🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.82K subscribers
69.7K photos
228 videos
257 files
8.85K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
09-12-1444 ᴴ | 28-06-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
09-12-1444 ᴴ | 28-06-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
09-12-1444 ᴴ | 28-06-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
09-12-1444 ᴴ | 28-06-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
تکبیر تشریق
جو قربانی نہ کرے وہ ہماری عیدگاہ
قربانی کی شرط
حج میں دیر کرنے کا گناہ
عرفہ کے دن جہنم سے آزادی
گناہوں کی بخشش
جس کو قربانی کی طاقت نہ ہو
ماں باپ کی اجازت کے بغیر حج
تمام گناہوں سے خلاصی
دیوبندی کا ذبیحہ | وہابی کا ذبیحہ
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت شاہ ابوالمعالی قادری رحمۃ اللہ علیہ

نام ونسب:
اسمِ گرامی: سید خیر الدین محمد۔ کنیت: ابوالمعالی۔ لقب: اسد الدین۔تخلص: اشعار میں معالی کے علاوہ ’’غربتی‘‘ بھی بطورِ تخلص استعمال کرتےتھے۔لیکن شاہ ابو المعالی کے نام سے زیادہ معروف ہیں۔ سلسلہ ٔ نسب اس طرح ہے: حضرت شاہ ابوالمعالی قادری بن سید رحمت اللہ بن سید فتح اللہ۔ علیہم الرحمہ۔ شیخ المشائخ حضرت داؤدکرمانی﷫ آپ کے حقیقی چچا تھے۔آپ ان کے داماد اور خلیفۂ اعظم تھے۔ بزرگوں کا وطن ’’کرمان‘‘ تھا۔ خاندانی تعلق ساداتِ کرمان سےہے۔ سلسلہ ٔ نسب اٹھائیس واسطوں سے حضرت امام محمد تقی﷜پر منتہی ہوتاہے۔ (تذکرہ صوفیائے پنجاب: 79/تذکرہ اولیائے پاک وہند: 225)

تاریخِ ولادت:آپ کی ولادت باسعادت بروز پیر، 10/ ذالحجہ 960ھ مطابق 16/نومبر1553ء کو’’شیر گڑھ‘‘تحصیل دیپالپور ضلع اوکاڑہ پنجاب پاکستان میں ہوئی۔

تحصیلِ علم: حضرت شاہ ابوالمعالی لاہوری﷫ ایک علمی و روحانی خانوادے سے تعلق رکھتےتھے۔ جو صدیوں سے علم وفضل میں اپنی مثال آپ تھے۔ آپ کے والدِ محترم سید رحمت اللہ ﷫ ایک عالمِ متبحر و عارف باللہ تھے۔ آپ کی تعلیم وتربیت والدِ گرامی کے زیرِسایہ ہوئی۔ تمام علوم ِ منقولات ومعقولات انہیں سے حاصل کیے۔اس وقت کے تمام مروجہ علوم کے ماہر ِ کامل اور عربی وفارسی ادب کے بہترین ادیب تھے۔

بیعت و خلافت: علوم ِ ظاہری کی تکمیل کے بعد سلسلہ عالیہ قادریہ حضرت شاہ ابو المعالی﷫ نے اپنے چچاشیخ داؤد کرمانی شیر گڑھی ﷫کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے۔تیس سال کے مجاہدات و ریاضات کے بعد خلافت عطاء فرمائی۔(تذکرہ صوفیائے پنجاب: 79)

سیرت وخصائص: صاحبِ اسرار و معارفِ یزدانی،شہبازِ لامکانی،حضرت شاہ ابوالمعالی قادری لاہوری﷫۔آپ﷫ اپنے وقت کے شیخِ کامل اور عالمِ اکمل تھے۔آپ کی ذات وا لا صفات سے دینِ اسلام اور سلسلہ عالیہ قادریہ کو بہت فروغ حاصل ہوا۔خرقۂ خلافت کےبعد شیخ کی طرف سے لاہورمیں رشد وہدایت پر مامور کیے گئے۔چنانچہ شیر گڑھ سے لاہور تک جہاں قیام فرمایا وہاں سرائے،کنواں،تالاب اور باغ لگواتے گئے۔آج بھی راستے میں ایسے مقامات و سرائے اور مکانات و بستیاں موجود ہیں جو آپ کے نام سے ہیں۔جب آپ لاہور میں تشریف لائے تو مخلوقِ خدا جوق در جوق حلقۂ ارادت میں داخل ہونے لگی، اور آپ نے بڑی قبولیت حاصل کی۔آپ کی بڑی کرامت یہ تھی کہ جو شخص آپ سے بیعت ہوتا اس کو اسی رات محبوبِ سبحانی حضرت غوث الاعظم سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی﷫ کا دیدار نصیب ہوتا۔

علمی خدمات: آپ﷫عربی وفارسی ادب کےبلند پایہ ماہر تھے۔آپ نے لوگوں کے عقائد کی اصلاح کےلئے صوفیانہ طرز کی کتب تحریر فرمائیں۔جن کا مقصد لوگوں کو دین کی طرف بلانا اور حقائق سے روشناس کراناتھا۔آپ کی خانقاہ شریف ایک علمی درسگاہ تھی جہاں قال اللہ، و قال رسول اللہ کی صدائیں ہر وقت بلند رہتی تھیں۔آپ﷫ ذوقِ شعری بھی رکھتے تھے۔زیادہ تر اشعار سید الانبیاء ﷺ اور سید الاولیاء﷫ کی شان میں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آپ﷫ نے امام المحققین حضرت شاہ عبد الحق محدث دہلوی﷫کو مشکوٰۃ کی شرح کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا اس کو جلد پورا کرو۔پھر اسی خط میں لکھا کہ’’انشاء اللہ کتابے شود کہ اہلِ عالَم ہمہ از آں مستفید شوند‘‘۔پھر مشورہ دیا کہ شرح میں جا بجا اشعار درج کیے جائیں۔ تاکہ طرزِ بیاں دل چسپ اور اثر انگیز ہو۔

فضل و کمال:آپ صاحبِ کشف وکرامات تھے، حضرت غوث الاعظم﷫کےسچےعاشق،اور اپنےپیرومرشدسے والہانہ عقیدت تھی۔بلکہ آپ فنافی الشیخ کےدرجےپرفائزتھے۔ صاحبِ سفینۃ الاولیاء رقم طراز ہے کہ عارفِ حق آگاہ حضرت ملاشاہ نے ایک مرتبہ بیان کیا کہ ہم اپنے استاد مُلا نعمت اللہ کے ہمراہ جو عالمِ باعمل تھے آپ کی زیارت کےلئے گئے۔ ہم سب حاضرِ خدمت تھے، کہ ایک شخص تسبیح آپ کےلئے لایا۔ آپ نے وہ قبول فرمالی اور اپنے سامنے رکھ دی۔ میرے دل میں گزرا اگر آپ کو کشفِ قلوب حاصل ہے تو یہ تسبیح مجھے عنایت فرمادیں۔ جب میں رخصت کے لیے کھڑا ہوا تو حضرت نے مجھے اپنے پاس بلایا۔ فرمایا: اپنے حسبِ مدّعا یہ تسبیح لے لو۔ اگر ہوسکے تو سو مرتبہ درود شریف پڑھ لیا کرنا۔ تمہیں اور لانے والے دونوں کو ثواب ہوگا۔

اسی طرح صاحبِ سفینۃ الاولیاء لکھتے ہیں: مولانا اخوند نعمت اللہ فرماتے تھے کہ ایک دن میرے دل میں خیال آیا کہ میں حضرت غوث الاعظم ﷫ سے ارادت و عقیدت رکھتا ہوں۔ یقیناً وہ بھی میری اس ارادت مندی سے آگاہ ہوں گے جب کہ وہ خود فرماتے ہیں کہ اگر میں مغرب میں ہوں اور میرا مرید ننگے سر مشرق میں ہو تو میں اس کی سرپوشی کروں گا۔ رات کو میں نے خواب میں دیکھا کہ میں کسی کام کے لیے پریشان و عاجز ہوں، سر ننگا ہے۔ اسی وقت حضرت غوث الثقلین تشریف لائے۔ اور ایک سفید پگڑی مجھے عنایت فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ یہ پگڑی لے لو۔ ہم تیرے اس حال سے خبردار تھے کہ تو ننگے سر کھڑا ہے۔ لہٰذا ہم نے چاہا کہ تیرا سر ڈھانپ دیں۔ صبح مجھے حضرت شاہ ابوالمعالی نے اپنے پاس بلایا اور سفید دستار مجھے عنایت
2