریف ) تدریس کے فرائض انجام دیتے تھے، اور آپ نے خوب ان سے استفادہ کیا۔ ( سندھ جا اسلامی درسگاہ ص ۴۱۳ ص۴۰۰)

قاضی صاحب نے میاں عبدالولی مٹیاروی سے بھی تعلیم حاصل کی جو کہ بے نظیر عالم ، عظیم فقیہ ، مخدوم محمد مٹیاروی کے شاگردار شد تھے اور وہ مخدوم عبدالکریم مٹیاروی بن مخدوم محمد عثمان مٹیاروی سے ، مخدوم عبدالکریم اپنے والد محترم سے جو کہ عالم اور فقیہ تھے، فقہ کی جزئیات پر عبور رکھتے تھے اور اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔ وہ نصر پور کے مشہور عالم ، محدث ، فقیہ صوفی نور محمد نصر پوری کے اور وہ امام اہل سنت مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی کے ہونہار شاگرد تھے۔ ( ایضاص ۲۷۱ص ۳۱۰)

درس و تدریس:
اپنے وقت کے عظیم عالم، فاضل جلیل ، محقق مفتی حضرت حاجی حافظ لعل محمد مٹیاروی یوں تو اپنے زمانہ کے بہت بڑے عالم تھے اور تمام علوم میں مہارت رکھتے تھے لیکن علم فقہ اور علم فرائض میں آپ کو خصوصی شہرت اور مہارت حاصل تھی ۔ بڑے بڑے علماء آپکی خدمت میں حاضر ہو کر علم فرائض کی تعلیم حاصل کیا کرتے تھے۔ اس علم کا آپ کے پاس پڑھنا سند کمال اور سبب فخر شمار کیا جاتاتھا۔

حضرت خواجہ عبدالرحمن مجددی جب سندھ تشریف لائے اور ٹکھڑ میں قیام پذیر ہوئے توآپ نے اپنے صاحبزاد گان خصوصا حضرت شیخ الاسلام خواجہ محمد حسن جان سر ہندی کی تعلیم کے لئے حضر ت مولانا قاضی لعل محمد کا انتخاب فرمایا اور حضرت مولانا کو ٹکھڑ بلا کر یہاں آپ سے صاحبزادگان کو تعلیم دلوائی۔

حضرت خواجہ محمد حسن جان سر ہندی جب عرب شریف سے اپنی تعلیم مکمل کر کے واپس سندھ لوٹے تو آپ ٹنڈو غلام علی والے میر صاحبان کی استدعا اور گذارش پر ٹنڈو غلام علی کے مدرسہ میں تدریس کے لئے اپنے استاد محترم حضرت قاضی صاحب کا تقرر فرمایا۔ قاضی صاحب کے حسن اخلاق اور طریقہ تعلیم کے باعث وہ دارالعلوم اس مقام اور شہرت کو پہنچا کہ دور دراز سے طلبا ء تحصیل علوم و فنون کیلئے آنے لگے اور خوب اکتساب فیض کر کے اس خطہ کو علم کی روشنی سے منور کرنے لگے یہاں تقریبا بیس سال آپ نے علوم و فنون کے جوہر لٹائے ۔

ٹنڈو غلام علی ( ضلع بدین ) کے دارالعلوم کے سرپرست میر امام بخش خان جب فوت ہو گئے تو وہ مدرسہ تتر بتر ہو گیا ، کوئی نگاہ داشت اور سر پرستی کرنے والا نہ رہا اس کی رونقیں ختم ہونے لگیں تو خواجہ محمد حسن جان سر ہندی نے اپنے استاد محترم کو اپنے صاحبزادگان حضرت آغا عبداللہ جان مجددی وغیرہ کی تعلیم کے لئے ٹنڈو سائینداد ( ضلع حیدر آباد ) بلا لیا۔ جہاں آپ نے دو سال قیام فرمایا اور صاحبزادگان کو تعلیم دے کر اپنے گوٹھ مٹیاری شریف تشریف لے گئے اور وہیں مستقل رہائش اختیا ر کر لی اور آخر تک یہیں درس و تدریس اور فتویٰ نویسی میں مشغول رہے۔ کثرت تعلیم کے باعث کتب درسیہ آپ کو زبانی یاد ہو گئیں تھیں ۔ چنانچہ آٰخر عمر میں بغیر کتاب کے طلباء کو زبانی پڑھایا کرتے تھے ۔

(سندھ کے صوفیائے نقشبند حصہ دوم ص ۲۷۲)

۱۳۰۰ھ میں مدرسہ صولتیہ ( مکہ مکرمہ ) میں ایک سال اعزازی طور پر حدیث کے مدرس رہے۔

(سندھو )

تلامذہ:
آپ زندگی بھر درس و تدریس سے وابستہ رہے اس لئے تلامذہ کی تعداد کثیر ہے۔ ان میں سے بعض کے اسماء درج ذیل ہیں ۔

٭ قاطع نجدیت حضرت خواجہ محمد حسن جان سر ہندی
٭ پیر طریقت آغا عبداللہ جان سر ہندی
٭ رئیس العلماء مفتی اعظم تھر علامہ محمد عثمان قرانی
٭ صاحبزادہ غلام علی جان بن آغا عبد اللہ جان سر ہندی
٭ مشہور شاعر حافظ حامد ٹکھڑ
٭ مولانا میاں احمد نصر پوری
٭ علامہ مولانا محمد قاسم کالرو عمر کوٹ
٭ سید میران محمد شاہ
٭ مولانا مفتی محمد حسین ٹھٹوی

نوٹ:
پیر حاجی بقادار شاہ مٹیاروی مرحوم کی روایت کے مطابق قاضی صاحب کے تلامذہ کی تعداد ۷۰۰ہے ۔

بیعت:
شیخ طریقت خواجہ عبد الرحمن جان سر ہندی قدس سرہ سے سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں آ پ بیعت تھے۔ ( روز نامہ سندھو حیدرآباد ۱۰ستمبر ۱۹۹۱ء ، مضمون نگار: محبوب علی مٹیاروی )
1
تصنیف و تالیف:
درس و تدریس کی مسلسل مشغولیت کے سبب تصنیف کی جانب کم وقت ملا ہو گا۔ ڈاکٹر جمن ٹالپر لکھتے ہیں : قاضی میاں لعل محمد متعلوی تیرہویں صدی کے اکابر علماء وفقہاء میں سے تھے ۔ جن کے پاس سندھ اور بیرون سندھ سے شرعی مسائل اور وراثت کے متعلق استفتاء آتے رہتے تھے۔ مٹیاری شہر کے قاضی تھے، قاضیوں کی مسجد شریف میں تعلیم وفتویٰ دیتے تھے۔ آپ کا تحریر کردہ مجموعہ تقریبا دو ہزار فتاویٰ پر مشتمل ہے ۔ ( سندھ جا اسلامی درسگاہ ص ۲۷۱)

آپ کی دو تصنیف کا علم ہوا ہے وہ آج بھی مٹیاری میں قلمی صورت میں محفوظ ہیں:

٭ نور العینین فی افضلیت الشیخین: سیدنا ابوبکر صدیق و سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہم کی افضلیت پر مشتمل اس کتاب میں ۶۳احادیث مبارکہ درج کی گئی ہیں ۔

٭ شروط الصلوٰۃ (سندھی) وضو غسل طہارت و مسائل نماز پر مشتمل ہے۔

٭ مولانا محمد معروف مٹیاروی نے قاضی صاحب کے تقریبا ۸۳ فتاویٰ کی جمع و ترتیب کا کام کیا تھا ۔ لیکن وہ ابھی تک قلمی صورت میں مولوی عبد اللہ مٹیاروی کے پاس ہے ۔ خدا کرے اشاعت کی کوئی صورت نکل آئے ۔ ( روز نامہ سندھو)

٭ قاضی صاحب نے اپنے ہونہار شاگرد خواجہ حسن جان سر ہندی کی وہابیت دیوبندیت غیر مقلدیت کے رد میں لکھی گئی کتاب ’’اصول الاربعہ فی تردید الوھابیہ ‘‘پر عربی میں تقریظ تحریر فرمائی تھی وہ کتاب کے ساتھ ہندو پاک اور ترکی وغیرہ سے کئی بار چھپ چکی ہے۔

سفر حرمین شریفین:
حضرت خواجہ عبدالرحمن مجددی جب ٹکہڑسے اپنے اہل و عیال کے ہمراہ حرمین شریفین چلے گئے تو حضرت قاضی صاحب بھی آپ کے ہمراہ تھے ۔ لیکن آپ مکہ معظمہ میں حج بیت اللہ اور مدینہ منورہ میں روضہ رسول ﷺ کی حاضری کے بعد واپس سندھ تشریف لے آئے تھے۔ جب کہ حضرت نے وہاں پانچ سال قیام فرمایا۔

قاضی صاحب عشق رسول ﷺ سے سر شار دل رکھتے تھے اور آل رسول کے انتہائی ادیب تھے۔

وصال:
7 حضرت قاضی لعل محمد نے ۱۰، ذوالحجہ ۱۳۵۳ھ ؍ ۱۹۳۵ء کو یعنی عین عید الاضحی کے روز مٹیاری میں ۷۹سال کی عمر میں وصال فرمایا اور وہیں مدفون ہوئے ۔ (مونس المخلصین از: آغا جان ۔ صوفیائے نقشبند )

( انوارِ علمائے اہلسنت سندھ )

https://scholars.pk/ur/scholar/allama-qazi-lal-muhammad
1